پاداش(8)______________شازیہ خان

پاداش
قسط نمبر 8
شازیہ خان


وہ رات بھر یہی سوچ کر روتی رہی کہ بس اب زندگی کی خوشیاں اُس کے ہاتھوں سے نکل گئی ہیں۔ تمام عمر مردہ دِلی سے ایک ایسے شخص کے ساتھ زندگی گُزارنا پڑے گی، جس سے اُس کا دِل کبھی نہیں ملا۔ وہ ساری رات خود کو کوستی رہی کہ اُس نے کبھی محبت کی خواہش ہی کیوں کی…؟ کیوں چاہا کہ وہ چاہی جائے…؟ کیوں ایسے راستے پر چلنے کی خواہش کی، جس کی ہر گلی، ہر چوراہے پر ناکے لگے تھے، جس کا اِختتام سوائے درد کے کچھ نہ تھا۔ عمر آفندی آخر اُس کی زندگی میں آیا ہی کیوں…؟ اور اگر آیا تھا تو دونوں کے راستے مشترک کیوں نہ ہو پائے، مگر ایک سوالیہ نشان سے آگے اُس کی ساری سوچ محدود تھی ۔ کب صُبح ہوئی اُسے معلوم نہ ہو سکا۔ سارے مہمان رات کو چلے گئے تھے۔ وہ کمرے سے اُٹھ کر باہر آئی تو صحن بالکل یوں صاف تھا، جیسے یہاں رات کو کوئی تقریب ہی نہ ہوئی۔ ماموں جان جانے سے پہلے اپنے ملازمین سے تمام صفائی سُتھرائی کروا کر گئے تھے۔ وہ خاموشی سے صحن میں پڑی چارپائی پر آکر بیٹھ گئی۔ اماں اور ابا شاید دوبارہ ناشتہ کرکے لیٹ گئے تھے۔ یہ کیسی شادی تھی۔ کسی صورت شادی والا گھر نہیں لگ رہا تھا۔ بالکل اُس کے دِل کی طرح ویران… کوئی ہنسی، کوئی قہقہہ اور نہ کوئی خوشی، کہیں کچھ موجود نہ تھا۔ گھر میں اور نا ہی اُس کے دل میں۔ اُس نے موبائل اُٹھا کر دیکھا۔ میسج باکس میں کوئی نیا میسج بھی نہ تھا۔ اُسے یک دَم سیما کا خیال آگیا۔ رات کی تقریب میں سیما نہیں تھی۔ باقی کالج کی ساری فرینڈز تھیں۔ سیما نے عمر کو میری شادی کے بارے میں بتا دیا ہوگا۔ ہو سکتا ہے اُسی نے سیما کو آنے سے منع کر دیا ہو۔
وہ اِسی طرح کے اُلٹے سیدھے خیالوں کے ساتھ کافی دیر تک دھوپ میں بیٹھی رہی۔ ناشتہ کرنے کا بھی دِل نہیں چاہ رہا تھا، مگر چائے کی طلب نے بے چین کر دیا۔ وہ اُٹھ کر کچن میں آگئی۔ چونکی اُس وقت جب دروازے پر دستک ہوئی، لیکن اُس نے دروازے پر جانا مناسب نہ سمجھا اور چائے کا کپ لے کر اپنے کمرے میں آگئی۔ مایوں کے کپڑوں میں وہ کسی کے سامنے نہیں آنا چاہتی تھی۔ اُس نے اماں کی چپل کی آواز سُن لی تھی۔ وہ دروازہ کھولنے آرہی تھیں۔ اُسے اِس طرح سر جھاڑ، منہ پھاڑ دیکھ کر ضرور کچھ نہ کچھ کہتیں۔ اِسی لیے سامعہ نے دَستک سُنی اَن سُنی کر دی۔ اِس وقت کون ہو سکتا تھا…؟ اُسے پروا نہیں تھی۔ وہ اندر سے ایک عجیب سی کیفیت کا شکار تھی۔ دو تین دِن کے بعد یہ گھر اور اُس کے لوگ پرائے ہو جائیں گے۔ اُس کی زندگی کی ڈور کسی اور شخص کے ہاتھوں میں تھما کر خون کے رشتے بے گانے ہو جائیں گے۔ سامعہ کی آنکھیں بھر آئیں۔ کسی بھی لڑکی کے لیے کتنا تکلیف دہ وقت ہوتا ہے۔ جب اُس کے اپنے سگے خون کے رشتوں میں ایک عجیب سی اَجنبیت کا اِحساس جنم لے لے گا۔ گھر کی ہر ایک شے اُس کے لیے پَرائی ہو جائے گی۔ وہ چیزیں جو پہلے کسی سے بنا پوچھے اُس کے اِستعمال میں تھیں۔ اب گھر والوں کی اجازت سے اِستعمال کرنا پڑیں گی۔ گھر میں موجود الماری کو گھر والوں کی اجازت سے کھولنا پڑے گا۔ فریج میں رکھی ہوئی رات کی بچی ڈِش یا کوئی پسندیدہ سوئیٹ ڈِش پوچھ کر کھانی ہوگی۔ یہ سب کتنا تکلیف دہ تھا۔ کوئی اُس وقت سامعہ سے پوچھتا۔
٭……٭……٭……٭
صارم کافی دیر سے عمر کو فون ملا رہا تھا، لیکن عمر کا فون نو رِیپلائی تھا۔ وہ آج شام اپنے گھر پر ہونے والی ایک بڑی پارٹی میں عمر کو اِنوائیٹ کرنا چاہتا تھا۔ اُسے لگا کہ شاید عمر کسی میٹنگ میں بزی نہ ہو۔ اِس لئے فون بند کر دیا۔ عمر نے تھوڑی دیر کے بعد ہی اُسے کال بیک کر لی۔
’’اوئے سالے! میں سمجھا تو اپنی اُسی گرل فرینڈ کے ساتھ مصروف ہے۔ اِسی لیے میری کال ریسیو نہیں کر رہا۔‘‘ صارم نے مکّاری سے ہنستے ہوئے سامعہ کا حوالہ دیا۔
’’یار! میں میٹنگ میں تھا ا ور سُن میری اُس گرل فرینڈ کی شادی ہو رہی ہے۔ تجھ سے میرا اِتنا سا کام نہیں ہو سکا۔ باتیں تو بڑی کرتا ہے تو……‘‘ اُس کی بات سُن کر عمر آفندی کی تو جیسے دُم پر پاؤں آگیا تھا۔
’’اوئے ہوئے! میرے یار کی بڑی نازک صورتِ حال ہے۔ سُن کر بڑا افسوس ہوا۔ تو نے پہلے کیوں نہیں بتایا۔ گھر سے اُٹھا لاتے ہیں تیری دوست کو۔‘‘ صارم نے بھی اُسی انداز میں جواب دیا۔
’’یار! تجھے مذاق سوجھ رہا ہے۔‘‘ عمر جل کر رہ گیا۔
’’خدا کی قسم! مذاق نہیں کر رہا۔ اگر تو سیریس ہے تو آج ہی اُٹھوا لیتے ہیں۔‘‘ صارم نے جواب دیا۔
’’چھوڑ یار! کون کم بخت ایسی لڑکیوںکے لیے سیریس ہوتا ہے۔ بس ایک چوٹ ہے، جو تیرے بھائی سے برداشت نہیں ہو رہی۔‘‘ عمر آفندی نے دِل کی بھڑاس نکالی۔
’’ہمم …… یار! میرا تو اُصول ہے جو چیز ہاتھ نہ آئے، اُسے برباد کر دو۔ نہ کھیلو اور نہ کھیلنے دو۔ تیرا ہی حوصلہ ہے جو اِتنی آسانی سے چڑیا کو جانے دیا۔ تیری جگہ میں ہوتا تو کب کا……‘‘ صارم نے بات ادھوری چھوڑی۔
’’تو بتا نا کہ اب کیا کروں۔ دو دِن کے بعد اُس کی شادی ہے۔‘‘ عمر نے ہتھیار ڈالتے ہوئے صارم کو جواب دیا۔
’’جیسا میں کہوں گا، کرے گا…؟‘‘ صارم کو ایسے کاموں میں بڑی مہارت تھی۔ بڑا پُرانا کھلاڑی تھا، ایسی بربادیوں کا۔ اِس لیے اُسے اِس کیفیت میں مبتلا عمر کی حالت دیکھ کر پہلے تو ترس آیا اور پھر مزہ آنے لگا۔
’’اچھا! یار کہا ہے تو یار بن کر دِکھاؤں گا تو ایسا کر اپنی گرل فرینڈ کا نام اور فون نمبر مجھے بھیج اور تین بجے تک اُس سے ملنے کے لیے میرے گھر پہنچ جا۔‘‘
’’وہ نہیں آئے گی یار! بہت تیز لڑکی ہے۔ اتنی بار میں نے بُلایا، مگر کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر اپنی جان بچا لی۔‘‘ عمر نے اُس کی بات پر ہلکی سی تلخی سے جواب دیا۔
’’یار! تو ابھی اپنے بھائی کو جانتا نہیں ہے۔ آج تک کسی لڑکی نے تیرے بھائی کو اِنکار ہی نہیں کیا۔ دانا ہی ایسا پھینکوں گا کہ چڑیا کو چگنے آنا ہی پڑے گا۔‘‘ صارم نے مکّاری سے کہتے ہوئے عمر کا مذاق اُڑایا۔
’’چل تو ٹھیک ہے تو بھی اپنی کر لے، مگر مجھے سو فیصد یقین ہے کہ وہ نہیں آئے گی۔‘‘ عمر نے اُسے جواب دیا۔
’’وہ آئے یا نا آئے تو ٹھیک تین بجے تک میرے گھر پہنچ جانا اور جلدی سے اُس کا نام اور نمبر بھیج مجھے۔‘‘ اِس بار عمر کے لگاتار اِنکار پر صارم جھلّا سا گیا۔ عمر نے بھی اُس کی تلخی محسوس کی۔ فون بند کرکے سب سے پہلا کام ہی اُسے سامعہ کا نمبر بھیجنے کا کیا، جو صارم نے فوری طور پر محفوظ کر لیا۔ وہ پوری پلاننگ کر چکا تھا۔ سامعہ کو کیسے کوٹھی تک بُلانا ہے۔
٭……٭……٭……٭
سیما آج آفس کافی لیٹ آئی۔ کل رات سے اُسے شدید فلو اور ہلکا ہلکا سا بخار تھا، اِسی لیے نانوبی نے اُسے سامعہ کے مایوں میں بھی نہیں جانے دیا۔ اُن کا خیال تھا کہ بس شادی میں چلی جانا اور کوئی اچھا سا گفٹ دے دینا۔ آج مکمل آرام کر لو اور پھر پوری رات وہ دوائی لے کر سوتی رہی۔ صُبح بھی آنکھ دیر سے ہی کُھلی۔ نانو بی نے اُس کا ناشتہ کمرے میں ہی بھجوا دیا۔ اُن کا خیال تھا کہ ناسازیٔ طبع کے باعث وہ آج آرام کرے گی۔ گیارہ بجے وہ جب تیار ہو کر نیچے آئی تو کافی فریش لگ رہی تھی۔
’’تم کم از کم آج کے دِن کو آف کر لیتیں۔ ایک دِن آرام کے بعد طبیعت کچھ بہتر ہو جاتی۔‘‘ انہوں نے سمجھانے کی کوشش کی، مگر سیما نے کب ماننا تھا۔ اُنہیں معلوم تھا کہ اُن کی نواسی اِنتہائی ضدی ہے۔ جس بات کی دِل میں ٹھان لے پورا کر کے رہتی ہے۔ اِس وقت بھی وہ آفس جانے کے لیے بالکل تیار تھی۔
’’نانوبی! آپ کو پتا ہے خالو جان اب مجھ پر کتنا ٹرسٹ کرنے لگے ہیں۔ عمر سے زیادہ وہ مجھ سے آفس کے کام ڈسکس کرتے ہیں۔ اُنہیں معلوم ہے کہ میں پوری ذمہ داری سے کام کروں گی۔ اِس لیے میرے لیے اب چھٹی کا لفظ ناممکن ہو گیا ہے۔‘‘ نانو بی اُس کی بات پر مُسکرا دیں۔
’’ہاں! اسی بات کی خوشی ہے کہ تم نے بہت جلد اپنی محنت سے اُس کے آفس اور دِل میں اپنی جگہ بنا لی۔ اب جلد اَز جلد اِس گھر میں بھی جگہ بنا لو تو میری ذمہ داریاں ختم ہوں۔‘‘
’’بس نانو بی! آپ کو تو موقع چاہیے میری شادی کی بات کا۔ میں اب اِس بارے میں بالکل نہیں سوچ رہی۔ جب ہونی ہو گی اللہ کے حکم سے ہو جائے گی۔ ابھی تو میں آپ کی طرح بزنس وومن بننے کا سفر طے کر رہی ہوں۔ دُعا کیجئے میں بالکل آپ کی طرح کامیاب بھی رہوں۔‘‘
