دوام __آخری سحر ہے! (11)

تحریر:
سدرت المنتہی ‘

قسط 11

کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف
فوٹوگرافی: صوفیہ،قدسیہ

ماڈل:ماہم

*******************
ہمیں اب الوداع کہنا پڑے گا.

——–
اس نے دیکھا زیبی کو سوتے ہوئے,تو زرا تسلی ہوئی,وہ کئی دنوں سے سو نہ سکی تھی,اب کچھ روز پہلے تو سب ٹھیک تھا,پھر یہ سب اچانک کیا ہوا,,خدشے کیوں کبھی کبھار درست ہوجاتے ہیں,,اس نے لمبی سانس بھری,حالانکہ کچھ روز پہلے ہی تو اس نے زیبی کو تسلی دی تھی,محض پندرہ بیس روز پہلے کی ہی بات تھی یہ جب وہ مستقیم کی خبر سن کر انتظار ختم ہونے کے احساس پر یقین کرتے ہوئے اسے اپنے تئیں خوش خبری سنارہی تھی ,جب اس کے لہجے میں بلاکا یقین بھی تھا,
وہ وقت آگیا ہے سر پہ جب ہم ایک دوسرے سے جان چھڑاسکیں,اور اپنے اپنے مکانوں کی طرف ہوجائیں,حالانکہ
رات اندھیری تھی..اور دوسرا پہر ختم ہونے کو تھا,زیبی سر پر کمبل تانے سیدھی لیٹی تھی,اور اسی وقت وہ اندر آئی تھی,اسے پتا تھا کہ زیبی کیوں اس طرح بے سدھ ہوکر سوتی بنی ہے,جب آپ کسی جگہ سے خوف کھاتے ہیں اور وہاں سے فوری فرار حاصل نہیں کرپاتے تو ظاہری موجودگی سے نظر چراکر لاشعوری طور پر وہاں سے نظر چرالیتے ہیں,کھانے پر اس سے نظر چرانا,اور سوتے وقت دیواروں سے نظر نہ ملاپانا نہ فقط اس کے خوف بلکہ بیزاری و بے بسی کا اعلان تھا.
“میں تمہیں کچھ بتارہی ہوں,بلکہ خوش خبری دے رہی ہوں”,اس کا یوں کہنا تھا اور اس نے کمبل ہٹاکر اسکی طرف دیکھا,اور لمبا سانس بھرا,”

ٹھیک ہے صبح ہوجانے دو,پھر بات کرتے ہیں کہ کس کو کہاں جانا ہے.
اس نے قدرے ٹھنڈے اور پر اعتماد انداز میں کہا تھا,اور کمبل پھر سے تان لیا,
وہ اس کے برابر آ بیٹھی تھی,کچھ فاصلے پر,
“تم نے کہانیاں سنی ہیں بچپن میں؟”

وہ اس سے بہانے سے کچھ کہنا چاہ رہی تھی,
ڈراؤنی کہانیاں ہرگز نہیں سنیں”,زیب نے کمبل سر سے کھسکائے بغیر جوب دیا تھا,
وہ مسکرادی,یعنی کہ وہ بات کرنے کے موڈ میں تھی,حالانکہ عالین امید تو یہی کررہی تھی کہ وہ کہے گی کہ اچھا بہانہ ہے بات کرنے کا,
“تم اس گھر میں بچپن سے رہی ہو زیبی کچھ محسوس نہیں ہوا تمہیں کبھی حیرت ہے ویسے”,
“نہیں! بہت کم چیزیں محسوس ہوئی بھی ہونگی تو پختہ نہ ہونے پائیں,نانانے مجھے اس سب سے بہت دور رکھا ہوا تھا,وہ مجھے تھیٹر کی کہانیاں سناتے تھے,وہ مجھے محبت کی کہانیاں سناتے تھے,یہ نہیں کہ ان میں کوئی شہزادہ یا شہزادی ہوتی تھی,اس میں یا تو صرف شہزادہ ہوتا تھا,یا پھر شہزادی,
کوئی ایک کردار ہوتا تھا,محنتی,اور کام کرنے کی لگن رکھنے والا,جو اپنے اور اپنے ارد گرد کے لیے کچھ کرنا چاہتا تھا,مجھے تب وہ کردار اچھے لگتے تھے,اب حقیقت جان گئی ہوں,اس لیے کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے,”
“اچھا,,ویسے انہیں مستقیم کی خبر ملی ہے,وہ پہنچ گئے ہیں,مستقیم زندہ ہے,یہ بات کسی حیرت سے کم نہیں ہے,وہ بس لوٹیں گے,اور تمہاری مجھ سے جان چھوٹے گی,کہو انشااللہ!”
“ضرور کہتی,لیکن جانے کیوں مجھے لگتا ہے کہ سزا زرا لمبی ہوگی!”
‘مطلب کیا؟کیا کہنا چاہتی ہو تم؟’
“یہی کہ مجھے کسی انہونی کے خوف نے جکڑلیا ہے عالین,,یہ گھر میرے لیے بھوتیا بن گیا ہے,میں ڈرنے لگی ہوں,اور جتنا ڈرتی ہوں اتنا ہی پھنستی جارہی ہوں اس کے اندر,یہ جیسے گھر نہ ہو,دلدل ہو,
تمہیں ایسا لگتا ہے؟”
“ہاں ایسا لگتا ہے مجھے,ویسے عجیب بات ہے کہ مجھے بھی محسوس تو کچھ ایسا ہی ہورہا ہے لیکن میں مسلط نہیں کرنا چاہتی,تم بھی مت کرو,”
“اس طرح کچھ نہیں ہوتا یہ صرف بہلاوے ہیں خود کو بہلانے کے,فقط بہلاوے,اور بس,خیر جو بھی ہے,دیکھا جائے گا,فی الحال میں سوتی ہوں اور اب پلیز تب تک یہ مت کہنا کہ میری تم سے,اور تمہاری مجھ سے جان چھوٹ رہی ہے,جب تک یہ سب میں خود دیکھ نہ لوں وہ دن,جب ہم اچھے طریقے سے ایک دوسرے کو گڈ بائے کہتے ہوئے آگے بڑھیں گے,اور پھر پلٹ کر ایک دوسرے کی طرف نہیں دیکھیں گے,”


ایسا ہی ہوگا زیبی,میں بس کل کے دن کا انتظار کررہی ہوں,وہ یہاں پہنچیں,اور میں نکلوں,بس پھر زیادہ دیر نہیں,مجھے تو جلدی ٹکٹ کرانی ہے اپنی,اس لیے آج میں نے امی کو جلد آنے کا ٹیکسٹ بھی کردیا ہے,تو بس میری ٹرین چھوٹنے والی ہے,اور تم بالکل بے فکر ہوجاؤ,”وہ کہتے ہوئے اپنا کمبل لیکر دراز ہوگئی,
زیبی کے چہرے کی بے یقین مسکراہٹ نے اسے کچھ مخمصے میں مبتلا کردیا تھا,اتنا یقین ,لیکن اسے پتا تھا کہ وہ منفی بہت سوچتی ہے,اور منفی احساس پر یقین بھی رکھتی ہے,تبھی اعتبار نہیں کرپاتی,.وہ اکثر نیند میں ڈربھی جاتی تھی,لیکن اس بار اس کے خدشے نے ڈنک مارا تھا,اور پھیل گیا تھا.
————


زندگی دیوانے کا خواب ہے.
*********




“ایک دن ایسا بھی آتا ہے زندگی میں کہ آپکو لگتا ہے کہ سارا کچھ ختم ہوگیا,یہاں تک امید بھی,,اور سب سے پہلے زندگی سے محبت جاتی ہے,,,تم نے سنا مجدد,,,اس عورت کی آنکھوں میں دیکھا تھا تم نے,,,عدیلہ,,ہاں یہی نام تھا,,کتنی حسرت تھی,کتنا ارمان,کتنی شکست,اور ہم نے جب مستقیم کو پایا تب بھی وہ کتنی بے حس تھی,وہ اسے بچانے کا دعوا کررہی تھی,لیکن خود کھوکھلی تھی,پوری طرح سے,کھوکھلی,اور خالی,ایکدم سے خالی خولی,برتن جیسی چھنکتی,خالی برتن جیسی,بس ایسی ہی تھی,
مجھے لگتا ہے وہاں سب ایسے تھے,خالی برتن جیسے.
خود سعدیہ ,خود مستقیم,(اس کا نام لیتے ہوئے انکی آنکھیں بھیگی ہوئیں تھیں,)تم نے دیکھا ..ہر کوئی ہارا ہوا,
التمش بھی,میں بھی,تم بھی,سب ہی,,
سب ہی,کوئی حیات کا نسخہ دینے پر تیارنہ ہو جیسے,سب نے جیسے کمند چھوڑدی ہو,کسی نے کوئی کاسہ نہیں لیا تھا,نہ کوئی صدا تھی,سب کچھ خالی برتنوں جیسا تھا,
سب کچھ ویسا تھا,ویسا ہی,تمہیں پتا ہے,
تمام صرف فریب ہے,دکھ بس حقیقت ہے,
لیکن مجَھے تو دکھ کا ذائقہ بھی محسوس نہیں ہوتا,
مجھے تو کچھ بھی محسوس نہیں ہوتا,میں جیسے خالی برتن بن گیا ہوں,اس عدیلہ نامی عورت کی طرح,مجھے بتاؤ مجدد کیا کروں..
کیسے بھروں خود کو,,
کیا برتن میں سوراخ ہوگیا ہے؟
کیا ایسا تو نہیں ہوا؟”


