پاداش__________(12)شازیہ خان


سلمیٰ بیگم کی موت کا غم اُن کی دونوں اولادوں کو ہی شدید تھا۔ کبیر علی تو ہر وقت کفِ افسوس ہی ملتے رہتے کہ اُن کی طرف سے ماںکے لیے اتنی بڑی کوتاہی کیسے ہوگئی…؟ کیسے وہ گہری نیند سوتے رہ گئے اور اُن کی ماں اُنہیں چھوڑکر چلی گئی۔ وہ کیسے اُس وقت میٹھی نیند سوئے رہے۔ جب اُن کی ماں اُنہیں تکلیف میں آواز دے رہی تھی۔ نہ جانے اُنہیں کتنی شدید تکلیف ہوگی۔ ہر رات یہ تکلیف دہ سوال اُن کے آگے کھڑا اُنہیں سر سے پائوں تک لرزا دیتا۔ وہ ماں جو رات بھر جا گ کر اُن کی بیماری میں اُن کی نگرانی کرتی تھی۔ وہ ایک رات بھی اُن کے پاس نہ رہ سکے۔ اُنہیں حیرانی تھی کہ اگر اماں نے بیل بجائی تھی تو اُن کی آنکھ کیوں نہ کُھل پائی…؟ یہ سوال انہو ں نے بہتے آنسوئو ں کے ساتھ سا معہ سے بھی کیا۔
’’آپ دِن بھر کے تھکے اِتنی گہری نیند سوتے ہیں کہ مجھے تو رَشک آتا ہے آپ کی نیند پر۔‘‘
لیکن وہ سا معہ سے یہ سوال نہ کر سکے کہ اگر میں تھکا ہوا گہری نیند میں تھا تو تم تو اُٹھ سکتی تھی۔ تم کیوں نہ اُٹھ سکیں۔…؟ ثنا کی حا لت بہت خراب تھی۔ وہ صرف چند دِن رُک کر واپس چلی گئی۔ گھر میں اب سامعہ کا مکمل راج تھا۔ چند دِنوں کے بعد ہی اُس نے اماں کا سارا سامان کام والی کو دے دیا اور اُس کمرے میں نیا بیڈ اور دیگر ساما ن ڈلوایا۔ کونے میں ایک پُرانی سی الماری رہ گئی تھی۔ ایک دِن ثنا جب بھائی سے ملنے آئی تو اُسے اماں کے کمرے کی نئی صورت دیکھ کر بہت دُکھ ہوا۔
’’سامعہ! کم ازکم اُن کا بیڈ تو نہ نکالتیں۔ اِس کمرے میں داخل ہوتے ہی بیڈ پر نظر پڑتی تھی اور اماں یا د آ جاتی تھیں۔‘‘ وہ روہا نسی تھی۔
’’اِسی لیے تو نکال دیا۔ تمہارے بھائی بھی گھنٹوں اُن کے بیڈ پر بیٹھ کر روتے رہتے، بلکہ ایک رات تو یہیں سو گئے۔ میں رات بھر اکیلی اُن کا اِنتظار کرتی اور ڈرتی رہی۔ دیکھو! اب خالہ تو زند ہ نہیں، لیکن جو زندہ ہیں اُنہیں تو درگور نہ کیا جائے۔‘‘
وہ اِس با ر بہت سخت دِل ہو رہی تھی۔ اُسے ذرا اِحساس نہ تھا کہ اُس کی باتیں ثنا کے دِل پر بوجھ کتنا بڑھا رہی ہیں۔ گھر کے بزرگ چلے جائیں تو اُن کی یا دوں سے دُعائیں لی جاتی ہیں۔ یہاں اُس کو اِحساس تک نہ تھا کہ وہ اپنی خالہ مرحومہ کے لیے کتنی پتھر دِل ہو چکی تھی۔ ایک بیٹی کے سامنے اُس کی ماں کا اِس طرح ذِکر کر رہی تھی، جیسے کسی غیر کا ذکر ہو رہا ہو۔ ثنا سوچ رہی تھی کہ اب کم سے کم ہی اِس گھر میں آئے۔ وہ کمرے میں موجود ماں کی خوشبو محسوس کرتی رہی۔ جانے والے اپنے ساتھ اپنی خوشبو کیوں نہیں لے جاتے…؟ اُن کے کپڑے میں بسی خوشبو سالوں اُن کا اِحساس دِلا کر رُلاتی ہے۔ وہ اُس دِن اِن کی خوشبو سے لپٹ کر آخری بار روئی۔ اتنا روئی کہ ہچکیاں بندھ گئیں۔ سامعہ کسی کام سے اُدھر آئی تو اُسے روتا دیکھ کر رُک گئی، لیکن اُس سے کچھ بولی اور نہ ہی گلے لگا کر چُپ کروایا۔ بس ایک نظر ڈال کر سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی۔ ثنا نے اُس کا آنا محسوس کر لیا تھا۔ اِسی لیے جلدی سے آنسو پونچھ لیے۔ شام کو بھائی کے آنے پر وہ گھر چلی گئی۔ کبیرعلی کو اماں کی الماری کسی کے حوالے کرنے کا کہہ کر اُس میں سے اماں کی چند ضروری چیزیں ساتھ لے گئی۔ ویسے بھی زیورات وغیرہ تو سلمیٰ بیگم نے اپنی زندگی میں ہی بہو اور بیٹی دونوں کے درمیان برابر برابر تقسیم کر دیئے تھے اور کوئی قیمتی چیز اُس الما ری میں موجود نہ تھی، لیکن پھر بھی یہ بات سامعہ کو سخت ناگوار گزری کہ اماں کی الماری سب کے سامنے کُھلنی چاہیے تھی، جس طرح ثنا بیٹی ہے، کبیر علی بھی سلمیٰ بیگم کی اولاد تھے۔ اُنہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ماں کے جا نے کے بعد اُن کا بقیہ سامان کتنا تھا…؟ وہ شاید الماری بھی کھول لیتی، لیکن اُس کی چابی ثنا کے پاس تھی۔ اِسی لیے الما ری کُھلنے اور بکنے سے بچ گئی۔ ثنا سمجھ چکی تھی کہ اب اُس کی حیثیت اِس گھر میں وہ نہیں رہی تھی جو کبھی ماں کے زمانے میں تھی۔ اُسے بہت دُکھ تھا۔ سامعہ یوں بدل چکی تھی جیسے اُس کا سلمیٰ بیگم سے کوئی رشتہ ہی نہ تھا۔ ساس سمجھ کر نہیں کم ازکم خا لہ سمجھ کر ہی اُن کی یادوں کو تازہ رکھنے کی کوشش کر لیتی۔ ناجانے اُسے ثنا سے اتنا بیر کیوں ہو گیا تھا۔ اُس کے آنے پر خوشی کا کوئی اِحساس اُس کے چہرے پر نہ اُبھرتا۔ اُکتائی اُکتائی سی پھرتی۔ چلتے پھرتے چائے پانی پوچھ لیا یا اُس کی نوکرانی نے چائے کے سا تھ چند لوازمات اُس کے سامنے رکھ دیئے اور وہ چائے سے زیادہ آنسو پیتے یہی سوچتی کہ واقعی ماں کے بعد میکے پر بیٹی کا کوئی حق نہیں رہتا۔ بھائی کتنی بھی کوشش کر لیں۔ اگر بھابھیاں نہ چاہیں تو بہنوں کو چند دِنوں میں ہی پرایا بنا دیا جاتا ہے۔ آج گھر کے چپے چپے کی مالک ثنا بالکل پرائی بنا دی گئی۔ کبیر علی آفس میں تھے۔ وہ اسی لیے آئی تھی کہ اماں کی واحد نشانی الماری میں موجود چند بچی کھچی یادوں کو اپنے ساتھ لے جائے، لیکن اُس کی چابی ثنا سے بھی کہیں گم ہو گئی تھی۔ فون کرکے کبیر علی سے الماری کا تالا توڑنے کا پوچھا اور کارپینٹر بلوا کر الماری کھولی گئی۔ اُس میںاماں کا ساما ن نکالا، جو زیادہ تر اُن کے کپڑے تھے۔ وہ کام والی کو دیے۔ باقی چھوٹی موٹی پُرانی چیزیں البمز، عطر اور اِسی طرح کی دوسری چیزیں، جو شاید کسی کے کام کی نہیں، لیکن اس کے لیے عمر بھر کی کمائی تھی۔ سامعہ کو شک تھا کہ ضرور الماری میں قیمتی چیزیں تھیں، جو ثنا نے نکال لیں۔ اِس کا اظہار اُس نے میاں سے بھی کیا، لیکن کبیر علی نے اُس کی بات پر کوئی توجہ نہ دی۔ اُنہیں سامعہ کی فضول باتوں سے کوئی دِلچسپی نہ تھی۔ وہ نظر انداز کرنا بہ خوبی جا نتے تھے۔ اُن کے خاندان کی آخری نشانی اب ایک بہن ہی رہ گئی تھی۔ وہ اُس کے اور اپنے درمیان کوئی فرق نہیں لانا چاہتے تھے۔ اِسی لیے سامعہ کی بات سُن کر نظر اند از کر دیا۔ ظاہر سی بات ہے فضول باتوں کا کوئی جواب نہیں ہوتا، حالاں کہ جواب تو تھا کہ تم نے اماں کے کمرے سے اُن کے باقی سامان کو اِدھر اُدھر کر دیا۔ سامعہ کلس کر رہ گئی۔
٭……٭……٭……٭
ثنا پریگنینٹ ہو چکی تھی۔ اُسے لمحہ لمحہ اماں کی کمی محسوس ہو رہی تھی۔ کتنا خوش ہوتیں وہ اِس خبر کو سُن کر۔ اُس نے پھر بھی سامعہ سے یہ خوشی کی خبر شیئر کرنا ضروری سمجھا اور فون کر ڈالا۔
’’سنو سامعہ! اللہ نے مجھے بھی اِس درجے پر فائز کر دیا، جس درجے پر تم ہو۔‘‘ وہ بہت خوشی سے سامعہ کو بتا رہی تھی۔
’’بے وقوف ہو تم… ابھی شا دی کو دِن ہی کتنے ہو ئے ہیں۔ کم ازکم ایک سا ل تو اِنجوائے کرتیں۔‘‘ دوسری طرف سے تلقین شاہ کا تلقین نامہ شروع ہو گیا۔ نا کہ اُس کو مبارک باد دیتی۔ سامعہ نے ثنا کو سمجھانا شروع کر دیا، جس سے ثنا نے بور ہو کر فون بند کر دیا۔ اُس کا دِل تھا کہ کسی نہ کسی اپنے کو تو یہ بڑی خبر سُناتی اور وہ جواب میں اُسے ڈھیر ساری دُعائیں دیتا۔ کبیر علی سے وہ کتنی ہی فری کیوں نہ ہوتی۔ یہ بات تو نہیں بتائی جا سکتی تھی۔ اچانک یا شاید اماں کا خیال آنے کے بعد دوسرا خیال اُسے خالہ کا آیا۔ اُس نے فوراً بے اِرادہ خا لہ کا نمبر ڈائل کر دیا اور اُنہیں یہ خبر سُنائی۔ وہ تو پُھولے نہیں سمائیں اور بالکل اماں کے انداز میں ڈھیر ساری دُعائیں دیں اور آگے آنے والے وقت کے لیے ڈھیروں نصیحتیں بھی شروع کر دیں۔
