پاداش(3)_____________شازیہ خان

کور ڈیزائن:طارق عزیز

تحریر:شازیہ خان

’’بہت شکریہ سر! مجھے اتنی عزت اور اِعتماد دینے کا ۔‘‘ کبیر علی نے شمیم صاحب کی طرف بہت محبت سے دیکھا اور کہا۔ انہوں نے خود فون کرکے کبیر علی کو ہسپتال بُلایا، جب کہ باقی اسٹاف کو منع کر دیا تھا۔ اُس وقت روم میں شمیم صاحب اور کبیر علی بالکل تنہا تھے، حالاں کہ کمپنی میں کبیر علی کے علاوہ بھی بہت سے لوگ سینئر پوسٹ پر تھے، لیکن شمیم صاحب نے اُن سب پر کبیر علی کو ترجیح دی۔ انہوں نے بھی شکریہ ادا کرنے کا موقع ضائع نہ ہونے دیا۔ کبیر کی اِتنی اِنکساری دیکھ کر شمیم صاحب مُسکرائے اور بولے:
’’دیکھو کبیر! زندگی میں میں نے بہت کچھ دیکھا ہوا ہے۔ تمہاری عمر مجھ سے آدھی ہے۔ کچھ دِنوں پہلے تک میں خود کو بہت زیرک اور گھاک بزنس مین سمجھ رہا تھا۔ میں سمجھتا تھا کہ مجھے لوگوں کی پہچان ہے۔ ہم نے جانوروں اور اُن کی نسل کی پہچان کے لیے کچھ مخصوص نشانات طے کر لیے ہیں، مگر اِنسان کی عجیب و غریب فطرت اور شیطان کا ورغلانا اُس کی فطرت کی مکمل پہچان کبھی نہیں ہونے دیتا۔‘‘ اتنی لمبی گفتگو کرنے کے بعد وہ تھوڑی دیر کے لیے رُکے اور ہانپنے لگے۔ کبیر علی نے گھبرا کر اُن کی طرف دیکھا۔
’’سر پلیز! آپ زیادہ باتیں مت کریں۔ ڈاکٹر نے آپ کو زیادہ بات کرنے سے منع کیا ہے۔‘‘
’’ڈاکٹروں کا تو کام ہی منع کرنا ہے، لیکن اگر آج میں نے اپنا دِل کسی کے آگے نہ کھولا تو شاید گھٹن بہت بڑھ جائے۔‘‘ وہ اُس وقت بہت دِل گرفتہ تھے۔
’’مجھے بہت خوشی ہے کہ اِس دَور میں بھی تم جیسے اچھے لڑکے موجود ہیں، جن کی ماؤں نے اُن کی تربیت بہت اچھی کی ہے۔ معاشرے کی چکا چوند نے اُنہیں بالکل متاثر نہیں کیا۔ میں نے ریحان کو بالکل اپنے بیٹے کی طرح سمجھا۔ اُس میں اور اپنے بیٹے میں کوئی فرق نہیں کیا، لیکن اُس نے میرے اِعتماد کو مجروح کیا۔ یہ بات مجھ سے بالکل برداشت نہیں ہو رہی۔ ‘‘
’’سر! دُنیا میں ہر طرح کے لوگ ہیں۔ ریحان جیسے لوگ دراصل ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے ہیں۔ یہ جو ہم آنکھوں پر پٹی باندھ کر ہر کسی پر اِعتماد کر بیٹھتے اور دھوکا کھاتے ہیں۔ اِس کے نتیجے میں قدرت ہمیں پیغام دیتی ہے کہ ہر شخص اِعتبار کے قابل نہیں ہوتا۔‘‘ کبیر علی نے اُن کے درد کو کم کرنا چاہا۔ شمیم صاحب نے ٹھنڈی سانس لی اور بولے:
’’ہاں! شاید مجھ سے یہی غلطی ہوئی۔ خیر یہ فائل پکڑو ۔‘‘ انہوں نے تکیے کے پاس رکھی ہوئی فائل اُٹھا کر کبیر علی کی طرف بڑھائی تو وہ چونکے۔
’’سر! یہ تو کمپنی کی آفیشل فائل ہے جس میں……‘‘ انہوں نے بات ادھوری چھوڑی۔
’’ہاں تم صحیح سمجھے، جب تک میرا بیٹا رضوان اپنی تعلیم مکمل کرکے واپس نہیں آجاتا۔ یہ آفیشل فائل تمہارے حوالے۔‘‘
’’مگر سر! یہ آپ مجھے کیوں دے رہے ہیں۔‘‘ وہ حیران تھے کیوں کہ اُس فائل میں کمپنی کی ساری ایسی آفیشل معلومات تھیں، جن کا راز ہی رہنا ضروری تھا۔
’’اِس وقت تم سے زیادہ اِس کی حفاظت کوئی نہیں کر سکتا۔ وہ اُن کی ہچکچاہٹ بہ خوبی سمجھ رہے تھے۔ ڈاکٹرز نے مجھے لاسٹ سٹیج کا کینسر بتایا ہے۔ رضوان کے آنے میں ابھی چھے مہینے باقی ہیں۔ اپنی بیماری کے بارے میں اُسے نہیں بتا سکتا۔ ورنہ وہ اپنی ایجوکیشن ادھوری چھور کر واپس آجائے گا۔ تمہیں یہ فائل اِس لیے دے رہا ہوں کہ مجھے یقین ہے کہ اگر کسی وقت میں نہ بھی رہا تو تم اِس کمپنی کے بارے میں سب فیصلے بہ خوبی کر سکو گے اور مجھے یہ بھی یقین ہے کہ تم ایک مرتے ہوئے شخص کی آخری خواہش سمجھ کر اِس بات کو قبول کر لو گے۔ وہ سب کچھ اتنے عام انداز میں اُسے بتا رہے تھے کہ اُنہیں اُس شخص کے صبر اور ہمت پر رَشک ہوا کہ پتا نہیں کب سے وہ اِس تکلیف کو جھیل رہے ہیں اور کسی کو خبر تک نہیں۔ اُن کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ انہوں نے آگے بڑھ کر اُن کے ہاتھ سے فائل لے لی اور دوسرے ہاتھ سے شمیم صاحب کا ہاتھ تھام لیا۔ اُنہیں سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ کس طرح سے اُنہیں تسلی دیں۔ وہ بس خاموشی سے صبر اور ہمت کے اِس مینار کو دیکھتے۔‘‘
٭……٭……٭……٭
حاجی صاحب پورے راستے دِل ہی دِل میں ظفر کو کوستے ہوئے گئے۔ سمجھ رہے تھے کہ کوئی چھوٹا موٹا ایکسیڈنٹ ہوگا۔ اُنہیں پتا تھا کہ اُن کا بیٹا کتنا ڈرامہ باز ہے، لیکن وہاں سفید چادر میں لپٹی ظفر کی لاش دیکھ کر بُت بن کر رہ گئے۔ یہ تو انہوں نے کبھی سوچا نہ تھا۔ پَل بھر کو انہوں نے اپنے ذہن کو حاضر کر نے کی کوشش کی۔ سامنے جوان بیٹے کا لاشہ تھا، جو کہ ایک ناقابلِ یقین…… مگر حقیقت تھا۔ ظفر اتنی جلدی نہیں جا سکتا۔ انہوں نے سر کو جھٹکا۔ بے دَم سے ہو کر وہ وہیں فرش پر بیٹھ گئے۔ ہر چند وہ اُسے بُرا بھلا کہتے اورکوستے تھے، لیکن ایسا قطعاً نہیں چاہتے تھے۔ وہ سب اُس کی بہتری کے لیے تھا، لیکن سامنے پڑے ہوئے بیٹے کے مردہ وجود نے اُنہیں حقیقت کی دُنیا میں آنے کا آخری موقع دیا۔ پَل بھر کو ڈبڈباتی آنکھوں سے انہوں نے ظفر کے دوست کی طرف دیکھا۔ اُس نے پاس بیٹھ کر حاجی صاحب کوگلے سے لگا لیا اور دھاڑیں مار کر رونے لگا۔ حاجی صاحب ابھی تک اپنے حواسوں میں نہیں تھے۔ وہ خالی آنکھوں سے اُسے تَک رہے تھے۔
٭……٭……٭……٭
’’اماں! پلیز پانی پی لیں… ظفر کو کچھ نہیں ہوا……‘‘ سامعہ نے تکلیف سے بلبلاتی ہوئی ماں کو تسلّی دی، مگر دِل اُس کا بھی ڈرا ہوا تھا۔ نہ جانے کیوں اُسے بھی ایکسیڈنٹ کے نام سے ہی ہول آتا تھا۔ بچپن سے ہی اُسے بہت ڈر لگتا تھا۔ وہ خوف کی وجہ سے اکثر سڑک کنارے کھڑی رہتی کہ روڈ پر رَش کم ہوگا تو روڈ کراس کرے گی۔ ہمیشہ یہی خدشہ رہتا کہ روڈ کراس کرتے ہوئے کسی نہ کسی کار یا گاڑی کے نیچے آ جائے گی۔ ہمیشہ بسوں میں سفر سے گھبراتی تھی۔ کہیں اُترتے ہوئے بس کے نیچے نہ آ جائے اور آج وہ خوف بھائی کے ایکسیڈنٹ کی صورت اُس کے سامنے تھا۔ دِل سو کی سپیڈ سے دھڑک رہا تھا۔ ہاتھ پیر بالکل ٹھنڈے تھے، لیکن روتی ہوئی اماں کو حوصلہ بھی تو اُسے ہی دینا تھا۔ اگر وہ خود ہی ہمت ہار جاتی تو اماں کو حوصلہ کون دیتا۔
’’دیکھو! آج پہلی بار اُسے آیت الکرسی کے حصار کے بغیر بھیج دیا۔ پتا نہیں کہ کس وقت وہ گھر سے نکلا۔ یا اللہ! اُس وقت سے کتنی بار اُس پر آیت الکرسی پڑھ کر پھونک چکی ہوں۔ میرے مالک اُسے محفوظ رکھنا۔ میری اولاد ابراہیم ؑ کی اولاد کی خاک نہیں۔ میری اولاد یعقوبؑ کی اولاد کی خاک نہیں۔ اور میری اولاد اہلِ بیتؑ کی خاک نہیں۔ تو اُس ماں کو اتنا بڑا دُکھ مت دینا۔ میرا اتنا حوصلہ نہیں۔ میرے مولا! میرے اندر بی بی زینبؑ جیسی ہمت نہیں۔ میں بہت کمزورہوں۔ میرے مولا! مجھے معاف فرما دے۔ ہر اُس غلطی پر جس پر تو گرفت رکھتا ہے۔‘‘ وہ ہولے ہولے بُڑبُڑا رہی تھیں اور سامعہ کا دِل جیسے کسی نے اپنی مٹھی میں لے لیا۔ وہ اُس وقت اپنی ماں کی کیفیت سمجھ سکتی تھی۔ ویسے تو دونوں ہی ماں کے قریب تھے، لیکن ظفر کی ماں سے زیادہ قربت کی شکایت سامعہ کو ہمیشہ رہی تھی اور وہ کُھل کر ظفر کو ماں کا لاڈلہ کہا کرتی تھی۔ اماں اکثر جن باتوں پر سامعہ کو ڈانٹ دیا کرتی تھیں۔ اُنہی باتوں پر ظفر کے لیے اُن کے پاس ڈھیر ساری گنجائش نکل آتی اور جس کی شکایت وہ اماں سے کُھلے عام کرتی۔
’’یا میرے معبود! جو اولاد تو نے مجھے دی ہے، اُسے میری آزمائش نہ بنانا۔ ایسی آزمائش میں ڈالے گئے لوگ مرنے سے پہلے ہی مر جاتے ہیں۔ یا میرے مولا! میرے بیٹے کو اپنی حفاظت میں رکھ۔ میں نے بہت مشکلیں جھیلی ہیں اُسے بچپن سے یہاں تک پہنچانے میں۔ تونے ہر جگہ میری مدد فرمائی ہے۔ بس تو اُسے میری آنکھوں کی ٹھنڈک بنا دے۔ آنسوؤں کی وجہ نہ بنانا۔‘‘ وہ ہولے ہولے اپنے ربّ سے مخاطب تھیں۔ مومنوں کی زندگی میں اکثر ایسے مقامات آجاتے ہیں، جب اُن کے اور ربّ کے درمیان تیسرا کوئی نہیں ہوتا۔ رب اپنے مومن بندے کو توفیق دیتا ہے وہ سب مانگنے کی جو وہ چاہتا ہے اور پھر اِسی دُعا کے وسیلے اُسے جنت میں اعلیٰ مقام دینے کا وعدہ بھی کر لیتا ہے۔ اکثر مومن بندے کو اپنی پسندیدہ شے چِھن جانے کی آزمائش سے بھی گزرنا پڑتا ہے، جیسے اُنہیں آگے گزرنا تھا۔ اپنی سب سے عزیز شے کھوکر یعقوب ؑ کی آزمائش کی گئی تھی اورپھر رو رو کر اُن کی بینائی چلی گئی، مگر ناہید بیگم کو کیا معلوم تھا کہ اُن کے بیٹے کی موت پر سخت آزمائش اُن کا مقدر بنا دی گئی ہے۔