“سالس صاحب ان سوالوں کا جواب اس آدمی کے پاس کیسے ہوگا جس نے کبھی امیری کا ذائقہ چکھا نہیں,..جسے کبھی محبت کی انتہا کا گر نہیں ملا,جسے کبھی کچھ نہیں ملا,نہ اس نے چاہا,نہ شاید اس سے فیز سے گزرنا ضروری تھا,بس یہی کچھ,بس یوں ہی زندگی گزرتی رہی ہے,بس یہی اور بس یونہی کے بیچ ہی سب کچھ رہا ہے,میرے پاس ان سوالوں کے جواب تو نہیں ہیں,البتہ یہ ضرور جانتا ہوں کہ آپکو اب زرا جگہ بدلنے کی ضرورت ہے,اور جگہ بدل کر آپ اپنے کام کا ڈھنگ بھی بدلیں,ہوسکتا ہے آپکے اندر کچھ تبدیلی ہو,یہی تبدیلی آپکو جینے کے لیے محبور کرے گی,یہی تبدیلی آپکو زندہ رکھے گی,یہی تبدیلی آپکو بھرے گی,آپکے اندر جزبہ بیدار کرے گی,یہی تبدیلی کام کرے گی,اس لیے آپ کو خود کو تھوڑا سنبھالنا پڑے گا,بلکہ بہتر ہے کہ آپ عالین سے بات کریں______________مجھے تو خود نہیں معلوم کہ اب زندگی میں کیا کرنا ہے,,کہاں جانا ہے,میں فی الحال کوئی کام دھندہ ڈھونڈ رہا ہوں,اور جب تک وہ نہیں ہوتا سعدیہ کا خیال رکھوں گا,وہ دوست ہے میری اور اس وقت میں ہی اسے میسر ہوں,عالین بھی پھنس گئی ہے بچاری,آپ اس سے ملیں,اس سے بات کریں,
اس سے مشورہ کریں,لیکن ایک اہم مشورہ میں بھی آپ کو دیتا ہوں,اور وہ یہ ہے کہ نئے اسٹوڈنٹس لائیں,
جگہ بدلیں,میں آپکو کرائے پر کمرہ دلاتا ہوں شہر کی طرف شاہراہ کے عین سامنے میرے دوست کا ہاسٹل ہے,وہاں رہیں,نیچے سینٹر ہے ٹیوشن سینٹر,وہاں دو کلاسز چلائیں کلاسز کا کرایہ ادا کریں پہلے مہینے کا,ایک مہینہ تجربہ کریں,مزا آئے تو ٹھیک ہے,نہ آئے تو لوٹ آئیں,کوئی دقت نہیں ہوگی آپکو,کم از کم ایک مہینہ تبدیلی آئے گی تو آپکے اندر لائحہ عمل کی ترکیب کی ہمت آجائے گی___________________
بسم اللہ کریں,آپکے پاس علم ہے,اسے بروئے کار لائیں,آپ فزکس کے علاوہ نفسیات اور فلکیات پر بھی بات کرسکتے ہیں,آپکے اس موضوع کی وسعت ہے,بلکہ ابکی بار اپنے تجربے کے علاوہ ایک ایسا سبجیکٹ بھی رکھیں جس میں آپکو خود بھی پڑھنا پڑے,آپ تاریخ رکھیں,یا اس سے ملتا جلتا کچھ اور,مجھے لگتا ہے یہ بہتر ہوگا,
میرے پاس آپکے لیے یہی مشورہ ہے.”
وہ دوسرے معنوں میں انہیں تبدیلی کی ضرورت سے آگاہ کرنے لگا تھا.
“میں اب چلوں گا,ورکشاپ پر آج کام کرنا ہے,ڈیلی ویجز کے حساب سے کام کرتا ہوں,شام میں کتابوں کے بنڈل اسٹور پر پہنچانے ہیں,میں بس چھوٹے موٹے کام کرتا رہتا ہوں,اور کام بدلتا رہتا ہوں,اس لیے بھی کہ میں غیر مستقل مزاج ہوں,اور اس لیے بھی کہ مجھے زندہ رہنے کے لیے دل لگاکر رکھنا ہے تھوڑا بہت,اور اپنے پیٹ بھرنے کا انتظام بھی خود ہی کرنا ہے.”
وہ بات مکمل کرکے انکے لیے مگ میں کافی ڈال کر رکھ گیا تھا,
اور وہ کافی کے سپ لیتے ہوئے اسکے مشوروں کو سمجھنے اور نتائج لانے کے کیے سوچ میں پڑگئے تھے,انہیں اندازہ ہوا کہ جینے کے لیے حرکت ضروری ہے,اگر زندگی لکھی ہے تو جھیلنی یا پھر گزارنی پڑے گی,تب تک کے لیے اپنے حصے کا لین دین جاری رکھنا پڑے گا,زندگی سے لیتے وقت کچھ دینا پڑتا ہے,وہ جاتے جاتے ایک گر تھماگیا تھا انہیں ,اور اس نے جب عالین کو فقط اتنا لکھا کہ عالی میں کیا کروں,,,تم کیا کہتی ہو؟
تو اس نے جوابالکھا” تامی صاحب جو جاتے جاتے کہہ گئے تھے وہ کریں!”
انہیں یاد آیا انہوں نے کہا تھا سالس موسیقی کی تربیت لینا اور رقص کرکے دیکھنا تمہیں مزا آئے گا,تھیٹر کا اس لیے نہیں کہوں گا کہ تھیٹر کی مشکلیں تم سے سنبھالی نہ جائیں گی,,انہیں یاد آیا ماضی عنقریب میں یہ مشورہ لیتے ہوئے وہ کتنا حیران ہوئے تھے اور کھسیائے تھے کہ ایک مرتا ہوا شخص بجائے نصیحتوں کے پل باندھنے کے اسے مشورہ دے رہا تھا کہ تم رقص کی تربیت لو ,اور موسیقی کی تربیت لو,ایک بیمار شخص,ایک ایسا شخص جس کے سر پر بنا خواہش کے موت آکھڑی تھی,اور ہر کسی کو جیسے اسکی موت کا ادراک ہوچلا تھا,وہ جب سے مستقیم کو لیکر لوٹے تھے,جب نکلنے سے پہلے وہ جھکے تھے,انہوں نے مستقیم سے کچھ بات کی ,اور عہد لیا ,اور پھر اسے ساتھ لیا,اور گھر پہنچنے کے بعد انکی طبیعت ڈھلتی گئی,زیبی اور عالین انہیں ہسپتال لے گئے,وہاں ٹیسٹ ہوئے کووڈ 19 کی تشخیص ہوئی تازہ تازہ پھیلا وائرس جان کا دشمن بنتا گیا,موت سے کسے مفر تھا مگر خوف نے شہروں بستیوں کو جکڑ لیا تھا,خوف سائرن کی طرح بجتا تھا,ہراس بن کر پھیلا تھا,اور ہیبت بن کر اترگیا,ہیبت بنتا تو بھی بات تھی,یہ تو وحشت کی شکل لیکر اترا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے مکانوں کے اندر فکریں بچھاگیا,اور راستے ویران کرتا جارہا تھا.




**********

ہم سوئیں گے,محبت جاگتی رہے گی,
**********

“عالین میں تم سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں..بلکہ میں تم سے ملنا چاہ رہا تھا,تمہیں بتانا چاہ رہا تھا کہ میری بیٹی ہوئی ہے,اس لیے میں لوٹ آیا ہوں,نبیلہ کی جگہ میرے دل میں بہت کم ہے ,بلکہ نہ ہونے کے برابر,لیکن میری بیٹی فارین,جو صرف چودہ دن کی ہے,لیکن میرے لیے بہت اہم ہے,میں تمہیں کچھ بتانا چاہتا تھا,اور تم سے کچھ پوچھنا بھی مقصود تھا,بتانا بیٹی کا تھا,اور پوچھنااپنا تھا,یہ بتاؤ عالین کہ
تمہیں ہارنے والے لوگ کیسے لگتے ہیں زندگی میں؟
شاید ایسے جیسا کہ میں ہوں,
تم مجھ سے ایک بار ملو,نبیلہ اس قابل نہیں ,لیکن میں اسکی وجہ سے اپنی پرانی یا پھر پائدار دوستیاں خراب نہیں کرسکتا,میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں اسکی پرواہ نہیں کیا کروں گا,میں جتنا نوٹس لیتا ہوں,وہ اتنی تکلیف دیتی ہے,اور جتنا اسے نظر انداز کرتا ہوں,اسے اتنی ہی تکلیف ہوتی ہے,وہ تکلیف میں ہوتو میں اس سے ہٹنے لگتا ہوں,حقیقت یہ ہے کہ نبیلہ یا تو تکلیف دیتی ہے,یا پھر لیتی ہے,اس کے علاوہ اس کے پاس کوئی تیسرا آپشن ہوتا ہی نہیں ہے,
تع جتنی تکلیف سہہ سکوں سہتا ہوں اور پھر اسے لوٹادیتا ہوں,مجھے نہیں پتا میں کتنا رہ پاؤں اس کے ساتھ,وہ بہت مشکل ہے,اس کا غصہ ماں بن کر بھی گھٹا نہیں ہے,بڑھتا ہی جارہا ہے,وہ کنٹرول کرنا نہ جانتی ہے,اور نہ ہی شاید چاہتی ہے,بس یہی ہے اس کا وطیرہ,میرے پاس سوائے دکھ کے ایک بڑی خوشی ہے,تم کہتی ہو شکر کیا کرو,دیکھو میں نے شکر کرنا شروع کیا ہے,ہاں ملازمت بھی ہے کہ میں سڑکوں پر دھکے نہیں کھارہا,ہاں بہت کچھ ہے,اپنا مکان ہے,اور روزگار بھی,بس اور اب کیا چاہیے,بیوی بچہ,مکمہ زندگی,بس ایک محبت نہیں ہے,,
جس کے بنا میں ادھورا ہوں,,
وہ بھی ادھوری ہے,لیکن وہ اپنی بنائی ہوئی مسند پر کھڑی ہے,,دیکھو مجھے اب کچھ لمبا لکھنا آگیا ہے عالین,پڑھ پڑھ کر زرا اردو بھی اچھی ہوگئی ہے میری,جاب کے ڈیوٹی آورز میں بریک کے دوران میں اکثر سوچنے کے علاوہ کچھ نہ کچھ کھانے کے ساتھ پڑھ لیا کرتا تھا,اس سے میری مطالعے کی عادت دوبارہ اچھی ہوئی ہے,
عالین,,میں بہت تھک گیا ہوں,,سونے لگا ہوں,تم بھی شاید سوچکی ہوگی,,
میں آج گھر سے باہر ہوں ,انکل کے کام سے شہر سے باہر آیا ہوں,پچھلے دنوں سعدیہ سے رابطہ ہوسکا سالس صاحب کی بدولت,مجھے اب کل صبح سویرے سعدیہ اور مستقیم سے ملنے کے لیے جانا ہے,کسی روز تمہارے پاس بھی مٹھائی لیکر آجاؤں گا,اور میرے سوال کا جواب ضرور دینا,میں سوچ رہا ہوں تم کیا کہوگی,اور تمہیں کیسا محسوس ہوگا ہر بار کی طرح اس بار بھی میری دکھی دستان سن کر کہ,شاید اس طرح کہو,,ہاں میں پوری طرح تصور کررہا ہوں کہ تم دونوں بازو باندھے بیٹھی ہو,اور سوچ میں مگن ہو,یا پھر تم آسمان کی طرف دیکھنے کے بعد سر نیچے کرکے بندے کی طرف چندھیائی ہوئی آنکھوں سے گھورتی ہو اور پھر کچھ کہنے کے لیے لب کھولنے سے پہلے مسکراتی ضرور ہو,ہاتھ جھاڑکر ساتھ ساتھ چلتے ہوئے,چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے,بولتی ہو,تب تمہارا لہجہ کچھ کچھ تجسس سے بھرا ہوا اور کچھ,دھیمہ پریقین سا,,عالین میں بہت دفعہ تمہاری حرکات نوٹ کرتا ہوں,تمہیں اب اگر برا لگا تو نہیں کیا کروں گا,لیکن تمہارے انداز ہر کسی کو اتنے ہی بھاتے ہونگے,جتنے مجھے بھاتے ہیں, درحقیقت تمہارے اندر کی سچائی اور ملنساری سب جذبوں پر بھاری ہے,
درحقیقت یہ خلوص ہے,کہ کسی کی زندگی کو مشکل سے آسانی کی طرف لوٹانا,اگر نہیں تو کم از کم محبت سے مسکرادینا,اور ایک امید بھری دوستانہ نظر دینا,مسکراہٹ بخشنا,اور ٹھنڈے لہجے سے اپنا گرویدہ بنالینا,,اف تم کہوگی کیا تعریفوں کے پل چڑھادیے ہیں,وہ بھی بغیر کسی مقصد کے,لیکن ہاں ہے,مقصد تو ضرور ہے,اپنی دوست کو کچھ کہنا,جو دل چاہے,عالین یہ بات کسی کو بھی کہنا مشکل ہوتی ہے کہ تم میری بہت اچھی دوست ہو…میں تمہیں سمجھنا چاہتا یا جانتا ہوں,,تم تو مجھے شروع سے سمجھتی ہو یا پھر پورا سمجھتی ہو,,تم نے گوکبھی کوئی پریشانی,کوئی الجھن اپنی ذاتی اس طرح سے شیر نہیں کی,مجھ سے نہیں بلکہ شاید کسی سے بھی نہیں,,عالین کیاتمہیں ضرورت نہیں پڑتی کہ تمہارا کوئی ایسا دوست ہو جسے تم اپنا رازداں کہو,جسے تم اپنا کہو,جس سے تم سب کہہ سکو,اگر ہاں تو تم بھی میری طرح خوش نصیب ہو کہ جیسے تم میری دوست ہو اسی طرح تمہارا بھی کوئی اچھا سا دوست ہے,
اور اگر نہیں تو پھر میں تمہاری طرف وہ والا دوستی کا ہاتھ بڑھاتا ہوں,,اسے قبول کرو,,اس پرسوچنا ضرور..
مجھے پتا ہے میرا نام دیکھ کر تم یہ میل ضرور پڑھوگی,,اور میرے لیے جواب لکھنے لگوگی,آدھا پیغام پڑھنے کے دوران ہی لکھنا چاہوگی,لیکن تب تک اگر پورا پیغام پڑھنے کے لیے رکیں تو پھر رک جاؤگی,,تم مسکراؤگی,,لیکن لکھوگی نہیں,,تم فکرمند بھی ہوسکتی ہو..کچھ بھی سوچ سکتی ہو,مجھے احمق سمجھ سکتی ہو,لیکن بس جو بھی ہو,,تم یہ ٹیکسٹ پڑھوگی تو مجَھے سب مل جائے گا,,اسے لکھنے کا حق ادا ہوجائے گا,
اپنا بہت خیال رکھنا,تمہاری ہم سب کو ضرورت ہے,,بہت ,بہت ہی,,خدا تمہیں آباد رکھے,
اور مزے سے کہوں گا کہ تم ہمارے لیے سلامت رہو,,
تمہارا دوست,,سمجھو تو اچھا ساتھی بھی,,
طاہر منیب
والسلام,