’’میں تمہیں بھی میوے والا حلوہ بھجوائوں گی۔ سامعہ کو بھیجا تھا۔ اُس نے تو کھایا نہیں کہ دیسی گھی اور میوے والا حلوہ کھا کر موٹی ہو جائوں گی۔ اگر تمہیں کوئی اِعتراض نہ ہو تو بھجوا دوں…؟ تمہارے اور ہونے والے بچے کی صحت کے لیے یہ بہت اچھی چیز ہے۔ اللہ بخشے تمہا ری اماں نے میرے دونوں بچوں پر ڈھیر سارے اصلی گھی میں بنا کر بھیجا تھا۔ اُسے کھا کر ماں اور بچے کی ہڈیاں مضبوط رہتی ہیں۔‘‘ وہ بڑے مان سے کہہ رہی تھیں اور اُس وقت وہ اُن کی یہی محبت تو چا ہتی تھی۔ بھلا کس طرح اِنکا ر کر دیتی۔
’’ارے خالہ! ضرور بھجوائیں، بلکہ جب تیار ہو جائے تو بتا دیجئے گا۔ میں خود ہی آ کر لے جائوں گی۔‘‘ وہ بہت محبت سے کہہ رہی تھی۔ خالہ اُس کی بات پر نہال ہو گئیں۔ آخر وہ اُن کی اُسی بہن کی بیٹی تھی، جس کے پور پور میں محبت بھری تھی۔ آج اُس کے کام آ کر وہ کتنی خوشی محسوس کر رہی تھیں۔ یہ کوئی اُن سے ہی پوچھتا۔ پھر انہوں نے دو دِن کے اندر ہی دُکان پر کام کرنے والے لڑکے سے سارا سامان منگوا کر میوے والا نرم سوجی کا حلوہ دیسی گھی میں بنایا اور ثنا کو فون کر دیا۔ وہ خود خا لہ کے پاس پہنچ گئی۔ کافی عرصے سے وہ اُن سے ملنے نہیں گئی تھی۔ اِسی بہانے وہ اُن سے مل بھی لی۔ اُن کے پاس سے بھی اماں کی خوشبو آتی تھی۔ خالہ اُس سے گلے لگ کر رو پڑیں۔ اُس کے سر سے ہزار کا نوٹ اُتارا اور غریب کو دینے کی تاکید کرتے ہوئے ثنا کو دے دیا۔ وہ اتنی محبت پر ہی فِدا ہو گئی۔ وہ کافی سارے گفٹس اور فروٹ خالہ خالو کے لیے لا ئی تھی۔ اُس نے دوپہر کا کھانا اُن کے ساتھ ہی کھایا۔ سب نے مل کر اماں کو خوب یاد کیا۔ خالہ تو اُنہیں یاد کرکے کئی بار رو پڑیں۔ شاید اُنہیں بھی اپنی بیٹی کے بدصورت روّیے کا اِحسا س تھا۔ اِسی لیے اپنی طرف سے ہر کوشش کر رہی تھیں کہ ثنا کا غم باٹ سکیں۔ ثنا بھی اُس وقت اپنی خوش خبری کے بعد پہلی بار دِل سے خوش ہوئی۔ لگ رہاتھا کہ وہ اپنا وقت اماں کے سا تھ گزار رہی ہے۔ وہ اُس کی خدمتیں کرکے اتنی اپنائیت کا اِظہار کر رہی ہیں۔ اُس نے وہ پورا دِن خالہ خالو کے ساتھ خوشی خوشی گزارا۔ رات کو رضوان خود اُسے لینے آئے، جس پر خالہ اور خالو اور زیادہ خوش ہوگئے اور دونوں کو لمبی عمر اور ڈھیر ساری خوشیوں کی دُعاؤں کے ساتھ رُخصت کیا۔ نابید بیگم کو جو خوشی اور خوب صورتی ثنا کے چہرے پر نظر آ رہی تھی وہ خود اُن کی اپنی بیٹی کے چہرے سے مفقود تھی۔ وہ تو آنے والی اولاد کو ایک بوجھ تصور کیے بیٹھی تھی۔ باتوں باتوں میں ماں سے کہہ چکی تھی کہ وہ ابھی اِس بوجھ کو نہیں اُٹھا سکتی۔ اگر وہ پسند کریں بچے کی پیدائش کے بعد بچہ اُن کے حوالے کر دے گی۔ انہوں نے فوراً اِنکار کر دیا۔
’’نہیں بھائی! تمہارے ابا کی ذمہ داریاں ہی بہت ہیں۔ میں مزید کوئی اور ذمہ داری نہیں اُٹھا سکتی۔ اپنی اولاد خود پالو۔ میری بوڑھی ہڈیوں میں اب اتنا دَم نہیں کہ تمہاری اولاد سنبھال سکوں۔‘‘
٭……٭……٭……٭
سامعہ نے ثنا کی دیکھا دیکھی کبیر علی سے زبر دستی کرکے ایک بہت بڑے ہاسپٹل میں نام لکھوایا تھا، جس کی ڈاکٹر نارمل کیس کو بھی آپریشن کیس میں بدلنے میں مشہور تھی اور فیس لاکھوں میں وصول کرتی۔ کبیر علی خرچے کا سُن کر پریشان تھے، لیکن کچھ نہ کہہ سکے اور چار و ناچار آفس سے لون کے لیے اپلائی کر دیا۔ لون سائن کرنے سے پہلے رضوان نے اُنہیں بُلا بھیجا اور پوچھا کہ اتنا بڑا لون لینے کی کیا ضرورت…؟ اگر زیادہ مجبوری ہے تو میں آپ کو ویسے ہی دے دیتا ہوں، لیکن انہوں نے شکریہ کے ساتھ لون پر ہی اِصرار کیا۔ یہ بات رضوان نے ثنا کو بتائی تو ثنا نے کبیر علی سے خود بات کرنے کا فیصلہ کیا، لیکن اِس کے لیے فون پر بات نہیں کی جا سکتی تھی۔ وہ ایک شام گھر پہنچ گئی۔ کبیر علی گھر پر اکیلے تھے۔ سامعہ بچے کی شاپنگ کے لیے اپنی کام والی کے ساتھ بازار گئی ہوئی تھی۔ اُس نے موقع دیکھ کر بات چھیڑی تو وہ بھی پھٹ پڑے۔ آج پہلی بار اُنہیں ثنا نے سامعہ کی شکایت کرتے سُنا تھا۔ آخر اِنسان تھے۔ دوسرے اِنسان کی بے حسی کب تک برداشت کرتے۔ بے شک وہ اُن کی محبوب بیوی ہی کیوں نہ ہو۔ یہ لون کا فیصلہ انہوں نے آخری حد پر جا کر کیا تھا اور یہ بھی بتایا کہ شاید وہ اب رضوان کی نوکری چھوڑ کر خود اپنا کوئی بزنس اَسٹارٹ کر لیں گے۔ اتنے خرچوں کے بعد اب تنخواہ میں گزارا نہیں ہو رہا۔
’’لیکن بھائی! ہم نے تو اِس سے بھی کم تنخواہ میں گزارا کیا تھا۔ آپ کو یاد ہے، اماں اِس میں سے بھی بچتیں کرتی تھیں۔ جب کبھی آپ کو ضرورت ہوتی، اُن کے پاس سے پیسے نکل آتے۔ آپ کو آفس سے اُدھار لینے کی کبھی ضرورت نہیں پڑی۔ رضوان بتا رہے تھے کہ آپ نے اِس سال چھٹی با ر لون لیا ہے۔‘‘ وہ حیران تھی کہ بھائی کو اتنا لون لینے کی کیوں ضرورت پڑ رہی ہے…؟
’’وہ اماں تھیں ثنا… یہاں سامعہ ہے، جسے اپنے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ شاپنگ، شاپنگ اور صرف شاپنگ… پتا نہیں کون سی حرص ہے جو بھرتی نہیں… ہر مہینے پندرہ تاریخ کو پیسے ختم ہو جاتے ہیں اور پھر دوبارہ مانگتی ہے۔ اب تمہاری دیکھا دیکھی اُسی ہاسپٹل میں نام لکھوایا۔ حالانکہ پُرانے ہاسپٹل میں اتنے مہینوں سے لیڈی ڈاکٹر سے چیک کرا رہی ہے۔ مطمئن بھی تھی، لیکن اچانک میٹر آئو ٹ ہو گیا۔‘‘
ثنا کو افسوس ہو رہا تھا۔ اُسے سامعہ سے اتنی حماقتوں کی بالکل توقع نہ تھی۔ سمجھتی تھی کہ نئی نئی شادی ہوئی ہے، چند دِنوں میں عقل آ جائے گی، لیکن یہاں تو اُس کے بھائی کی پریشانیوں میں روزبہ روزاضا فہ ہو رہا تھا۔ وہ کچھ بھی نہیں کر سکتی تھی۔ سوائے بھائی کا دُکھ بٹانے کے۔
’’اوہو! آج موقع مل گیا، بھائی بہن میں بھاوج کی بُرائیاں ہو رہی ہیں۔ بڑا اچھا موقع مل گیا آپ دونوں کو میری بُرائیا ں کرنے کا۔‘‘ بوتل کے جِن کی طرح ناجانے وہ کب نمودار ہوئی۔ دونوں کا منہ کُھلے کا کُھلا رہ گیا۔
’’نہیں نہیں سامعہ! ایسی بات نہیں۔ بھائی تمہاری بُرائی نہیں کر رہے تھے۔ وہ تو ہم…… ثنا نے اُس کی آنکھوں میں غُصّے کے شرارے دیکھتے ہوئے ہکلا کر کہا۔ اُس نے ہاتھ اُٹھا کر اُس کی بات کاٹ دی۔
’’بس! تم تو خاموش ہی رہو۔ تمہیں تو میری خوشیاں کبھی ہضم ہی نہیں ہوئیں۔کیوں میرے میاں کو بھڑکانے چلی آتی ہو… خود عیش کر رہی ہو… میری ذرا سی خوشی تم سے برداشت نہیں ہوتی۔‘‘ وہ بہت غُصّے میں تھی۔ اُس نے دونوں کی بات سُن لی تھی۔ کبیر علی بھی شرمندہ سے تھے۔ آج پہلی بار اُن سے یہ جُرم سرزد ہوا اور پہلی بار ہی پکڑے گئے، حالاں کہ یہ جُرم نہ تھا۔ اپنے دِل کا بوجھ اپنی بہن سے شیئر کرنا کوئی گناہ تو نہ تھا، لیکن وہ مجرم ٹھہرائے گئے اور اِس کی پاداش میں اب ساری عمر اُنہیں باتیں سُننا پڑیں گی۔
’’دیکھو سامعہ! بھائی اتنا غلط بھی نہیں کہہ رہے تھے۔ اُن پر کمپنی کا اتنا زیادہ لون ہو گیا ہے۔ اب مزید لون نہیں لے سکتے۔ یہی بات بھائی کو سمجھانے آئی تھی۔ وہ اُسے سمجھانے لگی تو سامعہ مزید بھڑک گئی۔ میرا میاں جتنی محنت تمہاری کمپنی کے لیے کرتا ہے۔ اُتنی تنخواہ تم لوگ کب دیتے ہو…؟ اگر کبھی کبھار لون لے لیا تو تمہارا میاں تمہیں بھیج کر کہلوا بھیجتا ہے کہ اب بس کرو۔ اِسی لیے میں اُن سے کہتی ہوں کہ بس کریں یہ غلامیاں… اب اپنا کام شروع کریں۔ جتنی محنت دوسروں کے کام میں کرتے ہیں، آدھی بھی اپنی کمپنی کے لیے کریں گے تو مالا مال ہوجا ئیں گے۔ یہ تو وہی مثا ل ہوئی۔ ’دُکھ سہیں بی فاختہ اور کوے انڈے کھائیں‘… وہ موقع سے پورا فائدہ اُٹھا رہی تھی۔ اُسے معلوم تھا کہ کبیر علی کو موقع پر پکڑ کر اُس نے اُن کا مقدمہ کمزور کر دیا تھا۔ اب جس طرح چاہے وہ اُن دونوں کے ساتھ سلوک کر سکتی تھی۔
’’یہ تم کیسی با تیں کر رہی ہو سامعہ! رضوان نے کبھی ایسا نہیں سوچا۔‘‘ وہ حیرانی سے اُس کو دیکھ رہی تھی۔ کتنا زہر بھرا تھا اُس کے دِل میں۔
