پاداش(13)___________شازیہ خان

کور ڈیزائن:طارق عزیز


ثنا اکثر سوچتی کہ آخر سامعہ کو اُس گھر میں کس چیز کی کمی ہے…؟ جس کی تلاش میں وہ اِدھر اُدھر پھرتی رہتی ہے۔ ایک محبت کرنے والا شوہر… ایک خوب صورت بچہ… جسے اُس نے کبھی پیار سے نہیں دیکھا۔ جو آج تک نانی اور آیاؤں پر پَل رہا تھا۔ اُس کی ماں کے پاس اُس کو دینے کے لیے ٹائم ہی نہ تھا۔ ایک بڑا گھر… بنک بیلنس… وہ جب چاہتی، جتنا چاہتی خرچ کرتی۔ کوئی پوچھ گچھ نہ تھی۔ اِسی آزادی کا وہ ناجائز فائدہ اُٹھا رہی تھی۔ کبیر علی کو تو وہ کچھ سمجھتی ہی نہ تھی۔ جب سے اپنا شیئرز کا کام شروع کیا تھا اور اُس سے کما رہی تھی، اُس کے بنک بیلنس میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔ وہ اِس آزادی کے لیے کبیر علی کی کسی طور پر بھی شُکرگزار نہ تھی۔ وہ ابھی تک اُن سے وہ رشتہ نہ بنا پائی جو کہ ایک میاں بیوی کے درمیان ہوتا۔ آج بھی جب ثنا نے فون کیا تو خالہ سے کبیر علی کی بیماری کے بارے میں معلوم ہوا۔ بزنس کی تھکا دینے والی سرگرمیوں کی وجہ سے کبیر علی کا بی پی شوٹ ہو گیا تھا۔ آج بھی وہ آفس کی بجائے گھر میں ہی تھے۔ جب ثنا وہاں پہنچی تو شام کے پانچ بج رہے تھے اور حسبِ توقع سامعہ آج بھی گھر پر موجود نہ تھی۔ خالہ نے بتایا کہ کبیر علی دوائی کے زیرِاثر سو رہے ہیں۔ رات کو بی پی شوٹ کر گیا تھا۔ سامعہ اُسے لے کر ڈرائیور کے ساتھ ہاسپٹل گئی تھی۔ ڈاکٹرز نے فرسٹ ایڈ دے کر گھر بھیج دیا۔ سامعہ کے گھر پر نہ ہونے کی وجہ سے خالہ بہت شرمندہ شرمندہ سی تھیں۔ اِس وقت سامعہ کو کبیر علی کی تیمارداری کی وجہ سے گھر پر ہونا چاہیے تھا، لیکن وہ اُنہیں دوائیوں کے زیرِاثر سوتا چھوڑ کر بڑے آرام سے کسی دوست سے ملنے چلی گئی اور اُن کے بہت سمجھانے کے باوجود نہ رُکی۔
’’اماں! آپ تو ذرا ذرا سی بات کا اَفسانہ بنا دیتی ہیں۔ اب کام کا اِتنا پریشر ہوگا تو بندے کا بی پی شوٹ تو ہونا ہی ہے۔ اِس میں کیا بڑی بات ہو گئی۔ اب آپ کے داماد نوجوان تو نہیں ہیں۔ اِس عمر میں تو ایسی چھوٹی موٹی بیماریاں ہو ہی جاتی ہیں۔‘‘ اُن کے خیال میں وہ بہت بے رحم ہو رہی تھی۔ اُنہیں بالکل اچھا نہیں لگا کہ وہ اپنے شوہر کے بارے میں ایسی بات کرے، جیسے کسی غیر کا ذِکر ہو۔ وہ گواہ تھیں کہ اُن کی بیٹی کی ایک تکلیف پر اُن کا داماد شدید پریشان ہو جاتا تھا۔ اپنے سامنے دوائی کِھلاتا اور بستر سے اُٹھنے نہیں دیتا تھا۔ یہاں اُسے کوئی پروا ہی نہ تھی۔ اُنہیں بھانجی کے سامنے بہت شرمندگی تھی۔ ثنا نے کام والی سے بھائی کے لیے دو تین پرہیزی کھانے پکوائے اور فریز کر دیئے۔ اُسے بھائی کے کھانے پینے میں پرہیز سے متعلق ہدایات دیں۔ خالہ کے ساتھ تھوڑی دیر باتیں کیں اور رات ہونے سے پہلے وہاں سے نکل آئی۔ وہ شاید خود بھی سامعہ کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اِسی لیے کبیر علی کے بے دارہونے کا اِنتظار بھی نہ کیا۔ وہ اُن کے لیے پریشان بہت تھی۔ اُس کے پریشان ہونے سے کیا ہوتا۔ وہ بھائی کے لیے جو کر سکتی تھی، کر آئی۔ مگر اُسے دُکھ تھا کہ سامعہ اتنے سالوں کے بعد بھی کبیر علی کو وہ محبت اور توجہ نہ دے سکی، جوبہ حیثیت شوہر کبیر علی کا حق تھا۔
٭……٭……٭……٭
جب سامعہ واپس لوٹی تو اماں نے اُسے آڑے ہاتھوں لیا۔
’’کم از کم آج تو نہ جاتیں۔ تھوڑی دیر اپنے میاںکی خدمت ہی کر لیتیں۔ ثنا آئی تھی۔ کبیر علی کے لیے کچھ کھانے بنوا کر رکھ گئی ہے۔ کام والی کو بھی تیل، نمک اور مرچ کم رکھنے کی ہدایت کر گئی ہے۔‘‘ انہوں نے اپنے طور پر اُسے شرم دِلانے کی کوشش کی تو سامعہ کے آگ سی لگ گئی۔
’’ایک تو اِس ثنا سے اپنے گھر نہیں بیٹھا جاتا۔ جب منہ اُٹھایا بھائی کی محبت میں بھاگی چلی آتی ہے۔‘‘ وہ بلبلا کر بولی۔
’’اُسے اِلہام تو نہیں ہوا تھا۔ بھائی کی محبت نے ہی اُسے اِس کی طبیعت کا اِحسا س دِلایا اور میرے ایک فون پر دوڑی آئی۔ تم سے تو اتنا نہ ہوا کہ میاں کے پاس اُس کی بیماری میں چند گھڑی گزار لو… نہ جانے کون سا کام شروع کیا ہے۔ روز بھاگی چلی جاتی ہو۔ میاں کا خیال اور نہ ہی بچے کا… سارا گھر کام والیوں پر چھوڑا ہوا ہے… وہ سیاہ کریں یا سفید، کوئی فکر نہیں… اِس بار انہوں نے بھی کوئی لحاظ نہ کیا کہ اُن کی بیٹی کو کتنا بُرا لگے گا۔ اماں کی بات اُس کے اندر تک آگ لگا گئی اور وہ تنتناتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی۔ جہاں کبیر علی تھوڑی دیر پہلے ہی بیدار ہوئے تھے اور عصر کی نماز پڑھ رہے تھے۔ سلام پھیر کر انہوں نے سامعہ کی طرف دیکھا، جہاں غُصّہ اپنے عروج پر تھا۔ اپنا پرس اُس نے زور دار انداز میں الماری کے اندر پھینکا اور واش روم میں گُھس گئی۔ واپس آئی تو وہ دُعا مانگ کر جائے نماز سے اُٹھ چکے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ سامعہ اُن کی خیریت پوچھے، مگر اُدھر تو ایسے کوئی آثار نہ تھے۔
’’سُنیں…!‘‘ آخر سامعہ سے برداشت نہ ہو سکا تو وہ اُن کی طرف گُھوم کر بولی۔
’’یہ ثنا کو کیا پرابلم ہے…؟ روز روز کیوں آجاتی ہے…؟‘‘
’’ثنا آئی تھی…؟‘‘ اِس بار وہ حیران رہ گئے۔ ایسا کبھی نہ ہوا تھا کہ ثنا اُن کے گھر میں ہوتے ہوئے آئی اور اُن سے ملے بِنا ہی چلی گئی ہو۔
’’آپ تو یوں حیران ہو رہے ہیں جیسے وہ بہت دِنوں کے بعد آئی تھی۔ ابھی پچھلے مہینے ہی تو دونوں میاں بیوی آئے تھے۔‘‘ کبیر علی کی بے تابی سامعہ کو زہر لگ رہی تھی۔
’’یار! اُس کا گھر ہے۔ وہ جب چاہے آسکتی ہے۔‘‘ کبیر علی نے اُس کے لہجے کی بے زاری محسوس کرتے ہوئے بات ختم کرنی چاہی تو وہ اور بھڑک گئی۔
’’وہ آتی ہے اور اماں کو بھڑکا کر چلی جاتی ہے۔‘‘ وہ غُصّے سے بولی تو کبیر علی نے ہاتھ کے اِشارے سے اُسے آہستہ بولنے کو کہا۔