وہ جب سے آفس جانے لگی تھی۔ دماغ کی ہر سوچ اپنے کام پر ٹھہر سی گئی تھی۔ عمر کے ساتھ کام کرنے میں اپنا مزہ تھا، لیکن خود کو ایک اچھی بزنس وومن ثابت کرنے میں جو مزہ تھا وہ سب سے الگ۔۔۔ پھر اِس سفر میں سب اُس کا مکمل ساتھ دے رہے تھے۔ عمر بھی اُس کی اتنی محنت پر حیران ہو جاتا۔ اپنے بزنس کو اتنا سیریس تو اُس نے بھی کبھی نہیں لیا تھا۔ باپ کی طرف سے پکی پکائی کھیر مل رہی تھی۔ اِسی لیے کھیر کی مٹھاس کا بالکل اِحساس نہ تھا۔ وہ پہلی بار اِس کاروباری دُنیا میں داخل ہوئی۔ نانو بی کے تمام تر مشوروں کے ساتھ اچھا کام کرکے سب کو حیران کر رہی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اُسے اپنا آپ محنت سے منوانا ہے۔ وہ یہ محنت پورے دِل و جان سے کر رہی تھی۔ اِسی لیے رات بھر کے فلو اور بخار کے باوجود وہ جانے کے لیے بالکل تیار تھی۔ آفس پہنچی تو سب سے زیادہ اُسے آفس میں دیکھ کر عمر حیران ہوا۔
’’اَرے! تم آفس آ گئیں۔ میری رات ہی تو نانو بی سے بات ہوئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ تم فلو اور بخار کی وجہ سے دوائی لے کر سوئی ہو۔ اِتنی جلدی طبیعت بھی ٹھیک ہو گئی…‘‘
’’ہاں! دوائی لے لی تھی۔ اب بہتر محسوس کر رہی تھی، اِس لیے سوچا گھر بیٹھ کر وقت ضائع کیوں کیا جائے۔ پھرآج ایک میٹنگ بھی ہے۔ خالو جان کا صُبح میسج آگیا تھا۔ وہ نہیں آ سکیں گے تو میں چھٹی کیسے کر لیتی۔‘‘اُس نے لیپ ٹاپ والا بیگ اپنی میز پر رکھا اور خود کرسی پر بیٹھ گئی۔
’’بابا تو تمہاری تعریفیں کرتے نہیں تھکتے اور کئی بار تمہاری محنت کی مثالیں دے دے کر مجھے شرمندہ کرتے رہتے ہیں، لیکن دیکھ لو کہ ہم پر بھی اَثر نہیں ہوتا۔‘‘ وہ بے پروائی سے ہنستا رہا۔ وہ غور سے اُس کی شکل تَک رہی تھی۔
کیا تھا اُس جادو گر میں… جب ہنستا تھا تو لگتا کہ چاروں طرف جلترنگ سے بج رہے ہوں۔ اِس شخص کا ساتھ عمر بھر کو مل جائے تو زندگی کتنی حسین ہو جائے گی۔ اُس نے ایک چور سی نظر عمر پر ڈالی، جو اپنے موبائل پر آئے ہوئے مسیج چیک کر رہا تھا۔ عمر ایک میسج پڑھ کر چونک اُٹھا۔ ایمان نے اُسے رات کا میسج کیا ہوا تھا، لیکن اُس نے اب دیکھا۔ وہ اُٹھ کھڑا ہوا۔
’’اوکے یار! تم کام کرو میں ذرا اپنی کچھ فائلز چیک کرلوں۔ کافی دِن سے کام ادھورا ہے۔ ختم ہی نہیں ہو رہا۔‘‘
’’کافی نہیں پیئو گے…؟ کافی منگوائی ہے۔‘‘ اُس نے حیرانی سے عمر کو دیکھا، جو اچانک ہی کھڑا ہو گیا تھا۔ دراصل ایمان کا میسج دیکھ کر وہ اُسے فون کرنے کا سوچ رہا تھا۔ شاید اِس وقت کو سیما کے ساتھ کافی پی کر ضائع کرنا نہیں چاہتا تھا۔
’’کافی تم میرے کمرے میں بھجوا دو اور ہاں میٹنگ کے وقت بھی میسج کر دینا میں آ جاؤں گا۔ بابا نے شامل ہونے کی سخت ہدایت کی ہے۔‘‘ وہ اُسے ہدایت دیتا ہوا اپنے روم میں چلا گیا۔ سیما کو لگا کہ وہ کمرے کی ساری رونق اپنے ساتھ ہی لے گیا ہے۔ کمرہ یک دَم ویران سا ہو گیا۔ سیما نے ٹھنڈی سانس بھر کر لیپ ٹاپ کھول لیا، تاکہ آج کی میٹنگ کے اہم پوائنٹس تیار کر لے۔ وہ واقعی بہت دِل سے کا م کر رہی تھی۔ اِس بزنس کو آگے لے جانے کا خواب اُس کی نانو بی نے اُس کی آنکھوں میں بھر دیا تھا۔ وہ اب کچھ اور دیکھ ہی نہیں سکتی تھی۔ پھر اِس خواب میں عمر بھی تو اکثر اُس کے ساتھ ہی ہوتا۔ اپنے من پسند سفر میں ساتھی بھی من پسند ہو تو راستہ کتنا خوب صورت ہو جاتا ہے۔ کوئی اُس وقت سیما سے پوچھتا۔ وہ جانتی تھی کہ عمر بے شک اِدھر اُدھر منہ مارتا پھرے، لیکن شادی وہ اُسی سے کرے گا۔ اِس لیے عمر کی چھوٹی موٹی حرکتوں کو نظر انداز کرنا ہی ضروری ہے۔
٭……٭……٭……٭
اُوپر کا سارا پورشن تیار ہو چکا تھا۔ کمرہ بہت خوب صورت سیٹ ہوا تھا۔ دُلہن کے آنے میں ابھی دو دِن باقی تھے۔ کبیر علی نے ساری تیاری مکمل کر لی تھی۔ اِس وقت وہ ثنا اور اماں کو لے کر اُوپر اپنے پورشن میں آئے تھے۔ کمرے میں فرنیچر کے ساتھ پردے بھی ڈال دئیے گئے تھے۔ چھوٹے چھوٹے شو پیس کے ساتھ مصنوعی پُھولوں سے سجے گلدان اپنی بہار دِکھا رہے تھے۔ ہلکے ہلکے ائیر فریشنر کی خوش بو پورے کمرے میں بکھری ہوئی تھی۔ سلمیٰ بیگم کا دِل خوش ہو گیا۔ انہوں نے دِل سے بیٹے کو دُعا دی۔
’’یااللہ! میرے بیٹے کے نصیب میں آنے والی کی قسمت کا سُکھ ضرور دینا۔ پھر سورئہ فلق اور سورئہ الناس پڑھ کر انہوں نے بیٹے اور کمرے پر پُھونکا، تاکہ دونوں نظرِ بد سے بچے رہیں۔
’’ماشاء اللہ! کمرہ بہت اچھا لگ رہا ہے۔ اللہ رہنا اور بسانا نصیب کرے۔ صُبح دو بکرے لا کر صدقہ بھی دے دینا۔‘‘ انہوں نے کبیر علی کو ہدایت دی۔
’’جو حُکم اماں اور آپ کی ہدایت پر خالہ اور خالو جان کے لیے اگلا والا کمرہ بھی تیار کروا دیا ہے، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ وہ یہ بات مانیں گے۔‘‘
’’بے شک نہ مانیں، لیکن میں ایک بار اپنی بہن اور بہنوئی سے ضرور یہ بات کہوں گی۔ تم ہی سوچو کہ وہاں اب اُن کا خیال کون رکھے گا۔ بھائی جان کو ہر دوسرے دِن فزیو تھراپی کی ضرورت پڑتی ہے اور ناہید بھی بیمار رہتی ہے۔ اگر پاس آ جائے گی تو میرا بھی سہارا ہو جائے گا۔‘‘ انہوں نے فکرمندی سے کہا۔ دراصل اُن دونوں کو اُوپر والا علیحدہ پورشن دینے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ وہ بہن اور بہنوئی کی وجہ سے پریشان نہیں کہ اب وہ اکیلے کیسے رہیں گے۔ اُنہیں خیال تھا کہ ابھی تو سامعہ اُن کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ شادی کے بعد روز روز بھاگ کر اپنے میکے جانا اُس کے لیے بھی مشکل ہو جائے گا۔ وہ ناہید سے اِصرار کریں گی کہ دونوں بھی اِدھر ہی شفٹ ہو جائیں۔
’’اماں! خالہ کبھی نہیں مانیں گی۔‘‘ اِس بار ثنا بھی بولی۔
’’بیٹا! مانیں یا نہ مانیں، لیکن میں ایک بار بھائی صاحب سے کہوں گی ضرور۔ وہ کسی غیر کے گھر نہیں آ رہے، اُن کی اپنی سالی کا گھر ہے۔ بیٹے کی موت کے بعد تو وہ کبیر کو اپنا بیٹا ہی سمجھتے ہیں۔ اگر کبیر اُن سے کہے گا تو شاید وہ مان جائیں۔ میں جانتی ہوں سامعہ کو اُن دونوں کی کتنی فکر ہے۔ وہ مرجھا کر رہ گئی ہے۔ تم نے دیکھا نہیں کل اُس کے چہرے پر دُلہنوں والی کوئی خوشی نہ تھی۔ صرف اپنے ماں باپ کی فکر نظر آرہی تھی۔ کل کبیر کے ساتھ جا کر خود بھائی صاحب سے بات کروں گی۔‘‘ ثنا نے آج تک اپنی ماں سے زیادہ رشتوں کا اِحساس کرنے والا کوئی اور نہیں دیکھا تھا۔ کل اُس نے بھی سامعہ کا مُرجھایا ہوا چہرہ محسوس کیا، لیکن اِتنی گہرائی میں جا کر نہیں سوچا کہ وہ اپنے ماں باپ کے اکلاپے کی وجہ سے پریشان ہے، بلکہ وہ تو عجیب و غریب سے واہمے پالے بیٹھی تھی۔ اُسے محسوس ہو رہا تھا کہ سامعہ کبیر بھائی سے شادی پر خوش نہیں۔ اُس کی ماں کتنے دُور کی کوڑی لائی تھیں۔ اِس پہلو پر تو اُس کا دھیان ہی نہیں گیا تھا۔ اُس نے آگے بڑھ کر ماں اور کبیر بھائی کو گلے لگا لیا۔
’’بھائی! شادی کے بعد بھی یہی والے بھائی رہنا… بدل نہ جانا…‘‘ اُسے اپنے بھائی سے شدید محبت تھی اور محبتوں میں واہمے اور شکوک تو ہوتے ہی ہیں۔ کوئی دوسرا جب آپ کی جگہ لے رہا ہو تو دِل میں عجیب عجیب سے خیال تو پلتے ہی ہیں۔‘‘
’’چل جھلّی! ایسا سوچنا بھی مت… دُنیا بدل سکتی ہے، لیکن تمہارا بھائی نہیں بدل سکتا…‘‘
’’اَرے بھئی! کوئی غیر تو نہیں آرہا اِس گھر میں۔ جسے تمہاری اور تمہارے بھائی کی محبت کے بارے میں علم نہیں۔ فکر مت کرو جیسے یہ تمہارا بھائی تم سے محبت کرتا ہے اِسی طرح وہ تمہاری خالہ زاد اور دوست تمہارا خیال رکھے گی۔ خوامخواہ کے واہمے دِل میں نہ پالو۔‘‘ اُس کی بات کا جواب سلمیٰ بیگم نے ڈانٹ کر دیا۔ وہ دِل کی بہت صاف تھیں۔ اُن کا خیال تھا جیسا اچھا گمان وہ دوسروں کے بارے میں رکھتی ہیں دوسرا بھی ایسا ہی سوچتا ہوگا، لیکن نہیں جانتی تھیں کہ دُنیا بہت سنگ دِل ہے۔ محبتوں کے جواب اکثر دِل توڑ کر دئیے جاتے ہیں۔ آپ کسی سے جتنی شدید محبت کرلیں، اگر اُس نے آپ کی محبت کو سرسری لینا ہے تو اُسے آپ کی قدر کبھی نہیں آئے گی۔ وہ آپ کی محبتوں کو روند کر آگے بڑھ جائے گا۔ اُنہیں بالکل اندازہ نہ تھا کہ آگے اُن کے اور اُن کی اولاد کے ساتھ کیا ہونے والا ہے…؟
٭……٭……٭……٭
رحیم بابا نے کھانا لگوا دیا تھا اور رضوان کو دو بار یاد دہانی بھی کروا دی۔ وہ اُس وقت لیپ ٹاپ پر اپنے کام میں اِتنا بزی تھا کہ اُسے وقت کا اِحساس ہی نہ ہوا۔ آخری بار انہوں نے کمپنی کو میل بھجی اور ٹھنڈا سانس لیا۔ آسٹریلیا کے لیے ایک بڑی کنسائنمنٹ بھجوانا تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ ساری میلنگ مکمل کرکے ہی کھانے کے لیے ٹیبل پر جائیں۔ جب وہ ٹیبل پر پہنچے، تورحیم بابا کھانا اُٹھوا چکے تھے۔ اُنہیں میز پر دیکھ کر اُن کے پاس آگئے۔
