پردیس سے دیس ________1

پردیس سے دیس:

اس وقت کو گزرے ڈیڑھ سال سے زیادہ عرصہ بیت چکا پھر بھی لگتا ہے جیسے ابھی کل کی بات ہو،ابھی زخم گیلے ہیں،اب مندمل ہوتے زمانے لگ جائیں گے۔ابھی یوں ہی لگتا ہے جیسے یہ سب کل ہی کی بات ہے۔جب انسان خوابوں کی جنت میں رہتا ہو اور وہ جنت ایک دن اسے حقیقت کے ازیت ناک ڈھیر پر لا پھینکے تو یہ چوٹ اتنی چھوٹی نہیں ہوتی کہ انساں دنوں اور ہفتوں میں بھول جائے،بڑی بڑی چوٹیں بھولنے میں زمانے لگ جاتے ہیں۔ دو ہزار انیس میں جولائی کے مہینے سے جو سفر شروع ہوا وہ چلا چلا کہتا تھا کہ مجھے لکھو،مگر دل و دماغ میں طوفان اتنا تھا کہ قلم تھاما جاتا ،نہ حوصلہ تھاما جاتا،سال بھر کرونا کے لاک ڈاؤن کا سہارا لیکر خود کو تھامے دھیرے دھیرے آگے دھکیلا ہے تو انگلیوں میں اتنی استطاعت پیدا ہوئی ہے کہ کچھ لکھ سکے۔شاید کہ یہ اوراق اس بوجھ کو اٹھا سکیں جو انساں سے اٹھانے مشکل تھے۔ یقینا کچھ بوجھ صرف انسان کا سینہ ہی اٹھا پاتا ہے۔

ڈان نیوز پر پڑھیں

آٹھ جولائی 2019______یہ ایک عجیب سفر تھا! گیارہ سال کے ہوائی سفر کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ میری سیٹ کہیں اور تھی دونوں بچے ایک اور رو میں بیٹھے تھے اور میاں صاحب ان سے پچھلی رو میں اکیلے بیٹھے تھے۔اس میں ہمارا کوئی دوش نہ تھا،ہمیں نشستیں ہی ایسے ملی تھیں۔ہمیشہ کی طرح بچوں کے قریب بیٹھنے کی بجائے میں نے سب سے الگ سیٹ پر بیٹھنے کو ترجیح دی کیونکہ مجھے اندازہ تھا یہ ایک مشکل سفر تھا ۔اگرچہ اس سے پہلے بھی ایسا ایک سفر میں 2008 میں کر چکی تھی مگر وہ اس قدر تکلیف دہ اور اذیت ناک نہیں تھا جسقدر یہ سفر تھا۔اس سفر سے بہت سے خوف اور خدشات پیوستہ تھا،آنے والے وقت کا خوف،آنے والی زمین کا خوف،وہاں کے لوگوں اور حالات کا خوف۔سچ کہتے ہیں بلندی کی طرف جانے سے بلندی سے اترنے کا سفر مشکل ہوتا ہے۔میں بلندی سے اتر رہی تھی۔اس سفر سے پہلے کئی دنوں سے میں نوافل پڑھ کر خدا کے سامنے بلک رہی تھی۔ڈر اور وسوسے ایسے تھے کہ اگلے دو قدم اٹھانے مشکل تھے ۔مگر یہ دو قدم قسمت میں ایسے لکھے گئے تھے کہ چاہتے بھی تو موڑے نہیں جاتے تھے۔

اس پرواز سے پہلے میاں سے کئی بار جھگڑی کہ ایسا مشکل فیصلہ اس نے کیوں کیا۔اگرچہ اس کی تاویلیں دینے میں میں ہی ہمیشہ پیش پیش رہی تھی۔سچ تو یہی تھا کہ اس قدر مشکل فیصلہ کرنا اور اس کا بوجھ اٹھانا خود میری ہمت سے باہر تھا۔چناچہ میں اسلام آباد کی طرف جاتی پرواز کی ایک کھڑکی کے ساتھ بیٹھی تھی،اور اس میں سے باہر جھانکتے تماتر سفر میں نے اپنی فیملی سے اور آس پاس کے مسافروں سے نظر بچا کر آنسو بہاتے گزارے تھے۔