’’یار! میری طبیعت نہیں ٹھیک… بی پی ہائی لگ رہا ہے۔ کل بات کریں گے۔‘‘ وہ واقعی دُکھی تھے۔ وہ ثنا کو اِس گھر میں آنے سے کس طرح منع کر سکتے تھے۔ اُس عورت کی بے تُکی باتوں سے وہ اب خود بھی بے زار ہونے لگے تھے۔ پُرانی محبت کہیں کھو چکی تھی۔ محبت اپنے جواب میں بھی تو محبت مانگتی ہے۔ اگر نہ ملے تو ختم ہونے لگتی ہے۔ کمزور پڑنے لگتی ہے۔ اُس عورت سے تو اُنہیں کبھی ایک اچھا جملہ سُننے کو نہ ملا۔ کبیر علی کو لگتا تھا کہ اب اُن کی محبت تھکنے لگی ہے۔ سالوں جس کو پوجنے کی حد تک چاہا۔ وہ کبھی ایک محبت بھرا جملہ اُس کے یا اُس کے گھر والوں کے لیے نہ کہہ سکی۔ محبت کی تھکن کا بار اُٹھانا بہت مشکل عمل ہے۔ اِنسان خود اپنے اندر ہی دفن ہونے لگتاہے اور اب وہ اِس تھکن سے واقعی بیما ر ہونے لگے تھے۔ انہوں نے کیا کچھ نہ کیا تھا اِس عورت کے لیے او ر وہ اُن کے اکلوتے رشتے کو برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ کوئی اور عورت ہوتی تو اپنے شوہر کا اِحسان مانتے ہوئے نہ تھکتی کہ اُس کی ماں کو اپنے گھر میں رکھا ہوا ہے۔ بے شک وہ کبیر علی کی خالہ بھی تھیں، مگر تھیں تو ساس… مگر وہ اِحسان ماننے کے بجائے اُس کی بہن کا داخلہ ہی اِس گھر میں بند کرنا چاہتی تھی۔ وہ ثنا سے سامعہ کی دوستی اور محبت سے خوب واقف تھے۔ جانتے تھے کہ شادی سے پہلے کس طرح کُھلے اور پوشیدہ ثنا، سامعہ کی مدد کرتی رہتی تھی۔ وہ سامعہ کے ایسے روّیے پر بہت تکلیف میں تھے، مگر اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔
٭……٭……٭……٭
سیما نے بہت جلد ترقی کی منازل طے کر لی تھیں۔ آفندی صاحب اپنے بیٹے کی بدقسمتی کا سوچ کر دُکھی ہو جاتے۔ کاش! عمر ایسے ہیرے کی قدر کرتا تو آج اُن دونوں کا نام کاروباری اُفق پر ایک ساتھ چمکتا۔ واقعی وہ اتنی اچھی لڑکی کے بالکل قابل نہ تھا۔ آفس سے واپس آکر وہ خالو جان کو پورا وقت دیتی۔ اُن کے ساتھ دِن بھر کی نیوز شیئر کرتی۔ سارا دِن کی رُوداد اُنہیں سُنا کر اُن سے بزنس میں مشورے لیتی اور پھر دونوں مل کر کھانا کھاتے۔ آج بھی وہ کھانا کھاتے ہوئے اُنہیں ایک ایک چیز بہت محبت سے سرو کر رہی تھی۔ خالو جان کا موبائل بجنے لگا۔ انہوں نے فون اُٹھا کر نمبر دیکھا اور لائن کاٹ کر ایک طرف رکھ دیا۔ اُن کے پاس کھڑی پلیٹ میں چاول ڈالتی سیما کی نظروں سے عمر کا نمبر پوشیدہ نہ رہ سکا۔ انہوں نے عمر کی کال کاٹی تھی۔ اُس کا دِل دُکھ سے بھر گیا۔ اُس کی وجہ سے باپ بیٹے میں فاصلہ تھا۔ وہ ناچاہتے ہوئے بھی خود کو مجرم سمجھ رہی تھی۔ اُس نے چاول پلیٹ میں ڈالتے ہوئے دوبارہ فون کی طرف دیکھا اور پھر اپنی کرسی پر جا کر بیٹھ گئی۔ اُس نے کئی بار حوصلہ کیا کہ خالو جان سے عمر کی معافی کی درخواست کرے، لیکن حوصلہ نہ ہوا۔ وہ اب اُس کا نام سُننے کے بھی روادار نہ تھے، لیکن وہ جانتی تھی اکثر رات کو اُن کے کمرے کی لائٹ جب بہت دیر تک جلتی تو وہ سمجھ جاتی کہ آج پھر اُنہیں عمر شدّت سے یاد آرہا ہے۔ اُن کی نیند اُسی کو یاد کرکے اُڑی ہوئی ہے۔
’’خالو جان! آپ سے ایک بات کرنا تھی۔‘‘ اُس نے ڈرتے ڈرتے حوصلہ کیا۔
’’ہاں! بولو بیٹا… کیا کوئی آفس کا مسئلہ ہے…؟‘‘ انہوں نے فورک پلیٹ میں واپس رکھتے ہوئے پوچھا۔
’’مسئلہ ہے بھی… اور نہیں بھی…‘‘ اُس نے تھوڑا ہچکچاتے ہوئے کہا۔
’’دیکھو بیٹا! میں تمہیں بیٹی کہتا ہی نہیں، سمجھتا بھی ہوں… تم مجھے بہت عزیز ہو… اگر کوئی بات ہے تو کُھل کر کہو…‘‘ وہ اب پوری طرح اُس کی طرف متوجہ تھے۔
’’خالو جان! میں چاہتی ہوں کہ میں نانو بی کے گھر شفٹ ہو جاؤں۔‘‘ تمہید باندھنے کے لیے کچھ سمجھ نہ آیا تو اُس نے مرحومہ نانو بی کا سہارا لیا۔
’’کیوں…؟ ایسا کیوں کہہ رہی ہو۔ کیا اپنے بوڑھے خالو سے بے زار ہو چکی ہو…؟‘‘ وہ قدرے حیران تھے، مگر اُس کی بات کو لائٹ موڈ میں لیا۔
’’خدا کی قسم! ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ بس میں چاہتی ہوں کہ آپ عمر کو معاف کر دیں اور اُسے یہاں بُلا لیں۔’’ اُس نے ہمت کرکے کہہ دیا۔
’’میں اُس کو کبھی معاف نہیں کر سکتا… تم اگر اِس بوڑھے کو چھوڑ کر جانا چاہتی ہو تو بے شک چلی جاؤ۔ مگر اُس خبیث کی اِس گھر میں کوئی گنجائش نہیں۔ میں نے اُسے اِس گھر اور اپنی جائیداد سے عاق کر دیا ہے۔ یہ بات تم اچھی طرح جانتی ہو۔‘‘ اُن کی آواز تھوڑا بلند ہو گئی۔
’’خالوجان! شرعی اور قانونی طور پر اولاد کو عاق کرنے کی کوئی حیثیت نہیں اور پھر وہ نادم بھی ہے… پلیز! اُسے معاف کر دیں… میں نے بھی اُسے معاف کر دیا… ‘‘
’’بے شک تم ایک بڑے دِل کی مالک ہو، لیکن یہ بوڑھا اِس معاملے میں عمر کا نہیں، تمہارا باپ بن کر سوچ رہا ہے۔ میری سگی بیٹی کے ساتھ کوئی ایسا کرتا تو کیا میں اُسے معاف کر دیتا…؟ کبھی نہیں… سنو! یاد رکھو میں عمر کو جیتے جی تو معاف نہیں کر سکتا۔ میرے مرنے کے بعد وہ یا تم جو چاہو کرو۔‘‘ وہ یہ کہتے ہوئے غُصّے میں کھڑے ہو گئے اور اُس کی طرف دیکھے بغیر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔ سیما کی آنکھوں میں اُن کی محبت پر نمی سی آگئی، لیکن وہ جانتی تھی کہ ایک بوڑھا باپ بیٹے کی غلطیوں پر اُس سے کتنا شرم سار ہے۔ اُسے عاق کرکے خود کو سزا دے رہا ہے۔ اِس عمر میں اولاد پاس ہو کتنا سہارا ہوتا ہے اور اُس بدبخت نے اپنے باپ کو سہارا دینے کی بجائے نافرمانی کا راستہ چُن لیا۔
٭……٭……٭……٭
میم صباح فیس بُک اکاونٹ پر اپنی اَپ ڈیٹس ڈال رہی تھیں۔ ساتھ ساتھ اُن پر لوگوں کے کمنٹس بھی چیک کر رہی تھیں۔ اسکرول کرتے ہوئے اُن کے ہاتھ ایک کمنٹ پر رُک گئے۔ کمنٹ سے زیادہ پرفائل پکچر نے اُنہیں رُکنے پر مجبور کیا۔ ہلکے پھلکے میک اپ کے ساتھ لگی پروفائل پکچر کو دیکھ کر وہ سوچنے لگیں کہ اِس چہرے کو انہوں نے کہاں دیکھا تھا۔ ذہن پر بہت زیادہ زور ڈالنے کے بعد اُنہیں یاد آیا کہ سامعہ کبیر نام کی یہ لڑکی اُنہیں پچھلے ویک اینڈ پر ایک دوست کی پارٹی میں ملی تھی۔ جب باتوں باتوں میں اُسے معلوم ہوا کہ وہ میگزین اور ٹی وی آرٹسٹ کا میک اَپ کرتی ہیں۔ تو اُس نے خود کو ماڈل کے طور پر متعارف کروانے کا عندیہ ظاہر کیا۔ میم صباح نے بھی اُسے سیلون کا نام بتا کر اور آنے کی دعوت دیتے ہوئے جان چھڑائی۔ اِس بار واقعی وہ اُسے چانس دینے کے لیے مجبور ہو گئی تھیں۔ پروفائل پکچر میں لگی سیلفی سے وہ بے تحاشہ فوٹو جینک ظاہر ہو رہی تھی۔ میگزین یا ایڈ کمپنیز کو خوب صورت چہروں سے زیادہ فوٹو جینک چہرے چاہیے ہوتے ہیں، لیکن وہ خوب صورت ہونے کے ساتھ ساتھ فوٹو جینک بھی تھی۔ پہلی فرصت میں انہوں نے میسج کرکے اُسے اگلے دِن اپنے سیلون بُلا لیا۔ سامعہ کو میسج ملا تو وہ تقریباً پاگل ہی ہو اُٹھی۔ وہ جلد اَز جلد کبیر علی کو یہ خبر سُنانا چاہتی تھی، مگر وہ اجازت لینے کے لیے نہیں، بلکہ اپنا فیصلہ سُنانے کے لیے اُنہیں یہ سب بتانا چاہتی تھی۔ فیصلہ وہ کر چکی تھی۔ کسی بھی قیمت پر وہ یہ موقع ضائع نہیں کر سکتی تھی۔ سالوں بعد اُس کے دِل میں دبی خواہش بھڑکتا شُعلہ بن رہی تھی اور وہ اِس خواہش کو ہر قیمت پر پورا کرنا چاہتی تھی۔ اِسی لیے اُس نے کبیر علی کے آتے ہی میم صباح اور اپنی ساری چیٹنگ اُن کے سامنے رکھ دی۔ وہ حیران نظروں سے اُسے دیکھ رہے تھے۔
