پاداش(6) __________ شازیہ خان

تحریر:شازیہ خان

کور ڈیزائن:طارق عزیز

قسط نمبر 6

باپ کی موت کی خبر نے رضوان کو ایک لمحے کے لیے ساکت کر دیا۔ اِتنا اچانک سانحہ تھا کہ وہ بالکل ہی خاموش ہو گیا۔ ابھی تو اُس نے اپنی کامیابی کی خبر کو باپ کے ساتھ اچھی طرح سیلیبریٹ بھی نہیں کیا تھا۔ اِتنے سالوں کی محنت کے بعد جب بچے کی محنت کا نتیجہ سامنے آتا ہے تو باپ کیسے اپنے جذبات کا اِظہار کرتا ہے؟ اُسے تو ابھی اُن سے آگاہی بھی نہ ہوئی اور وہ چلے دیئے۔ وہ پہلی فلائٹ سے پاکستان پہنچا۔ شمیم صاحب کی ڈید باڈی ہسپتال کے کولڈ روم میں رکھوائی گئی تھی، تاکہ بیٹا باپ کے آخری دیدار سے محروم نہ رہ جائے۔ وہ اُن کے بے روح چہرے اور جسم کو اپنی بے روح آنکھوں سے تَک رہا تھا۔ اُس کے خیال میں جب وہ اپنی ڈگری لے کر بابا کے ہاتھوں میں دے گا تو اُن کا ہنستا اورخوشی سے شادماں چہرہ دیکھنے لائق ہوگا۔ یہاں تو انہوں نے جانے میں اتنی جلدی کی اور اُس کا اِنتظار بھی نہیں کیا۔ کسی نے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ رضوان نے مُڑ کر دیکھا۔ رحیم بابا کھڑے تھے۔
’’بیٹا! میں نے صاحب کو بہت سمجھایا تھا کہ آپ کو اپنی حالت کی خبر کر دیں، لیکن وہ نہ مانے۔‘‘ وہ آنسو پونچھتے ہوئے بولے۔
رضوان نے خالی خالی نظروں سے اُن کی طرف دیکھا۔ ’’اُنہیں آپ کی پڑھائی کی بہت فکر تھی کہ کہیں اُن کی بیماری کی وجہ سے آپ اپنی پڑھائی چھوڑ کر نہ آجائیں۔‘‘ وہ اُن کی بات سُن کر بہت خاموشی سے ایک طرف بیٹھ گیا۔ لوگ آہستہ آہستہ جمع ہو رہے تھے۔ شمیم صاحب کا حلقۂ احباب بہت وسیع تھا۔ رشتہ دار تو نہ ہونے کے برابر تھے، لیکن بزنس کمیونٹی کے تقریباً سب ہی لوگ اُن کے جنازے میں شریک تھے۔ کئی لوگ اُنہیں دفنانے کے بعد اُن کی قبر پر بیٹھ کر آہ و زاری کر رہے تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جن کا ماہانہ خرچہ شمیم صاحب اُٹھاتے تھے۔ وہ ہاتھ اُٹھا اُٹھا کر اللہ سے شمیم صاحب کے آخری سفر کے آرام دہ ہونے کی دُعا کر رہے تھے۔ رضوان کو آج اندازہ ہوا کہ اُس کا باپ کتنا نرم دِل اور غریب پرور تھا۔ غریبوں کی مدد کرنے والا۔ اُس کے ساتھ بہت سے لوگ یتیم ہوئے تھے۔ اُس نے وہیں قبر پر بیٹھ کر باپ سے وعدہ کیا کہ جو سلسلہ اُن کی زندگی میں چلتا رہا وہ اُسے رُکنے نہیں دے گا۔ شاید یہی اُس کے باپ کے لیے صدقۂ جاریہ ہوگا۔
٭……٭……٭……٭
آج شمیم صاحب کا سوئم تھا۔ وہ صُبح سے ہی اُداس تھا اور کمرے میں بند تھا۔ سوچ رہا تھا کہ ابھی تو اُسے اپنے باپ سے بہت سی باتیں کرنی تھیں۔ اُنہیں اپنی محبتوں کا اِحساس دِلانا تھا۔ وہ پچپن سے اُن کی محبتوں کی بارش میں پور پور بھیگتا رہا۔ جب اُس کی باری آئی تو وہ چلے گئے۔ بنا کچھ کہے، بنا کچھ سُنے۔ اُس وقت وہ خود کو بہت تنہا محسوس کر رہا تھا۔ رحیم بابا اُس کے لیے چائے کا کپ لے کر آئے۔
’’بیٹا! کم از کم ایک کپ چائے پی لیں۔ آپ نے ناشتہ بھی نہیں کیا۔ دس بج رہے ہیں۔‘‘
’’بس کچھ دِل نہیں چاہ رہا۔ بابا کے بغیر اِس گھر کا تصور کتنا تکلیف دہ ہے۔ آپ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔‘‘ رضوان نے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بڑی بے بسی سے کہا۔ رحیم بابا کو بھی دُکھ نے آگھیرا۔
’’بیٹا! اب آپ کو ہی یہ گھر سنبھالنا ہوگا۔ بیگم صاحبہ کے جانے کے بعد صاحب نے اپنی پوری کوشش کی۔ آخری دِنوں میں وہ صرف آپ کی باتیں کرتے اور دُکھی ہو جاتے کہ آپ اُن کے بغیر کیسے زندگی گزاریں گے…؟ انہوں نے مجھے کڑی ہدایت دی تھی کہ میں اُن کے بعد آپ کو حوصلہ دوں، سمجھاؤں کہ زندگی اُن کے جانے سے رُکنے نہ پائے۔ اُن کے سارے اَرمان اب آپ نے ہی پورے کرنے ہیں۔‘‘
’’میرے بابا بہت بہادر تھے۔ پہلے انہوں نے اپنے ماں باپ کے بغیر زندگی گزاری، پھر ماما کے بغیر مجھے سنبھالا اور جب اُن کی خواہشوں کے پورے ہونے کا وقت آیا تو وہ خود یہاں سے چلے گئے۔ میں اُن جیسا مضبوط نہیں ہوں بابا… کیسے رہ پاؤں گا اُن کے بغیر۔ ہر قدم پر اُن کی یاد آئے گی۔‘‘ وہ بے بس تھا۔
’’بیٹا! جب دِل زیادہ اُداس ہو تو صرف اُن کے بارے میں سوچ لیجئے گا کہ وہ آپ سے کتنی محبت کرتے تھے اور آپ کی ہر خواہش پوری کرتے تھے۔ اب اُن کی خواہشات آپ کو پوری کرنی ہیں۔‘‘
’’جی بابا سمجھتا ہوں، لیکن اِتنی ہمت کہاں سے لاؤں۔ اتنا بڑا کاروبار اور گھر بار اُن کے بغیر کیسے سنبھالوں…؟‘‘ رضوان نے بے بسی سے اُن کی طرف دیکھا۔ بابا کا اپنا دِل دُکھ سے بھر گیا، لیکن ابھی زخم ہرے تھے ا ُنہیں بھرنے میں کچھ نہ کچھ وقت تو لگے گا۔ اُنہیں رضوان کے ساتھ مل کر اُس وقت کا اِنتظار کرنا تھا۔
’’چلیں! آپ یہ چائے پی لیں اور نہا دھو کر تیار ہو جائیں اور تھوڑی دیر میں مہمان آ جائیں گے۔‘‘ انہوں نے رضوان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلّی دی اور چائے پینے پر اِصرار کیا۔ وہ خود بھی بے بس تھے۔ وہ جانتے تھے وقت کے کام وقت پر ہی ہوتے ہیں۔ وقت سے پہلے کرنے کی کوشش میں سوائے ہلکان ہونے کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
٭……٭……٭……٭
موسم میں تبدیلی آرہی تھی۔ خنکی قدرے بڑھ چکی تھی۔ پہلے سامعہ نے ابا کے گرم کپڑے نکا ل کر اُنہیں دھوپ لگائی اور الماری میں رکھا اور اب اپنے اور اماں کے گرم کپڑوں کو دھوپ لگا رہی تھی۔ وقت نے کتنی جلدی اپنا چولا بدلا تھا۔ زندگی ظفر سے پہلے جیسے تیسے گزر رہی تھی، مگر اتنی بدمزہ نہ تھی۔ نہ تو اب ابا کا غُصّہ تھا اور نہ ہی ذرا ذرا سی بات پر سامعہ اور اماں پر بگڑنا، جس سے ذرا دیر کو ہی صحیح زندگی کی ہلچل کا پتا تو لگتا تھا۔ اب تو صُبح سے شام تک تین نفوس اپنی دُنیا اور اپنے کھنڈروں میں بند خود سے باتیں کرتے رہتے۔ اماں کا زیادہ تر وقت جانماز یا کچن میں گزرتا۔ ابا اکثر خاموش پڑے چھت کو تَکا کرتے۔ وہ جب اپنے کام ختم کرکے تھک جاتی تو کمرے میں جا کر دروازہ اندر سے بند کر لیتی اور منہ پر ہاتھ رکھ کر زور زور سے چیخ کر روتی… شدید ڈیپریشن کا شکار تھی۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ جب سے عمر آفندی سے مل کر آئی تھی۔ ضبط کی طنابیں ہاتھ سے پھسل چکی تھیں۔ وہ رہ رہ کر خود ترسی کا شکار ہو رہی تھی۔ اُسے سیما کی خوش قسمتی پر رشک آرہا تھا۔ دونوں کو ایک ساتھ سوچ کر سامعہ کے دِل میں ہوک سی اُٹھتی، حالاں کہ عمر آفندی کو چھوڑنے کا فیصلہ اُس کا اپنا تھا، لیکن اب نہ جانے کیوں اپنے ہی فیصلے اور جلد بازی پر تکلیف ہو رہی تھی۔ یہ سچی محبت تو نہ تھی۔ ایک وقتی اور جذباتی فیصلہ تھا۔ شاید عمر خود بھی آج اپنے فیصلے اور جذباتیت پر ہنستا ہو۔ میں نے بھی کیسے کیسے خواب بُن لیے تھے۔ محبت کے پاس کسی کو دینے کے لیے کچھ ہو نہ ہو۔ جھوٹے سچے بلبلوں جیسے خواب ضرور ہوتے ہیں، جو لمحوں کی خوشی کا باعث بنتے ہیں اور پھر پھوٹتے ہی عمر بھر کے غموں کا باعث اور سامعہ کی آنکھوں میں بھی ایسے ہی خواب اُترے تھے۔ عمر بھر عمر آفندی کے ساتھ رہنے کے خواب جو اب بہت تکلیف دے رہے تھے۔ غلطی سامعہ کی اپنی ہی تھی۔ اُس نے کیوں اُن خوابوں پر یقین کیا۔ اب تکلیف اتنی تھی کہ جو ہر پل بے کل کیے دے رہی تھی۔ شدید خواہش تھی کہ اِک بار اُس دشمنِ جاں کی آواز سُن لے آخری بار… لیکن وہ اُس سے ہر ناطہ توڑ کر آئی تھی۔ اب خود کیسے اور کس حوالے سے فون کرتی…؟ سامعہ کا منہ پر رکھا ہوا ہاتھ اُس کے دِل پر آکر رُک گیا۔ کتنا چھوٹا سا عضو ہے، لیکن کتنا ذلیل کرواتا ہے۔ محبت کے نام پر اچھے بھلے اِنسان کو کسی قابل نہیں چھوڑتا۔ فون کی گھنٹی بج اُٹھی۔ اُس نے تڑپ کر فون کی طرف دیکھا۔ خالہ جان کا فون تھا۔ اُس نے آنسو پونچھ کر کال ریسیو کی۔