انہوں نے ایمبولینس کی آواز سُن کر جب پتھر ہاتھوں سے گھر کا دروازہ کھولا اور مرے مرے قدموں سے حاجی صاحب کو ایمبولینس سے اُترتے دیکھا، تو وہیں ڈھیر ہو گئیں۔ سامعہ جو دروازے پر شور سُن کر اماں کے پاس آئی تھی۔ بڑی مشکل سے اُنہیں سنبھال کر صحن میں پڑے تخت تک لائی۔ اُس کی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ماں کو سنبھالے یا بھائی کے مردہ وجود کو…… پھر دیکھنے والوں نے دیکھا کہ کس طرح بہن نے ضبط کی مثال قائم کر دی…… تاریخ گواہ ہے بہنوں کے ہمت اور حوصلے بڑے قوی ہوتے ہیں۔
اماں ہوش میں آتیں اور ہائے ظفر کا نعرہ لگا کر پھر غنودگی میں چلی جاتیں۔ حاجی صاحب بالکل خاموش تھے اور اِسی خاموشی کے ساتھ بیٹے کے آخری اِنتظامات کر رہے تھے۔ کسی نے سارے رشتہ داروں کو خبر کر دی۔ ایک ایک کرکے رشتہ دار جمع ہونا شروع ہوئے۔ ناہید بیگم بہن کے آنے کے بعد جو اُن سے چمٹ کر روئیں تو اُن کو چپ کروانا مشکل ہوگیا۔ اکلوتے بیٹے کی ناگہانی موت پر ہر آنکھ اَشک بارتھی۔ کبیر علی نے اس مشکل وقت میں بالکل سگے بیٹے کی طرح ہر جگہ حاجی صاحب کو حوصلہ دیا۔ وہ ظفر کے آخری سفر کے سارے اِنتظامات خود سنبھالنے میں لگے تھے۔ ثنا سامعہ کا سایہ بنی ہوئی تھی۔ اُس سارے گھر کے اِنتظامات اُس فیملی نے سنبھال لیے۔ میت کو نہلانے کے لیے اِنتظامات مکمل تھے۔ بیری کے پتوں کو پانی میں ڈال کر اُبالا گیا اور اُس سے میت کا غسل ہوا۔ حاجی صاحب کا ضبط اُس وقت ٹوٹا، جب انہوں نے بیٹے کی میت پر پانی کا آخری ڈونگا بہایا۔ تو دیکھنے والوں نے دیکھا کہ وہ کس طرح ٹوٹ کر روئے کہ سنبھالنا مشکل ہو گیا۔ اُس وقت سب نے ناہید بیگم کی غنودگی کو بھی ختم کرنے کی کوشش کی۔
’’ناہید! اُٹھو… بیٹے کو لے جا رہے ہیں… آخری دیدار تو کر لو۔‘‘ سلمیٰ بیگم نے ضبط کرتے ہوئے اُنہیں اُٹھا کر کھڑا کیا اورصحن میں رکھے ہوئے ڈولے کے پاس لے آئیں۔ ڈولے کو پکڑے حاجی صاحب بچوں کی طرح رو رہے تھے۔
’’حاجی صاحب! کیوں رو رہے ہیں…؟‘‘ ناہید بیگم نے شوہر کے پاس آ کر غائب دماغی سے پوچھا۔
’’آپ نے ہی تو بددعا دی تھی اِسے کہ اللہ ایسی اولاد کو اپنے پاس بُلا لے۔ اُس نے کتنی جلدی آپ کی بددعا قبول کر لی۔ ایک ماں کی محبت بھری دُعائیں قبول نہ کیں۔‘‘ وہ نہ جانے کس کیفیت میں تھیں۔ شاید اپنے ہوش و حواس کھو چکی تھیں۔ ’’میں نے آپ سے کہا تھا نا کہ جوان بیٹے کو بددعا مت دیں۔ آپ کی بددعا قبول ہو گئی حاجی صاحب! کتنے خوش نصیب ہیں آپ…‘‘ اور پھر وہ پُھوٹ پُھوٹ کر رو پڑیں۔ پاس کھڑی سامعہ نے ماں کی بے بسی پر اپنا دِل پھٹتا محسوس کیا۔ کتنی بے بس ماں تھی۔ واقعی جوان اولاد کا لاشہ دیکھنا کسی بھی ماں کے لیے کرب و بلا کی کیفیت ہے۔ یہ کسی خاص واقعے یا خاص مقام سے منسوب نہیں۔ ہر وہ جگہ جہاں جوان اولاد کا لاشہ پڑا ہو، ماں کے لیے کر بلا بن جاتا ہے۔ ایسا صرف وہ ماں ہی محسوس کر سکتی ہے، جس نے جوان بیٹے کو جینے کی دُعا دی ہو اور وہ دُعا بیٹے کی موت کی آزمائش بن کر قبول ہوئی ہو۔ یا میرے اللہ! اِس سے بڑی آزمائش کوئی نہیں۔ کسی نے آخری دِیدار کی دُہائی دی تو ظفر کے چہرے سے کفن ہٹایا گیا۔ اپنے جوان بیٹے کے ساکت چہرے پر نظر ڈالتے ہی ہلکی سی آہ کے ساتھ ناہید بیگم وہیں بے ہوش ہو گئیں۔
٭……٭……٭……٭
’’ہیلو…!‘‘ بہت دیر سے بجتے فون کو بنا نمبر دیکھے شمیم صاحب نے اُٹھایا اور کال ریسیو کر لی۔
’’السلام علیکم پاپا!‘‘
’’کون بات کر رہا ہے…؟‘‘ شمیم صاحب نے غنودگی کے عالم میں پوچھا۔
’’ہیلو پاپا! کیسے ہیں…؟‘‘ رضوان نے شمیم صاحب کی مری مری سی آواز سُن کر فوراً پوچھا۔
’’اَرے رضوان! یہ تم ہو… لیکن اِس وقت کیسے فون کیا…؟‘‘ انہوں نے گھڑی کی طرف دیکھا۔ جہاں کا وقت آسٹریلیا سے بالکل مختلف تھا۔ وہ اِس وقت کبھی فون نہیں کرتا تھا۔
’’بس بابا! اچانک سوتے سوتے آنکھ کُھل گئی۔ بڑا عجیب سا خواب دیکھا تھا۔ آپ ٹھیک تو ہیں نا…؟‘‘ اُس نے فکر مندی سے پوچھا۔
’’اَرے! میں ٹھیک ہوں۔ تم میری بالکل فکر مت کرو۔ یہ تمہارا آخری سمسٹر ہے۔ دِل لگا کر پڑھو۔‘‘ شمیم صاحب نے اپنے لہجے میں دُنیا بھر کی بشاشت بھرتے ہوئے کہا۔
’’پاپا پتا نہیں کیوں دِل چاہ رہا ہے کہ میں آپ کے پاس آ جاؤں یا پھر آپ میرے پاس آجائیں۔‘‘ رضوان نے بے بسی سے کہا۔
’’خبردار! آنے کا سوچنا بھی مت۔ چھے مہینے اور اِنتظا ر کر لو پھر آکر سارا بزنس سنبھالنا۔ کیوں اتنے سالوں کی محنت برباد کر رہے ہو۔‘‘ انہوں نے اپنے دِل پر پتھر رکھ کر اُسے سمجھایا، حالاں کہ دِل چاہ رہا تھا کہ اِن تکلیف دہ دِنوں میں وہ اُن کے پاس ہو، لیکن پچھلے چار سالوں سے وہ جس محنت سے پڑھائی کر رہا تھا اور اعلیٰ نمبرز حاصل کر رہا تھا، وہ نہیں چاہتے تھے کہ اُس کی محنت ضائع ہو۔ بیوی کے اِنتقال کے بعد سالوں انہوں نے اکیلے زندگی گزاری۔ دونوں باپ بیٹے ایک دوسرے کا اکلاپا دُور کرتے رہے۔ جب باہر جانے کی بات آئی تو رضوان جانے پر قطعاً تیار نہ تھا۔ وہ یہیں رہ کر پڑھنا چاہتا تھا، مگر وہ اُسے ہائیر اسٹڈی کے لیے باہر بھیجنے پر مُصر تھے۔ آخرکار اُسے اُن کی بات ماننی پڑی۔ کیسے یہ چار سال گزر گئے۔ پتا بھی نہ چلا، لیکن یہ چھے مہینے خاص طور پر آخری سٹیج کینسر ڈائیگنور ہونے کے بعد اُنہیں شدّت سے تنہائی محسوس ہو رہی تھی، مگر وہ بیٹے کو یہ بات بتا کر پریشان نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ڈاکٹر نے اُن سے کہا کہ وہ اپنے بیٹے کو بُلا لیں۔ بُلا کر اُسے اِعتماد میں لیں، لیکن انہوں نے ڈاکٹر کی بات بھی نہ مانی۔
وہ جانتے تھے کہ اب اُن کی زندگی بہت کم رہ گئی ہے، مگر جس کی ابھی پوری زندگی باقی ہے، کم از کم اُسے تو اُن کی وجہ سے پریشانی نہ ہو۔ بیوی کے بعد دونوں باپ بیٹے ایک دوسرے کے دوست بن گئے۔ انہوں نے ہر معاملے میں اُس کی تربیت یوں کی، جیسے اگر ماں زندہ ہوتی تو کرتی۔ کہیں بھی اُسے ماں کی کمی محسوس نہ ہونے دی۔ اِسی لیے رضوان ہر جگہ ایک اچھا بچہ جانا جاتا تھا۔ اتنی دولت کے بعد بھی اُس کے اندر غرور نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ دراصل وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ میرا باپ ایک سیلف میڈشخص ہے۔ جس نے اتنی دولت بہت محنت سے کمائی ہے اور وہ اُسے کسی صورت لُٹانا نہیں چاہتا تھا۔ رضوان ایک مکمل شخصیت کا مالک تھا۔ ایسا لڑکا، جس کی خواہش ہر لڑکی کرتی، لیکن اُس نے لڑکی جیسی چیز کو کبھی زیادہ اہمیت ہی نہ دی۔ کالج میں ہزاروں لڑکیاں اُس کی محبت بھری ایک نگاہ کو ترستی تھیں، لیکن وہ کبھی اُن پر ایک نگاہ نہ ڈالتا۔ ایسی تربیت صرف اور صرف شمیم صاحب کی چند باتوں کے سمجھانے کا نتیجہ تھا۔ اُن کا خیال تھا عورت سے مرد کا رشتہ صرف ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کا ہوتا ہے۔ عورت سے بنا ہر پانچواں رشتہ اُسے شیطان کی طرف مائل کرسکتا ہے۔ تم کوشش کرنا کہ پانچواں رشتہ کسی عورت سے کبھی نہ جوڑو۔ اِسی طرح کی بے شمار باتیں وہ اُسے کسی دوست کی طرح سمجھاتے اور اُس نے بھی اِن باتوں کو کبھی نظر انداز نہیں کیا۔ بے شمار دوستوں نے اُس کی دولت دیکھ کر اُسے غلط راستے پر ڈالنے کی کوشش کی، لیکن اُس نے ایسے دوستوں سے اپنی راہ بدل لی۔ کیوں کہ وہ پاپا کو تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا۔ وہ اُن سے شدید محبت کرتا تھا۔ آج بھی رضوان سوتے سوتے اتنا عجیب و غریب خواب دیکھ کر اُٹھ گیا۔ اُسے لگا کہ بابا تکلیف میں کراہ رہے ہیں اور اُسے پُکار رہے ہیں۔ اُس نے فوراً پاکستان فون کیا۔ ایک لمحے کو اُسے بابا کی آواز بہت کمزور سی لگی، لیکن شمیم صاحب نے اُسے قائل کر ہی لیا کہ ایسا کچھ نہیں۔ تمہیں وہم ہوا ہے۔ پھر اِدھر اُدھر کی چند تسلی بخش باتیں کر کے فون بند کر دیا۔
