پاداش (5)_________شازیہ خان

تحریر:شازیہ خان

کور ڈیزائن:طارق عزیز

قسط نمبر 5

_________

وہ ابا جی کو محلے والوں کی مدد سے بہت مشکل کے ساتھ ہسپتال لے جا سکی۔ ڈاکٹر نے حالت کے پیشِ نظر آئی سی یو میں داخل کر لیا۔ بی پی بہت شوٹ کر گیا تھا۔ اُنہیں برین ہیمبرج ہوا تھا۔ چند گھنٹوں میں ہی خالہ جان اور دوسرے لوگ بھی ہسپتال پہنچ گئے۔ سامعہ کا رونا بند نہیں ہو رہا تھا۔ ثنا اور خالہ جان نے اُسے گلے لگایا۔
’’چپ کر جاؤ سامعہ! خالو کو کچھ نہیں ہوگا۔ اِن شاء اللہ وہ ٹھیک ہو جائیں گے۔‘‘ ثنا نے اُسے سمجھایا۔
’’ثنا! مجھ میں بھائی کے بعد ابا جی کا سوگ منانے کا حوصلہ نہیں۔ بس اللہ سے دُعا کرو کہ وہ بچ جائیں۔‘‘ سامعہ تڑپ کر بولی۔
’’وہ گھر کی چھت ہیں۔ اُن کے بغیر اماں اور میں کیا کریں گے…؟‘‘
’’سامعہ! فکر مت کرو۔ ڈاکٹرز کوشش کر رہے ہیں۔ خالو جان کو کچھ نہیں ہوگا۔‘‘ کبیر نے بھی اُسے سمجھایا۔ روتی ہوئی سامعہ کو دیکھ کر اُن کا دِل پگھل گیا۔ وہ بھی پریشان تھے کہ خالہ جان کے گھر کو نہ جانے کس کی بددعا لگ گئی تھی۔ ایک کے بعد ایک پریشانی کُھلے دروازے سے چلی آرہی تھی۔ بس یہی وہ مقام آزمائش ہے جہاں اِنسان نعمتوں کی ناشکری پر ربّ کے غیض و غضب کا شکار ہو جاتا ہے۔ اُسے اِحساس ہونے تک پُل کے نیچے سے پانی بہہ چکا ہوتا ہے۔ بیٹے کے بعد حاجی صاحب کے دِل پر یہی بار تھا، جس نے اُنہیں اِس حال پر پہنچا دیا۔
ناہید بیگم کی حالت کافی خراب تھی، لیکن وہ اپنے آپ کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ اُنہیں اِتنا صبر شاید اُن کے ربّ کی عطا تھا۔وہ آئی سی یو کے دروازے میں موجود کھڑکی سے مصنوعی آلات میں جکڑے حاجی صاحب کے ساکت چہرے کو تَک رہی تھیں۔ اُنہیں حاجی صاحب کے ساتھ بیتے ہوئے ماہ و سال یاد آ رہے تھے۔ شادی کی پہلی رات ہی اُس شخص نے اُنہیں کتنا ذلیل کیا تھا صرف اِتنی سی بات پر کہ میرے گھر والوں کے مانگنے کے باوجود تمہارے بھائی نے جہیز میں بائیک نہ دی، حالاں کہ وہ دے سکتے تھے۔ اُسی وقت بھائی صاحب سے ایک نا ختم ہونے والی جنگ پال لی۔ ساری عمر اُنہیں اِس بات کا طعنہ ملتا رہا کہ تمہارے بھائی کے پاس اِتناپیسا تھا۔ بائیک دے سکتے تھے، مگر بہنوں کے لیے دِل بڑا نہ کیا۔ آخرکار باپ جیسے بھائی سے چھڑوا ہی دیا۔ آج اُن کے سامنے بستر پر پڑا ہوا شخص کتنا بے بس ہے۔ بیٹے کی جُدائی کے بعد اُن سے کئی بار ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ چکے تھے۔ انہوں نے دِل سے معاف بھی کر دیا تھا، مگر شاید قدرت نے معاف نہیں کیا تھا۔ جب ہی آج ایسی حالت پر پہنچے۔ حاجی صاحب میں اپنے ربّ سے دُعا کرتی ہوں۔ جتنی تکلیفیں میں نے اِن بائیس سالوں میں پائی ہیں۔ اللہ اِن سب کے لیے آپ کو معاف کر دے۔ وہ ہولے ہولے بُڑبُڑا رہی تھیں کہ اُنہیں اپنے کندھے پر کسی کے ہاتھ کا اِحساس ہوا۔ انہوں نے مُڑ کر دیکھا تو سلمیٰ بیگم، بھائی صاحب کے ساتھ کھڑی تھیں۔ بھائی کو دیکھ کر وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور اُن سے لپٹ کر پُھوٹ پُھوٹ کر رو پڑیں۔ سلمیٰ بیگم نے کسی وقت بھائی صاحب کو فون کر کے اِحساس دِلایا تھا کہ اُس وقت اُن کا یہاں ہونا کتنا ضروری ہے۔ وہ فوراً پہنچ بھی گئے۔ بہن اور بھانجی کو کافی دیر تک دلاسہ دیتے رہے۔ کبھی کبھی زندگی میں غلط لوگوں کے شامل ہونے سے خونی رشتے دَم توڑنے لگتے ہیں۔
ناہید بیگم اور بھائی صاحب دونوں کی زندگی میں غلط لوگ شامل تھے۔ جنہوں نے بہن بھائی کی محبت ختم کرنے کی حتیٰ الامکان کوشش کی، لیکن جو رشتے اللہ بناتا ہے۔ وہ ہمیشہ اُن رشتوں سے بہت مضبوط ہوتے ہیں، جو ہم خود اپنی مرضی سے پروان چڑھاتے ہیں۔ غلط لوگ اپنی کتنی ہی کوشش کر لیں۔ خون کے رشتوں کو الگ نہیں کر سکتے۔ اللہ نے اِس رشتے میں ایک خاص گرمی اور اُبال رکھا ہے۔ سگا خون کتنا بھی سرد ہو جائے، جب اُس میں وہ اُبال آتا ہے تو پھر سب کچھ ویسا کا ویسا ہی ہو جاتا ہے۔ بھائی صاحب دونوں بہنوں کو اپنے بازوئوں کے گھیرے میں لیے پاس پڑے بنچ پر بیٹھ گئے۔ آہستہ آہستہ دلاسہ بھی دیتے رہے۔ صُبح تک حاجی صاحب کی حالت کافی حد تک سنبھل گئی۔ سب نے شکر ادا کیا، لیکن ڈاکٹرز کے مطابق اُن کے جسم کا دایاں حِصّہ متاثر ہوا تھا۔ اُنہیں شاید بات کرنے میں تھوڑی مشکل پیش آئے، لیکن دوائیوں کے ساتھ آہستہ آہستہ سب بہتر ہو سکتا ہے۔ تھوڑا وقت لگے گا۔
٭……٭……٭……٭
کبھی کبھی زندگی ہمیں وہاں لا کر کھڑا کر دیتی ہے۔ جہاں نہ سامنے نکلنے کا راستہ نظر آتا ہے، نہ پیچھے ہٹنے کی ہمت ملتی ہے۔ شمیم صاحب نے کبھی اللہ سے شکوہ نہیں کیا۔ ماں باپ کے مرنے کے بعد چچا نے اُن کی پرورش کی۔ پڑھایا لکھایا۔ انہوں نے اپنی محنت سے بزنس کو پروان چڑھایا۔ چچا کی بیٹی اُن کی مرضی سے رفیقِ حیات بنیں تو اُنہیں لگا کہ اللہ نے سب کچھ دے دیا۔ زندگی کے کئی سال دونوں نے ہنستے کھیلتے گزارے۔ پھر ہنستے کھیلتے ہی اچانک وہ اُن کی زندگی سے چلی گئیں۔ انہوں نے اپنی ساری محبت رضوان کو دے دی۔ اِس آس میں کہ ایک دِن وہ یہ ساری محبت سود سمیت اُنہیں لوٹائے گا۔ اب زندگی اُنہیں ایک ایسے مقام پر لے آئی تھی جہاں کیا سود؟ کیا اصل؟ بس محرومیاں رہ گئی تھیں۔ آج وہ کتنے مجبور اور بے بس تھے۔ بیٹے کی خوشی قریب تھی اور وہ اُس کا ماتھا بھی نہیں چوم سکتے تھے۔ گلے لگا کر، اُس کی پیٹھ سہلا کر فخر کا اِحساس بھی حاصل نہیں کر سکتے تھے۔ اُس سے فون پر زیادہ دیر بات نہیں کرتے تھے کہ کہیں اگر سانس پُھولی اور کھانسی شروع ہو گئی تو وہ پریشان ہو جائے گا۔ چند روز کے اندر اُس کی کانووکیشن تقریب تھی۔ کل ہی اُس سے فون پر بات ہوئی تو وہ بہت زیادہ ایکسائٹیڈ تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ یونی ورسٹی فیس بُک پیج پر شمیم صاحب براہِ راست اِس تقریب کو دیکھیں۔ انہوں نے حامی بھر لی، حالاں کہ وہاں اور یہاں کے دِن اور رات میں وقت کا بہت بڑا فرق تھا، لیکن بیٹے کی خوشی کے لیے اِتنی ہمّت تو کر سکتے تھے۔ شکر ہے سائنس کی ترقی نے اِنسانوں کے بہت سے مسائل کا حل دے دیا ہے۔ اب وہ اُس دِن کا بے چینی سے اِنتظار کر رہے تھے۔
٭……٭……٭……٭
آج پورے چار دِن کے بعد وہ ہسپتال سے گھر آئی تھی۔ نہا دھو کر ابا کے لیے دلیہ بنا رہی تھی کہ اچانک اُسے عمر کا خیال آیا۔ چولہے کی آنچ بند کرکے وہ کمرے میں چلی آئی۔ فون میں لگی سِم نکال کر دوسری سِم لگائی تو مسلسل میسجز آنا شروع ہو گئے۔ اُس نے عمر کو کال ملائی جو عمر نے pick نہیں کی۔اُس نے ابا کی بیماری کا ایک لمبا چوڑا بیان لکھ کر عمر کو میسج کر دیا اور پھر دس منٹ کے بعد ہی عمر کا فون آ گیا۔
’’بہت ظالم ہو یار!‘‘ وہ غُصّے میں بولا۔
’’اتنی بڑی بات ہو گئی اور تم مجھے اب بتا رہی ہو۔ میں تو سمجھا مجھے دھوکا دے کر سِم بند کر دی۔‘‘ وہ اتنے مان سے بولا کہ اُسے اپنی محبت پر فخر ہونے لگا… کتنی محبت کرتا ہے… اتنی بے تابی تو ایک سچے محبوب میں ہی ہو سکتی ہے۔ عمر اُس کا سچا محبوب ہی ہے… دِل نے گواہی دی ۔
’’سوری یہ سب اِتنا اچانک ہوا کہ سمجھ ہی نہیں آیا کہ کیا کروں…؟ اتنے دِن کے بعد آج گھر آئی تو سب سے پہلا کام تم کو فون کرنے کا ہی کیا۔‘‘ اُس نے بھی شرمندگی سے وضاحت دی۔