’’السلام علیکم خالہ جان! کیسی ہیں…؟‘‘ آواز کی نمی کو خالہ سے چُھپانے کی کوشش کی، لیکن کوشش ناکام ثابت ہوئی۔
’’اللہ خیر کرے، میری جان! سب ٹھیک تو ہے…؟ تم رو کیوں رہی ہو…؟‘‘ وہ پریشان ہوگئیں ۔
’’نہیں! نہیں!! خالہ جان! موسم چینج ہو رہا ہے۔ اِس لیے آواز ایسی ہو گئی۔ آپ کو تو پتا ہے سردیاں شروع ہوتے ہی میرا گلا خراب ہو جاتا ہے۔‘‘ اُس نے بات بنائی اور ایسا تھا بھی، بچپن سے ہی اُس کی طبیعت ٹھنڈے موسم میں خراب ہو جاتی تھی۔ ناک اور گلے کے غدود بڑھے ہوئے تھے۔ اِسی لیے موسم کا اَثر جلد قبول کر لیتے تھے۔
’’اچھا! اپنا خیال رکھو اور یہ تمہاری اماں کہاں ہیں…؟فون نہیں اُٹھا رہی میرا۔‘‘ انہوں نے پہلے اماں کو فون کیا اور اب گھبرا کر اُسے فون کر ڈالا۔
’’خالہ جان آج بہت دِن کے بعد اماں برابر والی خالہ کے گھر گئی ہیں۔ اُن کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اور فون چارجنگ پر لگا ہے۔ بس آنے ہی والی ہوں گی۔ میں کہتی ہوں اُنہیں کہ آپ کو فون کر لیں۔‘‘
’’ہاں! ضروری بات ہے۔ وہ آئیں تو بتا دینا اور تم خود اپنا بہت خیال رکھو۔ ورنہ بیمار پڑ جاؤ گی۔‘‘ وہ فون بند کرتے کرتے اُسے دوبارہ سمجھانا نہ بُھولیں۔
’’جی خالہ جان! آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں۔ میں خیال رکھوں گی۔‘‘ یہ کہہ کر اُن نے خدا حافظ کہا اور فون بند کر دیا۔ وہ سوچ میں پڑ گئی کہ اُنہیں اماں سے کیا ضروری بات کرنا تھی…؟ خیر ہو گی بہنوں میں کوئی ضروری بات… میں اپنا دماغ کیوں تھکاؤں، لیکن اماں کے آنے کے بعد اور خالہ سے فون کے بعد وہ ضروری بات بھی بند مُٹھی کی طرح کُھل گئی۔
ماموں جان کا خیال تھا کہ چھے ماہ کی مدت رُخصتی کے لیے بہت ہے۔ دو مہینے کے بعد ہی سادگی سے نکاح کر دیا جائے اور اُس کے بعد رُخصتی۔ یہ بات وہ پہلے بھی کہہ چکے تھے، لیکن اب بابا کا اِصرار تھا کہ شاید اُن کی زندگی چھے مہینے کی مہلت نہ دے۔ وہ جلد از جلد اپنی امانت لے جائیں… تاکہ وہ بھی سکون کا سانس لے سکیں… یہ ساری باتیں انہوں نے اپنے سالے سے کہیں اور اُنہیں بھانجی کی شادی کی ذمہ داری بھی سونپ دی۔ اللہ کا شکر تھا اُن کی دُکان سے معقول آمدنی ہو جاتی تھی۔ ناہید بیگم نے بھی کمیٹیاں ڈال کر سامعہ کے لیے کافی کچھ جوڑ رکھا تھا۔ اُنہیں پیسوں اور جہیز کی طرف سے قطعاً کوئی فکر نہ تھی۔ اِسی لیے وہ جلد از جلد سامعہ کو رُخصت کرنا چاہتے تھے۔
ایک اَنجانا سا خوف تھا۔ ظفر کے جانے کے بعد اُن کا دِل بہت کمزور ہو گیا تھا۔ اِس اسٹروک کے بعد تو وہ بہت ڈر سے گئے تھے کہ نہ جانے اگلا دِن بھی دیکھنا نصیب ہو یا نہ ہو، حالاں کہ کبیر اور سلمیٰ کی طرف سے چھے مہینوں کی مہلت مانگی گئی تھی۔ ایک اچھا سا گھر لیا جائے اور پھر اُس کو سامعہ کے رہنے کے لائق بنانے کی خواہش نے کبیر کو شادی کا پلان چھے ماہ کے بعد رکھنے پر مجبور کیا۔ وہ جانتے تھے کہ سامعہ کو ایک بڑے سے گھر کی کتنی خواہش تھی۔ وہ اُس کی ہر خواہش پورا کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے، لیکن ماموں جان کے حکم کے آگے کچھ کہنا سلمیٰ بیگم کو قبول تھا نہ کبیر علی کو۔ ماموں جان ایک عرصے کے بعد اپنی دونوں بہنوں سے برتی گئی غفلت کو پوری ذمہ داری سے درست کرنے کی دُھن میں تھے۔ اِسی لیے دونوں گھرانوں کے موجودہ مسائل کو پوری توجہ سے جلد اَز جلد حل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اُنہیں خوشی تھی کہ کبیر علی ایک محنتی اور ذِمہ دار شخص تھے، جس نے باپ کی غیر موجودگی کے باوجود ماں کو کسی صورت مایوس نہ کیا۔ گھر کی ذمہ داریاں بھی پڑھائی کے ساتھ ساتھ پوری طرح نبھا رہا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ جب تک اپنا گھر نہ ہو جائے شادی نہیں کرنا چاہتا، لیکن وہ دوسری بہن اور بہنوئی کی موجود حالت سے بھی بہ خوبی واقف تھے۔ جب اُن سے جلد اَز جلد بیٹی کو گھر سے رُخصت کرنے کی بات کی گئی تو انہوں نے دوسری جانب کی وجہ کو اتنا قابلِ قدر نہ جانا اور بہن کو جلد اَز جلد شادی پر منا لیا۔ اگر لڑکے کی نوکری اچھی نہ ہوتی تو مزید دیر کا سوچا جا سکتا تھا، مگر گھر کو کون اہمیت دیتا ہے۔ وہ پھر بن جائے گا۔ ابھی بھی کوئی سڑک پر تو نہیں بیٹھے۔ ماموں جان کا خیال تھا کہ ایسی باتوں کی شادی جیسی مبارک چیز میں کوئی اہمیت نہیں۔ ساری عمر پڑی ہے گھر بنانے کے لیے۔ جلد اَز جلد شادی کی خواہش کو ایک بیمار باپ کی خواہش سمجھ کر قبول کر لو۔ نیک اور مبارک کام میں دیر کرنے سے اللہ بھی ناراض ہوتا ہے۔ اِسی لیے آج شام کو وہ لوگ نکاح کی تاریخ رکھنے آ رہے تھے۔ یہ خبر سُن کر سامعہ کو لگا کہ جیسے اُس کے لیے پھانسی گھاٹ تک پہنچنے میں بہت کم وقت رہ گیا ہے۔ دِل کے اندر ایک ہو ک سی اُٹھی۔ کوئی عمر آفندی کا نام لے کر چیخا، لیکن اُس نے اپنی چیخ کو وہیں دبا دیا۔ جو چیز حاصل کرنا ممکن نہ ہو۔ اُس کے بارے میں سوچنا بھی تکلیف دہ ہے۔ خوامخواہ بندہ اپنا دِل جلاتا رہے۔ اُسے عمر آفندی کو ایک خواب سمجھ کر مٹانا ہوگا۔ کچھ خواب شاید ایک رات کی زندگی ہی رکھتے ہوں، لیکن عمر بھر اُن کا ایک ایک نقش واضح رہتا ہے۔ جب آنکھ بند ہوئی آنکھوں کے سامنے وہی خواب در آتا ہے۔
عمر آفندی اُس کی زندگی کا وہ خواب تھا، جسے شاید ساری عمر ہی زندہ رہنا تھا، مگر دِل کی کسی دراڑ میں… سب سے پوشیدہ… رات کو ہی ماموں جان اور سلمیٰ خالہ نے نکاح کے لیے اگلے مہینے کی سترہ تاریخ رکھی تو اُس کی جیسے سانس اَٹک گئی۔ اِتنی جلدی…؟ اماں اتنی جلدی تو تیاری نہیں ہو سکتی۔‘‘ سامعہ نے کمرے میں آئی اماں سے جھلملاتی آنکھوں سے پوچھا۔
’’مجھے جو تیاری کرنی تھی، میں کر چکی۔ جو موٹی موٹی چیزیں ہیں۔ وہ بھائی جان کروا دیں گے اللہ اللہ خیر صلا! بس اب تو دُعا ہے کہ میری بیٹی اپنے گھر میں خوش رہے۔‘‘
’’مگر……‘‘ اُس نے کچھ پوچھنا چاہا تو سلمیٰ خالہ اندر آگئیں اور اُسے گلے سے لگا لیا۔
’’سامعہ! تم ایک گھر سے دوسرے گھر میں جا رہی ہو۔ دِل بالکل چھوٹا مت کرنا۔ بھائی صاحب اور ناہید کی فکر بھی مت کرنا۔ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہیں اور ہم سب مل کر اُٹھائیں گے۔‘‘ انہوں نے اُس کے ماتھے پر بوسہ دیا تو سامعہ نے دِل میں دبے سوال کو دِل میں ہی چھوڑ دیا۔ اُسے معلوم تھا جنگ میں جب ہتھیار پھینک دئیے جائیں تو مکمل سپردگی ہی سے جان بچتی ہے۔ اگر سوال کیا تو کیا فائدہ…؟ حالاں کہ وہ جانتی تھی کہ کبیر اور ثنا کے مطابق پہلے گھر بنے گا، پھر شادی ہوگی، لیکن اب سب کچھ اِتنی جلدی…… ایک چھوٹے سے گھر سے چھوٹے گھر میں جانے کا خیال اُس کے لیے روح فرسا تھا۔