مگر میں اس قدر رو کیوں رہی تھی؟ شاید اس لئے گیارہ سال کی مشکل اور کٹھن زندگی جس اجنبی اور انجان شہر میں میں نے گھر اور ذندگی بنانے میں گزاری تھی اسے آج شاید میں ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر واپس لوٹ رہی تھی۔اپنی کمفرٹ زون سے نکل کر جس میں ہمیشہ ہم ایک روٹین اور سکون کے عادی رہے تھے ،جس میں پل بڑھ کر میرے بچے ایک اور ہی سانچے میں ڈھل چکے تھے میں انہیں خود سمیت وہاں سے نکال کر ایک ایسی دنیا میں لیجا رہی تھی جہاں درختوں پر امید مگر چہروں پر ظلمت اگتی ہے۔جہاں قدرت سکون بخشتی ہو مگر انسان ذندگی حرام کرتے ہوں،جہاں خدا کے قانون صحیح اور انسانوں کے قانون الٹ چلتے ہوں۔جہاں ظلم ،ناانصافی،جھوٹ اور دغا، نفرت و حسد کے اژدھوں کا دور دورہ ہو،اور سچائی،ایمانداری،محبت،سلامتی نام کے تمام خوبصورت پرندے دیس بدر ہو چکے ہوں۔جہاں اصلی بارشیں اور نقلی خلوص بکتے ہوں اور زندگیوں کا نصب العین صرف اور صرف انسانیت کے اور اخلاق کے تمام اصولوں سے جی بھر کر بغاوت کرنا ہو۔میں اپنی تمام تر ذندگی سمیٹے اپنے ملک کی طرف لوٹ رہی تھی ۔

ابوظہبی میں زید مسجد

اگرچہ میری آنکھوں میں کچھ ایسے خواب بھی تھے جنہیں میں سالوں سے جی نہ سکی تھی مگر خدشات ان سے کئی گنابڑھ کر تھے۔ جو سکون نہ لینے دیتے تھے۔خواب؟وہ خواب کیا تھے جن کی طلب مجھے اس سفر پر لے آئی تھی؟

مجھے وہ ہنسیاں اور مسکراہٹیں سانپ بن کر ڈستی تھیں جو میں اپنے معاشرے اپنے شہر اور خاندان میں ادھوری چھوڑ کر پردیس چل پڑی تھی۔میں ہمیشہ ان محبتوں اور اپنوں کو ترستی رہی تھی جو میری ذندگی سے کہیں چھن گئے تھے۔مجھے وہ فراغتیں پانی تھیں جو پاکستان کی سرحد میں ہر کسی کو میسر ہیں۔میں اجنبی معاشرے میں تنہا رہ رہ تھک چکی تھی۔میں برتن دھو دھو،صفائیاں کر کر تھک چکی تھی۔میرے بچے ایک اجنبی معاشرے کا حصہ ہو کر بھی تنہا تھے۔ہم کوے ہو کر کبوتروں کی دیس میں بس کر بھی ان میں جگہ نہ بنا سکے تھے۔ہمیں تنہای ہمیشہ پیچھے کھینچتی تھیں اور دور کے سہانے ڈھول یاد آتے تھے۔کسی دوسرے معاشرے میں آپ ہمیشہ تنہا ہوتے ہیں،آپ اپنے جیسے چند لوگ کبھی کبھار ڈھونڈ لیتے ہیں مگر آس پاس ہزاروں لاکھوں لوگوں آپ کے اپنے نہیں ہوتے،آپ کو احساس دلاتے ہیں کہ آپ کچھ اور ہیں وہ کچھ اور ہیں تبھی تو انساں دیکھتا ہے پلٹ پلٹ کر۔چاہے کتنا ہی معتبر ہو جائے چاہے کیسا ہی عزت مآب سٹیٹس ہو جائے وہ ہمیشہ مڑ مڑ کر اپنے دیس اپنے معاشرے کی طرف دیکھتا رہتا ہے جہاں ہر گلی ہر موڑ پر اسے اپنے جیسے ہزاروں لاکھوں ملتے ہیں،صرف اپنے جیسے ہی ملتے ہیں۔اور ہم اپنے عجیب و غریب مسائل میں الجھے اس سکون کی طرف لوٹنا چاہتے تھے جو ہمیں اپنے دیس میں اور لوگوں میں گھلتا دکھائی دیتا تھا۔

میں جی بھر کر اردو بولنا اور ڈھیروں ڈھیر دھنک رنگ شلوار قمیض پہننا چاہتی تھی،کھل کر گھنٹوں ہنسنا اور گپیں مارنا چاہتی تھی۔میں اپنے اصل کی طرف لوٹنا چاہتی تھی ۔میرے گھر سے بھی ایک ملازم جائے تو دوسرا آ جائے،ایک ملنے والا نکلے تو دوسرا آن ٹکرائے،کبھی سبزی والا شور مچائے کبھی دودھ والا دروازہ بجائے۔بچے گلی میں بہت سے بچوں کے ساتھ کھیلیں،شہر میں گلیوں میں ہر طرف اپنی زبان اپنے جیسے لوگ چاہتی تھی۔بلاشبہ میں خود بھی بھول چکی تھی کہ اب میں خود بھی ایسی نہیں رہی۔میں جن کی طرف لوٹنا چاہتی تھی ان جیسی نہیں رہی تھی۔مجھے لگتا تھا بچوں کو دادا دادی نانا نانی چاہیں۔انہیں خالائیں،اور پھپھو کی ضرورت ہے ۔ان کے گرد ہر طرف کزنز کا جمگھٹا ہو۔

