پاداش(10)_____________شازیہ خان

پاداش
قسط نمبر 10
شازیہ خان


ثنا رضوان کو فون کرنے کے بارے میں سوچ کر ساری رات مخمصے کا شکار ہی رہی۔ فون کرے یا نہ کرے… بہر حال بہت سوچنے کے بعد ثنا نے اِس سلسلے میں سامعہ کو رازدار بنانے کا فیصلہ کیا۔ وہ اُس کی بچپن کی دوست تھی۔ جب کبھی سامعہ نے اُس سے مشورہ مانگا یا اُس کی ضرورت پڑی، ثنا ہمیشہ اُس کی رازدار ہی تھی۔ اُسے پورا یقین تھا کہ سامعہ بھی اُسے کوئی بہتر مشورہ دے سکے گی۔ شام کو سامعہ تیار ہو کر نیچے آئی تو ثنا چائے کی تیاری کر رہی تھی۔ کبیر علی اپنے کسی کام سے نکلے ہوئے تھے۔ اماں چوں کہ دوائی لے کر سوئی ہوئی تھیں، اِسی لیے ثنا نے اپنے اور سامعہ کے کپوں میں چائے ڈالی اور ٹی وی لاؤنج میں آگئی۔
’’کیا ہوا…؟ طبیعت تو ٹھیک ہے…؟ آج کھانا بھی نہیں کھایا۔ بھائی نیچے آئے تھے، بتا رہے تھے کہ تمہارے سر میں درد ہے۔ کوئی دوائی لی…؟‘‘
’’اُوپر والے پورشن میں بہت گرمی تھی۔ لائٹ بار بار جا رہی تھی۔ اے سی بند ہو جاتا تھا۔بس اسی وجہ سے سرمیں درد ہو گیا۔‘‘ سامعہ نے گرمی کا ایسا نقشہ کھینچا کہ ثنا نے چونک کر اُسے دیکھا۔ ثنا کی نظروں میں خالہ کا چھوٹا سا صحن گُھوم گیا۔ جہاں گرمیوں میں اکثر چارپائیوں کے پاس پیڈسٹل فین لگا کر سویا جاتا تھا، کیوں کہ کمروں میں بہت شدّت کی گرمی ہوتی۔ سب صحن میں پانی کا چھڑکاؤ کرکے چارپائیاں بچھا کر سویا کرتے اور اکثر وہ خود جب خالہ کے گھر جاتی تو بہت شوق سے صحن میں سویا کرتی، بلکہ وہ اور سامعہ پاس پاس پڑی چارپائیوں پر لیٹی باتیں کرتی رہتیں۔ جب خالہ اُنہیں ڈانٹتیں کہ ابا جی اُٹھ گئے تو ناراض ہوں گے اب سو جاؤ۔ تب اُن کی چلتی زبانیں اور جھپکتی پلکیں بند ہوتیں اور وہ دونوں آہستہ آہستہ نیند کی وادیوں میں اُتر جاتیں۔ آج وہی سامعہ ذرا دیر کو بند ہوتے اے سی کی وجہ سے سر درد کا شکار ہو گئی تھی۔
’’تمہارے لیے سینڈ وچ بنائے تھے اور کچھ کھانا ہو تو بتاؤ…؟‘‘
’’نہیں! بس یہی کافی ہے۔ کچھ دِل نہیں چاہ رہا…‘‘ ثنا نے سینڈوچ کی پلیٹ سامعہ کی طرف بڑھائی تو بڑی نزاکت سے اُس نے ایک سینڈوچ اُٹھایا اور اپنے دانتوں سے کترنے لگی۔ نجانے کیا سوچ رہی تھی۔ کبھی ثنا کو لگتا کہ اُسے ایک بھابھی تو مل گئی، مگر ایک اچھی دوست کھو دی۔ پھر بھی ہمت کرکے اُس نے سامعہ کی طرف دیکھا۔
’’سنو سامعہ! تمہیں پتا ہے نا میں نے یونی ورسٹی میں اپنا فارم جمع کروا دیا ہے۔‘‘
’’اچھی بات ہے۔ تمہیں ماسٹرز ضرور کرنا چاہیے۔ اچھی ڈگری یا اچھی صورت یہ دو صورتیں ہی اچھا بر دلواتی ہیں۔ اب اچھی ڈگری کی وجہ سے ہی تمہیں اچھا بر مل جائے گا۔‘‘
’’کیا مطلب…؟‘‘ ثنا کے دِل پر ایک شدید دھکا سا لگا۔ یہ وہ سامعہ تو نہ تھی جو اُس کی بچپن کی دوست تھی۔ سامنے بیٹھی ہوئی میک اپ کی تہوں تلے دبی سامعہ اُس لمحے ثنا کو کوئی عیار سی عورت لگی، جو دوسروں کو طعنے دینے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتیں۔ بے شک ثنا، سامعہ جیسی حسین نہ تھی، لیکن اتنی بد صورت بھی نہ تھی کہ اُسے اپنی شادی کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا اور وہ اپنی شادی کی وجہ سے ایم اے کر رہی تھی۔ اُس کے اچھے رشتے نہیں آ رہے۔
’’تم کہنا کیا چاہ رہی ہو سامعہ! کہ میں اِس وجہ سے پڑھ رہی ہوں کہ شادی کے لیے اچھا بر تلاش کر سکوں…؟‘‘ اِس بار ثنا کا لہجہ تیز اور تلخ ہو گیا، جسے سامعہ نے فوراً محسوس کیا اور بات پلٹ دی۔
’’اَرے میرا یہ مطلب نہیں تھا۔ میں تو ایک عام سی بات کر رہی تھی۔ تم بُرا مان گئیں۔ میں تو یہ کہہ رہی تھی جب تک کوئی اچھا رشتہ نہیں آتا۔ تمہارے لیے بہتر ہے کہ تم پڑھتی رہو۔‘‘ وہ ایک بار پھر ثنا کو آگ لگا گئی، لیکن اُس نے دِل میں مصمّم اِرادہ کر لیا کہ وہ رضوان کے بارے میں سامعہ کو کچھ نہیں بتائے گی۔
’’بھائی کا خیال تھا کہ اگر تم پڑھنا چاہو تو تمہارا داخلہ بھی کروا دیتے ہیں۔ انہوں نے تمہیں بھی آفر تو کی تھی۔‘‘
’’نہیں بھئی! شادی کے بعد کون پڑھتا ہے…؟ میری اِتنی ہمت نہیں کہ دونوں جگہوں کونبھا سکوں۔ بس پڑھ لیا، جتنا پڑھنا تھا۔‘‘ وہ جلدی جلدی چائے کے سِپ لے رہی تھی۔ اُس نے ایک بار بھی ثنا سے اماں کی طبیعت کے بارے میں نہیں پوچھا، حالاں کہ اُسے معلوم تھا کہ وہ صُبح سے بستر پر ہیں۔ اُن کا بی پی شوٹ کر گیا تھا۔ شاید کچھ لوگوں کے آگے اپنی ذات سے آگے سوچنے کا خیال بھی محال ہوتا ہے اور سامعہ اُنہی لوگوں میں سے تھی۔ قسمت نے اُس کے ساتھ جو کچھ کیا تھا، اِس کے بعد وہ ہر پیارے اور محبت کرنے والے شخص سے بدلہ لینا اپنا حق سمجھتی تھی۔ اُسے اپنے ساتھ ہونے والی اِس ناانصافی کا بدلہ اپنے سے وابستہ ہر شخص سے لینا تھا۔ کچھ لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں قسمت میں لکھے پر شاکر ہونے کے بجائے اپنے پیاروں سے قسمت کا بدلہ لینے اُتر آتے ہیں۔ پھر اِسی لڑائی میں آہستہ آہستہ اپنے سارے پیارے کھو دیتے ہیں۔ عمر کے اِختتام پر اپنی اِس بدنصیبی کا سہرا بھی قسمت کے سر ٹھوک کر آنسو بہاتے رہتے ہیں۔ اُنہیں اپنے بدصورت روّیوں کا کبھی اِحساس تک نہیں ہوتا کہ وہ بالکل تنہا خود اپنی حرکتوں کی وجہ سے ہو گئے ہیں۔ اِس وقت سامعہ کو اِحساس بھی تھا کہ اُس نے اپنی بچپن کی بہترین دوست کھو دی ہے۔ نئے گھر میں کسی لڑکی کو رہنے اور بسنے کے لیے بہت سے رشتوں کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر کوئی لڑکی اُس گھر میں اپنے بدصورت روّیوں سے ایک ایک کرکے سارے رشتے کھو دے تو اُس کا رہنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ ثنا اماں کو دیکھنے کے لیے اُٹھ گئی کہ اگر وہ اُٹھ گئی ہوں تو اُن کے لیے بھی چائے بنا دے۔ سامعہ کافی دیر اکیلی وہاں بیٹھی رہی اور پھر بے زار ہو کر اُوپر اپنے کمرے میں آ گئی۔ اُسے کبیر علی پر بہت غُصّہ آ رہا تھا۔ آج اُس کا موڈ اماں کی طرف جانے کا تھا، لیکن وہ نجانے کہاں چلے گئے تھے۔ اُن کا فون بھی بند جا رہا تھا۔ اُس نے ٹی وی لگا لیا۔ جہاں ایک پُرانی مووی آرہی تھی۔ اُسے پُرانی فلموں سے کوئی دِلچسپی نہ تھی۔ چینل چینج کر دیا۔ اگلے چینل پر بھی اُس کے مطلب کی کوئی چیز نہیں تھی۔ اُس نے بور ہو کر ٹی وی بند کر دیا اور موبائل اُٹھا لیا۔ دوپہر میں اتنا سو چکی تھی کہ اب سونے کا سوچ کر بھی بوریت ہو رہی تھی۔ ایک بار پھر کبیر علی کا فون ملایا تو اِس بار فون مل گیا۔ انہوں نے بس دس منٹ میں پہنچنے کا کہہ کر فون بند کر دیا۔ اُن کے آنے تک اُس نے دوبارہ شیشے میں اپنا جائزہ لیا اور نیچے آگئی۔
٭……٭……٭……٭
رضوان نے اُس رات، رات کے آخری پہر تک ثنا کے فون کا اِنتظار کیا اور پھر مایوس ہو گئے، لیکن دِل کو سمجھا لیا کہ یہ مشرقی لڑکیاں اتنی جلدی نہیں کُھلتیں۔ اُنہیں تھوڑا صبر اور اِنتظار سے کام لینا ہوگا۔ ہو سکتا ہے ابھی فون کرنے سے ہچکچاہٹ ہو۔ تھوڑا اِنتظار ضروری ہے۔ یہ سوچ کر انہوں نے دِل کو تسلی دے لی، لیکن دِل بہل نہیں پا رہا تھا۔ دِل کو کوئی پہلی بار اچھا لگا اور اُس سے اُس کی مرضی پوچھنا کتنا مشکل تھا۔ اُنہیں سمجھ نہیں آرہا تھا بات کیسے کی جائے…؟ آسان حل یہی تھا کہ بابا خود کبیر علی کے پاس رشتہ لے کر جاتے، لیکن اُس سے اُنہیں ثنا کی پسند کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکتا تھا اور وہ کسی بھی لڑکی پر زبردستی ایک رشتہ مسلط کرنے کے حق میں قطعاً نہ تھے۔ اِسی لیے پہلے اُس سے بات کرکے اُس کی رائے کے بعد ہی کوئی فیصلہ لینا چاہتے تھے۔ شاید اِس کے لیے اُنہیں ابھی خود بھی صبر کرنا تھا۔ اُس وقت کا جب تک اُن کی خود ثنا سے بات نہ ہو جائے۔ اگر اُس کا فون نہ آیاتو دوسری صورت کیا ہو سکتی ہے۔ اب وہ اِس بات کے بارے میں مسلسل سوچ رہے تھے کہ فون کا اِنتظار اُنہیںکب تک کرنا تھا اور کب اُنہیں اپنے دوسرے پلان پر کام کرنا تھا۔
٭……٭……٭……٭