ثنا نے اُسے بتایا تھا کہ بھائی بینک سے لون لے کر پہلے گھر تیار کروائیں گے۔ رُخصتی ہو گی۔ پھر اِس جلدی کی وجہ…؟ وہ خاموش ہوگئی۔ بولنے کا فائدہ بھی کیا۔ ہم جیسی مڈل کلاس لڑکیاں اِس سے زیادہ کچھ پا بھی نہیں سکتیں۔ ایسے ہی لوگ ہمارے نصیب میں ہوتے ہیں۔ اچھی شکل دے کر ہمیں آزمائش میں ڈالا جاتا ہے، پھر آزمائش پر دوسری آزمائش۔ عام صورت اور کم حیثیت کے پلّے باندھ کر ماں باپ چلتا کر دیتے ہیں۔ خاموشی سے، جو ملا، جیسا ملا، باندھ دیا کھونٹے سے… اور بے چاری واویلا مچائے بھی تو کیا… اُس کی کس نے سُننی ہے۔
٭……٭……٭……٭
رضوان نے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خودکو سنبھال لیا اور آفس جانا شروع کر دیا۔ اپنے اسٹاف کے لیے وہ بالکل بابا جیسا بننا چاہتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ کبیر علی بابا کے بہت قریب تھے۔ اِسی لیے انہوں نے بھی آفس کے سارے مشورے اُن سے کرنا شروع کر دئیے۔ آفس کی آفیشل فائل کبیر علی نے اُن کے حوالے کی اور شمیم صاحب اور اپنی آخری ملاقاتوں کے بارے میں سب کچھ بتایا کہ وہ آخری دِنوں میں کتنے مایوس ہو گئے تھے۔ رضوان سے ملنے کے لیے بے چین بھی تھے، لیکن اُن کے اچھے مستقبل کا سوچ کر اُسے کچھ نہیں بتاتے تھے۔ سر! اب آپ نے ہی ساری ذمہ داریاں سنبھالنی ہیں اور اِس کمپنی کو اُوپر لے کر جانا ہے۔ انہوں نے سر ہلا کر کبیر علی کا شکریہ ادا کیا۔ بابا کے بغیر گھر اور آفس کھانے کو دوڑتا تھا، لیکن اُنہیں اب اِسی طرح ہی زندگی گزارنی تھی۔ ماں کے بغیر کافی عرصہ زندگی گزاری تھی، مگر اُس وقت ہر کمی باپ نے پوری کر دی۔ اب کیا ہوگا…؟ یہ سوالیہ نشان اُنہیں اندر ہی اندر کھا رہا تھا۔ خونی رشتوں کے بعد مخلص رشتے قسمت سے ملتے ہیں۔ یہاں تو خونی رشتے بھی بدقسمتی سے ساتھ چھوڑ گئے تو مخلص کہاں سے ملیں گے…؟
٭……٭……٭……٭
سیما نے آفس ریگولر جانا شروع کر دیا تھا۔ حسبِ توقع آج کل عمر کا موڈ بہت اچھا نظر آرہا تھا۔ وہ اور خالو جان اُس کی ہر مقام پر مدد کر رہے تھے۔ خالو جان کے آفس کے ساتھ عمر کا آفس اور عمر کے آفس کے سامنے ہی سیما کو آفس دیا گیا تھا۔ جہاں پہلے نانو اکثر و بیشتر آفس کے معاملات چیک کرنے کے لیے آتی تھیں۔ نانو نے اُسی آفس کو سیما کے لیے ڈیکوریٹ کروایا تھا۔ نانو بی اُس سے آفس اور عمر کے روّیے کے متعلق پوچھتی رہتیں۔ وہ بھی اُنہیں عمر کے حوصلہ افزا روّیے کے متعلق بتاتی۔ اُنہیں خوشی تھی کہ اُن کی یہ ترکیب کارگر ثابت ہوئی۔ وہ ایک ساتھ کام کریں اور ایک ساتھ وقت گزاریں گے تو شاید ایک دوسرے میں دِلچسپی بڑھ جائے۔ دوپہر کا لنچ بھی سیما اور عمر اکثر اکٹھے ہی کرتے۔ دراصل نانو بی اُسے گھر سے لنچ بھجوا دیتی تھیں اور اِس خاص ہدایت کے ساتھ کہ اُس میں دونوں باپ بیٹے کو بھی شریک کیا جائے۔ سعود آفندی صاحب تو عموماً لنچ میں صرف سلاد اور جوس وغیرہ لیتے، لیکن عمر چوں کہ گھر سے بغیر ناشتے کے آتا تو لنچ میں شریک ہو جاتا اور اِس طرح دونوں آدھا گھنٹہ تو ایک ساتھ ہی گزارتے۔ وہ آدھا گھنٹہ سیما کے لیے کسی نعمت سے کم نہ ہوتا۔ وہ واپس جا کر نانو کو آفس کی ساری روداد سُناتی تو وہ بھی خوش ہو جاتیں کہ چلو آہستہ آہستہ ہی سہی دونوں قریب آ ہی جائیں گے۔
٭……٭……٭……٭
آج سیما کو آفس میں زیادہ کام تھا۔ خالو جان کے ساتھ سائٹ پر بھی جانا تھا۔ اُس نے نانو کو لنچ کے لیے منع کر دیا۔ تین بجے واپسی ہوئی تو اُسے بھوک کا اِحساس ہوا۔ بھوک کی وجہ سے ہلکا ہلکا سر میں درد بھی تھا۔ ابھی وہ کرسی پر آ کر بیٹھی ہی تھی کہ عمر دروازہ کھٹکھٹا کرکے اندر آگیا۔
’’اوئے! تم اتنی جلدی آ گئیں۔ تمہارا واپسی کا پلان پانچ بجے کے بعد کانہیں تھا۔‘‘ عمر نے حیرانی سے پوچھا۔
’’ہاں! بس وہاں اتنی دُھول اور مٹی تھی کہ سر میں درد شروع ہو گیا۔ خالو جان نے کہا کہ تم گھر جا کر آرام کرو، لیکن یہاں ایک دو ضروری کام تھے، بس کرکے گھر جاتی ہوں۔ تم نے کھانا کھا لیا…؟‘‘ اُس نے وضاحت دے کر عمر سے سوال کیا۔
’’نہیں… بلکہ پیزا کا موڈ ہو رہا تھا، اگر موڈ ہے تو آ جاؤ چلتے ہیں…‘‘
’’موڈ تو نہیں، مگر شاید بھوک سے ہی سر میں درد ہو رہا ہے۔ مجھے دس منٹ دو، دو میلز بھیج دوں، پھر آتی ہوں۔‘‘
’’ہاں آ جاؤ، کھانا کھا کر میں تمہیں گھر بھی ڈراپ کر دوں گا۔ بس اب اِس کے بعد کوئی کام نہیں۔‘‘ اُس کی اتنی مہربانی پر سیما نے غور سے عمر کو دیکھا، لیکن وہ تو اپنی بات مکمل کرکے وہاں سے نکل چکا تھا۔ شاید نانو بی ٹھیک ہی کہتی ہیں، اگر کوئی چیز مسلسل آپ کی نظروں کے سامنے رہے تو آپ اُس کا نوٹس لینا شروع کر دیتے ہیں۔ کیا عمر نے بھی مجھے نوٹس کرنا شروع کر دیا۔ اتنی مہربان طبیعت اُس کی پہلے تو نہ تھی۔ موڈ ہے تو بات کر لی، ورنہ ’آنکھ اُوجھل پہاڑ اوجھل‘ والی کہانی تھی۔ وہ اُس کے اِتنے اِلتفات پر بھی نہال تھی۔ اُسے لگ رہا تھا کہ پوری دُنیا سمٹ کر اُس کی مُٹھی میں آگئی ہے۔ جلدی جلدی میلز کرکے اُس نے بیگ اُٹھایا اور ساتھ ہی عمر کو اپنے فری ہونے کا میسج کر دیا کہ اگر وہ بھی فارغ ہے تو پارکنگ میں آجائے۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ دونوں کار میں تھے۔ پھر ایک بڑی پیزا شاپ تک پہنچنے میں صرف پندرہ منٹ لگے۔
٭……٭……٭……٭
صُبح سے ثنا نے سامعہ کا دماغ کھایا ہوا تھا کہ ٹھیک ایک بجے وہ اور بھائی اُسے شاپنگ کے لیے لینے آ رہے ہیں، کیوں کہ شادی کے لیے وقت بہت کم رہ گیا ہے۔ کپڑے سِلنے میں بھی ٹائم لگے گا تو جلد اَز جلد جتنی شاپنگ ہو سکتی ہے، کر لی جائے۔ بھائی بہت مشکل سے آفس سے ٹائم لے کر آ رہے ہیں۔ ایک بجے تک تیار رہنا اور وہ ایک بجے تک بالکل تیار تھی۔ کار میں بیٹھتے ہی اُس نے کبیر علی کو سلام کیا۔ انہوں نے مُسکرا کر جواب دیا۔ کبیر علی تو آج کل ہواؤں میں اُڑ رہے تھے۔ اللہ نے اُنہیں سامعہ کی صورت میں بہت کچھ دے دیا تھا۔
اُنہیں اپنی منزل اتنی آسانی سے مل جائے گی، اِس بات کا اب تک یقین نہ آیا، لیکن دوسری جانب سامعہ کے چہرے پر مکمل سنجیدگی تھی۔ اُن کی مُسکراہٹ کے جواب میں دوسری طرف سے کوئی مُسکراہٹ نہ آئی۔ وہ خاموشی سے کھڑکی سے باہر دیکھتی رہی یا پاس بیٹھی ثنا کے سوالات کے بے زاری سے جواب دیتی رہی۔ اُسے یہ سب کچھ بہت عجیب سا لگ رہا تھا۔ ایک ایسے شخص کے ساتھ پوری زندگی کے لیے خود کو باندھ لینا، جس سے دِل نہ ملے۔ کتنا عجیب سا تجربہ تھا۔ وہ بار بار دِل کو عمر کے خیال سے نکالتی اورلمحہ بھر کبیر علی کو جگہ دیتی، مگر ناکام ہو جاتی۔ وہ دِل کے کسی کونے میں فِٹ ہی نہیں ہو رہے تھے۔
’’اماں کہتی ہیں غیر مرد جب نکاح کے بول پڑھ کر آپ کا ہو جائے تو اللہ خود بہ خود اُس کی محبت دِل میں بھی ڈال دیتا ہے۔ دیکھتے ہیں اللہ میاں جی! میرے دِل سے غیر مرد کی محبت نکال کر آپ اِس مرد جو کہ اپنا ہوگا، محبت کیسے ڈالیں گے…؟ اِنتظار رہے گا…؟‘‘ وہ اللہ سے دِل ہی دِل میں باتیں کر رہی تھی۔ وہ بالکل تیار نہ تھی کہ عمر آفندی کی جگہ دِل میں کوئی بھی لے۔ بے شک وہ دھوکے باز تھا۔ اُس سے فلرٹ کر رہا تھا، مگر تھا تو وہ پہلا شخص جس سے اُس نے محبت کی تھی۔ اُس کے دِل نے جس کو پہلی بار ویلکم کیا۔ اپنے اندر جگہ دی۔ اب کوئی بھی اُس کی جگہ نہیں لے سکتا تھا۔ اُسے اندازہ نہ تھا وہ اُس وقت قدرت کے ساتھ شرطیں لگا رہی تھی۔ اُس قدرت کے ساتھ، جس کی کُن نے ہی عمر آفندی کے لیے اُس کے دِل میں گنجائش پیدا کی۔ محبت ڈالی۔ تو کیا وہ کبیر علی کی محبت کے لیے گنجائش نہیں بنا سکتی۔ وہ کتنی بے وقوف تھی۔ کبھی قدرت سے بھی بھلا کوئی جیت سکا ہے…؟ اِنسان کو مٹی کا ڈھیر بنتے اور مٹی میں ملتے دیر نہیں لگتی۔ وہی اِتنے بڑے بڑے دعوے کرتا ہے۔
