پردیس سے دیس__________3

کرایے کا پہلا گھر:

ایک آدھ دن آرام کر کے کرایے کے لئے ایک پورشن ڈھونڈنے کے مشن پر نکلے۔سب سے پہلا گھر جس میں ایک پراپرٹی ڈیلر ہمیں لیکر گیا وہ ایک ڈاکٹر کا ایک کینال کا گھر تھا باہر شیشے کی کھڑکیوں سے اور خوبصورت سبزے سے اور ڈاکٹر کی صورت سے لگا شاید پہلے ہی قدم پر منزل مل گئی۔مگر جب فرسٹ فلور پر پہنچ کر کمروں میں جھانکا تو الٹیاں آنے لگیں۔ڈاکٹر صاحب کا زور کھلے کمرے اور فل سائز کھڑکیاں دکھانے ہر تھا مگر  خاتون خانہ ہونے کی حیثیت سے میری تمام تر توجہ کچن اور باتھ روم میں جھانکنے پر تھی کہ صرف یہی دو جگہوں تعین کر سکتی ہیں کہ جگہ رہائیش کے قابل ہے کہ نہیں۔اور جو حال اس کا دیکھا تو چکر آ گئے۔

کرایے کا گھر جو ذندگی کا عذاب ثابت ہوا


گندے فلش والے باتھ روم جن میں باقاعدہ فضلہ موجود ہو اور انتہائی گندہ کچن دیکھنے کے بعد کھڑکیوں سے نظر آتے نظارے کو کیا سر پر مارتے۔ایسا گندہ گھر دکھاتے ڈاکٹر صاحب کو تو شرم نہ آئی مگر ہم سے واپس نکلتے پھر ڈاکٹر صاحب کا چہرہ تک نہ دیکھا گیا ۔کوئی کیسے اپنا گھر اتنی گندی حالت میں کسی کو کرایے پر لینے کے لئے پیش کر سکتا ہے،یہ صورتحال ہماری ذہنی سطح سے کافی اوپر کی تھی مگر اگلے کچھ دنوں میں ہم  بلآخر ذہنی بلندی کے اس لیول کو چھونے لگے جب ہم نے اس  پراپرٹی ڈان کے پوش علاقے میں  کرایے کے لئے مہیا تماتر پورشنز دیکھ لیے۔ہم نے مان لیا کہ عین یہی دستور زمانہ ہے اپنے ملک کے اعلیٰ ترین شہر کے اعلی ترین علاقے کے اعلیٰ ترین حلقوں میں۔انتہائی خستہ حال،بنیادی مینٹیننس سے بھی عاری فلور اور کرایے سر اٹھا کر گردن اکڑا کر ساٹھ ستر ہزار روپے فی مہینہ۔پھر مالکان کا اسقدر خشونت ذدہ رویہ جیسے وہ کرایہ پر دینے کی بجائے ہمیں خیرات میں اللہ واسطے دے رہے ہوں بلکہ شاید ان سے بھی بدتر۔یہاں عرب امارات خصوصا ابوظہبی کا زکر بہت ضروری ہے ۔ابوظہبی عرب امارات کا کیپیٹل ہونے کی بنا پر ہر لحاظ سے دبئی سے کئی گناہ ترقی،امارت اور سیکورٹی میں آگے ہے۔وہاں پر کسٹمر رائٹ کی بے پناہ اہمیت ہے۔آپ نے جو چیز خریدنی ہے یا کرایے پر لینی ہے اس پر آپ کے بہت سے حقوق ہیں۔صرف گھر کرایے پر لینے کے لئے آپ کو مالک مکان گھر صاف ستھرا کروا کر اس کی تماتر فینشینگ ،پینٹ نہ صرف کروا کر دے گا بلکہ آئندہ بھی یہ تماتر مینٹیننس اس کی زمہ داری ہے،گندا فلور تو کوئی کسی کو دکھا تک نہیں سکتا۔کرایے پر دے دینے کے بعد مالک مکان مکان سے بالکل قطع تعلق ہو جائے گا۔کتنے سال ہم مالک مکان کے ولا کے ساتھ والے ولا میں رہے کبھی خاتون خانہ ہمارے دروازے تک نہ آئیں  یہ دیکھنے کہ کیا کیا گھر کا۔الٹا ہمیں ان کو بار بار فون کرنے پڑتے کہ موٹر خراب ہو گئی ہے یا اے سی کام نہیں کر رہے تو ہمیں شرم آتی۔،۔یہاں تو حالات ایسے تھے کہ گھروں کے کرایے پر دئیے جانے والے حصے ایسے تھے جیسے صدیوں سے ان پر کسی نے کبھی جھاڑو تک نہ دی ہو ۔اور رویے ایسے جیسے محل ہمارے لئے خالی کر دیے گئے ہوں۔