’’تم کیوں سوچو گی۔ تمہارا شوہر تو میرے شوہر کی صلاحیتیوں سے سالوں کا فائدہ اُٹھا چکا ہے۔ اب بس کرو۔ چھوڑو ہماری…‘‘ اُس نے ہا تھ جوڑے۔ ثنا نے بہت بے بسی سے بھائی کی طرف دیکھا کہ وہ کچھ تو بولیں۔ کبیر علی نے کمرے سے نکل جانا ہی مناسب سمجھا۔ ثنا کی طرف سے بولنے کا مطلب تھا اُن کے گھر میں سامعہ کی بھڑکا ئی ہوئی آگ مزید بھڑک اُٹھے گی۔
٭……٭……٭……٭
آیان کی پیدائش سے پہلے ہی کبیر علی نے اپنی جمع پونجی اور کمپنی کے پراویڈنٹ فنڈ سے نیا کاروبار شروع کر دیا ۔ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ آیان کی پیدائش کی برکت سے اُس میں دِن دُگنی رات چوگنی ترقی ہونے لگی۔ سامعہ بیگم تو اپنے فیصلے پر اِس قدر اِترا رہی تھیں کہ جیسے ساری ترقی اُن ہی کے مرہون منت تھی۔ اب تو اُن کے خرچوں میں مزید اضا فہ ہو گیا تھا۔ اُن کا خیال تھا کہ مرد کمانے کے لیے اور عورتیں پیسہ لُٹانے کے لیے پیدا ہوتی ہیں۔ اپنی شاپنگ اور پارٹیوں کی وجہ سے وہ اپنے بچے کو بھی ٹائم نہیں دے پاتی۔ اُس کے لیے ایک اور نوکرانی رکھی گئی۔ آیان کی پیدائش کے چند مہینوں بعد ہی ایمان نے ثنا کے گھر جنم لیا۔پیاری سی گول مٹول، گوری چٹی ایمان سب کی آنکھ کا تارا تھی۔ وقت جیسے پَر لگا کر اُڑ رہا تھا۔ دونوں بچے بڑے ہو گئے۔ اِسی دوران ابا بھی گزر گئے۔ اماں شدید بیمار تھیں۔ جوڑوں کے درد نے اُنہیں کہیں کا نہ چھوڑا۔ سامعہ اور کبیر علی اُنہیں اپنے پاس ہی لے آئے اور اماں والے کمرے میں اُن کی رہائش کا اِنتظام کر دیا۔ ساتھ ایک نوکرانی رکھ دی، تاکہ اکیلے اُن کا دِل نہ گھبرائے۔ وہ زیادہ تر وقت آیان کے ساتھ گزارتیں۔ جب وہ کسی پارٹی یا شاپنگ پر جاتی تو آیان کی آیا اُس کو لے کر نیچے والے پورشن میں آجاتی۔ اماں کو بھی اُس کی روزانہ نت نئی رنگ برنگی سرگرمیوں پر بہت اِعتراض تھا۔ وہ چاہتی تھیں کہ سامعہ ثنا کی طرح اپنے بچے کو بھرپور ٹائم دے، لیکن اُس نے تو جیسے اپنے ہر خواب کو پورا کرنے کی قسم کھا رکھی تھی۔ اُنہیں پورا کرنے کے لیے وہ ہر حد سے گُزر سکتی تھی۔
٭……٭……٭……٭
آج سامعہ پارٹی سے جلدی واپس آ گئی۔ اُس کی طبیعت کچھ ٹھیک نہ تھی۔ گھر آئی تو آیان کی آیا نے بتایا کہ اِس کو صُبح سے بہت تیز بخار تھا۔ اُسے یاد آیا کہ رات سے ہی اُس کی نا ک بہہ رہی تھی اور چھینکیں بھی آ رہی تھیں۔ سامعہ کی دوست کی اچانک پارٹی نے اُسے بیٹے کی طرف سے لاپرواہ کر دیا۔ حادثاتی طور پر بننے والی سامعہ کی اِس نئی دوست کے گھر ایک بڑی پارٹی تھی۔ جہاں اُس کی دوست کے بہ قول کچھ ڈرامہ آرٹسٹ بھی آرہے تھے۔ بچپن سے اُس کے دِل میں دبی آرٹسٹ بننے کی خواہش شاید کوئی راہ پکڑ لے۔ یہی سوچ کر اُس نے فوراً تیاری پکڑی، مگر واہ رے قسمت! وہ آرٹسٹ اپنی مصروفیات کی بِنا پر نہ آسکے۔ وہ دِل مار کر رہ گئی۔ اِسی لیے جلدی اُٹھ کر آ گئی۔ کالج میں سہیلیوں کی باتیں اُسے بُھولی نہیں تھیں۔ سامعہ تم بنی بنائی پرفیکٹ ہیروئن ہو۔ بس جیسے ہی کسی ڈائریکٹر کی تم پر نظر پڑی اور تم ہیروئن بن جا ئو گی۔ ابا جی کی سختی کی وجہ سے اُس نے اپنے دِل میں ہی اپنی خواہش کو مار رکھا، لیکن اب جہاں آزادی کے اتنے سارے راستے خود بہ خود کُھل چکے تھے تو اِس راہ کو بھی آزمانے میں کیا بُرائی تھی۔ پُرانی خواہش ایک مکمل اَرمان کی صورت دِل سے بہ رہی تھی۔ دِل ایک نئی راہ ڈھونڈ رہا تھا اور وہ اپنی جنت کو چھوڑ کر اُس راہ پہ بھٹک رہی تھی جو شاید اُسے کبھی سکون نہ دے سکتی۔ آیان اماں کے پاس تھا۔ وہ نیچے آئی اور آیان کو دیکھا تو وہ شدید بخار میں پھنک رہا تھا۔
’’سامعہ! تمہیں کتنی کالزکی ہیں۔ تمہارا فو ن آف تھا۔ کہاں تھیں تم…؟ کبیر نے ڈرائیور سے بھی پوچھا۔ اُس نے بتایا کہ تمہیں کسی دوست کے گھر چھوڑ کر آیا ہے۔ تمہیں اِس ننھی سی جان کا بالکل خیال نہیں۔‘‘ اماں نے اُس پر چڑھائی کر دی۔ اُس نے اُن کی کسی بات کا جواب نہ دیا۔ آیان کو لے کر اُوپر آ گئی۔ آیا نے بتایا کبیر علی آفس سے اُٹھ کر آئے تھے۔ آیان کو ڈاکٹر کو دِکھا کر دوائی دے کر واپس آفس چلے گئے ہیں۔ اُس کا موبائل ابھی تک آف تھا۔ موبائل آن کیا تو اُن کی بہت ساری مسڈکا ل تھیں۔ وہ قطعی شرمندہ نہ ہوئی۔ زندگی پر اُس کا پورا حق تھا۔ اب کوئی اپنی اولاد کے لیے خواہشات کو تھوڑی مار سکتا ہے۔ کاش! کوئی اُسے بتاتا کہ ماں تو نام ہی اولا د کے لیے خواہشات کو قربان کرنے کا ہے۔ کتنی خواتین اپنے کیرئیر کی peak پر جا کر صرف اپنی اولاد کے لیے سب کچھ چھوڑ دیتی ہیں۔ مامتا قربانی ہی تو مانگتی ہے۔ اگر یہ قربانی نہ ہوتی تو صفا اور مروہ کی تپتی ریت پر ایک ماں اپنے بچے کی پیاس بُجھانے کے لیے کیسے ننگے پائوں دوڑتی…؟ تاریخ میں مائوں کی کسی نہ کسی قربانی کے بعد ہی سورمائوں کی پرورش ہوئی تھی۔ مگر اُسے بالکل شرمندگی نہ تھی کہ اُس نے اپنی اولاد پر اِس پارٹی کو ترجیح دی۔ وہ اب کسی بھی قیمت پر اپنی زندگی کی ناآسودہ خواہشات کو پورا کرنا چاہتی تھی۔ کتنی خود غرض ہو چکی تھی۔ اُسے شوہر کا خیا ل تھا اور نہ بچے کا۔ نئی نئی دوستیاں بن رہی تھیں، جو صرف اُس کے پیسے کو دیکھ کر اُس کے اِردگرد منڈلاتیں۔ وہ کُھل کر تحائف بانٹتی۔ پارٹیاں کرتی۔ مہنگے سے مہنگے بوفے اور ڈنر میں اپنی دوستوں کو اِنوائٹ کرتی۔ اماں بھی حیران تھیں کہ وہ روز کسی نہ کسی نئی دوست کا قِصّہ سُنا تی، جس سے دوستی کسی اور دوست کی پارٹی یا ڈنر میں ملاقات کے بعد ہوتی۔ اب تو سیگریٹ پینے والی دوستوں نے اُسے سیگریٹ کے بھی دو تین کَش لگوا دیئے تھے۔ یہ کہہ کر کہ اِس کلاس کے ساتھ اگر رہنا ہے تو یہ سب تو کرنا ہوگا۔ اُس نے پوری کوشش کی کہ اِس کی عادی نہ ہو پائے۔ شوقیہ پینے اور عادی بننے میں بہت فرق تھا اور وہ اِس فرق کو ملحوظ رکھنا چاہتی تھی۔ اِن پارٹیز میں اکثر شراب بھی کُھلے عام پی جاتی، مگر مولوی ظفرالحق کی بیٹی میں اب اتنی حیا تو باقی تھی کہ اِس شیطان کی بیٹی کو ہاتھ نہ لگائے۔ ایسی تیز رفتار زندگی کی خواہش تو اُس نے کی تھی اور اُسے بہت مزہ آ رہا تھا، مگر جب اِنسان کی عقل پر پردہ پڑ جائے اور اپنا اچھا بُرا سمجھنا چھوڑ دے تو پھر ربّ بھی اُس کا ہاتھ چھوڑ دیتا ہے۔ شیطان اُسے اِنہی خواہشات کا غلام بنا دیتا ہے، جن پر چل کر اصل منزل کھو بیٹھتے ہیں۔ اُسے اندازہ بھی نہ تھا کہ اُس کے ہاتھ سے وقت کی طنابوں کے ساتھ منزل بھی دھیرے دھیرے دُور ہو رہی ہے۔
٭……٭……٭……٭