٭……٭……٭……٭
ثنا اور کبیر علی اُسے ایک بڑے شاپنگ مال میں لے کر آئے۔ اُس کی پسند کا میک اَپ اور کپڑے وغیرہ خریدنے تھے۔ لائٹس سے چمکتی ہوئی دُکانیں، ہلکی خنکی کے باوجود ائیر کنڈیشنڈ سے یخ بستہ ہو رہی تھیں۔ کپڑوں کی اچھی برانڈ سے اُس کے لیے چند اچھے اور مہنگے کپڑے ثنا نے اُسے دِکھائے۔ اُس نے پرائس ٹیگ دیکھ کر ثنا کی طرف دیکھا اور کہا کہ اتنے مہنگے۔
’’کپڑے مہنگے ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بھائی نے کہا ہے کہ تمہیں جو چیز پسند آئے ٹیگ دیکھے بغیر خرید لو۔ چلو جلدی کرو اور فکرمت کرو۔ بھائی کی جیب کافی تگڑی ہے۔‘‘ ثنا نے اُس کی آنکھوں میں تذبذب اور ہچکچاہٹ دیکھتے ہوئے کہا۔ اُس نے ایک نظر پاس کھڑے کبیر علی پر بھی ڈالی۔ کبیر علی نے ہلکی سی مُسکراہٹ کے بعد سر ہلا دیا۔ اُس نے بھی دو تین اچھے مہنگے کپڑوں پر ہاتھ رکھ دیا۔ ساتھ ہی عروسی جوڑے کے لیے وہ ایک ڈیزائنر شاپ پر پہنچے۔ جہاں ایک بہت خوب صورت، مگر قیمتی جوڑے پر تینوں کا اِتفاق ہوا۔ سامعہ کو قدرے حیرانی ہوئی۔ اسے قطعاً یہ اُمید نہ تھی کہ اُس کی شادی کے لیے کبیرعلی اتنے کُھلے دِل سے خرچ کریں گے۔ لیکن خوشی بھی تھی کہ یہاں خالہ جان یا کبیر علی شادی کی تیاریوں میں ڈنڈی نہیں مار رہے۔ ورنہ جیسے منگنی کرتے ہوئے رسم کے نام پر چند نوٹ ہاتھ میں تھما دئیے تھے۔ شادی پر بھی اُس کے اَرمانوں کا خون ہو گا۔ شادی کا جوڑا سُرخ اور گولڈن رَنگ کا تھا، جس پر تِلّے اور دبکے کا اِنتہائی نفیس کام تھا۔ سُرخ شرٹ اور گولڈن شرارہ، جس پر سُرخ ایپلک اپنی بہار دِکھا رہی تھی۔ وہ کافی دیر تک تصور میں خود کو دُلہن کے روپ میں دیکھتی رہی، مگر ساتھ میں کبیر علی تو نہ تھے۔ پھر کون تھا…؟ عمر آفندی کا ہلکا دُھندلا سا خاکہ اُسے خیالی دُنیا میں لے آیا۔
’’کیا ہوا…؟ سو رہی ہو کیا…؟‘‘ کبیر علی نے کوئی سوال کیا تھا، جس کے جواب کے لیے ثنا نے اُسے ہلایا۔ ہاں! واقعی وہ سو گئی تھی۔ ایک خواب میں گُم، مگر ہلکی سی جھوک کے بعد آنکھیں کُھل گئی تھیں۔
’’بھائی پوچھ رہے ہیں چار بجنے والے ہیں۔ پا س ہی پیز اشاپ ہے۔ پیزا کھانا ہے…؟‘‘ ثنا نے اُس سے پوچھا تو اُسے محسوس ہوا صُبح کا کھایا ہوا اکلوتا سلائس تو شاید کہیں گُم ہو چکا ہے۔ اُسے واقعی بھوک لگ رہی تھی۔ اُس نے اَثبات میںسر ہلا دیا۔
٭……٭……٭……٭
سیما نے پیزا کا آرڈر دے دیا تھا۔ اُسے یہاں کا مارگیرٹا پیز ابہت پسند تھا۔ ساتھ ہی رشین سیلڈ اور عمر نے چکن تکہ پیزا منگوایا۔ جب تک آرڈر آتا۔ دونوں ایک دوسرے سے باتیں کرتے رہے۔ اُسے حیرت تھی کہ عمر نے کافی دِنوں سے ایک بار بھی سامعہ کے متعلق کوئی بات نہیں کی۔ ورنہ وہ جب بھی ملتے، سامعہ کے ذِکر سے کوئی ملاقات خالی نہیں جاتی۔ وہ عمر کو چھیڑنا نہیں چاہتی تھی۔ سوئے ہوئے شیر کا سویا رہنا ہی مناسب تھا۔ اُسے جگا کر اپنی زندگی اجیرن کرنے کا کیا فائدہ۔ وہ بزنس اور دوسری باتیں کرتے رہے۔ باتوں کے درمیان وقفہ آیا تو عمر نے اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے سیما سے سرسری انداز میں کہا۔
’’تم ٹھیک ہی کہتی تھیں سیما! یہ مڈل کلاس کی لڑکیاں اور اُن کی سوچ…‘‘ وہ اَندر کا غبار پوری طرح نکالنا چاہتا تھا، لیکن اب تک موقع نہ ملا تھا۔ عمر سے یہ بات کسی طرح برداشت نہیں ہو رہی تھی کہ سامعہ نے اُسے رِیجیکٹ کیا۔ اُس جیسی بے شمار لڑکیاں تو عمر کی ایک نظر کی منتظر رہتی ہیں۔ وہ سیما کو آج یہاں لایا ہی اِسی لیے تھا، تاکہ دِل کا غبار نکال سکے۔
’’میں نے تو اور بھی بہت کچھ کہا تھا، لیکن تم میری بات سُنتے ہو اور نہ ہی سمجھنے کی کوشش کرتے ہو۔‘‘ سیمانے بھی اُسی انداز میں جواب دیا۔
’’یہ مڈل کلاس لڑکیاں اور اُن کی سوچ شادی سے آگے جاتی ہی نہیں۔‘‘ اُس نے ہاتھ پر مُکّا مارا۔ وہ شدید تلملایا ہوا تھا۔ آج سیما کے آگے اُسے اپنی تلملاہٹ نکالنے کا پورا موقع مل گیا۔
’’سُنو عمر! اِن مڈل کلاس لڑکیوں کے لیے شادی ہی اُن کی زندگی کا سب سے بڑا ایونٹ ہوتا ہے اور شاید پہلا اور آخری بھی۔ اِس لیے اُنہیں موردِ الزام مت ٹھہراؤ۔ فلرٹ کرنا اور بوائے فرینڈ رکھنا اِس کلاس کی بہت کم لڑکیاں افورڈ کر سکتی ہیں۔ سو اُن کا ہر خواب شادی اور شوہر سے محبت پر آکر ختم ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے دِل کی ہر خواہش کا مرکز اپنے شوہر کو ہی بناتی ہیں۔ اُنہیں بچپن سے یہی تربیت دی جاتی ہے۔‘‘
’’ایسی کی تیسی ایسی تربیت کی، یعنی ایک اِنسان کی اپنی کوئی خواہش نہیں۔ وہ کس سے ملنا چاہتا ہے۔ کس سے بات کرنا چاہتا ہے۔ سب گیا بھاڑ میں۔‘‘ وہ غُصّے میں بولا تو سیما کی ہنسی نکل گئی۔ عمر کی ا دھوری باتوں سے ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ کیا ہوا ہوگا۔ لیکن اُس نے خود پوچھنے سے بہتر سمجھا کہ عمر ساری بات خود ہی بتائے۔ عمر نے اُسے ساری کہانی سُنا دی۔ بہ ظاہر اُس نے عمر سے ہمدردی کی، لیکن اُس کے دِل میں گویا ٹھنڈک سی پڑ گئی تھی۔ اُس نے شکر کیا کسی نہ کسی طرح سامعہ کا قِصّہ تمام ہوا۔ ورنہ جس طرح اس نے عمر کو سامعہ کے لیے جذباتی دیکھا تھا۔ اُسے ڈر تھا کہ وہ واقعی شادی پر تیار نہ ہو جائے۔
’’مگر یار! مجھے کون سا اُس سے شادی کرنی تھی، بس وہ اچھی لگتی تھی۔ اُس سے بات کرنا اچھا لگتا تھا اور بس۔ لیکن وہ تو اِتنے غُصّے میں میرے پاس سے اُٹھ گئی کہ میں اُس کے رِی ایکشن پر حیران رہ گیا۔ بس اتنا کہا تھا کہ ابھی شادی کی کیا ضرورت ہے…؟ زندگی کو اِنجوائے کرو ۔‘‘ وہ بڑے بے پرواہ انداز سے کندھے اُچکاتے اُسے بتا رہا تھا۔
’’خیر! اُس کے معاملے میں تم واقعی اتنے جذباتی ہو گئے تھے کہ مجھے لگا کہ تم اُس سے شادی کرکے ہی دَم لوگے۔‘‘ اِس بار سیما نے بھی شوخی دِکھائی۔
’’پاگل ہو گئی ہو۔ ایسی لڑکیوں سے شادی کون کرتا ہے، جو راہ چلتے لڑکوں کو ادائیں دِکھاتی پھریں۔‘‘ وہ دِل کا غبار نکالتے ہوئے بولا۔
’’عمر یہ تو تم غلط کہہ رہے ہو۔ وہ ایسی لڑکی نہیں ہے۔ میرے ساتھ کالج میں اُس نے چار سال گزارے، لیکن کبھی کوئی افیئر نہیں چلایا اور تم کو بھی پہلے پہل تو لفٹ ہی نہیں کروائی تھی۔‘‘ سیما کو تھوڑا بُرا لگا۔ اُسے یاد تھا کس طرح اُس نے زبردستی سامعہ کا نمبر حاصل کیا، پھر سامعہ نے عمر کا نمبر بلاک کیا اور اُس نے کتنی کوششوں کے بعد دوبارہ رابطہ بحال کیا۔ کیا کیاجتن نہیں کئے۔ اب سامعہ پر سارا اِلزام ڈال کر اپنی خفت مٹا رہا تھا۔
’’یار! تم لڑکیوں کو شادی کی اتنی جلدی کیوں ہوتی ہے…؟ بس کسی لڑکے سے ملیں اور شادی کا اِظہار کر دیا، جیسے دُنیا میں اِس کام کے سوا کوئی اور کام نہیں۔‘‘ وہ بُرا سا منہ بنا کر کہہ رہا تھا۔ وہ سمجھ سکتی تھی کہ سامعہ نے اُسے کتنا بد دِل کیا تھا۔