کبیر علی اور سامعہ کے درمیان ایک خاموش سا سمجھوتہ ہو گیا، بلکہ سامعہ نے سوچ لیا تھا کہ اب جو کچھ اُس کے نصیب میں لکھ دیا گیا ہے۔ اِسی پر صابر رہنا تھا۔ اِسی لیے آہستہ آہستہ وہ اُس گھر میں ایڈجسٹ ہونے کی کوشش کر رہی تھی۔ یہ اور بات تھی کہ اِس ایڈجسٹمنٹ میں ایک بے زاری نمایاں تھی۔ وہ اکثر کبیر علی کی ضروری باتوں کو بھی نظر انداز کر دیتی تھی اور وہ اُسے سامعہ کا بچپنا سمجھ کر نظرانداز کر دیتے۔ اُن کا دِل چاہتا کہ وہ اُسے لے کر باہر جائیں، گُھومیں پھریں اور کسی ریسٹورنٹ میں کھانا کھائیں تو وہ اماں کے گھر جانے کی فرمائش کر دیتی۔ شادی کے بعد وہ تقریباً ہر دوسرے دِن اماں کے گھر جا رہی تھی اور کبیر علی بغیر ماتھے پر بَل ڈالے اُسے لے جا رہے تھے، لیکن اُس دِن پہلی بار اُنہیں بہت غُصّہ آیا، جو وہ پی گئے اور وہ مسلسل اُن سے اماں کے گھر جانے کی ضد کر رہی تھی، جسے انہوں نے ٹال دیا تو وہ ناراض ہو گئی۔ سلمیٰ بیگم کی طبیعت صُبح سے ٹھیک نہ تھی۔ ثنا نے دو بار اُن کی شوگر چیک کی جو کہ بہت ہائی تھی۔ انہوں نے سمجھایا کہ آج نہیں جاتے، لیکن نہ جانے وہ کس قسم کی پریشانی کو سر پر سوار کیے بیٹھی تھیں۔ ثنا پوچھ پوچھ کر تھک گئی، لیکن انہوں نے بتانا مناسب نہ سمجھا۔ دراصل وہ سامعہ کے روّیے سے کچھ پریشان تھیں۔ سگی بھانجی تھی، جسے انہوں نے اپنی بیٹی کی طرح محبت دی، مگر شادی کے بعد اُس کا روّیہ کچھ عجیب سا تھا۔ ثنا کے ساتھ دوستی کے باوجود وہ بہت کم نیچے اُتر کر آتی، چوں کہ ابھی اپنا چولہا چوکا شروع نہیں کیا تھا، اِسی لیے کھانا وہ نیچے ہی کھاتی، لیکن کسی ـغیر کی طرح صرف سرسری سے خالہ کی طبیعت پوچھتی۔ تھوڑا اُن کے پاس بیٹھتی اور پھر اپنے کمرے میں چلی جاتی۔ جب دوپہر کا کھانا تیار کرکے ثنا اُسے انٹر کام پر آگاہ کرتی تو وہ نیچے آتی او رپھر کھانا کھا کر کر دوبارہ اُوپر چلی جاتی۔ حتیٰ کہ اِتنی زحمت بھی نہ کرتی کہ ثنا کے ساتھ میز کے برتن ہی سمیٹ لیتی۔ کافی دِن سے وہ یہ سب دیکھ رہی تھیں اور اُس کی بے زاری محسوس کر رہی تھیں، لیکن نہ خود کچھ کہتیں اور نہ ہی ثناکو کہنے دیتیں۔
’’تم پہلے بھی تو یہ سارا کام خود کرتی تھیں۔ ابھی اُس کے اِبتدائی دِن ہیں۔ کیا اچھا لگے گا کہ نئی نویلی دُلہن سے تم برتن دُھلواؤ۔ جب اُوپر اپنا کچن سنبھالے گی تو سب کچھ کر لے گی۔‘‘ انہوں نے ایک دِن ثنا کے اِستفسار پر اُسے جواب دیا۔
’’اماں! میں تو پہلے بھی خود کرتی تھی اور اب بھی کروں گی، لیکن آپ کو پُرانی سامعہ اور نئی سامعہ میں کچھ فرق محسوس نہیں ہو رہا۔ کتنی بے زاری ہے اُس کے انداز میں۔ وہ شادی سے پہلے تو ایسی نہ تھی۔ جب بھی گھر آتی میرے ساتھ کچن میں بِنا کہے کام کرواتی تھی۔ ہماری کتنی دوستی تھی۔ ہاں یہ ٹھیک ہے وہ پہلے بھی کُھل کر اپنے جذبات کا اِظہار نہیں کرتی تھی اور اب بھی نہیں کرتی، لیکن اتنا سرد انداز بھی نہ تھا۔‘‘ ثنا نے اپنے دِل میں چُھپے وسوسوں کو زبان دی۔
’’اَرے ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ وہ نہیں بدلی، مگر تم ایک دوست کی نظر سے نہیں، بلکہ نند کی نظر سے دیکھ رہی ہو۔ اِس لیے ایسا محسوس ہو رہا ہے۔ وہ ہمیشہ سے ہی ایسی تھی۔‘‘ اماں نے ثنا سے کہا، حالاں کہ اُن کے اپنے دِل میں بھی سامعہ کے روّیے سے کافی خدشات پرورش پا رہے تھے، لیکن وہ اُنہیں کوئی زبان دینا نہیں چاہتی تھیں، لیکن محسوس سب کر رہی تھیں۔ اسی سوچ کی وجہ سے اُن کی شوگر اور بی پی دونوں ہائی جا رہے تھے۔ کیا میں نے اَنجانے میں اپنے بیٹے کے لیے کوئی غلط فیصلہ کر دیا۔ وہ اُس کے کسی اندا ز میں نئی نویلی دُلہنوں کا اپنے شوہروں کے لیے والہانہ انداز بھی محسوس نہیں کر رہی تھیں۔ ابھی کل ہی کبیر علی نے دونوں کے لیے ایک ہی پلیٹ میں سالن ڈالا کہ دونوں مل کر کھاتے ہیں، لیکن اُس نے اپنی دوسری پلیٹ بنا کر اُن کی آفر ٹھکرا دی۔ اُس وقت اُنہیں اپنے بیٹے کے چہرے پر موجود ہلکی سی شرمندگی بہت بڑا دُکھ دے گئی۔ یہ تو بہت نارمل سی بات تھی کہ اکثر نئے نویلے شادی شدہ جوڑے شروع شروع میں ایک ہی پلیٹ میں کھاتے ہیں۔ شرماتی لجاتی لڑکیاں شوہر کی ایسی کسی خواہش کا اِنکار نہیں کرتیں، لیکن اُس نے آس پاس بیٹھی ساس اور نند کا بھی خیال نہ کیا اور جھٹ اپنی پلیٹ بنا کر کبیر علی کی آفر ٹھکرا دی۔ اپنی اِس سُبکی کو کبیر علی نے بڑی خوش دِلی سے نظر انداز کر دیا، لیکن اُن کے چہرے پر ہلکی سی شرمندگی سلمیٰ بیگم سے چُھپی نہ رہ سکی۔ وہ سمجھتی تھیں کہ سامعہ ابھی کم عمر ہے۔ آہستہ آہستہ سمجھ جائے گی، لیکن عادتیں بدلی جا سکتی ہیں۔ بھلا فطرت بھی کبھی کسی کی بدلی ہے۔ اُنہیں پتا تھا اُن کی بہن سراپا محبت تھی، لیکن سامعہ میں بہت ساری عادتیں باپ سے ملتی تھیں، جسے اب وہ شدّت سے محسوس کر رہی تھیں۔ اُس کی ہر بات کو نظر انداز کرکے ڈھیر سارے دُکھ وہ اپنے اندر پال رہی تھیں۔ بِنا کسی بات کے وہ اُس کی بے زاریاں دیکھ کر بھی اَن دیکھی کر رہی تھیں۔ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ کبیر علی کو کوئی دُکھ ہو۔ اِن چند دِنوں میں ہی اُس نے اپنا روپ دِکھا دیا تھا، لیکن اُنہیں حیرت اِس بات کی تھی کہ پہلے تو وہ ایسی نہ تھی تو اب کیا ہوا…؟ کیا وہ اِس شادی سے خوش نہیں…؟ یہ سوالیہ نشان آہستہ آہستہ سامعہ سے وابستہ ہر شخص پر اُس کے روّیے کی وجہ سے کُھلتا جا رہا تھا۔
٭……٭……٭……٭
’’عمر! کل ’ستارہ گروپ آف کمپنیز‘ کے ساتھ میری میٹنگ ہے۔ میرے خیال میں میں نہیں جا پاؤں گا۔ تم او ر سیما میٹنگ اٹینڈ کر لینا۔‘‘ ناشتے کی ٹیبل پر آفندی صاحب نے جوس کا گلاس ہونٹوں سے لگاتے ہوئے عمر کو تنبیہ کی۔
’’لیکن بابا میں آپ کو بتانے والا تھا، کل بارہ بجے تو میری دُبئی کی فلائٹ ہے۔‘‘ عمر نے بڑے آرام سے باپ کو اپنے دُبئی ٹرپ سے آگاہ کیا، جس کے لیے وہ کل سے پلاننگ کر رہا تھا کہ یہ خبر کس طرح باپ کو بتائے۔
’’تم دُبئی جا رہے ہو…؟ اور مجھے بتانا بھی پسند نہیں کیا۔‘‘ وہ حیران تھے۔
’’اب بتا تو رہا ہوں۔ بس خرم کا اچانک ہی پروگرام بن گیا تو اُس نے بُلا لیا۔ وہاں کوئی انٹرنیشنل بزنس کانفرنس ہو رہی ہے۔ وہ چاہتا تھا کہ میں بھی اُس کے ساتھ شامل ہو جاؤں۔‘‘ اُس نے بڑی فن کاری سے باپ کو رام کرنے کی کوشش کی اور وہ بزنس کانفرنس کا سُن کر چونک گئے۔
’’یہ کون سی کانفرنس ہے، جس کے بارے میں مجھے علم نہیں…؟‘‘
’’اَرے بابا! ضروری نہیں کہ ہر کانفرنس کی انویٹیشن آپ کو آئے۔ خرم کو ملی تھی تو اُس نے مجھے بھی انوالو کر لیا۔ اب دیکھتا ہوں جا کر کہ کس قسم کی کانفرنس ہے۔‘‘
’’کتنے دِن کا پروگرام ہے…؟‘‘
’’یہی کوئی ایک ہفتہ…‘‘
’’ایک ہفتہ بہت زیادہ نہیں…؟‘‘ وہ پھر حیران ہوئے۔
’’بابا! کانفرنس تو دو دِن کی ہے، مگر خرم کا خیال ہے کہ دو چار دِن گُھوم پھر بھی لیں گے۔ وہ بڑے عام سے انداز میں کہہ رہا تھا۔
’’چلو ٹھیک ہے۔ تم جاؤ پھر میں سیما سے کہہ دیتا ہوں وہ دیکھ لے گی، مگر تم کوشش کرنا دو دِن کی پوری detail کمپنی کو بھیج دینا۔‘‘
’’جی بابا! آپ فکر مت کریں۔ میں سیما کو اَپ ڈیٹ کر دوں گا۔ اوکے بابا! دُعا کیجئے گا۔ سب کچھ ٹھیک رہے۔ میں ابھی نانو کی طرف جا رہا ہوں۔ ورنہ وہ ناراض ہو جائیں گی کہ مجھے بتا کر نہیں گیا۔ پھر وہاں سے سیما کو لے کر آفس پہنچتا ہوں۔‘‘ عمر نے چائے کا آخری سِپ لیا اور اپنی آج کی سرگرمی کے بارے اُنہیں آگاہ کرنا مناسب سمجھا۔
’’عمر! تم دُبئی سے واپس آجاؤ تو مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنا ہے۔‘‘ اُنہیں نانو بی کے ذِکر پر عمر سے اُس کی شادی بارے بات کرنا یاد آگیا۔
’’جی حکم بابا!‘‘ وہ جاتے جاتے رُک گیا۔
’’نہیں! ابھی تم جاؤ۔ واپس آؤ گے تو پھر بات کریں گے۔ ابھی تم جا کر اپنی تیاری کرو۔ ‘‘
’’ٹھیک ہے بابا! پھر دوپہر میں آفس میں ملتے ہیں۔ میں ذرا نانو بی کی طرف چکر لگا لوں۔ یہ کہہ کر وہ باہر نکل گیا۔ آفندی صاحب کو خوشی ہوئی کہ شاید وہ سیما کی وجہ سے قدرے ذمہ دار ہو گیا تھا۔ خود ہی دُبئی کی بزنس کانفرنس اٹینڈ کرنے کا پروگرام بھی بنا لیا۔ اب میرا بیٹا واقعی ذمہ دار ہو گیا ہے۔ انہوں نے سکون کی سانس لی اور فیصلہ کر لیا کہ اِس سال گرمیوں کی چھٹیوں میں لندن سے بیٹی کے آنے پر وہ عمر کی شادی کر دیں گے۔
٭……٭……٭……٭
ایمان نے اپنا پراجیکٹ ختم کر لیا تھا۔ پھر اُسی شام عمر آفندی بھی اُس کے پاس پہنچ گیا۔ وہ اُسے اپنے سامنے دیکھ کر بہت خوش ہوئی۔ یہ خوشی اُس کے انگ انگ سے عیاں تھی۔
’’یار! بہت بور کرتی ہو۔ آئندہ ایسا کوئی پروگرام ہو تو دونوں ساتھ ہی آئیں گے۔‘‘ عمر نے کار میں بیٹھتے ہی اُس کی طرف بڑے والہانہ انداز میں دیکھتے ہوئے کہا۔ وہ تو اس کی بات پر فِدا ہی ہو گئی۔ وہ خود پہلی بار اپنے اکیلے سفر سے بے زاری کا شکار تھی اور خود بھی چاہ رہی تھی کہ جلد اَز جلد کام ختم ہو اور عمر اُس کے پاس آجائے۔ جلد ہی دونوں ہوٹل پہنچ گئے۔ اُس کی بکنگ ایمان نے پہلے سے ہی کروا رکھی تھی۔ دونوں کے روم برابر برابر تھے۔ عمر تیار ہو کر اُس کے کمرے میں آ گیا۔