’’اگر میری ضرورت ہے تو ہاسپٹل آجاؤں…؟‘‘ عمر نے پھر محبت جتائی۔
’’اَرے! نہیں۔ ہوسکتا ہے آج ابا کی چھٹی ہو جائے پھر وہاں سب لوگ موجود ہیں۔ تمہارا تعارف کس حوالے سے کرواؤں گی۔‘‘ وہ گھبرا گئی کہ کہیں وہ سچ مچ ہی ہاسپٹل نہ پہنچ جائے۔
’’حوالہ بنانے میں کتنی دیر لگتی ہے۔ سب کو بتا دینا کہ یہ وہ شخص ہے، جس سے میں محبت کرتی ہوں۔‘‘
’’یاخدا……! تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ کبھی ایسا کر بھی نہ بیٹھنا۔ گھر والے مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘ وہ خوف زدہ ہو کر چِلّائی۔ عمر اُس کی گھبراہٹ پر مزے لیتے ہوئے ہنسنے لگا۔
’’کبھی نہ کبھی تو سب کو پتا لگے گا کہ میرا اور تمہارا کیا حوالہ ہے۔‘‘ وہ مزے سے بولا۔
’’جب وہ وقت آئے گا تو دیکھیں گے۔ ابھی تو مجھے ابا کے پاس جانا ہے۔ رات کو واپس آکر بات کرتی ہوں، فون آن رکھنا۔‘‘ وہ عمر کو ہدایات دیتی ہوئی مُسکرائی تو عمر نے بھی ’اوکے‘ کہہ کر فون بند کر دیا۔
کتنی آسانی سے اُس نے معصوم لڑکی کو اپنے شیشے میں اُتارا تھا۔ کتنی بے وقوف ہوتی ہیں یہ لڑکیاں، کتنی آسانی سے شیشے میں اُتر جاتی ہیں صرف ایک شادی کے لارے پر۔ وہ دِل ہی دِل میں ہنسا اور پھر اُس سے ملنے کے لیے پلاننگ سوچنے لگا۔
٭……٭……٭……٭
آج دونوں نانی نواسی عمر کے ساتھ لنچ پر نکلی ہوئی تھیں۔ سیما پیپرز کے بعد گھر میں کافی بور ہو رہی تھی۔ انہوں نے سوچا کہ دونوں کے ساتھ کوئی لنچ پلان کیا جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے عمر کو بھی ریسٹورنٹ پہنچنے کے لیے کہا۔ آفس میںفارغ بیٹھا تھا۔ نانو کی آفر ٹھکرانا کفرانِ نعمت تھا۔ پھر ریسٹورنٹ اُس کے آفس کے پاس ہی تھا۔ تھوڑی دیر میں ہی وہ سب لنچ آرڈر کر رہے تھے۔
’’کیا بات ہے نانو! آج کل آپ سیما کو کھانا نہیں کھلا رہیں، کتنی کمزور ہو رہی ہے۔‘‘ اُس نے سیما کو دیکھتے ہوئے چھیڑا۔ سیما نے ایک سُلگتی سی نظر عمر پر ڈالی۔
’’اَرے نہیں! ایسی کوئی بات نہیں۔ آج کل کی لڑکیوں کو فِٹ رہنے کا بُخار چڑھ گیا ہے۔ ہر وقت یہ ڈائٹ، وہ ڈائٹ، گھنٹوں جِم۔ بس اِسی وجہ سے تمہیں کمزور لگ رہی ہے۔ ورنہ اِس کے لیے کھانے پینے کی کیا کمی۔‘‘ انہوں نے ہنس کر وضاحت دی۔
’’ہاہا ہا… وہ تو میں بھی جانتا ہوں۔ بچپن میں سیما کتنی ’گولو مولو‘ ہوتی تھی اور میں اُسے چھیڑتا تھا ’ٹیڈی بیئر‘ یہ کتنی ناراض ہوتی تھی۔‘‘ عمر نے اُسے بولنے پر مجبور کر دیا۔
’’عمر! پلیز آئندہ یہ لفظ نہ بولنا۔‘‘ وہ قدرے چِلّائی۔
’’کون سا لفظ…؟‘‘ وہ بھی کائیاں تھا۔ اُسے بولنے پر اُکسا رہا تھا۔
’’نانو میں نے ایسا کون سا لفظ کہا بتائیں…‘‘ اُس نے نانو کی مدد لی تو وہ جھلّا گئی۔
’’یہی جو تم نے ابھی بولا۔‘‘
’’وہی تو پوچھ رہا ہوں کون سا لفظ…؟ میں نے تو دو لفظ بولے۔‘‘ وہ مزے سے سلاد پتا اُٹھا کر منہ میں لے جاتے ہوئے رُکا اور پوچھا۔
’’نانو پلیز! اِسے سمجھائیں یہ باز نہیں آ رہا۔ اگر ایک بار اِس نے دوبارہ وہ لفظ کہا تو میں اُٹھ کر چلی جاؤں گی۔‘‘ وہ رو دینے کو تھی۔ بچپن سے ہی نانو اور ماما نے اُسے کِھلا کِھلا کر گول مٹول کر دیا تھا۔ عمر جب بھی اُس سے ملتا ’گولو مولو‘ کہہ کر مخاطب کرتا۔ اِسی وجہ سے ہوش سنبھالتے ہی اُس نے ڈائٹنگ کرنا شروع کر دی۔ اب یہ حال تھا کہ جیسے لکڑی پر کھال چڑھی تھی۔ عمر اب بھی اُسے چھیڑنے سے باز نہیں آ رہا تھا۔
’’اچھا! چلو چھوڑو یہ سب… تم دونوں کھانے پر دھیان دو، گھر جا کر لڑنا۔‘‘ نانو بی نے بات ختم کرنی چاہی۔ عمر نے سیما کی طر ف وکٹری کا سائن بنا کر دیکھا تو وہ جل کر رہ گئی۔
’’عمر! مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنا تھی۔‘‘ نانو نے سوپ ختم کرتے ہوئے نیپکن سے منہ پونچھا۔
’’جی نانو کہیے… بلکہ حکم دیجئے…‘‘ اُس نے بھی فورک پلیٹ میں رکھ دیا۔
’’سیما کا کالج ختم ہو چکا ہے اور یہ آج کل گھر میں بہت بور ہو رہی ہے۔ میں نے ہی اِسے مشورہ دیا کہ آفس میں تمہیں جوائن کر لے۔‘‘ انہوں نے بڑے آرام سے بات کی۔ سیما بھی چونک کر اُن کی طرف دیکھنے لگی۔ نانو نے اپنے اِس اِرادے کا اُس سے کب ذکر کیا تھا۔ اگر وہ اُس سے مشورہ کرتیں تو وہ یقینا منع کر دیتی۔ وہ عمر کے ساتھ کام کرکے اپنا دِل نہیں جلانا چاہتی تھی۔
’’دراصل دو دِن پہلے تمہارے بابا سے بات ہوئی تھی۔ تم تو جانتے ہو میری دونوں بیٹیوں کے شیئرز ہیں اِس کاروبار میں۔ تو میں چاہتی ہوں کہ سیما گھر بیٹھ کر خود کو ضائع نہ کرے اور کوئی نا کوئی کام کرے۔‘‘ وہ بڑے مزے سے بات کررہی تھیں۔ عمر نے کندھے اُچکائے۔
’’وائے ناٹ نانو! مجھے بھلا کیا اِعتراض ہو سکتا ہے۔ اگر آپ کی بابا سے بات ہو چکی ہے۔ آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں خالہ کے شیئرز بھی ہیں پھر تو سیما کو بزنس ضرور سنبھالنا چاہیے۔‘‘ اُس نے کندھے اُچکا کر اُن کی ہاں میںہاں ملائی۔
’’لیکن نانو! میں……‘‘ سیما نے کچھ کہنا چاہا تو نانو نے اُسے خاموش رہنے کا اِشارہ کر دیا۔ ساری سچوایشن اُن کے سامنے تھی۔ وہ یہ سب نواسی کے لیے ہی کر رہی تھیں۔وہ چاہتی تھیں کہ سیما کا زیادہ تر وقت عمر کے ساتھ ہی گزرے، تاکہ اِن دونوں کے درمیان انڈر سٹینڈنگ پیدا ہو جائے۔ اِس کے لیے انہوں نے سیما سے بات کیے بغیر یہ فیصلہ خود کیا۔اُنہیں معلوم تھا کہ وہ کبھی نہیں مانے گی اور اب اِنکار نہیں کر سکے گی، کیوں کہ عمر نے بھی مثبت جواب دیا تھا۔
گھر آکر سیما نے نانو سے سخت ناراضگی کا اِظہار کیا۔
’’آپ کم از کم اِتنے بڑے فیصلے میں مجھے تو شامل کر لیتیں۔‘‘ وہ روہانسی ہو گئی۔
’’اَرے بھئی! یہ پلان تو اچانک ہی میرے ذہن میں آیا۔ میں نے عمر سے بات کر لی اور وہ مان بھی گیا۔ پھر تم خود ہی تو کہہ رہی تھیں کہ آگے نہیں پڑھنا۔ کوئی کام کرنا ہے۔ پھر اپنے بزنس سے بڑ اکام کیا ہو سکتا ہے۔ اب میں بھی آفس کم ہی جاتی ہوں تو میری جگہ تم سنبھال لو۔‘‘
’’یہ سب میں کیسے کروں گی نانو…؟‘‘ اُس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ نانو اتنی آسانی سے اتنی بڑی ذمہ داری اُسے کیسے دے سکتی ہیں۔ اُس میں اِتنا اِعتماد نہیں تھا کہ وہ بزنس کر سکے۔ پھر سارا دِن عمر کا ساتھ۔۔۔۔ خیال تو اچھا تھا، لیکن وہ جانتی تھی کہ وہ عمر کے دِل میں کسی صورت نہیں بس سکتی، لیکن یہ نانو بی نا بس وہی کرتی ہیں، جو خود صحیح سمجھتی ہیں۔ اُنہیں کیا پتا اُن کے نواسے نے اُسے ٹُھکرا دیا تھا۔ اب یہ سب فضول ہے۔ میں کتنا بھی پاس رہوں اُس کے دِل کے پاس نہیں آسکتی۔ اُس کے دِل میں تو مکین بدلتے رہتے ہیں… ہمارا وہاں گزارہ نہیں۔
٭……٭……٭……٭