’’رضوان بابا! اگر اِس وقت بڑے صاحب زندہ ہوتے تو شدید ناراض ہوتے۔ وہ اِس بات کو سخت ناپسند کرتے تھے کہ ٹیبل پر کھانا لگا ہو اور بندہ کام میں مصروف رہے۔‘‘
’’لیکن بابا! کام بھی بہت ضروری تھا۔ وہ مکمل ہوا تو فوراً نیچے آ گیا۔ یہ بتائیں کھانا ہے کہاں…؟‘‘ انہوں نے ٹیبل خالی دیکھ کر پوچھا۔
’’دو بار گرم کرکے لگوا چکا ہوں۔ پچھلے چالیس منٹ میں چار بار آپ کو یادہانی کروائی، لیکن جب آپ نہ آئے تو اُٹھوا دیا۔ پانچ منٹ ٹھہریں۔ دوبارہ گرم ہو رہا ہے۔‘‘ انہوں نے وضاحت کی تو رضوان ہنس پڑا۔
رحیم بابا بچپن سے ہی اُسے کھانے پر ڈانٹتے آئے تھے۔ وہ کھانوں میں نخرے تو نہیں کرتا تھا، لیکن اکثر مشکل سے ہی اُسے کھانا کھلایا جا سکتا تھا، جو چیز پسند نہیں آتی تھی کبھی کچھ کہتا نہیں تھا۔ بس تھوڑا سا کھا کر چھوڑ دیتا اور اُنہیں پتا لگ جاتا کہ چھوٹے بابا کو کھانا پسند نہیں آیا۔ وہ کوشش کرتے تھے کہ ہر بار کھانے میں اُن کی پسند کا ہی خیال رکھا جائے۔
’’چھوٹے بابا! کل کے لیے آفس کے کپڑے اِستری کروا دیئے تھے اورکوئی حکم …؟‘‘ وہ بڑی تابع داری سے پوچھنے لگے۔ رضوان ہنس پڑا۔
’’رحیم بابا! آپ ایسی باتیں کرکے مجھے شرمندہ مت کیا کریں۔ میں چھوٹا ہوں۔ بھلا میں آپ کو حُکم کیسے دے سکتا ہوں۔ صرف کہہ ہی سکتا ہوں۔ حُکم تو آپ کریں۔‘‘ وہ ہنستا ہوا بولا۔ اتنے میں کُک نے ٹیبل دوبارہ لگا دی۔ اُس نے کھانا شروع کیا۔ کُک کو دیکھ کر اُسے کچھ یادآگیا۔
’’سنو! کل مزے دار سے ـڈھیر سارے شامی کباب بنانا اور ساتھ ایک اَدھ بریانی بھی بنا دینا۔ مجھے آفس کے لوگوں کو کھانا کھلانا ہے۔‘‘
’’جی سر! بہت بہتر۔ کتنے لوگ ہوں گے…؟‘‘
’’یہی کوئی بیس پچیس…‘‘ انہوں نے سوچ کر جواب دیا۔
’’بن جائے گا سر!… میٹھے میں کسٹرڈ بنا دوں…؟‘‘ وہ اکثر آفس کے لوگوں کے لیے کھانا گھر سے بنوا کر لے جاتے تھے۔ بالکل اپنے باپ کی طرح اُنہیں بھی کھلانے پلانے کا بہت شوق تھا۔ وہ اِس طرح اپنے آفس کے ورکرز کے درمیان فاصلہ بانٹنے کی کوشش کرتے اور یہ سٹریٹیجی کامیاب بھی تھی۔
’’اور ہاں بابا! پرسوں کبیر علی کی شادی ہے۔ انہوں نے آپ کو بھی بُلایا ہے۔ خاص طور پر کہا تھا۔ آپ بھی تیار رہیے گا۔‘‘ کھانا جلدی جلدی کھاتے ہوئے انہوں نے رحیم بابا سے کہا۔
’’جی! مجھے بھی کبیر صاحب کا فون آگیا تھا۔ آپ کے یہاں نہ ہونے پر انہوں نے صاحب اور آفس کا بہت خیال رکھا۔ بہت اچھے آدمی ہیں۔ میں ضرور چلوں گا۔‘‘ وہ بولے۔
’’ہاں! واقعی اتنے اچھے لوگ بہت کم ہوتے ہیں۔ بابا نے آفس میں چُن چُن کر ہیرے رکھے تھے۔ کبیر علی اُن میں سے ایک ہیں۔‘‘ رضوان بھی اُن کی شرافت کا معترف تھا۔
’’بہت اچھی ماں کے ہاتھوں پرورش ہوئی ہے۔ اِنتہائی شریف اور عزت کرنے والا بچہ ہے۔‘‘ رحیم بابا نے مُسکرا کر رضوان کی بھی تعریف کی۔
’’لیکن میری تربیت میں تو سارا ہاتھ بابا کا ہے۔ اگر وہ زندگی کی اونچ نیچ کے بارے میں مجھے نہ بتاتے تو شاید آج میں بھی ایک بگڑا ہوا بچہ ہوتا۔‘‘ اُنہیں اپنے باپ کو یاد کرنے کا ایک اور موقع مل گیا۔ رحیم بابا کی آنکھوں میں بھی شمیم صاحب کے ذِکرسے پانی آ گیا۔ رضوان کھانا ختم کر چکا تھا۔
’’آپ کافی پئیں گے…؟‘‘ رحیم بابا نے بات بدلنے کے لیے کہا۔
’’بالکل! پلا دیں، لیکن آپ کے ہاتھ کی ہو۔‘‘ رضوان نے ٹیبل سے اُٹھتے ہوئے کہا۔ اِس وقت وہ جاگنے اور کوئی اچھی سی مووی دیکھنے کے موڈ میں تھے۔ اِسی لیے انہوں نے بابا کی آفر فوراً قبول کر لی۔
’’بس آپ پانچ منٹ دیں۔ میں ابھی بنا کر لاتا ہوں۔‘‘ اُن کے ہاتھ کی کافی تو شمیم صاحب کو بھی بہت پسند تھی اور وہ اکثر فرمائش کرکے بنواتے تھے۔ وہ ٹیبل سے برتن اُٹھوانے تک کافی بھی تیار کر چکے تھے۔
٭……٭……٭……٭
آج سامعہ صُبح ہی اُٹھ گئی تھی۔ اماں ابا کو ناشتہ دیا تو ساتھ والی خالہ آ گئیں۔ اُس کے لیے کپڑے اور جہیز کی چند اور چیزیں بنا کر لائیں تھیں۔ سامعہ کا سارا بچپن اُسی محلّے میں ہی گزرا تھا۔ محلّے کے آس پاس کے تمام گھروں میں بہت محبت اور بھائی چارہ تھا۔ ایک دوسرے کے بچوں کو اپنا بچہ سمجھا جاتا تھا۔ اماں نے بھی اُن کی بیٹی کی شادی میں کافی سارا سامان اورپیسے دیئے تھے، لیکن ساتھ والی قریشہ خالہ اُس کے لیے بہت کچھ لائی تھیں۔ بار بار اُس کا سر بھی چوم رہی تھیں۔ اُن کی آنکھوں کی نمی دیکھ کر وہ خود پگھل گئی۔ اُسے اِحساس تھا کہ اب اُس کا اپنے گھر میں صرف کچھ وقت باقی ہے۔ وہ اُن کا لایا ہوا سامان دیکھ رہی تھی۔ کافی سارے پیکٹس تھے۔ اُن کا بیٹا دُبئی میں ہوتا تھا، جس سے انہوں نے کپڑے اور کاسمیٹکس بھی منگوایا تھا۔ اُس نے خود تو کاسمیٹکس کا کوئی سامان نہیں لیا، کیوں کہ ثنا نے منع کر دیا تھا۔ کبیر اور ثنا کافی سارا سامان اُس سے پوچھ کر خرید چکے تھے۔ اِس لیے اُس نے ضرورت ہی نہ سمجھی، حالاں کہ اُسے کتنا شوق تھا کہ جب شادی ہو گی تو اپنی پسند کا ڈھیر سارا میک اَپ لوں گی، لیکن اب تو جیسے سارے اَرماں مر ہی گئے تھے۔ وہ خالہ کا شکریہ ادا کرکے اُٹھ گئی۔ خالہ کافی دیر بیٹھی رہیں۔ اماں سے باتیں کرتی رہیں اور وہ اپنے کمرے میں بند صرف آنے والے دِنوں کے بارے میں سوچتی رہی۔ عجیب سی کیفیت تھی۔ خوشی اور نہ ہی کوئی غم۔ غم جو عمر کے حوالے سے تھا۔ وہ پوری طرح دِل کے کسی کونے کُھدرے میں دبا چکی تھی۔ اب تو اِس بارے میں سوچ بھی نہیں رہی تھی۔ بس یہ افسوس تھا کہ اُس سے آخری لمحہ مل کر کوئی بات بھی نہ کر پائی۔ اُسے اپنی صفائی بھی نہ دے سکی۔ کاش! میں اُس سے آخری بار مل سکتی۔ شاید کوئی نہ کوئی حل ہی نکل آتا۔ اُس نے بھی تو میری بات سُننے کی زحمت گوارا نہ کی۔ وہ ایسی باتیں سوچ کر اپنا دِل خراب کر رہی تھی کہ اچانک موبائل بجا، کسی اَنجانے نمبر سے میسج تھا۔ اُس نے اُٹھا کر پڑھا۔
’’میں عمر کا دوست صارم ہوں۔ آپ نے عمر کے ساتھ بالکل اچھا نہیں کیا۔ اِس وقت وہ موت و زیست کی کشمکش میں ہے اور آخری لمحوں میں بھی صرف آپ کا ہی نام لے رہا ہے۔ مرتے ہوئے شخص کی آخری خواہش پوری کر دیں۔ ایک بار آ کر مل جائیں۔ ورنہ ساری عمر ایک شخص کی موت کا ذمہ دار خود کو ٹھہرائیں گی۔ نیچے ایک ایڈریس دیا ہوا تھا۔ سامعہ کی آنکھیں اُبل کر باہر آگئیں۔ اُسے یقین نہیں آرہا تھا کہ عمر ایسا بھی کر سکتا ہے۔ اُس نے فوراً فون ملایا۔ دوسری طرف سے صارم نے کال اُٹھائی اور ایک منٹ میں عمر کی محبت اور عمر کے بارے میں ایسی جذباتی گفت گو کی۔ عمر خودکُشی کی کوشش میں بچا تو لیا گیا تھا، لیکن سامعہ سے ملنے کا شدید خواہش مند تھا۔ صارم کو ڈر تھا کہ اگر وہ ملنے نہ آئی تو وہ دوبارہ خودکُشی کی کوشش نہ کرے۔ وہ ملنے کے لیے بے قرار ہو گئی، لیکن مسئلہ یہی تھا کہ اِس وقت گھر سے کیسے نکلے…؟ اُسے سمجھ نہیں آیا کہ کس طرح وہ عمر کے پاس اُڑ کر پہنچ جائے۔ اچانک اُسے ماموں کے بیٹے زُہیب کا خیال آیا۔ جسے ایک گھنٹے کے بعد میں اُسے دلہن کی سروسز کے لیے پارلر لے کر جانا تھا۔ آج پارلر والوں نے بُلایا تھا۔ جانا تو ایک گھنٹے بعد تھا، لیکن اُس نے زُہیب کو اُسی وقت فون کر دیا۔ پارلر سے فون آ گیا ہے۔ اُسے آ کر پارلر تک ڈراپ کر دو۔ دو بج چکے تھے اور ڈھائی بجے تک وہ اُسے لینے آ گیا۔ وہ اُس کے ساتھ پارلر آگئی۔ زُہیب کو اُس نے دروازے سے ہی رُخصت کر دیا۔ اُس کے جاتے ہی سامعہ نے پاس گزرتے رکشے کو ہاتھ دیا اور رکشے والے کو علاقے کا پتا سمجھایا۔ وہ بالکل سُن تھی۔ بس دُعا کر رہی تھی کہ یااللہ عمر کو کچھ نہ ہو۔ پورے راستے وہ عمر آفندی کی زندگی کے لیے دُعا کرتی رہی۔ دونوں کے درمیاں کتنا انوکھا سا رشتہ تھا۔ نا مکمل اور عجیب سا۔ دونوں کو ایک دوسرے پر اِعتبار بھی تھا اور نہیں بھی۔ دونوں کو ایک دوسرے سے محبت بھی تھی اور نہیں بھی۔ دونوں ایک دوسرے سے ملنا چاہتے تھے اور نہیں مل پاتے تھے۔ کیا تھا ایسی محبت میں۔ اور کیوں ہوئی ایسی محبت، جس کی اِبتدا بھی ایک پہیلی تھی اور انجام بھی۔ زندگی کے اِس مقام پر جب وہ کسی اور کے نام سے بندھنے جا رہی تھی۔ عمر آفندی نے اُس کی شادی کی خبر سُن کر خودکُشی کرنے کی کوشش کی۔ اُسے یقین کیوں نہیں آ رہا تھا…؟ عمر نے اُس سے اِنتہائی شدید درجے کی محبت کی تھی۔ اتنی محبت، جس میں وہ اپنی جان لینے کی کوشش بھی کر سکتا تھا…؟ اُسے یقین کیوں نہیں آرہا تھا، لیکن یقین نہ کرنے کے کسی بھی پہلو پر اُس نے سوچنا بھی گوارا نہ کیا۔ اُس کی محبت کے لیے صارم کی طرف سے دی گئی یہی خبر کافی تھی کہ اُس کی جدائی میں عمر آفندی نے خودکُشی کی کوشش کی۔ رکشہ بہت تیزی سے اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھا، لیکن اُسے لگ رہا تھا کہ چیونٹی کی رفتار ہے۔ وہ زور سے چلائی:
’’بھائی! ذرا تیز چلائیں۔ مجھے دیر ہو رہی ہے۔‘‘
’’بہن! اِس سے زیادہ تو جہاز ہی اُڑ سکتا ہے۔ چاہیں تو جہاز میں بیٹھ جائیں۔‘‘ وہ بھی کوئی مسخرہ تھا۔ پیچھے مُڑکر بولا۔
’’بکواس بند کرو اور آگے دیکھ کر تیز چلاؤ۔‘‘ وہ چلائی۔ اُسے رکشے والے کی بکواس نہیں سُننی تھی۔ وہ کچھ اور سُننے کے موڈ میں ہی نہ تھی۔ بیس منٹ کے بعد علاقے میں پہنچ کر ایک کوٹھی کے آگے رکشے والے نے رکشہ روکا۔
’’باجی! ایڈریس چیک کر لیں۔ وائی بلاک یہی ہے۔ وائی بلاک کی پہلی کوٹھی یہی ہے۔‘‘ اُس نے دوبارہ ایڈریس دیکھنے کے لیے پرس سے فون نکالنے میں چند لمحے لگائے اور اتنی دیر میں ہی چار پانچ پولیس موبائل کوٹھی کے آگے آکر کھڑی ہو گئیں۔ رکشے والے نے رکشے کو دھکا دے کر رکشہ دوسری کوٹھی کے آگے کھڑا کر دیا اور خود باہر نکل کر تماشا دیکھنے لگا۔ ایک لمحے کو اُس نے گیٹ پر دئیے ہوئے پتے اور موبائل میں صارم کی طرف سے بھیجے ہوئے پتے کو ملایا تو وہ ایک تھا۔ وہ ٹھہر گئی کہ رکشے سے باہر آئے یا نہ آئے۔ اتنی دیر میں رکشے والا برابر والی کوٹھی کے چوکیدار سے ساری معلومات لے چکا تھا۔
’’جی باجی! آپ نے اِسی پتے پر آنا تھا۔‘‘ اب وہ سامعہ کو بڑی مشکوک سی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
’’نہیں…! پتا نہیں… شاید آگے والا کوئی گھر ہو…؟ وہ گڑ بڑا سی گئی، مگر یہاں پولیس کیوں آئی ہے…؟‘‘
’’پولیس نے چھاپہ مارا ہے۔ غیر قانونی کام ہوتا ہے جی۔ روزشام کو اِس کوٹھی کی راتیں جوان ہوتی ہیں۔ شراب اور لڑکی وڑکی کا بھی چکر ہے۔‘‘ رکشے والا اب بھی اُسے مشکوک نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ وہ پھٹی پھٹی نظروںسے اُسے تَک رہی تھی۔ قدرت قدم قدم پر اُسے اِشارے دے رہی تھی او روہ سمجھ کر بھی نا سمجھ تھی۔
’’جی باجی! بتائیں کہاں اُتاروں…؟ کیایہی کوٹھی ہے…؟‘‘
’’نہیں! یہ وہ کوٹھی نہیں ہے۔ میں شاید غلط پتے پر آگئی ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ دوبارہ رکشے میں بیٹھ گئی۔ رکشے والا بڑی عجیب سی نظروں سے اُسے دیکھ رہا تھا۔ وہ صرف کوٹھی میں داخل ہونے والے پولیس والوں کو دیکھ رہی تھی۔ اگر وہ پندرہ منٹ پہلے اُس کوٹھی میں داخل ہو جاتی تو شاید اندر بیٹھی بہت ساری آوارہ لڑکیوں کے ساتھ اُس کا نام بھی آتا۔ اُسے یاد آیا کہ اماں نے چلتے وقت اُس پر آیت الکرسی پڑھ کر پھونکی تھی۔ وہ بہت پریشان تھیں کہ وہ اکیلی ہے۔ اُس کے ساتھ کوئی نہیں جا رہا۔ دراصل ماموں کی بیٹی رِمشا نے اُس کے ساتھ جانا تھا، لیکن اب وہ اُس کے اچانک پروگرام کی وجہ سے نہ آسکی۔ زُہیب اُسے ڈراپ کرنے پارلر تک آیا۔ شاید آیت الکرسی کی پُھونک اتنی طاقت ور تھی یا ماں کا ڈر اور اُس کی دِل سے نکلی دُعا اِتنی طاقت ور تھی، جس نے اُسے ساری عمر کی رُسوائی سے بچا لیا۔ رکشے میں سوار وہ بے آواز آنسو بہاتی رہی۔ چہرے پر مکمل طور پر چادر پڑی تھی۔ وہ بالکل خاموش بیٹھی باہر آتی جاتی گاڑیوں کو دیکھتی رہی اور خود کو کوستی رہی کہ اُس کی آنکھوں پر کیسا پردہ پڑ گیا تھا کہ ایک اجنبی کی بات پر یقین کرکے یہاں آگئی۔ یہ بھی نہ سوچا کہ یہ سب جھوٹ بھی تو ہو سکتا تھا۔ اُسے یہاں تک بُلانے کا کوئی فریب بھی تو ہو سکتا تھا۔ آنکھوں پر شیطان نے کیسی پٹی باندھ دی تھی کہ کسی اور بات کی طرف دھیان ہی نہیں گیا۔ بس یہی سوچا کہ عمر اِس وقت زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے۔ اُس کو میری ضرورت ہے۔ اگر یہ ضرورت پوری نہ ہوئی تو ضمیر مجھے کبھی معاف نہیں کرے گا۔ رکشے سے اُتر کر اُس نے رکشے والے کو ہزار کا نوٹ تھمایا اور خود پارلر کی طرف بڑھ گئی اور وہ وہیں کھڑا حیران نظروں سے اندر جاتی لڑکی کو دیکھتا رہ گیا۔ سامعہ پارلر میں بیٹھی یہی سوچتی رہی کہ اِس قسم کی فریبی محبتوں کی پہیلیاں کبھی اُلجھ جائیں تو ساری عمر نہیں سلجھتیں۔ عمر اور اُس کی محبت بھی ایسی ہی ایک گُتھی تھی اور ایسی محبتوں کی گُتھیاں شاید ہماری جیسی بہت سی لڑکیوں کا نصیب ہوتی ہیں۔ جنہیں وہ عمر بھر کھولنے کی کوشش میں مزید اُلجھا بیٹھتیں ہیں۔ پارلر والی اُس سے کچھ پوچھ رہی تھی۔ اُس نے خا لی نظروں سے اُسے دیکھا۔ وہ اُسے بتا رہی تھی کہ اُس کی تمام سروسز مکمل ہو چکی ہیں۔ وہ جا سکتی ہے۔ کب اُس کا فیشل، مینی اور پیڈی کیور ہوا۔ کب وہ مزید کوئی اور سروس اُسے دیتی رہی۔ سامعہ کو اِن چند گھنٹوںکا بالکل پتا نہ چلا۔ وہ تو صرف آنے والے اُس وقت کے بارے میں سوچتی رہی۔ اگر وہ اُس کوٹھی پر پڑنے والے چھاپے میں پکڑی جاتی۔ یہ ’اگر‘ اُس کے تمام رونگٹے کھڑے کر گیا۔ واپس گھر آنے کے بعد وہ اماں سے لپٹ کر خوب روئی۔ اُسے آج پہلی بار ماں اور اُن کی دُعا پر شدّت سے یقین آیا تھا۔ یونہی تو ماں کو اللہ کا روپ قرار نہیں دیا گیا۔ وہ اپنی اولاد پر آنے والی مصیبتوں کو اپنی دُعاؤں سے ختم کر تی رہتی ہے، لیکن آج جیسی مصیبت کے بارے میں تو سامعہ نے کبھی سوچا بھی نہ تھا، جس لمحے وہ اُس وقت کے بارے میں سوچتی تو جیسے تھرا کر رہ جاتی۔ کیا واقعی اُس کوٹھی میں غلط کام ہوتے تھے…؟ اور اگر ہاں تو کیا وہ بھی اِسی کام کے لیے بُلائی گئی تھی۔ قدرت نے ہمیشہ اُس کا ساتھ دیا تھا اور ہر بار اُسے عمر کے چنگل میں پھنسنے سے بچایا تھا۔ اِس وقت وہ جتنا بھی شکر ادا کرتی کم تھا۔ اُس نے وضو کرکے نماز کی نیت باندھ لی۔ نماز کے بعد وہ کُھل کر روئی، کُھل کر رب سے معافی مانگی اور کُھل کر ہی اُس کی رحمت کا شکر ادا کیا۔ اگر اُس وقت اُس کا ربّ اُسے نہ بچاتا تو کون تھا اُسے بدنامی کے گڑھے میں گرنے سے روکنے والا۔ ساری عمر اُس کی زندگی پر داغ لگ جاتا، پھر چاہیں کتنا وضو کرتی، کتنا توبہ تلّا کرتی۔ اُس کی معافی دُنیا اور آخرت میں مشکل تھی۔ دُنیا کسی کی غلطی کو نہیں بخشتی۔ چاہے وہ دانستہ ہو یا نادانستہ۔ اِسے تو صرف چسکے کو کہانیاں چاہیے او روہ بھی تھوڑی دیر پہلے دُنیا کے لیے ایک چسکے دار کہانی بننے والی تھی۔
٭……٭……٭……٭
شام کو خالہ اور ثنا ڈیزائنر سے اُس کے شادی کے جوڑے لے کر آگئیں۔ ساتھ ہی چڑھاوے کے تین سونے کے سیٹ اور بارہ سونے کی چوڑیاں بھی تھیں۔ انہوں نے سب سے پہلے کمرے میں آ کر سامعہ کو گلے لگا کر پیار کیا، پھر ایک ایک جوڑا کھول کر دِکھایا۔ ثنا اور خالہ نے اپنے طور اچھا کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی۔ بہترین ڈیزائنر کپڑے اور ڈیزائنر جیولری سب کو بہت پسند آئی۔ ناہید بیگم نے بیٹی اور داماد کے لیے دِل سے دُعائیں کیں۔ اللہ دونوں کو خوش رکھے۔ حاجی صاحب کو بھی سامان بہت پسند آیا۔ وہ اور کبیر علی کمرے میں تھیں۔ ثنا نے اُنہیں سامان وہیں دِکھا کر داد وصول کی۔
’’بھائی! یہ سب تو اِس کے نصیب کا تھا اِسے مل گیا۔ اب دُعا کیجئے گا کہ میرے بیٹے کا نصیب بھی کُھل جائے۔ میری بھانجی کے بھاگوان قدم ہمارے گھر میں پڑتے ہی ہر طرف خوشیاں اپنی بہاریں دِکھانے لگیں۔‘‘ وہ بڑے پیار سے بیٹے کو دیکھتے ہوئے کہہ رہی تھیں۔
’’بھائی صاحب! آج میں ایک اور بات بھی کہنے آئی ہوں، بلکہ بہن سمجھ کر تھوڑا حق دیجئے اور میرا مان رکھ لیجئے گا۔‘‘ سلمیٰ بیگم کو ہمیشہ سے بات کرنا آتا تھا۔ وہ سامنے والے کو اپنی بات ماننے پر مجبور کر دینے کا ہُنر رکھتی تھیں۔
’’کہو سلمیٰ! مجھ پر تمہارے بہت اِحسان ہیں۔ بڑا بھائی سمجھ کر اپنا پورا حق مانگ سکتی ہو…‘‘ حاجی صاحب اُن کی بات سے کچھ نہ سمجھنے والی کیفیت میں تھے اور شادی کے اتنے قریب سالی کی ڈیمانڈ اُن کے لیے بھی حیرانی کا باعث تھی۔
’’بھائی جان! کبیر کا خیال ہے کہ آپ دونوں کو اِس حالت میں یہاں نہیں چھوڑا جا سکتا۔ آپ دونوں کو ہمارے ساتھ ہمارے گھر میں رہنا ہوگا۔‘‘ انہوں نے مُسکرا کر حاجی صاحب کی طرف دیکھا تو حاجی صاحب اُن کی بات پر پریشان ہو گئے۔
’’لیکن ایسا کیسے ممکن ہے…؟ بھلا کوئی اپنی بیٹی کے سسرال میں بھی رہتا ہے…؟‘‘ اُن کی بات سُن کر وہ واقعی بہت حیران ہوئے۔
’’بھائی صاحب! اُوپر کا پورا پورشن میں نے کبیر علی کے حوالے کر دیا ہے۔ اگر آپ کو میرے ساتھ رہنے پر اِعتراض ہے۔ تو آپ وہاں رہیں گے۔ سامعہ اِس طرح آپ کا مکمل خیال رکھ سکتی ہے۔‘‘