’’اِس کا کیا مطلب…؟‘‘
’’مجھے ہر قیمت پر یہ ایڈ کرنا ہے۔‘‘ اُس نے گویا اپنا فیصلہ سُنا دیا۔
’’آپ جانتے ہیں کالج کے زمانے سے مجھے ایکٹنگ کا شوق تھا۔ آپ کو یاد ہے کبیر جب میں انارکلی بنی تھی تو سب نے کتنی تعریف کی تھی… کتنا سراہا تھا… بس مجھے نہیں معلوم۔ میں یہ موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتی۔‘‘ وہ بچوں کی سی معصومیت سے کہہ رہی تھی۔ وہ حیران تھے کہ واقعی ایک بچے کی ماں بن کر بھی اِس کا روپ نہیں گہنایا، بلکہ مزید نکھر گیا تھا۔ نئے برانڈز کے کپڑے، جیولری اور میک اَپ نے اُس کے حُسن میں چار چاند لگا دیئے تھے۔ مگر اب وہ کالج گرل نہیں تھی ، بلکہ ایک بچے کی ماں تھی۔ ایسی بچگانہ باتوں پر اُسے خود سوچنا چاہیے۔
’’لیکن تم بچی نہیں ہو اچھی طرح جانتی ہو یہ میگزین اور ایڈور ٹائزنگ کمپنیوں کے ماحول…‘‘ انہوں نے اُسے سمجھانا چاہا۔ اُس نے اُن کی بات بیچ میں ہی اُچک لی۔
’’اِنسان جہاں جاتا ہے۔ اپنا ماحول خود بناتا ہے۔ ہم خود اچھے ہوں تو کوئی ہمیں بُرا نہیں بنا سکتا۔ میں نے کہہ دیا میں یہ ایڈ ہر حال میں کروں گی۔‘‘
’’اگر میں اجازت نہ دوں پھر بھی…‘‘ انہوں نے بڑے مان سے اُس کی طرف دیکھا۔
’’ہاں! پھر بھی… کیوں کہ یہ میرے مستقبل کا سوال ہے۔ مجھے اپنی زندگی جینے کا پورا اِختیار ہے۔ مڈل کلاس میں یہ بڑی خرابی ہے۔ عورت مردوں کو سارے اِختیار سونپ دیتی ہے۔ ورنہ جن بڑی کلاس کی عورتوں میں بیٹھتی ہوں۔ وہاں تو ہر شخص اپنی مرضی کی زندگی جیتا ہے۔ شوہر بیوی سے کوئی سوال کرتا ہے اور نہ ہی بیوی شوہر سے… مگر مجھے معلوم ہے آپ نے آج تک میری خوشی کا خیال رکھا ہے۔ آپ اِس خواب کی تعبیر میں میرا ساتھ ضرور دیں گے۔ وہ ایک دَم پٹڑی بدل کر اُن کے پاس آگئی اور ہاتھ پکڑ لیا۔ وہ اتنے سالوں میں اچھی طرح واقف ہو چکی تھی کہ کبیر علی سے اپنی بات کس طرح منوائی جا سکتی تھی۔ اُن کو کیسے موم کیا جا سکتا تھا۔ کبیر علی کا ہاتھ سامعہ کے ہاتھ میں آتے ہی موم بن گیا۔ وہ اپنی چمکیلی بڑی بڑی کتھئی آنکھوں سے اُن کی طر ف دیکھ رہی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اپنی یہ بات غُصّہ کرکے یا ضد کرکے نہیں منوائی جا سکتی تھی۔ وہ اُن کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر بیٹھی تھی اور بڑی محبت سے اُنہیں دیکھ رہی تھی۔ وہی ہوا، کبیر علی پگھل گئے۔ جیسے کوئی عاشق معشوق کی ناجائز بات پر سر ہلا دیتا ہے۔ انہوں نے بھی اُس کی بات مان لی۔
’’مگر میری ایک شرط ہے…‘‘ وہ کچھ سوچتے ہوئے بولے۔
’’ہاں! بولیں… کیسی شرط…؟‘‘ وہ بے تابی سے بولی۔
’’پہلا اور آخری ایڈ ہوگا۔ اِس کے بعد تم کوئی اِشتہار نہیں کرو گی۔‘‘
’’ لیکن……‘‘ اُس نے کچھ کہنا چاہا تو کبیر علی نے ہاتھ اُٹھا کر روک دیا۔
’’یہ میری واحد شرط ہے۔ اگر مان سکو تو میری طرف سے اجازت ہے۔ ورنہ مشکل ہوگا۔‘‘ وہ نہیں چاہتے تھے کہ سامعہ اِس دنیا کی چکا چوند میں گُم ہو جائے۔ ایڈ کی اجازت نہ دے کر اُس کا دِل بھی نہیں توڑنا چاہتے تھے۔ چار و ناچار سامعہ نے اُن کی بات مان لی۔ اُسے یقین تھا کہ ایک ایڈ کے بعد ہی اُسے اتنی کامیابی مل جائے گی کہ اُس پر اِشتہارات کی برسات ہو جائے گی۔ شاید اُس وقت کبیر علی کسی طور اُسے منع نہیں کر سکیں گے۔ اِس وقت اُن کی بات ماننے میں کوئی حرج نہیں۔ کیوں کہ اماں کو صرف وہ منا سکتے تھے۔ اگر اُنہیں کوئی اِعتراض نہیں تو پھر اماں کیا کہہ سکیں گی۔ یہ سوچ کر اُس نے اُن کی شرط مان لی۔
’’چلو! اب جلدی سے اچھی سی چائے پلا دو۔ سر میں بہت درد ہے۔‘‘ وہ صوفے پر دراز ہوتے ہوئے بولے۔ وہ خوشی سے نہال ہوتے ہوئے کچن کی طرف بڑھ گئی، تاکہ کام والی کو چائے کے ساتھ چند لوازمات کا بھی کہہ سکے۔
٭……٭……٭……٭
چائے کی ٹیبل پر یہ بات اُس نے اماں کو بھی بتا دی۔ وہ تو غُصّے سے کھول گئیں۔اُن کے خیال میں وہ شادی شدہ اور ایک بچے کی ماں تھی اور اِس قسم کی خرافات کی اب اُس کی زندگی میں کوئی گنجائش نہیں۔ اُنہیں حیرانی تھی کہ کبیر علی نے کیسے اجازت دی۔ انہوں نے اُسے سمجھانے کی کوشش کی تو کبیر علی نے ہاتھ کے اِشارے سے اُنہیں خاموش رہنے کو کہا اور بتایا کہ اجازت تو دی ہے مگر پہلی شرط ہی یہ ہے کہ یہ اِس کی زندگی کا پہلا اور آخری اِشتہار ہوگا۔ اِس کے بعد وہ سب کچھ چھوڑ کر گھر اور بچے کو پوری توجہ دے گی۔
’’ٹھیک ہے بھئی! یہ تم دونوں میاں بیوی کا معاملہ ہے۔ میں کون ہوتی ہوں اِس معاملے میں ٹانگ اَڑانے والی…‘‘ وہ قدرے ناراض تھیں۔ اُنہیں اپنی بیٹی کی فطرت اور ہٹ دھرمی کا اچھی طرح اندازہ تھا۔ وہ اتنی جلدی بات ماننے والوں میں سے نہ تھی، لیکن بھلا وہ اب کیا کہہ سکتی تھیں۔ جب اُس کے شوہر کو کوئی اِعتراض نہ تھا۔
دوسرے دِن ہی وہ میم صباح سے ملنے اُن کے سیلون گئی۔ انہوں نے سیلون کے سب سے ایکسپرٹ آرٹسٹ سے اُس کا میک اَپ کروایا۔ میک اَپ کے بعد وہ خود حیران تھیں کہ وہ کہیں سے بھی ایک بچے کی ماں نہیں لگ رہی تھی۔ انہوں نے اُسے سختی سے منع کر دیا۔ کسی کو بھی اپنے شادی شدہ اور بچے کی ماں ہونے کے بارے میں بتانے کی قطعاً ضرورت نہیں۔ مارکیٹ ویلیو پر فرق پڑتا ہے۔ مجھ سے تیار ماڈل کی تصاویر جب بھی کسی بڑے کلائنٹ کے پاس گئیں۔ اُس نے فوراً رابطہ کیا۔ مجھے یقین ہے کہ کل ہی کلائنٹ کا فون ایڈور ٹائزنگ کمپنی کو آ جائے گا۔ ایک بڑی میک اَپ کمپنی کے نئے پراڈکٹ سے اُس کا ڈیبیو ہو رہا تھا۔ سامعہ کو ابھی تک یقین نہیں آرہا تھا۔ اتنی جلدی اُس کے خواب پورے ہونے جا رہے ہیں۔ وہ بے اِنتہا خوش تھی۔ میک اپ آرٹسٹ ٹونی اُس کی فریش جلد کا راز پوچھ رہا تھا۔ وہ اماں کو دُعائیں دے رہی تھی کہ بچپن سے ہی انہوں نے اُسے بادام کے تیل کی ہلکی سی مالش کی عادت ڈالی تھی۔ جو وہ آج تک سونے سے پہلے اپنے چہرے پر کرنا کبھی نہیں بُھولتی۔ ہلکا سا نیم گرم تیل اپنی ہتھیلی پر لگا کر وہ پورے چہرے پر اُنگلیوں کے پوروں سے مالش کرتی اور زائد تیل کو کاٹن سے صاف کرکے سو جاتی۔ اِسی لیے اُس کی جلد آج بھی کسی بچے کی طرح نرم و ملائم تھی۔