ابا بہتر ہو کر گھر آچکے تھے۔ ہسپتال کی ساری پیمنٹ ماموں جان نے کی اور وہی اپنی گاڑی میں ابا کو لے کر گھر آئے۔ سلمیٰ بیگم نے کبیر علی سے کالا بکرا منگوا کر صدقہ دیا۔ سب بہت خوش تھے۔ ڈاکٹرز نے دوائیوں کی سختی سے تاکید کی تھی کہ اِن میں بالکل ناغہ نہ ہو اور کھانے پینے کا بھی سخت خیال رکھا جائے۔زیادہ سے زیادہ آرام کریں۔دُکان سنبھالنے والا بہت ایمان دار تھا۔اُس نے اُن کے پیچھے دُکان کو خوب اچھی طرح چلایا اور پیسے لا کر حاجی صاحب کے ہاتھ پررکھے تو انہوں نے اُس کے سر پر ہاتھ رکھ دیا۔ آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ ماموں جان جب جانے لگے تو اُن سے ہاتھ ملاتے انہوں نے اُن کے آگے اپنے ہاتھ جوڑ دیئے اور بچوں کی طرح بِلک بِلک کر رونے لگے۔ واقعی اللہ جب اِنسان کو توڑتا ہے تو روم روم روئی کے گالے کی مانند نرم ہوجاتا ہے۔ دِل کی سختی پِگھل کر موم بن جاتی ہے اور آنکھوں سے آنسوؤں کی صورت میںبہ کر نکل جاتی ہے۔ اِس وقت حاجی صاحب کا یہی حال تھا۔ ماموں جان کی آنکھوں میں بھی نمی آگئی۔ زندگی کے کتنے اچھے دِن ہم صرف اپنی اَناگاہوں میں قربان کر دیتے ہیں۔ ایک دوسرے سے دُور رہ کر رشتوں کو اَنا کی بھینٹ چڑھا کر یہ بھی نہیں سوچتے کہ کتنے لوگ اِس سے برباد ہو جاتے ہیں۔ اِس بربادی کے بعد کیا بچتا ہے۔ سوائے بے بسی کے کہ کاش! اتنا اچھا وقت ہم نے اَنا میں قربان نہ کیا ہوتا تو خوشیوں کے ایسے کئی لمحے ہماری زندگی کے جگنو ہوتے۔ انہوں نے آگے بڑھ کر حاجی صاحب کے آنسو صاف کیے۔
’’بھائی جان! میرے دِل میں کچھ نہیں ہے اور آپ میرے بڑے بھائیوں کی طرح ہیں۔ اگر ماضی میں کچھ ہوا بھی تھا تو سچ مانیئے اب میرے دِل میں کچھ نہیں۔‘‘ وہ کہتے کہتے رُکے اور اپنی بہن کی طرف دیکھا۔
’’مجھ سے بھی بہت سی کوتاہیاں ہوئی ہیں۔ اللہ مجھے بھی معاف کرے۔ بس آج سے آپ خود کو تنہا مت سمجھئے گا۔ میں ہمیشہ آپ کے ساتھ ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر انہوں نے پاس کھڑی بہن اور بھانجی کو گلے سے لگا لیا۔ شاید اللہ ہر بندے کا اِنتظام کر دیتا ہے۔ حاجی صاحب کی فیملی کو بھی اُن کی صورت ایک چھت میسر آگئی۔ بے شک دُکان بھی اچھی چل رہی تھی۔ کوئی فنانشل پرابلم نہیں تھا، لیکن اِس گھر کو بہرحال ماموں جان جیسے کسی مرد کی ضرورت تھی جو اللہ کی طرف سے پوری ہوگئی۔ ناہید بیگم تو بھائی اور شوہر کے ملاپ پر اللہ کا شکر ادا کرتے نہیں تھک رہی تھیں۔ اُن کے ربّ نے وعدہ فرمایا ہے کہ ہر تکلیف کے بعد آسانی ہے اور اب وہ اپنا وعدہ پورا کر رہا تھا۔
٭……٭……٭……٭
’’ہیلو! کیسی ہو جان!!‘‘ عمر نے بے تابی سے پوچھا تو اِس اَنداز مخاطب پر سامعہ کو یک دَم حیا سی آگئی۔ بے شک وہ ایسی باتوں کی خواہش مند تھی، لیکن خواہش رکھنا اور خواہش پوری ہونے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ آپ کی خواہشات کبھی کبھی جب مجسم صورت میں ڈھل کر آپ کے سامنے آتی ہیں تو آپ کی فطرت اُنہیں قبول نہیں کرپاتی اور آپ کو اپنی خواہش پر ایک عجیب سا پچھتاوا ہوتا ہے۔ حاجی صاحب کی بیٹی بے شک اپنے گُھٹے ماحول سے فرار چاہتی تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ کوئی اُس سے محبت کرے۔ پیار سے بات کرے، لیکن اتنی بے باکی، اُس سے ہضم نہیں ہو رہی تھی۔
’’کچھ تو بولو یار…! کیا اب اپنی آواز کے لیے بھی ترساؤ گی…؟ اگر میرا بس چلتا تو میں اسی فون کے ذریعہ تمہارے بہت قریب آ جاتا۔ بالکل اتنے جتنی تمہاری سانسوں کی آواز مجھ تک پہنچ رہی ہے۔‘‘ اِس جملے نے تو سامعہ کے کان تک سُرخ کر دئیے۔
’’اُفففف! اتنی بے باکی…‘‘ وہ شرم سے لال ہو گئی۔
’’بولو بھی خاموش کیوں ہو…؟ ابا جان تو ٹھیک ہیں نا…‘‘ اُس نے کچھ اور سمجھا۔
’’اللہ کا شکر ہے، گھر آگئے ہیں۔‘‘ اِس بار اُس نے بدلتی بات کا سہارا لیا اور بول پڑی۔
’’یار! تم اتنا ہی کم بولتی ہو یا صرف میں ہی تمہاری کم گوئی کا شکار ہوں۔‘‘ وہ جھنجھلا کر بولا۔
وہ اِس سے ہر موضوع پر بات کرنا چاہتا تھا۔ اُسے کھولنا چاہتا تھا جیسے وہ پچھلی لڑکیوں سے باتیں کرتا تھا۔ رات رات بھر ہر ٹاپک پر بات ہوتی، لیکن یہاں تو اتنی ساری فون کالز کے بعد بھی وہ ملنے کے لیے قطعاً تیار نہیں تھی۔
’’نہیں، ایسی بات نہیں۔ میں ویسے بھی بہت کم بات کرتی ہوں۔ آپ بات کریں، میں سُن رہی ہوں۔‘‘ اِس بار اُس کی جھنجھلاہٹ کو دیکھتے ہوئے فوراً بولی کہ کہیں تنگ آکر وہ فون ہی بند نہ کر دے۔
’’تو اب ابا جان ٹھیک ہیں تو پھر کہیں ملونا…‘‘ عمر نے فوراً اپنے دِل کی بات کہہ دی۔ وہ اِسی بات سے ڈر رہی تھی، لیکن چوں کہ اُس کی ناراضگی سے ڈرتی تھی، اِسی لیے فوراً حامی بھر لی۔
’’ٹھیک ہے… جلد ملتے ہیں۔ مجھے ابا کی دوائیوں کے سلسلے میں کل نکلنا ہے۔ ڈاکٹر نے کچھ دوائیاں بدل دی ہیں۔ میں اماں سے اجازت لے کر ہاسپٹل کا کہہ کر جاؤں گی۔ آپ بھی آجائیں۔‘‘
’’کیا مطلب ہاسپٹل میں…؟‘‘ وہ حیرانی سے بولا۔
’’نہیں… ہاسپٹل کا بہانہ تو صرف اماں کے لیے ہے۔ آپ بتائیں کہ کہاں ملنا ہے…؟‘‘ وہ فوراً بولی تو عمر نے اُس کو گھر کے قریب ملنے اور پک کرنے کا بتایا اور پھر چند اِدھر اُدھر کی باتیں کرکے فون بند کر دیا۔ آج وہ بہت خوش تھا۔ کتنی آسانی سے یہ عورت نام کی چِڑیا جال میں پھنس جاتی ہے۔ اُسے یقین نہیں آرہا تھا۔ کل تک وہ اُس کا نمبر بلاک کر دیتی تھی اور اب کتنی آسانی سے ملنے آ رہی ہے۔ اُس نے دِل ہی دِل میں قہقہہ لگاتے ہوئے سر کو جھٹکا اور ایک تسلّی بھری سانس لی۔ اُسی وقت فون کی گھنٹی بج اُٹھی۔ صارم کا فون تھا۔ یونیورسٹی فیلو تھا۔ اکثر گھر میں پارٹیز رکھتا تو اُسے بھی اِنوائٹ کر لیتا۔ اُس کی پارٹی میں کھلے عام بے حیائی کے تماشے ہوتے۔ رات بھر ایلیٹ کلاس کے لڑکے لڑکیاں لڑکے نشہ اور بے حیائی کے تماشے لگاتے۔ ایسی پارٹیز میں کبھی کبھار وہ بھی جا چکا تھا، مگر بات ایک ادھ پیگ سے زیادہ آگے نہ بڑھ سکی۔ اِس کے بعد زیادہ تر اُن نے کوشش کی کہ صارم کے فون کو ریپلائی ہی نہ کرے۔ آج نہ جانے دِل کیوں خوش تھا۔ اُس نے فون اُٹھا لیا۔
’’عمر! یار کہاں گُم ہے…؟ پچھلے ویک اینڈ پر بھی تجھے فون کیا، مگر تو ریپلائی ہی نہیں کرتا۔‘‘ صارم نے فون اُٹھاتے ہی شکوہ کیا۔
’’ہاں یار! تھوڑا بزی تھا۔ تو سُنا کیا ہو رہا ہے…؟‘‘ اُس نے مُسکراتے ہوئے صارم سے پوچھا۔
’’آج ایک زبردست پارٹی رکھی ہے۔ مال اور مصالحہ سب ہوگا۔ اگر موڈ ہے تو آجا۔‘‘ صارم نے اپنی طرف سے اُس کو بڑھاوا دیا۔ وہ جانتا تھا کہ اِس کلاس کے لڑکوں کے کیسے گھیرا جا تا ہے، مگر ابھی تک عمر کے سلسلے میں اُسے کوئی کامیابی نہ ہو سکی۔ وہ عمر کو یونی ورسٹی کے زمانے سے گھیرنے کی کوشش میں تھا، لیکن اُس نے اگر کبھی پارٹی میں شرکت بھی کی تو بہت محتاط رہا، کیوں کہ اُسے بھی اندازہ تھا کہ ایسی پارٹیاں عمر کی کلاس کے لڑکے لڑکیوںکو گھیرنے کے لیے رکھی جاتی ہیں۔ اُنہیں نشے کا عادی بنا کر اُن سے پیسے بٹورے جاتے ہیں۔ وہ اب تک اِن عِلّتوں سے آزاد تھا، لیکن بہ خوبی واقف تھا کہ اِس عِلّت کے بعد زندگی بہت مشکل ہو جاتی ہے۔ آج نہ جانے دِل کِن ہواؤں میں تھا۔ اُس نے فوراً حامی بھر لی۔
’’کتنے بجے ہے پارٹی…؟‘‘ اُس نے ٹائم پوچھا ۔ تو صارم نے ٹائم اور جگہ بتا کر فون بند کر دیا۔ عمر نے تیاری پکڑ لی اور پھر ایک گھنٹے کے بعد وہ اپنی کار صارم کے گھر کے بیسمنٹ میں پارک کر رہا تھا۔ ایسی پارٹیاں عموماً بڑے گھروں کے بیسمنٹ میں ہوتی ہیں۔ جتنا شدید ہنگامہ ہو، لیکن باہر محلّے والوں خبر تک نہیں ہوتی کہ اندر کتنا بڑا طوفان آیا ہوا ہے۔
