لاہور یونیورسٹی اور عورت کے حقوق

آج سے پچیس سال پہلے میں پنجاب کے آخری کنارے پر واقع ایک چھوٹے سے شہر میں رہتی تھی جس کا نام تک اکثر بڑے شہروں میں لوگ جانتے نہ تھے۔رحیم یار خان شہر کے سرکاری اسکول سے میں نے میٹرک کیا۔اس وقت اس شہر کا واحد پرائیویٹ اسکول آرمی پبلک اسکول تھا جہاں سےامیر گھرانوں کی لڑکیوں کی اکثریت مڈل کے بعد مخلوط تعلیم سے ڈر کر ہمارے سرکاری اسکول ٹرانسفر کر دی جاتی ۔رابعہ میری ایسی ہی ایک دوست تھی نویں اور دسویں ہم دونوں نے اسکول کے ہر لمحے میں ایک ہی خواب دیکھا۔ لاہور میں ہوم اکنامکس کے ایک کالج میں داخلے کا خواب جہاں میں ڈیزائنر بن سکتی تھی،اپنی برانڈ بنا سکتی تھی،ساری عمر رنگوں سے کھیل اور کاروبار چلا سکتی تھی۔میرے تمام تر خوابوں کو تکمیل دینے کا یہی ایک طریقہ تھا۔ رابعہ کے گھر پدر شاہی نظام نہ تھا وہ شہر سے بارہ گھنٹے کی مسافت پر واقع لاہور کے اس کالج چلے گئی جہاں میں نہیں جا سکی کیونکہ میرے گھر پر مضبوط اور سخت باپ کا راج تھا جسے تین بیٹوں کے ساتھ تقویت حاصل تھی جن کے نزدیک لاہور اور اس کے کالج بے حیائی اور بے غیرتی کی گڑھ تھے جس میں میرے والدین اپنی کم عمر ناداں بیٹی جھونکنا نہیں چاہتے تھے،۔سو میری ہزار کوشس کے باوجود مجھے ایف ایس سی میں جھونک دیا گیا کہ اس کے سوا اب آگے اور کوئی آپشن نہ تھی ۔

“ہم سب” پر پڑھیں

ایف ایس سی کے بعد فائن آرٹس کے کالج جانے کی تڑپ جاگی۔رنگ ڈیزائن، اپنی طرف کھینچتے،آوازیں لگاتے،اگر جو اس طرف نکلنے کا کوئی رستہ ہوتا تو شاید زندگی میں کچھ بڑا کام کر پاتی کہ ان کی لگن بھی تھی شوق بھی مہارت بھی۔مگر وسائل کم تھے تو ترغیبات اس سے بھی کم تھیں اور ڈراموں خوف ،وہم بے شمار۔یہاں بھی اسی امیر کلاس کے لڑکے لڑکیوں کے طعنے سنے جو محض دلپشوری کی خاطر ایسے اداروں کا رخ کرتے ہیں،سوائے فیشن اور رومانس کرنے کے ایسے اداروں میں اور کچھ ہوتا نہ تھا۔ہر طرف لڑکے اور لڑکیوں کے گروپ بیٹھے ہوتے تھے اور بے حیائی اور بے پروائی عام تھی جس کا تصور بھی ہمارے محدود سے شہر اور ذہنوں کے لئے جس میں لڑکیوں کو سو سو پردوں اور دیواروں میں چھپا کر رکھا جاتا تھا،ناقابل برداشت تھا!

ہو سکتا ہے ایسا نہ ہو مگر ملک کے دوسرے کونے تک جیسی شہرت پہنچتی تھی لوگ اس پر یقین کرتے تھے۔۔۔چنانچہ اس بار بھی جینز ٹی شرٹ پہن کر کالجوں میں آنے والی فیشن زدہ لڑکیوں کے نام پر ،ایک متوسط اور قدامت پسند طبقے کی لمبے لمبے شلوار قمیضوں میں ڈھکی لڑکی ایک اور تعلیم ،ہنر اور کامیابی کے رستے سے روکی گئی اور اسے اپنے ہی شہر کے گرلز کالج میں بی اے کی طرف سفر کرنا پڑا جس میں مضامین محدود تھے تو اساتذہ محدود تر،اور اعلی تعلیم بالکل مقفود ۔چھوٹے شہروں کی لڑکیوں کی آنکھوں میں بھی کچھ خواب ہوتے ہیں جو ان خوابوں سے کہیں قیمتی ہوتے ہیں جو یونیورسٹی میں ایک دوسرے کے سامنے گھٹنے ٹیک کر پھول پیش کرنے اور پرپوز کرنے والوں کی نگاہ میں ہوتے ہیں کیونکہ ان کے پاس ذندگی،حالات اور ماحول بدلنے کے لئے نہ پیسہ ہوتا ہے نہ طاقت، صرف ایک تعلیم ہی ذریعہ ہوتی ہےمگر ہماری آنکھوں سے وہ خواب بھی چھین لئے جاتے ہیں تا کہ بڑے شہروں میں صاحب اختیار، پیسے اور طاقت والے جمالیاتی ذوق والے لوگوں کی استحقاق زدہ اولادیں ذندگی کے رومانس کے بھرپور مزے لے سکیں۔