فون بند کر نے کے بعد شمیم صاحب کو افسوس بھی ہوا کہ اُنہیں اپنی تکلیف کے بارے رضوان کو ضرور بتا دینا چاہیے تھا۔ پھرخود ہی اپنی بات کی نفی میں سر ہلا دیا۔
’’شاید میں نے ٹھیک کیا۔ وہ میرے بارے میں بہت جذباتی ہے۔ اگر میں اُسے بتا دیتا تو وہ کل کی ہی فلائٹ سے آ جاتا۔ میری قسمت میں ہوا تو اُس سے مل لوں گا۔ ورنہ جو میرے ربّ کی مرضی۔‘‘
وہ آج بہت کمزوری محسوس کر رہے تھے۔ اِسی لیے آفس جانے کا اِرادہ ملتوی کر دیا اور اسٹاف کو ہدایت کر دی کہ اُنہیں بالکل ڈسٹرب نہ کیا جائے۔ اسٹاف میں صرف کبیر علی کو ہی انہوں نے اصل بیماری کے بارے بتایا تھا۔ باقیوں کو صرف یہ معلوم تھا کہ اُنہیں ہائی بلڈ پریشر کی تکلیف ہے۔ وہ اپنی بیماری ابھی آفس اسٹاف سے بھی چُھپانا چاہتے تھے۔ دراصل روٹین ٹیسٹ میں جب چند ٹیسٹ صحیح نہیں آئے اور ڈاکٹر نے چند ضروری ٹیسٹ کروائے، تو یہ ہولناک اِنکشاف ہوا کہ اُنہیں بلڈ کینسر ہے۔ وہ بھی آخری سٹیج پر۔ جس کا کوئی علاج بھی نہیں۔ بہت تکلیف سے انہوں نے یہ خبر سُنی، لیکن صبر کیا۔
زندگی میں وہ اتنی زیادہ تکالیف دیکھ چکے تھے کہ یہ بات بہت آسانی سے ہضم کر لی۔ ڈاکٹرز خود اُن کا ضبط و حوصلہ دیکھ کر حیران رہ گئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی قریبی رشتہ دار نہیں ہے تو آپ بیٹے کو ہی بُلوا لیں۔ اِس موقع پر کم از کم کوئی نہ کوئی اپنا تو آپ کے پاس ہونا چاہیے۔ انہوں نے اِس بات کے جواب میں صرف ضبط سے مُسکرا کر ڈاکٹر کی طرف دیکھا اور ہولے سے سر ہلا دیا، لیکن بعد میں بہت سوچ بچار کے بعد انہوں نے کبیر علی پر بھروسا کرنے کا فیصلہ کر لیا اور اُسے ساری پوزیشن بتائی، مگرمکمل راز داری کے وعدے کے ساتھ۔ وہ جانتے تھے کہ اگر کسی نہ کسی طرح رضوان کو پتا چل گیا تو وہ اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر آ جائے گا۔
٭……٭……٭……٭
نانو بی نوٹ کر رہی تھیں کہ آج کل سیما بہت خاموش سی ہو گئی تھی۔ اب اُس نے عمر کا ذکر بھی کم کر دیا تھا۔ ورنہ پہلے تو اُن کے درمیان کسی نہ کسی بات میں عمر کا ذکر نکل ہی آتا تھا۔ اِس وقت بھی ناشتہ کرتے ہوئے انہوں نے اُس کی طرف دیکھا۔
’’پڑھائی کیسی ہو رہی ہے ڈارلنگ!…؟ لگتا ہے اِس سال اچھے مارکس لینے کا اِرادہ ہے۔ عامرہ بتا رہی تھی رات بھی تمہارے کمرے کی لائٹ کافی دیر تک جلتی رہی۔‘‘ انہوں نے بوائل ایگ کو فورک میں چبھو کر منہ میں رکھا اور ساتھ ہی بلیک کافی کا سِپ لیا۔ناشتہ کرتے کرتے اُس نے ہاتھ روکا۔ مُسکرا کر اُن کی طرف دیکھا اور بولی:
’’کوشش تو کر رہی ہوں نانو بی! مگر کم بخت بہت مشکل ہے۔ پتا نہیں لوگ کیسے رٹّا لگا لیتے ہیں۔ میں تو ایک سوال یاد کرتی ہوں تو دوسرا بھول جاتا ہے۔‘‘ وہ بہت بے بسی سے منہ بنا کر بولی تو نانو بی ہنس دیں۔
’’عامرہ نے تمہیں رات کو بادام والا دودھ دیا تھا۔‘‘
’’جی! دیا تو تھا مگر…… نانو بی! نہیں پیا جاتا اتنا بڑا گلاس…‘‘ وہ بچوں کی طرح ٹھنکی۔
’’اَرے! پیو گی نہیں تو دماغ خشک ہو جائے گا۔ اِسی لیے تو کچھ یاد نہیں ہو پاتا۔‘‘
’’آپ کو یاد ہے نانو بی! ماما مجھے بچپن سے ہی دودھ پلانے کی کتنی کوشش کرتی تھیں۔ گلاس لے کر میرے پیچھے پیچھے بھاگتیں، مگر میں اُنہیں ڈاج دے کرنکل جاتی۔‘‘ وہ ماں کو یاد کرکے روہانسی سی ہو گئی۔
’’پھر وہ شکایت کرتی اماں بی! آپ ہی سمجھائیں اپنی لاڈلی کو، دودھ کا گلاس اُسے دیتی ہوں اور یہ نوکرو ں کے بچوں کو پلا دیتی ہے۔‘‘ نانو بی بھی پُرانی یاد کے دیپ اپنے آنکھوں میں بھر کر بولیں۔
’’نانو! آپ کو ایک بات بتاؤں…؟‘‘ اُس نے چوری چوری اُن کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’ہاں! بولو…‘‘ کافی کا آخری سِپ لے کر کپ ٹیبل پر رکھا اور پوچھا۔
’’میں آج بھی ایسا ہی کرتی ہوں۔‘‘
’’کیا مطلب…؟تم آج بھی دودھ کسی کو دے دیتی ہو…‘‘ انہوں نے حیرانی سے پوچھا۔
’’جی! نہیں پیا جاتا تو آدھا میں اور آدھا عامرہ پیتی ہے، لیکن آپ اُسے کچھ مت کہیے گا۔ وہ ویسے ہی آپ سے بہت ڈرتی ہے۔‘‘ وہ نانو بی سے کوئی بات چُھپا ہی نہیں پاتی تھی۔ اب بھی ناچاہتے ہوئے یہ راز اُن کے آگے کھول بیٹھی۔ اب پچھتا رہی تھی۔ عامرہ تو ویسے ہی خوف زدہ تھی کہ جس دِن یہ راز نانو بی پر کُھل گیا اُس کی خیر نہیں، لیکن اِس وقت اُن کے چہرے پر اِطمینا ن دیکھ کر اُسے بہت حیرانی ہوئی۔
’’آدھا گلاس تو پی لیتی ہو یا اُس میں سے بھی کسی کو دے دیتی ہو…؟‘‘ انہوں نے مُسکراتے ہوئے پوچھا۔
’’خدا کی قسم نانو بی! بس آپ کا خوف ہوتا ہے اِس لیے ناک پکڑ کر چڑھا جاتی ہوں۔‘‘ اُسے بھی تسلّی ہوئی کہ نانو بی سے ڈانٹ نہیں پڑی۔ ابھی وہ دونوں باتیں کر رہے تھے کہ موبائل پرمیسج آیا۔ اُس نے موبائل اُٹھا کر دیکھا تو ثنا کا میسج تھا۔ جس میں سامعہ کے بھائی کی ڈیتھ کی خبر تھی اور ساتھ ہی آج گیارہ بجے سوئم کے بارے میں تھا۔ ایک لمحے کو سیما کو یقین نہ آیا۔ اُس نے نانو بی کو بتایا تو انہوں نے اُسے فوراً جانے کا کہا۔ وہ جانتی تھیں کہ اُس کی چند دوستیں تھیں، جس میں سے سامعہ بھی ایک تھی۔
’’اِس وقت تو ڈرائیور بھی چھٹی لے کر گیا ہواہے۔‘‘ اُس نے پریشانی سے کہا۔
’’تو کیب منگوا لو، بلکہ تم جا کر تیار ہو، میں منگواتی ہوں۔‘‘ انہوں نے اُس سے کہا۔
’’اوکے نانو! میں بس دس منٹس تک آتی ہوں۔‘‘ وہ اپنے کمرے کی طرف جاتے ہوئے بولی۔ جب وہ تیار ہو کر واپس آئی تو عمر کو نانو بی سے بات کرتے ہوئے پایا۔
’’اَرے عمر! تم کب آئے…؟‘‘ وہ حیران ہوئی۔
’’ بس ابھی ابھی اور پھر پتا چلا کہ تم اپنی کسی دوست کے گھر تعزیت کے لیے جارہی ہو۔‘‘ وہ بولا۔
’’عمر! تم جانتے ہو سامعہ کو، کل اچانک اُس کے بھائی کی ایک روڈ ایکسی ڈنٹ میں ڈیتھ ہوگئی۔‘‘ اُس نے ٹھنڈی سانس بھر کر کہا۔
’’اوہ گاڈ! بہت بُری خبرہے۔‘‘ عمر کو حقیقت میں افسوس ہوا۔
’’نانو بی آپ نے کیب کرا دی۔‘‘ سیما نے نانو بی سے پوچھا۔
’’اَرے! عمر نے منع کر دیا تھا کہ میں اُسے ڈراپ کر دیتا ہوں تو میں نے نہیں بُلائی۔‘‘ انہوں نے وضاحت کی۔
’’اَرے نہیں عمر! تمہیں تکلیف ہو گی۔ میں کیب منگوا لوں گی۔‘‘ کوئی اور موقع ہوتا تو وہ خوشی خوشی عمر کے ساتھ جاتی، لیکن یہاں سامعہ کا معاملہ تھا۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ اُس کے ساتھ سامعہ کے گھر تک جائے۔
’’اَرے! تکلیف کیسی یار! تمہاری ایک دوست کی مشکل کی گھڑی ہے۔ اگر میں تمہیں ڈراپ کر دوں گا، تو اِٹس ناٹ آ بِگ ڈیل۔ چلو! جلدی سے آ جاؤ۔ نانو بی اجازت… میں جلد ہی آؤں گا اور پھر آپ سے ڈھیر ساری باتیں ہوں گی۔‘‘ وہ کھڑا ہوا اور نانو بی کے گال پہ بوسہ لیتے ہوئے اجازت طلب نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا۔
’’بیٹا! اللہ کی امان میں جاؤ۔ ویک اینڈ پر ڈنر کا پروگرام بناتے ہیں۔ بہت دِن ہو گئے ہم کسی ڈنر پر ساتھ نہیں گئے۔ ذرا آوٹنگ ہو جائے گی۔‘‘ وہ خوش دِلی سے بولیں تو وہ بھی مُسکرا دیا۔ اُس کی نانو بی بہت زندہ دِل تھیں اور اپنی زندہ دِلی کا اِحساس اپنے بچوں میں منتقل کرنے میں ماہر تھیں۔ وہ اُنہیں فلائنگ کِس دیتا ہوا باہر نکل آیا۔ مجبوراً سیما کو بھی اُس کے پیچھے آنا پڑا۔ پورا راستہ دونوں کے درمیان سامعہ کے گھر والوں سے متعلق بات ہوتی رہی، حالاں کہ وہ اُس وقت اُس کی کوئی بات نہیں کرنا چاہتی تھی، لیکن مجبوری تھی۔ عمر آفندی جیسا شخص سامنے والے کو بولنے پر مجبور کر دیتا تھا۔ ناچاہتے ہوئے بھی اُسے جواب دینا پڑے۔ جلد ہی وہ سامعہ کے گھر پہنچ گئے۔ ثنا نے گھر کا ایڈریس بھی سینڈ کیا تھا۔ گھر کے باہر شامیانہ لگا تھا۔ سفید چادروں پر بیٹھے کچھ لوگ پارے پڑھ رہے تھے۔ کچھ لوگ کلمہ طیبہ کا وِرد کر رہے تھے۔ جوان اور ناگہانی موت نے ماحول کو سوگوار کیا ہو تھا۔ سیما نے چاہا کہ وہ اُسے ڈراپ کرکے لوٹ جائے، لیکن عمر آفندی نے جانے سے اِنکار کر دیا۔ اب وہ اِتنا بے درد بھی نہیں ہو سکتا کہ اُسے یہاں چھوڑ کر چلا جائے۔
