پردیس سے دیس_________4

اپنی غلطیوں کا اعتراف انتہائی مشکل مرحلہ ہے خصوصاً جب آپ ان کا خمیازہ بھی بھگت رہے ہوں تو یہ خاصا تکلیف دہ ہے کہ ان کو دہرایا جائے یا ان پر بات کی جائے۔کچھ غلطیوں سے ہم آگاہ تھے مگر حالات و واقعات کے ہاتھوں انہیں کرنے پر مجبور تھے،کچھ کے بارے میں شک تھا کہ شاید غلطی ہے،اور کچھ کا بالکل بھی اندازہ نہ تھا کہ اسقدر شدید بڑی غلطی ہے۔

ہمارے مالک مکان امریکہ میں رہائش پزیر تھے اور بقول ان کے ڈیلر کے” بہت بڑے” لوگ تھے۔بلکہ یہ” بڑے لوگ” کا سبق وہ ہمیں اتنی بار سنا چکے تھے کہ ہم سوچنے لگے تھے کہ شاید کوئی پچاس فٹ قد ہو گا اور چالیس فٹ کی چوڑائی ہو گی۔گھر میں ساری فٹنگ امپورٹڈ سامان کی ہے وہ یہ بات ہزاروں بار ہمیں سنا چکے تھے اگرچہ جس دراز جس ہینڈل کو ہاتھ لگاتے اکھڑ رہی تھی،فنشنگ کی غیر معیاری صورتحال ہم صبح و شام دیکھ رہے تھے مگر ڈیلر کی لمبی لمبی سننے پر مجبور تھے۔گھر کی ٹوٹیوں سے پانی انتہائی مختصر نکلتا تھا۔میاں صاحب واپس جا چکے تھے اگرچہ پارٹیشن کروانے کا ابھی تک کوئی تزکرہ نہ تھا بلکہ ہمیں آمادہ کرنے کی کوشش ہو رہی تھی کہ گھر کا داخلی حصہ تنگ ہو جائے گا، ایسے ہی گزارا کر لئیں۔ایسے میں دوسرے تیسرے روز مالک مکان کے بھائی صاحب ٹوٹیاں چیک کروانے آئے تو صوفے پر پھیل کر بیٹھ گئے۔ ان کو مسائل بتا کر بڑی مشکل سے اٹھا کر بھیجا اور ساتھ ہی ان کے ملازم کو بتایا کہ ٹوٹیاں ٹھیک کروانے کے لئے بندے کے ساتھ ملازم آئے، بھائی صاحب کی تشریف آوری کی ضرورت نہیں۔

میں اور میرے بچے خوابوں کا گھر بنانے کی کوشس میں تھے

مگر اگلے دن وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔بھائی صاحب خراماں خراماں پلمبر کے ساتھ ہمارے گھر کے بیچ میں لاونج کے دروازے پر موجود۔ان کو نرمی سے کہا کہ میں کروا لوں گی آپ جائیں۔تو بھائی صاحب بضد ہو گئے کہ نہیں وہ کروا کر ہی جائیں گے میں کہاں اکیلی عورت کرواتی رہوں گی۔میں اپنے گھر میں ایک ملازم سے ڈر کر دوسرے بندے کو داخل کر لیتی اب اتنی بیوقوف نہیں تھی۔عزیت سے ایک دو بار کے منع کرنے پر نہ مانے تو میری بس ہو گئی۔میں کمزور عورت ،اکیلی عورت کے نام پر کسی بھائی بہن کا رشتہ پالنے کے قطعی حق میں نہ تھی چناچہ جہاں میری بس ہوئی وہاں بات میرے اختیار سے نکل گئی۔اور ہاؤسنگ کالونی کے ملازم کے سامنے میں نے ان بھائی صاحب کے خوب لتے لے لئے۔ اگلے دن گھر خالی کرنے کا نوٹس پہنچ گیا۔یعنی ہم مکمل طور پر استحصال کی زد میں تھے،بھائی بہن کے چکر میں میں غیر ضروری تعلق داریاں پالتی،کمزور بن کر مسکراتے مردوں کو بھائی بنا کر سہارا لیتی،یا پھر کرایے کا گھر خالی کرتی۔