’’لیکن بیٹی کے ساتھ کون رُخصت ہوتا ہے…؟‘‘ ناہید بیگم بھی سلمیٰ بیگم کی بات پر حیران تھیں۔ اُنہیں بالکل اُمید نہ تھی کہ اُن کی بہن اچانک یہ بات کر دیں گی۔ اُنہیں سلمیٰ بیگم نے بتایا تھا کہ کبیر علی نے اُوپر کا پورا پورشن اپنے لیے سیٹ کیا ہے، جس میں وہ اِبتدا سے ہی دونوں کو الگ کر دیں گی، لیکن وہ اُنہیں بھی ساتھ لے جانے کی بات کریں گی۔ اِس کا بالکل آئیڈیا نہ تھا۔ اُنہیں اپنی بڑی بہن پر شدید پیار آ گیا۔ اُن کا دِل چاہ رہا تھا کہ اِتنے اِحساس پر وہ اُٹھ کر اپنی بہن کو گلے لگالیں، لیکن وہ حاجی صاحب کے جواب کے اِنتظار میں خاموش سی ہو گئیں۔ اُنہیں معلوم تھا کہ حاجی صاحب اِس بات پر کبھی راضی نہ ہوں گے۔ وہ خود بھی بیٹی کی سسرال میں رہنے کے قطعی حق میں نہ تھیں، لیکن دِل ہی دِل میں بہن کے اِتنے اِحساس میں اِنتہائی خوش تھیں۔
’’دیکھو سلمیٰ! میں تمہاری دِل سے عزت کرتا ہوں۔ تمہاری اِس خواہش پر ممنون بھی ہوں کہ تم نے ہمارا اِتنا خیال کیا، لیکن میری بہن یہ خواہش پوری کرنا میرے اِختیار میں نہیں۔ بے شک ہمارا تمہارا ایک رشتہ بیٹی کی سسرال سے بالکل الگ ہے اور میں نے تمہیں بالکل سگی بہن سمجھا، لیکن تمہاری یہ بات ماننا میرے لیے ممکن نہیں۔‘‘ حاجی صاحب بہت آہستہ آہستہ رُک رُک کر بات کر رہے تھے۔
’’اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے تو بھائی صاحب! لوگ تو صرف کہتے ہی ہیں۔ کرتے کچھ نہیں۔ اگر کرنے کا کہہ دیا جائے تو اپنی جان بچا کر ایک طرف ہو جاتے ہیں۔ میں نے اپنے شوہر کے بعد زندگی کتنی مشکلوں سے گزاری۔ یہ صرف میں جانتی ہوں۔ اِس وقت بھی میرے اپنے سگے بھائی سے زیادہ آپ اور میری بہن میرے ساتھ کھڑے تھے۔ میرا حوصلہ آپ دونوں تھے۔ میں وہ وقت کیسے بُھول سکتی ہوں۔ اگر آج مجھے یا میرے بیٹے کو آپ کی خدمت کا موقع مل رہا ہے تو پلیز بھائی صاحب! مجھ سے یہ موقع نہ چھینئے گا۔‘‘ انہوں نے گلوگیر آواز میں کہتے ہوئے حاجی صاحب کے آگے ہاتھ جوڑ دئیے۔
’’اِس وقت میں نے جو کچھ کیا، وہ میرا فرض تھا۔ مجھے تو یاد بھی نہیں کہ ہم دونوں نے کیا کیا تھا، مگر اِس وقت تم نے اِن ساری باتوں کو دُہرا دیا، یہی محبت بہت ہے۔ اب آئندہ کبھی اُس وقت کا ذکر نہ کرنا۔ تم میرے گھر سے میری بیٹی کو لے جار ہی ہو۔ تمہارا یہی اِحسان بہت ہے۔ ایک مجبور باپ کی بیٹی کا بوجھ اگر اُس کے کاندھوں سے کوئی بآسانی اُتار کر لے جائے تو شاید اِس سے بڑا اِحسان کوئی نہیں۔‘‘ وہ رو پڑے۔ کبیر علی نے آگے بڑھ کر اُنہیں چُپ کروایا اور ماں کو اِشارہ کیا کہ بس اب خاموش ہو جائیں۔ خالو جان سے مزید کوئی بات نہ کریں۔ ورنہ اُن کا بی پی ہائی ہو جائے گا۔ ناہید بیگم آگے بڑھ کر بہن کے گلے لگ گئیں۔
’’آپا! حاجی صاحب ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ تمہارا یہی اِحسان بہت ہے کہ تم نے ہماری بیٹی کو اپنے گھر کی زینت بنا لیا۔ اِس گھر کو چھوڑنا بہت مشکل ہوگا۔ ہم دونوں اپنی بیٹی کے گھر آتے جاتے رہیں گے۔‘‘
’’ٹھیک ہے ناہید! میں تو اِس خیال سے کہہ رہی تھی کہ بھائی جان کی حالت کے پیشِ نظر اُن کا اکیلا رہنا بہت مشکل ہوگا۔‘‘
’’اَرے! ہم اکیلے کب ہیں۔ روز تو آپ فون کرکے خیریت معلوم کر لیتی ہو۔ پھر دُکان والا لڑکا بھی روزانہ آتا رہتا ہے۔ آپ فکر مت کریں۔ پھر کبیر علی تو میرا بیٹا ہے۔ وہ رکھے گا اپنی خالہ خالو کا خیال۔‘‘ ناہید بیگم نے کبیر علی کی طرف دیکھ کر کہا تو کبیر علی اُٹھ کر اُن کے پاس آگئے۔
’’خالہ! میں پہلے آپ کا بیٹا ہوں، بعد میں داماد…… بے فکر رہیے ہمیشہ بیٹا ہی رہوں گا۔‘‘
’’ جیتے رہو…! ہمیشہ خوش رہو…!!‘‘ انہوں نے چٹا چٹ کبیر علی کے ماتھے پر پیار کیا، تو وہ اِتنی محبت پر مُسکرا اُٹھے۔ خالہ ہمیشہ اُنہیں اِسی طرح پیار کرتی تھیں۔ بچپن میں بھی جب اماں خالہ کے گھر آتیں تو وہ اُن کا اِتنا خیال رکھتیں کہ وہ شرمندہ ہو ہو جاتے۔ انہوں نے اپنے بچوں اور اُن میں کبھی فرق نہیں کیا تھا۔ ہمیشہ برابری کا سلوک کیا۔ اِسی لیے وہ بھی خالہ سے بہت محبت کرتے تھے۔
’’خالہ! آپ اور خالو جب چاہیں گے میں سامعہ کو لے کر آجاؤں گا۔ آپ بالکل فکر مت کیجئے گا۔ آپ کا دِل جب چاہے آپ کی بیٹی کے گھر کے دروازے ہمیشہ آپ کے لیے کُھلے ہیں۔ اماں کو تو بس آپ دونوں کے اکیلے پن کا اِحساس تھا۔ اِس لیے وہ چاہتی تھیں کہ آپ ہمارے ساتھ ہی شفٹ ہو جائیں، لیکن اگر خالو نہیں چاہتے تو کوئی بات نہیں۔‘‘ انہوں نے ہنس کر بات کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ اتنے میں ثنا سب کے لیے چائے اور دیگر لوازمات لے آئی۔ اپنی اور سامعہ کی ٹرے اُٹھا کر وہ سامعہ کے کمرے میں آ گئی۔ جہاں سامعہ سر جُھکائے ہاتھوں پر نظریں جمائے ناجانے کیا سوچ رہی تھی۔
’’اے میری بنو! کیا سوچ رہی ہو…؟‘‘ اُس نے چائے کی ٹرے سامعہ کے آگے رکھی، تو وہ چونک گئی۔
’’ایسے کیا دیکھ رہی ہو…؟ بھئی میں بھی بہت سارے کام کرواؤں گی تم سے۔ ایک بار میرے گھر آ تو جاؤ۔‘‘ وہ شرارت سے مُسکراتے ہوئے بولی۔ اُسے سامعہ کی آنکھوں میں ٹرے دیکھ کر حیرانی نظر آگئی تھی۔
’’لو چاے پیئو اور کباب کھاؤ۔ فریج میں یہی موجود تھا، جو میں نے جلدی جلدی سب کے لیے فرائی کر لیے۔‘‘ ایسے کاموں میں ثنا ہمیشہ سے ماسٹر تھی۔ گھر گھرہستی کا اُسے ہمیشہ شوق رہا۔ وہ اکثر خالہ کے گھر آکر بھی یہ سارا کام سنبھال لیتی۔
’’اچھا! یہ بتاؤ تم نے شادی کا جوڑا پہن کر دیکھا…؟‘‘ چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے وہ مزے سے پوچھ رہی تھی۔ سامعہ جس نے بہت بے دِلی سے جوڑا دیکھا تھا۔ اب سوچ رہی تھی کہ اُن میں سے شادی کا جوڑا کون سا تھا، حالاں کہ وہ خود پسند کرکے آئی تھی۔ بس سر ہلا کر بولی۔
’’ہاں! فٹنگ ٹھیک ہے۔ باقی سب چیزیں بھی بہت اچھی ہیں۔ خالہ جان نے بہت محبت سے بنوائی ہیں۔‘‘ اُس کے منہ سے اتنا ہی نکلا۔ اِس وقت وہ کسی سے بات کرنا نہیں چاہتی تھی۔ ثنا سے یہ بھی نہیں کہہ سکتی تھی کہ میں تھوڑی دیر خاموش رہنا چاہتی ہوں۔ اپنے آپ سے باتیں کرنا چاہتی ہوں۔ پلیز! تم یہاں سے چلی جاؤ۔ وہ خالہ زاد یا دوست نہیں تھی، بلکہ ایک اور رشتے کے حق سے اُس کے پاس بیٹھی تھی۔ اب وہ اُس کی نند تھی۔
’’سامعہ! تمہیں پتا ہے بھائی نے کمرہ بہت خوب صورت سیٹ کروایا ہے۔ پلیٹ سے کباب اُٹھا کر کھاتے ہوئے ثنا نے چٹخارہ بھرا تو سامعہ کو عجیب سے اِحساسات نے گھیر لیا۔ کبیر علی جن کے بارے میں اُس نے کبھی اپنے دِل میں کوئی نرم گوشہ نہیں پایا تھا۔ اب اس کے لائف پارٹنر کا روپ دھار لیں گے۔ یہ اِحساس ہی بدمزہ کر دینے والا تھا۔ اپنی بات پر اُس کے خوب صورت چہرے پر کسی لالی کا نام و نشان نہ پا کر ثنا حیرانی سے اُس کی طرف دیکھنے لگی۔ اُس کا خیا ل تھا کہ اپنے کمرے کے ذِکر پر وہ کچھ نہ کچھ تو شرمائے گی، لیکن وہاں توچہرہ ایک دَم سپاٹ تھا۔ جیسے اُسے اِس ذِکر سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ثنا نے بھی مزید بات کرنا مناسب نہ سمجھا۔ اُسے اندازہ تھا کہ وہ اپنے ماں باپ کے اکیلے پن کی وجہ سے پریشان ہے۔ اِسی لیے اتنی عجیب سی کیفیت کا شکار ہے۔
’’چلو! تم آرام کرو۔ میں ذرا باہر دیکھتی ہوں۔بڑوں کی باتیں ختم ہو گئی ہوں، تو چلنے کا کوئی پروگرام بنائیں۔‘‘ وہ جاتے ہوئے ٹرے بھی سمیٹ کر لے گئی۔ اُس وقت وہ سامعہ سے بہت ساری باتیں کرنے کے خیال سے آئی تھی، لیکن اُس کا سر د رویہ دیکھ کر جلدی ہی لوٹ گئی۔ وہ اُسے اپنے بھائی کی بے تابی کے بارے میں بہت ساری باتیں بتانا چاہتی تھی۔ اُن کی شدید محبت کے بارے میں آگاہ کرنا چاہتی تھی کہ کتنے عرصہ سے اُس کا بھائی سامعہ کو چاہتا ہے، لیکن اُسے اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ مزید کوئی بات نہیں کرنا چاہتی۔ اِسی لیے وہاں سے اُٹھ گئی۔ حاجی صاحب کے کمرے میں رونق اِسی طرح لگی ہوئی تھی۔ سب ہنس بول رہے تھے۔ ثنا بھی ایک کونے میں جا کر خاموشی سے بیٹھ گئی۔ وہ کسی سے چلنے کا کہہ بھی نہیں سکتی تھی۔ بڑوں کی محفل میں بولنا بے اَدبی ہوتی۔ اِسی لیے اُس نے کبیر علی کو میسج کیا کہ اب چلنے کی اجازت لی جائے۔ کافی رات ہو گئی ہے۔ گھر میں ڈھیروں کام کرنے والے ہیں۔ کبیر علی نے مُسکراتے ہوئے میسج پڑھا اور اُس کی حالت کے پیشِ نظر حاجی صاحب اور خالہ سے رُخصت لی ۔
٭……٭……٭……٭