’’تم فارغ ہو جاؤ… میں ابھی اِدھر ہی ہوں۔‘‘ اُس نے سیما کو اندر جانے کا اِشارہ کیا اور خود شامیانے میں گُھس گیا۔ جہاں مرد حضرات بیٹھے مرنے والے کے حق میں اُس کی مغفرت کے لیے قرآن پڑھ رہے تھے۔ وہ بھی خاموشی سے ایک پارہ لے کر الگ بیٹھ گیا۔ یہاں وہ کسی کو نہیں جانتا تھا، اِسی لیے خاموشی سے پارہ پڑھتا رہا۔ ایک آدھ نظر آس پاس بیٹھے لوگوں پر ڈال لیتا کہ شاید کوئی گھر والا کسی طرح شناخت ہو جائے تو وہ بھی پُرسہ کر لے، لیکن ناکامی ہوئی۔
٭……٭……٭……٭
سامعہ کی اپنی حالت بہت خراب تھی، مگر اُسے ماں کی بہت فکر تھی، جو تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد ظفر کو یاد کرتیں۔ رات بھی اُنہیں نیند کی گولی دے کر سلایا تھا، لیکن صُبح آنکھ کُھلتے ہی انہوں نے پہلا سوال ظفر کے بارے میں کیا۔ پھر جیسے ہی اِحساس ہو اکہ وہ اب دُنیا میں موجود نہیں تو پُھوٹ پُھوٹ کر رو دیں۔ سب کے دِل اُن کی حالت دیکھ کر جیسے پھٹے جا رہے تھے، لیکن اللہ کی مرضی یہی تھی۔ اُس کے آگے کسی کی نہیں چلتی۔ سب بے بس تھے۔ مجبور تھے۔ حتیٰ کہ اُس سے شکوہ بھی نہیں کر سکتے۔
جوخواتین پُرسہ دینے آرہی تھیں ہر بار سب کو بتانا پڑتا کہ ظفر کا ایکسی ڈنٹ کیسے ہوا۔ کیسے خبر آئی اور گھر والوں پر کیا گزری…؟ لیکن اِس پورے فسانے کو سُناتے، دُہراتے گھر والوں پر کیا گزرتی، کسی کو اندازہ نہ تھا۔
سامعہ سیما کو سارا واقعہ سُناتے سُناتے رو پڑی۔ ثنا نے آگے بڑھ کر اُسے گلے سے لگایا اور چُپ کروایا۔ ہر آنکھ اَشک بار تھی۔ سیما سے بھی اِس ماحول میں زیادہ دیر نہیں بیٹھا گیا۔ وہ پارہ پڑھ کر سامعہ اور اُس کی امی سے مل کر باہر نکل آئی۔ عمر کو اُس نے گاڑی تک پہنچے کا میسج پہلے ہی کر دیا تھا۔
’’تم نے اُس کے گھر والوں سے تعزیت کی تھی۔ میرا مطلب ہے اُس کے ابا جی وغیرہ سے…؟‘‘ سیما نے پوچھا۔
’’نہیں! وہاں میں کسی کو جانتا ہی نہیں تھا۔ بس پارہ پڑھ کر دُعا میں شریک ہوا تو تمہارا میسیج آگیا آجاؤ تو اُٹھ کر باہر آگیا۔‘‘ عمر نے بات مکمل کرتے ہوئے موڑ کاٹا۔
’’اوہ! اچھا میں سمجھی تم اُس کے ابا جی وغیرہ سے بھی ملے ہوگے۔‘‘ کچھ جتاتے ہوئے سیما نے ترچھی نظروں سے اُسے دیکھا تو وہ مُسکرا دیا۔ وہ سمجھ رہا تھا کہ سیما اُسے کیا جتانا چاہتی ہے۔
’’ابا جی سے کون کم بخت ملنا چاہتا تھا۔ مجھے تو صرف تمہاری دوست سے ملنا تھا، جو کہ اتنے رَش میں ممکن نہ ہوسکا۔ خیر سیما بی بی! یہ تو میرے لیے ایک مشکل مشن جیسا ہے جو کہ میں اپنی ضد میں کر ہی گزروں گا۔ تم مجھے کتنا بھی روکنا چاہو۔ اگر میں ایک چیز اپنے دِل میں ٹھان لوں تو کرکے ہی رہتا ہوں۔‘‘ اُس نے کھڑکی سے باہر دیکھتی سیما کو دیکھا اور دِل کی بات دِل میں ہی رہنے دی۔ اُس سے بڑی غلطی ہوئی سیما کو اِس معاملے میں شریک کرنے کی اور اب وہ سامعہ سے متعلق سارا کام خاموشی سے کرنا چاہتا تھا۔ یہ تو ممکن ہی نہ تھا کہ کوئی لڑکی بغیر کسی وجہ کے عمر آفندی جیسے بندے کو نظر انداز کر دے اور وہ برداشت کر جائے۔ سامعہ اب اُس کے لیے ضد بن چکی تھی اور وہ اپنی ضدیں منوانا جانتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ گھی اگر سیدھی اُنگلی سے نہ نکلے تو اُنگلی ٹیڑھی کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔
’’ویسے اُن کے رشتہ داروں کو تو دیکھا ہی ہوگا۔ اپنی اور اُس کی کلاس کے فرق کو بھی تم نے واضح محسوس کیا ہو گا۔‘‘ سیما بار بار اُس کی کلاس کے فرق کو واضح کرکے اُسے اِس رستے سے ہٹانا چاہ رہی تھی، لیکن وہ دِل میں مصّمم اِرادہ کیے بیٹھا تھا۔ سامعہ نہیں تو کوئی نہیں۔
’’ہاں! کلاس ہی کا تو فرق ہے، جو وہ مجھ سے کترا رہی ہے۔ میری کلاس کی ہوتی تو شاید میری ایک مُسکراہٹ پر آج میرے برابر والی سیٹ پر بیٹھی ہوتی۔‘‘ عمر کے لہجے میں جو کچھ تھا، اُسے محسوس کرکے ایک لمحے کے لیے سیما اپنی جگہ ساکت ہو گئی۔ عمر اُس پر طنز کر رہا تھا یا اُس نے یونہی برسبیل تذکرہ یہ بات کی۔ سیما نے غور سے عمر کی طر ف دیکھا۔ جہاں وہ اپنی بات کو کہہ کر مزے سے کھڑکی کے باہر دیکھ رہا تھا۔ اِس کے بعد سیما سے عمر کی اِس موضوع پر کوئی بات نہ ہو سکی۔ عمر اِس موضوع کو چھوڑ کر مزے سے اُس سے دُنیا جہاں کی باتیں کرتا رہا اور وہ صرف ہوں ہاں میں جواب دیتی رہی۔ تھوڑی دیر میں ہی وہ گھر پہنچ گئے۔ اُس کے بہت اِصرار کے باوجود وہ اندر نہیں آیا۔
’’یار! آفس سے ویسے ہی لیٹ ہو گیا ہوں۔ بابا ناراض ہوں گے۔ نانو کوبتا دینا اِس ویک اینڈ پر میں نانو اور تم باہر ڈنر کریں گے اور ریسٹورنٹ بھی نانو کی پسند کا ہوگا۔‘‘ اُس نے مزے سے کار سے اُترتے ہی سیما سے کہا تو وہ مُسکرا بھی نہ سکی۔ کوئی اور موقع ہوتا تو شاید وہ اُس کی اتنی نظر عنایت پر پھولے نہیں سماتی، لیکن عمر کی بات نے اُسے اندر تک کاٹ کر رکھ دیا تھا۔ اِسی لیے اُس نے صرف مُسکر اکر سر ہلانے پر ہی اِکتفا کیا اور ہاتھ ہلا کر اندر کی طرف بڑھ گئی۔ عمر نے ریس پر پاؤں سے دباؤ ڈالا اور کار آگے بڑھا دی۔
٭……٭……٭……٭
سوئم کے بعد خاندان کے تقریباً سب ہی افراد اپنے گھر وں کو چلے گئے، لیکن سلمیٰ بہن تھیں اور ناہید بیگم کے دُکھ سے اچھی طرح واقف بھی۔ انہوں نے ثنا اور کبیر علی کو گھر بھیج کر خود بہن کے پاس چند دِن اور رُکنے کی ٹھان لی، حالاں کہ طبیعت اُن کی بھی ٹھیک نہیں تھی۔ بلڈ، شوگر کافی ہائی تھی، مگر موقع کی نزاکت دیکھ کر انہوں نے ثنا کو گھر بھیج دیا۔ کبیر کو آفس جانے میں پریشانی ہو گی۔ تم چلی جاؤ اُس کے ساتھ۔ اُسے بیمار ماں کی فکر تھی، تو بھائی کا بھی اتنا ہی خیال تھا۔ کبیر علی دو دِن سے آفس نہیں گئے تھے۔ حاجی صاحب کے گھر کے سارے اِنتظامات انہوں نے گھر کے بڑے بیٹے کی طرح سنبھالے ہوئے تھے۔ اِس وقت بھی وہ حاجی صاحب کے پاس آ کر بیٹھے۔ جانے کی اجازت طلب کی تو حاجی صاحب نے پتھرائی سی نظروں سے اُن کی طرف دیکھا۔
’’ظفر چلا گیا۔ اب تم بھی چلے جاؤ گے تو میں تو بالکل اکیلا رہ جاؤں گا۔‘‘ اُن کے لہجے میں بہت یاسیت تھی۔ اُن کی بات سُن کر کبیر علی کا دِل پگھل گیا۔
’’اَرے نہیں خالو جان! آپ فکر نہ کریں۔ میں روز رات کو آپ کے پاس حاضری دوں گا اور ظفر کہیں نہیں گیا وہ یہیں ہے ہمارے پاس۔‘‘ انہوں نے ہاتھ پکڑ کر خالو کو حوصلہ دیا۔
’’آپ بالکل فکر مت کریں۔ جو کام بھی ہو مجھے فون کر دیجئے گا۔ میں اُسی وقت حاضر ہو جاؤں گا۔‘‘ انہوں نے حاجی صاحب کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر دلاسہ دیا۔ حاجی صاحب نے اُن کا ہاتھ پکڑ کر رونا شروع کر دیا۔ کبیر علی اور ثنا نے بہت مشکل سے اُنہیں چُپ کروایا اور بستر پر لٹا دیا۔
’’خالو جان! پلیز آپ تھوڑی دیر آرام کر لیں۔ دِل ہلکا ہو جائے گا۔‘‘ اُس نے خالو کو تسلّی دی۔
’’ثنا جاتے ہوئے اپنے خالو کا ایک کام تو کر دو۔‘‘ اُن کا لہجہ اتنا ٹوٹا ہو اتھا کہ ثنا کو ترس آگیا۔ وہ اُس کے لیے باپ کی جگہ تھے۔ اُس نے اُنہیں اتنا ٹوٹا ہوا پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ سلمیٰ بیگم کی فیملی کا باپ کے مرنے کے بعد سہارا بنے رہے۔ سلمیٰ بیگم کو ہر جگہ ضرورت پڑنے پر ایک بھائی کی طرح سہارا دیا۔ بچوں کا پورا دھیان رکھا۔ اِسی لیے سلمیٰ بیگم ہمیشہ اپنے بھائی سے زیادہ اپنے بہنوئی کو اہمیت دیتیں۔ ہمیں محبت اُسی سے ہوتی ہے، جو ہمارے مشکل وقت میں ہمارے ساتھ ہو۔ دُکھ سُکھ بانٹے۔ دُکھ سُکھ سُنے اور راستہ دِکھائے اور حاجی صاحب نے ہمیشہ اُن کی فیملی اور گھر کو اپنے گھر جیسی اہمیت دی تھی اور آج دونوں بچے اُنہیں اپنے باپ کی طرح سمجھتے تھے۔
’’جاتے ہوئے سامعہ کو میرے پاس بھیج دینا۔ وہ دو دِن سے میرے پاس نہیں آئی۔‘‘
’’جی! اچھا خالو جان! آپ آرام کریں۔ وہ ابھی خالہ جان کے پاس ہے۔ میں اُس سے کہہ دیتی ہوں۔‘‘ دونوں بہن بھائی اُن کے کمرے سے نکل کرصحن میں آگئے۔