پردیس سے دیس____کچھ باتیں

ان دنوں ہماری وہ دوست فیملی جن کے بھروسے ہم اس علاقے پر شفٹ ہو چکے تھے اپنے ڈیلر دوست کے زریعے انہوں نے ہمیں ایک فلور دکھایا جو ہمیں اگرچہ اس لئے پسند آیا کہ زیر استعمال نہ رہا تھا تو صاف ستھرا اور چمکتا تھا۔دوسرا اس لئے کہ میاں صاحب نے گھوم پھر کر دیکھا تو ٹی وی،اے سی،لگے تھے،میاں نے حساب کتاب کیا کہ چلو فوری طور پر ان  چیزوں کا خرچہ بچے گا،جو اگرچہ بعد میں ہمارے لئے چار گنا مہنگا ثابت ہوا۔ (فریج اور ٹی وہ ہم ساتھ نہ لائے تھے بلکہ میاں کی تنہائی اور ضرورت کے خیال سے انہیں کے پاس چھوڑ آئے تھے)مجھے یہ گھر صرف اس لئے قابل قبول تھا کہ بالکل نیا تھا،اگرچہ  اس کی لش پش پر غیر ضروری کام نو دولتیہ پن ظاہر کرتا تھا جو مجھے خاصا نامناسب لگتا۔۔ایسے جیسے انساں سارا ہی زیور سارے جسم پر ٹانگ لے۔دیواروں اور کمروں میں اسقدر غیر ضروری پھول بوٹے ،شیشے اور ڈیزائن تھے  کہ پینٹنگز اور وال ہینگنگ کی جگہ ہی نہ بچی تھی جو میرے سامان میں پہلے سے خاصی بڑی تعداد میں موجود تھیں۔ایک اور وجہ وہ دوست تھے جو اپنی زمہ داری پر ہمیں دلوا رہے تھے،پہلے ان کی عارضی رہائش کے لئےکی گئی آفر ہم منع کر کے ان کو ناراض کر چکے تھے،مزید نہ کرنا چاہتے تھے سو اس بار یہ بار ہم نے اٹھا لیا گرچہ اسے اٹھانا ہمیں خاصا وزنی پڑا۔

کرایے کے گھر کو اپنی جنت بنائے کی ناکام کوشس

ایک مسئلہ یہ بھی تھا کہ گھر ون یونٹ تھا اور اوپر جانے کا الگ کوئی رستہ نہ تھا۔جبکہ مین بیڈ روم باہر سیڑھیوں پر الگ سےکھلتا۔اس کا ہم سے وعدہ کیا گیا کہ ہم جلد ہی گتے کی دیوار سے علیحدہ کروا دیتے ہیں۔ہم نے ان کی باتوں اور اپنے دوستوں کے اختیارات پر اعتماد کرتے ہوئے ایک کثیر کرایے کی رقم اور سیکورٹی ڈیپازٹ کے ساتھ پندرہ جولائی کو معاہدے پر دستخط کر دئیے جس کے مطابق دو سال تک کے لئے یہ فلور ہمارا ہو چکا تھا ۔

ڈان نیوز پر پڑھیں

اسی دن ہمارا سامان سے بھرا کینٹینر براستہ کراچی اس گھر کے سامنے آ کھڑا ہوا اگرچہ ابھی تک پارٹیشن کا کوئی بندوبست نہ ہوا تھا مگر ابھی ہمارے دماغوں میں وعدے کی حرمت پر اور الفاظ کی عزت پر اور دوستوں کی زمہ داری پر یقین تھا ۔سو ابوظہبی سے سمندر کے رستے براستہ کراچی آیا ڈبوں اور کینٹینر میں سامان اس مکان کے اوپر والے فلور پر کھلنے لگا جسے ہم اپنا گھر بنانے کی کوشش میں تھے۔اگر کبھی آپ کے عزیز و اقارب میں یہ مرحلہ آیا ہو تو آپ جانتے ہوں گے کہ پلنگ ،میز کرسیاں ہر چیز نٹ بولٹ تک علیدہ علیحدہ کر کے پیک کئے جاتے ہیں اور لیجانے والی کمپنی دوسری طرف لیجا کر سارا سامان دوبارہ سے بند کر کے آپ کو سیٹ کر کے دیتی ہے۔تو اب گھر کا سارا سامان اس گھر میں کھلنے لگا اور سیٹ ہونے لگا ۔یہ وہ کام تھا جو بار بار ہونا ممکن نہ تھا۔اور میاں کی تھوڑی سی چھٹیاں ختم ہونے کو تھیں،ہمارے پاس مزید ڈھونڈنے اور کسی اور آپشن کے زیر غور کرنے کا وقت ختم ہو چکا تھا۔ ہم اپنے حساب سے گھر ڈھونڈنے اور سامان سیٹ کروانے کا مراحل پار کر رہے تھے۔مگر یہ محض ہماری بھول ثابت ہوا۔


سب سے پہلے تو پیسے وصول کرتے ہیں مالک مکان نے ٹی وی دیوار سے اتروا لیا کہ بیگم صاحبہ دینے پر آمادہ نہیں۔میں ساتھ نہ تھی سو مروت میرے میاں یہ دھوکہ سہہ گئے ۔اگرچہ میں ہوتی تو اسی وقت گھر لینے سے انکار کر دیتی کہ دکھایا کچھ گیا اور کیا کچھ اور جا رہا ہے۔مگر میاں صاحب مروت اور دوست فیملی کی وجہ سے کچھ بھائی چارے کے موڈ میں تھے۔

بعد میں جانا یہ انتہا نہیں ابتدا ہے۔

(جاری ہے)

_________

کور ڈیزائن بشکریہ ڈان نیوز

تحریر:صوفیہ کاشف

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.