’’یہ ہم لڑکیوں کی پرابلم نہیں، بلکہ ضرورت ہے اور پھر مڈل کلاس کی لڑکیاں ہماری طرح فلرٹ افورڈ نہیں کر سکتیں۔ اِس لیے زندگی میں آنے والے پہلے مرد سے ہی آخری بازی کھیلنے کی کوشش کرتی ہیں۔‘‘ وہ بڑی دیر سوچنے کے بعد بولی۔ وہ ہنس پڑا۔
’’واہ واہ! بڑی فلسفیانہ بات کی۔‘‘
’’پہلے مرد سے آخری بازی…‘‘
’’اِس میں اتنا ہنسنے کی کیا بات ہے۔‘‘ اِس بار وہ اپنا مذاق اُڑانے پر منہ بنا کر بولی۔
’’اچھا بابا! معاف کر دو۔ اتنی اُردو میڈیم باتیں ہضم نہیں ہوتی نا۔ لگتا ہی نہیں تم نے اکنامکس پڑھا ہے۔‘‘ اُس نے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی اور کھڑا ہو گیا۔
’’میں دیکھتا ہوں کہ آرڈر کہاں رہ گیا اور ذرا واش روم ہو کر آتا ہوں۔‘‘ سیما نے سر ہلا کر اپنا بند موبائل کھول لیا۔ وہ اُس وقت چونکی جب ثنا اُس کے بالکل پاس آکر چیخی:
’’سیما! تم یہاں…؟‘‘ سیما نے سر اُٹھایا تو ثنا اور سامعہ کو بالکل اپنے پاس کھڑا پایا۔ وہ مُسکراتے ہوئے زبردستی کھڑی ہو گئی۔
’’اَرے واہ! تم دونوں یہاں کیا کر رہی ہو…؟‘‘ اُس نے پہلے ثنا اور پھر سامعہ کو گلے لگایا۔
’’سامعہ! یار تم تو کہیں چُھپ کر ہی بیٹھ گئی ہو۔ تمہارا فون بھی بند جارہا ہے۔‘‘ اُس نے کھوجتی نظروں سے سامعہ کو دیکھا۔ حالاں کہ سب جانتی تھی، لیکن سامعہ کے شرمندہ شرمندہ سے خجل چہرے کو دیکھ کر عجیب سی تسکین محسوس ہو رہی تھی۔
’’یہ بہت جلد مایوں بیٹھنے والی ہے۔‘‘ ثنا نے سیما کے سر پر جیسے دھماکا کیا۔
’’کیا واقعی…؟ بھئی واہ! زبردست… یہ کب ہوا…؟ سیما نے حیرانی سے پوچھا۔
اُسے اندازہ تو تھا کہ جس طرح کے حالات ہیں۔ سامعہ کی شادی جلد از جلد ہو جائے گی، لیکن اتنی جلدی یہ بالکل اندازہ نہ تھا۔
’’پوچھو گی نہیں اِس کی شادی کس سے ہو رہی ہے…؟‘‘
’’ہاں بتاؤ۔ اِس کی شادی کی جتنی مجھے خوشی ہے کسی اور کو نہیں ہو گی۔‘‘ وہ دِل سے خوش ہوتے ہوئے بولی۔
’’میرے بھائی سے… یہ میرے بڑے بھائی ہیں کبیر علی……‘‘ ثنا نے سامعہ کے پیچھے کھڑے کبیر علی سے سیما کا تعارف کروایا۔
’’السلام علیکم کبیر بھائی! کیسے ہیں آپ…؟‘‘ سیما نے مُسکراتے ہوئے اُنہیں سلام کیا۔ ایک لمحے کو اُسے کمینی سی خوشی ہوئی، کیوںکہ کبیر علی کسی طرح بھی عمر آفندی جیسے خوب صورت نہ تھے۔ ایک قبول صورت عام سے مرد۔ اُس نے ایک سرسری سی نظر سامعہ پر ڈالی جو خجل سی کھڑی تھی۔ اُسی وقت عمر وہاں آگیا۔
’’عمر! اِن سے ملو، یہ میری کالج فرینڈ ثنا اور یہ اُن کے بھائی کبیر۔ سامعہ کو تو تم جانتے ہی ہو۔‘‘ اُس کے انداز میں موجود شوخی سے عمر نے چونک کر سامعہ کو دیکھا۔ کبیر علی نے آگے بڑھ کر عمر آفندی سے ہاتھ ملایا۔
’’میں نے آپ کو ظفر کے سوئم والے دِن دیکھا تھا، لیکن موقع ایسا تھا بات نہ ہو سکی۔‘‘ کبیر علی نے اُنہیں دیکھتے ہی پہچان لیا۔ عمر نے بھی مر ی مری مُسکراہٹ سے اُنہیں دیکھا۔ سامعہ کو سامنے دیکھ کر اُس کی مری ہوئی اَنا نے انگڑائی لے لی۔ سیما کے اگلے جملے نے اُس کے اندر جیسے آگ سی بھر دی۔
’’عمر! کبیر بھائی اور سامعہ کی شادی ہو رہی ہے۔‘‘ سیما نے مُسکرا کر عمر کو دیکھا، جیسے اِس غیرمتوقع سیچوایشن کے مزے لے رہی ہو۔ واقعی جتنی تکلیف وہ اِن دونوں کی وجہ سے جھیل چکی تھی اور یہی موقع تھا اُس تکلیف کو ختم کرنے کا۔
ثنا نے سیما اور عمر کو شادی میں آنے کی دعوت دے ڈالی۔ سامعہ خاموش سی چور بنی ایک طرف کھڑی تھی۔ وہ تو سیما سے والہانہ انداز میں مل بھی نہ سکی۔ اِس بات کو ثنا نے شدّت سے محسوس کیا۔ ورنہ سامعہ اور سیما کی دوستی تو بہت اچھی تھی۔ آج دونوں کے اَنداز میں ایک دوسرے کے لیے والہانہ پن مفقود تھا۔ اتنے میں سیما اور عمر کا آرڈر آ گیا تو عمر نے اُن سب کو اپنے ساتھ جوائن کرنے کی دعوت دے ڈالی، لیکن عمر کی بات کے ساتھ ہی سامعہ نے کبیر کی طرف دیکھ کر اِنکار سے سر ہلا دیا۔
’’ثنا میرا موڈ نہیں پیزا کا… چلو کچھ اور کھاتے ہیں…‘‘
’’اَرے! تم سے پوچھ کر ہی تو ہم یہاں آئے تھے اور اب تم اِنکار کر رہی ہو۔‘‘ ثنا نے حیرت سے اُسے دیکھا، لیکن کبیر علی نے اُس کی پیلی پڑتی رنگت کو دیکھ کر ہی اندازہ لگا لیا کہ واقعی اِس کی طبیعت ٹھیک نہیں۔
’’کوئی بات نہیں ثنا، اگر اِس کا موڈ نہیں تو رہنے دو۔ مجھے بتاؤ سامعہ تم کیا کھاؤ گی…؟ وہیں چلتے ہیں۔‘‘ کبیر علی نے بہت محبت اور لگاوٹ سے اُس سے پوچھا تو عمر آفندی کے جیسے آگ سی لگ گئی۔ سامعہ نے نفی میں سر ہلا دیا۔
’’میرا کچھ کھانے کا موڈ نہیں۔ کتنے گھنٹے سے ہم شاپنگ کر رہے ہیں۔ میں تھک گئی ہوں۔ گھر چلتے ہیں۔‘‘ وہ ثنا کا ہاتھ تھام کر بولی۔
’’اَرے! تمہارے تو ہاتھ بھی اتنے ٹھنڈے ہو رہے ہیں۔ طبیعت تو ٹھیک ہے نا…؟‘‘ ایک لمحے کے لیے ثنا بھی پریشان ہو گئی۔
’’میں تھک گئی ہوں۔ بس گھر جانا چاہتی ہوں۔‘‘ اُس سے اب عمر آفندی کے سامنے مزید ٹھہرنا محال ہو رہا تھا، کیوں کہ عمر کی نظریں اُس کے چہرے کی طرف بھٹک رہی تھیں۔
’’اوکے عمر اور سیما جی! شادی کا کارڈ آپ کو مل جائے گا۔ آپ کو ضرور آنا ہے۔‘‘ کبیر علی نے جاتے جاتے اُن دونوں کو یقین دہانی کروائی۔
’’ضرور کبیر بھائی! میری اتنی عزیز دوست کی شادی ہو اور میں نہ آؤں۔ اگر یہ بُھول بھی جائے تو آپ یاد رکھیئے گا۔‘‘ وہ مُسکرا کر بولی۔ سامعہ نے بے حد سرسری اَنداز میں سیما سے ہاتھ ملایا، مگر عمر کی طرف دیکھا بھی نہیں اور پھر تیزی سے باہر نکل آئی۔ اُس کے لیے عمر کی نظروں کے حصار میں اب وہاں مزید کھڑا رہنا بہت مشکل تھا۔ ثنا اور کبیر علی بھی دونوں کو خدا حافظ کہہ کر باہر آگئے۔ پورے راستے کبیر علی اور ثنا کو اُس کی طبیعت کی فکر لگی رہی۔
’’ثنا! اگر اِس کی طبیعت زیادہ خراب ہو رہی ہے تو ہم ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں۔‘‘ کبیر علی نے اُسے مشورہ دیا۔
’’ نہیں نہیں، پلیز! مجھے گھر ڈراپ کر دیں۔ میں بہت تھک گئی ہوں۔ کچھ آرام کے بعد ٹھیک ہو جاؤں گی۔‘‘
’’اوکے! پھر گھر جا کر آرام کرنا، کسی کام میں مصرروف نہ ہو جانا۔‘‘ ثنا نے بھی ہدایت دینا ضروری سمجھا۔ وہ مری مری مُسکراہٹ کے ساتھ اُسے دیکھنے لگی۔ اپنے کمرے میں آکر دروازہ بند کیا اور پُھوٹ پُھوٹ کر رو دی۔ جن دروازوں اور جن راستوں کو بڑی بڑی اینٹیں اور پتھر لگا کر بند کرتی ہوں۔ اُن میں دراڑیں کیوں پڑ جاتی ہیں…؟ کیوں بار بار میرے سامنے آرہے ہو…؟ کیوں مجھے بے سکون کر رہے ہو…؟ اُسے وہ لمحہ یاد آیا جب اُس نے پاس پاس کھڑے کبیر علی اور عمر آفندی کو ہاتھ ملاتے دیکھا تھا۔ کتنا فرق تھا دونوں میں۔ ایک زمین تھا دوسرا آسمان تھا۔ یا میرے مولا! ایسا میرے ساتھ کیوں…؟ جن سے زندگی نہیں ملتی تو اُن سے دِل کیوں ملا دیتا ہے…؟ پھر بار بار چھوڑنے کے بعد بھی اُنہیں ہمارے راستے میں کھڑا کر دیتا ہے۔ کیوں…؟ آخر کیوں ایسا امتحان لیتا ہے…؟ وہ قدرت کی اِن آزمائشوں سے بہت بددل ہو رہی تھی، لیکن کیا فائدہ…؟ کس سے شکایت کرے…؟ اُن دونوں کا کوئی مقابلہ نہ تھا۔ اللہ چاہتا تو کبیر علی کی جگہ میرے نصیب میں عمر آفندی بھی ہو سکتا تھا۔ وہ سیما کتنی خوش ہو رہی تھی۔ میری شادی کا سُن کر اُس کے چہرے پر کتنا سکون سا تھا۔ یا میرے خدا! میرے لیے اتنی آزمائشیں کیوں…؟ وہ پُھوٹ پُھوٹ کر رو رہی تھی۔ دِل کو عجب سا دُکھ تھا۔ اُس نے جلد بازی میں کہیں عمر آفندی جیسے شخص کو کھو تو نہیں دیا۔
’’ ہائے رے دِل خوش فہم کی خوش فہمیاں جو عقلِ ناقص کو مزید ناقص کر دیتی ہیں۔‘‘