رات کا آخری پہر کناروں سے لگا جارہا تھا,اور اس نے میل باکس بند کرکے ایک ٹھنڈی سانس بھری تھی,,اور کچھ سمجھ نہ آیا کہ اس کے اس طویل رقعے کی کیفیت کو کیا نام دے,,کچھ چیزوں کو نام دینا مشکل ہوتا ہے یا پھر نام دینا ہی نہیں چاہیے,,
وہ لکھنا چاہتی تھی بہت شکریہ طاہر,یہ بھی کہ تم نے یاد کیا,یہ بھی کہ تم بہت اچھے ہو,یہ تو ضرور ہی کہ بیٹی کی پیدائش مبارک ہو,لیکن پھر بہت کچھ لکھنا شرط ہوجاتا ,یا پھر اس نے سوچا کہ مختصر سا جواب دے کر اسے احساس دلادے کہ اتنا ہی جواب ضروری تھا,فقط سلامتی لکھ کر بغیر سینڈ کیے باکس بند کیا اور لیٹ گئی,,رات کھسک کر جلد ہی صبح میں بدلنے کے لیے جارہی تھی,,
اس نے کچھ فاصلے سے زیب کو دیکھا,وہ گہری نیند سورہی تھی,اس نے کل تو اس کی دوست سے ملنے کا پکا تہیہ کرلیا تھا,
اسے عنصر تک پہنچنا تھا,اسے زیبی تک لانا تھا,زیرو بلب کافی پرانا تھا تبھی جھٹکے دیکر فیوز ہوگیا,اور اس نے گھپ اندھیرے میں نیند سے بوجھل ذہن کے ساتھ اٹھ کر تصدیق کرلی کہ زیبی کے کمرے کی سولر بتی جلی تھی,وہ قدرے تسلی سے آکر دوبارہ اپنے بستر پر دراز ہوگئ جو کہ زیبی کے کمرے کی دیوار سے ہی منسلک صوفہ کمبیڈ جسے رات کو کھول کر بستر بچھانے کے لائق کیا جاسکتا تھا,وہ اندھیرے کے اندر آتی کمرے کی بتی سے نکلتی سفید روشنی کی چنگاریوں سے نظر چراتی ہوئی آنکھیں موندنے لگی تو نیند نے اس کی پیشانی پر بڑے پیار بھرے انداز میں بوسہ دے دیا اور وہ خوابوں کی پرسکون وادی میں اترگئی ,جہاں سپنے آج شب ڈرائونے نہ تھے.