’’یار! میں کمرے میں بند ہونے کے لیے نہیں آیا۔ چلو باہر کا ایک ٹرپ لگا کر آتے ہیں۔ کھانا بھی باہر کھائیں گے۔‘‘
’’جو حکم سرکار! بس مجھے دس منٹس دے دیں۔‘‘ وہ اُس کی بے تابی کو سمجھ رہی تھی۔ وہ ایک لمحے بھی اکیلا رہنا نہیں چاہتا تھا۔ وہ خود بھی اپنا بقیہ وقت اُس کے ساتھ ہی کشید کرنا چاہتی تھی۔ اُس کی صحبت میں۔ اُس کی محبت بھری باتوں کے ساتھ وقت گزارنا کتنا خوش کُن تصور تھا۔ وہ اُس کے بغیر صرف اُس کے بارے میں ہی سوچتی رہی اور اب سامنے تھا تو سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ اِظہار کیسے کرے…؟ دونوں تیار ہو کر نیچے ہوٹل کی لابی میں آ گئے۔ اپنے اپنے کمروں کی چابی کاؤنٹر پر دے کر باہر نکل آئے۔ جہاں ایک کمپنی کا ڈرائیور اُن کا پہلے ہی منتظر تھا۔ یہ وہی کمپنی تھی، جس نے ایمان کو اپنے اِشتہار کے لیے وہاں بُلایا تھا اور پورے ہفتے کے لیے ایمان اُن کی مہمان تھی۔ دونوں نے ایک دوسرے کی صحبت میں بہت اِنجوائے کیا۔ بُرج خلیفہ کا وِزٹ ایمان اور عمر اُس سے پہلے بھی کر چکے تھے، لیکن اِس بار ایک دوسرے کی صحبت میں تھکن کا کوئی اِحساس اُن کے پاس نہ تھا، بلکہ یہ تھکن ایک الگ ہی مزہ دے رہی تھی۔ وہاں کے شاپنگ مال سے ایمان نے کافی ساری شرٹس اور پرفیوم عمر کے منع کرنے کے باوجود اُس کے لیے خریدے۔ اُن کی قیمت بہت زیادہ تھی، لیکن ایمان کو کوئی فرق نہیں پڑتا، کیوں کہ وہ پہلی بار کسی کے لیے دِل سے شاپنگ کر رہی تھی۔ ایک ایک چیز جو اپنے لیے خریدتی، اُس پر عمر کا مشورہ ضرور مانگتی، حالاں کہ اُس نے اِس سے پہلے اپنی شاپنگ میں کسی کی رائے کو کبھی اہمیت نہیں دی تھی، لیکن اب دِل جس شخص کو اہمیت دے رہا تھا اُس کی کیا مجال تھی کہ وہ اُس کی رائے کو اہمیت نہ دے اور عمر بھی حیران تھا کہ شاید اِس ایڈ سے اُس نے جو کمایا ہوگا وہ سب بڑی بے دردی سے اُڑا رہی تھی، پھر وہ دونوں ایک بہت مہنگے ریسٹورنٹ میں آ گئے۔ جہاں دُنیا جہان کا سیاح موجود تھا۔
’’اِس ریسٹورنٹ کا کھانا کھاؤ گے، تو دُنیا کی ساری کوزین بُھول جاؤ گے۔ میں جب بھی دُبئی آتی ہوں، یہاں ضرور آتی ہوں۔ اِس بار تمہارا اِنتظار کر رہی تھی کہ تم آؤ تو تمہیں لے کر آؤں۔‘‘ اُس کی ہمراہی میں وہ بچوں کی طرح خوش تھی۔ ایک لمحے کو عمر کو اُس کے خوب صورت چہرے پر ایسی چھوٹی سی بچی کی سی خوشی نظر آئی جو پہلی بار اپنے کسی من پسند تحفے کو دیکھ کر آنکھیں چمکا رہی تھی۔ وہ واقعی بہت خوش تھی۔ ریسٹورنٹ میں بہت شور تھا۔ کھانا آنے میں تھوڑا ٹائم لگا۔ ایمان نے اپنے لیے عربک پلیٹر اور اُس نے لبنانی پلیٹر منگوایا۔ جو دونوں نے ہنستے بولتے ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرکے کھایا اور ساتھ ہی شیشہ بھی پیا۔ اِسی دوران ایمان نے اُس کی اور اپنی کئی سیلفیاں بھی لیں او ر ایک ویڈیو بھی بنائی۔ وہاں سے اُٹھ کر واپس ہوٹل جانے کا کوئی پروگرام نہ تھا۔ وہاں سے وہ دونوں پام الجمیرہ کے ساحل کی طرف گئے۔ وہ جانتی تھی کہ آج پورے چاند کی رات ہے اور آج اتنے خوب صورت ماحول میں دِل کی بات بآسانی کہی جا سکتی ہے۔ ساحل کا پُرسکون ماحول ایمان کے دِل کی دھڑکنوں کو ایک الگ ہی ردھم دے رہا تھا۔ وہ کافی دیر عمر کا ہاتھ پکڑے خوب صورت ساحل کی پٹی پر چلتی رہی۔ پھر ایک جگہ بنچ پر اُس کا ہاتھ پکڑ کر بیٹھ گئی۔
’’کیا ہوا، تھک گئی…؟‘‘
’’ہاں! تھک تو میں گئی ہوں اور اب چاہتی ہوں کہ کہیں آرام سے ایک گھر کے کونے میں بیٹھ جاؤں اور ساری عمر کسی کی خدمت کروں۔‘‘ وہ کُھل کر کچھ نہیں کہنا چاہتی تھی۔
’’کیا مطلب…؟‘‘ عمر سمجھ کر بھی اَنجان بن رہا تھا یا شاید اُسے ایمان جیسی پروفیشنل لڑکی سے قطعاً اِس بات کی توقع نہیں تھی۔ ایسی خواہشات کے باغ تو شاید مڈل کلاس لڑکیوں کی آنکھوں میں بستے ہیں۔ مطلب صاف ظاہر ہے میں اب اِس زندگی سے تنگ آگئی ہوں۔ چھوڑنا چاہتی ہوں یہ سب۔ گھر بسا کر کسی ایک شخص کے ساتھ پوری زندگی بسر کرنا چاہتی ہوں۔ وہ اپنی پوری شدّت کے ساتھ اُس کی طرف دیکھتے ہوئے کہہ رہی تھی اور ایک لمحے کو بے اِختیار ہی عمر کی ہنسی نکل گئی اور ایسا واقعی بے اِختیار ہی ہوا۔
’’کیا ہوا…؟ تم ہنس رہے ہو…؟ کیا میں نے کوئی لطیفہ سُنا دیا…‘‘ اُس کی ہنسی پر اُسے حیرانی کے ساتھ ایک عجیب سی وحشت سی ہوئی یا تو وہ خود اپنے حواسوں میں نہیں تھی یا وہ بے حواسی میں ہنس رہا تھا، حالاں کہ ایمان کا خیال تھا کہ اُس کی شدّتوں کے جواب میں وہ اُسے اپنی محبتوں کا یقین دِلائے گا اور اُس کی بات کی تائید میں اِظہار محبت کرے گا، لیکن معاملہ تو برعکس ہوا، جو یقینا ایمان کے لیے قابلِ یقین نہ تھا۔
’’اَرے یار! تم بھی اُن مڈل کلاس لڑکیوں جیسی سوچ رکھتی ہو۔ محبت کا تعلق کبھی دو بولوں یا کاغذ کے ٹکڑوں کا محتاج ہوا ہے۔ یہ تو ہم اِنسانوں نے خود کو ایک دوسرے کا قیدی بنانے کے لیے ایسے معاہدے ترتیب دیئے ہیں۔ ورنہ جب دو روحیں ایک دوسرے سے محبت کرتی ہیں تو بس ایک دوسرے کا ساتھ چاہتی ہیں۔ اُنہیں اِن سب سے بالاتر ہو کر ایک دوسرے کے ساتھ ہی رہنا چاہیے۔‘‘ اُسے ایمان کی آنکھوں میں اپنی ہنسی پر عجیب سا اِحساس نظر آیا تو اُس نے پوری چالاکی سے اپنی ہنسی کی وضاحت دی، جسے ایمان کے دِل نے ماننے سے اِنکار کر دیا۔
’’عمر آفندی! تم مردوں کے لیے یہ معاہدہ کسی قید نامے جیسا ہوگا، لیکن ہم عورتوں کے لیے پوری زندگی ہے۔ مذہب نے یہ معاہدے بنائے ہیں، تاکہ عورت کی زندگی کو محفوظ بنایا جا سکے۔ ورنہ پتھروں کے دَور کی عورت تو بِنا چھت کے زندگی گزارتی تھی، جسے جب چاہے، جو چاہے اپنی ملکیت بنا لے، جیسے کسی جانور کو پسند آنے پر گھیر کر اپنے باڑے میں باندھ دیا جاتا تھا۔ اِسی طرح پسند آنے پر عورتیں کسی بھی مرد کے گھر کی زینت بن جاتیں، جو تمہاری نظر میں فضول سا کاغذ کا معاہدہ ہے یہ کسی بھی عورت کے لیے قیدخانے کا معاہدہ نہیں، بلکہ اپنی چھت کے تحفظ کا اِحساس ہے۔‘‘
’’یار! کیا فضول سی باتیں لے کر بیٹھ گئیں۔ ہم یہاں گُھومنے پھرنے، عیش کرنے آئے ہیں اور تم اُنہی مخصوص مڈل کلاس عورتوں کی طرح گھر کی باتیں لے کر بیٹھ گئیں۔ کم از کم تم سے تو میں ایسی باتوں کی توقع نہیں کر رہا تھا۔‘‘ وہ بہت بور ہوا۔ اتنے خوب صورت ماحول میں جہاں خوامخواہ گناہ کرنے کو جی چاہتا ہے۔ وہاں یہ عورت اُس کا سارا موڈ خراب کر رہی تھی۔
’’عمر آفندی! ہر عورت کے دِل میں پہلا اور آخری خیال اپنے گھر کا ہوتا ہے اور ہماری جیسی عورتیں بھی گھر بساتی ہیں، کیوں کہ ہر عورت کی آخری پناہ گاہ اُس کا گھر ہی ہوتا ہے۔‘‘ اِس بار اُس نے یہ جملے بہت چبا چبا کر بولے۔
’’تم خود ہی بتاؤ ایسی آزاد اور خوب صورت زندگی سے الگ کسی قیدخانے میں بند ہو کر تمہیں کیسا لگے گا…؟ یہ سب جذباتی باتیں ہیں… بہت کم عورتیں قید خانوں میں مطمئن زندگی گزارتی ہیں۔‘‘
’’اگر مرد عورتوں سے تعاون کرنے والا ہو تو ہر عورت صرف ایسے قیدخانے میں ہی زندگی گزارنا پسند کرے، کیوں کہ وہ جانتی ہے قیدخانے سے باہر ہزار گِدھ اُس کو نوچنے اور کھانے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ تم نے تو ایک آزاد پرندے کی زندگی گزاری ہے۔ کبھی عورت کے دِل سے پوچھو اُسے کیا چاہیے۔ مجبوری میں جب عورتیں باہر نکلتی ہیں تو اُنہیں کیسے کیسے لوگوں کی باتیں اور گندی نظریں سہنی پڑتی ہیں، جو اُن کی روحوں پر ساری عمر کے زخم چھوڑ جاتی ہیں۔‘‘ وہ بہت دُکھی انداز میں بول رہی تھی۔
’’ہم یہاں یہ باتیں کرنے آئے ہیں…؟‘‘ اِس بار وہ جھنجھلا گیا تو ایمان نے بھی اُس سے صاف صاف بات کرنے کی ٹھان لی۔
’’ہاں! ہم یہاں یہ باتیں ہی کرنے آئے ہیں… مجھے کہنے دو عمر آفندی…! زندگی میں پہلی بار کسی سے محبت کر بیٹھی ہوں… اور وہ تم ہو… میں تمہارے ساتھ پوری زندگی گزارنا چاہتی ہوں۔‘‘ وہ اتنا کہہ کہ ہانپ گئی۔
جب کسی عورت کو مجبوری میں اپنے منہ سے خود اپنی محبت کا اِظہار کرنا پڑ جائے تو شاید وہ بھی ایسی ہی میلوں کی مسافت طے کرنے کے بعد کہہ پاتی ہے اور اِسی طرح ہانپ جاتی ہے۔ مرد تو جھوٹی محبت کا اِظہار بھی بہت آسانی سے اور بڑے شاطرانہ شاٹ کھیلتے ہوئے کر بیٹھتا ہے۔ ایک بار تو عمر آفندی ہکّا بکّا سا رہ گیا۔ وہ کم اَز کم ایمان کے منہ سے ایسے اِظہار کی توقع نہیں کر رہا تھا۔ وہ اب اپنے کیرئیر کے عروج پر تھی اور اچھا خاصا کما رہی تھی۔ یہ شادی یقینا اُس کے لیے اپنے کیرئیر کا اِختتام ثابت ہوتی۔‘‘