عمر آفندی کی حالت بھی اُسے دیکھ کر کم خراب نہیں ہوئی اور پھر کبیر علی سے شادی کا سُن کر تو اُسے بہت تکلیف تھی۔ وہ ہمیشہ لڑکیوں کو goodby کہتا آیا تھا۔ یہ پہلی بار تھا جب کوئی لڑکی اُس سے اِس طرح الگ ہوئی تھی۔ اُسے ہمیشہ لڑکیاں کُھلے دِل سے ویلکم کرتیں اور وہ جب تک چاہتا اپنے ریلیشن اُن سے استوار رکھتا۔ ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ کسی نے اُسے بیچ راستے میں چھوڑا تھا۔ یہ تکلیف وہ کسی طور برداشت نہیں کر پا رہا تھا۔ ایسی کئی لڑکیاں عمر کی زندگی میں آئی اور گئیں، لیکن اُس میں ایسی کیا بات تھی جو وہ کسی طور اُسے بُھول نہیں پا رہا تھا… اَنا… مرد کی زندگی میں اَنا کا جذبہ شاید ہر جذبے سے بڑھ کر ہوتا ہے۔ جب بھی کوئی اُس کی اَنا کو کُچل کر آگے بڑھے۔ وہ ایسے شخص کو کبھی نہیں بُھول پاتا۔ اِسی لیے وہ اپنی زندگی میں آنے والی عورت چاہے وہ محبوبہ ہو یا بیوی، اُس کی اَنا کو ہی سب سے پہلے کچلتا ہے۔ اِس لڑکی نے واقعی عمر کے اَنا کے ناگ کو کچلا تھا تو بھلا وہ اُسے کیسے بُھول سکتا تھا…؟
’’جب تک بدلا نہ لے لوں، مجھے چین نہیں آئے گا۔‘‘ اُس نے خود سے وعدہ کیا۔
’’اتنی آسانی سے میں تمہیں کسی اور کا ہونے نہیں دوں گا۔ سامعہ! تمہاری بُھول ہے۔‘‘ عمر ایک مرد تھا اور اپنی اَنا کے پرچم کو بلند رکھنا اس جنس کا خاصہ تھا… حالاں کہ کوئی پوچھے کہ ایک اچھی خاصی لڑکی کو اپنے راستے سے بھٹکا کر تم نے کیا کمال کیا تھا۔ جب اُس نے سیدھے راستے کی فرمائش کی تو تم مُکر گئے، یعنی ہر طرح سے اپنی بات کو صحیح ثابت کرنا اور اُ س میں دوسرے کی زندگی کو برباد کر دینا ، یہ کون سا انصاف تھا…؟ وہ خود لڑکیوں سے دوستی رکھتا، اُنہیں چھوڑ دیتا، اُسے دُکھ نہیں ہوتا تھا، مگر اُسے صرف یہ بات تکلیف دے رہی تھی کہ سامعہ نے اُسے چھوڑنے میں پہل کی۔ اُس نے موبائل سے سامعہ کا پُرانا نمبر نکالا، جسے سامعہ نے بلاکڈ کر دیا تھا اور پھر اپنی ایک نئی سِم سے اُسے کال کی تو وہ پُرانا نمبر آن تھا۔ بیل چلی گئی اور اُس کی قسمت اچھی تھی کہ سامعہ نے فون اُٹھا بھی لیا۔
’’ہیلو سامعہ!‘‘ دوسری طرف سامعہ کو اُس کی آواز سُن کر سانپ سونگھ گیا۔
’’ایک منٹ… فون بند مت کرنا۔ صرف ایک بار میری بات سُن لو، پھر جو چاہو کرنا۔‘‘ وہ جیسے گڑگڑایا۔
اچھا ایکٹر تو وہ ہمیشہ سے تھا اور کچھ ایسے نت نئے تجربوں کے ساتھ یہ فن اُس میں بڑھتا گیا۔
’’مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی۔ پلیز! آئندہ فون مت کیجئے گا۔‘‘
’’یہی تمہاری سب سے بُری بات ہے۔ دوسرے بندے کی بات سُنے بغیر اُس پر اِلزام لگا کر بات کرنا چھوڑ دیتی ہو۔ پلیز! سکون سے میری بات ایک بار سُن لو۔ پھر چاہے ساری عمر بات نہ کرنا۔‘‘ اِس بار اُس نے قدرے رُعب جماتے ہوئے کہا۔
’’اب سُننے اور کہنے کے لیے کیا باقی رہ گیا ہے…؟‘‘ سامعہ نے اُسی انداز میں جواب دیا۔
’’ابھی میں نے تم سے کہا بھی کیا ہے…؟ میری صرف اتنی سی بات کہ ہمیں شادی کے لیے تھوڑا سا وقت چاہیے۔ زندگی کو اِنجوائے کرنے کا وقت۔ شادی تو اِن شاء اللہ ہو ہی جائے گی۔ تم نے اتنا بُرا مانا کہ میرا جواب سُنے بغیر ہی چلی گئیں۔ یہ بھی نہ سوچا کہ تمہارے بعد میر اکیا ہوگا۔ محبت کے دعوے کرنا بہت آسان ہے، لیکن اُسے نبھانا بہت مشکل… تم نے سوچا بھی کیسے کہ میں تمہیں کسی اور کا ہونے دوں گا۔‘‘ اِس بار وہ اپنی جذباتی اداکاری کرتے ہوئے پورے عروج پر تھا اور واقعی چند لمحوں کے بعد ہی اُس کا خوش فہم مردِ مقابل ڈھیر ہو چکا تھا۔ سامعہ کو اُس کی باتوں پر اِعتبار آرہا تھا۔ ایک بار پھر شیطان اپنا وار چل چکا تھا۔
’’لیکن……؟‘‘ سامعہ نے کچھ کہنا چاہا۔
’’بس دیکھ لی تمہاری محبت… میری پوری بات سُننے سے پہلے ہی تم مجھے وہاں اکیلا چھوڑ کر چل دیں، لیکن مجھے اب اِحساس ہوا کیوں کہ تمہارے پاس سیکنڈ آپشن میں کبیر علی موجود تھا۔ اِسی لیے تم نے ایسا کیا تھا۔ تم نے ایک لمحہ بھی میرے بارے میں نہیں سوچا کہ میرا کیا ہوگا…؟ کیسے جیوں گا تمہارے بغیر…؟‘‘ اُس کی اداکاری میں کتنی مکّاری تھی۔ وہ یہ بہ خوبی جانتا تھا۔ شیطان کی سب سے بڑی خوبی ہے کہ وہ بلا کا مکّار ہے۔ اُس نے ہمیشہ اپنے چیلوں کو مکر و فریب ہی سکھایا ہے اور اُس کا یہ منتر کبھی ناکام نہیںہوا۔ اُس پر عمر کی مکّاری کا سحرطاری ہو گیا۔ عمر کے پڑھے گئے مکّاری کے منتر اَثر کر چکے تھے۔ وہ پھر ایک بار تارِعنکبوت میں جکڑی جا چکی تھی۔ لمحہ بھر بھی نہ لگا۔ وہ سِسکنے لگی۔
’’عمر…!‘‘ اُس کے ہونٹوں سے عمر کا نام سرگوشی کی صورت نکلا۔
’’ہاں! بولو… میں جانتا ہوں تمہارا اور کبیر علی کا کوئی جوڑ نہیں۔ تمہارے ساتھ کھڑا وہ شخص تمہارے بڑے بھائی جیسا لگ رہا تھا۔ تم جیسی خوب صورت لڑکی کا کوئی جوڑ نہیں۔ ایک بار پھر سوچ لو۔ مجھ جیسا پیار تمہیں کوئی اور نہیں دے سکتا۔‘‘ اِس بار اُس نے سامعہ کو پوری طرح اپنے جھانسے میں لے لیا اور وہ آ بھی گئی۔
’’لیکن عمر! اب کیا ہو سکتا ہے…؟ میری شادی ہونے والی ہے۔‘‘ سامعہ سِسکی۔
’’تم چاہو تو یہ شادی رُک بھی سکتی ہے۔‘‘ اُس نے ایک اور داؤ کھیلا۔
’’مگر کیسے…؟ اب تو تاریخ بھی طے ہو گئی۔ ‘‘
’’کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تم ایک بار ملو۔ کوئی حل نکالتے ہیں۔‘‘
’’اچھا کوشش کرتی ہوں…… مگر……‘‘
’’اگر مگر میں پڑی رہیں، تو وقت ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا اور تم کسی اور کی ہو جاؤ گی۔‘‘ اِس بار وہ قدرے غُصّے میں بولا تو وہ فوراً بولی:
’’نہیں نہیں! ناراض مت ہو۔ میں آؤں گی تم سے ملنے۔‘‘ اِس بار اُس نے بھی فوری طور پر اپنی محبت کا یقین دِلایا تو عمر آفندی کے چہرے پر عیّارانہ مُسکراہٹ رینگ گئی۔
ایسا ممکن ہی نہ تھا کہ وہ دانہ ڈالتا اور چڑیا اُس کے قابو نہ آتی۔ یہ پہلی بار تھا کہ کسی نے اُسے اتنا عاجز کیا تھا۔ یہاں مسئلہ محبت نہیں اَنا کا تھا۔ اَنا کی اِس جنگ میں ناکامی کا منہ دیکھنا اُسے کسی طور گوارا نہ تھا۔ ایک بار اُس چھٹانک بھر لڑکی کو مزہ چکھانا ہے۔ وہ فون بند کرکے آگے کا پلان سوچنے لگا کہ کس طرح اُسے قابو کیا جائے۔ ایسا پہلی بار ہوا تھا کسی لڑکی نے اُسے آدھے راستے میں چھوڑا تھا۔ ورنہ ہمیشہ وہ لڑکیوں سے دِل بھرنے کے بعد اُنہیں بائے بائے کرتا آگے بڑھ جاتا۔ ٹکراؤ ہونے کے بعد اَنا کی آگ بھڑک اُٹھی تھی۔ ورنہ شاید وہ اُسے کسی نہ کسی طرح بُھول ہی جاتا۔
٭……٭……٭……٭
آج سیما آفس جاتے ہوئے بہت خوش تھی۔ یہ بات نانو بی نے بھی نوٹ کی۔ اُس نے ناشتے کی میز پر بیٹھنے سے پہلے نانو بی کے دونوں گالوں پر چٹا چٹ پیار کیا، بلکہ ایک اضافی شدید محبت بھرا بوسہ ماتھے پر بھی لے لیا۔
’’اَرے واہ! آج تو ہماری شہزادی بہت خوش لگ رہی ہے۔‘‘ انہوں نے مُسکرا کر اُس کا ہاتھ تھام لیا۔
’’جی نانو بی! بہت سے بھی بہت زیادہ۔‘‘
’’اگر بُرا نہ مانیں تو ہماری شہزادی ہمیں بھی اپنی خوشی میں شریک کر سکتی ہے…؟‘‘ انہوں نے کافی کا سِپ لیتے ہوئے پوچھا۔
’’بس آج کل کام میں بہت مزہ آرہا ہے۔ مجھے اب سمجھ آیا کہ بڑے ہمارے لیے جو فیصلے کرتے ہیں، اپنے تجربوں کی بنیاد پر کرتے ہیں اور تجربہ سب سے بڑا اُستاد ہے۔‘‘