صارم کو پولیس پکڑ کر لے گئی۔ یہ خبر عمر کو اُس کی کوٹھی پر جا کر معلوم ہوئی۔ وہ جب صارم کے دئیے ہوئے وقت سے آدھا گھنٹہ لیٹ وہاں پہنچا تو ہر طرف افراتفری تھی۔ گیٹ پر موجود چوکی دار بھی وہاں نہیں تھا۔ برابر والے بنگلے کے ایک ملازم نے اُسے پوری کہانی سُنائی۔ وہ چونک گیا۔ اُلٹے قدموں وہاں سے لوٹ آیا۔ پورے راستے یہ خیال اُسے پریشان کرتا رہا کہ صارم نے اُسے جو ٹائم دیا تھا، اگر وہ اُس وقت وہاں پہنچ جاتا تو شاید باقی سب کے ساتھ وہ بھی دَھر لیا جاتا۔ اُسے اور سیما کو میٹنگ میں تھوڑی دیر ہو گئی اور اُس کے لیے اُس نے صارم کو میسج کر دیا تھا کہ وہ میٹنگ میں لیٹ ہو جائے گا، اگر سامعہ آ جائے تو سنبھال لے۔ صارم کو اُس کا میسج پڑھنا نصیب ہی نہیں ہوا۔ ورنہ وہ اُسے کال بیک یا ریپلائی ضرور کرتا۔ وہ دوبارہ آفس بجائے گھر آ گیا۔ تھوڑی دیر کے لیے اُس کا دماغ گُھوم کر رہ گیا تھا۔ اگروہ بھی صارم کے ساتھ گرفتار ہو جاتا تو…… لیکن کیا سامعہ وہاں پہنچی تھی۔ یہ سوال عمر کو مزید پریشان کر گیا۔ اگر وہ پہنچی اور اُس کو گرفتار کر لیا گیا تو کہیں وہ میرا نام نہ لے دے۔ عمر نے پریشان ہو کر سر پر ہاتھ پھیرا۔ اُس کاپورا جسم پسینے سے بھر گیا۔ وہ شدید قسم کے تناؤکا شکار ہو گیا تھا۔ مجبور تھا خبر کُھلنے تک وہ کسی سے پوچھ بھی نہیں سکتا تھا۔ اُس نے کچھ سوچ کر ایمان کو کال ملائی۔
’’ہیلو عمر! تمہیں صارم کے گھر چھاپے کا علم ہوا…؟‘‘ اِس سے پہلے کہ وہ ایمان سے کچھ پوچھتا۔ ایمان نے فون ریسیو کرتے ہی عمر سے پہلا سوال ہی یہی کیا۔
’’ہاں! اُس نے مجھے بھی بُلایا تھا، لیکن میں میٹنگ میں لیٹ ہو گیا۔ اِسی لیے جب وہاں پہنچا تو پولیس اُسے لے کر جا چکی تھی۔‘‘
’’یار! صارم کے ساتھ بہت بُرا ہوا۔ مجھے لگتا ہے کسی نے مخبری کر دی۔ ورنہ وہ تو سالوں سے ایسی پارٹیاں کرتا ہی رہتا تھا۔‘‘ ایمان نے عمر کو بتایا۔
’’آج کیا کوئی خاص پارٹی تھی…؟‘‘ عمر ایمان کے مُنہ سے سُننا چاہتا تھا کہ کیا صارم نے عمر اور سامعہ کی ملاقات کے سلسلے میں تو کچھ نہیں بتایا۔
’’مجھے نہیں معلوم۔ میں نے تو کل اُسے یونہی فون کیا تھا، تو اُس نے اِصرار کیا کہ کل شام گھر آجانا۔ ایک پارٹی ہے۔ میں شوٹنگ پر تھی اِس لیے نہ جا سکی۔ ایک دوست نے فون کرکے اِس واقعے کے بارے میں بتایا۔‘‘ ایمان نے سرسری انداز میں بتایا تو عمر نے سکون کا سانس لیا۔ اُسے یقین تھا کہ صارم کسی بھی طرح اُس کا نام نہیں آنے دے گا۔
٭……٭……٭……٭
آج صُبح سے اماں کے دِل کو کچھ ہو رہا تھا۔ وہ بار بار اُس کے پاس آ کر گلے لگا کر رونے لگتیں۔ کبھی اُس کے گال پر پیار کرتیں۔ کبھی ہاتھ چومتیں۔ وہ خاموشی سے اُن کے یہ جذباتی انداز دیکھتی رہی۔ جتنے آنسو اُس نے بہانے تھے، بہا چکی تھی۔ کبھی کبھی کیسے بھی تکلیف دہ حالات ہوں، ہمارے آنسو بالکل خشک ہو جاتے ہیں یا ہم فرض کر لیتے ہیں کہ کچھ بھی ہو جائے ہمیں رونا نہیں۔ کسی کے آگے اور نا ہی اپنی ذات کے آگے۔ شاید خود سے بدلہ لینے کا اِس سے بہترین کوئی طریقہ نہیں۔ وہ بھی خود سے بدلہ لینے کی ٹھان کر بیٹھی تھی۔ زندگی نے اُسے کتنا دُکھ دیا تھا۔ اتنی سی عمر میں جگہ جگہ قسمت نے اپنی دُکان کھول کر اُس کے آگے دُکھوں کا کپڑا بیچنے کی کوشش کی۔ اپنی زندگی سے وہ شدید بددِل ہو چکی تھی۔ وہ سمجھ چکی تھی کہ قسمت نے اُس کے لیے کچھ اچھا نہیں لکھا۔ عمر کی اُس حرکت کے بعد تو اُسے جیسے پکّا یقین ہو چکا تھا کہ کبیر علی سے بھی اُسے کوئی خوشی نہیں مل پائے گی۔ وہ اُن لڑکیوں میں سے تھی، جنہیں اچھی شکل سے تو ضرور نواز جاتا ہے، مگر ساتھ میںبدقسمتی کی پوٹلی بھی تھما دی جاتی ہے۔ جاؤ! اور جگہ جگہ ٹھوکریں کھاؤ، آنسو بہاؤ اور اپنی بد قسمتی کو روتے رہو۔ جب تھک جاؤ تو ایسی قسمت دینے والے سے کوئی شکوہ یا شکایت بھی نہ کرو۔ ورنہ مزید ٹھوکریں مقدر میں لکھ دی جائیں گی۔ اُسے ایک لمحے بھی خوشی کا ایسا کوئی اِحساس چُھو کر نہیں گزرا، جیسا لڑکیوں کو شادی سے پہلے ہوتا ہے۔ وہ کپڑوں، چوڑیوں اور جوتوں کی شدید شوقین تھی۔ اِس وقت اُسے اِن سب چیزوں سے نفرت محسوس ہو رہی تھی، جو آج کے دِن کے لیے تیار کروائی گئی تھیں۔ سُرخ جوڑا اُسے آگ کا اَنگارہ محسوس ہو رہا تھا۔ اماں اُس سے نہ جانے کیا کچھ کہہ رہی تھیں۔ اُس کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا۔ وہ اُسے آنے والے وقت کے بارے میں اور خالہ کے اِحسانوں کے بارے میں بہت کچھ سمجھا رہی تھیں، لیکن وہ تو صرف پاس پڑے جوڑے کو تَک رہی تھی۔ اپنے شوہر کے بارے میں اُس کے دِل میں کتنے اَرمان تھے۔ کبیر علی کی بیوی بننے کا خیال تو کبھی اُس کے گُمان میں بھی نہ تھا۔ تمام عمر کے لیے ہمارے نصیب میں اکثر وہی چیزیں لکھ دی جاتی ہیں، جن کو ہم کم تر جان کر چھوڑ دیتے ہیں اور پھر ناپسندیدہ چیز مقدر ہونے پر تمام عمر کی تڑپ بھی ہمارا مقدر کر دی جاتی ہے۔
’’دیکھو بیٹا! آپا کا بہت خیال رکھنا۔ مجھے اُن کی طرف سے کبھی کوئی شکایت نہ ملے۔ ویسے مجھے پوری اُمید ہے کہ وہ خودکبھی ایسا ماحول پیدا ہی نہیں ہونے دیں گی۔ اب یہی دیکھ لو۔ انہوں نے شروع سے تمہیں الگ پورشن دے دیا۔ کون کرتا ہے ایسا…؟ اور جب بیٹا بھی اکلوتا ہو۔ صرف تمہاری خوشی کی خاطر کہ تم اپنی مرضی سے اپنے گھر کو سجاؤ سنوارو۔ اپنی مرضی سے کچن سنبھالو۔‘‘ وہ اُن کی بات پر صرف ایک خاموش نظر ڈال کر رہ گئی۔ وہ چاہتی تھی کہ پچھلے وقت کی ساری باتیں بُھول جائے، لیکن ممکن ہی نہ تھا۔ اِس آخری چوٹ نے تو اُسے ایک عجیب سے اِحساس میں گرفتار کر دیا تھا۔ وہ اپنے ربّ سے شکوہ کناں نہیں تو خوش بھی نہ تھی۔ اتنے بڑے حادثے سے بچ نکلی تھی۔ اللہ نے رُسوائی سے بچا لیا تھا، لیکن یہ رُسوائی صرف اُس کا مقدر ہی کیوں…؟ پتا نہیں شیطان بہکاوے کے لیے حضرتِ انسان کو کِن کِن باتوں پر سوچنے کے لیے مجبور کر دیتا ہے۔ اِس وقت اُسے اللہ کا شکر ادا کرکے کبیر علی پر قناعت کرنا چاہیے تھی، لیکن وہ اُسے ناشکری کے نئے راستے دِکھا رہا تھا۔ اِس واقعہ کے بعد اُسے عمر سے نفرت تو ہوگئی، لیکن کبیر علی سے محبت نہ ہو سکی۔ وہ اُنہیں اپنے شوہر کے رُوپ میں سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی، تو ساری عمر کیسے اُن کے ساتھ رہ پائے گی…؟ شیطان نے اِس بار بہکاوے کے لیے خود ترسی کا ہتھیار چُن لیا تھا۔ اُسے خود پر اور اپنی قسمت پر ترس کا شکار بنا دیا۔ اے میرے ربّ! اتنی خوب صورت شکل کے ساتھ اگر ساتھی بھی خوب صورت دے دیتا۔ تیرے لیے کیا ممکن نہیں؟ اُسے معلوم ہی نہ تھا کہ عمر جیسا نرگیسیت کا شکار اُسے کبھی محبت نہیں دے سکتا تھا۔ اُسے اپنائیت کا وہ اِحساس نہیں دے سکتا تھا، جس کی وہ مستحق تھی۔ ایسی محبت صرف کبیر علی دے سکتے تھے۔ وہ پہلے بھی اپنی بے خبری میں ماری گئی تھی اور اُس سوچ کے ساتھ آگے بھی یہی خدشہ نظر آرہا تھا۔
٭……٭……٭……٭
زُہیب اور رِدا اُسے پارلر لے جانے کے لیے آ گئے۔ زُہیب نے اُس کا وینٹی بکس اور کپڑے گاڑی میں رکھے۔ اتنی دیر میں اماں نے اُس پر چادر ڈال دی۔ وہ مایوں کے زرد جوڑے میں بہت خوب صورت لگ رہی تھی۔
’’اللہ تمہیں بہت سی خوشیوں سے نوازے۔‘‘ یہ دُعا دیتے ہوئے اماں نے نم آنکھوں کے ساتھ اُس پر معوذتین اور آیت الکرسی کا دَم کیا اور گاڑی میں بٹھا دیا۔ اُس نے دروازے کی طرف دیکھا۔ یہ اُس گھر سے اُس کا الوداعی منظر تھا۔ یہ گھر اب اُس کے لیے پرایا ہو رہا تھا۔ وہ ماں کی طرف دیکھنے لگی، جو منہ ہی منہ میں کچھ پڑھ کر اُس پر پُھونک رہی تھیں۔ اتنی دیر میں زُہیب نے گاڑی آگے بڑھا دی۔ اپنی گلی کے ایک ایک منظر کو وہ اپنی آنکھوں میں بند کرتی گئی۔ اُس گلی میں اُس نے اپنی سہیلیوں کے ساتھ کم عمری میں بہت وقت گزارا تھا۔ اُس وقت ابا اِتنی سختی نہیں کرتے تھے۔ تھوڑا بڑا ہوتے ہی انہوں نے اُس کا بِلا ضرورت باہر جانا بند کر دیا۔ آہستہ آہستہ دوستوں اور سہیلیوں نے بھی گھر آنا کم کر دیا۔ کبھی کبھار عید، بکرا عید پر وہ اماں کے ساتھ اپنی سہیلیوں کے گھر چلی جاتی تھی۔ آہستہ آہستہ وہ بھی ختم ہو گیا۔ سب ابا کے سخت روّیے سے نالاں تھے۔ گلی ختم ہوتے ہی بازار شروع ہو گیا۔ چاچا فیکے کی دُکان سے بچپن میں وہ دودھ جلیبی لے کر آتی تھی۔ ظفر بڑا ہوا تو گھر کا سامان وہ لانے لگا۔ اُس کے برابر والی چاچا بالے کی گوشت کی دُکان اب کافی بہتر ہو چکی تھی۔ اُسے ایک ایک شے سے جُڑا اپنا بچپن یاد آ رہا تھا۔ اُس نے ٹشو سے اپنی بھیگی اور نم آنکھیں پونچھیں اور موبائل ہاتھ میں لے کر اُس کے میسج پڑھنے لگی۔ عمر کا ایک ایک میسج محفوظ تھا۔ اُس نے عمر کے نمبر سے آئے سارے میسج ڈیلیٹ کر دئیے۔ کل سے وہ اُنہیں ڈیلیٹ نہیں کر پائی تھی۔ اُسے پہلی ملاقات سے عمر کے آخری بلاوے تک ایک ایک لمحہ یادآیا۔ وہ اب اُس کے بارے میں کبھی نہیں سوچے گی۔ اُس نے مصّمم اِرادے کے ساتھ موبائل پاورڈ آف کر دیا۔ وہ پارلر پہنچ چکے تھے۔ کار ایک دھچکے سے رُکی تو وہ بھی حال میں آ گئی۔ پارلر میں تیار ہوتے اور آخری آنسو بہاتے ہوئے اُس نے سوچ لیا تھا کہ اب کبھی پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھے گی، لیکن کیا وہ مستقبل میں خالہ کے گھر خوش رہ سکے گی…؟ یہ سوال تو اُس کے لیے بھی ایک پہیلی تھا۔ نہ جانے قسمت نے اُس کے لیے آگے کیا لکھ رکھا تھا۔