———–











دنیا کی بیشتر کہانیاں دولت محبت اور موت کے گرد طواف کرتی ہیں.
********

بازار کی گرماگرمی ٹھنڈ کے عروج پر جاری تھی..خوف قدرے مدھم پڑچکا تھا,
لوگ ایک دوسرے سے احتیاط برتتے ہوئے بھی ایک ہی جگہ موجود ہونا پسند کرتے تھے.
سب اتنی اچانک ہوکر پھیل گیا اور پھر اچانک نہیں رہا تھا,وہ وارڈ نمبر تیرہ سے نظر چراکر گزری تھی,ہسپتال کے اندر آکر میڈیسن چیک کرانے سے بھی دل ہول جاتا تھا,انسان بہرحال ہر طرح کے ٹراما سے گزرکر یا تو سہنے کا حوصلہ پیداکرلیتا ہے یا پھر نظر انداز کرنا اسکی مجبوری بن جاتی ہے,
سب ہی جیسے نظر کا فریب لگتا تھا لمحے کو اور لمحے کو لگتا صدیوں سے بچھا یہ جال کہا جائے یا پھر دھرتی کی کوکھ میں پلتے ہوئے گورکھ دھندوں کا زہریلہ مادہ ابل پڑا ہو,
سالوں سے جو لوگوں کی طبیعتیں بدلی ہوئیں تھیں عجیب مغر میں ڈوبی ہوئیں لاپرواہ سوچیں پروان چڑھ چکی تھیں کہ جب یکلخت ہی دنیا کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ ماردیا گیا تھا.
پل بھر میں جیسے تعلقات کی سب زنجیریں جھڑگئی تھیں,اور پل بھر میں ہی انسان تنہا بے سہارا اپنے ہی ہجوم میں لاوارث کھڑا رہ گیا تھا.
یہ وہی جگہیں تھیں جہاں اردگرد سے گزرتے, کچھ دیر ٹہرتے ,آتے جاتے ہوئے تمام چہرے ایک دوسرے سے سرسری نظر ملاکر, چرائے ہوئےناشناسائی کی اداکاری کرتے حیران مسکراہٹوں کو مدھم نباہ کر گزرجاتے تھے.
اور اب وہی چہرے مارے باندھے,ایک دوسرے کے انتظار میں..ملنے قریب آنے کی تڑپ لیے ہوئے,دو منٹ ساتھ بتانے کی خواہش کو لپیٹے ہوئے ,بے بسی سے سر ہلاکر شناسائی کا اظہار کرکے ٹہرتے تو ہیں,لیکن قریب نہیں آسکتے..
بات کرنے سے گھبراتے ہیں..
دنیا یکایک ہی جیسے بدلی بدلی سی دکھنے لگی تھی,
ایسا تو ہم نے کہانیوں میں بھی کم ہی پڑھا تھا.
کل صبح ہی تو اس نے پھر سے زیب کو بہلانے کی خاطر کہا تھا کہ تم نے بچپن میں کہانیاں سنیں تھیں ناں,وہ محنت والی,,تمہیں یاد ہیں تو مجھے سناؤ,جس میں یا تو شہزادہ ہوتا تھا,یا پھر صرف شہزادی,,
اور وہ کھڑکی سے ٹیک لگائے بیٹھی تلخ و بے بس مسکراہٹ سے اسے دیکھنے لگی تھی.
کاش کہ کوئی ایسی کہانی بھی سنی ہوتی جیسی بھیانک فلمیں ہوتی ہیں آج کیں,کہ یکایک سب بدل جاتا ہے,یکایک دنیا راکھ کا ڈھیر ہوجاتی ہے,یکایک ہی سارا کچھ الٹ جاتا ہے,دنیا کا پورا تخت,تختہ,بادشاہی,ملازمت ,سب الٹ جاتا ہے,.ہاں ایسی ہول دینے والی فلمیں دیکھتے کب سوچا تھا کہ سب کچھ ہوجائے گا..فلمیں دیکھیں تھیں,,شاید فلمیں دکھائی گئیں ہمیں,,ہمارے معاشرے میں تو کچھ اور ہی مظالم تھے,ایسے کہاں,,,اس طرح کے کہاں,سازشی جار میں بند کہانیوں کی رنگین ڈھیریوں میں چھپے ہوئے بارود کی گٹھلیاں,اور…اور…کہتے وہ تھوکنے لگی..نہایت بے دردی سے,اور پھر عالین نے جھک کر دیکھا تو اسکی تھوک میں خون جیسی سرخی نظر آئی,
تمہیں تھوک میں خون آرہا ہے,؟زیبی,,
چپ رہو عالین..سکون سے مرجانے دو..
تمہیں کچھ نہیں ہوگا زیبی,,یہ بس فقط کچھ روز ہیں,نکل جائیں گے,ہمت مت ہارو,کچھ نہیں ہوگا.
دلاسے مت دو عالین,دلاسے دینے والے دن نکل گئے,پردہ ہٹ گیا ہے,اب کھیل ہوگا,دمادم,کھیل ہی کھیل,,نہ پایل چھنکنے والا,نہ کٹھ پتلی کا,بس کھیل ہوگا موت کا,تھوک کا,مرگ کا,اس نے تالی بجائی نفرت بھرے انداز میں اور ہنسنا شروع ہوگئی تھی.
عالین مزید متفکر سی ہوگئی تھی..
اسے چھوڑکر نکلنے سے بھی اب ڈرلگتا تھا,لیکن دوائی چیک کرانے کے لیے وہ ذاتی طور پر گئی تھی,اور اب وہاں سے ہوکر نگار افروز کو فون کرکے اس طرف نکل آئی تھی,اور کچھ دس پندرہ منٹ کے انتظار کے بعد اس نے سامنے نگار کو آتے دیکھا جس کی تصویر وہ زیب کے فون میں پہلے ہی دیکھ چکی تھی اس لیے پہچاننے میں قباحت نہیں ہوئی تھی,نگار ہاتھ ہلاتی ہوئی دور سے نظر آئی اس کا شارہ پاکر اس طرف چلی آئی خاصی ہانپتی کانپتی ہوئی,
تو تم ہو زیبی کی دوست,؟
جی میں بالکل,آپ بیٹھیں پلیز,لگتا ہے گاڑی دور پارک ہوئی ہے آپکی,.دکت ہوئی آپکو,عالین نے کہتے ہوئے منرل واٹر کی بوتل کی طرف اشارہ کیا تھا,جو اسکی کرسی کے سامنے پڑی ٹرے میں رکھی تھی,ساتھ ایک برگر کا بند پیکٹ اور جوس کا گلاس بھی تھا جو اس نے کچھ دیر پہلے منگاکر رکھا تھا,
تم نے پہلے ہی انتظام کرلیا اس کا,وہ پانی لیتے ہوئے کھسیانے انداز میں کہنے لگیں.
ہاں یہ یہاں سے کچھ اندر کی طرف ملتا ہے,میں نے سوچا گفتگو میں مخل ہوگا کافی پھر یہ وقت ایسا ہے کہ ہلکی ہلکی بھوک محسوس ہوتی یے,آپ بھی شروع کریں,میں آپ ہی کا انتظار کررہی تھی اب تک,اس کے بعد ایک گرم کافی یہاں قریب سے مل جائے گی,پاس میں ہی کافی اسٹال ہے,وہ کہتے ہوئے اپنا ڈبہ کھول کر برگر نکالنے لگی جس میں فنگر چپس وافر مقدار میں ڈلوائے گئے تھے,اور کیچک کی بوٹل اٹھاکر اس نے اسپرے کی طرح پھیر دی,ساتھ میں مایونیز کی ساشے ایک انکی طرف بڑھائی ایک خود ڈال دی,
تم مایو بہت لیتی ہو زیبی کی طرح,لیکن میں نہیں لیتی اتنا,
اچھا..زیبی کو پسند ہے,,؟اور کیا پسند ہے اسے؟
وہ دوست ہے تمہاری؟کیا یہ سچ ہے؟
نہیں دوست پتا نہیں کہیں یا نہیں..بس سمجھ لیں وہ مجبوری میں رہ رہی ہے میرے ساتھ,لیکن میں خود کو اسکی دوست سمجھتی ہوں,خیر چْھوڑیں,آپ بتائیں راستے میں کوئی دکت تو نہیں ہوئی ناں آپ کو,؟
دکت کیا ہونی ..بس رکشہ لیا اور. آگئی,
ارے رکشہ لیا..آپکی غالبا” اپنی گاڑی ہے,میں نے سمجھا پہنچنا آسان ہوگا,
وہ تو ہے لیکن اب دیکھو وہ میرے شوہر کی گاڑی ہے,ڈرائیور ہر وقت رہتا ہے,مگر میں اس میں نہیں آنا چاہتی تھی کیونکہ میرے سسرال والوں کو اگر پتا چل گیا کہ میں باہر کسی سے ملنے گئی ہوں تو میرا تو بڑا برا انجام ہوگا..بڑی مشکل سے میں نے انہیں یہ کہا کہ بس دور دور سے باہر کی ہوا کھاآؤں گی.اس سے پہلے کہ پھر سے لاک ڈائون سخت ہوجائے,اور پھر سے قید میں بیٹھ جانا پڑے تو ایک چکر باہر کا لگاکر دل ہلکا کرآؤں,.کیونکہ ضرورت کی ہر چیز تو ملازم لے آتے ہیں,اس لیے کوئی اور بہانہ ہوتا نہیں ہے,وہ تو حاکم علی کے گھر کی عورتوں کی مہربانی جو مجھے تنقید بھری نیچ نظروں سے دیکھتے ہوئے بھی کچھ من مانی کرنے کی اجازت دے دیتی ہیں,خیر دفع کرو..تم بتاؤ مجھے تم نے یہاں کیوں بلایا ہے ,ایسی کیا خاص بات ہے جو فون پرنہیں ہوسکتی تھی.
آخری جملے میں ان کے چہرے پر بیزاری ای درآئی تھی.لیکن بات مکمل کرکے وہ برگر کا پیس اٹھاکر کھانے لگیں.
میں زیادہ وقت نہیں لوں گی بس تھوڑی سی بات چیت کرنی ہے آپ سے زیب کے حوالے سے ہی.عالین نے انکے چہرے کی بیزاری نوٹ کی اور مسکرائی کھاتے ہوئے.
ہاں اوہ..زیب..کیسی ہے وہ..؟اسے یکدم ہی خیال آیا کہ یہ تو سب سے پہلے پوچھنا چاہیے تھا گو کہ وہ فون پر زیب کی صحت کی تفصیل تو لے ہی چکی تھی لیکن فکر تو بہرحال اپنی جگہ پر قائم تھی.
وہ اب کچھ بہتر ہے.ڈاکٹر نے اسے ابھی آئیسولیٹ ہی کیا ہوا ہے..کچھ وقت لگے گا.بس اگر وہ خود زرا ایکٹو ہوتو جلدی ہوسکتا ہے,بعض دفع چڑچڑی ہوجاتی ہے بہت,عجیب عجیب باتیں کرنے لگ جاتی ہے..مایوسی کی ,اور…بہت شکایتی ..
تم نے اسے ہسپتال داخل تو نہیں کرایا ناں؟وہ ایکدم سے پریشان ہوگئیں..
نہیں..مجھے معلوم تھا اس کا انجام کیا ہونا ہے..
پتا نہیں کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ,لیکن بہرحال صورتحال بڑی خطرناک ہے,اور یہ کووڈ 19 تو کہتے ہیں بہت زیادہ خطرناک ہے,بہرحال ہم دنیا کو ریموٹ کنٹرول پر نہیں رکھ سکتے ہر وقت,لوگ نہ ہوئے کھلونے ہوگئے..جب چاہا وائرس بڑھادیا گیا جب چاہا لاک ڈاؤن کھول دیے گئے..بہرحال جو بھی ہے..خیر..
یہ بحث لایعنی ہے..مجھے آپ سے زیب کے بارے میں پوچھنا ہے,کچھ بات کرنی ہے ,
اب تک جو نگار اسے توجہ سے سن رہی تھیں,فورا” الرٹ ہوگئیں,
اب بتابھی چکو کہ ایسا کیا کہنا ہے زیب کے بارے میں تم نے,بس کہے ہی جارہی ہو لیکن کچھ بتاتی نہیں,سچ بتاؤ طبیعت بہتر تو ہے ناں اسکی,کتنی بدنصیبی کی بات ہے کہ میری اتنی گہری دوست بیمار ہے اور میں اس کا حال پوچھنے تک نہیں جاسکتی,