کبیر علی نے کچھ سوچ کر ثنا سے کہا:
’’جاؤ تم سامعہ کو بُلا کر لاؤ۔ میں سا معہ سے کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
تھوڑی دیر میں ہی سامعہ اُن کے پاس تھی۔ انہوں نے اپنے پاس ہی تخت پر بیٹھنے کا اِشارہ کیا۔
’’بھائی! آپ نے بُلایا تھا۔‘‘ سامعہ نے پوچھا۔
’’ہاں سامعہ! خالو جان تمہیں یاد کر رہے ہیں۔‘‘ باپ کے ذکر پر سامعہ کے ہونٹوں پر ایک تلخ سی مُسکراہٹ رینگ گئی، جو کبیر علی کی نظروں سے پوشیدہ نہ رہ سکی۔
’’کبیر بھائی! آپ کو پتا ہے میں اب تک اُن کے پاس نہیں گئی اور نہ ہی اُن سے کوئی بات کی۔ شاید میں اُن سے بات کرنا ہی نہیں چاہتی۔‘‘ وہ قدرے دھیمے، مگر زہریلے اَنداز میں بولی۔
’’سامعہ! کیسی باتیں کر رہی ہو…؟ وہ باپ ہیں تمہارے۔‘‘ کبیر علی نے اُس کے لہجے کو دیکھتے ہوئے ڈانٹا۔
’’باپ ایسے ہوتے ہیں بھائی!… جو اپنی اولاد کو بددعا دیں۔ اُنہیں اُٹھتے بیٹھتے کوسیں۔ اُن کے مرنے کی دُعا ئیں کریں۔‘‘ وہ رو پڑی۔
’’دیکھو سامعہ! کبھی کبھی ہم کسی اور ہی کیفیت میں ایسی بات کر جاتے ہیں۔ اِس کا یہ مطلب تو نہیں کہ وہ دِل سے اپنی اولاد کے مرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔‘‘ ثنا نے بھی سامعہ کو سمجھایا۔
’’ثنا! تمہیں پتا ہے کل اماں بھی کہہ رہی تھیں کہ تم اپنے باپ کے پاس مت جانا۔ ورنہ وہ تمہیں بھی بددعا دے کر ما ر دیں گے۔‘‘ وہ وحشت زدہ انداز میں بول رہی تھی۔
’’مجھے بہت ڈرلگنے لگا ہے ابا سے۔ بچپن سے اب تک انہوں نے کبھی ہم دونوں سے پیار سے بات نہ کی۔ آج اُن کے اندر کی تلخی کا زہر اُن کا بیٹا کھا گیا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ پُھوٹ پُھوٹ کر رو پڑی۔
’’دیکھو سامعہ! اِس گھر میں اگر کوئی خود کو سنبھال کر اب گھر کا بار اُٹھا سکتا ہے تو وہ صرف تم ہو۔ اگر تم بھی ایسی باتیں کرو گی تو پھرسوچو اماں کا کیا ہوگا۔‘‘
’’اب اماں کا کیا ہونا ہے کبیر بھائی! وہ تو نہ زندہ ہیں نہ مردہ… جوان بیٹے کی لاش دیکھنے والی ماں کسی قابل نہیں رہتی بھائی! مگر میں سچ کہہ رہی ہوں ظفر کے بعد میں ابا کو کبھی معاف نہیں کر پاؤں گی۔‘‘
’’ایسا مشیت اِیزدی میں لکھا تھا کہ ظفر کی موت روڈ ایکسی ڈنٹ سے ہو۔ ایسا اللہ کی طر ف سے تھا۔ اِس کا سارا بار تم خالو جان پر نہیں ڈال سکتیں۔‘‘ کبیر علی کو بہت بُرا لگا کہ وہ اپنے باپ کے بارے میں اِس طرح کی باتیں کر رہی تھی۔ اُن کے لہجے میں تھوڑی تلخی سی اُبھری۔
’’یہ سچ ہے کہ وہ ہم دونوں کے باپ ہیں، لیکن کیا کروں اِن کا نوں نے ایک باپ کو جوان بیٹے کی موت کی دُعا کرتے سُنا ہے۔ کھانا پینا، اوڑھنا تو ایک نوکر کو بھی دے دیتے ہیں لوگ، وہ تو اُن کا سگا بیٹا تھا۔ کیا قصور تھا میرے بھائی کا، جو بچپن سے ابا نے ہمیں کبھی پیار سے نہیں بُلایا۔ پڑھاتے وقت جب ہاتھ کی دونوں اُنگلیوں کے درمیان پنسل رکھ کر دباتے تومیرا اور اماں کا دِل اُس کی چیخوں سے دہل جاتا، لیکن ہم کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ ذرا ذرا سی بات پر اُسے لکڑی سے دُھنک کر رکھ دیتے۔ آہستہ آہستہ اُس نے باہر پناہ ڈھونڈ لی۔ بھائی آپ دیکھیں باہر جا کر میرا بھائی کہیں کھو گیا۔ واپس نہیں آیا۔ ماں باپ کیوں نہیں سوچتے کہ اُن کے بچے گھر کی پُرسکون فضا کو چھوڑ کر باہر غیروں میں کیوں خوش رہتے ہیں…؟ کیوں کہ اُن سب کے ذمہ دار وہ خود ہوتے ہیں۔ ہر وقت کی ڈانٹ پھٹکار بچوں کو گھر اور سگے ماں باپ سے دُور لے جاتی ہے… کبھی کبھی دُنیا سے بھی دُور… بھائی! ابھی اُس کے جانے کے دِن نہیں تھے۔ ابھی تو اُس کے سہرے کے پُھول کِھلنے تھے۔ ابا نے ایسی بددعا دی کہ اللہ نے اُن سے یہ نعمت چھین لی۔ اگر ہم نعمتوں کی قدر نہیں کرتے تو ایسے ہی ہم سے نعمتیں چھین لی جاتی ہیں۔ بعد میں آپ بیٹھ کر روتے رہیں۔ کیا فائدہ۔‘‘ وہ بہت بے بسی سے بول رہی تھی۔ کبیر علی کو پہلی بار وہ ایک ذمہ دار اور سوجھ بوجھ رکھنے والی لڑکی کی صورت میں نظر آئی، کیوں کہ غلط تو وہ بھی نہیں تھی اور جو نقصان اِس گھر کا ہو چکا تھا۔ اِس کے بعد وہ یہ سب کہنے میں حق بہ جانب تھی۔ دِل کا بوجھ ہلکا کرکے وہ آنکھوں میں آئے آنسو پونچھنے لگی تو ثنا نے آگے بڑھ کر اُس کو گلے سے لگالیا۔
’’تم اپنی جگہ بالکل ٹھیک ہو، مگر بھائی کا مطلب ہے کہ اب اِن باتوں سے کیا فائدہ…؟ اِس طرح تم خالاکو بھی دُکھ دو گی۔ اب تمہیں ہی اِس گھر کو سنبھالنا ہے۔ ساتھ ہی خالا خالو دونوں کو بھی… جو ہوا بُھول جاؤ اور صبر کرو۔‘‘ صبر کی بات پر اُس نے ایک تیز کٹیلی نظر ثنا پر ڈالی اور بولی۔
’’سُنو! دو دِن پہلے میں بہت لا اُبالی اور ناسمجھ سی تھی، لیکن راتوں رات قدرت نے مجھے اتنا سمجھ دار بنا دیا ہے کہ کم از کم اپنی ذات سے کسی کو دُکھ تو نہیں دوں گی، مگر کوئی یہ چاہے کہ میں اُسے پہلے کی طرح اِحترام دوں تو شاید یہ ممکن نہیں۔‘‘ ثنا نے کچھ کہنا چاہا تو پاس کھڑے کبیر علی نے اُس کا کندھا دبا دیا۔ وہ اُس وقت سامعہ کی ساری کیفیت سمجھ رہے تھے اور اُس وقت اُس سے مزید بحث کرنا بالکل مناسب نہ تھا۔
’’ثنا! چلو شام ہو رہی ہے… اور سامعہ تم فکر مت کرنا۔ اماں یہیں ہیں، اگر کوئی پریشانی کی بات ہو تو تم فوراً مجھے فون کرلینا۔‘‘
’’شکریہ بھائی!… میں کوشش کروں گی کہ اپنے روّیے میں لچک پیدا کر سکوں اور ابا سے بات کر سکوں۔ ورنہ دِل تو بہت سخت ہو گیا ہے۔ بالکل پتھر… پہلے اُن کی تلخ باتیں دِل کو دُکھ سے بھر دیتی تھیں، مگر اب اُن کی تلخ باتیں خوف سے رونگٹے کھڑے کر دیں گی کہ نہ جانے کس بات پر باپ نے ناراض ہو کر بددعا دے دی تو بس۔‘‘ و ہ بہت تلخ ہو رہی تھی۔ اُس کے دِل میں باپ کی طرف سے خوف بیٹھ چکا تھا، جو کہ شاید فطری تھا۔ یہ حادثہ بھی کوئی معمولی تو نہ تھا۔ کبیر علی نے تاسف سے اُس کی طرف دیکھا۔ ایک لمحے کو دِل چاہا کہ اُس کے شانے پر ہاتھ رکھ کر یقین دِلائیں۔
’’لڑکی! پریشان مت ہو۔ بس چند دِن اور اِنتظار کر لو۔ میں اپنی محبت سے تمہارے سارے زخم بھر دوں گا۔ ہر ایسی یاد، جس پر تمہاری خوب صورت آنکھیں بھر آتی ہیں۔ تمہارے ماضی سے مٹا دوں گا۔‘‘ لیکن دِل پر کب کس کا اِختیار تھا۔ وہ نظر چُراتے ہوئے بائیک کی طرف بڑھ گئے۔ ثنا نے روتی ہوئی سامعہ کو ایک بار پھر گلے سے لگا یا اور کہا:
’’اپنا اور سب کا بہت سارا خیال رکھنا۔ یہ گھر اب اللہ کے بعد تمہارے سہارے ہے۔‘‘ تو سامعہ نے خاموشی سے صرف سر ہلا دیا اور واپس ظفر کے کمرے کی طرف مُڑگئی۔ ظفر کے بعد اماں نے ظفر کے کمرے میں ہی ڈیرہ ڈال لیا تھا۔ ابا کے پاس جانے کا سوچ کر ایک عجیب سی وحشت سی ہو رہی تھی۔ ابا سے بات کرنے کی ہمت نہیں تھی۔ رات کا کھانا بھی ثنا نے اُن کو دیا تھا اور کبیر نے زبر دستی کِھلایا۔ اماں اور خالا ایک ہی پلنگ پر خاموشی سے لیٹی ہوئی تھیں۔ دونوں کی آنکھیں بند تھیں۔ شاید سو رہی تھیں۔ وہ اُنہیں سوتا چھوڑ کر خاموشی سے اپنے کمرے کی طرف آگئی۔ جہاں خاموشی کا راج تھا۔ اب یہ خاموشی شاید اِس گھر کا نصیب بن چکی تھی۔ ظفر جتنی دیر گھر میں رہتا، کچھ نہ کچھ شُغل میلہ لگائے رکھتا۔ اے میرے معبود! میرے بھائی کی سزا اتنی بڑی تو نہیں تھی کہ تو نے اُسے ہم سب سے چھین لیا۔ ایکسی ڈنٹ کے بعد ظفر کی لاش پر سر کے علاوہ کئی جگہ ٹانکے لگے ہوئے تھے۔ جن سے اُس کے حادثے کی شدّت کا اَندازہ ہوتا تھا۔ ظفر کا خیال آتے ہی اُس نے اپنا دِل پکڑ لیا۔ میرا پیارا بھائی اب اِس دُنیا میں نہیں ہے۔ ابا جی! آپ کی بددعائیں اُس کی جان لے گئیں۔
’’باجی! بس ایک بار کچھ کام شروع کر دوں۔ دیکھنا تمہیں اور اماں کو اِس گھر سے بہت دُور لے جاؤں گا۔ جہاں نہ ابا جی ہوں گے اور نہ اُن کی ڈانٹ…‘‘ ظفر نے اُس کے کان میں آکر سرگوشی کی۔ تو وہ چونک گئی۔ اُس نے اِدھر اُدھر دیکھا۔ ظفر کہیں نہ تھا۔ آنسو اُس کی آنکھوں سے نکلے۔