٭……٭……٭……٭
پارلر والی نے میک اپ کی آخری ٹچنگ کے بعد اُس کے ماتھے پر ٹیکا سجایا۔ ساتھ ہی اُسے آج کی سب سے خوب صورت دُلہن کا کمپلیمنٹ بھی دیا۔ وہ صرف مُسکرا کر رہ گئی۔
’’واؤ سامعہ آپی! آپ تو دُلہن بن کر بہت خوب صورت لگ رہی ہیں۔‘‘ رِدا نے اُسے دیکھا تو چیخ ہی پڑی۔
’’کبیر بھائی تو آج بے ہوش ہو جائیں گے۔آپ کا حُسن لشکارے مار رہا ہے۔‘‘ اُس نے فرینڈلی اَنداز میں کہا اور ایک آنکھ دبائی تو وہ بے حسی سے مُسکرا کر رہ گئی۔ اُس کی مُسکراہٹ میں بالکل جان نہیں تھی۔ جان تو اُس کے اپنے اندر بھی نہیں تھی۔ اُسے اپنے اتنے ڈھیر سارے حُسن پر ترس آ رہا تھا۔ حُسن پر ترس کب آتا ہے…؟ جب اُس کا سراہنے والا آپ کو محبوب نہ ہو۔ کبیر علی شاید اُس کے محبوب کا درجہ کبھی نہ پا سکیں پھر کیا اُن کی محبت اور کیا اُن کا سراہنا۔ سب ثانوی سی باتیں تھیں۔ وہ لہنگا سنبھالتی رِدا کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی۔ یہاں سے اُسے سیدھا ہال پہنچنا تھا۔
٭……٭……٭……٭
کبیر علی تیار ہو کر ماں کے سامنے آئے تو انہوں نے اُن کے سر سے صدقہ اُتار کر پیسے کام والی کو دے دئیے۔ آج اُن کے بیٹے پر الگ روپ آیا ہوا تھا۔ لوگ صحیح کہتے ہیں بارات والے دِن صرف دُلہن پر نہیں، بلکہ دُلہا پر بھی روپ آتا ہے۔ اُس وقت وہ شیروانی میں بہت خوب صورت لگ رہے تھے یا شاید وہ ایک ماں کی نظر سے دیکھ رہی تھیں، جسے اپنی اولاد دُنیا کی تمام اولادوں سے پیاری ہوتی ہے۔ ثنا نے بھی بھائی کو دیکھا تو سیدھا آ کر اُن کے گلے لگ گئی۔
’’بہت اچھے لگ رہے ہیں بھائی۔‘‘ وہ مسکرا دئیے۔ بہن کی محبت بھی کیا چیز ہے۔
’’ماشاء اللہ بولو…‘‘ سلمیٰ بیگم نے فوراً ٹوک دیا۔
’’اَرے اماں! وہ تو میں پہلے ہی کہہ چکی ہوں۔ اب تو تعریف کر رہی ہوں۔‘‘ اُس نے جواب دیا۔
’’اچھا! چلو دیر ہو رہی ہے۔ اب کس کا اِنتظار ہے…؟‘‘ سلمیٰ بیگم نے گھڑی دیکھی۔ جہاں سوئی آٹھ کا ہندسہ عبور کر چکی تھی۔
’’بس اماں! پانچ منٹ… رضوان صاحب کا اِنتظار ہے۔ وہ آرہے ہیں۔ برات لے کر ہمارے ساتھ ہی جائیں گے۔‘‘ کبیر علی نے گھڑی پر نظر ڈالی۔ اُن کے لیے یہی بہت تھا کہ اُن کا باس اُنہیں اِتنی اہمیت دے رہا تھا۔ شادی میں شریک ہونے کے علاوہ بارات میں بھی ساتھ جانے کو کہا تھا۔ اِنتظار تو ضروری تھا۔
پندرہ منٹ بعد رحیم بابا اور رضوان اُن کے گھر میں تھے۔ سلمیٰ بیگم اُن سے مل کر بہت خوش ہوئیں۔ اُنہیں اندازہ نہیں تھا کہ وہ اتنی کم عمری میں اِتنی بڑی پوزیشن کے مالک ہوں گے۔ رحیم بابا اور رضوان اُن کے لیے گفٹس بھی لائے تھے۔ دُلہن کے لیے ایک سونے کا سیٹ اور سلمیٰ بیگم کے لیے سوٹ اور شال۔ ساتھ میں مٹھائی اور پھل بھی تھے۔
’’اِس تکلیف کی کیا ضرورت تھی…‘‘ سلمیٰ بیگم کو اپنے لیے گفٹ کچھ زیادہ ہی لگا۔
’’اَرے خالہ جان! یہ کچھ اتنا زیادہ بھی نہیں ہے۔‘‘ وہ شرمندہ ہو گئے۔
’’بس دُلہن کے لئے گفٹ لے آتے، کافی تھا۔‘‘ وہ بولیں۔
’’کبیر علی میرے بڑے بھائی کی طرح ہیں۔ آپ نہیں جانتیں انہوں نے مجھ پر کتنا بڑا اِحسان کیا ہے۔ رحیم بابا گواہ ہیں کہ انہوں نے میری غیر موجودگی میں بابا کا کتنا خیال رکھا ہے۔ یہ سب تو اُس کے آگے کچھ نہیں۔‘‘ وہ مُسکرا دئیے۔
’’بھائی! خالو جان کا فون آیا ہے کہ وہ سب ہال پہنچ گئے ہیں۔‘‘ ثنا اپنا موبائل بند کرتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی۔ اُسے یہاں رضوان کی موجودگی کا علم نہ تھا۔ اِس لیے بات کرتے کرتے رُکی اور جھجھک سی گئی، لیکن رضوان کی نظر اُس کے بُھولے پن پر ہی اَٹک گئی۔ گرین اور اورنج چٹاپٹی غرارہ دوپٹے میں وہ بہت خوب صورت لگ رہی تھی، لیکن اُس کی خوب صورتی پر اُس کی معصومیت حاوی تھی۔ یہی معصومیت رضوان کے دماغ پر حاوی ہو گئی۔۔۔ یہ سلسلہ پوری بارات میں چلتا رہا۔ اُن کی نظر کسی نہ کسی بہانے اِدھر سے اُدھر جاتی ثنا پر اَٹک سی جاتی۔ ناجانے ایسا کیوں تھا۔ وہ یہ سب نادانستگی میں کر رہے تھے۔ اِس کا اِحساس ثنا کو بھی ہو گیا تھا۔ اِسی لیے اُسے بار بار اُن کے دیکھنے پر عجیب سی جھجھک محسوس ہو رہی تھی۔ وہ کوشش کر رہی تھی کہ اُس کا ٹکراؤ رضوان سے کم سے کم ہی ہو، لیکن اُس رات کتنی بار اُن دونوں کا سامنا ہوا۔ اُسے خود بھی معلوم نہ ہو سکا۔
٭……٭……٭……٭
نکاح کے وقت ماموں جان نے جب اس سے قبولیت کا عندیہ لیا، تو وہ ایک لمحے کو سوچ میں پڑ گئی۔ یہ سوال اُس سے ہی کیا گیا ہے…؟ چند لمحے لگے اُسے حواسوں میں آنے کے لیے۔ اماں نے جب اُس کے سر پر ہاتھ رکھا تو وہ جیسے ہوش میں آگئی۔ بہت مشکل سے اُس کے حلق سے قبول ہے نکلا۔ اِس کے بعد آنسوئوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ چل پڑا۔ اماں اُس کو چُپ کرانے میں خود رو پڑیں، بلکہ اُس وقت کمرے میں موجود ہر شخص غمگین تھا۔ بیٹی کی رُخصتی کا دُکھ تو سب والدین کا سانجھا ہی ہوتا ہے، جس نے کبھی اپنی بیٹی رُخصت کی ہو، کسی دوسرے کی بیٹی کی رُخصتی پر اُس کی آنکھوں سے آنسو خود بہ خود نکل ہی آتے ہیں۔ خالہ نے بھی آگے بڑھ کر اُس کو گلے لگا لیا۔ اب وہ اُن کے گھر کا باقاعدہ رُکن تھی۔ اُس کی خوشی اور غم کا خیال اُنہیں اپنی سگی بیٹی کی طرح رکھنا تھا۔
دیگر سہیلیوں کی طرح سیما بھی نانو بی کے ساتھ اُس کی شادی میں شریک ہوئی۔ ایک لمحے کو اُس کا دُلہن والا روپ دیکھ کر تعریف کیے بنا نہ رہ سکی۔
’’خدا کی قسم! بہت خوب صورت لگ رہی ہو۔ مجھے کالج کے ڈرامے والی انار کلی یاد آ گئی۔‘‘ وہ اُس کا ہاتھ پکڑ کر تعریف کر رہی تھی۔ اُس وقت تک کبیر علی کو دُلہن کے ساتھ سٹیج پر نہیں بٹھایا گیا تھا۔ اِس لیے ساری دوستوں کو موقع مل گیا اُس کے پاس آنے کا۔ اُس وقت وہ سیما سے اُس کے کزن کی بابت کوئی سوال نہیں کر سکتی تھی، لیکن پوچھنا چاہتی تھی کہ اُس دوپہر اُس کے ساتھ کیا ہوا…؟ کیا وہ اُس وقت وہاں موجود تھا…؟ اگر نہیں تو اُس نے سامعہ کو وہاں کیوں بُلایا تھا…؟ مگر وہ یہ سارے سوالات اپنے دِل میں دبا کر رہ گئی۔ ہر صورت میں نقصان تو سراسر سامعہ کا ہوا تھا، جو ذہنی اور نفسیاتی اذیت سامعہ نے اِتنے دِن اُٹھائی اُس کا حساب وہ کس سے لے…؟ کس سے پوچھے کہ عمر نے اُسے اپنی ہوس کو مٹانے کے لیے اُس عیش کدہ میں کیوں بُلایا تھا…؟ وہ سیما کی تعریف سُن کر بس زبردستی مُسکرا کر رہ گئی۔ اتنے میں کبیر علی کو اُس کے برابر صوفے پر لا کر بٹھا دیا گیا۔ دونوں کی جوڑی اتنی بُری بھی نہیں لگ رہی تھی۔ اگر وہ بے اِنتہا حسین اور خوب صورت لگ رہی تھی، تو روپ کبیر علی پر بھی کم نہیں آیا تھا۔ بے شک وہ ایک حسین و جمیل مرد نہیں تھے، لیکن وجیہہ اور پُروقار ضرور تھے، جس کی گواہی آج اِس شادی میں شریک ہر آنکھ دے رہی تھی۔ کبیر علی نے ایک چور نظر پاس بیٹھی سامعہ پہ ڈالی۔ کیا ہوتا ہے یہ نکاح کا بندھن۔ سُرخ جوڑے میں ملبوس برابر بیٹھی اُس کی کزن کل تک بالکل نامحرم تھی۔ آج ایک نکاح نے دونوں کو اٹوٹ انگ بنا دیا تھا۔ کبیر علی سوچ رہے تھے کہ وہ سامعہ سے اپنے دِل کی بات کیسے کہہ سکیں گے۔ وہ دِل ہی دِل میں اُس سے اِظہارِ محبت کے لیے الفاظ ڈھونڈ رہے تھے۔ اُس کے سامنے اُن کے لفظ ہمیشہ کُند ہو جاتے تھے۔ وہ ہمیشہ کچھ نہ کچھ کہنا چاہتے تھے، لیکن کہہ نہیں پاتے، مگر آج تو سارا دِن شیشے کے سامنے کھڑے ہوکر انہوں نے بہت پریکٹس کی تھی۔ اُس کا گھونگھٹ اُلٹتے ہی اُنہیں کیسے ڈائیلاگ بولنے ہیں…؟ لیکن وہ یہ بھی جانتے تھے کہ اُس سے نظر ملاتے ہی وہ سارے لفظ بھاپ بن کر اُڑ جائیں گے اور خود وہ گونگے بن جائیں گے۔ ناجانے اُس سے وہ اتنے مرعوب کیوں رہتے تھے۔ محبت ہمیں محبوب کی مرعوبیت میں مبتلا کر دیتی ہے۔ اپنی بات کرنے جوگا نہیں رکھتی۔ وہ اُس سے اور اُس کے حُسن سے ہمیشہ مرعوب رہے۔ اِسی لیے منگنی کے بعد اُس کی خواہش کا پاس رکھتے ہوئے فون تک پر دِل کی بات نہ کہہ سکے، لیکن آج اُنہیں ہر حال میں اپنے اِس مرعوب چولے کو اُتار پھینکنا ہے۔ دِل کی ہر بات کر دینا ہے۔ ایسا انہوں نے طے کر لیا تھا۔
٭……٭……٭……٭