ہاں یہ بے بسی کی ہی بات ہے ویسے,کیونکہ ایک طرف نانا کی موت,ان کا دکھ اور پھرخود اسی کیفیت سے گزرنا,تھک جاتا ہے بندہ..
اوہ..کیا انکو بھی کرونا ہوگیا تھا؟
ہاں..بالکل انہیں پتا ہی نہیں چلا,کہیں سفر سے لوٹے تو افیکٹڈ تھے,بلکہ زیب کو بھی انہیں سے ہی ہوا ہے شاید , انکا بلڈ گروپ بھی ایک ہی ہے,حالانکہ اس روز شام کے کھانے پر شمس الدین بھی تھے ,انکے بیٹے,زیب کے ماموں,میں تھی,سالس صاحب تھے,مجدد,کافی لوگ آئی مین..ہم کافی سارے دوست,,سعدیہ اور وہ بھی,,مستقیم,نیم مرگ,,آپ جانتی ہیں سب کو؟
میں..نہیں..شاید ہاں..نہیں صرف زیبی کی نانی اور نانا کو شاید,اور کسی کا وہ اتنا زکر نہیں کرتی تھی,,نیم مرگ کون؟
جانے دیں کچھ مسائل ایسے ہیں جن کو سمجھنے سمجھانے کے لیے بہت سارا وقت چاہیے ہوگا,اب میں یہ نہیں کہوں گی کہ آپ زیب کی کیسی دوست ہیں کہ آپ کو کچھ نہیں پتا,کیونکہ تب تک شاید زیب خود بھی شاید بہت ساری چیزوں سے بے خبر ہو,خیر..زیب سے سنا تھا آپکے شوہر کے بارے میں,اسکے فون پر انہیں دنوں ٹیکسٹ آیا تھا, اچانک ہوا انکا انتقال؟
نہیں یار..انہیں بھی یہی وائرس لگا تھا جو چٹ کرگیا,,
کافی ٹائم ہاسپٹل میں ایڈمٹ بھی تھے,بس ری کور نہیں کرسکے,انہوں نے نوالہ پلیٹ میں واپس رکھ لیا,بے دلی سے.
.کہنا بہت آسان ہے کہ افسوس ہوا,لیکن زیبی کو آپ سے لاکھ شکایت ہونے کے باوجود بھی بہت دکھ پہنچا تھا..وہ روپڑی تھی.
آ نہیں سکی,مل سکی آپ سے,جس کا سبب آپ اب جانتی ہیں,تب وہ بتانہیں سکی,
مجھے معلوم ہے عالمین..وہ خاصی افسردہ سی ہوگئیں.
عالین..اس نے درستی کرنا ضروری سمجھا.
عالمین یا عالین..ایک ہی بات ہے,وہ بے دلی سے مسکرائیں.
نہیں بہت فرق ہے..عالمین بہت بڑا درجہ ہے..اتنا لینے کے میں قابل نہیں..
خیر آپ بتائیں آپ تو ٹھیک ٹھاک ہیں ناں؟
ہاں میں ٹھیک ہوں..
مجھے زیبی کا بتاؤ اسے یہ سب کب ہوا..کیسے ہوا نانا کے ساتھ ہی؟
ہاں انکے ساتھ ہی,ٹیسٹ ہم سب نے کرایا تھا انکا پتا لگنے کے بعد,ہاشم الدین تو خوف سے گھر سے لگ گئے,پلٹ کر باپ کو پوچھنے تک نہ آئی,ایک زیبی تھی ,میں تھی,مجھے بھی باہر جانا تھا لیکن ان دنوں فلائٹس کینسل ہوگئیں,میری امی کو بھی ہوا تھا,وہ وہاں تھیں,میں یہاں,شکر ہے بھائی ٹھیک سے خیال رکھت رہا,وہ اس فیز سے نکل آئی ہیں,لیکن کمزور بہت ہوگئی ہیں.
بہرحال..اس وبا نے بہت ساروں کو دکھ دیے ہیں,سالس صاحب کہتے ہیں کہ یہ فطرت کا انتقام ہے,فطرت بدلہ لیتی ہے جب دھڑادھڑ تباہ کی جاتا ہے نظام کو,تب فطرت بدلہ ضرور لیتی ہے,اور ایک چنگھاڑ پھینکتی ہے,
اس نے کہتے ہوئے نگار افروز کے چہرے پر پھیلا ہوا خوف کا سایہ سا محسوس کیا.
چلیں,,اللہ مالک ہے,ہم انسان تب بھی جی رہے ہیں,کافی سارا وقت بے فکری سے گزرنے لگ جاتا ہے,مجھے اصل میں زیبی کے شوہر کے بارے میں آپ سے پوچھنا ہے کہ وہ کہاں ہے,؟کوئی اتا پتا ہے اس کا؟
زیبی کا شوہر,عنصر..نہیں مجھے اس کا کچھ نہیں پتا کہ اب وہ کہاں ہے,اور کس حال میں ہے,کس کے ساتھ ہے,اور کیا کررہا ہے..
کس کے ساتھ ہے,؟کیا کررہا ہے؟وہ بات کو کچھ سمجھ پائی تھی..
کوئی چکر وکر ہے اس کا کسی کے ساتھ؟بلکہ اکثر رہتا ہوگا,ہے ناں؟یہی کچھ..تبھی اس کے اور زیبی کے درمیان اختلافات بڑھ گئے.
میں ٹھیک اندازہ لگارہی ہوں؟
تم پوری طرح سے ٹھیک اندازہ نہیں لگاسکتیں..اختلافات تو اسی وجہ سے تھے,لیکن مجھے بھی بہت بعد میں پتا چلا کہ اس کا چکر کسی عام لڑکی سے نہیں تھا,
پھر..کیا کوئی بڑی عمر کی عورت تھی؟
اوہ نہیں یار,..وہ کوئی عورت نہیں لڑکا تھا,بلکہ تعلقات,
اس سے آگے نہ وہ کچھ کہہ سکیں نہ تو ضرورت پڑی,عالین فقط آنکھیں پھیلائے حیرت سے اور پھر افسوس سے دیکھتی اور پھر نظر اس طرف اس طرف دوڑانے لگی,
میں نے سوچا تھا یہ کوئی ایسا اختلاف ہوگا,جو دور ہوسکتا ہے,اس کے شوہر سے میں خود بات کروں گی,اور کوئی گنجائش نکلے کہ وہ زیبی کی طرف لوٹے,کم از کم اس سے فون پر رابطہ رکھے,اس سے دور سے ملنے آئے,تاکہ زیبی کے اندر زندگی کی کوئی امید جاگے,کوئی حوصلہ ہو,کوئی دلچسپی ہو,اس وقت اس کے پاس جینے کے لیے کچھ نہیں,نہ کوئی ایسا کام,نہ نانو کی محبت,نہ کوئی اور رشتہ,اور نہ ہی حوصلہ,,وہ ہارتی ہوئی جارہی ہے..شکستگی سے..
لیکن,,وہ آدمی جس نے مڑکر نہیں دیکھا زیبی کی طرف,جسے ضرورت ہی نہیں پڑی,وہ کیوں آئے گا…اور اب …
کیا کہوں….
تم اس آدمی سے کوئی اچھی امید نہیں لگاسکتیں,لیکن بہرحال میں تمہیں اس بندے کا ایڈریس دوں گی,تم دیکھ لو,بات کرلو اس سے,فون نمبر تو شاید تب ہی بدل گیا تھا اس کا..وہ فون نکال کر ایڈریس نکالنے لگیں,
یہ تمہیں زیبی نہیں دیتی تبھی تم مجھ سے ملی ہو,تمہیں میرے پاس آنا پڑا ہے,
تم نے اچھا کیا بہت,مجھے زیبی کا بھی پتا لگا,,سنو,میں آؤں گی ضرور,اس سے ملنے کے لیے,اسی ہفتے میں,وہ ٹھیک ہوجائے گی,,میرے پاس بھی کوئی رشتہ نہیں ہے,حاکم علی بھی چلا گیا,جس کے دباؤ کی وجہ سے میں زیب کو وقت نہیں دیتی تھی,میں اسکی کال نہیں اٹھاسکتی تھی,میں نے ایک دنیا چھوڑدی تھی,کہ حاکم علی کی مانوں,اسے خوش رکھوں,بس اتنا ہوا کہ اس کے گھر میں میرے لیے جگہ نکل آئی ہے,ان کے کاروبار میں سے کچھ امائونٹ مجھے بھی وہ لوگ دے دیتے ہیں,مجھے بے سہارا چھوڑکر نہیں گئے وہ,بس یہ ضرور ہوا ہے.
لیکن عالین ایسا بھی تو ہمارے معاشرے میں ہوتا ہی ہے ناں,جیسا زیبی کے شوہر نے کیا ہے,
دیکھو یا تو پھر زیبی کو کوئی اچھا سا ساتھی ملتا تو وہ اس کو چھوڑدیتی,یا پھر اسے کہو کہ معاف کردے,جو پہلے نہ کرسکی,وہ اب کرلے,,,
لیکن میں آؤں گی..اسے کہنا نگار افروز تمہاری مجرم ہے..
وہ آئے گی ملنے اپنی زیبی سے,انکی آنکھ کے گوشے میں ایک قطرہ اٹک گیا تھا.
عالین کی نگاہ پڑی تو بہہ گیا,
وہ پہلے کچھ ججھکی پھر
اس نے ہاتھ بڑھاکر انکا ہاتھ تھاما,اور نگار نے گرفت مضبوط کرلی تھی,
کیسا وقت آیا ہے کہ ہم ہاتھ تھامتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں,لیکن ہم ہر وقت ڈرکر کیا کریں عالین,ہم کہیں اس احساس کو کھونہ دیں,,تم بہت اچھی ہو,تم نے یقینا” زیبی کا بہت خیال رکھا ہوگا,تم تھوڑا مزید رکھ لینا,بس وہ تیکھا بہت بولتی ہے,لیکن اب تمہیں عادت بھی تو ہوگئی ہوگی ناں,,یہ کہتے وہ مسکرائیں تو عالین ہنس پڑی تھی.
یہ بات سو آنے درست ہے ویسے نگار,چلیں میرے پاس گاڑی ہے میں زرا گھر سے نزدیک آپ کو چھوڑآؤں,
نہیں عالین,میرا گھر بہت دور ہے,گھنٹہ لگ جائے گا,تم زیبی کے پاس جاؤ,اسے ضرورت لوگی,گھنٹہ مجھے چھوڑنے میں,پھر اس سے زیادہ وقت تمہیں زیبی کے پاس پہنچنے میں لگے گا,شاید وہ علاقہ دور ہو بہت اس لیے تم زیبی کے پاس وقت بچاکر فورا” پہنچو,
ہاں یہ ٹھیک ہے,چلیں آپ کیب لے لیں,کرایہ ہے آپکے پاس؟
تمہیں لگتا ہے نہیں ہوگا؟
نہیں میرا مطلب ہے کہ جلدی میں بندہ بھول بھی آتا ہے ناں,
میں لے آئی ہوں,زیبی کہتی تھی نگار کو پیسے کبھی نہیں بھولتے,وہ بھول آتی تھی,بلکہ تم بھی بھول آئی ہوتو مجھ سے لے لو,
آفر اچھی ہے,لیکن شکر ہے کہ میں لائی ہوں,بٹوہ ساتھ تھا,کیونکہ زیبی کی دوا لینی تھی,
تمہیں کچھ رقم کی ضرورت ہو تو مجھ سے لینا عالین,میرے پاس ہے اکائونٹ میں رقم,
ضرور,,پھر بات ہوگی.
وہ دونوں اٹھ چکی تھیں.
تم کہہ رہی ہو لیکن کہوگی نہیں ..
اچھا آپکو کیسے لگتا ہے؟
تمہاری شکل پر لکھا ہے.وہ مسکرائیں,
عالین نے ایپ کھول کر قریبی کیب اوکے کروائی,
جو کچھ منٹ بعد پہنچ گئی تھی,
وہ اسے گاڑی میں بٹھاکر ہی زیبی کے لیے دوا اور کچھ سامان لینے چلی گئی,اسے فورا” اب دیر کیے بغیر اس کے پاس پہنچنا تھا گوکہ وہ زیبی کو دوا دے آئی تھی اسے پتا تھا غنودگی کے اثر سے وہ کچھ دیر سوئے گی,لیکن اسکے مزاج کا کچھ پتا نہیں تھا,ایک دو بار اس نے خود کو چھوٹا موٹا نقصان پہنچانے کی کوشش بھی کی تھی,اس لیے وہ اندر سے کچھ ڈری ہوئی تھی,
اس نے زینی کا نمبر ٹرائی کیا جو بند جارہا تھا عمومی طور پر,وہ دل ہی دل میں توکل پر کچھ دعائیہ کلمات ادا کرتے ہوئے ,جلدی فارغ ہوکر خریداری سے گھر کی طرف ہولی تھی.


