اکیسویں صدی اور حضوری________صوفیہ کاشف



جب ہم اکیس کے تھے تو کیمرہ گھر کی الماری میں ہوتا تھا،جس کو ہاتھ لگانے کی ہمیں قطعا اجازت نہ تھی۔عید بقر عید یا کسی شادی دعوت پر کیمرے میں ریل دلوائی جاتی ،پھر تصاویر کے لئے گھر کے خوبصورت کونے ڈھونڈے جاتے،ہر کوئی اپنی ذیادہ سے ذیادہ تصاویر بنوانےکی کوشش کرتا،گھر کے بڑے، بھائی اور بہن کیمرہ تھامے فوٹوگرافر نواب بنے پھرتے اور ہم غریب چھوٹے صرف پوز مارنے کو،اور دور سے دیکھنے کو رہتے۔

پھر یہی نہیں جب پرنٹس آتے تو آدھی تصاویر پر روشنی بہتر نہ ہونے کی بنا پر دھواں پھر جاتا،آدھی چہرے کے تاثرات بگڑنے پر متنازعہ ہو جاتیں،گروپ فوٹومیں دو کی اچھی آتی دو کی موٹی یا بھینگی آ جاتی اور پھر چھپانے یا دکھانے کی ،پھاڑنے یا سنبھالنے کی دھینگا کشتی شروع ہو جاتی۔

اور اگر تصاویر اچھی آ ہی جاتیں تو البم سجا کر اسکول یا کالج بیگز میں گھسا لیے جاتے،باری باری گھر کے سب افراد کے بستوں سے نکلتیں،بہانے بہانے سے تصاویر کلاس فیلوز کو نکال کے دکھائی جاتیں کہ دیکھو اصل میں تو ہم کتنے پیارے ہیں،یہ تو بس گرم موسم اور دھول مٹی کی وجہ سے اصل میں اتنے پیارے نہیں لگتے،ورنہ ہم بھی کسی ماڈل سے کم ہیں کیا۔ایک ایک منٹ میں سو سو انداز میں سو سو سیلفیوں کی عیاشی کا سوچا بھی نہ جا سکتا تھا کجا کہ انکی ایڈیٹنگ اور فلٹرز کا سوچنا۔اس کام کے بڑے پیسے لگتے تھے چناچہ کبھی کبھار ہی ایسی عیاشی برداشت ہوتی تھی۔تب ہمیں کیا خبر تھی کہ چند ہی سالوں میں ہرکسی کا اپنا سٹوڈیو ہو گا،اپنی لائٹس اور کیمرہ ہو گا اور ہر کوئی اپنی سلطنت میں سب سے بڑھ کر حسین اور خوبصورت ہو جائے گا۔اُس زمانے کی چالاک ساسیں بہوئیں پسند کرنے سے پہلے انکو کسی بہانے سورج کی روشنی میں ضرور دیکھ لیتی تھیں تا کہ میک اپ سے آگے دیکھ سکیں۔اب شاید ان کو ذیادہ محنت کرنی پڑتی ہو گی کہ میک اپ سے پہلے فلٹرز اور ایڈٹس سے بھی گزرنا پڑتا ہو گا۔

جرنلز اور opinion books کے نام سے ڈائریاں سجائی جاتی تھیں،دوستوں سے تاثرات مانگے جاتے تھے،تھوڑا بہت خود کو اچھا دکھانے کا اپنے بارے میں بات کرنے کا اس بہانے موقع مل جاتا تھا۔اس وقت ہمیں کہاں خبر تھی کہ ایک دن سوشل میڈیا اور سمارٹ فون دنیا کے ہر چھوٹے، بڑے، امیر، غریب کی اپنی پروفائل،اپنا پلیٹ فارم بنا دے گا۔ہر کسی کے خیالات،مشاہدات اور نظریات ہونگے،ہر کوئی اپنی فیس بک کا بے تاج بادشاہ ہو گا ۔ہر کوئی فلاسفر اور محقق ہو جائے گا،ہر فرد مقبول ہو جائے گا۔

ہمارے زمانے میں وہ لڑکا خراب سمجھا جاتا تھا جو سارا دن گلی میں کھڑا رہتا ہو،دوستوں کے ساتھ پھرنے والے آوارہ تھے،اب سب سوشل میڈیا پر رہتے ہیں اور خرابی کے معیارات بھی بدل گئے ہیں،اب گلیا پھرنے اور دوستوں میں رہنے کی وجوہات ہی نہیں رہیں،اب ہر چیز انٹرنیٹ پر مل جاتی ہے۔تب جو لڑکی اٹھلا کر چلتی تھی اس کے کردار پر حرف آ جاتا تھا ۔اب ہر لڑکی کے پاس اپنی ڈیپی پر ،پوسٹ پر وڈیوز اور تصاویر پر اٹھلانے ،بل کھانے کی سہولت نہ صرف میسر بھی ہے بلکہ رحجان کے نام پر اب اس سے کردار بھی کم متاثر ہوتا ہے۔