اسلام آباد کی پہلی سیاحت

پاکستان کی زمیں پر کیسے موسم اترتے ہیں ،کیسے لوگ بستے ہیں ان پر بھی یہ گتھی کھلے۔اے سی کے بغیر سردی کیسے ہوتی ہے،سردیوں کے کپڑے کیسے ہوتے ہیں،بادل،بارش گرجیں تو کیسا دل ڈرتا ہے، وہ بھی جانیں۔کارپٹڈ سڑکوں کے علاؤہ بھی کچھ رستے ہوتے ہیں جو ہمارے دیس میں اگتے ہیں۔شیشے کی اونچی عمارتوں کے علاؤہ بھی کچھ شہر ہوتے ہیں جہاں تاذہ اسٹرابری اور مزے کا میٹھا آم اگتا ہے۔جہاں تربوز سونے سے بہت سستا ملتا ہے۔ جہاں صفائی کا خیال نہیں کیا جاتا مگر پھر بھی گنے کا میٹھا اور ٹھنڈا جوس ہر سڑک پر مل جاتا ہے۔،جہاں کینو اور مالٹے جیسے مزیدار پھل ہوتے ہیں مٹی بھرے رستوں پر ہریالی اور ہزاروں رنگوں کی بہار اترتی ہے ۔جہاں موسم ہر وقت تغیر میں رہتے ہیں اور لوگ چار موسموں کے کپڑے رکھتے اٹھاتے ہی سال بیتا دیتے ہیں۔جہاں بادل گرجتے ہیں اور ژالہ باری سے گھر بجتے ہیں،جہاں جاڑے اور بہار میں کئی رنگوں اور خوشبوں کا فرق ہے جہاں سردی اور گرمی دو مختلف براعظموں کے موسم لگتے ہیں۔

آم جو پاکستان جیسا میٹھا اور کہیں نہیں ملتا!

مجھے لگتا تھا ہم میاں بیوی،سالوں سے محض ایک دوسرے کی صورت دیکھ دیکھ تھک چکے ہیں۔ہمارے بچے محدود سے سرکل میں رہ کر ذندگی کو سیکھ نہیں پائے،معاشیات کے مسائل سب سے الگ اور انوکھے تھے ۔سو کئی طرح کی چیزوں اور باتوں کی ضرب تقسیم کر کے میں نے اور میاں نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ میں بچوں کو لیکر اسلام آباد شفٹ ہو جاؤں۔اور اس تماتر کہانی میں جو کام سب سے آسان رہا تھا وہ صرف یہ فیصلہ کرنا ہی تھا۔اس کے بعد کی کوئی بھی منزل آسان نہ رہی تھی۔فیصلہ کرتے ہی میرے ہاتھ پاؤں پھولنے لگے تھے۔یہ جس آگ میں چھلانگ مارنے جا رہی ہوں جانے کیسی غضبناک ہو،یہ جس انجانے سفر پر نکل رہی ہوں کہیں بھوتوں کا بسیرا نہ نکلے۔اور پھر ایک ایسے شہر میں جس میں چند دوستوں کے سوا کوئی رشتہ دار کوئی اپنا نہ تھا) کبھی کبھی ہمارے فہرست میں جتنے اپنے ہوتے ہیں اکثر نبھانا پڑے تو غیر نکلتے ہیں،یہ بعد میں جانا)۔چناچہ اپنی سرزمین کے پہاڑوں میں گھرے سر سبزشہر اسلام آباد میں سازو سامان سمیت اتر رہے تھے۔

______________________

(جاری ہے)

تحریر و تصاویر :صوفیہ کاشف

__________

2 Comments

  1. صوفیہ کس کس چیز کی تعریف کروں، اتنے حسین انداز کی، یا اتنی ہمت کی جو کی مدد سے آپ نے اپنی آپ بیتی کاغذ/ بلاگ پر اتار دی، خوبصورت تصاویر کی، دلکش اردو کی یا انتہائی نازک دلگداز احساسات کی۔
    کمال لکھا ہے۔
    سلامت رہیں ہمیشہ

    Liked by 1 person

    1. آپ کی محبت اور مستقل سپورٹ میرے لئے ہمیشہ لاجواب اور ہمت و حوصلے کا باعث رہی ہے۔اور آپ کی دعاوں کی ضرورت ہمیشہ رہے گی!♥️♥️♥️

      Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.