————–






میں محبت کو آسمانی دعا سمجھتا تھا!
*******

تم دروازہ کھولتے ہوئے ڈرگئیں تھیں؟
وہ اسکے ساتھ اندر آیا تھا.
ہاں میں اب بچوں کی طرح ڈرجاتی ہوں,بہت زیادہ ,,
واقعی,لیکن کیوں,,تمہیں اب زیادہ مضبوط ہونا چاہیے پہلے کی نسبت,کیونکہ تمہارے لیے وہ موت سے جیسے واپس آیا ہے,
تمہیں مبارک ہو بہت,
ہاں,,پتا نہیں میں کیا کہوں,,مجھے کیا کہنا چاہیے,,لیکن..طاہر,وہ پہلے جیسا نہیں ہے,اسکی آنکھیں بھرآئیں تھیں طاہر کو بتاتے ہوئے.
تم لوگوں کا نکاح ہوا ہے,,وہ ثابت سالم لوٹ آیا ہے اور تم کہتی ہو کہ وہ ٹھیک نہیں ہے..
تم آؤ اسے دیکھ لو,بات کرو,ہوسکتا ہے وہ تم سے بات کرپائے,یا تم اس کی سمجھ سکو,
آجاؤ, وہ اسے مستقیم کے کمرے کی طرف اسے لے گئی ,
ہاں میں اس سے ضرور ملوں گا,بات کروں گا.
وہ اسکے ساتھ اندر آیا .
مستقیم سیدھا لیٹا چھت کو گھوررہا تھا,اسکی آنکھیں جیسے ایک جگہ گڑی ہوئیں تھیں,اس کا چہرہ پہلے کی طرح تروتازہ نہ تھا,اور ناک جیسے تیکھی لکڑی ہو,گال جیسے چپکی ہوئی سفید ملائی جو سوکھ کر پیلی بم جاتی ہے,گالوں پر سرخی کی جگہ پیلاہٹ تھی,اور بال سلیقے سے سمیٹے پہلے کی ہی طرح,لیکن آنکھوں کی سبزی میں بھی کوئی عجیب سی روشنی اور رنگ کا میلا سا امتزاج تھا,ہاں نظر کی ہدت پہلے سے کہیں زیادہ تھی,تپش,لو والی,اسے یاد آیا کہ مستقیم کی نظر بہت ٹھنڈی ہوتی تھی,معصوم پر کشش ٹھنڈی,اسے سعدیہ کی آدھی بات سمجھ آگئی تھی,وہ فزیکلی نارمل نہیں تھا, پہلے جیسا نہیں رہا تھا,لیکن اب بھی اسے امید تھی کہ وہ مینٹلی بہتر ہوگا,لیکن چند ساعتیں اسکی طرف دیکھنے پر اسے اس کی مینٹل کنڈیشن پر بھی شبہ ہونے لگا تھا,وہ قدرے مسکراتے ہوئے اپنی فکر کو چھپانے کی کوشش کرتے ہوئے نزدیک آیا اور اسکا ہاتھ تھام لیا آہستگی سے,
مستقیم,,کیسے ہو؟
اسکے لہجے کی نرمی پر مستقیم کے ہاتھ میں لرزش ہوئی تھی,پھر اس نے دوبارہ طاہر کے پکارنے پر سر میں جنبش دی,آہستگی سے اسکی طرف دیکھا,
مستقیم,میں طاہر ہوں,مجھے جانتے ہو ناں؟
مستقیم کی آنکھیں بھر آئیں تھیں,نم ہوئیں اور پھر اسکی طرف دیکھنے لگا,
تم ٹھیک ہو ناں؟طاہر اسکے سامنے بستر پر ٹک گیا تھا.اب اسے حقیقی معنوں میں فکر ہونے لگی تھی,
مستقیم,,وہ بہت پیار سے پکار رہا تھا,
مستقیم کے ہونٹوں پر مدھم مسکراہٹ آئی تھی,یعنی کہ وہ سمجھ رہا تھا,
سعدیہ مسکرائی تھی اسکی جیسے جان میں جان آئی ,
تم سے مل کر شاید اسے خوشی ہوئی ہے,میں زرا آتی ہوں تمہارے اور اسکے لیے کچھ لیکر,.وہ کہہ کر باہر نکلی تھی.
مستقیم,تم ٹھیک ہو ناں,,
وہ بہت پیار سے اسے دیکھ رہا تھا,.مستقیم اسے یک ٹک دیکھے گیا,اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے مستقیم کی آنکھوں سے آنسو گرپڑے تھے,
طاہر نے ہاتھ بڑھاکر اسکے آنسو صاف کیے,
شیشے کی کھڑکی سے سعدیہ کی نظر پڑی تو اسکا دل جیسے کسی نے مٹھی میں بھینچ لیا ہو,وہ کچن کی طرف جاتے ہوئے روپڑی تھی,
طاہر کچھ دیر بعد باہر نکلا تو سعدیہ ناشتہ بناکر ادھر ہی آرہی تھی لیکن بہت غم زدہ اور نڈھال سی لگ رہی تھی,
اندر مت جاؤ,وہ سوگیا ہے,اسے سونے دو,
وہ سوگیا ہے,کیا واقعی؟
ہاں ,وہ سوگیا ہے,
سچ کہہ رہے ہو ناں,,میں دیکھ آؤں اسے؟وہ ٹرے لیے کھڑی تھی اور اسکے ہاتھ ہلکے ہلکے کانپ رہے تھے,کپ کافی چھلک گیا تھا کہوے کا,
اس نے سعدیہ کے ہاتھوں سے ٹرے لے لی,
اندر مت جاؤ تمہارے جاکر دیکھنے سے اسکی نیند میں خلل ہوگا,اسے سونے دو کچھ دیر,تب تک ہم بیٹھ کر بات کرتے ہیں,
اس نے ٹرے رکھی میز پر,اور ساتھ میں شاپر جو وہ لایا تھا میز پر رکھا.
اسے کھولو میں تمہارے لیے کیک لایا تھا ایک ہی پونڈ کا ہے,صرف تمہارے لیے,اب یہ مت کہنا کہ کیوں لائے ہو,مجھے بھوک لگی ہے,ہم مل کر ناشتہ کرتے ہیں,ویسے میری بیٹی کی پیدائش کی خوشی میں ہے یہ,
وہ کیک کے ساتھ بریڈ اور جوس لایا تھا,ایک پیکٹ بیکری کے بسکٹس کا تھا,جو تازہ تھے.یہ وہ بسکٹ تھے جو اکثر کلاس آف ہونے کے بعد سعدیہ کھاتی تھی,گوکہ انکی کوالٹی ان بسکٹوں سے کچھ بہتر تھی,
تمہیں بیٹی کی مبارک ہو طاہر؟
خیر مبارک ,تم یہ کھاؤ ناں,
ہاں ضرور,ویسے تم خوش ہو؟
کس چیز سے؟وہ چونکا,اچھا بیٹی کی پیدائش سے؟ہاں شاید ہوں,,
سعدیہ اسکے شاید پر سوال کرتی لیکن تب تک وہ ریپر کھول چکا تو اسکی اچانک توجہ ان بسکٹوں کی طرف گئی,
تمہیں یہ یاد ہے کہ مجھے پسند تھے؟سعدیہ کو زرا حیرت ہوئی,
ہاں میں نے غور کیا تو مجھے یاد آیا کہ تمہیں یہ بسکٹس پسند تھے .
تمہیں کب سے اتنی معمولی سی باتیں یاد رہنے لگی ہیں,,تم تو بہت لیے دیے سے,مطلبی سے لگتے تھے,وہ مطلبی نہیں جو کسی کا براکرکے اپنا بھلا کرے,بلکہ وہ مطلبی جسے بس اپنے کام سے کام ہوتا ہے.
اس نے وضاحت کرنا ضروری سمجھا تھا.
وہ ہنس پڑا ہلکے سے,
تم ٹھیک کہتی ہو سعدیہ,لیکن مجھے اندازہ نہیں تھا کہ کسی اور کا خیال رکھنے سے اتنا سکون ملتا ہے,یہ سب میں نے عالین سے سیکھا ہے,وہ بہت کیر کرتی ہے ہر کسی کی,
میں جب بیمار تھا تو وہ میرے پاس آتی تھی,اور خیال رکھتی تھی,تب مجھے احساس ہوا کہ کسی کا خیال رکھنا اور رکھوانا کیسا لگتا ہے,میں واقعی مطلبی تھا.کافی ,لیکن تب تک جب تک مجھے علم نہیں تھا کہ دوستوں کے ساتھ گزارا ہوا وقت کتنا خوبصورت ہوتا ہے.
یہ انمول تحفہ ہوتا ہے,جو ہر بیش قیمت چیز سے بڑھ کر ہے.
ہاں..ٹھیک کہتے ہو تم,اس نے اسکے لائے ہوئے کیک میں سے چار کٹ دیے,,ایک چوتھائی حصہ طاہر کی پلیٹ میں رکھا,ایک خود لیا ایک حصہ مستقیم کا,ایک مجدد کے لیے,یہ اس نے زبانی کہا آہستگی سے,اسے خود کلامی کی بہت عادت تھی ویسے بھی.
مجدد کہاں ہے؟وہ ادھر ادھر دیکھنے لگا.
وہ آئے گا,
اچھا واقعی؟تم اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتی ہو,
ہاں وہ آئے گا میرا دل کہتا ہے کہ وہ آئے گا,
اچھا پھر تو آئے گا ہی,,مستقیم روٹین کی غضا لے رہا ہے؟
نہیں,لیکن میں ہر چیز میں سے اس کے لیے حصہ رکھتی ہوں,چاہے وہ گل سڑجاِئے,
کسی کو دے دیا کرو سعدیہ..
ہاں میں نے بہت بار ایسا بھی کیا کہ صبح گھر کی صفائی کے لیے جو ملازم آتا ہے اسے دے دیا لیکن دیکھو کیسا لگتا ہے کہ کوئی بندہ آپکے سامنے زندہ ہو,اور آپ اسکی چیز کسی اور کو دے رہے ہوں,
تم اتنا کیوں سوچ رہی ہو سعدیہ,جب ہم زیادہ حساس ہوتے ہیں تو منفی اثرات زیادہ اثر کرتے ہیں,لیکن ہمیں ان میں سے اچھے خیالات چننے ہوتے ہیں,وہ بڑی رغبت سے اسکا بنایا ہوا ٹوسٹ آملیٹ کھارہا تھا.
یہ بات تم نے عالین سے سنی ہے ناں؟
عالین ایسا کہتی ہے؟وہ یکدم حیران ہوا
ہاں تمہیں حیران نہیں ہونا چاہیے وہ اسی طرح کی باتیں کرتی ہے.
ہاں واقعی..ویسے وہ بہت پازیٹو ہے, ہے ناں؟
اسکی آنکھیں چمکی تھیں یکدم,سعدیہ نے نوٹ کیا.
ویسے تو ہر کوئی ہی اس کا فین بن جاتا ہے لیکن تم اس سے کچھ زیادہ متاثر نہیں نظر آرہے؟
ہاں ٹھیک کہتی ہو,ایسا ہی ہے,وہ ہے اس قابل,کہ اس سے بہت زیادہ متاثر ہوا جائے.
لیکن مجھے کچھ اور مسئلہ لگ رہا ہے,سچ سچ بتاؤ کچھ چل رہا ہے تمہارے ذہن میں؟
ہمم,ہاں شاید,,مجھے لگتا ہے اسے سوچنا,اس سے ملنا,یا واسطہ رکھنا مجھے اچھا لگتا ہے,وہ بندے کو تقویت دیتی ہے بہت,اس کا ہر رلیشن ایک مثبت توانائی دیتا ہے.
بات یہیں تک رہے تو اچھا ہے,اس نے ٹھنڈی سانس بھری تو وہ چوکنا ہوگیا
اگر اس سے آگے بڑھ گئی ہو تو؟
تو پھر غلط ہے,نہیں ہونا چاہیے,پہلی بات کہ تم شادی شدہ ہو طاہر,تمہاری بیوی بہت پریشان ہے اس معاملے میں پہلی ہی تمہاری وجہ سے وہ پریشان رہی ہے,اور اب ایک بیٹی بھی ہے,
دیکھو سعدیہ اس سب سے کچھ نہیں ہوتا,میری بیوی تب شک کرتی تھی جب میں کسی لڑکی کی طرف آنکھ اٹھاکر نہیں دیکھتا تھا ,نہ سوچتا بھی,اپنی تمام تر خوشیاں میں نے اس عورت سے منسوب کرلی تھیں,اور یہ سچ تھا ,لیکن اس عورت نے مجھے کبھی مضبوط نہیں کیا,کبھی نہیں کیا ,اس عورت نے کبھی مجھے سہارا نہیں دیا,وہ کبھی میرے لیے جزبات کی ڈھارس نہیں بنی,اس نے کبھی مجھے محبت کا حوصلہ نہیں دیا,وہ بس مجھے نچوڑتی رہی,محبت میں حساب کتاب,نظر رکھنا,شک کرنا,بے یقین رہنا,اسے بس یہی آتا ہے,مجھے خوشی نہیں دی اس عورت نے,اور تم غور کرو سعدیہ ایک ایسی لڑکی جسکی فقط دوستی اور چند ساعتوں کے ساتھ نے مجھے مضبوط کیا ہے,سعدیہ جب انسان جان جائے کہ اسکی بقا کہاں ہے تو پھر وہ اس سے منہ کیسے موڑے بتاؤ یہ,کیسے ہوسکتا ہے ایسا؟کیا ہم نعمت کو ٹھکراسکتے ہیں؟
تم ہی بتاؤ کیا تمہیں مجدد کی پرواہ نہیں,اسکے خلوص پر اعتبار نہیں ہے؟
مجدد کی بات اور ہے,ہم صرف اچھے دوست ہیں ,اس نے میری مدد کی ہے مستقیم کع ڈھونڈنے میں,وہ میرا پر خلوص دوست ہے,لیکن تم کسی اور طرف جارہے ہو,