میم صباح آج بہت دیر سے بے دار ہوئیں۔ رات پارٹی دیر سے ختم ہوئی تھی۔ لڑکیوں کو اپنے کمرے تک بھیجتے ہوئے کافی ٹائم ہو گیا تھا۔ ایک پولیس والا اپنا حِصّہ لینے آیا تو اس کی ’دِلداری‘ کرتے کافی دیر گُزر گئی۔ سوتے سوتے جسم کسل مندی کا شکار تھا۔ رافیہ کافی کا کپ دے گئی، جو انہوں نے کچھ کُھلتی اور بند ہوتی آنکھوں کے ساتھ ختم کیا۔ ساتھ بہت کچھ سوچ بھی رہی تھی۔ رات کافی بڑا ہنگامہ ہوتے ہوتے رہ گیا تھا۔ ایک بڑی پوسٹ پر موجود پولیس والے کا بیٹا اُن کی پارٹی میں موجود تھا، جسے اُن کی اُس کی خدمت پر لگائی ہوئی لڑکی ا رمینہ نے غلطی سے اُس لڑکے کے مسلسل اِصرار پر ڈرگز کی اوور ڈوز دے دی۔ پھر وہ جیسے پاگل ہی ہو گیا۔ نشے میں ہر دوسرے بندے سے لڑ رہا تھا… جھگڑ رہا تھا… پوری پارٹی درھم برھم ہو گئی۔ اُسے سنبھالنا مشکل ہو گیا۔ ارمینہ بہت مشکل سے اُسے باہر لے کر گئی اور ڈرائیور کے ساتھ اُس کے گھر چھوڑ کر آئی۔ بیٹے کی بُری حالت دیکھ کر گھر والوں نے فون کرکے اُن کا جینا حرام کر دیا۔ اُس کے باپ نے پولیس والے بھیج کر اُنہیں دھمکی دی جسے انہوں نے اپنی ’دِلداری‘ سے کافی دیر تک رجھائے رکھا۔ انہوں نے سوچ لیا تھا کہ آئندہ وہ لڑکا ان کی پارٹیوں میں نظر نہیں آئے گا۔ وہ روز روز ایسی سر درد مول نہیں لے سکتی تھیں۔ کافی عرصے سے وہ ایسی پارٹیاں ارینج کرتی آئیں تھیں۔ بہت کم ایسا ہوا تھا کہ اُن کی پارٹی کا اِس طرح بیڑہ غرق ہوا ہو۔ لاہور کی ایلیٹ کلاس کے لڑکے لڑکیاں بہت اِعتماد سے اُن کی پارٹی میں شریک ہوتے۔ لڑکے لڑکیوں کے علاوہ ڈرگز کی سپلائی بھی اُن کی طرف سے ہوتی۔ پارٹیز میں اُن کے تنخواہ دار لڑکے لڑکیاں ایلیٹ کلاس کے نوجوان کو گھیر کر لاتے تھے۔ پھر آہستہ آہستہ اُن کو ڈرگز کا عادی بنا دیا جاتا۔ اُن کے والدین کی کمائی ہوئی دولت بہت آسانی سے اُن کی جیب میں آجاتی، لیکن اِس کے لیے اُنہیں پولیس کو بھی ماہانہ بھتہ دینا پڑتا۔ اُن کا ریسٹ ہائوس ڈیفنس کے پاس بیدیاں روڈ کے دُور دراز علاقے میں موجود تھا۔ ڈیفنس کی ایک بڑی یونی ورسٹی کے بہت سے بچے بچیاں اُن کے گاہک تھے۔
خود اُن کے تنخواہ دار بچے بچیاں اِسی یونی ورسٹی سے لڑکے لڑکیاں گھیر کر لاتے۔ کچھ فیس بُک اور دیگر سوشل میڈیا ایپس سے وہ خود ایسی پارٹیوں میں اپنے بااعتماد کلائنٹس کو اِنوائٹ کرتیں۔ بہ ظاہر وہ ایک بیوٹی سیلون کی مالک تھیں۔ وہاں سے اپنی کلائنٹ لڑکیوں کو ایسی پارٹیوں میں آنے کے لیے گھیرتیں اور کئی تو آبھی جاتیں۔ پھر ایک بار آنے والا کہیں جانے کے قابل نہ رہتا، لیکن اب وہ کافی دِنوں سے محسوس کر رہی تھیں کہ پولیس کی طرف سے سختی ہو رہی تھی۔ پولیس ڈیپارٹمنٹ کی ایک بڑی پوسٹ پر موجود اُس لڑکے کے باپ نے اُنہیں آج دھمکی جو بھجوائی تھی کہ وہ اُن کا مکروہ دھندہ بند کروا کر رہیں گے۔ اُس سے کہیں نہ کہیں وہ ڈر سی گئیں۔ کہیں وہ واقعی اپنے کہے پر عمل نہ کروا دیں، حالاں کہ ارمینہ سے اُس لڑکے کو انہوں نے اِسی لیے پھنسایا تھا کہ پولیس والے کا بیٹا مشکل وقت میں اُن کی مدد کر دے گا، لیکن یہاں تو اُلٹی بلا اُن کے گلے پڑگئی… خیر! نمٹ لیں گے۔ انہوں نے ذہن پر مزید زور ڈالے بغیر پولیس کے ایک اعلیٰ افسر کو فون ملایا۔ جب تک انہوں نے مدد کرنے کی پوری تسلّی نہ کروا لی، فون بندنہ کیا۔ کافی کے بعد اُنہیں سیگریٹ کی طلب ہوئی۔ انہوں نے سگریٹ لگا لیا اور ساتھ ہی اپنے ناشتے کے لیے فون پر حنیف بابا کو ہدایات دیں۔ آج اُنہیں صرف بوائلڈ اِیگ اور اوٹس لینے تھے۔ دِل تھوڑا بھاری تھا۔ ہیوی ناشتے کا بالکل موڈ نہ تھا۔ وہ ناشتہ ہمیشہ ہیوی کرتیں اور پھر رات کو ہی کھاتیں۔ دِن بھر صرف فروٹس لیتیں۔ اِسی لیے چالیس کے پیٹے میں بھی وہ تیس سے زیا دہ نہیں لگتیں۔ چینی اور روٹی انہوں نے کئی سالوں سے چھوڑ رکھی تھی۔ زیادہ دِل کر تا تو پورے دِن میں glutan فری ڈبل روٹی کے ایک دو سلا ئسز لیتیں۔ اپنے فگر کو انہوں نے بہت تناسب میں رکھا ہوا تھا۔ اُن کا دھندہ چلتا ہی اُن کے برن کے تناسب پر تھا۔ اگر وہ بگڑتا تو یقینا اُن کے دھندے کا تناسب بھی بگڑجاتا۔
میم صباح پچھلے پندرہ سال سے اِس دھندے کو چلا رہی تھیں۔ کم عمری میں شادی ہو گ ئی تھی۔ پہلے شہر کے ایک پسماندہ سے علاقے میں رہائش تھی اور گھر کے پچھلے حِصّے میں موجود اپنا ایک چھوٹا سا بیوٹی پارلر چلاتی تھیں۔ شوہر کے مرنے کے بعد جب اکیلے گھر چلانا پڑا تو پارلر کی معمولی کمائی سے دو بیٹیوں کو پالنا تقریبا نا ممکن تھا۔ اِسی لیے اپنی ایک پارلر والی دوست سے کہنے پر درپردہ یہ کام شروع کیا۔ اِبتداء میں اُن کے پاس کام کرنے والی لڑکیاں ہی اُن کے کلائنٹس کے پاس جاتیں اور اُن کے واپسی پر لائے ہوئے مال سے چند مہینوں میں ہی وہ مالدار ہو گئیں۔ آہستہ آہستہ انہوں نے اپنا دائرہ کار بڑھانا شروع کیا۔ ڈیفنس جیسے پوش علاقے میں بھی ایک پارلر کھول لیا۔ جہاں اُن کے کلائنٹس بھی بڑے بزنس مین تھے۔ وہیں سے کچھ ڈرگز ڈیلرز سے اُن کے تعلقات بنے اورپھر وہ آہستہ آہستہ اُن کی آلۂ کا ر بنتی گئیں۔ جس وقت اُن کے شوہر کا اِنتقال ہوا تھا۔ اُن کا بنک بیلنس صفر تھا، لیکن چند سالوں کے بعد ہی اب خود اُن کو معلوم نہ تھا کہ اُن کے بینک میں کتنا پیسا موجود ہے…؟ بیٹیوں کو اچھی تعلیم دِلوا کر جلدی جلدی اُن کی شادی کر دی۔ دونوں شادی کے بعد دوسرے ملک چلی گئیں۔ بڑے داماد کے دوست سے ہی انہوں نے اپنی چھوٹی بیٹی کو بھی بیاہ دیا۔ اب اُن پر کسی قسم کی کوئی ذمہ داری نہ تھی۔ کافی لوگوں نے اُنہیں مشورہ دیا کہ وہ دوسری شادی کر لیں، لیکن پہلے شوہر کے مرنے کے بعد اُنہیں دوسری شادی سے کوئی دِلچسپی نہیں تھی، بلکہ اُن کا خیال تھا کہ شادی نرا وبالِ جان ہے… آزادی ختم ہو جاتی ہے… وہ اپنی مرضی سے جیتی تھیں… جو مرد اُنہیں پسند آجاتا، اُس کے ساتھ چند مہینے نکال کر اُسے اپنی زندگی سے نکال باہر کرتیں۔ ہاں! اِس سے پہلے اُس کا بنک بیلنس صفر کرنا اپنا حق سمجھتیں۔ بہ قول میم صباح پنجرے میں قید پرندے اور درخت پر بیٹھے پرندے کی زندگی کا لُطف اور مزہ کبھی ایک جیسا نہیں ہو سکتا۔
آج کل عمر آفندی اُن کے بہت قریب تھا، جس سے اُن کی مُلاقات ایک دوست کے گھر پارٹی میں ہوئی تھی۔ اتنے وجہیہ مرد کو دیکھ کر ایک لمحے کو اُن کی آنکھیں خیرہ ہو گئیں۔ بے شک وہ اُن سے عمر میں کافی چھوٹا تھا، لیکن وہ خود بھی اُن سے بہت متاثر ہوا۔ دونوں نے ایک دوسرے کی کمپنی کو کافی دیر اِنجوائے کیا۔ پھر جلد ہی دوبارہ ملنے کے وعدے پر یہ ملاقات تمام ہوئی۔ وہ دونوں اکثر ملنے لگے۔ عمر میم صباح کی کمپنی کو خوب اِنجوائے کرتا، بلکہ اُسے اُن کی صحبت میں سکون ملتا۔ اب تک جتنی خواتین اُس کی زندگی میں آئی تھیں۔ سب اُس سے چھوٹی تھیں۔ ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ اُس کا دِل ایک بڑی عمر کی عورت پر آیا اور عورت بھی ایسی، جس نے گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہوا تھا۔ مردوں کی ہر نسل کی خوب پہچان رکھتی تھی۔ کس کو کس طرح اپنے جال میں گھیرنا ہے۔ اُسے بہ خوبی علم تھا۔ وہ دونوں ہاتھوں سے عمر کی دولت بھی لوٹ رہی تھی۔ وہ جو ایک زمانے میں لڑکیوں سے تحفے تحائف وصول کرنا اپنا حق سمجھتا تھا اب کُھل کر میم صباح کے ہاتھوں خوشی خوشی لُٹ رہا تھا۔
٭……٭……٭……٭
شادی کے پانچ سال گزرنے کے بعد بھی عمر نے کبھی سیما کو بیوی کی حیثیت نہ دی۔ وہ بہت خاموشی سے اِس رشتے کو نبھا رہی تھی، کیوں کہ اُس کے لیے عمر کا اِتنا ساتھ ہی بہت تھا۔ سیما کو عمر کی ساری عیاشیوں اور دیگر سرگرمیوں کا معلوم تھا۔ وہ کب کس سے ملتا ہے اور اپنی شامیں کہاں گزارتا ہے۔ لیکن وہ صرف لڑائی کے خیال سے خاموش رہتی۔ وہ جانتی تھی کہ اگر بات آفندی صاحب تک پہنچ گئی تو یقینا بڑھ جائے گی۔ عمر نے پہلے ہی دھمکی دے دی تھی کہ اگر بات آفندی صاحب تک پہنچی تو وہ اُسے طلاق دے کر فارغ کر دے گا۔ اُسے یہاں رہنا ہے تو خاموشی سے زندگی گزارنی پڑے گی اور وہ بہت خاموشی سے زندگی گزار رہی تھی۔ نانو بی کے گزرنے کے بعد تو اُس کا پُرسانِ حال بھی کوئی نہ تھا، جس کے پاس وہ پلٹ کر جاتی۔ اِسی لیے خاموشی ہی سب سے بڑا کیموفلاج تھا، لیکن دِل کے اندر جو دُکھ اور تکلیف تھی وہ کس سے کہتی…؟ وقت بہت تیزی سے گزر رہا تھا۔
٭……٭……٭……٭