’’ظفر! تم تو خود اتنی دُور چلے گئے۔ اب مجھے اور اماں کو کیسے لے جاؤ گے…؟‘‘ اُس نے تھکے تھکے انداز میں بستر پر بیٹھے ہوئے سوچا اور پھرآگے کی زندگی کا خیال اُس کے آگے ایک آسیب کی طرح آکر کھڑا ہو گیا۔ اماں کو ظفر سے بہت آس تھی۔ وہ سمجھتی تھیں کہ لڑکپن ہے۔ اِس عمر سے سمجھ داری کی طر ف جائے گا تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔
’’ماں اور آس شاید ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔ اولاد کیسی بھی ہو اُس کے سُدھرنے کی آس ماں کے دِل میں ہمیشہ موجزن رہتی ہے۔ بالکل خدا کی مانند۔ بُرے سے بُرے بندے کے لیے بھی اُس نے اپنے دَر کبھی بند نہیں کیے۔ بندے کے لیے توبہ کا دروازہ ہمیشہ کُھلا رہتا ہے۔ اِسی طرح ماں کے دِل کا دروازہ ہمیشہ اپنی اولا دکی اچھائی کی آس میں کُھلا ہی رہتا ہے۔ کبھی بند نہیں ہوتا۔ اولاد کتنی بھی بدتمیز ی کر لے۔ بگڑ جائے۔۔ مگر اُس کے لب پر کبھی شکایت نہیں آتی۔ وہ اُس کے کسی نہ کسی عمر میں سُدھر جانے کی آس لیے لبوں پر ہمیشہ دُعاؤں کا پرنالہ کُھلا ہی رکھتی ہے۔
٭……٭……٭……٭
بابا آفس آچکے تھے اور اُس کے بارے میں کافی بار پوچھ بھی چکے تھے۔ وہ اُن کے آفس کی طرف بڑھ گیا اور پھر اُن کو ساری صورتِ حال بتائی تو وہ خاموش ہوئے۔ ورنہ وہ اُس کی غیر ذمہ داری پر ایک لیکچر دینے کے چکر میں تھے۔ اُن کے پاس سے اُٹھ کر آیا۔ ایک آدھ فائلز چیک کیں۔ تب ہی خرم کا فون آ گیا۔ اُس کا لنچ کا موڈ تھا۔ وہ بابا کو خرم کے بارے میں بتا کر پاس ہی ایک ریسٹورنٹ آگیا۔ جہاں خرم اُس کا ہی اِنتظار کر رہا تھا۔ خرم دو دِن ہوئے لندن سے واپس آیا تھا۔ وہ بچپن سے اُس کا ایسا دوست تھا، جس سے عمر آفندی کی کوئی اچھائی یا بُرائی چُھپی ہوئی نہ تھی۔ جب سے پڑھائی کے بعد لندن شفٹ ہوا تھا، عمر نے ایک اچھا دوست کھو دیا۔
’’ہاں بھئی شہزادے! کیا چل رہا ہے آج کل…؟‘‘ عمر نے اپنے اور اُس کے لیے اسٹیکس آرڈر کیے۔ آرڈر آنے تک دونوں میں خاموشی رہی۔ یہ کم از کم خرم جیسے باتونی کے بس میں تو تھا نہیں۔ اِس لیے اُس نے پوچھا۔
’’کچھ نہیں یار! بس یونہی کچھ آفس کی پرابلمز ہیں۔‘‘ عمر نے بات بنائی۔
’’میرا یار چُپ رہنے والا تو نہیں ہے۔ اصل وجہ کیا ہے بتا دے۔ ورنہ ابھی کھانا کھائے بغیر چلا جاؤں گا۔‘‘ اُس نے دھمکی دی۔ عمر اُس کی عادت سے بہ خوبی واقف تھا اور وہ کسی طور اُس کی ناراضی مول نہیں لے سکتا تھا۔
’’اَرے نہیں یار! تو بیٹھ جا۔ بس یونہی…‘‘ اُس نے اُٹھتے ہوئے خرم کا ہاتھ پکڑ کر دوبارہ بٹھایا۔
’’کسی لڑکی کا چکر تو نہیں ہو سکتا، کیوں کہ میرا یار تو جس پر نظر رکھتا ہے۔ وہ تمام عمر اس کی پابند ہو جاتی ہے۔‘‘
’’ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی نظر چوک بھی جاتی ہے۔‘‘ عمر نے منہ بناتے ہوئے کہا تو خرم چونک گیا۔ جتنا وہ اپنے دوست کو جانتا تھا اُسے معلوم تھا کہ لڑکیاں اُس کی کمزوری ہیں اور وہ ہر لڑکی سے منٹوں میں دوستی بنانے کی گیدڑ سنگھی رکھتا ہے۔
’’یار خرم! پہلی بار کسی لڑکی نے تیرے دوست کو دوستی کے قابل نہیں سمجھا۔ میرے اتنے فونز کے باوجود مجھے بلاک کر دیا۔ مجھے ایسی سیچوایشن کا پہلی بار سامنا کرنا پڑا ہے تو دِل کرتا ہے کہ……‘‘ وہ بات کرتے کرتے رُکا، تو خرم کی ہنسی نکل گئی۔
’’میری تکلیف پر تو ہنس رہا ہے…؟‘‘ اُسے خرم پر غُصّہ آگیا۔
’’اَرے یار! مجھے یقین نہیں آرہا کہ تیرے ساتھ ایسا ہوا ہے۔ چل جلدی سے سُنا ساری رام کہانی۔‘‘ اب خرم کا تجسّس کئی گنا بڑھ چکا تھا کہ اُس کے ہیرو دوست کو کسی لڑکی کی طرف سے ایسی صورتِ حال کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ پھر پوری کہانی سُن کر وہ بھی سوچ میں پڑ گیا۔
’’سیدھی سی بات ہے، تیری کزن کی وجہ سے وہ تجھ سے کترا رہی ہے بس۔ یہ مڈل کلاس لڑکیاں شروع میں اِسی طرح کے ناز و انداز دِکھاتی ہیں۔ بڑی ستی ساوتری بنتی ہیں، پھرآہستہ آہستہ لائن پر آجاتی ہیں۔‘‘ خرم نے اُس کی شکل دیکھ کر اُسے سمجھایا
’’ہاں! یہ بات تو میرے دِل کو بھی لگتی ہے کہ ضرور سیما نے کچھ کہا ہوگا… مگر……‘‘ اُس نے سوچتے ہوئے کہا۔
’’اگر مگر چھوڑ… ایک بار پھر ٹرائی کر۔فون ملا اُسے۔ شاید اُس کا دِل موم ہو جائے۔‘‘ خرم نے اُس کی بات کاٹی۔
’’نہیں یار! ابھی نہیں۔‘‘ عمر نے نفی میں سر ہلایا۔
’’ابھی کیوں نہیں…؟‘‘ خرم نے حیرانی سے پوچھا۔
’’ابھی اُس کے بھائی کی ڈیتھ ہوئی ہے۔ مناسب نہیں لگتا۔‘‘
’’اوہ! ویسے یہی مناسب وقت ہے۔ اُس کے موم سے دِل کو مزید موم کرنے کا۔‘‘
’’مطلب…؟‘‘ اُس نے حیرانی سے خرم کی بات پر اُس کی طرف دیکھا۔
’’مطلب یہ کہ بھائی کی تعزیت کے بہانے ہی فون کر اور اُسے اپنی سچائی کا یقین دِلا۔ آسان سی بات ہے۔‘‘
’’یہ آسان سی بات نہیں ہے۔ وہ میرا نمبر بلاک کرکے بیٹھی ہے اور تو اپنی کہانیاں سُنا رہا ہے۔‘‘ وہ جھنجھلا کر رہ گیا۔
’’اوہ یار! جانے دے تیرے پاس کیا ایک ہی کانٹیکٹ نمبر ہے۔ مجھے پتا ہے تو کتنا معصوم ہے…؟‘‘ خرم نے اُس کا مذاق اُڑایا۔
’’آج کے دَور میں معصوم صرف وہی ہوتا ہے جس کا نمبر دس بیس سال پُرانا ہو اور ایک ہی ہو۔ ورنہ لڑکیاں پٹانے کے لیے تو لوگ لڑکی بدلنے سے پہلے نمبر بدلتے ہیں۔‘‘ عمر سوچ میں پڑگیا۔
اُس کو یہ خیال پہلے کیوں نہیں آیا۔ وہ دُوسرے نمبر سے بھی تو اُسے کال کر سکتا تھا۔
’’دیکھ یار! اِس وقت بات کسی لڑکی پر دِل آنے کی نہیں۔ میرے یار کی عزت کی ہے… اور جب عزت پر بات آجائے تو مرد کی ساری اگر مگر پانی بھرنے چلی جاتی ہے۔ یہ ستی ساوتری مڈل کلاس لڑکیاں بڑی تیز ہوتی ہیں۔ جب تک مرد کی ناک سے لکیریں نہ نکلوا دیں اور اپنے جھوٹے بھرم نہ دِکھائیں۔ قابو نہیں آتیں۔‘‘ اُس نے سوچ میں پڑے عمر کو دیکھ کر سمجھایا۔ وہ جانتا تھا کہ کوئی چیز اگر عمر کو پسند آجائے تو اُسے حاصل کیے بغیر وہ رہ نہیں سکتا۔ میٹرک سے وہ عمر کے ساتھ تھا۔ سکول کے زمانے سے لڑکیاں اُس پر مرتی تھیں۔ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ لڑکیوں نے ہی اُسے خراب کیا تھا۔ بعض لڑکیوں کو بھی اپنی عزت اور ناموس کی کوئی پروا نہیں ہوتی۔ بس خوب صورت اور پیسے والا لڑکا دیکھا اور اُس پر عاشق۔ اِسی طرح کی سکول کی لڑکیوں نے عمر کا بھی دماغ خراب کر دیا تھا۔ وہ خود کو راجہ سمجھنے لگا تھا اور یہی حال آج تک تھا، لیکن لڑکی سے زیادہ دیر دوستی اُس کی سرشت نہ تھی۔ جب لڑکیاں شادی کا اِرادہ ظاہر کرتیں تو وہ فوراً اپنی راہ بدل لیتا۔ شادی اُس کی موجودہ پلاننگ میں کہیں نہیں تھی۔ پہلی بار کسی لڑکی نے اُس کی اَنا پرضرب لگائی تھی۔ ایسا پہلے کبھی نہ ہوا۔ اِس لیے عمر سے برداشت نہیں ہو رہا تھا۔ وہ اتنی جلدی ہار ماننے والا نہ تھا، لیکن خرم کی بات اُس کی سمجھ میں آگئی تھی۔ اتنی دیر میں دونوں کا کھانا آ گیا اور دونوں نے موضوع بدلنے میں ہی بہتری سمجھی۔ خرم جتنی دیر اُس کے ساتھ تھا۔ وہ یہی سوچتا رہا کہ اچھے دوست بھی قدرت کا اِنعام ہوتے ہیں۔ ہار نہیں ماننے دیتے۔
سامعہ سے دوبارہ بات کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی راہ تو نکالنا پڑے گی۔
٭……٭……٭……٭
حاجی صاحب بالکل خاموش سے ہو گئے تھے۔ اُنہیں اِحساس تھا کہ وہ اپنی کتنی قیمتی شے کھو چکے ہیں۔ اب اُنہیں اِحساس ہو رہا تھا کہ زبان سے نکلے لفظ گولی سے زیادہ تیزی سے اپنے مقام پر پہنچتے ہیں۔ پتا نہیں قبولیت کا کون سا لمحہ تھا جب اُن کے اپنے ہی لفظوں نے کسی چیز کی پرواہ کیے بغیر اُنہیں چھلنی کر دیا۔ اپنے ہی لفظوں سے آج وہ خود چھلنی ہو چکے تھے۔ اِس بیٹے کو کھو کر جسے انہوں نے بہت منتوں اور مرادوں سے پایا تھا، لیکن وہ ایسا کبھی نہیں چاہتے تھے کہ ظفر بگڑ جائے۔ وہ ہمیشہ خوف زدہ رہتے تھے کہ اِس ماحول میں اُن کا بیٹا بگڑ بھی سکتا ہے۔ اِسی لیے انہوں نے ہمیشہ اپنی اولاد سے سختی کی، لیکن وہ یہ بھول گئے کہ مالی کو پودا کبھی کبھی خون سے سینچنا پڑتا ہے۔ پیار اور محبت سے دیکھ بھال کرنی پڑتی ہے۔ تب پودے میں پھل اور پُھول نمودار ہوتے ہیں۔ موسم کی گرمی، تپش اور تمازت پودے کو کُملھا کر رکھ دیتی ہے۔ آج اُن کی اولاد صرف اُن کی سختی کی وجہ سے اُن سے دُور ہوگئی۔ وہ ہمہ وقت اِسی پشیمانی میں اللہ سے گڑگڑا کرظفر کی بخشش کی دُعا کے ساتھ اپنی بخشش کی بھی دُعا کرتے، کیوں کہ اُنہیں محسوس ہو رہا تھا، بلکہ مکمل خیال جڑ پکڑ چکا تھا کہ وہ بیٹے کی نعمت جیسی آزمائش میں ناکام ہو چکے ہیں۔ اِسی لیے اللہ نے اُن سے بیٹے جیسی نعمت چھین لی۔ وہ سر جُھکائے اپنے کمرے میں رو رہے تھے کہ سلمیٰ بیگم اندر داخل ہوئیں۔ اُن کے ہاتھ میں ناشتے کی ٹرے تھی۔