ایک نوکر کو اُس نے کار کی چابی پکڑائی اور اُس کی ہدایت کے مطابق اندر بڑھ گیا۔ لاؤنج کا دروازہ کھولا تو سامنے ایک طوفانِ بدتمیزی برپا تھا۔ کچھ نوجوان لڑکے لڑکیاں کاوچ پر دراز ہاتھ میں ڈرنک کے گلاسز لیے ہوئے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ کچھ ایک طرف بنے ڈانسنگ فلور پر فلور لائٹس کے ساتھ ڈانس میں مصروف تھے اور کچھ ٹی وی پر چلتی مووی میں گُم… صارم اُسے دیکھ کر اُس کی طرف لپکا۔
’’مجھے یقین نہیں تھا کہ تو آئے گا۔ پہلے بھی تو نے مجھے کئی بار بہانوں پر ہی ٹالا ہے۔‘‘ وہ اُس کے کندھے پر ہاتھ مار کر بولا۔ عمر کو اُس کے منہ سے ایک مخصوص مہک سی آئی۔ وہ پوری طرح نشے میں تھا۔ لاہور کے نامی گرامی پراپرٹی ڈیلر کا بیٹا تھا۔ باپ کی کمائی کو اِس طرح اُڑانا اُس کا حق تھا اور وہ اُڑا رہا تھا۔
’’بس تو نے اتنی محبت سے بُلایا تو مجھ سے اِنکار نہ ہو سکا۔‘‘ عمر نے مُسکرا کر اُس کی بات کا جواب دیا۔
’’چل تو آ گیا ہے تو تجھے اپنی فرینڈ سے ملواتا ہوں۔‘‘
’’ایمن! اِن سے ملو۔ یہ میرا یونی ورسٹی فیلو عمر آفندی ہے۔‘‘ صارم نے پاس کھڑی کسی لڑکی سے بات کرتی ایمن ملک کو پُکارا تو وہ مُڑی اور ایک لمحے کے لیے چونک گئی۔ اُس کے سامنے ایک مکمل مرد کھڑا تھا۔ خوب صورت، لمبا چوڑا ، گورا چِٹا۔ ایسی بہت سی خوبیاں بہت سارے مردوں میں ہوتی ہیں، لیکن عمر میں کوئی الگ سی بات تھی اور وہ الگ سے بات کیا تھی جو عمر کو باقی مردوں سے ممتاز کرتی تھی۔ یہی بات جاننے کے لیے ایمن کو اُس کی طرف ایک بار پھر دیکھنا پڑا۔ ابھی تک وہ جان نہ پائی، مگر آگے بڑھ کر اُس نے عمر آفندی کی طرف اپنا نرم و ملائم ہاتھ بڑھا دیا۔
’’نائس ٹو میٹ یو مسٹر عمر!‘‘
’’ می ٹو…‘‘ عمر بھی مُسکرایا۔
ایمن اچھی تھی… خوب صورت تھی، لیکن ابھی تو عمر کے سر پر سامعہ کا خُمار تھا اور کچھ لاحاصل خمار جب چڑھتے ہیں تو پھر اچھی سی اچھی چیزوں کا نشہ بے معنی ہو جاتا ہے، جیسے ایمن ملک بھی اُسے فی الوقت ایک معمولی سی چیز لگی۔
’’عمر! ایمن ماڈلنگ کرتی ہے ۔ اِس وقت نئی اُبھرتی ماڈلز میں ایمن کا نام سرِفہرست ہے۔‘‘ صارم نے اپنے طور ایمن کی قابلیت میں ریشم کا ایک اور ٹانکا جوڑا تو عمر مُسکرا دیا اور بولا:
’’امپریسو مِس ایمن…‘‘ ایمن بھی مُسکرا دی ۔
’’تم دونوں باتیں کرو… میں کچھ کھانے پینے کے لیے بھجواتا ہوں۔‘‘ صارم ایمن کو آنکھ مارتا ہوا وہاں سے نکل گیا۔ تھوری دیر میں ہی ایمن اور عمر گُھل مل گئے اور اِسی دوران صارم کی طرف سے بھیجے گئے دو آتشہ مشروب سے بھرے گلاسز بھی اپنا کام دِکھا رہے تھے۔ ایمن کافی کُھلے ڈُلے مزاج کی لڑکی تھی، جو کسی بھی لڑکے کا آئیڈیل ہو سکتی تھی۔ اگر وہ لڑکا عمر جسے ایلیٹ گھرانے سے تعلق رکھتا ہو۔ ایمن کے والد بچپن میں ہی اُس کی ماں کو طلاق دے چکے تھے، جو اپنے زمانے کی ایک بی کلاس ایکٹرس تھیں۔ انہوں نے تن تنہا ایمن کی پرورش کی اور اب وہ چاہتی تھیں کہ ایمن ایک ٹاپ کلاس اداکارہ بنے۔ اِسی لیے وہ بڑی برانڈز کے ایڈز کے لیے ایمن کی سفارش کرتیں، تاکہ کسی نہ کسی ڈرامہ ڈائریکٹر کی اِس پر نظرِ کرم ہو جائے۔ کسی حد تک وہ اِس میں کامیاب بھی ہوگئی تھیں… ایمن کو ڈراموں کی کافی آفرز تھیں، لیکن وہ کسی اچھے کردار کی تلاش میں تھی، جس کے بعد اپنے پہلے ڈرامے سے ہی اُس کا نام بن جائے۔ وہ دو گھنٹوں میں ہی عمر آفندی کو اپنی پوری زندگی کی کہانی سُنا چکی تھی۔ عمر اُس سے کافی متاثر بھی ہوا۔ پارٹی کے اِختتام تک دونوں نے ایک دوسرے کا نمبر ایکسچینج کیا اور پھر ملنے کا وعدہ کرکے اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ عمر سے بچھڑنے تک ایمن کو بالکل اندازہ نہیں ہو سکا کہ عمر کی کس خوبی نے اُسے اِتنا متاثر کیا۔ اُس میں ایسا کیا تھا جس کی وجہ سے وہ عمر کے ساتھ اتنی دیر تک باتیں کر سکی۔ اب اُس کے دِل میں عمر سے دوبارہ ملنے کا خیال اپنا وجود پکڑ چکا تھا۔ گھر پہنچ کر کپڑے تبدیل کرنے اور میک اَپ صاف کرکے بستر پر جانے تک اُس کے بارے میں ہی سوچتی رہی۔ اِسی سوچ میں اُس نے عمر کے فون پر گُڈ نائٹ کا میسج کر ڈالا۔ جواب کے لیے کافی دیر تک سکرین کو تکتی رہی کہ شاید کوئی ریپلائی آ جائے۔ آنکھوں میں نیند کی پری نے بسیرا کر لیا، مگر عمر کا ریپلائی آنا تھا اور نہ آیا۔اُس رات عمر کو جلد سونا تھا۔ صُبح سامعہ سے ملاقات کرنے کے لیے جلدی اُٹھنا بھی توتھا۔
٭……٭……٭……٭
’’کبیر بیٹا! واپسی پر ذرا مجھے اپنی خالا کے گھر لے چلنا۔‘‘ سلمیٰ بیگم نے ناشتہ کرتے ہوئے کبیر علی کو تاکید کی۔
’’جی ٹھیک ہے اماں جان! آپ تیار رہیے گا۔ میرے آفس سے آنے کے بعد نکل جائیں گے۔‘‘
’’وہاں آج تمہارے ماموں جان بھی آرہے ہیں۔‘‘
’’خیر ہے اماں! ابھی دو دِن پہلے ہی تو ماموں جان اور آپ ہو کر آئے تھے۔‘‘ کبیر علی نے چائے کا آخری سِپ لیا اور کپ رکھ دیا۔
’’ہاں! بھائی جان سے تمہاری اور سامعہ کی شادی کی بات کی تھی۔ وہ بہت خوش ہوئے۔ وہ بھی چاہتے ہیں کہ جلد اَز جلد بات پکّی ہو جائے۔ میں نے یہ بوجھ اُن کے سر پر ہی ڈال دیا کہ وہ تمہارے لیے تمہارے خالو سے سامعہ کا ہاتھ مانگیں۔‘‘ سلمیٰ بیگم نے خوش ہوتے ہوئے بتایا تو کبیر علی نے کندھے اُچکائے۔
’’جیسی آپ کی مرضی اماں! لیکن ابھی میں چاہتا تھا کہ خالو جان کی حالت ذرا اور بہتر ہو جاتی تو…‘‘
’’وہ اب بہت بہتر ہیں۔ ڈاکٹرز پُراُمید ہیں اور ابھی تو صرف بات پکّی ہوگی۔ کون سا نکاح ہو رہا ہے…؟ رُخصتی میں سال چھے مہینے تو لگیں گے۔‘‘ انہوں نے کبیر علی کو سمجھایا۔
’’کس کا نکاح اماں! کس کی رُخصتی…؟‘‘ اَندر آتی ثنا نے اماں کی آدھی بات سُن کر پوچھا۔
’’آج تمہارے بھائی کی بات سامعہ سے پکّی کرنے جا رہی ہوں۔‘‘ انہوں نے مُسکرا کر ثنا کو دیکھا تو وہ جیسے خوشی سے ناچ اُٹھی ۔
’’اَرے واہ بھائی! اتنی بڑی خوش خبری۔‘‘ وہ آگے بڑھ کر کبیر علی کے گلے لگ گئی۔ اُسے واقعی بہت خوشی تھی۔ اتنی ساری پریشانیوں کے بعد ایک بڑی خوشی اُن کے خاندان میں عرصے کے بعد آئی۔
’’ اماں میں بھی چلوں گی آپ کے ساتھ…‘‘
’’ہاں! ہاں!! ضرور… سب چلیں گے۔ تم بھی چلنا۔ بس ذرا بھائی جان کو فون کر کے ٹائم بتا دوں۔ ناہید سے بھی کہہ دوں۔‘‘ وہ اُٹھتے ہوئے بولیں۔
’’ٹھیک ہے اماں! آپ جو بہتر سمجھیں میں آفس کے بعد آپ کو لے چلوں گا ۔‘‘ وہ دروازے سے نکلتے ہوئے بولے۔ ثنا نے بھائی کو دیکھتے ہوئے شرارت سے آنکھیں مٹکائیں۔ انہوں نے بھی آنکھیں نکالیں اور اماں کی طرف اِشارہ کیا کہ ذرا تمیز سے رہو، اماں بیٹھی ہیں۔ ثنا ہنس پڑی۔
’’کس زمانے کے اِنسان ہیں میر ے بھائی!… لڑکے تو اپنی شادی کا ذِکر سُن کر خوب گپیں لگاتے ہیں اور یہ شرما رہے ہیں…‘‘ اُسے بھولے اور معصوم سے کبیر علی پر پیار آگیا۔ ویسے بھی وہ دِل سے چاہتی تھی کہ جلد اَز جلد کبیر علی کی سامعہ سے شادی ہو جائے۔ بھائی کی شادی میں وہ اپنے دِل کے سار ے اَرمان نکال سکے۔ بہت دِنوں کے بعد دونوں گھرانوں میں خوشی کا موقع آرہا تھا۔ وہ اُسے پوری طرح اِنجوائے کرنا چاہتی تھی۔
٭……٭……٭……٭