یہاں سے وہ ذلالت شروع ہوئی کہ اگلے کئی دن تک میری رگوں سے تماتر خون نچوڑ کر رکھ دیا۔ہمارا سارا کنٹینر کا سامان کھل کر لگ چکا تھا،فرنیچر جڑ چکا تھا،جگہ کے حساب سے نئی شاپنگ ہو چکی تھی اے سی کے سنبھالے پیسے خرچ ہو چکے تھے،اور کھڑکیوں کے سائز کے پردے بنکر لگ چکے تھے۔۔ڈیلر، “بہت بڑے” مالک مکان اور ان کے بھائی نے وہ سیاست چلائی صبح و شام کہ میں چکرا کر رہ گئی۔بقول ڈیلر بڑی بیگم صاحبہ مان کر نہ دے رہیں تھیں چونکہ ان کے بھائی کی بےعزتی ہوئی تھی،بقول ڈیلر کے بڑے لوگوں کو وہ منانے کی آخیر کوشش میں تھا،مگر روز صبح شام “گھرچھوڑ دو ،گھرچھوڑ دو” رہنے لگی۔ہم آدھے گھر میں نہ سیٹ ہو پا رہے تھے نہ چھوڑ پا رہے تھے۔کثیر خرچہ کر چکے تھے،اب نئے سرے سے گھر ڈھونڈنا مشکل تھا، میاں صاحب واپس جا چکے تھے،کرنے کرانے والی میں اکیلی تھی،پورے گھر کا سامان دوبارہ اٹھا کر لیجانا بھی مشکل تھا،اسقدر خرچ ہو چکا تھا کہ اب مزید خرچ کرنے کی گنجائش تک نہ بچی تھی۔گھر کا تین ماہ کا کرایہ سیکورٹی سب دے چکے تھے،،پچھتر ہزار کا کرایہ دیکر بھی دس دن بعد بھی ہم ڈھنگ سے گھر سیٹ نہ کر سکے تھے۔لاونج سے باہر لابی کی سیڑھیوں کے سامنے والا ماسٹر بیڈروم الگ ہونے کی وجہ سے ابھی تک سامان رکھ کر الگ سے بند تھا اور ہم تین لوگ گھر کا پورا کرایہ دیکر بھی ابھی تک ایک کمرہ کو اندر سے بند کئے ،کنڈیاں لگا کرسونے پر مجبور تھے۔

دوسرے پورشن کی تلاش۔۔۔پھر سے!

ہم خود اورسیز تھے میں نے پردیسیوں کے خلوص اور مسائل پر کئی کالم لکھے تھے۔جب لوگ اورسیز سے خائف ہوتے تو میں ان کی حمایت میں تقریریں کرتی۔مگر اب خود ایک اورسیز فیملی میرے گلے پڑی تو جانا انسان کے پاس اختیار اور پیسے کی طاقت آ جائے تو وہ کسقدر ظالم ہو سکتا ہے۔ کسقدر بے رحم، خودغرض اور ظالم ہو سکتا ہے۔میں نے سوچا امریکہ میں کیسے تمیز اور اخلاق سے رہتے ہونگے،کسی کو غلطی سے کندھا بھی لگتا ہو گا تو پلٹ کر سوری کرتے ہوں چیزیں اٹھاتے ہونگے۔اپنے لوگوں کے لئے کتنے بڑے لوگ ہونگے اور یہاں پاکستان میں جہاں ہم خود اورسیز ہو کر صرف اس لئے استحصال کا شکار ہو رہے ہیں کہ جس گھر کے پیسے دیکر ہم نے کرایے پر لیا ہے وہ ان کی ملکیت ہے۔انہی کا ملک امریکہ یا ہمارا ابوظہبی ہوتا تو اس حرکت پر ان کو جیل ہو جاتی۔مگر یہ پاکستان ہے جہاں انصاف کا قانوں موجود نہ ہو،وہاں ظلم کا قانون موجود ہوتا ہے۔بیس سال میں تحریک انصاف انصاف ڈھونڈتی اور انصاف دینے کا وعدہ کرتی طاقت میں آ گئی مگر اس بدنصیب ذمین پر کبھی پھر بھی انصاف نہ اتر سکا۔

ڈان نیوز پر پڑھیں

کئی دن کے ذہنی دباؤ اور کوفت میں مبتلا رہ کر بلآخر ایک دن میں نے میاں کو فیصلہ سنا دیا کہ میں ان لوگوں پر مزید اعتماد نہیں کر سکتی ،چناچہ وہ ہاں کریں یا ناں مگر مجھے مزید اس گھر میں نہیں رہنا۔جو ہو گا دیکھا جائے گا۔اس ساری صورتحال میں ہمارے عزیز دوست جنہوں نے کمال مہربانی سے ہمیں یہ پورشن دلوایا تھا خموشی سے تماشا دیکھ رہے تھے۔