’’لیکن تم اِس وقت اپنے کیرئیر کے عروج پر ہو اور اِس شادی کے بعد تمہارا کیرئیر تباہ ہو جائے گا۔‘‘
’’ ” I don’t care…..ـ” مجھے اِس وقت ایک گھر کی ضرورت ہے۔ میرا اپنا گھر جہاں میں عزت سے اپنی باقی زندگی گزار سکوں۔‘‘ اُس کے لہجے میں آس تھی۔ پیاس تھی۔ ایک ایسی پیاس، جس سے ہر عورت کا خمیر گوندھا گیا ہے۔ اپنے گھر۔ اپنے گھروندے کی پیاس، جو شاید ایک بُری سے بُری عورت کے اَندر بھی کہیں نہ کہیں دبی کلبلاتی رہتی ہے۔ بے شک مجبوریاں اُسے دَر دَر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کریں، لیکن کہیں نہ کہیں ہر عورت میں ایک چھت کی خواہش موجود ہوتی ہے۔ اپنا گھر… اپنا شوہر… اپنے بچے… یہ ہر عورت کی خواہش ہوتی ہے اور اگر اُس وقت عمر سے ایمان ایسی خواہش کر رہی تھی تو کیا غلط تھا… غلط تو اُس وقت عمر نے کیا اُسے صاف صاف لفظوں میں اُس کی اوقات یاد دِلاتے ہوئے۔ اُس کے سر پر دھماکا کیا۔
’’ٹو بی ویر فرینک ایمان! شادی تو مجھے اپنے خاندان میں ہی کرنی ہے، کیوں کہ میں اپنے بابا کے فیصلے کے خلاف نہیں جا سکتا۔ اُن کی خواہش ہے کہ میںشادی خاندان میں کروں اور تم خود سوچو میرا تعلق ایک بہت شریف خاندان سے ہے۔ میرے باپ کی پوری سوسائٹی میں بہت عزت ہے۔ وہ ایک ماڈل سے میری شادی پر کسی صورت تیار نہیں ہوں گے۔‘‘ عمر نے بہت سنبھل سنبھل کر لفظوں کا چناؤ کیا، مگر ایمان کو ساری کہانی سمجھ آگئی۔
’’تم اتنے دِنوں سے مجھے بے وقوف بنا رہے تھے…؟‘‘
’’میں نے تمہیں کب بے وقوف بنایا…؟‘‘ اُس نے نظریں پھیر کر کہا۔
’’وہ محبت بھری بیٹھی میٹھی باتیں… بے قراریاں… مجھ سے ملنے دُبئی تک آ جانا… یہ سب کیا تھا عمر…؟ اِن سب باتوں نے مجھے ایک ایسی دُنیا میں پہنچا دیا تھا۔ جہاں صرف میں اور تم تھے۔ او مائی گاڈ! عورت کتنی بے وقوف ہوتی ہے۔ بُری عورت کے ساتھ وقت گزاری کرتے وقت تم لوگوں کو اپنے خاندان کی عزت یاد نہیں آتی۔ اگر اُس کے ساتھ زندگی گزارنی پڑ جائے… اُسے چھت دے کر اُس کا سائبان بننا پڑے… تو عزت یاد آ جاتی ہے… واہ…! دُنیا میں مرد سے زیادہ منافق کوئی مخلوق نہیں۔‘‘ اِس بار اُس کے لہجے میں دُنیا جہاں کی تلخی تھی۔ عمر کو بھی شدید غُصّہ آگیا۔
’’یار! عورت عورت میں بھی فرق ہوتا ہے۔ اپنے گھر کی چھت اُن عورتوں کو دی جاتی ہے، جو خاندانی ہوں، جن پر کبھی کسی غیر مرد کا سایہ بھی نہ پڑا ہو۔‘‘
ایمان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ صحیح تو کہہ رہا تھا۔ شریف عورتوں کو ہی گھر کی زینت بنایا جا تاہے۔ اُس جیسی عورتیں تو صرف غیر مردوں کا دِل بہلانے کے لیے ہوتی ہیں۔ اُس سے کتنی بڑی حماقت ہوئی۔ عمر آفندی کی میٹھی میٹھی باتوں پر ایمان لے آئی۔ اُس کی آنکھوں پر محبت کی کیسی پٹی بندھی کہ عمر کو اپنا سب کچھ سمجھ لیا۔ یہ نہیں سوچا کہ مردوں کا فرقہ بھی کبھی فطرتاً بدلا ہے۔ اُن کی فطرت تو روزِ ازل سے عورت کو صرف اپنی میٹھی میٹھی باتوں سے گھیرنے والی ہے۔ کام نکلنے پر تو کون؟ تو میں کون؟… اور یہاں بھی ایسا ہی تماشا لگنے والا تھا۔ عورت کا جسم حاصل ہونے کے بعد عورت مرد کے کسی کام کی نہیں رہتی۔ محبتوں کے چڑھتے بخار بہت جلد اُتر جاتے ہیں۔ نجانے وہ یہ زہر کھانے پر کیوں تیار ہو گئی تھی۔ شاید اپنے گھر کی خواہش فطرتاً اُسے اِس گناہ بھری زندگی سے دُور ہونے پر مجبور کرتی، لیکن کوئی ہاتھ تھامنے کو تیار ہی نہیں تھا۔ مرد عورت کے ساتھ گناہ میں برابر کا شریک ہوتا ہے، لیکن گناہ کے بعد دوبارہ پاکباز بن جاتا ہے۔ اُسے ایک پاکباز بیوی مل بھی جاتی ہے، لیکن عورت کا گناہ، اُس کی ساری عزت کو تارکول کی ایسی سیاہ سڑک بنا دیتا ہے، جو کبھی ختم نہیں ہوتی، جس کا کوئی اِختتام نہیں۔ کہیں نہ کہیں بُرائی کا حوالہ اُس کے آگے آ کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ اُس نے ڈبڈبائی نظروں سے عمر کی طرف دیکھا اور خاموشی سے کھڑی ہو گئی۔ بیگ شولڈر پر لٹکایا اور عمر سے کہا:
’’یہاں تمہارے ساتھ ایک سیلفی لینا چاہتی ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر موبائل آن کیا۔
’’دیکھو ایمان! جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں۔ تم اِس وقت جذباتی ہو کر سوچ رہی ہو۔ عقل مندی کا تقاضا ہے ہم ساری عمر دوست رہ سکتے ہیں۔ اِسی طرح چند اچھی شامیں اِن ساحلوں پر بسر ہو سکتی ہیں۔ تم بھی خوش، میں بھی خوش… کیا ضروری ہے شادی کا طوق اپنے گلے میں لٹکایا جائے…؟‘‘ عمر نے اُس کو ایک بار پھر سمجھانے کی ناتمام کوشش کی، لیکن اُس نے آگے بڑھ کر عمر کے شانے پر اپنا سر رکھا اور دوسرے ہاتھ سے موبائل کی سکرین اپنی طرف کرکے بٹن دبا دیا۔
’’تھینک یو! مجھے تمہارے ساتھ گزرا ہوا یہ دِن تا عمر یاد رہے گا … اور شاید تمہیں بھی… میں واپس ہوٹل جا رہی ہوں، اگر چلنا ہے تو آجاؤ، کیوں کہ میں بہت تھک گئی ہوں۔ آرام کرنا چاہتی ہوں۔‘‘ ہوٹل آکر اُس نے خود کو کمرے میں بند کر لیا۔ عمر نے اُسے اپنے کمرے سے کافی فون کیے، لیکن وہ اپنا موبائل آف کر چکی تھی۔ نیند کی گولی لینے سے پہلے اُس نے اپنی صُبح کی فلائٹ سے سیٹ بُک کروانی ضروری سمجھی۔ اتنی اَرجنٹ سیٹ ملنا مشکل تھا۔ اسی لیے اُس نے شیخ کو کال کرنا مناسب سمجھا۔ اب اُس کے لیے یہاں بچا ہی کیا تھا۔ ایک گولی کھا کر بھی اُسے نیند نہ آئی تو تین گولیاں اکھٹی کھائیں۔ تب کہیں جا کر سکون ملا۔ واقعی نیند نہ ہوتی تو دُنیا میں لوگوں کی خودکشیوں کا تناسب کہیں زیادہ ہوتا، کیوں کہ وہ بھی نیند نہ آنے کی صورت میں پوری بوتل حلق میں پھانک لینے کے بارے میں سوچ رہی تھی۔
٭……٭……٭……٭
اگلے دِن ہوٹل کے لابی کاؤنٹر سے عمر کو اُس کے واپس جانے کی خبر ملی۔ دروازہ ناک کرنے پر بھی ایمان کے کمرے کا دروازہ نہ کُھلا تو وہ فوراً نیچے آیا کہ معلوم کیا جا سکے کہ کیا مسئلہ ہے۔ وہ تو ایمان کی اِس حرکت پر حیران ہی رہ گیا۔ اُسے لگا رات کی بات سے وہ وقتی غُصّہ ہو گی اور دوسرے دِن وہ دونوں کہیں گُھومنے پھرنے کا پلان کر لیں گے، مگر وہ تو واپس جا چکی تھی۔
اچانک ہی اُس کے موبائل پر بابا کی کال آ گئی۔ عمر نے فون لینا ضروری سمجھا۔
’’ہیلو بابا! السلام علیکم!‘‘
’’وعلیکم السلام! … عمر! تم اِس وقت کہاں ہو…؟‘‘ اُن کی آواز میں بہت غُصّہ تھا۔
’’بابا! میں میٹنگ میں ہوں…‘‘
’’میں تمہیں ایک واٹس اپ کر رہا ہوں۔ ذرا دیکھو اور پھر دوبارہ مجھ سے بات کرو۔‘‘ اُن کا انداز اِتنا سخت تھا کہ وہ خود پریشان ہو گیا۔ اُس نے جلدی سے موبائل پر واٹس ایپ کھولا تو اُس کی اور ایمان کی دو تین تصاویر سامنے آگئیں۔ خاص طور پر یہ وہ تصاویر تھیں جن میں وہ اور ایمان ایک دوسرے کے بہت قریب تھے۔ کسی فیس بُک پیج پر اُس کے اور ایمان کے تعلقات اور دُبئی کے اِس ٹرپ کے بارے میں پوری رپورٹ موجود تھی۔
’’اُبھرتی ہوئی ٹاپ ماڈل ایمان کا ملک کے ایک بڑے سرمایہ دار کے بیٹے عمر آفندی کے ساتھ چکر۔ دونوں آج کل ایک دوسرے کی بانہوں میں بانہیں ڈالے دُبئی کے ریسٹورنٹس اور ساحلوں پر دیکھے جا رہے ہیں۔‘‘ اِس سے زیادہ عمر سے نہ پڑھا گیا۔ ایمان اپنا بدلہ اِس طرح بھی لے سکتی ہے۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ واقعی کسی نے صحیح کہا ہے عورت اور ناگن میں صرف اِسی وقت فرق ہوتا ہے جب تک دونوں کو چوٹ نہ پہنچائی جائے۔ خود کو چوٹ پہنچانے والے کو دونوں مشکل سے ہی بخشتے ہیں۔ اب کیا ہوسکتا تھا تیر تو کمان سے نکل چکا تھا۔ ویسے تو اُس کے کارنامے دُنیا بھر میں مشہور ہو چکے تھے، لیکن اُسے زیادہ فکر آفندی صاحب کی تھی، جو اب تک اُس کے کارناموں سے مکمل طور پر آگاہ نہیں تھے، لیکن آج بم پھٹا تو ایسے جو اُس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔
٭……٭……٭……٭