سامعہ کا دِل صُبح سے ہی گھبرا رہا تھا۔ اُسے ڈاکٹر سے مشورے اور ابا کی دوائی کے بہانے گھر سے نکلنا تھا، لیکن پہلی بار ایسے جھوٹ نے اُس کے اَندر عجیب سی گھبراہٹ پیدا کر دی تھی۔ اماں سے جھوٹ بول کر کبھی باہر نہیں گئی تھی۔ یہ ایسا کام تھا، جس کے لیے اُسے خود بھی شرمندگی ہو رہی تھی… مگر کیا کریں…؟ اُس نے اپنا دِل پکّا کیا۔ کبھی کبھی ہمیں وہ کام بھی کرنے پڑتے ہیں جس کی دِل تو اجازت دے، مگر دماغ نہیں اور وہی کام اکثر غلط ہوتا ہے۔ وہ جانتی تھی کہ ایک غلط کام کرنے جا رہی ہے، مگر عمر آفندی کو اب وہ کسی صورت کھونا نہیں چاہتی تھی۔ اِسی لیے ناشتے کے بعد ابا کو اُن کی ساری دوائی دے کر اجازت کے لیے اماں کے پاس آئی۔ اماں کسی سے بات کرنے کے بعد فون بند کر رہی تھیں۔
’’کس کا فون تھا اماں…؟ اُس نے چادر اوڑھتے ہوئے ماں سے سوال کیا۔
’’تمہاری خالہ تھیں، کہہ رہی تھیں شام کو بھائی جان اور ثنا کے ساتھ آؤں گی۔‘‘ اُن کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ تھی۔
’’پھر…؟‘‘
’’ پھر کیا میں نے کہہ دیا کہ جَم جَم آؤ، تمہارا اپنا ہی گھر ہے۔‘‘ آج وہ بہت دِنوں کے بعد دِل سے مُسکرائیں۔
’’اماں! وہ تو تین دِن پہلے بھی آئیں تھیں۔ اِس میں اِتنا مُسکرانے کیا بات ہے…؟ اُسے واقعی اماں کی مُسکراہٹ سے عجیب سی گھبراہٹ ہو رہی تھی۔
’’ویسے تم چادر اوڑھ کر کہاں جا رہی ہو…؟‘‘ انہوں نے اُس کے ہاتھ میں فائل دیکھ لی تھی۔
’’اماں! ڈاکٹر کے پاس جا رہی ہوں۔ انہوں نے ابا کی کچھ دوائیاں تبدیل کرنا تھیں۔ اُن کی حالت ایسی نہیں کہ ساتھ لے کر جایا جا سکے۔‘‘ اُس نے کُھل کر جھوٹ بولا۔
’’تو تم اکیلی کیوں جا رہی ہو…؟ کبیر کو بُلا لیتیں۔‘‘ انہوں نے سمجھایا۔
’’اماں! کبیر بھائی اپنے آفس میں اتنا بِزی ہوتے ہیں۔ اب ہر کام کے لیے تو اُن کو تکلیف نہیں دی جا سکتی۔‘‘ وہ اُسے اکیلے بھیجنے پر تیار نہ تھیں۔
’’اَرے اماں! ابا کی دوائی ضروری ہے۔ میری رات ہی ڈاکٹر سے بات ہوئی تھی۔ اُس نے کہا کہ دوائی بدل لیں اور اِس میں ناغہ مت کرنا ورنہ……‘‘ وہ ہر قیمت پر اماں کو منانا چاہتی تھی۔ اُس کی آخری بات پر وہ رضا مند نظر آرہی تھیں۔
’’اچھا! دیکھو جلدی آ جانا۔ دیر مت کرنا۔‘‘ اُنہیں بالآخر اُسے اجازت دینی پڑی۔ وہ دَھڑکتے دِل سے گھر سے نکل پڑی۔ اماں نے اُس پر آیت الکرسی پڑھ کر پھونکی اور چلتے چلتے پھر تاکید کی کہ جلدی آجائے، کیوں کہ شام کو مہمانوں کے لیے کھانا بھی بنانا ہے۔
گلی کے نُکڑ پر عمر آفندی اپنی کار لیے کھڑا تھا۔ اُس نے چادر سے اپنامنہ چُھپایا ہوا تھا۔ ڈرتی تھی محلّے کا کوئی شخص نہ دیکھ لے۔ پچھلی بار وہ پچھلی سیٹ پر بیٹھی عمر کی بیک مرر سے گُھورتی نگاہوں سے مشکل میں رہی، لیکن اِس بار ساتھ بیٹھے عمر نے اُس پر جیسے اپنی نگاہیں گاڑ دی تھیں۔ وہ اِک بار پھر اُس کی بے باک نگاہوں سے پزل ہو گئی اور کار کے دروازے سے تقریباً چپک گئی۔
’’کیا یار…! یہ کیا شامیانہ پہن کر آئی ہو…؟ بندہ دِل بھر کر دیکھ بھی نہیں سکتا۔ اُتار کر ایک طر ف رکھو۔‘‘ عمر نے ہاتھ بڑھا کر اُتارنے کی کوشش کی تو وہ اپنی جانب سمٹ گئی۔
’’نہیں نہیں… پلیز!‘‘ سامعہ نے گھبرا کر کہا۔ عمر نے اُس کی گھبراہٹ سے مزہ لیتے ہوئے بھرپور قہقہہ لگایا۔
’’واقعی تم بہت ڈر پورک ہو۔ مجھے تو حیرانی ہے کہ تم اِس وقت میرے ساتھ کار میں کیسے بیٹھی ہو۔‘‘ وہ اُس کا مذاق اُڑا رہا تھا۔ اُسے بالکل اچھا نہ لگا۔
’’ میں ڈرپورک نہیں ہوں۔ بس ڈرتی ہوں کہ کوئی دیکھ نہ لے ۔‘‘ منہ بناتے ہوئے اُس نے دِل کی بات کی۔
’’دیکھ لے تو کیا فرق پڑتا ہے۔‘‘ عمر نے بے پروائی سے کندھے اُچکائے۔
’’آپ کو فرق نہیں پڑتا ہوگا۔ مجھے تو پڑتا ہے۔‘‘ اِس بار وہ تھوڑا تلخ ہوئی۔ کتنا بے رحم تھا۔ اُس کی حالت سے لُطف اُٹھا رہا تھا۔ تھوڑی دیر کے لیے عمر خاموش ہو گیا۔ اُسے شاید اپنی غلطی کا اِحساس ہو گیا تھا اِس لیے ریسٹورنٹ تک کا راستہ بہت خاموشی سے کٹا۔ وہاں پہنچ کر بھی وہ بہت محتاط ہو کر اِدھر اُدھر دیکھتی رہی کہ کہیں کوئی جاننے والا نہ مل جائے۔ پہلی بار چوری کرنے والا شاید اِتنا ہی محتاط ہوتا ہوگا۔ شیطان جب بُرے کام کا بیج دِل میں بو دے تو پھر کوئی کام بُرا نہیں رہتا اور یہ سامعہ کی پہلی چوری تھی، جو پہلی بار بُری لگ رہی تھی… گھر والوں سے چُھپ کر عمر سے باہر ملنا شاید اُس کے ماں باپ تو کیا اُس نے خود بھی کبھی نہیں سوچا ہوگا۔ عمر نے پوچھا کہ وہ کیا کھائے گی…؟ سامعہ نے اِنکار کر دیا۔
’’میرا موڈ نہیں کچھ بھی کھانے کو۔ (حالاں کہ آج اُس نے گھبراہٹ میں ناشتہ بھی نہیں کیا) پلیز! میں زیادہ دیر نہیں رُک سکتی۔ گھر میں اماں پریشان ہو ں گی۔‘‘ اُس کی ہتھیلیاں پسینے سے بھیگی ہوئی تھیں۔
عمر پہلی بار کسی لڑکی کی ایسی گھبراہٹ دیکھ رہا تھا۔ اپنے اِردگرد رہنے والی تتلیوں کو تو اُس نے ہمیشہ اپنے گرد منڈلاتے ہی دیکھا تھا۔ اب وہ خود بھنورا بنا ایک پُھول کے گرد منڈلا رہا تھا۔ اُس سے کھانے یا پینے کی ریکوئسٹ کر رہا تھا۔ کیا مزے دار تجربہ تھا۔عمر نے کبھی سوچا نہ تھا کہ اُسے ایسی صورتِ حال کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔ سامنے بیٹھی سامعہ بھی کوئی عام لڑکی نہ تھی۔ ایک خوب صورت لڑکی، جس نے شاید پہلی بار عمر جیسے لڑکے کے دِل میں کوئی نرم گوشہ بنایا تھا۔ کیا یہ نرم گوشہ محبت تھی…؟ عمر نے خود سے سوال کیا… لیکن کوئی جواب نہ آیا… تو پھر میں اِس کے پیچھے اتنا پاگل کیوں ہو رہاہوں…؟ اِس کے نخرے کیوں اُٹھا رہا ہوں…؟ کچھ نہ کچھ تو ہے۔
’’اچھا! چلو کچھ نہ کھاؤ۔ گرمی ہے کولڈ ڈرنک تو لے لو…‘‘ یہ کہہ کر اُس نے بیرے کو ہاتھ ہلا کر بُلایا اور دو کولڈ ڈرنکس لانے کے لیے کہا۔
’’تمہیں پتا ہے تم سادگی میں بھی کتنی خوب صورت لگ رہی ہو…؟‘‘ شیطان نے عمر کے ہاتھ میں بنتِ حوا کو گھیرنے کے لیے ایک پتا تھمایا اور عمر نے پتاکھیل لیا۔ بنت ِحوا کا دِل پگھل کر عمر کے قدمو ں میں تھا۔ اپنی تعریف سُننا بنتِ حوا کی سب سے بڑی کمزوری تھی۔ وہ ایک دَم لجا کر رہ گئی۔ خدایا! یہ شخص کتنا بے باک ہے۔ ذرا شرم و لحاظ نہیں… فون پر یہ باتیں کرنا اور بات ہے، لیکن ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھ کر سُننا کتنا مشکل ہے۔
’’تمہیںپتا ہے، تمہیں کیا شے خوب صورت بناتی ہے…؟‘‘ عمر نے اُس سے پھرسوال کیا تو اُس سے سر بھی نہیں ہلایا گیا۔
’’تمہاری خوب صورتی میں سب سے بڑا ہاتھ تمہاری معصومیت اور تمہاری سادگی ہے۔ جو مجھ جیسے کسی بھی آوارہ شخص کو راستے میں ٹھٹک کر رُکنے پر مجبور کر دیتی ہے۔‘‘ وہ مڈل کلاس کی لڑکی سے اسی انداز میں بات کر رہا تھا، جس انداز میں وہ سُننا چاہتی تھی۔
سامعہ سحر زدہ سی اُس کی صورت تَک رہی تھی کہ بیرا کولڈ ڈرنک لے آیا۔ تو دونوں کو چونکنا پڑا۔ دونوں ایک گھنٹہ مزید وہاں بیٹھے باتیں کرتے رہے، جس میں وہ صرف اُس کی تعریفیں ہی کرتا رہا۔ سامعہ کا دِل چاہ رہا تھا کہ وہ بولتا رہے اور وہ سُنتی رہے، وقت کبھی نہ ختم ہو۔ یہیں رُک جائے۔
’’ویسے آگے تمہارا کیا پلان ہے…؟ یونی ورسٹی میں داخلہ لے لو یار۔ اِسی بہانے ہم روز مل سکیں گے پھر تمہیں ڈاکٹر کا بہانہ بنا کر باہر نہیں نکلنا پڑے گا۔‘‘ عمر نے اچانک اُس سے سوال کیا تو وہ تقریباً رو دینے والی ہو گئی۔
’’ابا جی نہیں مانیں گے۔ وہ تو خالہ جان کی وجہ سے میں نے بی اے کر لیا۔ ورنہ ابا جی تو اِس حق میں بھی نہ تھے۔‘‘ اُس نے شرمندگی سے کہا۔
