پردیس سے دیس________5

ڈیڑھ سال گزر جانے کے بعد وہ زخم مندمل نہ ہو سکے،آج بھی یونہی لگتا ہے جیسے کل کی بات ہو۔میں کاغز قلم اٹھاتی ہوں،واقعات کو جوڑنے کی کوشش کرتی ہوں اور ان انگاروں بھری داستانوں پر سے بڑی مشکل سے گزرتی ہوں،دو ہزار الفاظ کا سفر جیسے دہائیوں کا سفر بن جاتا ہے ۔جیسے قیامت کادن طویل تر لگتا ہے ایسے ہی اس داستان کے چند حروف لکھنا طویل تر ہوتا جاتا ہے،ابھرتی ہوں اور ڈوب جاتی ہوں پھر ہوش میں آتی ہوں اور ابھرتی ہوں،پھر ڈوب جاتی ہوں۔۔۔

کئی دن کے ذہنی دباؤ اور کوفت میں مبتلا رہ کر بلآخر ایک دن میں نے میاں کو فیصلہ سنا دیا کہ میں ان لوگوں پر مزید اعتماد نہیں کر سکتی ،ان کا پورشن الگ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔۔میں تنہا اس گھر میں بچوں کے ساتھ ان حالات میں رہ رہی تھی اور یہ بات میرے لئے صبح شام کی ٹینشن تھی مگر مالک مکان کا رویہ ایسا تھا جیسے سب مذاق تھا ۔

اگلے کچھ دن میں نے بچوں کو انہیں عزیزان کے گھر چھوڑا جن کی دھوپ کو سایہ سمجھتے تھے اور دوبارہ سے ڈرائیور کے ساتھ تنہا کرایے کے گھر کی تلاش میں نکلی۔میں ایک ایسے شہر میں تھی جہاں سوائے میرے منہ بولے سوشل میڈیائی دوستوں کے اور کوئی اصل عزیز اور دوست موجود نہ تھا

گھر کی تلاش میں نکلتے میرے دماغ میں یہ خیال بیٹھ چکا تھا کہ اب مجھے اس ہاؤسنگ سکیم سے نکل کر دوسری میں جانا ہے۔اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ یہاں ویسا کوئی نیا پورشن مہیا نہیں تھا جیسا مجھے چاہیے تھا ،دوسرا یہاں کے لوگوں اور ان کے رویوں پر سے میرا اعتبار اٹھ گیا تھا۔جس عزیز فیملی کے بھروسے یہاں شفٹ ہوئے تو مشکل حالات میں ان کی مکمل خموشی نے ان کی موجودگی کی ضرورت سے ہمیں بے نیاز کر دیا تھا۔ایک اہم وجہ یہ بھی تھی کہ پہلے کرایے کے گھر کے چکر میں ذلیل کرنے والا ڈیلر یہاں کی انتظامی کمیٹی کا ممبر بھی تھا اور اس سکیم میں رہتے کئی طرح کے مواقع پر اس کا محتاج ہونا پڑتا جو میں قطعی چاہتی نہ تھی۔سو اس بار میں گھر کی تلاش میں دوسری طرف فوجیوں کے مقبول ترین علاقے کی طرف نکلی۔

زمین ڈاٹ کام سے کئی آپشنز دیکھیں،پراپرٹی ڈیلرز سے رابطے کئے اور گھر دیکھنے کا سلسلہ شروع کیا.پہلے دن صبح نو بجے سے نکلنے کے لئےتیار ہو کر بیٹھی تو بارہ بجے تک کسی ڈیلر کا نمبر نہ ملا۔اس کی وجہ بعد میں سمجھ آئی کہ ملک کے دارالحکومت میں بارہ بجے سے پہلے کوئی کاروبار شروع نہیں ہوتا۔ہمیں ابوظہبی میں بچوں کے اسکولز اور دفاتر کی وجہ سے صبح سویرے جاگنے کی عادت تھی۔ابوظہبی میں سب کو دفاتر کے لئے صبح سویرے نکلنا ہوتا ہے اور آٹھ بجے لازما دفتر پہنچنا ہوتا ہے۔مارکیٹس گروسری سب صبح سات بجے کھل جاتی تھیں اور رات گیارہ بجے بند ہو جاتی تھیں۔اب جو دیکھا کہ دارلحکومت میں دن بارہ بجے تک کوئی گروسری،کوئی شاپ کوئی میڈیکل سٹور نہیں کھلتا تو عجیب لگا۔کوئی بھی قوم،کوئی بھی سسٹم مجموعی طور پر اور کھلے عام اسقدر غافل کیسے ہو سکتا ہے؟.کوئی ضروری چیز ,کوئی دوا،کوئی اسٹیشنری چاہیے تو رات ایک بجے مل جائے گی مگر صبح نو بجے نہیں مل سکے گی۔ دبئی میں کئی سپر مارکیٹس چوبیس گھنٹے بھی کھلی رہتی ہیں اور یہاں دارلحکومت میں ایسی بھی کوئی آپشن نہ ملی۔