ایم اے انگلش کی ایک عام سی ڈگری کے لئے گھر والے بارہ گھنٹے کی مسافت پر واقع شہر لاہور کی کسی یونیورسٹی بھیجنے پر آمادہ نہ تھے اس کے باوجود کہ میری بہن میڈیکل کالج میں زیر تعلیم تھیں۔کیوں؟ کیونکہ ان کے خیال میں یونیورسٹی میں جو گند بکھرا ہے اس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔جہاں لڑکیاں صرف بر ڈھونڈنے اور لڑکے صرف شکار پھانسنے آتے ہیں کیونکہ یونیورسٹی ڈاکٹر انجینیر تو بناتی نہیں جو بن کر والدین کا شملہ اونچا ہو سکے۔چنانچہ ایک سادہ سی تعلیم کی خاطر جسے گھر بیٹھے رٹا لگا کر حاصل کیا جا سکتا ہے ، ہزار طرح کے رسک لیکر یونیورسٹی بھیجنا والدین کے لئے کوئی بہتر آپشن نہیں ہوتا۔ گھر میں یونیورسٹی کے نام پر ایسے ایسے قصے اور طعنے سننے کو ملتے کہ کان سرخ ہو جاتے۔تعلیم سے ہٹ کر پھر ایک ہی رستہ تھا بی اے کے بعد کسی دکاں والے یا میٹرک پاس سے بیاہ کر ایک لڑکی کو بھگتا دیا جائے۔ہمیں بھی اپنی ذندگیاں بدلنی تھی ہمیں بھی اپنے معیار اور اوقات بدلنی تھی،ہمیں بھی کاروبار زندگی،تعلیم میں شعور میں آگے نکلنے کی طلب تھی،مڈل کلاس لڑکیوں میں تو یہ طلب اور بھی بڑھ کر ہوتی ہے کہ ان کی زندگی میں اس کام کے لئے پیسہ اور طاقت ہوتی ہے نہ اس قدر شعور اور تعلیم،اور تو اور ساتھ کھڑا ہوتا معاشرہ تک نہیں ہوتا۔رجعت پسند ماحول اور عزتوں سے ڈرے والدین ہوتے ہیں جو پتا بھی ہلے تو ڈر جاتے ہیں اور پھر یونیورسٹی کی شہرتیں جو ہمارے جیسی لڑکیوں پر حیات اور بھی تنگ کر دیتی ہیں۔چنانچہ بی اے کے بعد بھی ایک آگ کا دریا تھا جسے ڈوب کر پار کرنا تھا سو ڈوب کر پار کیا ۔ ایک دن نیند کی گولیاں کھا کر آسماں کی طرف رستہ لے لیا ۔خدا نے آسماں کے دروازے بند کر دئیے اور ذندگی کی طرف لوٹنا پڑا۔ تب کہیں جا کر دوسرے جنم میں میرے لئے مزید تعلیم کا در کھلا۔ایک ذرا سی بے ضرر تعلیم کی خاطر ایک چھوٹے شہر کی محدود سوچ اور معاشرے میں بستی لڑکیوں کو کیسے کیسے جبر سہنے پڑتے ہیں یہ بڑے شہروں میں وسائل اور اختیارات کی بہتات میں رہنے والوں کو کبھی سمجھ نہیں آ سکتا۔میں اپنے پورے خاندان میں یونیورسٹی پہنچنے والی پہلی لڑکی تھی مگر میں آسمانوں کو ہاتھ لگا کر بھی اعلی اداروں میں پڑھنے کے لئے لاہور نہ جا سکی تھی۔