’’یار! دُنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور ہم ابھی تک اپنی بیٹیوں کو آگے پڑھانے کے خلاف ہیں۔‘‘ اِس بار وہ قدرے غُصّے میں بولا۔
’’بس ابا جی اب میری شادی کرنا چاہتے ہیں، اِس لیے آگے نہیں پڑھانا چاہتے۔‘‘ اُس نے اپنی بات مکمل کرکے چور نظروں سے عمر کی طرف دیکھا کہ اِس کے کیا تاثرات ہیں۔
’’لیکن آج کل اتنی جلد شادی کون کرتا ہے۔ میں تو اتنی جلدی شادی کو بے وقوفی سمجھتا ہوں۔ پہلے اپنی زندگی تو اِنجوائے کر لو۔ عمر پڑی ہے پھر شادی بھی ہو جائے گی۔’’ وہ بے پروائی سے بولا۔
’’ہماری کلاس میں عورت کے لیے شادی ہی زندگی کی اِنجوائے منٹ ہے۔ باقی ساری اِنجوائے منٹس تو مردوں کے لیے ہیں۔‘‘ اِس بار اُس کے لہجے میں ہلکی سی تلخی تھی۔
’’اباجی اپنی بیماری کو دیکھتے ہوئے زیادہ اِنتظار نہیں کر سکیں گے اور جلد اَز جلد میری رُخصتی کر دیں گے۔‘‘ اُسے عمر کی بات سخت بُری لگی وہ شاید اِس بات پر اُس سے کچھ اور سُننے آئی تھی۔
’’اَرے واہ! یہ کیا بات ہوئی۔ تم صاف اِنکار کر دینا۔ کہنا کہ ابھی تم شادی نہیں کرنا چاہتی، بلکہ پڑھنا چاہتی ہو۔‘‘ عمر نے بڑھاوا دیا۔ وہ اُس سے شادی کی بات کر کے پھنسنا نہیں چاہتا تھا۔ ایک بارشادی کی بات کر لی تو اُس نے بار بار اِصرار کرنا ہے۔ شادی کا لارا دینے اور شادی کرنے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اُسے دانا اِسی انداز میں ڈالنا تھا کہ چڑیا بھی پھنس جائے اور اُس کا دانا بھی ضائع نہ ہو۔
’’اگر آپ ابھی اپنی زندگی اِنجوائے کرنا چاہتے ہیں تو کیجئے۔ پھر مجھے یہاں کیوں لائے ہیں…؟ اِس بار وہ اُس کی بات سمجھتے ہوئے قدرے تلخی سے بولی۔ نہ جانے اُس نے عمر سے کیسی توقعات وابستہ کر لی تھیں۔ عمر اُس کے اچانک غُصّے پر چونک گیا۔ سُرخ چہرے کے ساتھ وہ بیگ اُٹھا کر دروازے کی جانب بڑھ گئی۔ عمر کو اُس کے غصّے کی وجہ سمجھ نہ آئی۔ وہ اُس کے پیچھے لپکا، لیکن اِتنی دیر میں کہ وہ بیرے کو پیمنٹ کرتا۔ سامعہ ایک رکشہ روک کر اُس میں بیٹھ کر جا چکی تھی۔ وہ شدید ہرٹ ہوئی تھی۔ اُسے محسوس ہو گیا تھا کہ عمر اُس کے ساتھ ٹائم پاس کر رہا ہے۔ ورنہ شادی کی بات پر کوئی نہ کوئی ایسی بات تو ضرور کرتا، جس سے اُسے اِحساس ہوتا کہ وہ اُس میں انٹرسٹڈ ہے اور شادی کرنا چاہتا ہے۔ اُس نے تو صاف کہہ دیا کہ وہ ابھی زندگی اِنجوائے کرنا چاہتا ہے۔ شادی اُس کی پلاننگ میں کہیں شامل نہیں۔
٭……٭……٭……٭
گھر پہنچ کر وہ اماں کے سوالات سے بچنے کے لیے نہانے گُھس گئی۔ اُونچی اُونچی آواز میں رونے کا دِل کر رہا تھا۔ اندر شاور کھول کر وہ پانی کے نیچے دِل کھول کر روئی۔ پہلی بار دِل کسی سے ملا اور اُس سے قسمت نہیں ملی۔ قسمت کی گٹھڑی بھی عجب ہے۔ کھولنے پر کبھی بھی ہماری پسند کی شے نہیں ملتی۔ جو ملتی ہے وہ ہمیں اکثر پسند نہیں آتی۔ اُسے شدید دُکھ تھا کہ عمر کی باتوں پر اِعتبار کرکے اُس نے عمر بھر کے لیے ایک دُکھ مول لے لیا تھا۔ وہ پہلا شخص تھا جس نے اُس کی دِل کی زمین پر اپنی محبت کا بیج بویا تھا۔ بے شک یہ بیج دُنیا کی نظر میں پروان نہ چڑھے، مگر اب خود سامعہ کی ساری زندگی اِسی پوشیدہ اور نادیدہ محبت کے شجر کے سائے بسر ہوگی۔ وہ روتے روتے تھک گئی۔ خود کو سمجھایا کہ غلطی تمہاری اپنی تھی سامعہ بی بی۔ ایک ایسے شخص کی باتوں پر اعتبار کر لیا، جس کے لیے سیما نے اُسے بہت سمجھایا تھا، لیکن دِل کی آواز پر اُس نے آنکھوں پر پٹی باندھ کر اپنے کان بھی بند کر لیے… اب پچھتا رہی تھی… دروازے پر اُونچی اُونچی دستک ہو رہی تھی… اماں کو اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ آگئی ہے۔ کمرے میں آئیں تو اٹیچڈ باتھ کا دروازہ بند دیکھ کر زور زور سے کھٹکھٹایا۔ وہ تولیہ بالوں پر لپیٹتی باہر نکل آئی۔
’’ماں باہر بہت گرمی تھی۔ میں نے سوچا پہلے نہا لوں، پھر بات کروں گی۔‘‘ اُس نے اماں کے سوال کرنے سے پہلے ہی اُنہیں جواب دیا۔
’’کیا کہا ڈاکٹر نے…؟‘‘
’’ اماں بس چند دوائیاں بدلی ہیں۔ وہ میں لے آئی ہوں۔ شام سے دینا ہیں ابا جی کو۔ وہ کہہ رہے تھے کہ فزیو تھراپسٹ کو گھر بلوا کر ابا کی تھراپی بھی کروائیں۔‘‘ اُس نے بالوں سے پانی خشک کیا اور تولیہ کرسی پر پھیلا دیا۔
’’شام کو کبیر آئے گا۔ اُس سے بات کرنا۔ وہ کسی نہ کسی فیزیو تھراپسٹ کا اِنتظام کر دے گا۔‘‘وہ آج کل ہر کام میں کبیر کو اہمیت دے رہی تھیں۔
’’جی ٹھیک ہے۔ مجھے بتائیں شام کے لیے کیا پکانا ہے۔‘‘ اُس نے بات ٹالنے کے لیے کمرے سے نکلتے ہوئے اماں سے پوچھا۔
’’مرغی کا پیکٹ میں نے نکال کر پانی میں بھگو دیا ہے۔ کڑاہی بنا لو اور ساتھ مٹر پلاؤ اور رائتہ…‘‘
’’ میٹھا کیا بنانا ہے…؟‘‘ اُسے معلوم تھا کہ خالہ اور کبیر علی کو میٹھا بہت پسند تھا… حالاں کہ خالہ کو شوگر تھی، لیکن کھانے سے پہلے میٹھے کا ضرور پوچھتیں کہ کیا بنا ہے…؟ سب میٹھا کھانے سے منع کرتے تو فوراً کہتیں کوئی بات نہیں۔ اِنسولین کا ایک یونٹ اور لگا لوں گی… ابھی تو میٹھا کھانے دو۔
’’دیکھو! بیسن اور سوجی رکھا ہے تو حلوہ بنا لو۔ بھائی جان کو بیسن اور سوجی کا حلوہ بہت پسند ہے، مگر پہلے تم کھانا کھا لو پھر یہ سب کرنا۔‘‘ اُنہیں یاد آیا کہ ایک بج چکا ہے اور اُس نے ابھی تک کھانا نہیں کھایا۔
’’ابا جی اور آپ نے کھا لیا…؟‘‘ سامعہ نے پوچھا۔
’’ہاں! اُن کو کِھلانے کے بعد میں نے بھی ایک روٹی کھا لی تھی۔ اب تم پہلے کھانا کھاؤ۔ میں کچھ دیر آرام کر لوں۔‘‘
’’جی اماں! آپ آرام کریں۔ میں پہلے نماز پڑھوں گی اور پھر کھانا کھاؤں گی۔‘‘ یہ کہہ کر وہ لاؤنج میں آگئی۔
’’وہ آج اللہ سے دِل بھر کر معافی مانگنا چاہتی تھی۔ اُس سے جو غلطی ہوئی شاید اُس کی معافی کسی صورت نہیں ہو سکتی۔ ایک غیر مرد سے ملنا اور وہ بھی تنہائی میں، معافی والا کام تو نہ تھا، لیکن پھر بھی وہ اپنے ربّ کی رحمت سے مایوس نہ تھی… جائے نماز پر بِلک بِلک کر روتی سامعہ اپنا دُکھڑا اپنے ربّ کے آگے رو کر ہلکی ہو گئی۔ اُس نے فیصلہ کر لیا کہ اب کسی صورت عمر کو فون نہیں کرنا۔ کچھ بھی ہو جائے، اب بات نہیں کرنا۔
٭……٭……٭……٭
اُدھر عمر اِس طرح اچانک سامعہ کے اُٹھ کر چلے جانے پر ہکاّ بکاّ تھا۔ اُسے اندازہ نہ تھا کہ سامعہ کا رِی ایکشن اتنا سخت ہوگا۔ وہ تو سمجھ رہا تھا چند ملاقاتوں کے بعد چکنی چپڑی باتوں سے وہ اُسے اپنی لائن پر لے آئے گا، لیکن وہ تو پہلی ملاقات میں ہی اُس کو اچھی طرح سمجھ گئی تھی کہ اُس کا مقصد صرف فلرٹ کرنا تھا، شادی نہیں۔ وہ صرف اُس سے دِل لگی کر رہا تھا۔ دِل بھر جائے گا تو دوسری لڑکیوں کی طرح اُسے بھی چھوڑ دے گا۔ اُس نے کار میں بیٹھ کر اُسے فون ملایا، لیکن ’آپ کا مطلوبہ نمبر فی الحال بند ہے‘ کے میسج نے اُسے سخت مایوس کیا۔ اُس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اب وہ ایسا کیا کرے، جس کے بعد وہ دوبارہ سامعہ سے بات کر سکے۔ عمر کے لیے وہ ٹیڑھی کھیر ثابت ہو رہی تھی۔ اُس کا یہی رویہ عمر کے اندر آگ لگا رہا تھا۔ تمہیں میں اتنی آسانی سے ہاتھ سے نہیں جانے دوں گا سامعہ… بُھول جاؤ کہ تم گھر بیٹھ کر مجھ سے چُھپ سکتی ہو… لیکن میں ایسا کیا کروں جس سے سامعہ سے دوبارہ رابطہ ہو سکے۔ عمر کی پوری شام اِسی سوچ بچار میں کٹ گئی۔ اُس کا موڈ سخت آف ہو چکا تھا۔ ایسے میںاچانک ایمن ملک کا فون آیا تو اُس کے اندر لگی ہوئی آگ پر جیسے ٹھنڈے پانی کے چھینٹے پڑ گئے… ایمن اُس سے رات کا پروگرام پوچھ رہی تھی… چوںکہ وہ فارغ تھا، اِس لیے دونوں نے رات کے ڈنر کے بعد ایک نئی انگلش مووی کا پلان بنا لیا۔ وہ اُس کے ساتھ اچھا وقت گزارنا چاہتا تھا۔