’’اَرے واہ! اب تو ہماری شہزادی فلسفہ بھی بولنے لگی ہے۔ لگتاہے باہر نکلنا راس آگیا۔‘‘ نانوبی خوش ہو کر بولیں۔
’’جی نانو! ہم جب اپنے کمفرٹ زون سے نکل کر دُنیا دیکھتے ہیں۔ تب ہمیں سمجھ آتا ہے کہ اصل دُنیا تو ہمارے کمرے اور گھر کی دہلیز سے باہر ہے، جو ہمیں ہنساتی بھی ہے اور رُلا کر مضبوط بھی کرتی ہے۔‘‘
’’اَرے واہ بھئی واہ! اتنی جلدی اتنی عقل والی باتیں سیکھ لیں، یعنی میرا تمہیں باہر نکالنے کا فیصلہ بالکل صحیح تھا۔‘‘ وہ بھی اپنے فیصلے پر خوش ہوئیں۔
’’یہ بتاؤ عمر تمہیں ٹائم دیتا ہے نا…؟ میں اتنا لنچ بھجوا دیتی ہوں کہ تم دونوں آرام سے کچھ دیر ساتھ بیٹھ کر کھا پی لو۔‘‘
’’جی نانو! لنچ تو عموماً ہم دونوں ساتھ ہی کرتے ہیں۔ اِس کے علاوہ وہ آفس ورک میں بھی میری کافی مدد کر دیتا ہے۔‘‘ اُس نے تائید کرتے ہوئے اُنہیں اطمینان دِلایا۔
’’چلو تم ناشتہ کرو اور پھر ڈرائیور تیار ہے۔ اُس کے ساتھ آفس کے لیے نکلو۔ لیٹ ہو رہی ہو۔‘‘ انہوں نے گھڑی کی طرف دیکھا اور اُسے ہدایت دی۔
’’جی نانو بی! بس نکلتی ہوں اور آج شام تیار رہیے گا۔ میں نے مووی ٹکٹس کروائی ہیں۔ کافی دِن ہو گئے ہم نے مل کر کوئی مووی نہیں دیکھی۔‘‘
’’اَرے! اِتنی ٹھنڈ ہو رہی ہے۔ میں کہاں جا سکوں گی۔ تم اور عمر چلے جانا۔‘‘
’’نہیں مجھے آپ کے ساتھ ہی جانا ہے۔ جب عمر کے ساتھ دیکھنا ہو گی، دیکھ لوں گی۔ ابھی تو آپ چلیں نا۔ ابھی اتنی زیادہ ٹھنڈ نہیں ہوئی۔ گرم گرم پاپ کورن اور کافی بھی پلاؤں گی۔‘‘ اُس نے اُنہیں بچوں کی طرح لالچ دیا تو نانو بی ہنس پڑیں۔ وہ اپنی اس نواسی سے بہت محبت کرتی تھیں، حالاں کہ عمر بھی اُن کا نواسا تھا، لیکن اُن کی باؤنڈنگ جتنی سیما کے ساتھ تھی، عمر کے ساتھ نہیں۔ وہ دونوں کو نکاح کے بندھن میں باندھ کر اِسی باؤنڈنگ کو مضبوط کرنا چاہتی تھیں اور اب اُنہیں یقین ہونے لگا تھا کہ اگر اسی طرح دونوں ساتھ ساتھ کام کرتے رہے تو عمر یقینا سیما میں دلچسپی لینے لگے گا۔ سیما کا تو اُنہیں پورا یقین تھا کہ وہ عمر کو چاہتی ہے، لیکن عمر کسی صورت ہاتھ نہیں آرہا تھا۔ اُن کا یہ حربہ کامیاب ٹھہرا۔ یہ شاید اُن کے زمانے کی سوچ تھی، جو اب نہیں چلتی۔ آج کل کے بچے کچھ لو اور کچھ دو کے اُصولوں پر چلتے ہیں۔ محبت بھی یہ دیکھ کر کی جاتی کہ واپسی میں کیا مل رہا ہے۔ کسی کے ہمہ وقت سامنے ہونے والا فارمولا اب ناکام تھا۔
٭……٭……٭……٭
رضوان کے لیے باپ کے بغیر اتنا بڑا بزنس سنبھالنا کافی مشکل ہو رہا تھا، لیکن آفس میں تمام لوگ اِنتہائی مخلص اور کوآپریٹو تھے۔ ہر جگہ اُس کی مدد کرنے اور کمپنی کو اپنی محنت سے آگے بڑھانے کے لیے ہمہ وقت تیار… اِسی لئے آہستہ آہستہ مشکلات کے باوجود وہ خود کو سنبھال رہا تھا… سیکھ رہا تھا… اور کمپنی کو بابا کے بعد آگے لے جانے کی بھر پور کوشش بھی کر رہا تھا… اُس نے ایک نیا پراجیکٹ شروع کیا تھا۔ اُسے یقین تھا کہ اِس کے بعد کمپنی مزید کامیابیاں سمیٹے گی… اِس سلسلے میں کبیر علی نے اُن کی بھرپور مدد کی۔ وہ واقعی اُن کی ذہانت کے قائل ہو گئے… رضوان کو اپنے باپ کے چنائو پر فخر ہوا۔ انہوں نے اپنی کمپنی میں چُن کر کیسے کیسے ہیرے رکھے ہوئے تھے۔ اگر وہ کسی ملازم میں خوبیاں دیکھتے تو اُسے اِتنی مراعات دیتے کہ وہ کہیں اور جانے کا کبھی نہیں سوچتا۔ یہی سوچ کر انہوں نے کبیر علی کی سیلری میں مزید اضافہ کر دیا۔ کبیر علی اُن کے ممنون ہوگئے۔ وہ اِس اضافے کو سامعہ کی خوش قسمتی گردانتے تھے، جس نے اُن کی زندگی میں آنے سے پہلے ہی اپنے اثرات ڈالنے شروع کر دئیے۔ تنخواہ میں یکمشت پچاس ہزار کا اضافہ، اُن کے لیے ایک بڑی بات تھی۔ یہ خبر سُن کر سلمیٰ بیگم کو اِنتہائی خوشی ہوئی۔ بے شک یہ سب اُن کے بیٹے کی محنت کا ثمر تھا، لیکن وہ یہ بھی مانتی تھیں کہ ہر آنے والا اپنا رزق ساتھ لے کر آتا ہے اور یہ رزق اُن کی بھانجی کے نصیب کا تھا۔ اپنی بھانجی سے اُنہیں بہت محبت تھی۔ اپنے ہاتھوں میں کھلایا تھا۔ ثنا اور سامعہ ایک ساتھ پلی بڑھی تھیں۔ اُنہیں ثنا کی طرح سامعہ سے بھی بہت محبت تھی۔ اکثر جیسا جوڑا ثنا کا بنتا، سامعہ کو بھی ویسا ملتا تھا۔ انہوں نے ہمیشہ سامعہ کو اپنی بہو کے روپ میں دیکھا۔ ہر چند کہ بڑوں کے درمیان باہمی رضا مندی کو بچوں پر آشکار نہیں کیا گیا، لیکن خاندان میں سب کو معلوم تھا کہ سامعہ کے لیے پہلا حق کبیر علی کا ہی ہے۔ سوائے سامعہ جو اُنہیں اپنا بڑا بھائی مانتی تھی۔ رشتے ماننے سے نہیں، منوانے سے وجود میں آتے ہیں۔ وہ اگر اُنہیں بھائی مانتی تھی تو کیا ہوا…؟ کبیر علی نے خود کو جس رشتے میں منوانا تھا، منوا لیا۔
’’اماں! میری خواہش تو تھی کہ ہم نئے گھر میں شفٹ ہو جاتے تو شادی ہوتی، لیکن ماموں جان اور خالو جان کی خواہش سر آنکھوں پر۔ اس بات سے اِنکار نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
’’یہ گھر بھی اتنا بُرا نہیں ہے۔ جب تک نیا گھر مکمل نہیں ہوتا اُوپر والا پورشن تم اپنے لیے سیٹ کر لو۔ وہاں کچھ عرصے اچھی گزر بسر ہو سکتی ہے۔‘‘
’’جی! یہی سوچ رہا ہوں۔ کمپنی سے اتنا لون مل گیا ہے کہ اوپر والا پورشن عارضی طور پر تیار کیا جا سکتا ہے۔ آپ خالو جان سے فرنیچر یا کوئی بھی چیز جہیز کے نام پر لینے سے منع کر دیں۔ میں سارا فرنیچر خود ڈلواؤں گا۔‘‘ انہوں نے ماں کو ہدایت کی۔
’’تمہارے کہنے سے پہلے ہی میں یہ سب کر چکی ہوں۔ بھائی جان کہہ رہے تھے کہ یہ سب میں اپنی طرف سے کروں گا، لیکن میں نے اُن کو بھی یہ کہہ کر منع کر دیا کہ یہ سب تم اپنی مرضی سے کرنا چاہتے ہو۔‘‘ انہوں نے مُسکرا کر جواب دیا۔
وہ جانتی تھیں کہ اُن کا بیٹا کتنا خود دار ہے۔ وہ جہیز کے نام پر ایک پیسہ لینے کا روادار نہیں۔
’’تم بس اوپر والا پورشن سیٹ کروا لو۔ دو کمرے اور ایک لاؤنج میں جو فرنیچر اپنی مرضی کا ڈالنا چاہو، آرڈر کر دو۔ باقی وائٹ واش کروانا ہوگا۔‘‘
’’جی کل سنڈے ہے۔ کل سے ہی اِس پر کام شروع کرواتا ہوں۔‘‘ مجھے فکر تھی کہ شمیم صاحب کے بعد رضوان صاحب کس طرح کی طبیعت کے مالک ہوں گے، لیکن اماں یقین کریں وہ شمیم صاحب سے بھی دو ہاتھ آگے ہیں۔ اپنے ملازموں سے اتنی محبت اور لگاوٹ سے پیش آتے ہیں کہ لگتا ہی نہیں کہ ملازم کون اور مالک کون ہے۔ کل ہی آپ نے جو لنچ دیا تھا، ہم سب لنچ کر رہے تھے، آگئے۔
’’ہاں بھئی! اکیلے اکیلئے لنچ ہو رہا ہیـ۔‘‘
میں نے آفر دی تو بیٹھ کر ہم سب کے ساتھ لنچ کیا۔ بعد میں سب کے لیے چائے کے ساتھ مٹھائی منگوا کر کھلائی۔ وہ بچوں کی طرح خوش ہو کر ماں کو بتا رہے تھے۔
’’ہاں بھئی! بڑے اور شریف گھرانوں کے بچے بھی وضع دار ہوتے ہیں۔ یہ نہیں کہ نئی نئی دولت آئی اور دماغ خراب ہو گیا۔ ملازم کو پاؤں کی جوتی سمجھ لیا اور خود کو خدا کی جگہ… انہوں نے اگر تمہارا نمک کھایا تو اپنا میٹھا کِھلا کر حلال کر دیا۔‘‘ وہ ہنس کر بولیں۔
’’اچھا! ذرا آرام کر لو، پھر ثنا کو لے کر بازار جانا۔ اُس نے برّی کے کچھ کپڑے سِلنے کے لیے دیئے ہوئے تھے۔ وہ لانے ہیں۔‘‘
’’جی ٹھیک ہے۔ بس چائے پی کر نکلتے ہیں۔ اُس نے مجھے دروازے پر ہی بتا دیا تھا۔ خود چائے لینے گئی ہے۔ چائے پیتے ہی نکل جائیں گے۔ اب آرام تو رات کو ہی ہوگا۔ اماں! ویسے میں سوچ رہا ہوں کہ ثنا کو بھی ڈرائیونگ آنی چاہیے۔ اپنا اور آپ کا چھوٹا موٹا کام اُسے خود کرنا چاہیے۔‘‘ انہوں نے کچھ سوچتے ہوئے ماںسے کہا۔