قیمتی ٹچ سکرین موبائل پر اُس کی اُنگلیاں بڑے محتاط انداز میں چل رہی تھیں۔ کبیر علی نے اُس کی خواہش پر دو دِن پہلے ہی یہ مہنگا موبائل دِلوایا تھا، جس پر اُس نے نئی سم ڈالی اور اُنہی کی ہدایت کے مطابق کچھ ایپس (Apps) بھی ڈاؤن لوڈ کر لیے۔ یہاں ایک الگ ہی دُنیا تھی۔ وہ پہلے سیما کے موبائل کو دیکھ کر للچاتی رہتی تھی۔ کئی بار سیمانے اُسے فیس بُک، اِنسٹا گرام اور دیگرا یپس کے بارے میں بتایا تھا۔ اب اُس نے یہ سب خود اپنے موبائل میں ڈائون لوڈ کر لیا تھا۔ اِنسان کو اچھائی کی نسبت بُرائی جلد سمجھ آجاتی ہے اور اُس وقت ایک نئی دُنیا اُس کے سامنے کُھل چکی تھی۔ ڈریس ڈیزائنر Pages… جیولری کولیکشن… گھر کی ڈیکوریشن کا سامان… آن لائن بزنس کی ایک نئی دنیا اُس کے سامنے کُھل گئی۔ اُس کی تو آنکھیں ہی کُھل گئیں۔ اُس نے چند مہنگے سوٹس کا آن لائن آرڈر کر دیا۔ ایک آدھ جیولری سیٹ بھی منگوایا۔ ثنا کو خوش ہو کر دِکھایا۔ ثنا تو یہ سب دیکھ کر حیران رہ گئی۔ یہ سب سامان کم از کم بیس پچیس ہزار کا بن رہا تھا، جو وہ بہت آرام سے منگوا رہی تھی۔
’’لیکن یار! یہ سب تو بہت مہنگا ہے…‘‘ وہ منہ پر ہاتھ رکھ کر بولی: ’’اور اِن pages میں زیادہ تر پیج فیک ہوتے ہیں… جو سامان منگوایا جائے وہ آتا بھی نہیں…‘‘
’’اب ایسا تو مت کہو۔ میں نے پہلی بار منگوایا ہے…‘‘ وہ بُرا مان گئی۔
’’میں سچ کہہ رہی ہوں یار! آرڈر کرنے سے پہلے تمہیں کم اَز کم مجھ سے یا بھائی سے مشورہ تو کر لینا چاہیے تھا…‘‘ اُس نے سمجھایا۔
’’تم کیا سمجھتی ہو میں اتنی آسانی سے بے وقوف بن جاؤں گی۔ میرے پاس عقل نہیں ہے۔‘‘ وہ ایک دَم ہتھے سے اُکھڑ گئی۔
’’اَرے نہیں سامعہ! میرے کہنے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ تم بے وقوف ہو۔ اگر مشورہ کر لیا جائے تو اچھاہوتا ہے۔ باقی تم خود سمجھ دار ہو۔‘‘ ثنا اُس کے غُصّے پر ایک دَم خاموش ہو گئی اور اُٹھ کر کمرے سے باہر جانے لگی تو پیچھے سے اُس نے سامعہ کی بُڑبُڑ اہٹ صاف سُنی۔
’’خود میرے میاں کے پیسے پر عیش کرتی رہیں تو کچھ نہیں… اب اگر میں خرچ کر رہی ہوں تو بُرا لگ رہا ہے… سب سمجھتی ہوں… اتنی بے وقوف نہیں ہوں میں…‘‘ ثنا کا دِل دُکھ کر رہ گیا۔ کتنا غلط سمجھتی ہے اُس کی دوست۔ شاید اب اُسے کسی پر اِعتبار نہیں رہا۔ ہر رشتہ اُسے جھوٹا لگ رہا تھا۔ وہ خاموشی سے کچن میں آگئی… جہاں دوپہر کی روٹیاں بنانی تھیں۔ روٹی بناتے بناتے ہوئے بھی وہ اُس کی تکلیف دہ بُڑبُڑاہٹ کے بارے میں ہی سوچتی رہی۔ بچپن سے لے کر اب تک اُس نے اپنی کتنی چیزیں اُس کے ساتھ شیئر کی تھیں۔ کپڑے، جوتے، جیولری… ثنا نے اُسے کئی بار اپنے نئے جوڑے پہلے اُسے پہننے کو دیئے، تاکہ اُس کے دِل میں کوئی اَرمان نہ رہ جائے۔ سامعہ نے بھی ثنا کی ہر چیز اپنا حق سمجھ کر بلاشرکت غیرے اِستعمال کی۔ آج وہ اُس پر یہ اِلزام لگا رہی ہے۔ اُس نے تو کبھی ایسی بات سوچی بھی نہ تھی، کیوں کہ وہ خود پیسا برباد کرنے کے حق میں نہیں تھی۔ اِسی لیے صرف اُسے سمجھانا چاہا۔ وہ تو غلط مطلب نکال بیٹھی۔ یااللہ! اُس کی بدگمانیوں کو ختم کر دے۔ بدگمان شخص دوسرے کا تونقصان کرتا ہی ہے، لیکن اپنی زندگی کے سکون کو بھی حرام کر لیتا ہے اور ایسے ہی اُس وقت سامعہ اتنے محبت کرنے والے رشتوں سے بدگمان ہو کر اپنی خوشیاں بھی برباد کر رہی تھی۔ وہ اُسے ایک معمولی سی بات سمجھ رہی تھی، لیکن اُسے اندازہ بھی نہ تھا کہ شام کو کبیر کے آنے پر سامعہ ثنا کی شکایت اُن سے بھی کرے گی۔
٭……٭……٭……٭
موبائل پر مصروف سامعہ نے جیسے ہی کبیر علی کو کمرے میں داخل ہوتے دیکھا فوراً بستر سے اُٹھ کر بیٹھ گئی۔
’’السلام علیکم!… کیا حال ہے…؟‘‘ کبیر علی نے خوش دِلی سے اُسے خود سلام کیا۔
’’وعلیکم السلام!‘‘ اُس نے بے دِلی سے جواب دیا اور دوبارہ فون پر مصروف ہو گئی۔ اُنہیں اُس کے موڈ کا فوراً اندازہ ہو گیا کہ بہت خراب ہے۔ ورنہ وہ ہر شام اُن کے آنے پر اچھے موڈ کا مظاہرہ کرتی یا کم از کم کرنے کی کوشش کرتی۔
’’اللہ خیر کرے… موڈکیوں خراب ہے…؟‘‘ بیگ صوفے پر رکھ کر وہ اُس کے پاس ہی آکر بیٹھ گئے اور آستینوں کو اُوپر کی طرف فولڈ کرتے ہوئے پوچھا۔
’’کوئی بات نہیں… میری طبیعت ٹھیک نہیں…‘‘ وہ ابھی بھی بے زاری سے بات کر رہی تھی۔
’’بھئی! طبیعت کو اچانک کیا ہوا…؟ کوئی دوائی وغیرہ لی…؟‘‘ وہ اِس بار اُس کی بات سُن کر پریشان ہو گئے اور ہاتھ لگا کر ماتھا چھوا۔
’’بخار تو نہیں ہے…‘‘
’’طبیعت خرابی کی بے شمار وجوہات ہو سکتی ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ بخار ہو تو تب ہی طبیعت خراب ہو۔‘‘ وہ بُرا سا منہ بنا کر بولی تو کبیر علی کو اندازہ ہو گیا کہ موڈ زیادہ ہی خراب ہے۔ انہوں نے اُس کا ہاتھ محبت سے تھاما اور پوچھا:
’’سچ مچ بتاؤ کیا ہوا…؟‘‘
’’کچھ نہیں! بس میں نے چند سوٹ آن لائن آرڈر کرلیے تھے۔ ثنا کو یہ بات پسند نہیں آئی۔ آپ بتائیں کہ کیا آپ کے پیسے پر میرا کوئی حق نہیں…؟ ساری عمر آپ ثنا کو اچھی سے اچھی شاپنگ کرواتے رہے۔ پہلی بار میں نے اپنی مرضی سے کچھ منگوا لیا تو بُرا لگ گیا۔‘‘ سامعہ نے منہ بنا کر بتایا۔
’’اَرے! اِس میں بُرا لگنے کی کیا بات ہے۔ تمہیں یقینا غلط فہمی ہوئی ہوگی۔ اُس نے کیا کہا تم سے…؟‘‘ اُنہیں واقعی ثنا سے یہ توقع نہ تھی۔ وہ تو بہت کُھلے دِل کی مالک تھی۔ پہلے بھی اپنے لیے اکثر اُن سے ضد کرکے جو چیز لیتی ۔ سامعہ کے لیے بھی ضرور لے لیا کرتی تھی۔
’’کچھ نہیں، بس اُسے قیمت پر اِعتراض ہو رہا تھا کہ اِتنا مہنگا کیوں لیا۔ میں نے بھی کہہ دیا بھئی میرے میاں کی کمائی ہے۔ اگر میں نے لے لیا تو کیا بُرا کیا…؟‘‘ وہ بہت معصومانہ انداز میں آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ کبیر علی تو بس اُس کے انداز پر نہال ہی ہو گئے۔ مرد کا دِل کتنا بڑا ہوتا ہے۔ اپنوں اور اپنے محبت کرنے والوں پر خرچ کرکے اُسے جو خوشی ملتی ہے، وہی خوشی آج اُن کے چہرے پر دیکھی جا سکتی تھی۔ سامعہ کے معصومانہ انداز نے اُنہیں نہال کر دیا۔
’’اَرے بالکل بُرا نہیں کیا… تمہیں اجازت ہے جب کچھ منگوانا ہو منگوا لو… بلکہ میں جلد ہی تمہارا اکاؤنٹ کھلوا دوں گا، تاکہ کریڈٹ کارڈ کے ذریعہ بآسانی شاپنگ کر سکو … اور کچھ…‘‘ انہوں نے سامعہ کے ہاتھ پر بوسہ دیتے ہوئے بہت پیار سے دیکھا اور کہا۔ سامعہ نے اُن کے ہاتھ تلے دبے اپنے ہاتھ کو آہستہ سے نکال لیا۔
’’بہت شکریہ! بس اب ذرا آرام سے ثنا کو بھی سمجھا دیجئے گا کہ میرے معاملے آئندہ نہ بولے۔ مجھے آپ کی طرف سے پوری اجازت ہے۔‘‘
’’اِس کی تم بالکل فکر مت کرو۔ آج کے بعد وہ تمہارے کسی معاملے میں نہیں بولے گی۔ بس اب تم جا کر اچھی سی گرم گرم چائے کا اِنتظام کرو۔ میں نہا کر نیچے امی کے پاس ہی آرہا ہوں۔ وہ اِنتظار کر رہی ہوں گی۔‘‘ انہوں نے واش روم کی طرف جاتے ہوئے ہدایت دی تو وہ بیڈ سے اُتر کر باہر نکل گئی۔ اُسے چائے کا کیا اِنتظام کرنا تھا۔ ثنا پہلے ہی ٹیبل پر سب سامان لگا چکی تھی۔
٭……٭……٭……٭
واپسی پر عمر آفندی کو بابا سے خوب ڈانٹ پڑی۔ انہوں نے اُسے اپنا آخری فیصلہ سُنا دیا۔ اِس مہینے کی آخر درخشاں آرہی ہے۔ میں نے تمہاری بات سیما سے پکی کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اتنی بڑی بات کے بعد تم کو کوئی اِعتراض ہوگا بھی نہیں۔‘‘ وہ ہر لفظ چبا چبا کر بول رہے تھے۔ اُن کا بس نہیں چل رہا تھا کہ جس طرح عمر نے اُن کی عزت کا جنازہ نکالا ہے۔ وہ مار مار کر اُس کا بھرکس نکال دیں۔ سوشل میڈیا کے اِس دَور میں اب تک یہ خبر لاکھوں لوگوں تک پہنچ چکی تھی۔ اُن کے اپنے احباب فون کرکے تصدیق کرنا چاہ رہے تھے۔ انہوں نے فون ہی بند کر دیا۔ اُنہیں خدشہ تو اِس بات کا تھا کہ عمر کی نانی اور سیما تک یہ خبر پہنچی تو گڑ بڑ ہو جائے گی۔ اُنہیں سیما، عمر کے لیے پسند تھی، لیکن جب سے اُس نے آفس سنبھالا اور عمر سے بہتر کام دِکھایا۔ وہ اُسے ہر حال میں اپنی بہو بنانا چاہتے تھے۔ اِسی لیے وہ آج اپنی ساس سے ملنے جا رہے تھے۔ اُنہیں یہ بھی فکر تھی کہ اِس خبر کے جواب میں اُنہیں کس طرح اپنے بیٹے کا دفاع کرنا ہے۔ وہ فیصلہ کرچکے تھے کہ اب عمر کو شادی کے بندھن میں باندھ دیں۔ مزید آزادی دی تو وہ اور گُل کِھلاے گا۔ شادی بیٹی کے یوکے سے آنے کے بعد مہینے کے آخرمیں ہو گی۔ عمر اُس وقت بُری طرح پھنس چکا تھا۔ ایک طرف اُس کا مستقبل تھا تو دوسری طرف باپ… اُس نے فیصلے کے خلاف اُنہیں سمجھانے کی ایک ناتمام سی کوشش کی۔
’’بابا! میری با ت تو سنیں…‘‘ آفندی صاحب نے ہاتھ اُٹھا کر اُس کی طرف دیکھا اور بولے:
’’یہ میرا آخری فیصلہ ہے… میں اب تمہیں اپنے پیسے پر عیاشیاں کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا… یہ میرا گھر ہے، جو میں نے بہت محنت کے بعد بنایا ہے۔ اگر کسی نے عیاشی اور اپنی مرضی کرنی ہے تو وہ یہاں سے جا سکتا ہے۔ مجھے کوئی اِعتراض نہیں۔ بس اخبار میں تم سے لاتعلقی کا ایک عاق نامہ شائع کرنا ہوگا۔ اِس کے بعد جب تم دَر دَر کی ٹھوکریں کھاؤ گے تو واپس مت آنا۔‘‘ اُن کے لہجے میں حرفِ آخر کا اِستحکام دیکھ کر عمر کی ہمت ہی نہ ہوئی کہ آگے کوئی اور بات کر سکے۔