آپ کے ملک میں صرف چند معیاری یونیورسٹیز اور کالجز ہیں جو صرف دو تین شہروں میں واقع ہیں
اس کے علاوہ ادارے تو ہیں مگر معیاری نہیں ہیں۔
جتنا مرکز سے دور جاتے جائیں اتنا ہی تعلیم،اساتذہ اور یونیورسٹی کا معیار گرتا جاتا ہے
اچھے اور اعلی تعلیم یافتہ اساتذہ چھوٹے علاقوں میں جانا نہیں چاہتے چنانچہ چھوٹے شہروں میں عموما اچھے ،اعلی تعلیم یافتہ اساتذہ کا بھی قحط ہوتا ہے،پوسٹ گریجویشن کی کلاس شروع ہو جائے تو بی اے پڑھانے والے اساتذہ کی ترقی کر کے انہیں ہی ماسٹرز کو پڑھانے پر لگا دیا جاتا ہے۔صوبے کے مرکز سے آخری قصبے تک کا فاصلہ تعلیمی ادارے کا  معیار کئی گنا گھٹا دیتا ہے۔
چنانچہ بڑے شہروں میں موجود بڑی یونیورسٹی میں ہر طالب علم داخل ہونا چاہتا ہے چاہے وہ دو گھنٹے کے فاصلے پر رہتا ہو یا دس گھنٹے کی مسافت پر!
یونیورسٹی میں عموما لڑکیاں تب پہنچ پاتی ہیں
جب گھر میں بے پناہ پیسہ ہو
یا بے پناہ تعلیم  ہو
،مڈل کلاس میں عموما دونوں چیزیں نہیں ہوتیں!
چھوٹے شہروں میں سماجی دباؤ بڑے شہروں کی نسبت بہت ذیادہ ہوتا ہے،جہاں ذرا سی کسی کی نظر بھی ٹیڑھی ہو جائے تو عزت پر داغ لگ جاتا ہے، والدین بری طرح معاشرے سے ڈرے سہمے ہوتے ہیں۔ چنانچہ کبھی گھر کو پہنچتے ٹرین لیٹ ہوتی یا بس رستے میں خراب ہو جاتی تو گھر والے کانپ کر رہ جاتے کہ کہیں لڑکی بھاگ تو نہیں گئی کسی کے ساتھ۔ہم صفائیاں دیتے سمجھاتے رہ جاتے کہ ہم قصوروار نہیں پھر بھی قصوروار ٹھرتے۔

جب آپ اپنے بڑے شہروں میں بیٹھ کر امریکہ اور برطانیہ کی یونیورسٹیز میں ایڈمیشن کے فارم بھرتے تھے میرے جیسی ہزاروں لڑکیاں چھوٹے شہروں سے بڑے شہر کے کالج یونیورسٹی میں پڑھنے کی طلب میں ماری جاتی تھیں یا ان پڑھوں کے ساتھ بیاہی جاتی تھیں۔امریکہ اور برطانیہ کی یونیورسٹیز کے تو خواب بھی چھوٹے شہروں میں نہیں اترتے۔ میں نے زمانے سے لڑ جھگڑ کر وہ وقت گزار لیا ہے تو آج مجھے لگتا ہے ساری دنیا کے حالات بدل چکے ہیں جبکہ مجھے یقین ہے آج بھی بہت سے دور دراز کے علاقوں میں بیٹھی ہزاروں لڑکیاں اپنی ذندگیاں بدلنا چاہتی ہیں،پدر شاہی سے نکلنا چاہتی ہیں،خود کو خود مختار اور مضبوط کرنا چاہتی ہیں مگر ناکام اس لئے ہو جاتی ہیں کہ زندگی بدلنا تو دور کی بات تعلیم تک حاصل نہیں کر پاتیں کہ ہر طرف کے کالجز ،یونیورسٹیز اور بڑے شہروں کا ماحول خراب ہے،شہرت بری ہے۔۔۔۔۔کچھ پہنچ جائیں تو اساتذہ اور کلاس فیلوز کے ہاتھوں محبت کا چنگل شکار بن کر ہسپتالوں کی ریسیپشن پر لاوارث پھینکی جاتی ہیں ،منزل کھوٹی کر بیٹھتی ہیں۔آپ کے ملک میں کتنے بڑے شہر ہیں؟ چار یا پانچ ،باقی سب محروم مراد سہولتوں سے دور چھوٹے شہر قصبے اور گاوں ہیں جس کا حجم جتنا چھوٹا اور محدود ہے عورت پر حیات کا شکنجہ اتنا ہی تنگ ہے۔