زمانے کے انداز بس بیس ہی سالوں میں بے انتہا بدلے گئے ہیں۔پہلے لڑکیاں تاڑنے والے سکولوں اور کالجوں کے گرد پھرتے تھے،شادیوں پر شہہ بالے بنتے تھے ،چٹھی پہچانے کے لئے گلی کا بچہ،دوست یا بھائی پھانسا جاتا تھا،پھر گھر کے نمبر پر فون کر کے محبوبہ بلانے کو آوازیں بدلنی پڑتیں تھیں ،بہنوں کی مدد مانگی جاتی تھی، چار لوگوں کی تفتیش سے گزرتے تھے عاشق تو محبوبہ تک رسائی ملتی تھی وگرنہ سارے گھر میں ہر وقت رانگ نمبر کی گھنٹیاں بجتی رہتی تھیں،اب ایسا کوئی بھی جنجال کرنا نہیں پڑتا۔سوشل میڈیا پر اپنی پسندیدہ ڈیپی، پوسٹ کو کلک کریں اور ڈنکے کی چوٹ پر جیسا آپکا اخلاق و کردار اجازت دے میسج روانہ کردیں،سیدھا خاتون کے ہاتھ میں پہنچے گا۔اکسویں صدی کے بیس سالوں نے کتنے بکھیڑے اور مشکلات کم کر دی ہیں زمانے کی۔کبھی خواتین کو بھی کسی کی نظر میں آنے کے لئے سو طرح کے آگے پیچھے چکر لگانے پڑتے تھے،اب صرف فیس بک کی تصاویر ہی کافی ہیں گلی کے سارے غنڈے پیچھے لگانے کے لئے۔

گھروں میں ٹی وی،وی سی آر ماؤں اور باپوں کی اجازت سے چلتے تھے،فلم دیکھنے کی خاطر سو لوگوں کی سو شرائط پر سمجھوتا کرنا پڑتا تھا،فلموں کے چناؤ سے سینسر شپ تک کتنے مراحل سے گزرتے تب جا کر ایک فلم دیکھنی مقدر بنتی تھی،اور اب ہر کمرے میں نہیں ہر ہاتھ میں دنیا بھر کا میڈیا،فلمیں اور نیٹ فلیکس جیسا چاہے دیکھو جتنا چاہے دیکھو!





ہاسٹلز تک پہنچتے اکسویں صدی کی شروعات میں جو موبائل بلآخر جوانی کی آخیر پر ہمارے ہاتھوں میں آئے وہ باپ اور ماں کی نگرانی میں استعمال کرنے پڑتے،ایک موٹا اور بےڈھنگا موبائل سارے گھر کے استعمال میں ہوتا اور اس پر بھی اکثر ٹیکسٹ یا سانپوں والی گیم کے سوا کچھ میسر نہ تھا۔کبھی ذندگی اتنی بھی محدود تھی!

یہ ہم پچھلی صدی کے لوگوں کی کہانیاں ہیں جنہوں نے بیسویں صدی کی آخری دہائیوں میں جنم لیا ۔اکسویں صدی سے پہلے سنتے تھے کہ اکیسویں صدی بہت ہی حیران کن ہو گی مگر اس قدر ہو گی یہ خود ہمیں بھی اندازہ نہ تھا ۔بس جادوئی دنیا سے گزرتے گئے اور اس کے عجوبوں کو ایسے دیکھتے گئے کہ جیسے کچھ نیا دیکھا ہی نہیں۔ہم نے جوانیاں ڈیپیوں اور فلٹرز کے سائے میں نہیں گزاریں مگر ہمیں جو لوگ ملتے تھے اصلی اور حقیقی تھے،ہمارے ساتھ جو دوست چلتے تھے وہ گھنٹوں،دنوں مہینوں اور سالوں کے لئے صرف ہمارے ہی لئے وقف ہوتے تھے،ہمیں محبت تھی یا نفرت، مگر خالص میسر تھی۔ہم جب باغوں اور پارکوں میں جاتے تو ایک دوسرے کو دیکھتے تھے،ان کی سنتے اور اپنی کہتے تھے،موسموں کو پرکھتے تھے،خوشبوں کو سونگھتے تھے۔ہماری نسل کے لوگ بارش کی پہلی بوند پر پھیل جانے والی مٹی کی خوشبو پر مست ہو جاتے تھے،بارش میں چھتوں ،صحنوں اور گلی میں نکل آتے تھے ۔تب جب بارش کے قطروں کی تصاویر ممکن نہ تھیں ہم ہر قطرہ اپنی ہتھیلیوں پر ،چہرے اور بدن پر اتار لینا چاہتے تھے۔