’’اگر میرا فیصلہ قبول ہے تو شام کو تیار رہنا۔ نانو بی کے گھر جانا ہے۔ درخشاں سے میری بات ہو چکی ہے۔ اُسے بھی اِس رشتے پر کوئی اِعتراض نہیں۔ میرے خیال میں تمہیں بھی اِعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ بے شک اِدھر اُدھر کتنے منہ مارو، مگر شادی اپنے ہم پلّہ لوگوں میں ہی کی جاتی ہے۔ سیما سے زیادہ تمہارا جوڑ اور کسی کے ساتھ نہیں۔ بس اب میں اور کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ تم جا کر آرام کرو۔ شام کو تیار ہو کر نیچے آجانا۔‘‘ وہ اپنا فیصلہ سُنا کر جا چکے تھے۔
وہ کچھ کہنے لائق نہ تھا۔ ایمان نے اُسے کسی لائق چھوڑا بھی نہ تھا۔ وہ آج تک بہت بچ بچ کر کھیلتا رہا، لیکن اُسے اندازہ نہ تھا کہ اِس بار اُس کا پالا ایک ایسے گھاک کھلاڑی سے پڑا تھا، جس نے پہلی بال پر ہی اُسے چت کر دیا۔ اُس سے وابستہ پچھلی لڑکیاں جب اندازہ کر لیتی تھیں کہ وہ اُن سے صرف فلرٹ کر رہا ہے اور زیادہ گرم جوشی نہیں دِکھا رہا تو خود بہ خود الگ ہو جاتی تھیں۔ یہ پہلی بار تھا کہ وہ الگ تو ہوئی، لیکن اپنے انداز میں اُسے ایک سبق پڑھا گئی۔ سارے زمانے میں بدنام کر گئی۔ آج اُسے معلوم ہوا کہ عزت صرف عورت کی نہیں، مرد کی بھی ہوتی ہے۔ اگر وہ سمجھے تو… اُس کی وائیرل ویڈیو اور سلفیاں جب بابا اور اُن کے جاننے والوں نے دیکھی ہوگی تو کیا سوچا ہوگا…؟ شاید اُس کے لیے یہ سب کوئی انوکھی بات نہیں تھی۔ جہاں سب چلتا ہے کہہ کر کندھے اُچکا دیئے جاتے ہیں۔ وہ نئی نسل تھی، لیکن اُس کا باپ بزنس طبقے میں ایک مقام رکھتا تھا۔ اُن کی تو عزت تھی اور عمر کی وجہ سے وہ عزت خراب ہو رہی تھی۔ وہ کچھ کہنے لائق نہ رہا تھا، بلکہ اُن کی بات ماننے پر مجبور تھا۔ اُسے اچھی طرح معلوم تھا کہ اُس کا باپ ایک بار جو بات کہہ دیتا ہے۔ اُس سے پیچھے نہیں ہٹتا۔ اِسی لیے بحث کرنا فضول ہے اور پھر عمر کے لیے عاق کرنے کی دھمکی ہی کافی تھی۔
٭……٭……٭……٭
’’سیما! ابھی تمہارے خالو جان کا فون آیا تھا۔‘‘
’’کیوں…؟‘‘ سیما نے پاؤں میں کیوٹکس لگاتے لگاتے ایک دَم سر اُٹھا کر پوچھا۔
’’وہ شام کو آنا چاہ رہے ہیں۔‘‘
’’نانو بی! میں نے کل رات کو ہی فیصلہ سُنا دیا تھا۔ میں عمر سے شادی نہیں کر سکتی۔‘‘ وہ دِل پر پتھر رکھ کر بولی، حالاں کہ دِل ابھی بھی اُس دُشمنِ جان کے لیے ترس رہا تھا، لیکن عمر اور ایمان کی تصاویر دیکھنے کے بعد اُس نے فیصلہ کر لیا کہ بس اب بہت ہو گیا۔ عمر نہیں سُدھرنے والا۔ یہ تو حد ہوگئی۔ آج اتوار تھا۔ وہ نہا دھو کر بیٹھی تو نانوبی نے یہ خبر سُنائی۔ کوئی اور موقع ہوتا تو وہ چھلانگیں لگاتی، لیکن اُس وقت نانو بی کی بات سے اُسے کوئی خوشی نہ ہوئی۔ اُس نے رات میں نانو بی کو بھی عمر اور ایمان کی تصاویر دِکھائی تھیں، تو انہوں نے اُسے بہت لائٹ لیا۔
’’بیٹا! آج کل کے لڑکے یہ سب fun کے طور پر کرتے ہیں۔ شادی ہوتی ہے تو سب بدل جاتے ہیں۔‘‘ انہوں نے سمجھایا۔
’’پہلے میں بھی یہی سمجھتی تھی کہ وہ بدل جائے گا، لیکن بات بہت بڑھ چکی ہے۔ عمر کو جتنا میں سمجھتی ہوں کوئی اور نہیں سمجھتا۔ آپ اُنہیں منع کر دیں۔ میرا ابھی شادی کا کوئی موڈ نہیں۔‘‘ اُس نے رات کو ہی سختی سے منع کر دیا تھا، لیکن اب پھر وہی راگنی۔
’’دیکھو بیٹا! جیسے تم مجھے پیاری ہو، ویسے ہی وہ بھی… میری ہمت نہیں ہو رہی اُنہیں منع کرنے کی۔ میں نے اُنہیں کہہ دیا کہ آ کر تم سے خود ہی بات کر لیں۔ میں نے اُنہیں نہیں بتایا کہ تم نے اِنکار کر دیا، بلکہ تم پر چھوڑ دیا۔ ویسے بھی پہلے ہر بار میں نے اُنہیں تمہاری اور عمر کی شادی کے لیے اِصرار کیا اور اب اِنکار کیسے کروں۔‘‘
’’نانو بی! اِنکار کی بہت واضح وجہ ہمارے پاس ہے، لیکن آپ چھوڑیں، میں خود عمر اور خالو جان سے بات کر لوں گی۔‘‘ باہر نکلنے کے بعد سیما میں کافی اعتماد آگیا تھا۔ اِس اِعتماد کے پکے رنگ نانو بی اُس کے چہرے پر دیکھ رہی تھیں۔ وہ صحیح کہہ رہی تھی کہ اِنکار کی واضح وجہ اُس کے پاس تھی، مگر مجبور تھیں کیوں کہ اُنہیں سیما کے لیے عمر سے بہتر کوئی نظر ہی نہیں آتا۔ اُن کے خیال میں لڑکے تو جوانی میں ایسی حرکتیں کرتے ہی ہیں۔ شادی کے بعد سب میچور ہو جاتے ہیں۔
’’ہاں! واقعی لڑکے شادی کے بعد اپنی اِنہی حرکتوں میںمیچور ہو جاتے ہیں۔ پہلے جو حرکتیں کُھلم کُھلا کرتے ہیں۔ شادی کے بعد چُھپ کر کرتے ہیں، تاکہ بیوی کو پتا نہ لگے۔‘‘ وہ چِڑ کر بولی۔
’’تم اِس معاملے میں جذباتی ہو رہی ہو۔ تھوڑی دیر کے لیے ٹھنڈے دماغ سے سوچو۔ شام کو عمر بھی آرہا ہے۔ میرے خیال میں تم دونوں تھوڑا ٹائم ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر بات کرو۔ اگر وہ تمہیں یا تم اُسے قائل کر پاؤ تو ٹھیک ہے۔ ورنہ میں یا تمہارے خالو جان تمہیں مجبور نہیں کریں گے۔ ہم تو اپنی زندگی گزار چکے۔ اب تمہیں اپنی زندگی کے بارے میں خود فیصلہ کرنا ہے۔ اگر دِل میں اِبتداء سے ہی ایک دوسرے کے لیے گنجائش نہ ہو توساری عمر کیسے گزارہ کرو گے…؟‘‘ وہ یہ کہہ کر وہاں سے اُٹھ گئیں، لیکن سیما کے سوچنے کے لیے ایک راہ چھوڑ گئیں۔ یہ وہ راہ تھی جو صرف عمر کے دِل تک جاتی تھی۔ بچپن سے اب تک عمر کی محبت اُس راہ کے ذریعے ہی پہنچی تھی۔ وہ ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گئی۔
٭……٭……٭……٭
شام کو خالو جان نے نانوبی کی اجازت سے عمر اور سیما کو باہر بھیج دیا، تاکہ وہ ایک دوسرے سے بآسانی بات چیت کر سکیں۔ راستے بھر عمر خاموش رہا۔ وہ ایک ریسٹورنٹ پہنچے تو عمر نے کافی آرڈر کر دی۔ اُس کا خیال تھا کہ وہ اپنی اِس حرکت پر اُس سے معافی مانگے گا، لیکن عمر نے اُس سے دو ٹوک بات کی۔
’’دیکھو سیما! میں جانتا ہوں تمہیں میری اور ایمان کی وائرل ہونے والی ویڈیو کے بارے میں علم ہے، مگر ایمان جیسی عورتیں مردوں کی زندگی میں آتے جاتے موسم ہوتی ہیں۔ شادی وہ صرف اُس عورت سے کرتا ہے، جسے وہ اپنے قابل سمجھتا ہے۔ یقین کرو میری زندگی میں تم سے زیادہ قابل لڑکی ہو ہی نہیں سکتی۔ میں تمہیں بچپن سے جانتا ہوں۔ تم جیسی معصوم اور سادہ لڑکی میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھی، جس کی شرافت کا زمانہ گواہی دے۔‘‘ وہ کیا کہہ رہا تھا سیما کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اُس کی بات پر خوش ہو یا حیرانی کا اِظہار کرے۔ اُس کے لیے اپنے بارے میں ایسے جملے سُننے کی وہ زمانے سے طلب گار تھی۔ آج وہ اُس کی تعریف کر رہا تھا تو وہ بس یک ٹک اُسے دیکھے جا رہی تھی۔ وہ اپنے اندر کے گھاک کھلاڑی کو مکمل آزما رہا تھا۔ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ کوئی لڑکی اُس کے جملوں سے متاثر نہ ہو، مگر اِ س بار کھیل اُس کے مستقبل کا تھا… آر یا پار… اُسے بہرحال سیما سے ہی شادی کرنا تھی ورنہ جائیداد سے ہاتھ دھونا پڑتے۔ اِسی لیے اُسے اپنے ہر ہتھیار کو آزمانا تھا۔ کافی ختم ہونے تک وہ اُسے رام کر چکا تھا۔ اپنی پسندیدگی کے ایسے ایسے چُھپے گوشوں کو بے نقاب کر چکا تھا کہ وہ حیران تھی اور یقین کر چکی تھی کہ وہ واقعی اُس سے بہت محبت کرتا ہے۔ یہ سب تو آنی جانی لڑکیاں تھیں۔ وہ ہمیشہ اُس کے دِل اور گھر میں رہے گی۔ کچھ لوگ اپنی زبان کا کھاتے ہیں۔ دوسروں کو اپنی باتوں سے رام کرنے کا ہنر اُن کی گُھٹی میں پڑا ہوتا ہے اور اُس کی گُھٹی بھی اِنہی جُھوٹی سچی باتوں کو ملا کر چٹائی گئی تھی۔ جس نے اُسے جھوٹ کے میدان کا ماہر کھلاڑی بنا دیا۔ ایسا ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ وہ اپنی بات کا یقین دِلائے اور سامنے والے کو یقین نہ آئے۔ یقین کرنے والا بھی وہ جو ہمیشہ اُس پر یقین کر لیتا تھا اور اِس بار تو یقین کئی گنا زیادہ تھا۔
٭……٭……٭……٭