’’میں نے اب تک بہت ساری ماڈلز کا میک کیا ہے۔ یقین کرو اِتنی نرم و ملائم اور فریش جلد کسی کی نہیں تھی۔ کون سی لوشن یا کریم لگاتی ہو…؟‘‘ اُس سے اُس کی خوب صورت جلد کا راز جاننے کے لیے وہ بہ ضد تھا۔
’’کچھ نہیں… ڈھیر سارا فروٹس کھاتی ہوں اور پانی پیتی ہوں…‘‘ وہ پہلے بتانے لگی تھی۔ پھر اُسے ایک ماڈل کا انٹرویو یاد آگیا، جس نے ٹی وی پر اپنی چمک دار جلد کا یہی راز بتایا تھا۔ آخر اُسے بھی تو ایسے جواب آنا چاہیے۔ ٹونی ہنس پڑا۔
’’بڑی تیز ہو… ابھی پہلا شوٹ ہے اور ابھی سے تمہیں دوسری ماڈلز کی طرح جھوٹ بولنا بھی آگیا… یہ تو آن سکرین جواب ہے۔ آف سکرین بتاؤ کیا محنت کرتی ہو…؟ کیوں کہ ایسی خوب صورت اسکن پانی اور ڈھیر سارے فروٹس کے بعد نہیں ملتی۔ اِس کے لیے اِس سے کچھ زیادہ کرنا پڑتا ہے۔‘‘ وہ ٹونی کے طنز پر شرمندہ ہو گئی اور سب کچھ بتا دیا۔
’’بہت معصوم ہو۔ تمہاری جگہ کوئی عیّار اور چالاک ماڈل ہوتی تو کبھی نہ بتاتی اور بہ ضد رہتی کہ میں تو ڈھیر سارا پانی اور فروٹس ہی کھاتی ہوں…‘‘ اُس نے ماڈل کے انداز میں لہک کر بتایا تو وہ بھی ہنس پڑی۔
وہ زبان کے ساتھ ساتھ اپنے ہاتھ بھی بہت مہارت سے چلا رہا تھا۔ ماڈل یا ایک اچھا آرٹسٹ بننے کا خواب سالوں سے اُس کی آنکھوں میں تھا۔ آج اُس کی تکمیل کا دِن تھا۔ وہ بھلا خوش کیوں نہ ہوتی۔ اُس کے ہر انداز سے خوشی جھلک رہی تھی۔
’’بہت خوش لگ رہی ہو…؟‘‘ ٹونی نے اُس کی آنکھوں میں تیار ہونے کے بعد جھلملاتے ستارے دیکھ کر پوچھا۔
’’کیا مجھے خوش نہیں ہونا چاہیے…؟ سالوں کے بعد میری اتنی بڑی خواہش پوری ہو رہی ہے۔ میم صباح بتا رہی تھیں کہ کوئی انٹرنیشنل میک اَپ پراڈکٹ ہے، جس کے لیے میگزین شوٹ ہے۔ ابھی میگزین شوٹ ہے۔ اِن شاء اللہ کل ٹی وی اور سوشل میڈیا کے لیے بھی آفرز آئیں گی۔‘‘ ٹونی کے ہونٹوں پر اُس کی بات پر ایک طنزیہ مُسکراہٹ اُبھر آئی۔
’’تمہیں واقعی خوش ہونا چاہیے۔ تم راتوں رات مشہور ہو جاؤ گی، لیکن کیا تم جانتی ہو اکثر یہ راستہ اپنی چکا چوند میں آنے والوں کی آنکھیں خیرہ کرکے اُنہیں اُن کی اصل منزل سے دُور کر دیتا ہے۔‘‘ وہ چاہتا تھا کہ اتنی پیاری اور معصوم سی لڑکی اِس دام میں پھنس کر خراب نہ ہو۔ اِسی لیے دبے دبے انداز میں اُسے سمجھا رہا تھا۔ کُھل کر نہیں کہہ سکتا تھا کہ بی بی یہ وہ بھول بھلیاں ہیں، جہاں آ کر اگر ایک بار کوئی شخص گُم ہو جائے تو ساری عمر اِس سے نہیں نکل پاتا۔
’’تم تو مجھے بہت اچھے خاندان کی لگتی ہو۔ پھر کیوں اِس بھیڑ میں گم ہونا چاہتی ہو…؟‘‘ وہ اب بھی اُسے دبے دبے اَنداز سے سمجھا رہا تھا۔
’’تم یہاں کتنے سال سے ہو…؟‘‘ سامعہ نے اچانک اُس سے سوال کر لیا۔ وہ چونک کر اُسے دیکھنے لگا۔
’’میں کب آیا تھا…؟ یہ تو مجھے بھی یاد نہیں، لیکن یہ ضرور یاد ہے کہ تمہاری طرح اپنی آنکھوں میں ماڈل بننے کے بہت سارے خواب لے کر آیا تھا۔ پھر دیکھو! وقت نے کیا سے کیا بنا دیا…‘‘ وہ اُس کے لمبے بالوں سے رولز نکالتے ہوئے بولا۔
’’کیا مطلب…؟‘‘
’’مطلب تمہیں ابھی سمجھ نہیں آئے گا۔ تمہاری طرح مجھے بھی شروع میں مطلب سمجھ نہیں آیا۔ مگر پھر وقت نے سارے مطلب سمجھا دئیے۔ تم ابھی سمجھنے کی کوشش کرو گی۔ تب بھی کچھ سمجھ نہیں آئے گا۔ مجھے بھی بہت سالوں بعد سمجھ آیا کہ میں ایسا تو نہیں تھا جیسا اِس راہ پر چلتے ہوئے بن گیا ہوں۔‘‘ سامعہ کو اُس کے لمبے لمبے بالوں میں ہیئربینڈ، اُنگلیوں میں انگوٹھیوں اور کلائی میں سجے رنگ برنگے بینڈز کے علاوہ اُس کی بات چیت کے انداز سے سمجھ آ گیا کہ کبھی وہ ایک خوب صورت لڑکا رہا ہوگا، مگر پارلر میں کام کرنے اور خاص طور پر خواتین کے ساتھ کام کرنے کے بعد وہ ناچاہتے ہوئے بھی تیسری جنس کا ’زبردستی روپ‘ اِختیار کر گیا تھا۔
’’کیا تم خوش نہیں ہو…؟‘‘ سامعہ نے اُس کی چمکتی آنکھوں میں پانی کی نمی دیکھ لی تھی۔ اِسی لیے پوچھا۔
’’کیا کوئی کبوتر اپنے بندھے ہوئے پروں کے ساتھ بھی خوش رہ سکتا ہے۔ خیر چھوڑو! یہ باتیں تم ابھی نہیں سمجھو گی۔ جب وقت کے تھپیڑے تجربوں کی لاٹھی سے بات سمجھاتے ہیں تو بہ خوبی ساری بات بندے کی سمجھ آجاتی ہے۔ چلو چھوڑو! آئینے میں دیکھو… کتنی پیاری لگ رہی ہو… قاتل خود قتل ہونے کو تیار ہو جائیں گے۔‘‘ اُس نے پھر ایک ذومعنی سی بات کی، لیکن سامعہ نے اُس کی بات پر کوئی توجہ نہ دی۔
اِنسان جب اپنے خوابوں کی شکست دیکھتا ہے تو دوسروں کو بھی خواب توڑنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ سامعہ کے خیال میں وہ ایک ماڈل بننے آیا تھا۔ ماڈل نہ بن سکا تو اندر کا زہر باہر نکال کر اُسے بھی ڈرا رہا تھا۔ یقینا وہ ایک بڑی ماڈل بن سکتی ہے، مگر اپنے سفر کے آغاز پر ایسے لوگوں کی باتوں پر دھیان دینے سے اُس کا راستہ کھوٹا ہو سکتا تھا۔ اِسی لیے خاموشی ہی بہتر تھی۔ اُس کی فوٹو گراف بہت اچھی آئی تھیں۔ پورے دِن کا شوٹ تھا، جو ایڈور ٹائزمنٹ کمپنی کے ذریعے کلائنٹ کو بھیجا گیا۔ کلائنٹ نے چند اچھی فوٹو گراف سلیکٹ کرکے اُسے اگلے ہفتے میٹنگ کا ٹائم دے دیا۔
’’مگر میٹنگ کس سلسل میں……؟‘‘ اُس نے میم صباح سے فون پر پوچھا۔
’’اَرے بھئی! یہ تو میگزین شوٹ تھا۔ وہ تمہیں اپنے ٹی وی ایڈ کے لیے ماڈل لینا چاہتے ہیں۔ بہت بڑی کمپنی ہے۔ ملنے سے اِنکار مت کرو۔ ورنہ ایڈ کیسے ملے گا…؟ انہوں نے سمجھایا تو وہ سوچ میں پڑ گئی۔ کبیر علی سے تووعدہ کر بیٹھی تھی کہ اِس کے بعد کوئی ایڈ نہیں کرے گی۔ پھر وہ کیسے مل سکتی تھی…؟ وہ شش و پنج میں مبتلا تھی۔ ابھی تو اُس کا آغاز تھا۔ آغاز بھی اِتنا دھماکہ دار کہ ایک برانڈ نے اُسے اپنے ٹی وی ایڈ کے لیے چُن لیا تھا۔ ابھی تو اُس کی تصاویر چند لوگوں نے ہی دیکھی تھیں اور جس نے بھی دیکھیں اُسے بہت سراہا۔ تو کیا اُس کا یہ سفر اپنے آغا ز سے پہلے ہی اِختتام پزیر تھا۔ دوبارہ کبیر علی سے کوئی بات کرنا اُس کے لیے مشکل تھا۔ وہ جانتی تھی کہ کبیر علی کبھی نہیں مانیں گے۔ تو کیا کروں…؟ ایک بار اُن کو بتائے بغیر برانڈ منیجر سے مل لوں۔ ملنے میں کیا حرج ہے…؟ ملنے کا مطلب یہ تھوڑی ہے کہ میں نے وہ ایڈ ضرور کرنا ہے۔ وہ اپنے دِل کو اِس طرح کی تاویلیں دے کر منا رہی تھی۔ آخر دِل بھی تو اُس کا ہی تھا، اگر دماغ کو منانے کی کوشش کرتی تو دماغ کبھی نہ مانتا۔ دِل تھا اور دِل آخر اپنی من پسند بات منوا کر ہی دَم لیتا ہے۔ اُس نے میم صباح کو فون کرکے ’اوکے‘ کر دیا۔ وہ بہت خوش ہوئیں۔