ہاں ٹھیک کہتی ہو,لیکن مجھے یہ سب اچھا لگ رہا ہے,بہت اچھا لگ رہا ہے,سعدیہ کسی سے محبت ہونا کتنا اچھ ہوتا ہے ,کسی کی محبت میں مبتلا ہونا,تم نے بھی تو مستقیم کو چاہا ہے,کیا تمہیں احساس نہیں,مجھے تو لگ رہا تھا کہ ان سب سے زیادہ تم ہی سمجھ سکتی ہو میرے جذبات,
دیکھو طاہر تم ٹھیک ہو,محبت بہت ضروری ہے,لیکن اس میں عالین کو ساتھ مت لو,اسے نقصان نہ دو,وہ شادی کرے,اپنا گھر بسائے,یہاں سے نکلے,اس کو کچھ مت بتاؤ اگر تمہارے پاس اس کے لیے کوئی احساس ہے بھی تو پلیز,خود تک رکھو,.
سعدی, ایسا کیسے ہوسکتا ہے بھلا,تم پاگل ہو کیا,میں اکیلے محبت کیسے کرسکتا ہوں,کوئی اکیلا یکطرفہ کیسے سوچے,محسوس کرے,مزا تو تب ہے جب آپکا پارٹنر آپکے ساتھ ہو,,وہ بھی آپکو سوچے,چاہے,محسوس کرے,اور آپکا انتظار کرے,آپکو دیکھنے کے لیے ترسے,والہانہ,,
تم بہت جذباتی ہورہے ہو,اور اس سارے جذبات میں فقط یہ سوچ رہے ہو کہ تمہیں کیا چاہیے,لیکن یہ نہیں سوچ رہے کہ اسے کتنی تکلیف ہوگی,
اچھا فرض کرو, تم نے اس سے اظہار کرلیا,بلآخر اس نے بھی مان لیا,ہ بھی پڑگئی تمہاری محبت میں,اس نے بھی چاہا تمہیں,اب کیا ہوا,ایک طرف تمہاری فیملی,تمہاری بیوی ہے,دوسری طرف وہ اکیلی,وہ کیوں بوجھ اٹھائے,اس دکھ کا,تمہاری بیوی کی گالیوں کا,کیا تم اسے سیو کرسکوگے؟
دیکھو سب ٹھیک یے,لیکن ایک بات تو ہے ناں,ہم شادی کرسکتے ہیں,مجھے اب نبیلہ سے ڈرکر نہیں جینا,وہ.میرے ساتھ رہے یا پھر نہ رہے,
طاہر تم باؤلے ہوگئے ہو,نفسیاتی ہے تمہاری بیوی ایکدم سے,پاگل ہوجائے گی,خون کردے گی اس کا تمہارا یا پھر اپنا,کچھ بھی کرسکتی ہے,وہ سمجھے تم,عالین کو مصیبت میں مت پھنساؤ,
تو تم کیا چاہتی ہو کہ میں محبت نہ کروں,یہ جو میرے اندر احساسات ابھرے ہیں انہیں دبادوں؟ختم کردوں,بھسم کردوں,کیا کروں بتاؤ,میں نے سوچا تھا تم سمجھوگی مجھے ,لیکن نہیں,تم تو الٹا مجھے سمجھارہی ہو,میں تو محبت تو ایک آسمانی دعا سمجھنے لگا تھا,قدرت کی طرف سے ملا ہوا تحفہ,میں تو اسے سمجھ سیکھ پرکھنے لگا تھا,تم نے میرا دل ڈبودیا سعدیہ,,وہ حددرجہ غمگین ہورہا تھا.
طاہر تم عقل سے نہیں سوچ رہے,
مجھے سوچنا بھی نہیں,مجھے اب اپنے دل کے لیے بھی کچھ نکالنا ہے,پلیز سمجھنے کی کوشش کرو,مجھے جینے میں مزا نہیں آتا ہے,مجھے خوشی نہیں ملتی محنت کرکے کام کرنے کے بعد تھک جاتا ہوں,اس احساس نے مجھے بھرا ہے کچھ حد تک,میں جینے لگا ہوں,مجھے زندگی میں مزا آنے لگا ہے,
میں کیا کروں بتاؤ,ابتدا میں ہی قتل کردوں اپنی خواہش کا؟کیاکروں؟
وہ بے بسی سے اسے دیکھنے لگی تھی,
اچھا سنو,تم نے اسے کچھ بتایا تو نہیں ہے ناں؟
میں نے اسے ایمیل کردی ہے .
اوہ خدایا,وہ جیسے سر تھام کر رہ گئی,
ایسا کیا ہوگیا ہے سعدی,وہ چائے کا گھونٹ حلق میں انڈیلتے ہوئے بدمزا سا ہوا,
اس نے کوئی جواب دیا؟
اب تک تو نہیں دیا,لہجے میں مایوسی درآئی.
کسی سے پوچھنا گوارا کرتے ہوتم,
محبت کرنے سے پہلے اگر پوچھا جاتا تو محبت کوئی کرپاتا؟
طاہر,,,ٹھیک ہے,بس اب چپ رہنا میسج کرکرکے اسے سر درد مت کرنا,وہ بے ساختہ کہہ گئی.
محبت کا احساس اس حد تک بیزار کن ہوتا ہے کیا؟حد ہوگئی,,
بس اب اس پر چھوڑدو طاہر,اس کے اور اپنے بھلے کے لیے,
تم کہنا چاہتی ہو کہ میں اس سلسلے کو روکوں,ہر حالت میں روک دوں,اس کا لہجہ نرم ہوکر ڈوب سا گیا.
میں یہ چاہتی ہوں طاہر کہ اب اس پر چھوڑدو,ہاں اگر وہ تمہاری طرف متوجہ ہوئی تو پھر تم نے پوری ذماداری لینی ہوگی,اگر نہیں لوٹی تو پھر چپ رہنا,اسے فورس مت کرنا,پلیز,اسے کچھ کہنا مت,اب اسے سوچنے دو.
تم تو ایسے کہہ رہی ہو جیسے میں نے کوئی گھناؤنا جرم کردیا ہو,
مجھے معلوم ہے کہ تم مایوس ہوئے ہو,لیکن طاہر,میں بس اتنا جانتی ہوں کہ محبت میں اتنی بھی ضد اچھی نہیں لگتی,بری بات ہے یہ یار,
مجھے دیکھو,ہم نے محبت کی,تب تک ہم دونوں بری الذمہ تھے,محبت کا ہوجانا جرم ہرگز نہیں ہے,ہم محبت کرتے تھے,ایک دوسرے کو چاہتے تھے,نہیں نباہ کرسکے تو ایک دوسرے کو راستہ دیا گزرجانے کا,
لیکن حالتوں نے برا کیا,ہمارے ساتھ,خصوصہ” مستقیم کے ساتھ,اس کے باپ نے اسے اتنی دور اس وقت بھیجا جب قریب رکھ کر سمجھانا تھا,
ماں بھی دور باپ بھی,اکیلے اسے بھیجا,محبت کا حق بھی نہ دیا,جینے کا حق بھی نہ دیا,بس پیسے دے دیے,
غلطی میری بھی تھی یار,میں نے سکون سے اسے مرنے بھی نہ دیا,نہ جینے دیا,اسے پکارتی رہی,بہت زیادہ پکارتی رہی,اسے تلاش کرتی رہی,اس کے لوٹنے کی ضد کو نہ چھوڑا,وہ موت کے منہ سے پلٹ آیا,اور اس حالت میں لوٹا,جب اسکی ماں نے اسے وڈیو کال پر دیکھنے کے بعد دوبارہ دیکھنے کی خواہش بھی نہ کی,اور باپ گھر ملازم,اور مہینے کے اخراجات کے پیسے دیکر,نکاح میں شرکت کرکے اپنے گھر چلا گیا,دوبارہ آ بھی نہ سکا,وہ باپ جسے انتظار تھا مستقیم کی زندگی کا,وہ استاد جو مراقبے میں ڈھونڈتا رہا مستقیم کو,وہ ساتھ چلا,اس نے تلاش کیا,لیکن مستقیم پر پہلی نظر پڑتے ہی جیسے بیٹھ سا گیا تھا,تب تک سب کا ساتھ رہا جب تک مستقیم کچھ ہوش سنبھالنے کے قابل نہ ہو,بس یہاں تک کہ کسی وقت بات سمجھنا,مسکرادینا,سر ہلانا,اداس ہوجانا,اور سمجھ کا سگنل دے دینا,جو کہو اسے مان لینا,بس اتنا ہی,بس اتنا ہی ,کیا میرے اندر طلب نہیں ہوگی کہ مستقیم مجھے ملا ہے تو کوئی احساس ہوتا,کوئی جذبہ,کوئی محبت,کوئی اظہار,کوئی احساس,کچھ نہیں ہے,
لیکن میں چاہتی ہوں بس وہ نارمل ہوجائے,زندگی کی طرف لوٹ آئے,پوری طرح,ایسا ہوگا کہ نہیں,لیکن میں اپنی ذماداری نباہ رہی ہوں,
اب اگر عالین تم میں دلچسپی لے تو اسے کسی قیمت مت چھوڑنا,چاہے تمہاری بیوی طوفان اٹھائے,چاہے مارنے کی دھمکی دے,چاہے مارہی ڈالے,لیکن مکرنا مت,محبت میں مکرنا بے وفائی ہے,بے وفائی مت کرنا یہ جیتے جی ماردیتی ہے طاہر,کوئی موت کے بغیر مرجائے,یہ بہت کٹھن ہے,
کیا تم تھک گئی ہو سعدیہ؟وہ اتنی دیر میں پہلی بار سنجیدہ ہوا تھا.
ایسا میں کہنا تو کیا سوچنا بھی نہیں چاہتی,سوچنا گوارا ہی نہیں کرتی,میں نباہنا چاہتی ہوں مستقیم کے ساتھ,بس تم دعا کرو کہ مجھے ہمت ہو,میں تھکوں نہ محبت کو نباہنے میں,طاہر جب تک آپ اظہار نہیں کرتے,زبان سے کہتے نہیں تو آپ پابند نہیں ہوتے,لیکن جب آپ کہہ دیتے ہیں,تو پابند ہوجاتے ہیں,لیکن اگرآپ کہیں لکھ دیں تو آپ زیادہ پابند ہوتے ہیں,جیسے کہ تم نے نکاح نامے پر سائن کیے تھے,اب نبیلہ جیسی بھی ہے,بیوی تو تمہاری ہے,ذماداری تو تمہاری ہی ہے,تمہیں نباہ کرنا ہے,
طاہر کے چہرے پر ناگواری کی سلوٹیں ابھریں لیکن وہ اس وقت کچھ کہہ نہ سکا تھا کہ بہرحال حقیقت تو تھی ہی,کیا کہا جاسکتا تھا,
اس نے گلے کا اوپری بٹن کھول دیا,یکدم ہی جیسے اسے گھٹن کا احساس ہوا تھا,اعصاب جیسے تن سے گئے تھے.
تم خبر لیا کرو,اپنی بیٹی کی,گھر کی,مجھے لگتا ہے خبر نہیں لیتے,حالانکہ ذماداری تو تمہاری ہی ہے,نکاح تمہارا,بیوی تمہاری,بچی تمہاری,اب قصور وار کون ہے کہ اگر تمہارا دل خوش نہیں ہے,,ہم صرف استعمال کرنے کے لیے نہیں پیدا ہوئے,اپنے کیے کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے,تمہیں بھی کرنی چاہیے,مجھے بھی کرنی چاہیے,میں بھی کوشش کررہی ہوں,تم بھی کوشش کرو,بیزار ہونے,تھکنے,اور ذماداری سے نظر چرانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے,اولاد نا فرمان ہوتی ہے لیکن ہم تب بھی انکار نہیں کرسکتے کہ ہماری اولاد نہیں ہے,
سمجھنے کی کوشش کرو,اپنی ذماداریاں پوری کرو طاہر,تمہیں قدرت تمہارا حصہ ضرور لوٹائے گی,
وہ کہہ چکی تو اٹھ کر مستقیم کو دیکھنے اندر گئی,
طاہر نے دیکھا کہ اس نے مستقیم کو غذا کھلائی,اس کے کپڑے خود تبدیل کیے کسی کی مدد کے بغیر,پھر طاہر کو اندر بلایا,وہ کچھ دیر بیٹھا رہا,مستقیم کو دوا کھلائی اور مستقیم پھر سے نیند میں ڈوب گیا تھا,
ملازم آیا اور کچھ دیر کام کاج کے بعد واپس چلا گیا,مجدد آیا مستقیم کے پاس بیٹھا,تب تک وہ اسکے ساتھ باہر گئی,اور گروسری کی,ضرورت کی اشیاء لیں,اور لوٹی تو مستقیم جاگا تھا,وہ پھر سے ایک بے تاثر انسان کی خدمت میں جت گئی,رات کے پہلے پہر مجدد کو لوٹنا پڑا اس کے ساتھ,وہ اسے بتارہا تھا کہ اگر وہ رہتا ہے تع سعدیہ کو ملازم کی بیوی اور ملازم کو بھی بلانا پڑتا ہے رہنے کے لیے,معاشرہ پھر معاشرہ ہے چاہے اعتبار کتنا ہی قائم ہو,چاہے بھروسہ مضبوط ہو,سہارے کی ضرورت ہو,لیکن اکیلے رہنا اسکی مجبوری ہے,طاہر کو ایکدم ہی احساس ہوا تھا کہ وہ اس وقت بڑے کٹھن حالات سے گزررہی ہے,محبت کی قیمت,رشتے کی قیمت,احساس کی قمیت ادا کرنی پڑتی ہے,کچھ بھی اس جہاں میں بے قیمت بے فائدہ نہیں ہوتا,لیکن بس ایک محبت کا احساس طاقت دیتا ہے,البتہ ذماداری سے آنکھ چرانابے وفائی ہے,یہ اسے آج سعدیہ مستقیم نے سمجھایا تھا.
————-