دونوں کی بات پکی ہو گئی۔ سیما کی آنکھوں میں جلنے والے محبت کے دیپ نانو بی کو پُرسکون کرگئے۔ شادی درخشاں کے آنے پر طے کی گئی، جسے جلد ہی آنا تھا۔ نانو بی نے سیما کے لیے بہت کچھ جوڑ رکھا تھا۔ پھر بھی نئے کپڑوں اور دیگر گھریلو اشیاء کی شاپنگ شروع ہوگئی۔ روزانہ نانی نواسی آفس کے بعد شاپنگ کے لیے نکلتیں، گُھومتی پھرتی اور چیزیں خریدتیں۔ نانو بی نے اُس سے کہا بھی کہ وہ اب آفس جانا بند کر دے تو اُس نے جواب دیا کہ شادی کی ڈیٹ فکس ہوتے ہی وہ پہلا کام یہی کرے گی۔ فی الحال گھر بیٹھ کر وہ کیا کرے…؟ پھر درخشاں کے آنے پر تاریخ طے کر دی گئی۔ وہ بہت خوش تھی کہ عمر نے اپنی شادی کا فیصلہ کر لیا۔ ایک بہن ہونے کے ناطے اُس کی دِل پھینک طبیعت سے وہ اچھی طرح واقف تھی۔ وہ اُس کی نت نئی دوستیوں کی گواہ تھی۔ وہ اکثر اُسے سمجھاتی رہتی، لیکن شادی کے بعد لمبی دوریوں سے دونوں کے درمیاں رابطے کم کم ہی تھے اور جب آفندی صاحب نے اُسے ایمان اور عمر کے اسکینڈل کے بعد اپنے فیصلے سے آگاہ کیا تو وہ ایک لمحے کو حیران سی رہ گئی۔ وہ جانتی تھی عمر سیما سے شادی نہیں کرنا چاہتا تھا، مگر اِس واقعے کے بعد وہ ایسے جال میں پھنس چکا تھا کہ باپ کی بات نہ مان کر اتنی بڑی جائیداد سے ہاتھ دھونا نہیں چاہتا تھا۔ اِسی لیے یہ کڑوا گھونٹ فی الوقت پینے پر راضی ہو گیا۔
٭……٭……٭……٭
درخشاں نے جہاز سے اُترتے ہی مبارک باد دی تو وہ غُصّے میںآگیااور عجیب سی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا:
’’تم سمجھتی ہو میں نے یہ فیصلہ دِل سے کیا ہے…؟‘‘
’’ہاں! وہ تو میں جانتی ہوں… تم تو پہلے بھی اُس سے شادی پر تیار نہ تھے، لیکن اب پھنس گئے ہو تو یہ طوق گلے میں پہننا ہی پڑے گا۔‘‘
’’لیکن میرے خیال میں اتنا بُرا طوق بھی نہیں…‘‘ اُس نے جانچتی ہوئی نظروں سے عمر کو دیکھا تو عمر نے اُس کی بات پر جھلّا کر کہا۔
’’عمر آفندی کے دِل کو چُھونے والی ابھی تک ملی ہی نہیں، جس دِن ملے گی۔ سب سے پہلے گلے سے مجبوری کا یہ طوق اُتار پھینکوں گا۔ بابا نے عاق کرنے کی دھمکی دے دی تھی۔ ورنہ میں دیکھتا کہ یہ شادی کیسے ہو سکتی تھی…؟‘‘
’’یار! وہ اتنی بھی بُری نہیں اور پھر گھر کی دیکھی بھالی ہے۔‘‘ وہ بھی جھلّا سی گئی۔ ماں کے مرنے کے بعد اُس نے بڑی بہن ہونے کے ناطے ہمیشہ عمر کو سنبھالنے کی کوشش کی، لیکن شادی کے بعد اتنی دُوری نے پچھلے چند سالوں میں عمر کو بہت تبدیل کر دیا تھا۔ اُس کی کمپنی بگڑ گئی… وہ خود بگڑ گیا… ورنہ پہلے اُس کی سوچ ایسی نہ تھی۔ عورت کی عزت کرنے والا شخص تھا۔ اب وہ صرف عورت کو ایک کھلونا سمجھ رہا تھا۔ اپنی پسند کا نہ ملا تو توڑ دیا یا اُٹھا کر پھینک دیا۔
’’آج مرد کو گھر میں رہنے والی اور سر جُھکانے والی ستی ساوتری کی ضرورت نہیں، بلکہ ایک ایسی عورت چاہیے، جس پر اُس کا دِل ٹھہر جائے، جس سے محبت ہو تو اُس کی ہر بات مانی جائے۔ ہر جگہ اُسے اپنے ساتھ ساتھ رکھنے کا دِل کرے اور ٹوبی ویر فرینک! یہ سیما ٹائپ لڑکیاں کبھی میرے دِل کو چُھو کر بھی نہیں گزریں۔ تو باقی زندگی میں اُسے اپنے پہلو میں کیسے برداشت کر سکتا ہوں…؟‘‘
’’جب ایک عورت کو دِل سے قبول نہیں کر رہے تو شادی کیوں کر رہے ہو…؟ اپنے مطلب کے لیے تم اُسے کیوں خراب کر رہے ہو…؟‘‘ وہ زور سے چلائی۔
’’میںکیا کروں، سخت دبائو تھا نانوبی اور بابا کا، ورنہ میںکبھی ہامی نہ بھرتا۔ اب بھی یہی کہتا ہوں کہ جب اپنی پسند کی لڑکی ملی میں اُس سے شادی کر لوں گا۔‘‘ وہ گاڑی چلاتا ہوا کندھے اُچکاکر بولا تو درخشاں کو سیما کی قسمت پر ترس آنے لگا۔
’’میں بابا کو سمجھاتی ہوں… وہ زبردستی یہ شادی مت کریں۔ اِس طرح سیما کی زندگی خراب ہو جائے گی۔‘‘ وہ بھائی سے زیادہ سیما کے لیے فکر مند تھی۔
’’وہ سمجھیں گے کہ میں نے تمہیں اِس شادی سے اِنکار کرنے کے لیے کہا ہے اور نتیجتاً کل وہ ایک عاق نامہ میرے ہاتھ میں تھما کر اِس جائیداد سے چلتا کر دیں گے۔ عمر نے کار کو بریک لگائے۔ کار جھٹکے سے رُک گئی تو کیا ایک بد نصیب جو تم سے شدید محبت کرتی ہے اُس کی قسمت خراب کرو گے۔ تم نہیں جانتے عمر ایک اچھی اور سچی عورت کے لیے نکا ح کے چند بولوں میں ہی پوری زندگی چُھپی ہوتی ہے۔ تم مردوں کے پاس تو ایک چھوڑ چار شادیوں کا اِستحقاق ہے، لیکن عورت بہت مجبوری میں دوسری شادی کا سوچتی ہے۔ ورنہ تمام عمر ایک مرد کے نام پر بیٹھی رہتی ہے۔‘‘
’’پلیز یار! تم میری بہن ہو کر اُس کی وکالت مت کرو۔ جیسا چل رہا ہے، چلنے دو۔ مجھے دیکھنا ہے کہ آگے کیا ہوتا ہے۔‘‘ عمر نے ہاتھ اُٹھا کر اور پھر ہاتھ جوڑ کر بہن سے کہا اور پھر کار آگے بڑھا دی ۔ وہ جانتی تھی کہ یہ حد ہے، اِس سے آگے بھائی سے مزید کچھ کہنا یا اُسے سمجھانا مشکل ہے۔
٭……٭……٭……٭
ثنا نے یونی ورسٹی جانا شروع کر دیا تھا، چوں کہ یونی ورسٹی کبیر علی کے راستے میں نہ تھی تو اُس نے یونی ورسٹی پوائنٹ سے جانا شروع کر دیا۔ اماں کو دوائی اور ناشتہ دے کر وہ بھائی اور بھابھی کا ناشتہ بھی بناتی اور کچن میں ہی ہاٹ پاٹ میں رکھ کر نکل آتی۔ شادی کے دو ماہ گزرنے کے بعد بھی سامعہ نے گھر کے کاموں میں اُس کا ہاتھ بٹانا شروع نہیں کیا تھا۔ یونی ورسٹی سے واپسی پر روٹیاں بناتی۔ سالن وہ رات کو ہی بنا لیا کرتی تھی، تاکہ اماں کو دوپہر میں کوئی پریشانی نہ ہو۔ وہ سامعہ سے یہ بھی نہیں کہہ سکتی تھی کہ دوپہر کو روٹیاں ہی بنا لیا کرے۔ کبیر نے بہت پیار سے اُسے سمجھا دیا تھا کہ سامعہ کے کسی کام میں مداخلت نہ کرے اور نہ ہی اُسے کوئی مشورہ دے۔ اِبتداء میں اُس کی کلاسز ایک بجے ہی ختم ہو جاتیں۔ وہ بھاگی بھاگی پوائنٹ پکڑتی اور آدھے گھنٹے میں گھر۔ اماں اُسی کا اِنتظار کر رہی ہوتیں۔ وہ جلدی جلدی کپڑے بدل کر روٹیاں بناتی اور اوپر انٹر کام سے سامعہ کو اِنفارم کر دیتی کہ کھانا تیار ہے آجاؤ… اگر سامعہ کا موڈ ہوتا تو اُتر آتی اور اگر موڈ نہیں ہوتا تو فریج میں رکھی ہوئی ہزاروں نعمتوں سے کچھ نہ کچھ نکال کر کھا لیتی۔ آج کل اُس کا زیادہ تر وقت فیس بُک یا اِنسٹاگرام پر گُزرتا، جہاں اُس نے اپنا اکاؤنٹ بنا لیا تھا۔ اُس پر اپنی ایک خوب صورت طرح دار تصویر بھی لگا لی، جس پر بہت likes اور فرینڈ ریکوئیسٹ بھی آئیں۔ اُس نے خوشی خوشی قبول کر لیں۔ اپنی روزانہ کی نت نئی لی گئی وہ اکثر سیلفیاں اپنے اکاؤنٹ پر لگانے لگی۔ اُسے مزہ آرہا تھا۔ جب لوگ اُس کی تعریف کرتے اور پھر’’چشمِ بددور‘‘، ’’ماشاء اللہ‘‘ ، ’’کیا بات ہے‘‘ جیسے کمنٹس اور ہارٹ کے ایموجی اُس کے اندر نہ جانے کیسی محرومیوں کو پُر کر رہے تھے۔ لگتا ہی نہ تھا یہ حاجی مظہر کی بیٹی ہے، جس کے سر کا ایک بال بھی پہلے کبھی کسی غیر نے نہیں دیکھا تھا۔ واقعی کسی نے صحیح کہا ہے کہ عورت کے مستقبل کا فیصلہ اُس کی زندگی میں آنے والا مرد کرتا ہے۔ اگر وہ مرد اُس سے محبت کرتا ہو تو شاید اُس کی محبت میں یا تو دونوں آنکھیں مکمل طور پر بند کر لیتا ہے یا اپنی تیسری آنکھ بھی کُھول کر شک کی راہ پر چلنے لگتا ہے۔ کبیر علی تو اُس پر کسی قسم کا شک بھی نہیں کر سکتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ وہ ایک شریف خاندان کی بیٹی ہے۔ جیسی اُس کی ماں اور بہن وفا شعار ہیں۔ اِسی طرح اُن کی بیوی بھی کبھی کوئی غلط کام نہیں کر سکتی، لیکن یہ اُن کی بھول تھی۔ عورت کی نفسیات کو مکمل سمجھنے کا دعویٰ رکھنے والے مرد بھی اکثر عورت کے بدلے ہوئے روپ پر حیران رہ جاتے ہیں۔ کبھی کبھی شریف عورت بھی ایسا پینترا بدلتی ہے کہ ساری نفسیات دھری کی دھری رہ جاتی ہے اور واقعی وہ جس طرح کی چیزوں کو اپنا رہی تھی، اپنا پُرانا معصوم روپ کھو رہی تھی۔ اِبتداء میں کبیر علی کے لیے سمجھنا مشکل تھا۔ اکثر رات کو کسی پہر اُٹھتے تو سامعہ کے ہاتھ میں موبائل ہوتا، لیکن اُن کے ذہن میں بھی نہ آتا کہ وہ اُس وقت فیس بُک پر اپنی سیلفیوں کی تعریف میں ہارٹ والا ایموجی بھیج رہی ہے یا اِنسٹاگرام پر اپنی نئی سیلفی لگا رہی ہے۔ وہ کروٹ بدل کر سو جاتے۔ اِسی میں اُس کو نیند بھی لیٹ آتی اور پھر نتیجتاً وہ صُبح لیٹ اُٹھتی۔ کبیر علی ناشتہ کر کے جا چکے ہوتے۔ آج ثنا کی پہلی کلاس ہی آٹھ بجے تھی اور وہ لیٹ ہو رہی تھی۔ اماں کو ناشتہ او ردوائی دینے کے بعد اُس کے پاس خود ناشتہ کرنے کا وقت نہ تھا۔ اماں کو بتا کر کہ لیٹ ہونے کی وجہ سے بھائی بھابھی کا ناشتہ نہیں بنا سکتی۔ وہ چادر اوڑھ کر جلدی سے باہر نکل آئی۔ کبیر علی تیار ہو کر نیچے آئے تو کچن میں ثنا موجود نہ تھی۔ انہوں نے کمرے میں آ کر اماں کو سلام کیا تو انہوں نے بتایا کہ ثنا لیٹ ہور ہی تھی، اِس لیے ناشتہ نہ بنا سکی۔ وہ اُن کے ہاتھ پر بوسہ لے کر ’’اور کوئی بات نہیں‘‘ کہہ کر باہر نکل آئے۔ سلمیٰ بیگم کُڑھ کر رہ گئیں کہ آج پہلی بار اُن کا بیٹا اور بیٹی بغیر ناشتے کے گئے۔ گیارہ بجے جب سامعہ نیچے اُتر کر آئی اور ہاٹ پاٹ میں پراٹھے اور آملیٹ نہ ملا تو وہ خالہ کے کمرے میں آگئی۔ وہ اُس کا ہی اِنتظار کر رہی تھیں۔