’’ہاں! بالکل ٹھیک ہے۔ اگر اُسے ڈرائیونگ آتی تو اِس وقت وہ تمہارے اِنتظار میں نہ بیٹھی ہوتی۔ اب تک یہ کام ہو جاتا اور تمہیں بھی آرام مل جاتا۔‘‘ انہوں نے بھی بیٹے کی تائید کی۔
’’ بس! ذرا شادی سے فارغ ہو جاؤں۔ سب سے پہلا کام یہی کروں گا۔‘‘
’’ویسے میں تو چاہتی تھی کہ اِس کی رُخصتی بھی تمہارے ساتھ ہی ہو جاتی اور میں اپنے فرائض سے سبک دوش ہو جاتی، لیکن وہ کہتی ہے کہ مجھے ابھی آگے پڑھنا ہے۔ ماسٹرز کرنا ہے۔ تو میں خاموش ہو گئی۔‘‘ انہوں نے سر ہلاتے ہوئے کہا تو کبیر علی فوراً بولے:
’’وہ غلط تو نہیں کہہ رہی اماں! آج کل لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم بہت ضروری ہے۔ میں تو سامعہ کو بھی اجازت دوں گا۔ اگر وہ آگے پڑھناچاہتی ہے، تو ضرور پڑھے۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں۔‘‘ انہوں نے کُھلے دِل سے کہا تو سلمیٰ بیگم مُسکرا اٹھیں۔ اُنہیں معلوم تھا کہ اُن کا بیٹا بہت کُھلے دِل و دماغ کا مالک تھا۔ اُنہیں خوشی ہوئی کہ جیسا وہ اپنی بہن کے لیے سوچ رہا تھا ویسا ہی وہ اپنی بیوی کے لیے بھی سوچتا تھا۔ اُس کے لیے بھی دِل کا کُھلا تھا۔ انہوں نے پورے دِل سے بیٹے کی آنے والی اچھی زندگی کے لیے دُعا کی۔
’’یااللہ! میرے بچوں کی زندگی میں آسانیاں اور خوشیاں پیدا کر۔‘‘ کبیر علی نے اُن کی گود میں سر رکھ کر آنکھیں موند لیں۔ وہ اُس کے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگیں۔
’’بھائی! جلدی سے چائے پی لیں۔ میں نے ساتھ میں کباب بھی فرائی کیے ہیں۔‘‘ ثنا نے چائے کی ٹرے میز پر رکھتے ہوئے آنکھیں موندے کبیر علی سے کہا۔ وہ جمائی لیتے اُٹھ کر بیٹھ گئے۔ یہ دس منٹ بھی ماں کی گود میں دس گھنٹوں کی نیند کے برابر تھے۔ انہوں نے مزے سے کباب کھائے۔ ساتھ ہی ثنا کو آرڈر بھی کر دیا کہ کل لنچ میں درجن بھر کباب فرائی کرکے دینا۔ باس کو کِھلانے ہیں۔ انہوں نے تمہارے ہاتھ کے بنے ہوئے کبابوں کی بہت تعریف کی اور فرمائش کی تھی دوبارہ بنوا کر کِھلاؤں۔
’’اوکے بھائی! مل جائیں گے۔ ابھی تو تیار ہو جائیں نکلنے کے لیے۔ ویسے ہی شام ہو چکی ہے۔ سردی بڑھ جائے گی۔‘‘ وہ دونوں چائے پیتے ہی نکل گئے۔ واقعی باہر کافی خنکی تھی۔ گھر واپسی میں دوگھنٹے لگ گئے۔ جب تک قدرے دُھند بڑھ چکی تھی۔
٭……٭……٭……٭
عمر سے بات کرنے کے بعد سامعہ کا دِل کسی کام میں نہیں لگ رہا تھا۔ اب تو اُسے شادی کی تیاریاں بھی بہت بُری لگ رہی تھیں۔ ثنا یا خالہ جان کا فون آ جاتا اور کسی چیز کے بارے میں اُس سے مشورہ لیتیں تو اُسے بہت کوفت ہوتی۔ اب اِحساس ہو رہا تھا کہ اُس سے جلد بازی ہوئی۔ اُسے کچھ دیر رُک کر عمر کی پوری بات تو سُننی چاہیے تھی۔ شادی میں اتنا کم وقت رہ گیا تھا۔ عمر اُسے روز ملنے کا اِصرار کرتا، تاکہ مل کر بیٹھتے اور کوئی نا کوئی حل اِس شادی کو رکوانے کا نکالا جا سکتا۔ وہ بھی کتنی بُھولی تھی۔ شیطان کی باتوں میں آرہی تھی۔ یہ حل فون پر بات کرکے بھی نکالا جا سکتا تھا۔ باہر ملنے پر اِتنا اِصرار کیوں…؟ اِسی بات کو سمجھنے کے لیے شیطان نے اُس کی آنکھوں پر محبت کی پٹی باندھ دی۔ وہ اِس پہلو پر سوچ ہی نہیں رہی تھی۔ وہ صرف یہ سوچ رہی تھی کہ کس طرح عمر سے مل کر اِس شادی کو رکوانے کا کوئی نہ کوئی بہانہ ڈھونڈا جا سکے۔ مگر اکیلے نکلنے کا کوئی موقع اُس کے پاس نہیں تھا۔
٭……٭……٭……٭
صارم نے آج پھر اُسے اِنوائیٹ کیا تھا۔ ایمن ملک نے بھی اُسے میسج کر دیا تھا کہ آجاؤ… کافی ٹائم ہو گیا۔ ملاقات نہیں ہوئی۔ وہ خود بھی بور ہو رہا تھا۔ ایمن کے بلاوے کو غنیمت سمجھ کر صارم کے گھر پہنچ گیا۔ صارم بھی اُسے دیکھ کر کِھل گیا۔
’’لیکن یار! ایمن کا میسج آ گیا تھا کہ وہ اپنے شوٹ میں بزی ہے۔ تھوڑا لیٹ ہو جائے گی۔‘‘ صارم کی یہ بات سُن کر وہ بور ہو گیا۔
’’اَرے یار! جب تک میں یہاں کیا کروں گا۔‘‘ اُس نے اِردگرد دیکھا۔
’’کہو تو کسی اور چڑیا سے تعارف کروا دوں۔‘‘ صارم نے آنکھ مارتے ہوئے کمینگی سے کہا۔
’’اَرے یار! یہاں سب کپل نظر آ رہے ہیں تو کس سے متعارف کروائے گا۔‘‘
’’تو جس پر ہاتھ رکھ دے۔ تو کیا سمجھ رہا ہے کہ یہ سب ایک دوسرے کے ساتھ مخلص ہیں۔ سب ٹائم پاس ہے بھائی…! اگر ایک دِن ایک نہ آئے تو اُس کا پارٹنر کسی دوسرے کے ساتھ نظر آتا ہے۔‘‘ وہ سر ہلاتا اور ایک آنکھ دباتا اُسے بتا رہا تھا۔
’’اِن میں سے تجھے کوئی پسند نہیںآئی۔ حکم کر ابھی فون کرکے کسی اور کو بُلا لوں۔‘‘ وہ اُسے پوری طرح گھیرنے کے موڈ میں تھا۔
’’نہیں یار! بس آج کل ویسے ہی موڈ بہت آف ہے۔‘‘
’’میرے یار کے موڈ کو کیا ہو گیا…؟‘‘
’’کچھ نہیں… آج کل ایک لڑکی نے بہت پریشان کر رکھا ہے۔‘‘ اُس کی بات سُن کر ہنسی کا فوارہ صارم کے منہ سے پُھوٹا۔
’’تجھے اور کوئی لڑکی پریشان کرے… مجھے یقین نہیں آرہا … یونی ورسٹی کے زمانے سے میں نے تجھے لڑکیوں کو پریشان کرتا دیکھا… اُنہیں تیرے لیے روتا دیکھا۔ آج میں ایک لڑکی کے لیے اپنے یارکو روتا دیکھ رہا ہوں، تو بھائی واقعی قیامت کے آثار ہیں۔‘‘ وہ اُس کا مذاق اُڑاتا ہوا بولا۔
’’یہی تو مسئلہ ہے۔ ہر بار لڑکی کو میں چھوڑتا ہوں۔ اِس بار اُس لڑکی نے مجھے چھوڑا۔ یہ بات مجھ سے برداشت نہیں ہو رہی۔‘‘ وہ قدرے غُصّے میں آگیا۔
’’اوہو! یہ بات ہے۔ اُس لڑکی نے میرے دوست کی دُم پر پاؤں رکھ دیا ہے۔‘‘
’’صارم! بس مجھ سے بالکل برداشت نہیں ہو رہا۔ اُس کی شادی کی خبر نے تو میرے اندر اور آگ لگا دی۔ میں اُسے چھوڑوں گا نہیں۔‘‘ وہ پورا پلان اپنے ذہن میں بنا کر بیٹھا تھا۔ اِس سے پہلے اُس نے کبھی اتنی اِنتہائی حدوں کے بارے میں نہیں سوچا تھا، لیکن سامعہ کو کبیر علی کے ساتھ دیکھ کر اُسے برباد کر دینے کا پورا پلان بنا لیا تھا۔
’’او میرے یار! مطلب کیا ہے تیرا…؟ تو کرنا کیا چاہتا ہے…؟‘‘
’’کچھ نہیں… بس میں اُسے اِس کا مزہ چکھانا چاہتا ہوں۔‘‘ وہ غُصّے سے ہتھیلی پر مُکّا مارتا ہوا بولا۔
’’میں تیرے ساتھ ہوں۔ یار کہا ہے تو یار بن کر دکھاؤں گا۔‘‘ صارم نے بھی شیطانیت میں اُس کا ساتھ دیا۔ ـوہ ایک لمحے میں اُس کے دماغ تک پہنچ گیا۔ اُسے اندازہ ہو گیا تھا کہ چوٹ شدید ہے۔ وہ کسی صورت بدلہ لیے بغیر نہیں رہ سکے گا۔ اُدھر عمر آفندی کا دماغ بھی پوری پلاننگ کر چکا تھا کہ سامعہ کو کیسے مزہ چکھایا جائے۔
’’جو چیز میری نہیں ہو سکتی، میں اُسے کسی اور کا بھی نہیں ہونے دوں گا۔‘‘
عمر آفندی بچپن سے جن نازوں میں پلا تھا۔ اُسے کسی بات پر ’نا‘ سُننے کی عادت نہیں تھی۔ وہ نہ ملنے والی چیز وں اور اِنسانوں کو برباد کرتا آیا تھا۔ ایسا پہلی بار تھا کہ کوئی اُسے اِس طرح چھوڑ کر کسی اور کے ساتھ خوشیاں
منانے کی تیاری کر رہا تھا۔ وہ سامعہ کی ہر خوشی تہس نہس کرنے کے درپے تھا۔
’’ویسے یہ جگہ محفوظ ہے۔ تم اپنی دوست کو جب چاہو یہاں بُلا لو۔ پھر دِل بھر کر بات کرو۔‘‘ اُس نے ’دِل بھر کر بات کرنے‘ پر زور دیا اور ایک آنکھ دبائی تو عمر آفندی کے چہرے پر بھی ایک عیّارانہ سی مُسکراہٹ پھیل گی۔
٭٭……٭٭……٭٭……٭٭

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.