’’سنو! ماڈلز کی زندگی میں ایسے مواقع بہت مشکل سے آتے ہیں۔ بہت خوش نصیب ہو، جو اپنے پہلے فوٹو شوٹ کے بعد ہی کلائنٹ کی نظروں میں آ گئیں۔ ورنہ ماڈلز کو تو کلائنٹ سے ملاقات کے لیے پتا نہیں کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔‘‘ وہ پوچھ نہ سکی کہ وہ پاپڑ کیا اور کیسے ہوتے ہیں…؟ اُسے کچھ کچھ اندازہ تو تھا کہ اِس انڈسٹری میں اپنی جگہ بنانے کے لیے لڑکیوں کو بہت کچھ کرنا پڑتا ہے اور وہ خوش قسمت تھی کہ اُسے ایسا کچھ نہیں کرنا پڑا۔ ایک بڑی برانڈ کا ایڈ اُس کی جھولی میں خود بہ خود آگرا۔ وہ میم صباح کو یہ بھی نہ بتا سکی کہ اُس کے شوہر نے آگے کام نہ کرنے کی شرط رکھ دی ہے۔ شاید وہ آگے کوئی ایڈ نہ کر سکے۔ وہ پہلے برانڈ منیجر سے ملنا چاہتی تھی پھر اُس کے بعد کوئی فیصلہ…
’’تمہاری منیجر کے ساتھ میٹنگ اگلے ہفتے پی سی ہوٹل میں ہے۔ تم لنچ اُس کے ساتھ کروگی۔‘‘
’’مگر……‘‘ وہ کہتے کہتے رُک گئی کہ آفس کے بجائے منیجر نے اُسے ہوٹل میں کیوں بُلایا ہے۔ شاید یہ میٹنگز اِسی طرح ہوتی ہوں۔ وہ تیزی سے منیجر کا نمبر نوٹ کر رہی تھی۔ میم صباح نے اُسے ہدایت کی اگلے ہفتے پچیس تاریخ کو ایک بجے اُسے فون کرکے چلی جانا۔ اگر اُس کی کوئی اور میٹنگ نہ ہوئی تو وہ تم سے کھانے کی ٹیبل پر ہی مل لے گا۔ اُمید ہے تم دونوں کھانے کے دوران ہی اچھی گپ شپ لگا لو گے۔ اِس کام میں دونوں پارٹنرز کا ایک دوسرے کے ساتھ بے تکلف ہونا بہت ضروری ہے۔ تم سمجھ رہی ہو نا میری بات… جب تک دونوں کے درمیان بے تکلفی کی فضا نہیں ہوگی تو تم کیسے سمجھ پاؤ گی کہ تمہاری برانڈ تم سے کیا چاہتی ہے۔ وہ درِ پردہ اُسے بہت کچھ سمجھانا چاہتی تھیں۔ وہ صرف یہ سوچ رہی تھیں کہ گھر سے کیا بہانہ کرکے وہ ملنے جائے گی۔ آج کل اماں اُس کے آنے جانے پر بہت سوال کرنے لگیں تھیں۔ کہاں جارہی ہو…؟ کیوں جا رہی ہو…؟ کب تک آؤ گی…؟ وغیرہ وغیرہ۔ حالاں کہ وہ جانتی تھیں کہ اُس کا شیئرز کا کام بھی تھا اور اِسی لیے اُسے کئی بار اسٹاک ایکسچینج کے دفتر بھی جانا پڑتا تھا۔ آج کل وہ اُس کے باہر آنے جانے پر بہت اِعتراض کرنے لگیں تھیں۔ جس سے وہ چِڑ گئی۔ اُن کا خیال تھا کہ شیئرز کا کام کرکے اُس نے اپنے لیے ایک فضول مصیبت مول لی ہے۔ جب میاں اچھا کماتا ہے تو اُسے باہر اپنا وقت فضول ضائع کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ وہ گھر اور بچے کو پورا ٹائم دے۔ وہ اُن کی باتوں کو سرسری اُڑا کر باہر نکل جاتی۔ وہ بہت کچھ کرنا چاہتی تھی۔ پچھلی چند پارٹیوں میں اُس کی دوستوں نے کچھ پیسا جوئے میں بھی لگوا دیا، جو اُس نے بآسانی جیت لیا۔ حرام پیسا جیتنے کے بعد تو اِنسان کا حوصلہ اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ وہ ایلیٹ کلاس کی ساری بُرائیاں اچھائیاں سمجھ کر اپناتی جا رہی تھی۔ بِنا سوچے سمجھے کہ جس دِن اِن باتوں کی خبر کبیر علی کوہوئی تو وہ کتنا ناراض ہوں گے…؟ وہ ایسا موقع آنے ہی کب دے گی۔ اگر چُھپ چُھپا کریہ کھیل چل رہا تھا تو کیسی قباحت… کسی کا کیا جا رہا تھا۔ اُسے خوشی مل رہی تھی۔ بس یہی کافی تھا۔
٭……٭……٭……٭
آج اُسے ایک بجے نکلنا تھا۔ اُس نے ایک اچھا اور جدید تراش خراش کا سوٹ نکالا۔ اُس کے ہم رنگ شوز اور جیولری… وہ ہر حال میں سامنے والے کو چِت کر دینا چاہتی تھی۔ بے شک وہ یہ ایڈ نہ کرتی، اُسے فکر نہیں تھی مگر اِس بات کا اِحساس ہی کتنا خوش کُن تھا کہ اتنی بڑی کمپنی کے منیجر سے ملنے جا رہی تھی۔ یقینا اُسے وہ پسند آئی تھی، اِسی لیے تو بُلایا تھا۔ بھلا مل لینے میں کیا حرج تھا۔ اُسے اِحساس بھی نہ تھا کہ وہ مکڑی کے ایک ایسے جالے میں پھنسنے جا رہی تھی، جس میں قید ہونے کے بعد واپسی کا کوئی راستہ نہ تھا۔ وہ تیار ہو کر اماں کو بتانے آئی تو وہ دوائی کے زیرِاثر سو رہی تھیں۔ اماں کے سوالات سے بچنے پر اُس نے شکر ادا کیا اور کام والی کو بتا کر گھر سے نکل آئی۔
ڈرائیور کے ساتھ پی سی ہوٹل پہنچ کر ڈرائیور کو واپس بھیج دیا کہ کال کرکے دوبارہ بُلا لے گی۔ اُس نے پہلے ہی برانڈ منیجر کو فون کر دیا تھا۔ ٹھیک ایک بجے وہ اور برانڈ منیجر آمنے سامنے تھے۔ اُس کے سامنے پینتالیس سالہ عیّار سا شخص موجو دتھا، جس کی ہر نظر اُسے اپنا جسم ٹٹولتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔
’’میم صباح نے آپ کی تعریف غلط نہیں کی تھی۔ پہلے تو مجھے لگا وہ سارا فوٹو شوٹ اُن کے میک اَپ کا کمال تھا، مگر مس سامعہ! اب آپ کو دیکھنے کے بعد میم صباح کی بات سے سو فیصد اِتفاق کرتا ہوں کہ آپ میں کچھ الگ ہی بات ہے۔‘‘ وہ کچھ زیادہ ہی بے باکی سے اُس کی تعریف کر رہا تھا، لیکن سامعہ کو تعریف اچھی لگ رہی تھی۔ اُس کے دماغ میں ایک فلم چلنے لگی اور اِس فلم میں صرف ایک ہی چہرہ گردش کر رہا تھا۔ اُس کا چہرہ جو شاید وہ کبھی بُھول ہی نہیں پائی تھی۔ وہ بھی تو اُس کی ایسے ہی تعریف کرتا تھا۔ کُھلے ڈلے انداز میں… ایسی تعریف کبیر علی نے کبھی نہیں کی تھی۔ اُس کی نظریں مسلسل سامعہ کے چہرے سے پھسلتی ہوئی اُس کے جسمانی خدوخال پر اَٹک جاتیں۔
’’چلیں! پہلے پیٹ پوجاکر لیں، بزنس کی باتیں تو ہوتی ہی رہیں گی۔‘‘ برانڈ منیجر بلال نے کھڑے ہوتے ہوئے اُس کی طرف دیکھا۔ حالاں کہ وہ اِرادہ کرکے آئی تھی کہ ایسی کسی آفر کو وہ نرمی سے شکریہ کے ساتھ منع کر دے گی، لیکن اُس سے منع نہ ہو سکا۔ وہ نہ جانے اُس کے اِنکار کو کیا سمجھے۔ اِسی لیے بلال کے ساتھ اُٹھ کر بوفے ایریا میں آگئی۔ جہاں ایک خلقت کھانوں کی ڈشز پر ٹوٹی پڑی تھی۔ بلال نے بھی کچھ سامان پلیٹ میں ڈالا اور اُسے اِشارے سے کہا کہ وہ بھی پلیٹ میں کھانا ڈال کر میز پر ہی آجائے۔ اُس نے چند چیزیں اِس خیال کے ساتھ پلیٹ میں ڈال لیں کہ وہ کھائے یا نہ کھائے اِس کی پیمنٹ تو بلال نے کر دی ہے۔ یقینا اچھا نہیں لگے گا اگر وہ اِس وقت کھانے میں اُس کا ساتھ نہ دے۔
’’اَرے مس! آپ نے تو کچھ نہیں لیا… میں جانتا ہوں آپ جیسی خواتین اِنتہائی ویٹ کانشس ہوتی ہیں، لیکن کبھی کبھی تو سب چلتا ہے۔‘‘ وہ بڑے مزے سے اپنا فوڈ اِنجوائے کر رہا تھا۔ اِسی لیے اُس کی پلیٹ میں سلاد کے چند پتے اور چکن تکہ دیکھ کر بولے بنا نہ رہ سکا۔