تم تو ایک سائبان کی طرح ہو ,عالین

********
دھوپ چھن کر اندر آرہی تھی,ایسے جیسے کرنیں ٹوٹ کر بکھررہی ہوں,رات کا خمار کم ہوگیا لیکن,صبح میں بھی رات والی ٹھنڈ جیسے جم گئی تھی,جنوری کے آخری دنوں کی ٹھنڈ مستی پرتھی,
یہ تھوڑے دنوں کے لیے آتی ہے لیکن ہڈیاں جمادیتی ہے بچے,بھلو کسان انکی نظر داری کے لیے کبھی کبھار آجایا کرتا تھا,باقی بستی ایسی تھی کہ لمبے فاصلے پر گھر تھے,اور بستی کی زمین پر جیسے دانہ دانہ بکھرا ہوا ہو,ان گھروں میں بھی وائرس کا خوف کچھ وقت تک شدید پھیلا رہا تھا,بستی کے لوگوں نے کھیت کھلیان نہیں چھوڑے,کام کاج نہیں چھوڑا,لیکن ملنا ملانا قدرے کم ہوا تھا,البتہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ خوف کی لہر زرا کم ہوئی تھی,لیکن بہت مشکل تھا,سب بہت مشکل تھا,زیبی کا صحتیاب ہونا مشکل تھا,
زیبی کے کووڈ کو کنٹرول کرنا مشکل تھا,وہ ڈھے گئی تھی,ہارجاتی تھی,تھکنے لگ گئی تھی,لیکن بہرطور کچھ بہترتھا ,وہ وائرس کے حملے سے بال بال بچی تھی,باوجود اس کے گھر آکر اس نے کچھ روز خود کو احتیاط” کرنٹائن کرلیا تھا,اور کوئی بیس پچیس دنوں بعد اس نے پڑوسیوں سے بات چیت کی تھی,وہ لوگ جو گھر میں بتیاں جلنے کے سبب جانتے تھے کہ وہ گھر آئی ہوگی,لیکن کسی نے پلٹ کر پوچھا نہیں,خبر تک نہیں لی,فقط آنٹی سبین نے فون کرکے اسکی خیریت ضرور معلوم کی,اور اپنے ملازم کے ہاتھوں دو مرتبہ سوپ کا پیالہ اور چائینیز چاول ضرور بھیجے تھے اسے,یہ وہ لوگ تھے جن سے وہ بے ججھک ملنے آتی جاتی تھی,بات چیت کرتی تھی ,بلالیتی تھی,لیکن اب وہ حال تھا کہ بندہ بندے سے ڈرتا تھا,پہلا سال بہت دشوار گزرا,اسکی ماں گزرگئی باہر اور اسے وہیں دفنادیا گیا ایس او پیس کے تحت,اسکے بھائی نے اسے وہاں آنے سے منع کردیا تھا,
التمش ہارگیا,زیبی بری کنڈیشن سے گزری,سفر سفر,,پوری دنیا نے تھکن کا سفر کیا,ڈپریشن کا ذائقہ چکھا,ایک دنیا پریشان تھی ,روزانہ وائرس کی وجہ سے ختم ہونے والے افراد کی اموات کی خبریں خوف مزید پھیلائے ہوئے رہیں تھیں,عجیب سا تھکادینے والا احساس تھا,جو اس شام سے چلا آرہا تھا,جب وہ نگار سے مل کر آئی تھی,اور زیبی کا موڈ سستا ہوا تھا,
تمہاری دوست مجھے ملی تھی,تمہیں سلام کہہ رہی تھی,تمہیں سلام کہہ رہی تھی,
وہ پہنچ چکی تھی اس کے لیے دوائیں اور کھانے کی چیزیں لاکر رکھ رہی تھی,ایک فاصلے پر تھی لیکن اسکی طرف دیکھ کر بات ضرور کرتی تھی.
کیوں ملی تھیں تم اس سے؟
میری مرضی ہے,اس نے مسکراتے چڑانے ولے انداز میں کندھے اچکائے,
تم نے اس سے میرے شوہر کا پوچھا؟
ہاں پوچھا,
کیوں پوچھا؟
یونہی,
یونہی کوئی جواب نہیں ہے میری بات کا,عالین.
میرے پاس یہی جواب ہے اس کا زیبی,
پتا ملا؟
نہیں ملا لیکن مل جائے گا,کہ وہ کہا ہے,
کیا کروگی ؟
پتا نہیں,

تمہیں یہ سب کرنے کا کوئی حق نہیں ہے
چلو پھر نہیں کرتی,بس خوش؟
کتنے کام میری خوشی کے لیے کرتی ہو تم؟
جتنا ہوسکتا ہے,جتنا ہوسکے گا,
کس لیے؟کیا رشتہ ہے ہمارا؟
انسانیت کا,یہی رشتہ ہے ہمارا ,عالین نے کندھے اچکائے,
تم یہ سب کرکے تھکی نہیں ہو؟اس کا لہجہ ہمیشہ جیسا روکھا اور بیزارہوگیا تھا,
چلی کیوں نہیں جاتیں؟گھر اپنے
دیکھو زیبی,,باہر کی فلائٹس بند ہیں, فی الحال,میں یہیں ہوں,اور یہاں رہ کر مجھے یا تو یہاں رہنا ہے,یا پھر اپنے گھر جانا ہوگا,گھر جاکر میں اکیلی رہوں اس سے بہتر ہے کہ میں یہاں پر تمہارے ساتھ رہوں,ہاں البتہ تم ٹھیک ہوجاؤ تو پھر ہم اکٹھے چل سکتے ہیں,تم میرے ساتھ رہ سکتی ہو,,
میں کیوں رہوں تمہارے ساتھ,,اور تم کیوں چاہتی ہوکہ تم سب کے دکھ اپنے کندھے پر اٹھاتی پھرو,کیوں آخر,خون جلتا ہے میرا جب تم احسان کرنے کے بعد مسلط ہوتی ہو اور ہدایت دیتی ہو,نہیں ہے میرا کوئی تجربہ ایسی کسی چیز کا ,کسی کو خود پر مسلط کرنے کا,نہیں چاہتی میں یہ سب,
ہزار فعہ کی دہرائی ہوئی بحث کو ایک بار پھر دہرانے سے کوئی فائدہ نہیں ہے,تم سمجھ سکتی ہو کہ مجھے مسلسل بحث اور لڑائی سے کوفت ہوتی ہے زیبی,اس نے تحمل سے کہا کپڑے تہہ کرکے رکھتے ہوئے,
تم اتنی ظالم مت بنو,,زیبی نے ہارے ہوئے لہجے میں کہا,ڈر کیوں نہیں لگتا تمہیں مجھ سے کہ میرا وائرس تمہیں لگ جاِئے گا,وہ چیخ پڑی تھی,
عالین نے اسکی طرف دیکھا اور سر جھٹک دیا.
تم کہتی کیوں نہیں کچھ,,بولو,بکو,وہ پھر چیخی,
تمہارا چیخنے کا موڈ ہوا ہے تو چیخو,مجھے مزا نہیں آتا چیخنے میں,وہ اسی انداز میں کپڑے رکھتے ہوئے الماری میں کہنے لگی.
تم سمجھتی کیا ہو خود کو,,پلیز چلی جاؤ یہاں سے,وہ چیختے ہوئے روپڑتی لیکن آنکھیں بے دردی سے پونچھتے ہوئے اس کے سامنے آئی,
میری بات سنو,اب جیسے وہ تحمل سے اختلاف کرنے پر اترآئی تھی,
میری بات سنو,
سن رہی ہوں,وہ پیچھے نہیں ہٹی تھی بلکہ الماری کا پٹ بند کرتے ہوئے اس کے سامنے کھڑی رہی,دونوں کے درمیان چند قدم کا فاصلہ تھا,
تم نے خواہ مخواہ میں بہت بوجھ اٹھائے ہیں,اب تک,چھوڑدو,ہر کسی کو اکیلے سفر کرنے دو عالین,وہ غصے کو کنٹرول کررہی تھی,
ہر کسی کو چلنے دو خود اپنے سفر پر,ہر کسی کو اپنا کام خود کرنے دو,سب خود پر نہیں ڈالا جاسکتا,رحم کرو اپنی حالت پر,تھک نہ جاؤ,اب تو میں لڑتے لڑتے بھی تھک گئی ہوں,اب تو لڑنے سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہے,تم تو لڑائی کی زبان بھی نہیں سمجھتیں,وہ لڑتے لڑتے بے بس سی ہوگئی تھی جیسے,
کہاں جاؤں تمہیں چھوڑکر,؟بتاؤ
جہنم میں,وہ پھر دھاڑی اس کے محبت بھرے لہجے کے بدلے,
تم,,,تم آخر مجھے چھوڑدو,,میں مرجاؤں,,تمہیں کیا نقصان ,تمہارا کیا جاتا ہے,
پاگل ہو کیا,مرتا کوئی نہیں,بس اذیت بڑھ جاتی ہے زیبی,باہر ایک انسان دوسرے سے ڈرتا ہے,ایک دوسرے سے کوسوں دور بھاگتا ہے,تمہیں اکیلا کیسے چھوڑدوں,اس حالت میں زیبی,,حد کرتی ہو,یقین کرو تمہارے ٹھیک ہونے کے بعد میں تمہاری زندگی سے ایسے نکل جاؤں گی ,جیسے کبھی تھی ہی نہیں,پلٹوں گی نہیں,,آواز نہیں دوں گی,کچھ بھی نہیں کہوں گی,
سامنا بھی نہ ہو شاید,بس یہ وقت نکال لو,.نکلنے دو یہ وقت,پلیز,,
مت کرو,,مت کرو اتنے احسانات مجھ پر مت کرو,,پلیز,وہ بے بسی سے فرش پر بیٹھ گئی,,نڈھال سے انداز میں,,
مت کرو,,
اور روپڑی,رونے لگی,ہچکیاں لے لے کر,اور جب گرنے لگی تو عالین نے آگے بڑھ کر بغیر کچھ سوچے سمجھے اسے سمیٹ لیا,
وہ روتی رہی,اور عالین کافی دیر تک اسے خود سے لگائے تھپکتی رہی تھی,,
تمہیں کچھ نہیں ہوگا,,تم ٹھیک ہوجاؤگی,,زیبی ٹھیک ہوجاؤگی,تم,
اس رات وہ بچوں کی طرح اسے ساتھ لگائے بچپن کی,دیو پریوں کی,اور پھر محبت کی,کہانی سنانے لگی تھی,زیبی بہت دن بعد کہانی سنتے سنتے سوگئی تھی,,,
رات کالی سیاہ تھی,تھکادینے والی لمبی,کہرے دار,اور اسے لگا کہ وہ ایک سائبان کی طرح اسے ڈھانپ چکی ہے,عالین “جو اس کے لیے جیسے کوئی سائبان تھی.

————–




آخری حصہ جلد

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.