میم صباح نے آج ایک نیا ’’پرندہ‘‘ پھنسنے پر پارٹی رکھی تھی۔ زاہد ایک جج کا بیٹا تھا۔ جو اُن کی سب سے خوب صورت اور طرح دار لڑکی ارمینہ کے سحر میں پھنس چکا تھا۔ تھوڑی بہت ڈرگز کا وہ پہلے سے ہی عادی تھا، لیکن اُس کو “high” کرنے کے لیے کوالٹی ڈرگز ارمینہ نے اُسے فراہم کیے۔ جس کے بعد وہ ارمینہ کے ساتھ ’آئس‘ کا بھی دیوانہ ہوگیا۔ ظاہر سی بات ہے باپ کے پاس حلال کی کمائی تو نہیں تھی وہ اِس طرح کی عیاشیوں پر حرام کا مال ہی لُٹا رہا تھا اور میم صباح اُس کے باپ کی حرام کی کمائی اُن سب پر حلال تھی، جسے وہ بڑے طریقے سے ارمینہ کے ذریعے اُس گاؤدی سے نکلوا رہی تھیں۔ کل ہی ارمینہ کے fake فیس بُک پیچ پر ایک ڈی جے پارٹی اناؤنس کی گئی۔ جس میں ملک کے ایک بڑے گلوکار کو بھی اچھی قیمت دے کر بُلایا۔ لڑکے لڑکیوں کی ایک فوج آج کی پارٹی میں موجود تھی، لیکن سب قابلِ اِعتبار تھے۔ ایسی پارٹیوں میں صرف ایسے بچے اور بچیاں ہی ہوتے جو اُن کے قابلِ اِعتباراور نشے کے طلب گار ہوتے۔ پہلے بھی ایک بار ایک صحافی نے اپنی خبر بنانے کے لیے اُن کی پارٹی جوائن کی اور کچھ تصاویر لیں، تاکہ وہاں کی خبر بنا سکے۔ میم صباح کے سب سے خاص بندے کو شک ہو گیا۔ اُس نے پارٹی سے باہر لے جا کر پہلے تو اُس کی خوب ٹھکائی کی اور پھر چوری کا اِلزام لگا کر اُسے پولیس کے حوالے کر دیا۔ ساتھ ہی اُس کی جیب سے چند پیکٹ چرس بھی نکلوا دیں۔ وہ بے چارہ اب تک جیل میں سڑ رہا تھا۔ اِس کے بعد میم صباح بہت محتاط ہو گئیں تھیں۔ ایسی خاص پارٹیوں میں وہ لڑکے اور لڑکیاں آتے، جو قابلِ اِعتبار اور ڈرگز کے عادی ہو جاتے تھے۔ پارٹی میں عمر آفندی میم صباح سے بالکل جُڑ کر بیٹھا ہوا تھا۔ ناجانے اُس عورت میں کیا خاص بات تھی۔ اُسے لگتا کہ اب تک اُس کی زندگی میں آئی ہوئی ہر عورت بے کار تھی… کچرا تھی… اُس میں ایک مقناطیست اور عجیب سی کشش تھی۔ وہ میم صباح سے ایک دو دِن نہ ملتا تو شدید بے چین ہو جاتا تھا۔ اِسی لیے وہ پلان کر رہا تھا کہ دونوں کچھ دِن مری جا کر اِنجوائے کریں اور اس کے لیے وہاں جا کر کتنے دِن کے لئے ٹھہرنا ہے۔ یہ طے کرنا تھا۔ وہ بہ ضد تھیں کہ میرے پاس صرف دو دِن کا وقت ہے۔ پھر مجھے اپنی لڑکیوں کے ساتھ دُبئی بھی جانا ہے۔ ایک بڑی پارٹی بُلا رہی ہے، جو میں کسی صورت منع نہیں کر سکتی۔ وہ بہت بددل ہوا۔
’’کیا یار! دو دِن میں تو دِل نہیں بھرے گا۔‘‘ عمر نے اُس کا ہاتھ پکڑا تو وہ بے اِعتنائی سے کندھے اُچکاتے ہوئے بولیں۔
’’سنو عمر آفندی! میرا ایک ایک دِن بہت قیمتی ہے۔ تمہاری خوش قسمتی ہے کہ تمہاری ضد پر دو دِن نکال رہی ہوں۔ کیا معلوم کہ اتنی تگ و دو کے بعد مجھے کیا ملے گا…؟‘‘
’’کیا مانگنا ہے…؟ مانگو… تم پر چاند تارے بھی لٹا دوں…‘‘ عمر نے اُس وقت شاید کچھ زیادہ ہی چڑھائی ہوئی تھی۔ میم صباح کا قہقہہ بہت زور دار تھا۔ سب لوگ مُڑ کر اُنہیں دیکھنے لگے تو عمر خائف ہو گیا۔
’’ہاں! ہاں! میں جھوٹ نہیں کہہ رہا… بولو کیا چاہیے…؟‘‘ اُس نے حاتم طائی کی قبر پر لات ماری۔ اِس سے پہلے بھی وہ کافی کچھ اُس کے حوالے کر چکا تھا۔
’’جب چلیں گے، تب بتاؤں گی۔ ابھی تم پارٹی اِنجوائے کرو۔ میں ذرا اُس نئے مہمان کو دیکھ کر آتی ہوں۔ ارمینہ شاید مجھے ہی ڈھونڈ رہی ہے۔‘‘ میم صباح نے اُس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر تھپتھپایا اور ارمینہ کی طرف بڑھ گئی۔ وہ اکیلا وہاں بیٹھا اُسی کے بارے میں سوچتا رہا۔
’’کیا جادو تھا اُس عورت میں، جب تک اُس کے پاس رہتا، مدہوش رہتا اور اُس کے بعد اُس کی خوشبو اُسے بے خود رکھتی۔ شاید اُسے کوئی کالا جادو آتا تھا۔ جو وہ اپنے اِردگرد کے لوگوں کو مخمور کرکے رکھتی تھی۔ وہ جب تک اُس پارٹی میں رہا، اُس کی نظریں میم صباح کے وجود کا احاطہ کرتی رہیں۔ کسی سے ملتے ہوئے وہ کتنا مُسکرائی…؟ کتنا ہنسی…؟ حتیٰ کہ اُس کے سیگریٹ پینے پر بھی وہ نظر رکھے ہوئے تھا، لیکن میم صباح نے اُس پر دوبارہ نظر نہ ڈالی۔ وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ تڑپتے کو مزید کیسے تڑپایا جاتا ہے۔ بے وقوف ہوتی ہیں وہ عورتیں جو مردوں کو اُس کی مرضی سے کُھل کر کھیلنے کا موقع دیتی ہیں اور خود کو اُن کے اوپر چھوڑ دیتیں ہیں۔ مرد کو کبھی سیراب نہ ہونے دو۔ ایک بار پرندہ سیراب ہو گیا تو اُڑنے میں قطعاً دیر نہیں لگائے گا۔ یہی تکنیک وہ سالوں سے اپنے اِردگرد رہنے والے مردوں پر اپلائی کر رہی تھیں۔ اُنہیں اِس طرح کے تڑپتے، سِسکتے اور ہاتھ جوڑتے مردوں کو دیکھ کر بہت اِطمینان ہوتا، بلکہ ایک عجیب سی لذت محسوس ہوتی۔ یہ صفت صرف ایک مرد کی تو نہیں ہو سکتی کہ تڑپتی بلکتی محبت کے لیے ہاتھ جوڑتی عورت کو دیکھ کر تسکین پائے۔ ایک عورت بھی اتنی گھٹیا ہو سکتی ہے اور شاید وہ اتنی ہی گھٹیا بن چکی تھیں۔ اُنہیں ایسادیکھ کر مزہ آتا تھا۔ کئی مرد تو اُن کی قربت کے لیے ہاتھ جوڑ جوڑ کر روتے بھی تھے اور وہ اُن پر ایک مُسکراتی نظر ڈال کر آگے بڑھ جاتیں۔ اُن پر اُنہیں ذرا رحم نہیں آتا تھا۔ وقت نے اُنہیں بہت بے رحم بنا دیا تھا۔ کہیں مرد بے رحم ہوتا ہے اور کہیں عورت… مگر معاشرے میں ایسی عورتوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے، مگر اِسی نمک نے آٹے کا ذائقہ یکسر تبدیل کر دیا تھا۔
٭……٭……٭……٭
وہ دونوں مری میں ایک بہترین وی آئی پی کاٹیج میں رہائش پذیر تھے۔ وہ دو دِن عمر کے بہ قول اُس کی زندگی کے بہترین دِن تھے۔ جو اُس نے میم صباح کی رفاقت میں گزارے۔ کچھ وقت وہ مال روڈ پر مٹرگشتی کرتے اور پھر تھک کر چور اپنے بستر پر آ کر ڈھیر ہو جاتے۔ میم صباح کی زلفوں سے کھیلتے ہوئے عمر نے اُس سے شادی کی بات چھیڑی تو وہ بہت مُسکرا کر ایسی ادا سے اُس کی طرف دیکھنے لگی، جیسے اُس نے کوئی بہت funny سی بات کر دی ہو۔
’’ڈرگز لیتے لیتے تمہارا دماغ بالکل سُن ہو چکا ہے۔ پہلی بات مجھے اگر شادی کرنا ہوتی تو میں اپنے شوہر کی ڈیتھ کے بعد ہی کر لیتی۔ اب اتنے سال کے بعد یہ سب فضول لگتاہے اور پھر کیا رکھا ہے شادی جیسے فضول سے بندھن میں… ایک کاغذی رِشتہ جس سے دو انسانوں کو باندھ دیا جاتا ہے۔ وہ تو ہم ویسے بھی ایک دوسرے کے ساتھ بندھ چکے ہیں پھر یہ سب ڈرامہ کیوں…؟‘‘
’’میں ہر وقت تمہارے ساتھ رہنا چاہتا ہوں… اب تم سے ذرا دیر کی دُوری بھی بالکل برداشت نہیں ہوتی… ناجانے تم نے کیسا جادو کر دیا ہے… جتنی دیر تم سے دُور رہتا ہوں۔ لگتا ہے کہ وقت اپنی جگہ رُک سا گیا ہے۔ پہلے میرا بھی یہی خیال تھا کہ یہ کاغذ کا ایک فضول سا ٹکڑا ہے، جس کی محبت کرنے والوں کے لیے کوئی وقعت نہیں، لیکن اب لگتا ہے کہ تمہاری محبت کو میرے لیے صرف یہ کاغذ کا ٹکڑا ہی پابند بنا سکتا ہے۔‘‘
وہ آج اپنی کہی ہوئی ایک بات سے ہی مُکر رہا تھا۔ دراصل اُسے محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے وہ پہلی بار محبت جیسے جادو کا شکار ہوا تھا اور اُس کے سحر میں تو اچھے اچھے لوگوں کا پتا پانی ہو جاتا ہے۔ وہ تو پھر ایک عام سا مرد تھا۔ وہ زور دار قہقہہ لگا کرہنس پڑی۔
’’تم مرد بھی کتنے خود غرض ہوتے ہو۔ عورت کو قابو کرنے کے لیے اُس کے پاؤں میں زنجیریں پہناتے وقت یہ بُھول جاتے ہو کہ آزادی تو ہر جنس کا حق ہے۔ چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔ مجھے پٹا ڈال کر کیوں رکھنا چاہتے ہو…؟ میں اُن عورتوں میں سے نہیں جو کسی ایک مرد کے لیے اپنی پوری زندگی تباہ کر لیتی ہیں۔
’’ٹوبی ویری فرینک عمر! آج تو یہ بات کہہ دی۔ آئندہ اگر کبھی ایسے الفاظ بھی منہ سے نکالے تو میری شکل کو بھی ترس جاؤ گے۔‘‘ وہ بڑی سفاکی سے کہتی ہوئی اپنی جگہ سے اُٹھیں اور باتھ روم میں گُھس گئیں۔ سانپ کا زہر اُنہیں بہ خوبی نکالنا آتا تھا۔ اُنہیں معلوم تھا عمر جیسے بندے کے لیے یہ دھمکی کافی ہو گی۔ باتھ روم سے واپس آکر انہوں نے عمر سے ایک نئی کار کا مطالبہ کر دیا۔