’’نہیں سر! میں بس اتنا ہی کھاتی ہوں۔‘‘ وہ ہلکی سی مُسکراہٹ کے ساتھ بولی۔
’’سر نہیں بلال نام ہے میرا… مجھے خوشی ہوگی اگر آپ میرا نام لیں۔ ویسے مس سامعہ! آپ زیادہ سے زیادہ مُسکرایا کریں۔‘‘ وہ بڑے غور سے اُسے تکتے ہوئے بولا۔
’’کیوں سر…؟ میرا مطلب ہے بلال…!‘‘ وہ جھینپ گئی۔ اُس نے فوراً اُس کی بات مان لی۔
’’بھئی حیرت ہے۔ اِتنی خوب صورت مُسکراہٹ والی لڑکی کو کبھی کسی نے بتایا نہیں کہ اُس کی مُسکراہٹ بہت خوب صورت ہے۔ سامنے والے کو اُس کے ایمان سے محروم کر دیتی ہے۔‘‘ اِس بار تیر نشانے پر لگا اور وہ دوبارہ کُھل کر مُسکرا دی۔
اُس نے بات ہی ایسی کہہ دی تھی۔ پھر دونوں کے درمیان بہت جلد بے تکلفی پیدا ہو گئی۔ ویسے بھی وہ اب گھر میں بیٹھنے والی عام سی لڑکی تو رہی نہ تھی، جو ایسی باتوں پر مردوں سے شرمائے یا گھبرائے۔ اُسے بھی اندازہ ہو گیا تھا کہ سامنے والا اُس سے بے تحاشا متاثر ہو چکا ہے، مگر اُسے بالکل اندازہ نہ تھا کہ وہ اُس کے ساتھ مکڑے اور جال کا کھیل کھیلنے والا ہے۔ اُس کے اِردگرد ایسا جالا بُن رہا تھا، جس سے باوجود کوشش کہ وہ نکل نہیں سکتی تھی۔ عورتوں کے لیے قدرت نے اپنی کتنی نشانیاں کُھول کر رکھی ہیں، لیکن ہے کوئی جو سوچے اور سمجھے… مرد فطرتاً شکاری ہے اور عورت شکار… لیکن ایک شکار کرنے سے باز نہیں آتا اور ایک شکار ہونے سے… سب کچھ جاننے کے باوجود عورت تارِ عنکبوت میں پھنس جاتی ہے اور بے چاری کہلاتی ہے۔ دُنیا جہاں میں مرد کی ریا کاریوں کے قِصّے سُننے کے باوجود جب اُسے کوئی اپنی میٹھی اور چکنی چپڑی باتوں سے شکار کرنے کی کوشش کرتا ہے تو بآسانی شکار بن جاتی ہے۔ شکار کرنا مرد کی فطرت… اور جانتے بوجھتے شکار ہونا عورت کی فطرت… مگر بُرا صرف مرد بنتا ہے کہ اُس نے بے وفائی کی… عورت کو دھوکا دیا… مگر بات اتنی ہے کہ عورت نے جانتے بوجھتے دھوکا کھایا۔ کیوں…؟
سامعہ کو اندازہ تھا کہ بلال اپنی چکنی چپڑی باتوں سے اُس کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن فطرتاً عورت ایسی چکنی چپڑی تعریفیں سُننے اور اُن پر ایمان لانے سے باز نہیں آتی۔ جتنی دیر اُن دونوں نے وہاں کھانا کھایا، وہ صرف اُس کے حُسن کے قصیدے ہی پڑھتا رہا۔ اِس جیسی ماڈل آج تک اُن کے برانڈ کو نہیں ملی۔ وہ اُسے قائل کرنے کی بھرپور کوشش کررہا تھا کہ اِس ایڈ میں آنے کے بعد دُنیا بھر میں سامعہ کے حُسن کے قصیدے پڑھے جائیں گے۔ وہ راتوں رات مشہور ہو جائے گی اور وہ جو صرف ایک ملاقات کے لیے آئی تھی۔ کھانے کے اِختتام تک وہ کبیر علی کی لگائی ہوئی شرط پر لعنت بھیج چکی تھی۔ جب اُس کا ایڈ چلے گا تو خود کبیر علی بھی اپنے دوستوں میں اُس کا ذِکر بہت قابلِ فخر انداز میں کرے گا۔
سامعہ! تم یقین کرو، جب تمہاری تصاویر مجھے ملیں تو میں نے فوراً میم صباح کو فون کیا کہ بس مجھے اپنے برانڈ کے نئے ایڈ کے لیے یہی لڑکی چاہیے۔ پہلی فرصت میں فلائٹ لے کر کراچی سے لاہور آ گیا۔ وہ آپ سے تم کا راستہ طے کرنے میں بھی کسی طرح کی دیر نہیں کرنا چاہتا تھا۔ ناجانے اُس کے ذہن میں کیا پل رہا تھا۔ بہت جلدی میں تھا۔
’’میں چاہتا ہوں کہ جلد اَز جلد دُبئی میں اِس ایڈ کی شوٹنگ شروع کر دی جائے…‘‘ سامعہ نے کافی حیرت سے بلال کو دیکھا۔
’’کیوں کیا ہوا…؟ کوئی اِعتراض ہے کیا…؟‘‘ بلال نے اُس کی آنکھوں کی حیرت پڑھ لی۔ ایک گھنٹے میں تو ماڈلز کے ساتھ اُس کے ایگریمنٹ بھی ہو جاتے تھے۔ یہاں ابھی تک وہ صرف اُسے گھیرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اِس کام کے لیے وہ تیار تھی۔ تب ہی تو ملاقات کے لیے آمادہ ہوئی، لیکن اپنی بات کے جواب میں ہاں کے بجائے حیرت دیکھ کر وہ خود بھی حیران رہ گیا۔ اُس کا خیال تھا کہ اُس کی آفر پر وہ خوشی سے جُھوم اُٹھے گی، لیکن سامعہ کے تذبذب نے بلال کو سوال کرنے پر مجبور کر دیا۔
’’نہیں… اِعتراض تو کوئی نہیں… مگر میرے لیے دُبئی جانا مشکل ہو جائے گا۔ گھر سے پرمیشن نہیں ملے گی۔‘‘ وہ کبیر علی اور اُس کی شرط کے بارے میں نہیں بتا سکتی تھی۔ میم صباح نے سختی سے منع کیا تھا کہ اپنی شادی اور بچے کے بارے میں کسی کو نہ بتائے اور وہ اِسی لیے یہ بات نہ بتا سکی۔
’’اَرے یہ کون سی بڑی بات ہے۔ آپ اپنے فادر سے میری بات کروائیں۔ اُن سے پرمیشن لینا میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔‘‘ وہ ہنس پڑا۔ اُس کا خیال تھا کہ کوئی اور بڑی وجہ ہوگی، لیکن یہاں تو وہی پُرانا گھریلو پرابلم نکلا۔ سامعہ کی آنکھوں کے سامنے مرحوم ابا جی آگئے تو اُسے جُھرجُھری آگئی۔ اگر وہ زندہ ہوتے تو آج سامعہ کسی ایڈ میں کام کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہ سکتی۔
’’نہیں نہیں! آپ اُن سے بات نہیں کر سکتے۔ میں اُنہیں خود ہی منا لوں گی…‘‘ وہ گھبرا کر بولی، جیسے بلال واقعی ابا جی سے بات کرنے جا رہا ہو۔
’’دیکھو لڑکی! یہ ایڈ تمہاری موجودہ زندگی کو یکسر بدل دے گا۔ ہر طرف تمہارے بڑے بڑے بِل بورڈز نظر آئیں گے… تو سوچنا بند کرو اور ایگریمنٹ سائن کرو۔ چھ بجے میری فلائٹ ہے۔ مجھے واپس بھی جانا ہے۔‘‘ وہ یک دَم بور ہو گیا۔ کتنا دماغ کھپانا پڑا تھا اِس لڑکی کو شیشے میں اُتارنے کے لیے اور وہ ابھی تک سوچ میں پڑی ہوئی تھی کہ کام کرے یا نہ کرے۔
اُس کے موڈکو تبدیل ہوتا دیکھ سامعہ نے ایک دَم فیصلہ کر لیا کہ وہ یہ ایڈ ضرور کرے گی۔ کسی نہ کسی طرح کبیر علی سے اجازت لے کر دُبئی بھی ضرور جائے گی۔
’’اوکے بلال! میں تیار ہوں۔ لائیں دیں ایگریمنٹ…‘‘ وہ بڑی ادا سے بولی تو بلال جیسے کھِل گیا۔
’’لائک آ گُڈ گرل… اوکے تو چلو کمرے میں…‘‘ وہ اُٹھتے ہوئے منہ پونچھتا ہوا بولا۔
’’کمرے میں… مگر کیوں…؟‘‘ وہ گھبرا گئی۔
’’بھئی! ایگریمنٹ کے کاغذات میں اپنی جیب میں لے کر تو نہیں پھر رہا۔ یقینا اُوپر کمرے میں ہیں۔ آجاؤ، کھانا تو ہم کھا چکے ہیں۔ کافی اُوپر ہی منگوا لیتے ہیں اور پھر سائن بھی کر دینا…‘‘ وہ پریشان ہو گئی، لیکن بلال بڑے آرام سے اُسے اپنے پیچھے آنے کا اِشارہ کرتے ہوئے لفٹ کی جانب بڑھ گیا۔ نا چاہتے ہوئے بھی اُسے بلال کی پیروی کرنی پڑی۔ پورے رستے اُس کا دِل چاہ رہا تھا کہ وہ واپس پلٹ جائے، لیکن ماڈلنگ کی دُنیا میں اپنا نام بنانے کا خیال اِس خوف پر حاوی ہوگیا۔ کمرے میں جاتے ہی وہ بڑے آرام سے بیڈ پر بیٹھ گیا اور فون پر دو کافی کا آرڈر کر دیا۔