ڈان نیوز پر پڑھیں

ہمیں ڈائریاں لکھنی پڑتیں،اب لوگ بلاگ اور فیس بک پر کہانیاں لکھتے ہیں،ہم شعر اور غزلیں لکھ لکھ تھک جاتے،اب ہر کوئی کاپی پیسٹ کر لیتا ہے،ہم کمرے میں پوسٹر لگاتے تھے اب ہر ہنر صرف وال پر ہی سجنے کے لئے اترتا ہے۔،ہمارے بند کمروں کی آہیں کسی تک پہنچ بھی نہ پاتی تھیں اب چھینک بھی آ جائے تو دوسرے براعظم میں خبر پہنچ جاتی ہے۔ہم سب اس قدر روشن ہو چکے ہیں کہ بجھ کر رہ گئے ہیں،ہم اس قدر ہجوم میں ہیں کہ گمشدہ ہو گئے ہیں۔ہم آواز سے شور بن چکے ہیں،ہم سُر سے چیخ بن چکے ہیں۔

آج سے بیس سال پہلے گلیوں سے گزرتے تو ہمیں ان کے گھر،موڑ اور دیواروں کے رنگ ،ان کے باہر کھڑے لوگ تک یاد ہونے لگتے تھے،بیس سال پہلے کے یاد کیے فون نمبر آج بھی آپ کو یاد ہو نگے!اب دو منٹ پہلے کس سے ملے تھے اس کا چہرہ تک بھول جاتے ہیں،گھر سے انٹرنیٹ پر نکلتے ہیں اور واپسی کا رستہ ہی بھول جاتے ہیں۔کبھی ہم اپنے دوستوں ،رشتہ داروں اور محبتوں کو خالص اور مکمل ملتے تھے،پورے دل سے اور وجود سے میسر ہوتے تھے،ہماری انگلیاں تب بولتی نہ تھیں اور ہمارے جسم کی ہر رگ میں تب سگنلز اور لہریں پوشیدہ نہ تھیں۔ہم اپنی ہر ہر حرکت کو محسوس کرتے تھے،اس کے ساتھ رہتے تھے،اور اب یہ صورتحال ہے کہ رکھتے کہیں ہیں اور پڑتے کہیں ہیں پاؤں!

کتاب اٹھاتے تو اس کے صفحات میں دن اور راتیں گم کر دیتے ،رنگوں میں ڈوبتے تو گھنٹوں نظر تک اٹھا کر نہ تکتے کہ سورج کدھر سے کدھر چلا گیا،دوستوں اور سہلیوں سے گھر کے واحد تار والے فون پر گپ شپ میں مصروف ہوتے تو گھر والے فون بند کروانے کو منتیں کرتے،کھیلنے جاتے تو گھر والے ڈانٹ ڈپٹ کر کے واپس لاتے۔جب ہم صرف پٹھو گرم اور پکڑن پکڑائی جیسے کھیلوں پر ہی سارا دن لگا سکتے تھے،،ہماری ہر چیز میں ایسی ذندگی تھی،ہمارے ہر عمل میں ایسی حضوری تھی۔اب ہم اپنے بچوں کو دھکے دیکر باغ لیجاتے ہیں اور منتوں سے کھیلنے پر آمادہ کرتے ہیں۔

صرف بیس سال پہلے ہم اپنے ہوش و ہواس سے اسی دنیا میں رہتے تھے جس میں اب سب کچھ ہے سوائے ہوش و حواس کے،حضوری کے اور توجہ کے،فرصت کے اور محبت کے،خلوص کے اور حقیقت کے!

اکیسویں صدی نے صرف بیس ہی سالوں میں انسان سے انسان کو چھین لیا ہے،جو بچی کھچی کسر باقی تھی وہ کرونا کے ہاتھوں لٹ چکی ہے،انسان جیسے اپنے اندر اور باہر سو سو حصوں میں ٹوٹ کر بکھر گیا ہے۔اکسویں صدی کے پہلے ہی بیس سال کا بوجھ آج کے انسان پر خاصا کٹھن ثابت ہوا ہے۔مسائل ہر موڑ پر ایسے سامنے آ رہے ہیں جن کے بارے میں کبھی سوچا نہ تھا۔میڈیسن کی ایجاد سے پہلے کینسر ،ایڈز اور کرونا جیسی بیماریاں بھی نہ تھیں،کیا مصنوعی ذہانت کی ذندگی میں اس قدر مداخلت ہمارے دماغوں،ذندگیوں اور شخصیات کو کھا تو نہیں جائے گی؟کہیں اگلے بیس سال انسانی دماغ کے لئے مہلک نہ ہو جائیں؟تبھی آج جدید ترین موضوعات جن پر پر بات کی جا رہی ہے وہ mindfulnessہے,وہ اپنے حال پر توجہ ہے،اپنے لمحات کو جاننا ہےآج کے جدید فلاسفر ہمیں سکھا رہے ہیں کہ سائنسی ترقی کی اس تیز رفتار دنیا میں کسی کی آواز اور لمس،بارش کی بوند اور پھول کی خوشبو،سبزے کی نمی اور دھوپ کی تمازت ذندگی کو ذندہ رکھنے کے لئے کسقدر ضروری ہے۔کیسا ظلم ہے کہ ایک طبقہ پہلے ہمیں ایک طرف دھکیل دیتا ہے پھر دوسرا طبقہ آ کر ہمیں ہماری گمشدہ عادتوں کی افادیت سمجھانے لگتا ہے ۔ذندگی واقعی ظرف اور اعصاب کا کھیل ہی ہو جیسے!