’’بھائی جان! ناشتہ کر لیں۔‘‘ سلمیٰ بیگم نے چائے کی ٹرے سائیڈ ٹیبل پر رکھی اور کہا۔
’’ہاں ٹھیک ہے۔ رکھ دو۔ کیا تمہاری بہن ابھی نہیں اُٹھی…؟‘‘
’’بھائی جان! رات بھی ناہید کو سامعہ نے نیند کی گولی دے کر زبردستی سُلایا تھا۔ بس ظفر کو یاد کرکے روتی رہتی ہے۔ ابھی میں نے جگانا مناسب نہیں سمجھا۔ اپنا ناشتہ بنانے اُٹھی تھی تو آپ کا بھی بنا لیا۔ پتا ہے کہ آپ بھی فجر کے بعد ناشتہ کر لیتے ہیں۔ تھوڑی دیر ہو گئی۔‘‘
’’نہیں! نہیں!! کوئی بات نہیں۔ تم سامعہ کو سونے دو۔ میں تو بس یونہی پوچھ رہا تھا۔‘‘ انہوں نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔
’’چلیں! آپ ناشتہ کر لیں۔ کسی اور چیز کی ضرورت ہو تو مجھے بتا دیجئے گا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ کمرے سے جانے لگیں۔
’’سُنو…!‘‘
’’جی بھائی جان!…‘‘ انہوں نے پلٹ کر پوچھا۔
’’ناہید اُٹھ جائے تو اُسے میرے پاس بھیج دینا۔ مجھے اُس سے معافی مانگنی ہے۔‘‘ وہ ایک ٹوٹے ہوئے اِنسان لگ رہے تھے۔ اُن کی اِس کیفیت سے وہ بہ خوبی واقف تھیں۔
’’کوئی باپ اپنے بیٹے کو دِل سے بد دعا نہیں دیتا سلمیٰ۔ مگر بُرا وقت تھا میں نے جو کہا وہ پورا ہوگیا۔ اب اگر میں ساری عمر بھی اِس بات پر پچھتاؤں تو شاید اِس کا ازالہ نہ ہو سکے۔ آج چوتھا دِن ہے ظفر کو گئے ہوئے سلمیٰ! میری بیوی اور بیٹی نے مجھ سے بات تک نہیں کی۔‘‘
’’بھائی جان! آپ ناہید کی حالت دیکھ رہے ہیں۔ وہ بالکل ہوش میں نہیں۔ جس وقت ہوش میں آتی ہے۔ بس روئے جاتی ہے، لیکن آپ فکر مت کریں میں سامعہ کو سمجھاؤں گی کہ وہ آ پ کے پاس آئے۔‘‘ انہوں نے بہت تکلیف سے اپنے بہنوئی کو دیکھا۔ اُس وقت اُن کے سامنے کتنا ٹوٹا ہوا شخص تھا۔ یہ وہ شخص تھا جس نے کسی لمحے اُن کی بہن کو سکون کا سانس نہیں لینے دیا۔ پھر بچوں سے بھی بُرا سلوک کسی سے پوشیدہ نہ تھا۔ آج یہ شخص کتنا ٹوٹا پھوٹا اور اجڑا سا لگ رہا تھا۔ اولاد جیسی نعمت ہر شخص کی قسمت میں نہیں ہوتی، جس کی قسمت میں یہ نعمت دی جائے۔ اگر وہ اُسے بوجھ سمجھے تو چھین بھی لی جاتی ہے۔ آج وہ اپنے سامنے ایک ایسے ہی فرعون کو ٹوٹتا ہوا دیکھ رہی تھیں۔ اُنہیں اپنے بہنوئی پر بہت ترس بھی آیا، لیکن کیا کا جا سکتا تھا۔ سوائے اُس وقت کے اِنتظار کے، جب یہ زخم خود ہی پوری طرح سے بھر جائے مگر کچھ گھاؤ جیتے جی کبھی نہیں بھرتے۔ صرف موت ہی اُن کے رخموں پر مرہم رکھتی ہے۔ وہ خاموشی سے اُن کے کمرے سے نکل آئیں۔ سامعہ اُٹھ چکی تھی اور اب ماں کو ناشتہ کروا رہی تھی۔
’’خالا جان! آپ نے ابا کو ناشتہ دے دیا۔‘‘ سامعہ نے پوچھا۔
’’ہاں! اور وہ تمہارا پوچھ رہے تھے۔‘‘
’’ہاں! اب اُن کی بددعاؤں کا اگلا شکار میں ہی تو ہوں۔‘‘ اُس نے تاسف سے ہلکی سی بُڑبڑاہٹ میں کہا جو کہ خالا سے پوشیدہ نہ رہ سکی۔
’’بُری بات ہے بیٹا! تمہارا باپ ہے۔ پھر اُس کی بھی تو اولاد گئی ہے۔ تم دونوں ماں بیٹی ایک دوسرے سے اپنا غم بانٹ لو گی۔ اُن کا غم کون بانٹے گا۔‘‘ انہوں نے اُسے نرمی سے سمجھایا۔
’’خالا! مجھے ابا کے پاس جاتے ہوئے بہت ڈر لگتا ہے۔ ایک خوف سا بیٹھ گیا ہے کہ اگر انہوں نے میری بھی کسی بات سے ناراض ہو کر……‘‘ اُس نے عجیب سی نظروں سے اپنی ماں کو دیکھا جو خوف زدہ ہو کر اُس سے لپٹ گئیں تھیں۔
’’نہیں! تم مت جانا۔ یہیں رہو میرے پاس…‘‘ ناہید بیگم نے اُسے سختی سے دبوچ لیا۔
’’اَرے ناہید! وہ اِس کا باپ ہے اور تمہارا شوہر۔ نکل آؤ اِس خیال سے کہ اُن کی وجہ سے ظفر کی موت ہوئی ہے۔ ظفر کا وقت آ گیا تھا۔ وہ چلا گیا۔ اُس کے لیے بددعا ایک بہانہ بن گئی۔ تمہیں اُسی زندگی میں واپس آنا ہوگا، جس میں تم پہلے زندہ تھیں۔ وہ بہت شرمندہ ہیں۔‘‘ سلمیٰ بیگم نے پاس بیٹھتے ہوئے ناہید بیگم کا سر اپنے سینے سے لگایا اور اُن کی پُشت پر ہاتھ پھیرنے لگیں۔ ’’کیسے آؤں اِس زندگی میں واپس… جس نے مجھ سے میری زندگی ہی چھین لی۔ آپا کیسے…؟ کتنا کہا تھا حاجی صاحب سے کہ اولاد کے لیے بد فال منہ سے نہ نکالیں، لیکن حاجی صاحب نے میری ایک نہ سُنی۔ہائے! کاش وہ ظفر کے بجائے مجھے بددعا دے دیتے۔ میں مر جاتی اپنے بیٹے کی جگہ۔ ابھی اُس نے اپنی زندگی کے سُکھ دیکھنے تھے۔ ابھی اُس نے دیکھا ہی کیا تھا…‘‘ وہ دوبارہ اُسی تکلیف میں جانے لگیں۔ آنسو اُن کے رخسار پر بھل بھل بہ رہے تھے۔
’’خدا کے لیے اماں چُپ ہو جائیں۔ اللہ کے واسطے اب آپ اپنی موت کی دُعا مت مانگیں۔ ہماری دُعائیں تو قبول نہیں ہوتیں۔ بد دعائیں فوراً قبول ہو جاتی ہیں۔ چُپ ہو جائیں۔‘‘ سامعہ نے بھی روتے ہوئے اُن کے آگے ہاتھ جوڑے۔ سامعہ کو روتا دیکھ سلمیٰ بیگم بھی رونے لگیں۔
’’ہائے! کیا وقت آگیا تھا اُن کی بہن پر۔ ایسی تکلیف اللہ کسی دُشمن کو بھی نہ دے۔‘‘
’’خالہ جان! آپ ٹھیک کہتی ہیں۔ ابا جی کو بھی ہماری ضرورت ہے، لیکن ابھی اماں پر دباؤ مت ڈالیے گا۔ وہ جس وقت خود کو بہتر سمجھیں گی۔ اُن سے بات کرلیں گی، مگر آپ فکر مت کریں میں اُن کا خیال رکھوں گی۔‘‘
’’سکھی رہو میری بچی! تم نے میرا مان رکھ لیا۔ اللہ تمہیں اِس کا بہت بڑ ااجر دے۔ اب یہ گھر اور اپنے ماں باپ دونوں کو تم نے ہی سنبھالنا ہے اور ہو سکے تو اپنے باپ کو معاف کر دینا۔ اُنہیں تمہاری ضرورت ہے۔ وہ بہت شرمندہ اور ٹوٹے ہوئے ہیں۔‘‘
’’خالا جان! آپ فکر مت کریں۔ میں اپنی پوری کوشش کروں گی۔‘‘ اُس نے اپنے آنسو پونچھے اور بولی۔ سلمیٰ بیگم نے اُس کے ماتھے پر پیار کیا تو اُس نے ٹھنڈی سانس لی۔ زندگی تو گھسیٹنا پڑتی ہے۔ کبھی اِس کے پاؤں میں خوب صورت، حسین اور چمک دار جوتا آ جاتا ہے اور کبھی ٹوٹا پھوٹا۔ دونوں صورتوں میں زندگی کے پاؤں کی طرف نہیں دیکھا جاتا۔ بس محسوس کیا جاتا کہ ایک اچھا یا بوسیدہ جوتا پہنے دیکھ کر لوگ ہمارے بارے میں کیا سوچ رہے ہیں۔ لوگوں کو ہماری تکلیف اور خوشی کا اندازہ اُس وقت تک نہیں ہوتا، جب تک وہ ہمارے جوتے میں اپنا پاؤں نہ ڈالیں۔ وہ بھی خالا کی باتوں کو سُن کر تلخی سے مُسکرا دی۔ کیوں کہ یہ غم تو اُس کے اپنے گھر کا تھا اور اُسے یہاں کے مکینوں نے ہی سہنا تھا۔ دوسرے اِس تکلیف کو اِس طرح محسوس نہیں کر سکتے۔ سو اُس نے خالا سے بحث کرنا مناسب نہ سمجھا اور دِل میں تہیہ کرلیا کہ ابا کا ہر کام کرے گی، لیکن خاموشی سے۔ بنا کچھ بولے۔بنا کچھ کہے۔
’’سامعہ بیٹا! تم دوپہر کا کھانا مت بنانا۔ ثنا دو بجے تک کبیر کے ساتھ آئے گی کھانا لے کر۔‘‘
’’اَرے خالا! آپ نے اُن دونوں کو کیوں تکلیف دی۔ تین بندوں کا کھانا تھا۔ میں بنا لیتی۔‘‘ اُسے عجیب سا محسوس ہوا۔
’’میت والے گھر میں دس دِن تک کھانا نہیں بنایا جاتا۔ رشتہ دار وغیرہ اِسی لیے تو ہوتے ہیں کہ اِن موقعوں پر خیال رکھیں۔‘‘ سلمیٰ بیگم نے اُسے سمجھایا۔
’’خالا! آج کل کون اِن باتوں کا خیال کرتا ہے…؟‘‘
’’ہاں! کرتا تو نہیں ہے، لیکن کرنا چاہیے۔ میں نے تو ایسے گھر بھی دیکھے ہیں جہاں جنازہ اُٹھتے ہی گھر کی عورتیں دستر خوان بچھوا کر تعزیت کے لیے آئے ہوئے لوگوں کو کھانا کِھلا رہی ہوتی ہیں۔‘‘ سلمیٰ بیگم نے تاسف سے کہا۔
’’اچھے رشتہ داروں کی پہچان اِسی موقع پر کی جاتی ہے کہ کون اِس دُکھ بھری گھڑی میں ہمارا ساتھ دے رہا ہے۔‘‘