’’میں سوچ رہی ہوں کہ اپنی کار تبدیل کر لوں۔‘‘
’’ہاں! ہاں! بولو… کون سی لینی ہے…؟‘‘ عمر نے بڑے آرام سے پوچھا۔
’’میرے خیال میں تم میرے لیے مرسڈیز کا نیا ماڈل بُک کروا دو۔ میرا ماڈل چار سال پُرانا ہے۔‘‘ وہ یہ کہہ کر سیگریٹ سُلگا کر عمر کے پاس ہی بیٹھ گئی۔ عمر کے لیے آفر بوکھلا دینے والی تھی۔ اُس کا اکاؤنٹ پہلے ہی تقریباً خالی ہو چکا تھا۔ بزنس بھی اتنا اچھا نہیں جا رہا تھا۔ وہ تھوڑا خاموش سا ہوگیا۔ فوری طور پر اُسے کوئی جواب نہ سوجھا۔
’’کیا ہوا…؟ تم نے کوئی جواب نہیں دیا…؟‘‘ میم صباح نے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے سیگریٹ کا کش لگایا۔
’’ہاں! کرتے ہیں کچھ…‘‘ وہ سوچوں میں ڈوباہوا تھا۔
’’کرتے ہیں کچھ نہیں… بلکہ ایک دو دِن میں مجھے گاڑی چاہیے… ورنہ مجھے بُھول جاؤ…‘‘ وہ جانتی تھیں کہ عمر جیسے بندے کو کیسے دام میں لایا جا سکتا تھا۔ نرمی کرنے کا مطلب بات دُور تک چلی جائے گی۔ اُسے اِن دو راتوں کا پورا معاوضہ چاہیے تھا، جو وہ دینے سے قدرے ہچکچا رہا تھا۔
’’اَرے! نہیں ناراض مت ہو۔ میں پوری کوشش کرتا ہوں کہ ایک دو دِن میں ہی ایک نئی مرسڈیز تمہاری کار پورچ میں موجود ہو۔ فکر مت کرو۔‘‘ وہ پھر بوکھلا گیا۔ اُس سے دُوری کا خیال بھی عمر کے لیے روح قبض کرنے والا تھا۔ اِس سے کبھی پہلے ایسا وقت نہیں آیا تھا۔ پہلے لڑکیاں ملنے کے لیے اُس کی منتیں کرتی تھیں۔ وہ صرف ہنس کر رہ جاتا تھا۔ بے وقوف عورتیں کبھی کوئی کسی کے ساتھ ساری عمر بھی گزار سکتا ہے، لیکن وہ اب اِس چوہے دان میں ایسا پھنسا کہ ’نہ جائے رَفتن نہ پائے ماندن‘ والی کیفیت تھی۔ اب اُسے اتنے پیسے کسی نہ کسی طرح اَرینج کرنے تھے۔ اُسے معلوم تھا پچھلے چند مہینوں سے اُس نے کوئی نیا پراجیکٹ نہیں کیا اور اپنی ساری کمائی عیاشی اور ڈرگز میں اُڑا رہا تھا۔ آفندی صاحب نے پچھلی بار اُسے لون دیتے ہوئے صاف کہہ دیا تھا کہ صاحب زادے یہ آخری بار دے رہا ہوں۔ براہِ مہربانی کوئی نیا پراجیکٹ جلدی شروع کرو اور میرے پیسے لوٹاؤ۔ اب ایک پیسہ نہیں دوں گا۔ نانو بی نے مرتے وقت اپنا سارا پیسا اُن دونوں کے نام کر دیا تھا۔ جو جوائنٹ اکاؤنٹ میں موجود تھا اور اِس بات سے مشروط تھا کہ دونوں کے کسی مشترکہ پراجیکٹ کی صورت میں ہی اِستعمال کیا جا سکتا تھا۔ وہ واقعی ایک بزنس مین تھیں۔ سیما کی زندگی اور اپنے پیسے کو محفوظ طریقے سے چھوڑ کر گئیں۔ دونوں اُس پیسے کو کسی صورت برباد نہیں کر سکتے تھے اور ایسا نانو بی نے آفندی صاحب سے مشاورت کے بعد ہی کیا تھا۔ آفندی صاحب کو بھی اپنے بیٹے کی عیاشیوں کے بارے میں اب بہت اچھی طرح علم ہو چکا تھا۔ اسی لیے انہوں نے اُن کی بات کو مکمل سپورٹ کیا۔ اُس وقت تو عمر کو اِس بات پر کوئی اِعتراض نہیں ہوا، مگر اب عمر کو نانوبی پر شدید غُصّہ آ رہا تھا۔ اُس نے واپسی پر سیما سے اِسی کے بارے میں بات کرنے کا فیصلہ کیا، لیکن اِس سے پہلے ہی عمر کی عیاشیوں کی یہ داستان بھی سیما تک پہنچ چکی تھی۔ سیما کی ایک دوست نے اِنسٹاگرام پر میم صباح اور عمر کی مری میں لی گئی کئی سیلفیاں اُس کو واٹس اپ کیں اور پوچھا کہ کیا عمر نے دوسری شادی کرلی ہے…؟ وہ تمام تصاویر اُن دونوں کی بے اِنتہا قربت کو ظاہر کر رہی تھیں۔ ایسی قربت جو شاید کسی میاں بیوی کے درمیان ہی پائی جا تی ہے۔ سیما کو اُس کی عیاشیوں کے بارے میں بہت کچھ معلوم تھا، لیکن وہ ہمیشہ نظرانداز کرتی تھی، مگر اِن تصاویر کو دیکھ کر آج اُس کے اندر آگ سی لگ گئی۔ عمر کے ساتھ موجود عورت عمر سے کافی بڑی لگ رہی تھی۔ شکل سے بھی بہت شاطر اور عیّار… اُس نے اپنی دوست سے پوچھا کہ کس اکاؤنٹ سے اُس نے یہ تصاویر اُٹھائیں ہیں…؟ اُس کا ID بتاؤ اور جب اُس نے ID لیا اور ساری پروفائل چیک کی جو کہ پرائیویٹ نہیں تھی تو اُسے پتا چلا کہ وہ عورت تو ایک بیوٹی سیلون چلاتی ہے… اور ساتھ ساتھ بہت سے دوسرے کام بھی کرتی تھی… دونوں تصاویر میں ایک دوسرے کی قربت میں بہت خوش نظر آرہے تھے۔ اُس عورت نے اپنی عمر کو میک اَپ کی تہوں میں چُھپانے کی کوشش کی ہوئی تھی۔ بہ غور دیکھنے پر سیما پر یہ بات آشکار ہوگئی۔ دونوں کی عمر میں بہت فرق نظر آ رہا تھا۔ اُس سے عمر سیالکوٹ کا کہہ کر گیا تھا کہ کسی دوست نے اُس کے ساتھ کوئی نیا پراجیکٹ شروع کرنا ہے۔ اِسی سلسلے میں میٹنگ ہے۔ وہ دو دِن کے بعد آئے گا۔ آفندی صاحب کو بتا دینا۔ وہ اپنے باپ کے سوال جواب سے بچنے کے لیے اُسے بتا کر گیا تھا۔ اب واپسی پر اُس سے کیا جھوٹ بولنے والا تھا۔ سیما اُس جھوٹ کو سُننے کے لیے مکمل طور پر تیار تھی۔
٭……٭……٭……٭
وہ واپس آیا تو بہت خوش نظر آرہا تھا۔ ملازم نے ناشتہ لگا دیا۔ میز پر آفندی صاحب موجود نہیں تھے۔ انہوں نے آج ناشتہ اپنے کمرے میں منگوا لیا تھا۔ آفندی صاحب سے وہ کمرے میں ہی مل کر آگیا تھا۔ سیما نے خاموشی سے اُسے ناشتہ سرو کیا اور اپنا ناشتہ بہت آہستہ آہستہ کرنے لگی۔ وہ چاہتی تھی کہ عمر خود اُسے ساری بات بتائے، لیکن عمر نے بھی کچھ کہنا ضروری نہ سمجھا اور ناشتہ کرتا رہا۔ سیما نے ناشتے کے بعد کمرے میں آ کر تیاری شروع کر دی۔ آج آفس تھوڑا لیٹ جا رہی تھی۔ ابھی اُس نے اپنی الماری سے پریس شدہ کپڑے نکالے ہی تھے کہ عمر دستک دئیے بنا ہی کمرے میں آگیا۔ دونوں کافی عرصے سے الگ الگ کمروں میں سو رہے تھے۔ اُس کا اندازہ آفندی صاحب کو بھی تھا۔ وہ چونک کر مُڑی۔
’’سنو…! اِس چیک پر سائن کر دو…‘‘ عمر نے بنا کسی تمہید کے اُس کے ہاتھ میں چیک تھما دیا۔ ایک کروڑ پچاس لاکھ کا چیک۔ جو دونوں کے اُس جوائنٹ اکاونٹ سے تھا جو کہ نانو بی نے کھلوایا تھا۔ اتنا بڑا چیک دیکھ کر سیما حیران رہ گئی۔
’’مگر اِس اکاؤنٹ سے ہم صرف کسی مشترکہ پراجیکٹ کی صورت میں ہی پیسا نکال سکتے ہیں اور میرے خیال میں ہمارے درمیان ابھی ایسا کوئی پراجیکٹ نہیں ہے۔‘‘ اُس نے بہت آرام سے پوچھا۔
’’ہاں! تو جلد پراجیکٹ سٹارٹ ہو رہا ہے۔ میں سیالکوٹ جس پراجیکٹ کے لیے گیا تھا، وہ مجھے مل گیا ہے۔ تمہیں بتایا تو تھا۔ پیپرز تیار کروا رہا ہوں۔ یہ ٹوکن منی کی رقم ہے جو مجھے آج ہر حالت میں جمع کروانی ہے۔‘‘
’’لیکن مجھے کچھ نہیں معلوم کہ یہ کیسا پراجیکٹ ہے…؟ کس چیز کا ہے…؟ اگر میں پارٹنر ہوں تو مجھے بھی ہر بات کا علم ہونا چاہیے۔‘‘
’’کیا مطلب…؟ میں تم سے جھوٹ بول رہا ہوں…؟ سنو! مجھے چھوٹی چھوٹی باتوں کی وضاحت دینے کا کوئی شوق ہے اور نہ ہی ضرورت… چیک پر سائن کرو اور دو مجھے…‘‘
’’یہ چھوٹی سی بات نہیں… ایک کرو ڑ پچاس لاکھ کا چیک ہے عمر!‘‘ اُس کو بھی ضد چڑھ گئی۔ اُس کے جھوٹ پر دُکھ تو پہلے ہی بہت تھا، لیکن اب اپنی عیاشیوں کے لیے اُس نے نانو بی کی حلال کی کمائی پر بھی نظر ڈالنے کی کوشش کی۔ یہ بات اُس سے ہضم نہیں ہو رہی تھی۔
’’اِس کا مطلب یہ ہے کہ تم چیک پر سائن نہیں کرو گی۔‘‘ وہ دو تین قدم آگے بڑھ کر اُس کے قریب آکر بولا۔ سیما کو اُس کے منہ سے شراب کا شدید بھبھکا آیا۔ وہ دو قدم پیچھے ہٹ گئی۔ وہ جانتی تھی کہ عمر ہر طرح کا نشہ کرتا ہے، لیکن آج تک گھر میں آفندی صاحب کی موجودگی میں نشہ کرکے نہیں آیا تھا۔
’’سنو عمر! میں خالو جان سے مشورہ کیے بغیر تمہیں کچھ نہیں دے سکتی۔‘‘ اِس بار وہ بھی قدرے غُصّے سے بولی اور اُس کے سائیڈ سے ہو کر نکلنے لگی۔ عمر نے جھپٹ کر سیما کا بازو پکڑ لیا اور کھینچ کر دیوار سے لگا دیا۔ سیما کی پُشت بہت زور سے دیوار سے ٹکرائی۔ اُس کے منہ سے زوردار آہ نکل گئی۔