رُخصتی کے وقت وہ بہت ضبط کر رہی تھی کہ اُس کا ایک آنسو نہ ٹپکے۔ جب ابا نے اُسے گلے لگایا تو وہ پُھوٹ پُھوٹ کر رو پڑی۔ وہیل چیئر پر بیٹھے ابا نے اُس کے سر کو بڑے پیار سے تھپکا۔ اُس تھپکی میں آج اُسے بہت مٹھاس محسوس ہوئی۔ ایک ایسی اپنائیت تھی، جس کو وہ بیان نہیں کر پا رہی تھی۔ ابا کے لمس سے یہ اِحساس کبھی بچپن میں ملتا تھا، لیکن پھر آہستہ آہستہ ابا کا سخت روّیہ دونوں بہن بھائیوں سے تُرش ہوتا گیا اور دونوں اُن سے چُھپنے لگے۔ اُسے آج تک سمجھ نہیں آیا کہ ابا کو کس بات نے بدل دیا تھا۔ وہ اِتنے سخت کیوں ہو گئے تھے۔ سامعہ اور ظفر کے ساتھ اُن کا روّیہ اتنا آگ برساتا ہوا کیوں تھا۔ آج اُن کے لمس میں وہی پُرانی والی ٹھنڈک تھی، جو اُسے کبھی بچپن میں اپنے باپ کی ہتھیلیوں میں محسوس ہوتی۔ اماں نے بھی اُسے گلے لگایا۔ پیار کیا، لیکن اُس کے آنسو نہیں رُک رہے تھے۔ وہ سوچ رہی تھی کہ اماں اور ابا کا ساتھ بس اِتنا ہی تھا۔ اب وہ اُن کے لیے پرائی ہوچکی ہے ۔
٭……٭……٭……٭
’’میک اَپ خراب ہو جائے گا۔ ابھی تو بھائی نے تمہیں دیکھا بھی نہیں… تمہاری رُونمائی بھی نہیں دی۔‘‘ ثنا نے اُس کو رونے سے منع کیا۔ اپنے طور پر وہ اُس کو خوش کرنا چاہتی تھی۔ اپنائیت کا اِحساس دِلانا چاہتی تھی، لیکن وہ ایک بار پھر پُھوٹ پُھوٹ کر رو دی۔ شاید اپنے گھر سے بچھڑنے سے بڑا دُکھ کبیر علی کے ساتھ پوری عمر گُزارنے کا تھا۔ کیسے گُزرے گی یہ عمر…؟ ایک من چاہے کے بغیر…… لیکن قدرت کی سوچ ہماری سوچ کے تابع کب ہوتی ہے۔ وہ ہمارا بھلا چاہتی ہے اور ہم اکثر سمجھتے ہی نہیں کہ کس چیز میں ہماری بھلائی ہے۔ بس کانٹوں کی چاہ میں اُنگلیاں زخمی کر بیٹھتے ہیں۔
٭……٭……٭……٭
سیما نے عمر کو آفس میں ہی بتا دیا تھا کہ آج سامعہ کی رُخصتی ہے اور وہ نانو بی کے ساتھ جائے گی۔ وہ کَلس کر رہ گیا۔ یہ لڑکی اُس کے ہاتھ سے نکل گئی تھی۔ شاید اُسے ساری عمر اِس بات کا افسوس رہے گا۔ صارم کو پولیس پکڑ کر لے گئی۔ اُس کا افسوس بھی اپنی جگہ تھا، مگر وہ اِس بات پر بھی شکر ادا کر رہا تھا کہ وہ وہاں وقت پر نہ پہنچ سکا۔ ورنہ وہ بھی آج صارم کے ساتھ تھانے میں بند ہوتا۔ اُس نے اپنی شام رنگین کرنے اور غم بُھلانے کے لیے ایمان کو کال ملا دی۔ دونوں نے باہر کھانے کا پروگرام بنایا، جس وقت سامعہ کا نکاح ہو رہا تھا، وہ ایک کیفے میں ایمان کے حُسن کے قصیدے پڑھ رہا تھا۔ ایمان حیران تھی کہ اِتنے دِنوں میں وہ پہلی بار اُس کو کُھل کر سراہ رہا تھا۔ وہ خوش ہو گئی، کیوں کہ جب پہلی بار کوئی من چاہا شخص عورت کو سراہتا ہے تو عورت کو اپنا وجود مکمل محسوس ہوتا ہے۔ ایمان کی زندگی میں مردوں کا آنا جانا تھا، لیکن وہ سب کاروباری آمدورفت تھی۔ وہ آتے تعریف کرتے، وقت گُزارتے، پیسے چکاتے اور چلے جاتے۔ حتمی طور پر اُس کی زندگی میں کوئی مرد ایسا کبھی نہیں آیا تھا، جس کے ساتھ وہ عمر بھر ساتھ نبھانے کا سوچے۔ عمر سے تو پہلی ملاقات میں ہی ایک انوکھا سا اِحساس ہوا تھا، جس کو کوئی نام دینے سے وہ عرصے تک قاصر رہی، مگر جب اِس اِحساس کو نام ملا تو ایمان نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ شادی کرے گی تو صرف عمر کے ساتھ… وہ چاہتی تھی کہ عمر خود اِس بارے میں اُس سے کوئی بات کرے۔ وہ اُس وقت جہاں اُس کے سنگ نئی زندگی کے سپنے بُن رہی تھی، وہیں عمر سامعہ سے بدلا نہ لے سکنے کا غم مٹا رہا تھا۔ دونوں نے کافی وقت ایک ساتھ گُزارا اور پھر اچھے دوستوں کی طرح ایک دوسرے سے جُدا ہو گئے۔
٭……٭……٭……٭
رُخصت ہو کر سامعہ خالہ کے گھر آگئی، حالاں کہ رات بہت ہو گئی تھی، لیکن ابھی تک کچھ رسمیں باقی تھیں۔ اُن رسموں کے بعد اُسے کمرے تک لے جایا گیا۔ دروازے کے آگے ثنا دیوار بن کر کھڑی تھی۔ ساتھ چند کزنز بھی تھیں۔
’’بھائی! ہمارا نیگ دئیے بغیر آپ کمرے میں نہیں جا سکتے…‘‘ وہ سب دروازے پر دیوار کی طرح جمی کھڑی تھیں۔
کبیر علی جنہوں نے سامعہ کو کندھوں سے تھاما ہو اتھا۔ بہن کی حرکت پر مُسکرا اُٹھے۔ اماں نے اِس رسم کے بارے میں اُنہیں پہلے ہی بتا دیا تھا، اِسی لیے وہ جیب میں رقم کا اِنتظام کرکے آئے تھے، مگر اُنہیں بہن کو تنگ بھی تو کرنا تھا۔
’’اَرے ہٹو! میرے راستے سے… اب تم مجھے اپنے کمرے تک جانے سے روکو گی…؟‘‘ وہ اُسے بڑے آرام سے ایک جانب کرتے ہوئے کمرے میں داخل ہو گئے تو ثنا بِلبِلا کر اُن کے پیچھے آئی۔
’’بھائی! یہ فاؤل ہے، نیگ دیئے بغیر آپ اندر نہیں آسکتے تھے۔‘‘ وہ پیچھے پیچھے آئی۔ اُتنی دیر میں کبیر بھی سامعہ کو بیڈ پر بٹھا چکے تھے۔
’’بھائی! یہ غلط ہے، پہلے نیگ دیں ہمارا…‘‘
’’اَرے بھئی! کیسا نیگ…؟ کوئی اپنے کمرے میں داخل ہونے کا بھی نیگ دیتا ہے…؟ چلو نکلو میرے کمرے سے…‘‘ وہ بڑے مزے سے ثنا کو چِڑاتے ہوئے بولے۔ ثنا کا موڈ آف ہوگیا۔
’’ٹھیک ہے بھائی! یاد رکھیئے گا کہ آپ کی بھی کوئی بہن تھی۔ اب بُلاتے رہیں گے۔ میں نہیں آؤں گی۔‘‘ وہ موڈ آف کرکے کمرے سے نکلنے لگی۔ انہوں نے ایک منٹ میں اُسے جا لیا۔
’’اَرے میری پیاری سی بہن! تمہارے بغیر میرا گُزارا کب ہے…؟ یہ لو… تم سب کا نیگ… میں تو مذاق کر رہا تھا…‘‘ انہوں نے جیب سے موٹی سی رقم نکال کر اُس کے حوالے کی، تو وہ خوش ہو گئی اور بھائی سے لپٹ گئی۔
’’تھینک یو بھائی!… اور بھابھی……‘‘ شرارت سے مُسکراتے ہوئے اِس بار اُس کا مخاطب بیڈ پر بیٹھی سامعہ تھی۔
’’بھابھی! ذرا بھاری سا لفظ نہیں لگ رہا… بھائی! اگر آپ اجازت دیں تو میں سامعہ کو اُس کے نام سے ہی پُکاروں، کیوں کہ وہ سب سے پہلے میری دوست ہے۔‘‘ اُس نے بھائی سے کہا تو وہ مُسکرا دئیے۔
’’بھئی یہ تمہارا اور تمہاری دوست کا معاملہ ہے۔ اگر اُسے کوئی اِعتراض نہیں تو بھلا مجھے کوئی اِعتراض کیوں ہوگا…؟ یہ بات تم دونوں مل کر طے کر لو۔‘‘ انہوں نے معاملے سے ہاتھ کھڑے کر دئیے۔ سامعہ گھونگھٹ کے اندر جل کر رہ گئی۔ اُن دونوں بہن بھائی کا پیار ہمیشہ اِسی طرح رہے گا۔ اپنی محبتوں میں وہ یہ بھی بُھول گئے کہ سارا دِن کی تھکی ہوئی دُلہن آرام کرنا چاہتی ہے، لیکن وہ کچھ بول نہ سکی۔ شاید ابھی اُس کے بولنے کا موقع نہیں آیا تھا۔ اُسے برداشت کرنا تھا۔ وہ ثنا سے کہنا چاہتی تھی کہ بس کرو محبتوں کے یہ دِکھاوئے۔ اُسے اب محبت کی کسی قسم پر کوئی یقین نہ رہا تھا۔ اُس کے نزدیک پیار، محبت، عشق سب بناوٹ کے پُھول تھے، جو نہ تو مرجھاتے اور نا ہی خوشبو دیتے تھے، لیکن کہلاتے پُھول ہی تھے۔ وہ اُن دونوں کی باتیں خاموشی سے سُن رہی تھی۔ سوچ رہی تھی کہ اب اُس کی زندگی کس طور بسر ہو گی، لیکن بہرحال گزرتا وقت زندگی گزارنے کا سبق دے کر ہی جاتا ہے۔ اُسے پتا بھی نہیں لگا کہ کب ثنا اُس کے کمرے سے نکل گئی۔ اب کمرے میں صرف وہ اور کبیر علی ہی رہ گئے تھے۔ تنہائی کے اِحساس کے ساتھ ہی اُس کے گلے میں تھوک اَٹک گیا، جو اُس نے بہت مشکل سے نِگلا۔ کبیر علی نے دروازے کی کُنڈی چڑھائی اور اُس کے پاس آ کر بیٹھ گئے۔ سامعہ کو محسوس ہوا کہ گھٹن سے اُس کی سانس رُک جائے گی۔ ایک لمحے کو اُس کی سانس رُک بھی گئی۔
٭……٭……٭……٭
رضوان جب سے شادی سے واپس آیا۔ ثنا کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا۔ ایسا کیوں تھا کہ اب تک اُس نے کسی لڑکی کے بارے میں اتنا deeply نہیں سوچا تھا۔ اِتنا معصوم چہرہ اُن کو پہلے نظر ہی نہیں آیا تھا۔ شاید اُسے بھی اِحساس ہو گیا تھا کہ وہ ہر جگہ اُن کی نظروں کا محور ہے، لیکن اُس نے ناز و انداز دِکھانے کے بجائے ہر جگہ اُن کی نظروں سے چُھپنے کی کوشش کی۔ یہی بات رضوان کے دِل کو چُھو گئی۔ رحیم بابا اُن کے لیے کافی لے کر آئے۔ کافی دیر تک وہ رضوان سے کبیرعلی کی فیملی کے بارے میں ہی بات کرتے رہے۔ اُنہیں بھی کبیر علی کی فیملی بہت پسند آئی تھی۔ انہوں نے بھی رضوان کا کبیر علی کی بہن ثنا کی طرف جُھکاؤ محسوس کر لیا تھا، لیکن گھر کے ملازم کی حیثیت سے کچھ کہنے کا حوصلہ نہ تھا۔ بے شک رضوان کو انہوں نے اپنی گودوں میں کِھلایا تھا، لیکن تھے تو اُس گھر کے نمک خوار… جب تک رضوان خود اُن سے اِس بارے میں بات نہ کرتا، وہ کچھ نہیں کہہ سکتے تھے۔ وہ بھی چاہتے تھے کہ اب اِس گھر میں ایک گھر سنبھالنے والی آ جائے۔ کتنے دِنوں سے یہ گھر بِنا عورت کے چل رہا تھا۔
’’بابا! مجھے آپ سے ایک بات کرنی ہے…‘‘ رضوان نے گلا کھنکھارتے ہوئے کافی کا سِپ لیا اور بات شروع کی۔
(باقی آئندہ)

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.