٭……٭……٭……٭
شام کو اُس نے جلدی جلدی کھانا بنایا۔ ابھی سوجی اور بیسن کا حلوہ بنانا باقی تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ وہ بیسن بُھون چکی تھی اور اب دیگچی میں سوجی بھون رہی تھی۔ اِس لیے چھوڑنا ممکن نہ تھا۔ اماں نے دروازہ کھولا۔ تھوڑی دیر بعد ثنا کچن میں اُسے ڈھونڈتی ہوئی آگئی۔
’’السلام علیکم! ڈیئر کہاں چھپی ہوئی ہو…؟‘‘ ثنا اُس کے گلے لگتے ہوئے بولی۔
’’کچن لڑکیوں کے لیے پہلی پناہ گاہ ہوتا ہے، مگر کبھی کبھی یہ پناہ گاہ جیل بھی بن جاتی ہے۔‘‘ اُس نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’صُبح سے اماں کی یہی نصیحت سُن رہی ہوں۔ آج میری بہن اور بھائی جان آرہے ہیں، کسی چیز میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔‘‘ وہ منہ بنا کر ثنا کو چِڑاتے ہوئے بولی۔
’’بہن اور بھائی جان اب خاص ہونے جا رہے ہیں نا۔‘‘ ثنا نے معنی خیز انداز میں جواب دیا۔
سامعہ نے چونک کر اُسے دیکھا۔ ثنا نے اُسے دوبارہ گلے لگا لیا۔
’’آج ہم سب ایک بہت خاص بات کرنے آئے ہیں۔‘‘
’’کیسی خاص بات…؟‘‘ اُس نے حیرانی سے پوچھا۔
’’یہ تو تمہیں امی ہی بتائیں گی۔ ابھی سرپرائز رہنے دو۔ بس ذرا بڑوں میں بات ہو جائے تو خود ہی پتا چل جائے گا۔‘‘ ثنا نے سرپرائز کھولنا مناسب نہ سمجھا۔
’’ثنا بیٹا یہ مٹھائی کا ڈبا لو اور مٹھائی کسی پلیٹ میں نکال لو۔‘‘ اماں نے مٹھائی کا ڈبا ثنا کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا تو سامعہ کے کانوں میں جیسے سیٹیاں بجنے لگیں۔
’’سامعہ! خالہ اور سب کے لیے چائے لے کر اندر آجاؤ۔ خالہ بُلا رہی ہیں۔‘‘ اماں اُسے حکم دیتی ہوئی نکل گئیں۔ اُس نے مرے مرے ہاتھوں سے کیتلی چولہے پر چڑھائی اور بہ مشکل چائے بنائی۔ ثنا ہاتھ میں پلیٹ لے کر اندر کی جانب بڑھ گئی تھی ، لیکن اندر جانے سے پہلے اُس کے سر پر دوپٹہ اوڑھا گئی۔ اُس نے اندر جا کر سب کو بآواز بلند سلام کیا۔ خالہ جان نے اُٹھ کر اُسے گلے سے لگا لیا۔ ماموں جان نے بھی سر پر ہاتھ رکھا۔ کبیر علی کن آنکھیوں سے اُسے دیکھ رہے تھے۔ خالہ جان پوری تیار ی سے آئیں تھیں۔
’’لیں بھائی جان! منہ میٹھا کریں۔ اللہ دونوں کی جوڑی سلامت رکھے۔‘‘ خالہ جان نے گلاب جامن اُٹھا کر حاجی صاحب کی طرف بڑھایا، جو انہوں نے مُسکرا کر تھام لیا۔
’’آپ سب کو مبارک ہو یہ رشتہ…‘‘ وہ ابا جی کی اِس بات پر چونک گئی اور اب مزید اُس کے لیے وہاں بیٹھنا مشکل ہو گیا۔ وہ ایک دَم اُٹھ کر کچن کی طرف آگئی۔ آنسوؤں سے اُس کا چہرہ تر ہوگیا تھا۔ یا اللہ میری قسمت کی گٹھڑی اِتنی جلدی کُھل گئی۔ بے شک عمر آفندی جیسا شخص میری قسمت میں نہ تھا، لیکن کبیر علی بھی تو میرے دِل میں نہیں اُترتے۔ اُنہیں کبھی اِس نظر سے نہیں دیکھا۔ ثنا کے ساتھ وہ بھی اُنہیں بھائی کہتی اور سمجھتی تھی۔ ایسا رشتہ تو کبھی سوچا ہی نہ تھا۔ کمرے میں موجود سب لوگوں نے اُس کے ایسے اُٹھ کر جانے کو شرم سمجھا۔ ثنا ایک لڈو اُٹھا کر اُس کے پیچھے لپکی، لیکن روتے دیکھا تو ٹھٹھک گئی۔
’’اَرے رو کیوں رہی ہو…؟‘‘ وہ اُس کے چہرے پر موجود آنسو دیکھ کر پریشان ہو گئی۔
’’اَرے کیا ہوا۔ پلیز! بتاؤ تو سہی…؟‘‘
’’کچھ نہیں۔ بس اتنی جلد یہ سب کیسے…؟‘‘ سامعہ نے بات بنائی۔
’’اتنی جلد کچھ بھی نہیں ہوا۔ خالو جان کی خواہش پر ہی یہ رشتہ طے ہو رہا ہے۔ ورنہ اماں تو کہہ رہی تھی کہ اُن کے صحت یاب ہونے تک اِنتظار کر لیتے ہیں، لیکن وہ بہ ضد تھے کہ کم از کم بات ہی طے کرلی جائے۔ شادی چھے ماہ کے بعد رکھی جائے گی۔‘‘ ثنا نے اُسے سمجھایا۔ اُسے معلوم تھا کہ ابھی تازہ تازہ حادثے نے اُس کے دِل کو موم کر دیا ہے۔ یقینا وہ اتنی جلدی یہ سب نہیں چاہتی، لیکن مجبوری تھی۔ اِنکار بھی نہیں کر سکتی تھی۔ کس کے بھروسے پر اِنکار کرتی۔ وہ تو اُس سے فلرٹ کر رہا تھا اور سامعہ کی زندگی میں فلرٹ کا نہ تو ٹائم تھا اور نہ ہی گنجائش، اِس لئے خاموش ہو جانا ہی اُس کے لیے ضروری تھا۔
’’ سامعہ کیا تمہیں اِس رشتے سے خوشی نہیں ہے…؟‘‘ ثنا نے سامعہ کو روتے دیکھ کر پوچھا تو سامعہ نے نفی میں سر ہلا دیا۔
’’نہیں۔ بس ابھی اتنی جلدی یہ سب۔ میرا ذہن تیار نہیں۔ دیکھو ظفر ہوتا تو اِس وقت ماحول ہی کچھ اور ہوتا وہ نہیں ہے تو خوشی کیسی۔‘‘ سامعہ نے دِل کے درد کو ایک اور درد سے بدل کر اپنے رونے کی وجہ بتائی۔ واقعی لڑکیوں کے پاس رونے کے بعد یہ کمال بھی ہوتا ہے کہ بڑی آسانی سے اپنی اصل وجہ چُھپاتے ہوئے سامنے والے کو مطمئن کر سکیں۔ جیسے کہ اُس وقت اُس نے اپنے رونے کی جو وجہ بیان کی وہ بھی حقیقت ہی تھی۔
’’یعنی تمہیں میری بھابھی بننے پر کوئی اِعتراض نہیں۔‘‘ وہ خوشی سے چِلّائی۔
’’تو پھر یہ لڈو رکھو منہ میں اور میرے گلے لگ جاؤ۔‘‘ ثنا نے جذباتی ہو کر لڈو سامعہ کے منہ میں رکھا تو اُس نے تھوڑا سا کُتر کر چھوڑ دیا۔
’’اَرے بھئی کیا ہو رہا ہے یہاں…؟ ‘‘ کبیر علی سے بھی نہ رہا گیا۔ وہ اُٹھ کر اندر کچن میں ہی آگئے۔ کسی نے صحیح کہا ہے شادی کی بات پر اچھے سے اچھا سمجھ دار اِنسان بھی گاؤدی بن جاتا ہے۔
’’یہ لیں بھائی! سامعہ کا بچا ہوا لڈو منہ میں رکھ کر اپنی آئندہ زندگی کی اِبتدا کریں۔ اُسے اِس رشتے سے کوئی اِنکار نہیں۔‘‘ ثنا نے بقیہ لڈو کبیر علی کے منہ میں رکھ دیا۔
سامعہ منہ موڑے مسلسل آنسو بہا رہی تھی۔ ثنا کو کبیر علی نے باہر جانے کا اِشارہ کیا تو وہ کچن سے باہر نکل گئی۔
’’سامعہ! شکریہ اِس رشتے کو مان دینے کا۔ مجھے کچھ اُمید تھی کہ تم اِنکار نہیں کرو گی، لیکن دِل میں کہیں ایک ڈر بھی تھا کہ رِیجیکٹ نہ کر دیا جاؤں۔ میںاپنی پوری کوشش کروں گا کہ قسمت نے ہمیں جس رشتے میں باندھا ہے۔ اُسے پوری طرح سے نبھایا جائے۔ تمہاری ہر خواہش پوری کرنا میرا فرض ہوگا۔ بس کچھ مشکل وقت ہوگا، جو گزرجائے تو زندگی آسان ہو جائے گی۔‘‘
سامعہ کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اُن کی بات کا کیا جواب دے۔ بس منہ موڑے کھڑی رہی۔