’’اگر تم نے اِس بارے میں بابا کو کچھ بھی بتایا تو میں تمہارا وہ حشر کروں گا کہ تم ساری عمر یاد رکھو گی…‘‘ وہ بہت زور سے چلّایا اور اُس کے بازو کو دبوچتا ہوا بولا۔
’’چھوڑو مجھے… جانور ہو تم…‘‘ اِس بار سیما بھی زور سے بولی۔
’’اِس چیک پر سائن کرو… مجھے ضرورت ہے…‘‘ وہ پھر اُسے مجبور کرنے لگا۔
’’نہیں کروں گی… بالکل نہیں کروں گی… میں جانتی ہوں یہ پیسے کسی سیالکوٹ کے پراجیکٹ کے لیے نہیں، بلکہ تم اپنی اُن عیاشیوں کے لیے مانگ رہے ہو جو دو دِن تم نے مری میں اُس حرّافہ کے ساتھ گُزارے ہیں۔‘‘ وہ زور سے چِلائی ۔ عمر کو اُس کی بات پر شدید غُصّہ آ گیا۔
’’ہاں! گُزارے ہیں… اِسی کے لیے مانگ رہا ہوں… تم نے اِس چیک پر ہر حالت میں سائن کرنا ہیں ورنہ…‘‘
’’ورنہ کیا کر لو گے تم …بولو… اگر نہ کروں تو کیا بگاڑ لو گے…‘‘ وہ بھی ضد میں آ کر زور سے چیخی۔ عمر بھی غُصّے سے آوٹ آف کنٹرول ہو گیا۔ آگے بڑھ کر اُس کے بال پکڑ لیے اور جھٹکے دیتے ہوئے چیخا۔
’’میں تمہیں جان سے مار دوں گا…‘‘
’’مار دو… اتنے سالوں میں، میں پل پل جی اور مر رہی ہوں۔ تم اِسے زندگی کہہ رہے ہو… سب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہوں، لیکن خاموش ہوں۔ سب جانتی ہوں، مگر اب تمہیں یہ پیسے دے کر تمہاری عیاشیوں کے لیے نیا راستہ نہیں کھول سکتی۔‘‘
عمر نے اُس کے منہ پر ایک زور دار تھپڑ مارا تو وہ سِسک کر رہ گئی۔ اُسی وقت آفندی صاحب نے آگے بڑھ کر اُسے عمر سے چھڑوایا اور عمر کے منہ پر ایک زور دار تھپڑ مارا۔ وہ دروازے کے پاس اُن دونوں کے درمیان ساری گفتگو سُن چکے تھے، لیکن اُنہیں بالکل اندازہ نہ تھا کہ وہ جانور بن کر اِس معصوم بچی کو تھپڑ مار بیٹھے گا۔ نشے کی حالت میں اُسے بالکل اندازہ نہ ہوا کہ وہ کیا کر گیا تھا۔ باپ کی آمد نے اُس کا نشہ ہرن کر دیا۔ سیما آفندی صاحب کے کندھے سے لگی سِسک رہی تھی۔ اُنہیں اندازہ تو تھا کہ اُن دونوں کے درمیان ایک اچھی ازدواجی زندگی نہیں تھی۔ دونوں کے درمیان ایک میاں بیوی والا التفات مفقود تھا۔ عمر اکثر سیما سے اُکھڑے اُکھڑے انداز میں بات کرتا، لیکن چوں کہ سیما نے خود اُن سے کبھی کوئی شکایت نہیں کی تھی، اِسی لیے وہ اُن دونوں کے درمیان کچھ بولنا نہیں چاہتے تھے۔ آج تو ساری صورتِ حال بالکل واضح ہو چکی تھی۔
’’نکل جاؤ تم میرے گھر سے… تم اِس قابل ہی نہ تھے کہ میں تمہیں اپنی اتنی پیاری بیٹی کا ہاتھ سونپتا۔ ایک دو دِن میں اخبار میں عاق نامہ پڑھ لینا…‘‘ وہ غُصّے سے لرز رہے تھے۔
’’پلیز بابا…! میں……‘‘ نشہ بالکل ہرن ہو چکا تھا۔ اُسے آگے اپنا مستقبل سیاہ نظر آرہا تھا۔ وہ فوراً ہاتھ جوڑ بیٹھا۔
’’دفع ہو جاؤ اِسی وقت… میں تمہاری شکل نہیں دیکھنا چاہتا… بیٹا! میں بہت شرمندہ ہوں۔ ایسی ناخلف اولاد تم جیسی پیاری بیٹی کے بالکل قابل نہ تھی۔‘‘ وہ سیما کے آگے ہاتھ جوڑ بیٹھے۔ واقعی شرمندگی سے اُن کا جوڑ جوڑ بھیگ رہا تھا۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ روزِ آخرت اُنہیں اِس بچی سے وابستہ کس کس شخص کا جواب دینا پڑے گا… لیکن اللہ کے حضور اِس بچی پر ہوئے ظلم کا حساب اُنہیں ابھی سے شرمندگی سے دوچار کر رہا تھا۔
’’بابا… پلیز…!‘‘ عمر نے ایک اور کوشش کی، لیکن اِس بار آفندی صاحب کی دھاڑنے سے اُسے کمرے سے نکلنے پر مجبور کر دیا۔ اِس بار اُس کی مارپیٹ سے سیما کے دِل میں تکلیف بہت زیادہ تھی۔ اب شاید وہ خود بھی سمجھ چکی تھی کہ اِس یک طرفہ محبت کا کوئی صِلّہ نہیں۔ اِس جیسے پتھر دِل کے لیے رونا اور تڑپنا فضول ہے۔ اُس نے خالو جان کو بہت سنبھال کر اُن کے کمرے میں پہنچایا۔ نیند کی گولی دی اور کمبل اُوڑھا کر باہر نکل آئی۔ آفس جانے کا بالکل دِل نہیں چاہ رہا تھا۔ اِسی لیے خود بھی آفس میں ساری میٹنگز کینسل کروا کر کمرہ بند کرکے لیٹ گئی۔ ملازموں سے خالو جان کا خیال رکھنے کا کہہ دیا تھا۔ وہ صرف اپنی ماں کو یاد کرنا چاہتی تھی۔ باپ تو بچپن میں چلا گیا تھا۔ ماں نے اُسے بہت نازوں سے پالا تھا، لیکن اُس کے بڑے ہوتے ہی وہ بھی چلی گئی۔ نانو بی اُسے عمر کے حوالے کرکے رخصت ہوئیں اور اب عمر بھی دُور ہو گیا۔ رشتے اُسے راس ہی نہیں آتے تھے۔ نہ کوئی دوستی، نہ رشتہ داری۔ اِس وقت صرف تنہائی نے اُسے سہارا دیا ہوا تھا۔ وہ پُھوٹ پُھوٹ کر رو پڑی ۔ اللہ سے شکوہ کرنا اُسے آتا ہی نہیں تھا۔ اِسی لیے ساری باتیں دِل میں ہی کرکے وہ کافی دیر آنسوؤں کی صورت دِل کا غم بہاتی رہی۔
٭……٭……٭……٭
آج ثنا بہت عرصے کے بعد بھائی کے گھر آئی تھی۔ آج بھی خالہ اکیلی بیٹھی ہوئی تھیں۔ پانچ سالہ آیان اپنی سکول یونی فارم میں ہی گُھوم رہا تھا۔ اُس کی آیا کو آج جلدی جانا تھا۔ وہ موجود نہ تھی۔ نانو نے اُس کے کپڑے بدلوانے کی بہت کوشش کی۔ کافی دیر اِس کوشش میں ہانپ کر رہ گئیں۔
’’خالہ! سامعہ کہاں ہے…؟‘‘ اُس نے بھتیجے کو پکڑ کر اپنے پاس بُلایا اور خالہ سے پوچھا۔
’’کچھ نہیں معلوم… صُبح تیار ہو کر نکل گئی… آیان کی آیا بھی جلدی چلی گئی تھی۔ اب یہ جب سے آیا ہے، مسلسل کہہ رہی ہوں کہ کپڑے بدل لو، پھر کھانا کِھلاتی ہوں، لیکن سنتا ہی نہیں۔‘‘ وہ بہت پریشانی سے کہہ رہی تھیں۔
’’اَرے پھوپھو کی جان! کیوں نانو کو پریشان کر رہے ہو…؟‘‘ ثنا نے بہت پیار سے اُس کے کپڑے بدلوائے اور پھر کچن میں جا کر اُس کے لیے تیار کھانا دیکھا تو دھک سے رہ گئی۔ آیا عجیب و غریب سا ملغوبہ ٹائپ بنا کر گئی تھی۔ جو کسی بھی طرح بچے کو پسند نہیں آتا۔ اُس نے ڈیپ فریزر میں موجود چکن اور چند سبزیوں سے چاؤمن بنایا اور اپنے اور خالہ کے لیے چائے بنا کر لے آئی۔ آیان کو اپنے ہاتھوں سے اُس نے چاؤمن کِھلائے اور ساتھ ہی اورنج جوس کا پورا گلاس بھی بہلا بہلا کرپلا دیا۔ وہ معصوم یوں کھا رہا تھا جیسے کتنے جنموںکا بُھوکا ہو… ثنا کو بچے پر بہت ترس آیا۔ خالہ بھی جوڑوں کے درد کی مریضہ تھیں۔ اب زیادہ چلنا پھرنا اُن کے لیے بہت مشکل تھا۔ اِسی لیے بار بار کچن میں جا کر آیان کی آیا پر نظر نہیں رکھ سکتیں کہ وہ آیان کے لیے کس قسم کا کھانا بنا رہی ہے۔ اِسی لیے بچہ اتنا چِڑچِڑا ہو رہا تھا۔ اب وہ معصوم بڑے مزے سے کھانا کھا کر اور جوس پی کر پھپھو کی گود میں ہی سو گیا۔ آیان نے اپنا سر اُس کی گود میں رکھا ہوا تھا۔ وہ اُس کے سر پر آہستہ آہستہ ہاتھ پھیر رہی تھی۔ ساتھ ہی خالہ سے باتیں بھی کر رہی تھی۔ اُس کی کوشش تھی کہ کوئی بات سامعہ کے بارے میں نہ ہو، کیوں کہ جب سے اُس نے کبیر علی اور ثنا کی بات سُن کر فساد مچایا تھا۔ اُس کے بعد ثنا نے کانوں کو ہاتھ لگایا کہ آئندہ کبھی نہ تو سامعہ کو سمجھانے کی کوشش کرے گی اور نہ ہی بھائی سے اُس کے بارے میں کچھ پوچھے گی، لیکن بھلا ہو خالہ کا، سامعہ کے آتے ہی اُس پر غُصّہ کرنا شروع ہو گئیں اور بولیں۔
’’سامعہ! اگر بچہ پال نہیں سکتیں تو پیدا کیوں کیا تھا…؟ روزانہ اِس بچے کو آیا کے حوالے کرکے اپنی دوستوں کے ساتھ نکل جاتی ہو… کچھ خیال ہے بچے کا…‘‘ سامعہ کے تو ویسے ہی آیان کو ثنا کی گود میں دیکھ کر آگ لگ گئی تھی۔ دوسرے اماں نے جب اُس کے سامنے ہی ڈانٹنا شروع کیا تو وہ بھی بھڑک اُٹھی۔
’’اماں! جانتی ہوں۔ آپ نہیں، بلکہ آپ کے منہ میں اِس کی زبان بول رہی ہے۔ یہ تو ہمیشہ سے مجھ سے جلتی تھی۔ میری خوشیوں سے جلتی تھی۔‘‘ سوچے سمجھے بغیر سامعہ ثنا پر پلٹ پڑی۔ تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا۔ وہ بچی تو آج اتنے دِن کے بعد میرے بُلانے پر گھر آئی۔ تم نے تو اُس کا میکا بھی ختم کر دیا۔ اب اُلٹا اُسے ہی موردِ اِلزام ٹھہرا رہی ہو۔‘‘ اماں بھی اُس پر پھٹ پڑیں تو وہ اور بھڑک اُٹھی۔