اسی دوران ایک اور زحمت ہماری زندگیوں میں آٹپکی۔گھر شفٹنگ کے پہلے ہی دن میں جب یہ سب ہو رہا تھا ہمارے ایک قریبی عزیز وادی کاغان کی سیر کو جاتے جاتے ایک رات کو ہمارے گھر ٹھہرے ،جب ہمارے گھر ابھی گروسری بھی نہ آئی تھی اور کھانے کو کھانا بھی دوست کے گھر سے بھیجا جا رہا تھا۔تین چار دن بعد جب ان کی واپسی ہوئی تو انہوں نے گیٹ پر چھوٹے بھائی صاحب کا چیخنا چلانا دیکھا جو وہ مجھ سے عزت افزائی کرنے کے بعد نیچے کر رہے تھے۔ساتھ ہی ایک آدھ دن کے قیام میں انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ گھر ون یونٹ ہے،ہمارے پاس تالے لگانے کا کوئی سسٹم نہیں ہے،اور اوپر سرونٹ کوارٹر میں جو عملا ہماری تحویل میں تھا کوئی چوکیدار سو رہا تھا۔ہمیں چونکہ شفٹ ہوئے دوسرا تیسرا دن تھا تو ابھی چیزیں سیٹنگ کے مراحل میں تھیں۔وہ عزیر جو کئی بار ابوظہبی ہمارے مہمان بن چکے تھے اور ہمارے دل کے خاصے قریب تھے واپس آبائی شہر پہنچ کر ہمارے والدین کی خدمت میں پہنچے اور نجانے کیا کیا گپ بازی کی کہ اگلے کئی ماہ تک ہمارا جینا حرام کر دیا۔ہمیں اماں ابا کے فون پر فون آنے لگے،ہم پر ہمارے فیصلوں پر اعتراضات آنے لگے،جبکہ میاں صاحب ابوظہبی میں تھے میں دو بچوں کے ساتھ اس شہر میں اکیلی تھی،اور اپنے آس پاس کے حالات سے لڑ رہی تھی کہ ہمارے خاندان ہمیں تکلیف دینے والوں میں شامل ہو گئیے۔تب پچھلے دس سالوں بعد ہم نے پہلی بار اپنے پیچھے محبت کی بجائے دھوکہ،فریب،خورغرصی ،کینہ پروری دیکھی۔دس سال پردیس میں رہ کر دور کے سہانے ڈھول سنتے تھے اور صرف محبت محبت کے گیت گاتے رہتے تھے۔نفرت،حسد سیاست،جیسے سبق الگ ہونے کی وجہ سے ہم خود بھی بھول چکے تھے،بہت لمبے عرصے بعد ہم نے حسد،کینہ پروری،خودغرضی کو ذندہ جاوید اپنے رشتہ داروں کی شکل میں دیکھا تو ہمارے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ایک طویل عرصے بعد جانا کہ یہ دنیا کے بدصورت ترین،خوفناک ترین وجود ہیں جو روحوں کو زخمی کر کے انسان کو پاتال میں پھینک دینے کے قابل ہیں۔انسان حسد،دھوکے،فریب سے بھی مر جاتے ہیں صرف گولی اور زہر ہی ضروری نہیں۔

____________جاری ہے!

______

تصاویر و فوٹو گرافی:صوفیہ کاشف

ٹائیٹل کور: ڈان نیوز

4 Comments

  1. In a male dominated society, it is surprising to see that a woman have rights other than getting merely food & clothes. She does not want to be exploited. She needs respect. — Great work in the world of men.

    Liked by 1 person

    1. Thanks for such a positive comment. Its giving a lot of positive energy and strength while majority is pointing their fingers.jazak Allah khair!

      Like

  2. میں نے آپ کی پردیس والی تمام تحریر پڑہی۔ آپ نے جن حالات کا سامنا کیا اس کے لیئے بہت ہمت درکا ہوتی ہے اور آپ نے کمال ہمت کا مضاہرہ کیا۔ یہ طاقتوروں کی دنیا ہے۔

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.