آپ کو لاہور یونیورسٹی کےجن بچوں کا پیار معصوم لگتا ہے اس پیار کے صدقے ہزاروں لڑکیاں تعلیم سے محروم رہ جائیں گی۔یہ لوگ جو سوشل میڈیا پر اس حرکت پر احتجاج کر رہے ہیں یہی اپنی بہن اور بیٹیوں کو اعلی تعلیم کی خاطر سفر سے روک لیں گے۔استحقاق زدہ طبقے کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں کمزور طبقے سے زندگی کا حق چھین لیں گی۔آپ کی بیٹیاں آکسفورڈ چلے جائیں گی کسی دوسرے کی لاہور تک نہ پہنچ سکیں گئیں۔طبقاتی تقسیم سے پڑنے والا یہ اثر سب سے زہریلا اور خطرناک ہے۔

آپ عورت مارچ کے نعرے لگا کر جس عورت کو آزادی دلوانا چاہتے ہیں آپ کے ہر نعرے کے صدقے چار لڑکیاں تعلیم سے ہٹا کر کسی ان پڑھ کے پلے باندھ دی جاتی ہیں ۔آپ آج کی عورت کو پڑھنے تک نہیں دے رہے اور توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنی نسلوں کو حقوق لینا اور دینا سکھائے۔لاہور کراچی میں سڑکوں پر عورت کی آزادی کی خاطر رقص ہوتا ہے تو نواحی علاقوں میں اسی رقص سے متاثر لڑکیاں شادی پر تالیاں بجانے کے جرم میں مار دی جاتی ہیں۔آپ اسلام آباد میں “میرا جسم میری مرضی” کے نعرے لگاتے ہیں تو کوہاٹ میں ایک پی ایچ ڈی سکالر تعلیم کی خواہش میں قتل کر دی جاتی ہیں۔اور یہ چند ایک کیس نہیں ہر دوسرے گھر کی کہانی ہے فرق صرف یہ ہے کہ ہر لڑکی آواز نہیں اٹھا پاتی،ہر لڑکی میڈیا تک اپنی کہانی نہیں پہنچا سکتی۔ استحقاق زدہ طبقے کے چونچلوں میں عورت کی ایک کمزور اور بے بس نسل مسلسل کچلی جا رہی ہے مگر آپ ہمیں یقیں دلانا چاہتے ہیں کہ آپ یہ سب ہماری بہتری کے لئے کر رہے ہیں۔

آپ بڑے شہروں کے نوابوں اور امیروں کے معصوم بچوں کے لئے وی آئی پی کلبز عام کر دیں جہاں وہ زندگی کے تمام تر خوبصورت رنگوں سے لطف اندوز ہو سکیں مگر غریبوں اور عام لوگوں کی مسکین بچیوں کے لئے پبلک یونیورسٹیز کی شہرت کو بہتر کر دیں تا کہ وہ بہتر تعلیم کی بنیادی ضرورت کی تسکین کر سکیں،وہ صرف اعلی تعلیم کا حق چاہتی ہیں۔ ،ان کا ماحول محفوظ کر دیں تا کہ عزت بچانے کے شوقین والدین بیٹیوں کو چین نہ سہی لاہور کراچی ہی بھجوا سکیں۔کم سے کم تعلیمی اداروں کے دروازے ہر خاص و عام کے لئے کھلے رہنے دیں تا کہ ہر لڑکی پاکستان کے کسی بھی کونے سے تعلیم کی خاطر عزت سے وہاں پہنچ سکے اور کامیاب نکل سکے۔اگر آپ اپنی بیٹیوں کی اکثریت کو تعلیم ہی نہیں دے سکتے تو آپ ان کو آزادی کیا دلوائیں گے؟ اگر سچ میں عورت کے حقوق سے کسی کو غرض ہے تو اس کے ہر کام اور تعلیم کی جگہ کو اس کے لئے محفوظ تر بنانا ہو گا جس تک جاتے اس کی جان اور عزت کو کسی نقصان کا احتمال نہ ہو۔ورنہ آپ کے آزادی مارچ کے نعرے اس پر احسان نہیں مزید ظلم ہی کا باعث ہیں۔

______________

صوفیہ کاشف

1 Comment

  1. آپ اسلام آباد میں “میرا جسم میری مرضی” کے نعرے لگاتے ہیں تو کوہاٹ میں ایک پی ایچ ڈی سکالر تعلیم کی خواہش میں قتل کر دی جاتی ہیں🥲😭

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.