’’واہ! اِس نے میرے میاں کے علاوہ میری ماں کو بھی اپنے قبضے میں کر لیا۔ دونوں کو بھڑکاتی رہتی ہے۔‘‘ وہ بہت بدلحاظ ہو رہی تھی۔ ثنا کو اُس کے لہجے اور انداز پر دُکھ ہو رہا تھا۔ اُس نے دوسری کوئی بات ہی نہیں کی اور خاموشی سے اُٹھ کر وہاں سے چلی آئی۔ اُسے معلوم تھا اگر وہ کسی بات کا جواب دیتی تو بات بڑھ جاتی۔ اُس کے خیال میں سامعہ چاہتی بھی یہی تھی۔ ثنا کی اپنے میکے میں کسی نہ کسی بہانے آمد بند ہو جائے۔ اُسے بہت دُکھ تھا اور یہی دُکھ اُس نے گھر جا کر رضوان سے شیئر کیا۔ رضوان کو بھی اُس کے دُکھ پر دُکھ تو ہوا، لیکن اُس نے سمجھادیا۔
’’دیکھو یار! دُنیا میں ہم سے خوش ہونے والے تو بہت کم ہیں۔ جلنے والے بہت زیادہ اور حسد کرنے والے بے تحاشا۔ تو ایسے لوگوں کے دُکھ پر دُکھی ہونے کے بجائے کندھے اُچکا کر “who cares” کہو اور آگے بڑھ جاؤ۔‘‘
’’وہ میری بھابھی ہے… میرے بھائی کی بیوی… بھائی سے اُس کا ساری عمر کا تعلق ہے۔ ایسے رشتے سے میں who cares کہہ کر آگے نہیں بڑھ سکتی… ہر چند میں نے کبیر بھائی کے گھر جانا بہت کم کر دیا، مگر خدا کی قسم رضوان! آج تو میں خالہ جان کی وجہ سے وہاں گئی تھی۔ وہ بہت اکیلی ہو گئی ہیں۔ ایک بیٹی کے ہوتے ہوئے بھی اگر ماں خود کو تنہا محسوس کرے تو اُس سے بدقسمت ماں دُنیا میں نہیں… بہت اکیلی تھیں وہ…‘‘ وہ واقعی اپنی خالہ کی تنہائی پر دُکھی ہو چکی تھی۔
’’میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ میں اُن کو اپنے پاس لے آؤں۔ اماں کے بعد وہ میرے لیے بالکل اماں کی طرح ہیں۔ فون پر بات تو روز ہی ہوتی ہے۔ آج بہت دِن کے بعد اُن کے بُلانے پر گئی تو وہ بھی اُس کو بُرا لگا کہ میں اب اُس کی ماں کو بھڑکانے آتی ہوں۔ قسم سے کبیر بھائی کی زندگی پربہت دُکھ ہوتا ہے۔‘‘ اُس کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر رضوان اُس کے پاس ہی آ کر بیٹھ گیا اور اپنے ہاتھوں سے آنسو صاف کیے ۔ اُس کو اتنی اچھی کیئرنگ بیوی ملی تھی، جو شاید اللہ کا کوئی اِنعام تھا۔ وہ اُس کی آنکھوں میں بالکل آنسو نہیں دیکھ سکتا تھا۔ خود بھی دُکھی ہو گیا۔
’’اَرے یار! میں تو تمہیں بتانا ہی بُھول گیا۔ اب تمہیں ڈرائیور کے ساتھ کہیں جانے کی ضرورت نہیں۔ تم کہہ رہی تھیں نا کہ ایمان کو خود اسکول کے لیے پک اینڈ ڈراپ دینا چاہتی ہو… یہ لو…‘‘ انہوں نے ایک چابی اُسے پکڑائی۔
’’مطلب…‘‘ اُس نے چابی پکڑتے ہوئے حیرانی سے پوچھا۔
’’مطلب یہ میڈم! کہ ڈرائیونگ تو آپ کو آتی ہے۔ آپ نے کبھی اپنے لیے ڈرائیور والی تشویش کا اِظہار ہی نہیں کیا تھا۔ اِس لیے میں بھی مطمئن تھا، لیکن واقعی تم صحیح کہتی ہو اب ہماری ایک بیٹی ہے اور اُس کی سیفٹی کے لیے ڈرائیور کی بجائے تم خود اُسے پک اینڈ ڈراپ دو۔ یہی درست ہے۔‘‘
’’تھینک یو… تھینک یو سو مچ…‘‘ وہ واقعی بہت مشکور تھی، جو حالات چل رہے تھے اُن کو دیکھتے ہوئے وہ اپنی بیٹی کی حفاظت کے لیے کوئی کمی نہیں چھوڑنا چاہتی تھی۔
’’پانچ سالہ ایمان بہت سمجھ دار تھی۔ ماں کے اِشاروں پر چلتی تھی۔ جس طرح ثنا کی ماں نے اُس کا بچپن سے خیال رکھا اور بہترین تربیت کی۔ وہ بھی اپنی بیٹی کو اتنی دولت کے باوجود اچھی تربیت دینا چاہتی تھی۔ وہ اِس سلسلے میں اپنی پوری کوشش کر رہی تھی۔ چھوٹی سی بچی اپنا اچھا بُرا سمجھتی تھی۔ ماں اُسے چھوٹی بڑی ہر بات بہت توجہ اور پیار سے سمجھاتی حتیٰ کہ ’’بیڈ ٹچ اور گُڈ ٹچ‘‘ کیا ہوتا ہے…؟ ڈرائیور اور ملازموں سے کتنا فاصلہ رکھنا ہے۔ اُسے بہت اچھی طرح معلوم تھا۔ اُسے اِحساس تھا موجودہ دَور کی ماں کو اپنی ماں سے ہٹ کر اپنی تربیت کے پیمانے طے کرنے تھے، کیوں کہ آج کی اولاد کو زیادہ مشکل حالات کا سامنا تھا۔ بیس سال میں وقت بہت بدل چکا تھا۔ سوشل میڈیا کے اِس دَور اس میں پیمانے بدل چکے تھے۔ جو باتیں پہلے دَور میں Tabboo سمجھ کر بیان نہیں کی جاتی تھیں۔ اب اپنے بڑھتے ہوئے بچوں کو ماں باپ کو یہ سب اچھے طریقے سے سمجھانا بہت ضروری تھا… باتیں قالین کے نیچے نہیں چُھپائی جاسکتی۔ کیوں کہ چُھپانے سے موجودہ نسل کو زیادہ نقصان ہونے کا اندیشہ تھا۔ والدین کے علاوہ اُنہیں کوئی بتاتا تو شاید زیادہ نقصان ہوتا۔ اِسی لیے وہ اپنی بیٹی کی دوست تھی، تاکہ بیٹی جو کچھ سیکھے اپنی ماں جیسی اوّلین دوست سے سیکھے۔ اُس سے کُھل کر پوچھے اور عمل بھی کر سکے۔
٭……٭……٭……٭
سیما نے آفندی صاحب کے مشورے سے ہی طلاق کے لیے عدالت سے رجوع کیا۔ عدالت نے عمر آفندی کو طلب کر لیا۔ وہ اُس وقت بہت مشکل میں تھا۔ واپس جا کر جب اُس نے میم صباح کو ساری صورتِ حال بتائی تو اُس نے تو ماتھے پر آنکھیں رکھ لیں۔ جیسے اُسے جانتی ہی نہیں۔ وہ گِڑ گڑایا… رویا… لیکن اُس پر کوئی اَثر نہ ہوا۔ وہ اپنے دوست کے گھر شفٹ ہو گیا، لیکن میم صباح سے رابطے میں رہا۔ میم صباح نے صاف کہہ دیا کہ میں اِس طرح خالی جیب تمہارے ساتھ کوئی رابطہ رکھنا نہیں چاہتی۔ اگر کام کرنا ہے تو میرے ساتھ آجاؤ۔ اُس نے میم صباح کے قریب رہنے اور اِس مشکل وقت میں پیسوں کی خاطر اُس کی یہ آفر بھی قبول کر لی اور دوسری طرف اُس نے سیما سے دوبارہ صُلح کے لیے میم صباح کے کہنے پر ہی رابطہ کیا، لیکن وہ شاید بہت بددل ہو چکی تھی۔ چاہتی تھی کہ عمر اُسے چھوڑ دے۔ وہ شاید اِس ٹوٹے پُھوٹے رشتے کو مزید بچاتے بچاتے تھک گئی تھی۔ پورا دھیان صرف اپنے بزنس پر دینا چاہتی تھی۔ بالآخر عمر نے اُسے طلاق دے دی۔
وہ رات جب سیما کے ہاتھ میں طلاق کے کاغذات آئے تو وہ پُھوٹ پُھوٹ کر رو دی۔ اتنی محبت کے بعد اِس رشتے کا حصول اور پھر اِختتام… اُس نے تو کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ اُس کی پانچ سالہ اَزدواجی زندگی میں ایسا وقت بھی آئے گا۔ وہ سمجھ چکی تھی کہ رشتوں کی محبت اُس کا نصیب نہیں تھی۔ اِسی لیے اب زندگی بِنا کسی رشتے کے گُزارنے میں ہی عافیت ہے۔ یہ تھا اُس کا آخری فیصلہ… جس پر وہ مکمل طور پر خود کو راضی کر چکی تھی… لیکن یہ تو صرف قسمت کو معلوم تھا کہ آگے اُس کے لیے کیا لکھ کر رکھا ہوا ہے۔
٭……٭……٭……٭
کبیر علی کا بزنس دِن دُونی رات چوگنی ترقی کر رہا تھا۔ وہ یہ ساری دولت سامعہ کی قسمت کا لکھا سمجھ رہے تھے۔ اب وہ پُرانا گھر چھوڑ کر ڈیفنس کے ایک پوش بلاک میں آچکے تھے۔ گھر کے باہر گارڈ اور پورچ میں دو دو گاڑیاں اور چار چار نوکر اُن کے Status کا پتا دیتے تھے۔ آیان کو بھی پُرانے اسکول سے اُٹھا کر ایک اچھے اِنگلش میڈیم اسکول میں داخل کروا دیا گیا تھا، لیکن وہ ایک ضدّی اور بدتمیز بچہ ثابت ہو رہا تھا۔ نانو جتنا ٹائم اُسے پاس بٹھا کر سمجھا سکتیں تھیں، سمجھا رہی تھیں۔ اُس کی ماں کے پاس اُس کی تربیت کے لیے وقت ہی نہ تھا، بلکہ اب تو پیسے کی فراوانی کے بعد سامعہ نے بھی سٹاک ایکسچینج سے شیئرز لین دین کا کام شروع کر دیا تھا۔ اُس کی ساری دوستیں
اپنے شوہروں کی کمائی اِسی طرح اسٹاک ایکسچینج میں لگا کر دُگنی کر رہی تھیں۔ تو اُن کی دیکھا دیکھی اُس نے بھی یہ صاف سُتھرا کام شروع کر دیا۔ قسمت اچھی تھی منافع ہوا تو اُس کا حوصلہ بڑھ گیا۔ اُسے لگتا کہ جو کچھ وہ پانا چاہتی تھی۔ اب قسمت نے اُسے دے دیا ہے، لیکن کہیں نہ کہیں ایک دبی دبی خواہش بھی باقی تھی اور وہ خواہش کسی کی محبت کی خواہش تھی… شدید محبت… جو اُسے کبھی نہ مل پائی۔
(باقی آئندہ)

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.