’’خالا! آپ ماموں سے ملی تھیں۔ دیکھا تھا کتنے اوپری انداز میں وہ اماں کے گلے لگے تھے۔ ابا سے تو انہوں نے ڈھنگ سے تعزیت کرنا بھی ضروری نہ سمجھا۔‘‘ اُسے غُصّہ آرہا تھا اپنے ماموں پر، جو بیوی کے اتنے دباؤ میں تھے کہ بہن کے اتنے بڑے غم میں اُن سے دِل سے تعزیت بھی نہ کر سکے۔ ذرا دیر کے لیے ٹھہرے اور جنازہ اُٹھتے ہی روانہ ہو گئے۔ اُن کا کوئی بچہ ساتھ نہیں آیا تھا۔ ممانی جان بھی شاید دُنیا باتیں نہ بنائے اِسی خیال سے آگئی تھیں۔
’’ہاں بیٹا! کیا کر سکتے ہیں…؟ تمہارے ماموں ہمیشہ سے ایسے نہیں تھے۔ بس شادی کے بعد انہوں نے اپنا چولا اُتار کر سُسرالی چولا پہن لیا۔ خود غرضی اور لا تعلقیت کا چولا۔ بہنوں کے کیا حقوق ہیں…؟ سب بُھول گئے۔‘‘ سلمیٰ بیگم نے تاسف سے ٹھنڈی سانس لی اور بولیں۔
’’خالا! قطع رحمی کرنے والوں کو ذرا اِحساس نہیں ہوتا کہ اُن کے رابطہ توڑنے سے خونی رشتے کتنے تکلیف میں آجاتے ہیں۔‘‘ آج سلمیٰ بیگم کو اپنی بھانجی پر بڑا پیار آ رہا تھا۔ کتنی سمجھ دار ہوگئی تھی اِن دِنوں میں۔ اُسے شاید عمر بھر کی عقل مل چکی تھی۔ ورنہ اِس سے پہلے وہ اُسے بہت لاپروا، جھلّی اور اپنے آپ میں مگن سی لگتی۔ جسے اِردگرد ہونے والے کسی واقعہ سے کوئی غرض نہیں، لیکن آج وہ ایک اور ہی سامعہ کے روپ میں اُن کے سامنے تھی۔ اُنہیں خوشی ہوئی کہ اُس نے ماموں کے روّیے کا اِحساس کیا۔ ورنہ پہلے تو ہمیشہ باپ کو ماموں سے لڑائی کا ذمہ دار سمجھتی اور باپ کو ہی قصوروار ٹھہراتی۔ وہ مُسکرا کر بھانجی کو دیکھنے لگیں۔
٭……٭……٭……٭
سامعہ کو معلوم تھا کہ ابا جی اِس وقت آرام کر رہے ہوں گے۔ وہ دبے پاؤں اُن کے پاس گئی اور پاس ٹیبل پر رکھی ٹرے اُٹھا کر واپس مُڑی۔ اُسی وقت حاجی صاحب نے اُسے آواز دی۔
’’تمہاری ماں اُٹھ گئی ہو تو اُسے بھیج دو سامعہ! میں نے اُس سے ضروری بات کرنی ہے۔‘‘
’’ابا جی! اگر آپ کو کچھ چاہیے تو مجھے بتا دیں۔ میں لا کر دیتی ہوں ۔‘‘ وہ اِصرار کرتی ہوئی بولی۔
’’نہیں! اپنی ماں کو بھیجو۔ مجھے اُس سے بات کرنا ہے۔‘‘ وہ آنکھیں بند کیے بولے۔
’’ابا جی! اگر آپ اِس وقت اُن سے بات نہ کریں تو بہتر ہے۔ وہ دوائیوں کے اثر میں ہیں۔ ڈاکٹرز نے ذہن پر زور دینے کے لئے منع کیا ہے۔‘‘ وہ اتنا کہتے ہوئے بھی ڈر رہی تھی کہ شاید دوسری طرف سے کوئی سخت بات آ جائے، لیکن خلافِ توقع دوسری طرف سے خاموشی رہی تو اُس نے خوف زدہ نظروں سے آنکھیں موندے خاموش لیٹے باپ کی طرف دیکھا۔ کوئی اور موقع ہوتا تو شاید اِس کے ایسے جواب پر گھر میں شور مچ جاتا، لیکن حاجی صاحب واقعی بہت شرمندہ تھے۔ اندر ہی اندر گُھٹ رہے تھے۔ اِس وقت اُنہیں ناہید بیگم کے ساتھ کی شدید ضرورت محسوس ہو رہی تھی۔ وہ اُن سے شدید خفا تھیں۔
’’اچھا! ٹھیک ہے تم جاؤ… میں تھوڑا آرام کرنا چاہتا ہوں۔ جاتے ہوئے دروازہ بند کرتی جانا۔‘‘ انہوں نے آہستگی سے کہا تو وہ دروازہ بند کرکے باہر نکل آئی۔
٭……٭……٭……٭
عمر لنچ کے بعد وہ دوبارہ خرم کو اُس کے گھر ڈراپ کرکے آفس گیا تو بابا اُسی کا ہی اِنتظار کر رہے تھے۔ انہوں نے عمر کو بُلوا بھیجا۔
’’جی بابا! آپ نے بُلایا…؟‘‘ دروازہ ناک کرکے اُس نے اندر داخل ہوتے ہوئے پوچھا تو انہوں نے اُسے بیٹھنے کا اِشارہ کیا اور دوبارہ لیپ ٹاپ کی طرف متوجہ ہوگئے۔ تھوڑی دیر کے بعد فارغ ہو کر انہوں نے چشمہ ایک طرف رکھا اور پوری طرح عمر کی طرف متوجہ ہوگئے۔
’’ہاں! میں نے ایک گھنٹے پہلے بُلوایا تھا تو معلوم ہوا کہ تم ابھی تک واپس نہیں آئے۔‘‘
’’جی بابا! تھوڑی دیر ہو گئی۔ آپ بتائیے کوئی کام ہے…؟‘‘
’’کام تو کوئی نہیں۔ بس خوشی ہو رہی ہے کہ اب تم آفس ریگولر آنے لگے ہو۔ کوشش کرو کہ آہستہ آہستہ میرے سارے پراجیکٹس کی ذمہ داری اُٹھا لو۔‘‘ انہوں نے اگلی بات کے لئے تمہید باندھی۔
’’بابا! میں کوشش تو کررہا ہوں، لیکن آپ فکر مت کریں۔ اِس سال کے اِختتام تک کمپنی کے زیادہ تر پراجیکٹس میں آپ کے ساتھ ہی ہوں گا۔‘‘ اُس نے باپ کو مطمئن کیا۔ حالاں کہ وہ جانتا تھا باپ جتنا حوصلہ اُس میں نہیں۔ وہ اِس عمر میں بھی پوری تندہی سے بزنس کو بڑھا رہے تھے۔ وہ ایک سیلف میڈ اِنسان تھے، محنت کے عادی۔ وہ تھوڑی سی محنت کے بعد ہی دِلچسپی لوز کر جاتا تھا۔ یہی اِس جنریشن کا مسئلہ ہے۔ فوکس کرکے کسی کام کو نہیں کرنا۔ جس کام کا جلد فیڈ بیک نہ ملے، اُسے ادھورا چھوڑ کر دوسرے کاموں سے لگ جانا۔ عمر بھی اُن لوگوں میں سے ہی تھا۔
’’کیوں کہ اب میں چاہتا ہوں کہ تم کاروبار سنبھال لو تو جلد اَز جلد تمہاری شادی بھی کر دوں۔ انہوں نے اپنا مدعا بیان کیا تو عمر کی ہنسی نکل گئی جسے اُس نے دبانے اور چُھپانے کی کوشش بھی کی، لیکن ناکام رہا۔ جسے سُن کر آفندی صاحب کو غُصّہ آگیا۔
’’میں نے کوئی لطیفہ تو نہیں سُنایا۔ میں تمہاری عمر میں باپ بن چکا تھا اور تم ابھی تک ایسی ذمہ داریوں سے فارغ ہو۔‘‘
’’بابا وہ وقت اور تھا۔ یہ وقت اور ہے۔ اِس وقت مجھے اپنا مستقبل بنانے کے لیے محنت کی ضرورت ہے۔ آپ ڈھیر ساری ذمہ داریوں کی بات کر رہے ہیں۔ آپ کی جنریشن اُٹھا لیتی ہو گی یہ ذمہ داریاں، مگر مجھ میں اتنا حوصلہ نہیں۔ جب تک خود اپنے پاؤں پر نہ کھڑا ہو جاؤں۔ سوچئے گا بھی مت۔‘‘ اُس نے کندھے اُچکا کر باپ کو سیدھا سا جواب دیا۔ اُن کا حوصلہ ہی نہ ہوا کہ اُسے اِس کی نانو بی کے فون کے بارے میں بتاتے، جس میں وہ دونوں کی منگنی کی ضد کرکے بیٹھی تھیں، لیکن میری اتنی بڑی جائیداد تمہاری ہی تو ہے۔ یہ کون سنبھالے گا…؟‘‘ انہوں نے آخری بار حوصلہ کیا۔
’’ٹھیک ہے بابا! یہ سب میر ا ہے، لیکن ابھی مجھے خود کچھ کرنا ہے۔ میں ابھی اِس کے لیے تیار نہیں ہوں۔‘‘
’’تو پھر اور کتنا ٹائم لوگے، بتا دو…؟‘‘
’’اِنتظار کریں بابا! ابھی میں تیار نہیں۔‘‘ اُس نے بات ختم کر نی چاہی۔
’’اگر تمہاری اپنی کوئی پسند ہے تو بتا دو۔ مجھے کوئی اِعتراض نہیں ہوگا۔‘‘ انہوں نے ٹٹولتی نظروں سے عمر کو دیکھا تو وہ اِس بات پر کھڑا ہو گیا۔
’’اوّل تو ایسی کوئی بات نہیں اور اگر ہوگی تو سب سے پہلے آپ کو بتاؤں گا اور میرے خیال میں بابا! یہ آفس ہے۔ ہم اپنی پرسنل لائف یہاں کیوں ڈسکس کر رہے ہیں…؟‘‘ وہ جھلا سا گیا تھا اُس کی پسند کے سوال پر۔
’’یہ باتیں ہم اِس لیے کر رہے ہیں کہ تم گھر میں اپنے باپ کو ٹائم نہیں دیتے۔‘‘ انہوں نے بھی اُسی انداز میں جواب دیا۔ عمر کا منہ بن گیا۔
’’اوکے بابا! میں چلتا ہوں، تھوڑا کام ہے۔ پھر بات ہو گی۔‘‘ یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکل گیا۔ آفندی صاحب اُس کے انداز پر بس سوچتے ہی رہ گئے۔
وہ شاید ٹھیک ہی کہہ رہا تھا کہ آپ کے دَور میں اور ہمارے دَور میں بہت فرق ہے۔ اگر اِس انداز میں وہ اپنے باپ سے بات کرتے تو وہ اُٹھ کر اُن کے منہ پر زور دار تھپڑ لگاتے۔ وہ صرف ایساسوچ کر ہی رہ گئے۔ واقعی وقت بدل گیا یا سوچ بدل گئی تھی۔ کچھ تو بدلا تھا جو کہ واضح نہیں ہو پا رہا تھا۔
٭……٭……٭……٭
خالا اپنے گھر جا چکی تھیں۔ سامعہ اور خالا نے اماں کو ابا کے کمرے میں جانے پر مجبور کر دیا۔ اگر وہ زیادہ دیر اور اُس کمرے میں رہتیں تو ظفر کی یادیں اُنہیں یہ غم بُھولنے نہ دیتیں۔ اِسی لیے سمجھا بجھا کر شوہر کے حقوق یاد دِلا کر سلمیٰ بیگم نے بہن کو شوہر کے پاس جانے پر مجبور کر دیا۔
سامعہ اماں کو دوائی دے کر اپنے کمرے میں آگئی اور کورس کی کتابیں دیکھنے لگی۔ جنہیں اُس نے کئی دِنوں سے ہاتھ نہیں لگایا تھا۔ اِمتحان دینے کا بالکل دِل نہیں چاہ رہا تھا، لیکن دو سال کی محنت ضائع ہو جاتی۔ دِل مار کر اُس نے اِکنامکس کی کتاب اُٹھائی۔ ورق پر کیا لکھا تھا۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ اُس نے بند کر دی۔ دوسری کتاب کے ساتھ بھی اُس نے یہی کیا۔ اتنے میں فون کی گھنٹی بج اُٹھی۔ فون اُٹھایا تو نامعلوم نمبر تھا۔ فون نہ
اُٹھانے کا اِرادہ کیا، لیکن ہوسکتا ہے کوئی رشتہ دار ہو، جو ظفر کی تعزیت کرنا چاہتا ہو۔ یہی سوچ کر اُس نے فون اُٹھا لیا، مگر دوسری طرف آواز سُن کر اُس کا خون خشک ہو گیا۔
٭٭……٭٭……٭٭……٭٭

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.