’’بلال! میں کافی نہیں پیوں گی… مجھے ویسے ہی بہت دیر ہو چکی ہے… لائیں ایگریمنٹ دیں… میں سائن کر دوں…‘‘ اُس نے کمرے میں کافی کے بہانے مزید گزرنے والے وقت کو avoid کرنے کی کوشش کی، تو وہ ہنس پڑا۔
’’اَرے بھئی! اتنا گھبرا کیوں رہی ہو…؟ بس پانچ منٹ میں کافی آ جائے گی۔ کافی پی لو، پھر چلی جانا۔ کیا دُبئی جا کر بھی اِسی طرح پریشان کرو گی۔‘‘ وہ اُٹھ کر اُس کے قریب آیا تو سامعہ گھبرا کر کھڑی ہوگئی، لیکن بلال نے سامعہ کی کرسی کے ساتھ رکھے ٹیبل سے لائٹر اُٹھایا اور واپس اپنی جگہ جا کر بیٹھ گیا۔ سامعہ کو سکون ملا۔ ورنہ وہ سمجھ رہی تھی کہ وہ اُس کا ہاتھ پکڑ لے گا۔ وہ دوبارہ کرسی پر بیٹھ گئی۔ اِس بار وہ ایک بار پھر بیڈ سے کھڑا ہوا۔ اُس نے میز کی دراز کھولی۔ میز کی دراز سے ایگریمنٹ پیپرز نکال کر اُس کی طرف بڑھایا۔
’’اچھی طرح پڑھ لو… بعد میں کسی پوائنٹ پر شور نہ مچانا کہ مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا… اِس ایگریمنٹ کے بعد دو سال تک تم کسی دوسری پراڈکٹ کا ایڈ نہیں کر سکو گی…‘‘ وہ اُسے رولز بتا رہا تھا اور وہ سوچ رہی تھی کہ جس خواب کو اُس نے برسوں پہلے اپنی آنکھوں میں سجایا تھا، کتنی آسانی سے اُس نے خواب کی تعبیر پالی تھی۔ ملازم کافی کی ٹرے رکھ کر چلا گیا۔ سامعہ نے ناچاہتے ہوئے بھی کافی کا سِپ لیا۔ آج پہلی بار کڑوی کسیلی کافی بھی سامعہ کو اچھی لگ رہی تھی۔ اُوہ کافی کا ذائقہ پسند نہیں کرتی تھی اور بلیک کافی سے تو اُسے شدید چِڑ تھی۔ناجانے لوگ کیسے کڑوی کسیلی کافی حلق سے اُتار لیتے ہیں، مگر پہلی بار کڑوی کسیلی کافی امرت گھونٹ کی طرح پی رہی تھی۔ ساتھ ہی اُس نے رولز پڑھ کر سائن کیے اور ایگریمنٹ پیپرز بلال کی طرف بڑھا دیا۔ جو پاس ہی کھڑا اُس کی بے چینی کو پوری طرح نوٹس کر رہا تھا۔
’’بہت بہت مبارک ہو یار! lets Celebrateـ۔‘‘ یہ کہہ کر اُس نے سامعہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ اُچھل کر کھڑی ہوگئی۔
’’کیا ہوا…؟ میرے اتنے سے ٹچ نے تمہیں پریشان کر دیا۔ ابھی تو بہت سارے لوگوں کو خوش کرنا پڑے گا۔‘‘ وہ اپنی تمام تر خبیثانہ مُسکراہٹ کے ساتھ اُسے گُھورتا ہوا بولا۔ وہ پریشان ہو کر دروازے کی سمت بھاگی۔ اِس سے پہلے ہی بلال نے اُسے دبوچ لیا اور اُٹھا کر بستر پر پٹخ دیا۔ سامعہ بلبلا کر اُٹھی اور دوبارہ دروازے کی طرف بھاگی۔ اُس سے واقعی بہت بڑی غلطی ہوئی تھی۔ اُسے بلال کے ساتھ کمرے میں نہیں آنا چاہیے تھا۔
’’یااللہ! مجھے اِس جانورسے بچا لے۔ اُس نے اللہ سے بے بسی کے ساتھ مدد کی درخواست کی… کیوں کہ غلطی کو سوائے اللہ کے کوئی نہیں سدھار سکتا… بلال نے اُسے دو چار موٹی موٹی گالیاں دیں اور دوبارہ کھینچ کر بیڈ پر پھینک دیا۔ وہ بے بسی سے روپڑی۔
’’بڑی حاجن بی بی بنتی ہو… اگر اِن سب باتوں پر اِعتراض تھا تو کمرے میں آئی کیوں تھیں… تم جیسی تو روز مجھ سے ایک ایڈ کی بھیک مانگتی ہیں۔ تم یہ موقع ضائع کر رہی ہو۔‘‘ وہ اُس کے اِس انداز پر تپ کر رہ گیا۔ اور اپنا ٹائم ضائع ہونے پر چِلّا اُٹھا۔
’’خدا کے لیے مجھے جانے دو… میں اِس ٹائپ کی لڑکی نہیں ہوں…‘‘ سامعہ نے اُس کے آگے ہاتھ جوڑ دئیے۔
’’جانتا ہوں تم کس ٹائپ کی لڑکی ہو… ایسی لڑکی جو اپنے ماں باپ سے چُھپ کر ایک غیرمرد سے تنہا ملنے پر تیار ہو جائے۔ وہ بھلا کس ٹائپ کی ہوگی۔ یہ میں اچھی طرح جانتا ہوں۔ اپنا یہ ناٹک بند کرو۔ سیدھی طرح سے میری بات مان لو۔ ورنہ مجھے اپنی بات منوانے کے اور بہت سے طریقے آتے ہیں۔‘‘ وہ بڑی خباثت سے اُس طرف مُسکراتا ہوا بڑھا۔ اُس لمحے سامعہ کو بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر رکھا ہو الیمپ نظر آیا۔ اُس نے جان اور عزت بچانے کی آخری کوشش میں وہ لیمپ کھینچ کر بلال کے سر پر دے مارا۔ بلال کو بالکل اُمید نہ تھی کہ وہ ایسا بھی کر سکتی ہے۔ لیمپ بھاری تھا۔ اُس کے سر پر پوری قوت کے ساتھ لگا اور وہ زمین پر ڈھیر ہو گیا۔ یہی وہ اوّلین اور آخری لمحہ تھا جب سامعہ نے اُس کی طرف دیکھا بھی نہیں اور دروازے کی سمت دوڑ لگا دی۔ دروازہ کھول کر باہر دوڑ لگاتی ہوئی سامعہ کو بہت سے ہوٹل ملازمین کے ساتھ ساتھ کمروں سے باہر نکلتے مہمانوں نے بھی حیرت سے دیکھا۔ اُس کا حلیہ بہت خراب تھا، مگر وہ جلدی میں اپنا دوپٹہ اُٹھانا نہ بھولی۔
کار پارکنگ سے اپنی گاڑی نکالتے عمر نے گھبرائی گھبرائی سی سامعہ کو پہلی نظر میں ہی پہچان لیا۔ وہ پی سی سے نکلی تھی اور اُس کی حالت کافی خراب تھی۔ وہ بھاگ دوڑ میں اپنے ہاتھ میں پکڑے موبائل سے کوئی نمبر ڈائل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ نئی مصیبت یہ کہ فون کی بیٹری آف ہوگئی۔ اُسی وقت عمر نے گاڑی بالکل اُس کے پاس لے جا کر دروازہ کھول دیا۔ وہ اُچھل پڑی اور پھر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے عمر کو دیکھ کر قدرے پیچھے ہٹ گئی۔
’’آجاؤ سامعہ! مجھے لگتا ہے تمہیں جلدی ہے… میں چھوڑ دیتا ہوں…‘‘ سامعہ نے اُس کی آفر سُن کر مڑ کر دروازے کی طرف دیکھا کہ کہیں بلال یا ہوٹل ملازمین اُس کے پیچھے تو نہیں آ رہے… پھر کچھ سوچ کر جلدی سے گاڑی میں بیٹھ گئی، کیوں کہ ہوٹل سے فوراً باہر نکلنے کے سوا کوئی اور چارا نہ تھا۔ اُن دونوں کے درمیان کوئی بات نہ ہوئی۔ کچھ دُور جا کر اُس نے عمر کو گاڑی روکنے کے لیے کہا۔
’’تمہیں کہاں جانا ہے…؟ میں چھوڑ دیتاہوں…‘‘
’’بہت شکریہ! میں رکشہ لے لوں گی۔ پلیز! گاڑی روکیں…‘‘ اُس نے مضبوط لہجے میں عمر سے بات کی۔ وہ اُس پر اپنی کسی قسم کی کمزوری ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی۔ ہر چند کسی زمانے میں اُس نے عمر سے شدید محبت کی تھی، لیکن اُسے دھوکا دینے کے بعد عمر کے لیے محبت بہت سارے گلے شکوئوں میں بدل چکی تھی۔ اُس نے سامعہ کا اِعتبار توڑا تھا، بلکہ اِعتبار کے علاوہ اُس کی پُرخلوص محبت کو بھی دھوکا دیا تھا۔ یہ بات بھلا وہ کیسے بُھول سکتی تھی۔
’’سُنو سامعہ! میں اُس دِن کے واقعہ کے لیے بہت شرمندہ ہوں، لیکن تم کیسی بھی قسم لے لو… مجھے بالکل نہیں معلوم تھا کہ وہاں ایسا کچھ ہونے والا ہے۔‘‘