ہمیں بھی اب سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ حاضری کیوں ضروری ہے،اور خشوع و خضوع کے بغیر حاضری کیوں نہیں ہوتی،انسانوں کی جلتی پیشانیاں تاثیر مسیحائی کی منتظر ہیں،اس سے پہلے کہ حرارت دماغوں تک پہنچے،چلیں ہم بھی ذندگی کے ماتھے پر ٹھندی پٹیاں رکھیں،اور بہتے ہوئے پانی کے ساتھ خود کو گہرائی میں گرنے سے روکیں۔اگلے بیس سال شاید تبدیلی کی رفتار اس سے بھی بڑھ کر ہو۔انسان ہوں کہ معاشرے دیر تک چلنا ہو تو سنبھلنا وقت اور انسان کی اشد ضرورت ہے۔۔جس کا مطلب ہی یہی ہے کہ اپنے ہر کام ہر لمحے میں جئیو،ہر قدم سوچ کر رکھو،اور اپنی سوچ و اعمال کو ہم آہنگ رکھو۔یہاں سے وہی انسان اور معاشرے آگے بڑھ سکیں گے جو اپنا توازن برقرار رکھنے کی جنگ جیت سکیں گے۔ٹھیک ہے رنگ و بو کی اشتہا نے ،چمکتی بتیوں اور تیز رفتاری نے ہماری بصیرت دھندلا دی اور بصارت چھین لی ہے،پھر بھی ابھی بحالی ممکن ہے۔ایک بات طے ہے کہ سب کچھ انٹرنیٹ کی لہروں پر منتقل ہو جانے پر بھی آج کا انسان ابھی مادے کی قید میں ہے،اور مادہ اپنی فطرت سے مجبور ہے کہ اسے اس کی فطرت کے مطابق برتا جائے،انساں کو انسانوں کے ساتھ رکھا جائے،جدیدیت انسان کی معراج ہے مگر اس معراج کی طرف حوصلے اور عقل سے نکلا جائے۔اپنی زندگیوں میں سوشل میڈیا ،انٹرنیٹ اور موبائلز کی جگہ کی ٹیوننگ کیجئے۔خالی دماغ اور نظرمت بھگائیے اس کے ساتھ اس جسم اور وجود کو بھی چلائیے جو اپنی ذندگی آپ کے گرد لپٹی لہروں میں کھو رہا ہے۔دفتری اوقات کی طرح ہر چیز کے اوقات مقرر کیجئے،کچھ خالص وقت مادی چیزوں ،ذمینی رشتوں اور اصل سماجی ضروریات کے لیے نکالیں۔لوگوں کے چہرے دیکھیں ان پر بیس سالوں میں کسقدر بے چینی اتر آئی ہے۔حسن کے لئے صرف کیمرے اور فلٹر ہی نہیں چہرے کا اطمینان اور مزاج کی شفتگی بھی چاہیے۔تعلقات کے لئے صرف پروفائل ہی نہیں کردار اور اخلاق کی ضرورت کو بھی سمجھیں۔دوستی اور محبت جو دو انسانوں کی ملاقات میں ممکن ہے موبائلز میں سے کبھی نہ ملے گی۔مادے کی تشنگی کے بغیر ہر حقیقت محض مجازی اور الفاظی ہے اور اس کا حاصل محض ایک خالی جھولی ہے۔


________
صوفیہ کاشف

5 Comments

  1. اکسویں صدی سے پہلے سنتے تھے کہ اکیسویں صدی بہت ہی حیران کن ہو گی مگر اس قدر ہو گی یہ خود ہمیں بھی اندازہ نہ تھا ۔۔۔۔۔۔واہ واہ واہ

    Like

  2. دوستی اور محبت جو دو انسانوں کی ملاقات میں ممکن ہے موبائلز میں سے کبھی نہ ملے گی۔ 💯

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.