’’السلام علیکم خالہ…!‘‘
’’وعلیکم السلام! آؤ بیٹھو…‘‘ اُنہوں نے ہاتھ میں پکڑی قرآن کی تفسیر ایک طرف رکھی اور اُسے پاس ہی بٹھا لیا۔ وہ آج اُس کو سمجھا نا چاہتی تھیں۔
’’وہ ناشتہ……‘‘ سامعہ نے کچن کی طرف اِشارہ کر کے کہا۔
’’ہاں! آج ثنا لیٹ ہو گئی تھی… خود بھی ناشتہ نہ کر سکی اور کبیر بھی بغیر ناشتہ کیے گیا۔‘‘
’’دیکھو بیٹا! اب تمہاری شادی ہو گئی ہے۔ کبیر اب تمہاری ذمہ داری ہے۔ اُس کا کھانا پینا، کپڑے اور جوتے ثنا کی نہیں اب تمہاری ذمہ داری ہے۔‘‘ اِتنی سی بات سامعہ کو آگ سی لگا گئی۔ اُسے لگا کہ خالہ اُس کی کوتاہیوں کو جتا رہی ہیں۔ اگر وہ جتا بھی رہی تھیں تو غلط نہیں تھیں۔ وہ واقعی اُس کا میاں تھا۔ اُس کی تمام تر خواہشات اور ذمہ داریوں کو پورا کر رہا تھا تو کیا وہ اُس کی کھانے پینے، کپڑوں اور جوتوں کی ذمہ داری بھی نہیں اُٹھا سکتی تھی… لیکن بدگمانی تو شروع سے ہی اُس کی فطرت تھی۔ اُسے لگا خالہ کہہ رہی ہیں کہ بی بی اب تم اپنا ہانڈی چولہا الگ کر لو۔ یہ میری اور میری بیٹی کی ذمہ داری نہیں اور واقعی سلمیٰ بیگم کو کبھی کبھی اپنی بیٹی پر ترس بھی آتا۔ بہت چھوٹی عمر میں ہی اُن کی بیماری کی وجہ سے ثنا نے کچن سنبھال لیا تھا۔ وہ اُنہیں چولہے کے پاس جانے نہیں دیتی۔ شوگر لو ہونے کی وجہ سے کہیں وہ کسی بڑے حادثے کا شکار نہ ہو جائیں، لیکن اب وہ خود چاہتی تھیں کہ اُس کی ذمہ داریاں بھی کم ہوں، تاکہ وہ پورا دھیان اپنی پڑھائی پر دے سکے۔ کل کلاں کو اُس کی شادی ہوئی تو پھر سارا گھر تو سنبھالنا ہی پڑے گا۔
’’جی خالہ! آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں…‘‘ اُس نے خاموشی سے اُن کی بات سُن کر سر جُھکایا اوراُٹھ کر باہر آگئی۔ سلمیٰ بیگم کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ اُس کی خاموشی اِتنی خطرناک ہوگی۔ اُس نے ناجانے کبیر علی سے کیا کہا کہ انہوں نے شام کو ثنا کو منع کر دیا کہ آئندہ اُن کے لیے کھانا اور ناشتہ نہ بنائے اور نہ ہی اُن کے کپڑے دُھوئے۔ دوسرے دِن سے ہی اُوپر والے پورشن میں سارے کاموں کے لیے ایک کام والی بُلالی گئی، جو ایک اچھی تنخواہ پر رکھی گئی تھی۔ چولہا بھی آن ہو گیا۔ سلمیٰ بیگم اور ثنا حیران تھے کہ دو بندوں کے کاموں کے لیے عورت رکھنے کی کیا ضرورت تھی…؟ سامعہ اپنے میکے میں بھی سارے کام خود کرتی تھی پھر یہاں گھر سنبھالنے میں کیا قباحت تھی…؟ چھوٹے سے پورشن کی صفائی اور دو بندوں کا کھانا ایسا کون سا مشکل کام تھا…؟ لیکن یوں لگ رہا تھا کہ سامعہ کے آٹے میں پانی بہت پڑ گیا تھا۔ جسے سنبھالنا اُس کے لیے مشکل ہو رہا تھا۔ اُسے لگا کہ جن خواہشات کے لیے وہ تمام عمر ترسی ہے۔ وہ کسی نہ کسی طرح پوری ہو جائیں اور اُس کے لیے وہ کچھ بھی کر سکتی تھی۔ مہنگے مہنگے پارلرز جا کر فیشل اور دیگر سروسز لیتی۔ چند مہینوں میں ہی وہ مزید نکھر گئی۔ خوب صورت کٹنگ اور صاف و شفاف نکھری نکھری جلد کے ساتھ کسی اچھے برانڈ کی پریٹ (pret) اُس کی شخصیت کو چار چاند لگا دیتیں۔ اب تو اُس نے کبیر علی کے ساتھ مہنگے مہنگے ریسٹورنٹ جا کر Check in اور Check out کے اسٹیٹس بھی ڈالنے شروع کر دئیے۔ بڑے بڑے شاپنگ مالز جا کر فیس بُک پر سٹیٹس ڈالتی، تاکہ اُس کے فیس بُک فرینڈ پر اچھا ایمپریشن پڑے۔ مینی کیور اور پیڈی کیور کے بعد اپنے خوب صورت ہاتھوں اور پاؤں کی تصاویر اَپ لوڈ کر نا نہیں بُھولتی اور پھر اچھے اچھے کمنٹس پڑھ کر شام تک اُس پر نشہ سا طاری رہتا۔ اب تو اماں کی طرف جا کر رہنا بھی مشکل لگتا، کیوں کہ اُن کے گھر اے سی اور وائی فائی نہ تھا اور گرمی میں بغیر اے سی اُس سے تھوری دیر بھی رہنا مشکل تھا۔ وہ سر تا پا بدل چکی تھی اور ایسی فطرت صرف سانپ میں پائی جاتی ہے جو اپنی کینچلی بدلنے کی پوری طاقت رکھتا ہے۔
٭……٭……٭……٭
رضوان نے کافی دِن ثنا کے فون کا اِنتظار کیا۔ فون نہ آیا تو اپنی بات کہنے کے لیے اچھے وقت کا اِنتظار کرنے لگے، کیوں کہ انہوں نے سوچ لیا تھا کہ ثنا سے اُس کی رائے لیے بغیر کسی صورت رشتہ نہیں بھیجا جا سکتا۔ آج لنچ کی میز پر رونق لگی ہوئی تھی۔ رضوان نے اپنے کمرے سے سب کو ہلّہ گُلّہ کرتے دیکھا اور اُٹھ کر لنچ روم میں آگئے۔ سب اُن کے اِحترام میں کھڑے ہوگئے۔
’’اَرے پلیز! بیٹھیںسر…!!‘‘
’’کوئی بات نہیں… آپ لوگ کھائیں…‘‘ میں تو صرف کبیر علی کو یاد دِلانے آیا ہوں کہ کافی دِن ہو گئے آپ نے شامی کباب نہیں کِھلائے۔
انہوں نے کبیر علی کو دیکھا تو وہ بولے:
’’جب کہیں سر! بن جائیں گے… بلکہ آج یہ ٹرائی کریں…‘‘ ایک پلیٹ میں روسٹ کا ایک پیس اور نان رکھ کر اُن کی طرف بڑھایا تو انہوں نے پلیٹ تھام لی اور چکن پیس چکھا۔
’’لگتا ہے آپ کا کُک بدل گیا ہے…‘‘ آج اُنہیں وہ مزہ نہیں آیا جو اُن کے گھر کے کھانوں کا خاصا تھا۔
’’آپ کو کیسے پتا…؟‘‘ وہ حیران تھے۔
’’ کیا یہ آپ کی مسز نے بنایا ہے…؟‘‘ انہوں نے ایک اور بائٹ لی۔
’’نہیں سر! دراصل آج تک آپ نے میری بہن کے ہاتھ کے کھانے کھائے ہیں۔ اُس نے یونی ورسٹی جانا شروع کیا ہے، جس کی وجہ سے میں نے ایک کھانا بنانے والی رکھ لی ہے۔‘‘
’’جب ہی وہ ذائقہ نہیں ہے کھانے میں…‘‘ انہوں نے پلیٹ واپس ٹیبل پر رکھ دی۔
’’سر! اُس پر کافی ذمہ داریاں تھیں۔ میں نے سوچا کہ اُس کی پڑھائی میں خلل ہوگا۔ یہ ذمہ داری تو کم کی جائے، لیکن آپ فکر مت کریں۔ اتوار کو وہ گھر ہوتی ہے۔ اِن شاء اللہ شامی کباب بنوا کر لاتا ہوں۔‘‘
’’اَرے نہیں نہیں! میں تو یوں ہی کہہ رہا تھا… آپ اُنہیں ڈسٹرب نہ کریں… ویسے کس سبجیکٹ میں ماسٹر ز کر رہی ہیں آپ کی سسٹر…؟‘‘ انہوں نے بظاہر سرسری انداز میں پوچھا، لیکن اُن کے کان سراسر کبیر علی کے جواب کے منتظر تھے۔
’’اِکنامکس میں… ماشاء اللہ وہ پڑھائی میں بہت بریلینٹ ہے۔ ماسٹرز کے بعد جاب بھی کرنا چاہتی ہے۔‘‘
’’گُڈ! ویری گُڈ! اچھی بات ہے۔ لڑکیوں کو ضرور پڑھنا چاہیے۔ چلیں! آپ لوگ کھانا کھائیں۔ میں ذرا اپنا کام نمٹا لوں۔‘‘ وہ یہ کہہ کر باہر نکل گئے اور پھر سب نے دوبارہ لنچ شروع کر دیا۔ یہ تو رضوان کو معلوم ہو گیا تھا کہ وہ بزی ہو گئی تھی، لیکن بندہ بات تو کر ہی سکتا ہے۔ تمہارا اُس سے ایسا کیا رشتہ تھا کہ تمہیں اُس سے شکایتیں ہو رہی ہیں۔ وہ یقینا ایک اچھے گھر کی لڑکی تھی اور ایسی لڑکیاں ہر ایرے غیرے سے بات نہیں کرتیں۔ میاں سیدھے سیدھے رشتہ بھیجو۔ اگر ہاں ہوئی تو تمہاری قسمت… اور اگر نا ہوئی تو تمہاری قسمت… فضول کی ضد پال رکھی ہے کہ پہلے اُس سے بات کرنا ہے۔ اگر کئی مہینوں بات نہ ہو سکی اور اُس کا رشتہ کہیں اور ہوگیا تو بس بیٹھے رہ جانا۔ اُن کے اندر کا ڈر باہر آگیا۔ وہ سوچ میں پڑگئے کہ اب کیا کیا جائے…؟
٭……٭……٭……٭
شادی کی ساری تیاریاں مکمل تھیں۔ نانو بی کو اپنی دِلی خواہش اِس طرح پوری ہونے پر بہت خوشی تھی۔ وہ صدقے واری جا رہی تھیں۔ کبھی سیما کے لیے صدقے کے بکرے دیتیں۔ کبھی اُس پر آیتیں پڑھ پڑھ کر پھونکتیں۔ خود سیما بھی آج کل ہواؤں میں تھی۔ اُس کی زندگی میں پہلا ذکر ہی عمر آفندی نام کے مرد کا ہوا اور آج وہ ذکر ایک مکمل کہانی کا روپ دھار کر اُس کی زندگی میں شامل ہو رہا تھا۔ وہ بھلا خوش کیوں نہ ہوتی۔ نانوبی صحیح کہتی ہیں۔ مرد اِس طرح کی حرکات کرتے ہی رہتے ہیں۔ اگر عورت ایسی باتوں پر دھیان دینے لگے تو اُس کی زندگی اجیرن ہو جائے۔ وہ اپنی محبت اور خلوص سے عمر کو مکمل طور پر اپنا بنا لے گی۔ یہ اُس نے خود سے تہیہ کر لیا تھا، لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ مرد نام کی مخلوق کو کبھی اپنا نہیں بنایا جا سکتا۔ جلد یا بہ دیر وہ آہستہ آہستہ ہر تعلق سے اُکتا جاتا ہے اور اُس سے جان چھڑانے کی کوشش کرتا ہے۔ آخرکار زندگی کی بہترین رات سیما کی زندگی میں آ ہی گئی۔ وہ عمر آفندی کے نام کے دو بول پڑھ کر اُس کی زندگی اور اب اُس کے کمرے میں اُس کا اِنتظار کر رہی تھی۔ گھر کے افراد اپنے اپنے کمروں میں جا چکے تھے۔ اُسے لگا کہ عمر کو اُس سے زیادہ بے تابی ہوگی، لیکن یہاں تو اُس کا اب تک کوئی اتا پتا نہ تھا …… (باقی آئندہ)

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.