’’پلیز عمر صاحب! گاڑی روکیے۔ ورنہ میں چلتی گاڑی سے چھلانگ لگا دوں گی۔‘‘
’’تم ایسا کچھ نہیں کروگی۔ ایسا کرنے کی کوشش بھی کی تو میں گاڑی کسی فٹ پاتھ سے ٹکرا دوں گا۔‘‘ اِس بار عمر نے بھی اُسے دھمکی دی تو وہ چُپ ہو کر بالکل دروازے سے چپک کر بیٹھ گئی۔ پھر اُسے گھر چھوڑنے تک میں وہ اُس سے معافی مانگ چکا تھا۔ ایک ایسی کہانی سُنا چکا تھا کہ ناچاہتے ہوئے بھی سامعہ کو عمر پر اِعتبار کرنا پڑا۔ اُس کے خیال میں سامعہ اُس کی زندگی میں آنے والی پہلی محبت تھی، جو سیما کی وجہ سے جُدا ہو گئی۔ سیما چوں کہ خود اُس سے شادی کرنا چاہتی تھی، اِسی لیے اُس دِن سامعہ اور عمر کے پروگرام کے بارے میں پولیس کو اِطلاع دے کر چھاپہ پڑوا دیا۔ وہ جانتا تھا کہ سامعہ اور سیما میں بول چال بند ہے۔ دونوں ایک دوسرے سے کوئی بات نہیں کرتیں۔ اِس لیے سامعہ کے دِل میں دوبارہ گھر کرنے کے لیے جتنا جھوٹ بول سکتا تھا، اُس نے بولا۔
وہ یہ یقین دِلا کر ہی رہا کہ اُس سے پہلے نہ کوئی لڑکی عمر کی زندگی میں آئی تھی اور نہ آئے گی… سیما سے شادی بھی باپ کے دباؤ میں آ کر کرنی پڑی۔ وہ اُس دِن سے آج تک سامعہ کو ڈھونڈ رہا تھا۔ آج قدرت نے اُس کی محبت کو دوبارہ اُس سے ملا کر یہ موقع فراہم کر دیا۔ پلیز سامعہ! میری بات کا یقین کرو۔ شادی کی پہلی رات ہی سیما نے مجھے اُس چھاپے کے بارے میں بتا کر معافی مانگی تھی، کیوں کہ وہ نہیں چاہتی تھی کہ عمر اور سامعہ ایک ہو سکیں۔ وہ کتنی عیّاری اور مکّاری سے جھوٹ بول رہا تھا اور وہ کتنی آسانی سے اُس کے ایک ایک لفظ پر یقین کر رہی تھی۔ بے وقوف عورت کتنے بھی دھوکے کھا لے۔ اپنے چہیتے مرد سے دھوکا کھانے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی ہے۔ اُس کی جھوٹی باتوں پر وہ پھر ایمان لے آئی۔
’’ویسے خدا کی قسم! تمہیں شادی راس آگئی۔ کہاں پانچ سال پہلے والی دبوسی لڑکی اور کہاں اب یہ ماڈرن سی سامعہ میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ لگتا ہے کبیر علی بہت محبت کرتا ہے۔‘‘ اِس بار وہ اپنی باتوں سے کبیر علی اور سامعہ کی اَزواجی زندگی کے Status کے بارے میں اندازہ لگانا چاہتا تھا کہ آیا سامعہ اپنے شوہر کے ساتھ خوش ہے یا نہیں۔ اگر خوش ہے تو پھر عمر کے کسی کام کی نہیں۔ جواباً سامعہ نے ایک چبھتی ہوئی نظر عمر پر ڈالی۔
’’عمر! تم نے بڑی بڑی، خوب صورت پُرانی عمارات دیکھی ہیں۔ جنہیں دوبارہ لیپ پوت کے نیا کر دیا جاتا ہے، تاکہ لوگ اُنہیں دیکھیں اور مالک کو سراہ سکیں جس نے پُرانی بوسیدہ عمارات کو خوب صورت حالت میں رکھا ہوا ہے۔ میرے دِل کی حالت بھی ایسی پُرانی اور بوسیدہ عمارت جیسی ہے۔ جیسے اُوپر سے سجا بنا کر آنے والوں سے ایسی ہی داد وصول کی جاتی ہے۔ تم کہہ رہے ہو کہ خوب صورت ہو گئی ہوں، تمہاری بات ٹھیک ہے مگر میرا دِل مر گیا ہے۔ صرف سانسیں چل رہی ہیں۔‘‘ اُس نے آنکھوں میں آئے آنسو پونچھ لیے۔ ایسا اُس نے چپکے سے کیا تھا، لیکن عمر سے یہ سب پوشیدہ نہ رہ سکا۔ پھر گھر آنے تک دونوں کے درمیان فون نمبرز اور دوبارہ ملتے رہنے کا وعدہ ہو چکا تھا۔ عمر سے دوبارہ ملنے کی خوشی میں وہ بلال کو بُھول گئی۔ صُبح میم صباح کا فون آیا اور انہوں نے اُسے اپنا کلائنٹ خراب کرنے کی پاداش میں خوب سُنائیں۔
’’تم کوئی ننھی بچی نہیں کہ تمہیں یہ معلوم نہ ہو کہ اِس طرح کے کاموں کی کیا قیمت چُکانی پڑتی ہے۔ بلال کسی طور خاموش نہیں بیٹھے گا۔ اُس نے کہہ دیا ہے کہ تمہیں اِس کی قیمت چُکانی پڑے گی۔‘‘ وہ اُسے ڈرا رہی تھیں اور وہ مُسکرا دی۔
’’اچھا واقعی! میم صباح! یہ تو آپ بھی اچھی طرح جانتی ہیں۔ اگر میں نے زبان کُھول دی تو اتنی بڑی برانڈ کا منیجر کہاں کھڑا ہوگا…؟ اور ویسے بھی اُسے اور مجھے بہت سارے لوگوں نے کھانا کھاتے اور پھر اُس کے کمرے میں جاتے دیکھا تھا۔ پہلے تو وہ وضاحت دے کہ اُس کے ماتھے پر چوٹ کیسے لگی…؟ ظاہر سی بات ہے وہ کمر ے میں میرے ساتھ ایسا کچھ کرنا چاہتا تھا، جس کے لیے میں آمادہ نہ تھی۔ یہ تو سیدھا سیدھا ہراسمنٹ کا کیس ہو گیا، جو اُس کی طرف سے نہیں میری طرف سے فائل ہوگا۔ آپ اُسے بتا دیں ہر لڑکی اُس کی پراڈکٹ میں آنے کی اتنی بڑی قیمت نہیں چکاتی۔ اگر اب دوبارہ اُس نے یا آپ نے اِس بارے میں کوئی بات کرنے کی کوشش کی تو میں واقعی سوشل میڈیا پر بلال کی عزت کا فالودہ کر دوں گی۔‘‘
وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ اگروہ ڈر گئی تو دوسری پارٹی اُسے دبا کر لے گی۔ اِسی لیے اِس سے پہلے کہ میم صباح اُسے ڈرائیں، سامعہ نے اپنی آواز کو اُن کی آواز سے اُونچا کر لیا۔ میم صباح نے تپ کر فون بند کر دیا۔ ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ کسی لڑکی نے اُن کے کلائنٹ کے ساتھ ایسی حرکت کی تھی۔ بلال شدید غُصّے میں تھا۔ اُس کے ماتھے پر شدید چوٹ لگی تھی، لیکن اِس سے زیادہ اُس کی اَنا پر چوٹ لگی تھی۔ مرد کی اَنا وہ واحد شے ہے، جو اُسے دُم کٹے زہریلے سانپ کی طرح بنا دیتی ہے۔ وہ اپنی جگہ پٹخیاں کھاتا رہتا ہے، لیکن کر کچھ نہیں سکتا۔ وہ سمجھتا تھا کہ تھوڑی بہت مزاحمت کے بعد سامعہ ہتھیار ڈال دے گی، لیکن اُس نے تو بلال کو نفسیاتی اور جسمانی دونوں طرح سے زخمی کر دیا۔
میم صباح اپنی جگہ حیران تھیں کہ اتنی بے ضرر نظر آنے والی سامعہ میں کہاں سے اتنی ہمت آگئی کہ اُس نے بلال کے سرپر بھاری لیمپ دے مارم۔ کچھ لوگوں پر بُرے ہونے کے باوجود اپنے بزرگوں کی دُعاؤں اور اچھائیوں کا سایہ ہمیشہ سایہ فگن رہتا ہے۔ ابا جی جب تک زندہ رہے، اپنی تمام دُعاؤں کا مرکز سامعہ کو بنائے رکھا۔ اب اماں اُس کے گھر سے نکلتے ہی اُس پر پتا نہیں کیا کیا پڑھ کر پُھونک مارتی تھیں۔ سامعہ سمجھ گئی کہ اُس کا بچاؤ ہمیشہ یہ دُعائیں ہی کرتی تھیں۔
پہلے بھی ایک بُرے وقت سے اُسے اِن دُعاؤں نے ہی بچایا تھا اور آج بھی شیطان کے چُنگل سے نکلنے کی ہمت اور طاقت اُسے ماں کی دُعاؤں سے ہی ملی تھی، لیکن وہ عمر سے ملاقات پر بھی حیران تھی کہ ناجانے تقدیر اُس کے آگے کون سا کھیل کھیل رہی تھی کہ جس عمر آفندی کو وہ ایک میٹھی یاد بنا بیٹھی تھی آج پھر اُس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔
(باقی آئندہ)

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.