’’سامعہ! اجازت ہے تم سے فون پر کبھی کبھار بات کر سکتا ہوں…؟‘‘ کبیر علی نے اُس سے اجازت طلب کی۔ وہ پہلے بھی اُس سے بات کرنے میں محتاط تھے اور اب بھی ہر چیز اُس کی پوری اجازت سے کرنا چاہتے تھے۔ کبیر نے اُس کی خاموشی کو اِنکار سمجھا۔ نہیں کوئی بات نہیں۔ اگر تم پسند نہیں کرتی تو کوئی بات نہیں۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اندر سے ماموں جان کے بُلاوے پر کبیر علی کمرے کی طرف بڑھ گئے۔ سامعہ نے اپنے مستقبل کے بارے میں سوچا تھا، لیکن ایسا نہیں… اُس کے دِل میں کبیر علی کے لیے کسی قسم کے الگ جذبات پیدا ہی نہیں ہو رہے تھے… اُس نے ایک لمحے کو سوچا کہ وہ اب اُس کے منگیتر ہیں، لیکن تصور نے قبول ہی نہ کیا… کوئی جذبہ، کوئی خوشی پیدا ہی نہیں ہوئی… سارے جذبات عمر آفندی کی چند روزہ محبت… ( اُسے محبت بھی کہا جا سکتا تھا یا نہیں) میں صَرف کر دئیے… اب کبیر علی کے لیے کیا بچا تھا… وہ اُسے منگنی سے پہلے بھی بڑے بھائی کی طرح لگتے تھے اور اب بھی دِل میں اُن کے نام کا کوئی شگوفہ نہیں پُھوٹا… وہ بہت تکلیف میں تھی۔ کیسے کٹے گی اِن کے ساتھ ساری عمر… وہ تو زندگی کو بہت رومینٹک اَنداز میں گزارنے کی خواہش مند تھی۔ بالکل ویسے ہی جیسے اُس نے ناولوں اور کہانیوں میں پڑھا تھا، لیکن یہاں تو ایک نیا رشتہ جُڑنے کا کوئی اِحساس ہی نہ جاگا اُس شخص کے لیے جو اُس کی پوری زندگی کا حکمران بننے والا تھا۔ وہ بہت تکلیف میں تھی۔ آج بھی وہ عمر سے ملنے گئی تو اِسی خیال سے کہ اگر اُس نے شادی کی بات کی تو وہ اُسے کہہ دے گی کہ جلد اَز جلد اپنے نام سے باندھ لو… ورنہ میں کسی اور کے نام سے باندھ دی جاؤں گی۔ وہاں عمر کی باتوں نے اُسے اچھا سبق سکھا دیا۔ وہ تو زندگی اِنجوائے منٹ کے ساتھ گزارنے کا حامی تھا۔ اُس سے محبت او ر پھر شادی کی بیڑی کیسے ڈال سکتا تھا۔
ابھی وہ اِنہی سوچوں میں غلطاں تھی کہ اچانک اماں اندر آگئیں۔ آکر اُسے گلے لگا لیا۔ اُن کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اُن کے پیچھے پیچھے خالہ بھی تھیں جنہوں نے اُسے گلے لگا کر پیار کیا۔ ہاتھ میں پانچ ہزار کا نوٹ تھما دیا۔ اُس نے اماں کی طرف دیکھا اور اجازت طلب کی۔ انہوں نے آنکھوں کے اِشارے سے اُسے رکھنے کو کہا تو اُس نے نوٹ مُٹھی میں دبا لیا۔ وہ کیسے کیسے انہونے خواب دیکھتی تھی۔ منگنی میں اُسے منگیتر کی طرف سے ڈائمنڈ کا سیٹ ملے گا اور یہاں تو… وہ تلخی سے مُسکرا دی۔
’’بیٹا! جلدی سے کھانا لگا دو۔ ماموں جان کو دیر ہو رہی ہے۔‘‘ اماں نے اُس سے کہا تو سامعہ نے سر ہلا دیا۔ حلوہ اُن ساری باتوں میں ادھورا رہ گیا تھا۔ اُس نے اماں اور خالہ کے نکلتے ہی حلوے کو دیکھا۔ سوجی اور بیسن بُھون چکی تھی۔ شیرہ تیار کرکے جلدی جلدی اُس میں دونوں چیزیں ملا کر بُھونا۔ اتنے میں ثنا بھی کچن میں آگئی اور اُس کے ساتھ مل کر کھانا لگوانے میں مدد کرنے لگی۔ کھانا کھانے کے بعد سب رُخصت ہوئے۔ اُس نے کچن کے کام نمٹانے سے پہلے ابا کو دوائی دی۔ ابا جی نے اُس کے سر پر پیار کیا تو وہ تلخی سے مُسکرا دی۔ اپنے باقی کام مکمل کرکے کمرے میں آگئی۔ نماز پڑھی اور سونے کی کوشش کرنے لگی، مگر نیند کوسوں دُور تھی۔
اُس وقت وہ اپنی زندگی میں آئے عمر آفندی کے کردار کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ اگر میری قسمت کی گٹھڑی سے یہ کردار نہ نکلتا تو شاید زندگی زیادہ بہتر ہوتی اور وہ کبیر علی کا ساتھ قبول کر لیتی۔ ناچاہتے ہوئے بھی وہ عمر آفندی کے خیال سے پیچھا نہیں چھڑا پا رہی تھی۔ ہر خیال کا اِختتام اُسی کے خیال پر ہوتا۔ شاید یہی شیطان کا سب سے کاری وار ہوتا ہے۔جب وہ محبت اور محبوب کے نام پر آپ کو ساری عمر اِس گناہ میں مبتلا رکھتا ہے۔
٭……٭……٭……٭
آج سیما کی وارڈ روب سے خود نانو نے اُس کے لیے اپنی پسند کا ڈریس نکالا تھا۔ بلیک رنگ کے کیولاٹ پر پرپل ٹاپ میں وہ واقعی بہت خوب صورت لگ رہی تھی۔ ہلکا سا اسکارف اُس نے الماری سے نکالا اور اسٹائلش انداز میں گلے میں ڈال لیا۔ ہلکا ہلکا میک اَپ اور کانوں میں پرل کے ٹوپس اُسے عجیب سا نکھار دے رہے تھے۔ نانو نے ہزار کا نوٹ اُس کے سر پر لگا کر نظر اُتاری۔ پاس کھڑے ملازم کی طرف بڑھا دیا۔ دِل ہی دِل میں ہزاروں دُعاؤں کے ساتھ وہ اُسے رُخصت کر رہی تھیں۔ صرف اِس اُمید پر کہ اللہ اُن دونوں کو ایک دوسرے کی محبت سے سرفراز کر دے، تاکہ اُن کی بیٹیوں کی روحوں کو سکون مل سکے۔
’’کیسی لگ رہی ہوں نانو…؟‘‘ سیما نے گُھوم کر اُن سے پوچھا۔
’’میری بیٹی تو کچھ بھی پہن لے۔ ہر چیز اِ س پر سوٹ کرتی، مگر یہ رنگ تو لگتا ہے بنا ہی تمہارے لیے ہے۔ میں جب اِس رنگ میں تمہیں دیکھتی ہوں تو مجھے تمہاری ماں یاد آجاتی ہے۔ اُسے بھی یہ رنگ بہت سوٹ کرتا تھا۔ وہ جب بھی یہ رنگ پہنتی، میں ایسے ہی اُس کی نظر اُتارتی۔‘‘ اُن کی آواز بیٹی کی یاد سے بھرا گئی۔
’’اَرے نانو! آپ بھی نا بس فوراً جذباتی ہو جاتی ہیں۔ یہ بتائیں یہ شوز اِس کے ساتھ ٹھیک ہیں…؟‘‘ اُس نے بات بدلتے ہوئے نانی کو جذباتی یادوں سے نکالنے کی کوشش کی۔ نانو نے آنکھوں میں آئی نمی کو دوپٹے سے صاف کیا اور اُس کے ماتھے پر پیار کیا۔
’’میری بیٹی! سر سے پائوں تک بہت خوب صورت لگ رہی ہے۔ اللہ تمہیں اپنی امان میں رکھے۔ جاؤ اور دِل لگا کر کام کرو۔‘‘
’’کیا مطلب! آپ نہیں جائیں گی میرے ساتھ۔‘‘ اُس کے خیال میں نانو بھی ساتھ چل رہی تھیں، مگر انہوں نے جانا مناسب نہ سمجھا۔ وہ اُس میں اِعتماد دیکھنا چاہتی تھیں۔ اُنہیں اِحساس تھا کہ جتنا اِعتماد سیما میں ہونا چاہیے تھا۔ وہ اُن کے بے جا لاڈو پیار اور بے تحاشا کیئر کی وجہ سے نہیں ہے۔ عمر کے اِس حِصّے میں اُسے اپنے بہت سے فیصلے خود کرنے چاہئیں، تاکہ وہ اپنا پلّو اُس کے ہاتھوں سے چھڑا سکیں۔
’’نانو! یہ تو ٹھیک بات نہیں۔‘‘ اُس نے منہ بنایا۔
’’کچھ نہیں ہوتا۔ اکیلے جاؤ، اِعتماد بڑھے گا۔ میں نے عمر کو فون کر دیا ہے۔ وہ بھی ٹائم سے پہنچ جائے گا اور تمہیں گائیڈ کر دے گا۔‘‘ انہوں نے ماتھے پر بوسہ دیا اور اُسے سمجھایا۔ وہ سمجھ رہی تھی کہ اُس کی نانو اُس کے اور عمر کے بارے میں کیا سوچ رہی ہیں۔ وہ یہ بھی جانتی تھی کہ ایسا صرف کسی معجزے کی صورت ہی ہو سکتا ہے۔
ورنہ ایسا قطعاً ممکن نہیں۔ اُس کے چہرے پر ایک تلخ سی مُسکراہٹ پھیل گئی۔ وہ اُنہیں خدا حافظ کہتی ہوئی دروازے کی جانب بڑھ گئی۔
٭……٭……٭……٭
آج رضوان کی کانووکیشن تقریب تھی۔ شمیم صاحب نے بیڈ پر لیٹے لیٹے ہی لیپ ٹاپ کھول لیا۔ یونی ورسٹی فیس بُک پیج سے لائیو تقریب کا آغاز ہو چکا تھا۔ ایک ایک کرکے سٹوڈنٹ آ رہے تھے اور اپنی ڈگری وصول کر رہے تھے۔ اُس وقت وہاں کا موسم بہت خوش گوار تھا۔ اُن کا دِل سب دیکھ کر بہت خوش تھا۔ بچوں کے ماں باپ نے کتنا پیسا خرچ کرکے بچوں کو اِتنی دُور پڑھنے بھیجا۔ اُن بچوں نے بھی ماں باپ کا سر فخر سے اُونچا کر دیا۔ اُن کی آنکھیں ایک دَم جھلملانے لگیں، جب ائیر کے برائٹ سٹوڈنٹ کی اناؤنسمنٹ کے ساتھ ہی رضوان شمیم کا نام پُکارا گیا اور اُس نے آ کر اپنی ڈگری وصول کی۔ کیمرہ اُس کی ایک ایک حرکت نوٹ کر رہا تھا۔ ایک کیمرہ مین نے سٹیج سے نیچے اُترتے ہی مائیک رضوان کو پکڑا دیا کہ وہ کچھ اپنے بارے میں بتائے۔
رضوان نے کیمرے پر آکر اپنی ڈگری ہاتھ اُٹھا کر اوپر کی اور کہا :
’’پاپا اِز فار یو……‘‘
’’آئی لو یو پاپا۔‘‘ اُنہیں اِس لمحے میں اپنی پوری زندگی سمٹی ہوئی محسوس ہوئی۔ وہ ناجانے کیا کہہ رہا تھا۔ اُس وقت شمیم صاحب کی آنکھیں دُھندلائیں۔ اُنہیں کچھ سُنائی نہیں دے رہا تھا… وہ صرف بیٹے کو تَک رہے تھے اور شاید اِسی ایک لمحے کو دیکھنے کے لیے اُن کی زندگی باقی تھی… بس یہاں سے زندگی اور سانسوں نے اُن سے بے وفائی شروع کر دی……
٭٭……٭٭……٭٭……٭٭

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.