اکیلے مختلف گھروں کے ڈرائیور کے ساتھ چکر لگے تو عجیب حال دیکھا۔لوگ ڈیل یوں کرتے تھے جیسے احسان کرتے ہوں اور کرایہ یوں مانگتے جیسے بھتہ مانگ رہے ہوں۔رویہ ایسا کہ کسی مہزب ملک میں کوئی ٹھیلے والا بھی اپنے گاہک سے نہ کرے,جہاں سے ہم آئے تھے وہاں پھل اور سبزی کی دکان پر بھی مسکرا کر استقبال کیا جاتا،تعظیم سے مال دکھایا جاتا اور تکریم سے پیکنگ کر کے بہت ہی پروٹوکول سے ہمارے ہاتھوں میں چیزیں تھمائی جاتیں ۔اور یہاں ہم ہزاروں لاکھوں کا گھر ڈھونڈ رہے تھے اور ذلیل ایسے ہو رہے تھے جیسے بھیک مانگ رہے ہوں۔۔ایک صاحب گیراج میں قمیض اتارے گاڑی دھو رہے تھے ویسے ہی ہمیں بیچ میں سے گزر کر اندر بیگم تک جانے کو کہہ دیا ۔انہیں قمیض پہننے کی درخواست ہمیں خود کرنی پڑی تا کہ ہم عزت سے گزر سکیں۔لوگ اپنے اوٹ پٹانگ گھر دکھاتے اور اپنے بڑی بڑی شرائط بتاتے اور ہمارے حقوق سے مکمل روگردانی کرتے۔اچھے خاصے ادارے کے پڑھے لکھے لگتے ایک نوجوان نے ہمیں فرسٹ فلور دکھایا جس تک جانے کے لئے سرونٹ کوارٹر کی طرح کا ایک باریک سا لوہے کا زینہ چڑھایا گیا تھا جس سے چڑھتے ایک گھر کی بجائے چوبارے کا تصور ابھرتااور کرایہ ستر ہزار۔جب ہم نے داخلی دروازے کی تنگی کا کہا تو انتہائی دھونس اور بدتمیزی سے گویا ہوئے کہ “ایسا ہی ہے لینا ہے تو لے لیں ورنہ جائیں”ہم حیرت سے اس کے لہجے اور صورت کی طرف دیکھتے رہ گئے کہ شکل صورت سے تو آپ معقول پڑھے لکھے دکھتے تھے مگر حیرت یہ ہے کہ آپ کو سر عام ایسی دھونس اور بے حسی کا مظاہرہ کرتے کسی قسم کی شرم کا بھی احساس نہیں ہوتا۔ بدقسمتی سے پاکستان میں معقول،پڑھے لکھے اور کلاسی ہونے سے محض بدتمیزی، تکبر اورجہالت لی جاتی ہے۔آپ جتنے بدتمیز اور بدتہزیب ہیں اتنے ہی قابل ،اور اعلی طبقے سے تعلق رکھتے سمجھے جاتے ہیں۔تبھی تو جگہ جگہ افسر لوگوں کے بیوی بچے پولیس کے، سیکورٹی کے گلے پڑتے دکھائی دیتے ہیں کہ بڑھ بڑھ کر دوسروں کی بے عزتی کرنا دراصل ہمارے پیارے پاکستان میں معزز ہونے کی نشانی ہے۔ابھی کل ہی پاکستان کے ایک بڑے پڑھے لکھے رائیٹر اور پبلشر نے کسی معاملے پر اپنی غلطی کی ہم سے معافی مانگتے ہوئے ساتھ دھمکی بھی لگا دی کہ اعتزاز احسن انکا وکیل ہے وہ دیکھ لیں گے۔جب سارے معاشرہ اندھیر نگری بن چکا ہو تو لوگوں کو سمجھانا مشکل ہے کہ اندھیر مچی ہے۔چناچہ ہم خموش تماشائی بن کر ان اندھیروں کے خود کو عادی کرتے جا رہے تھے۔ایک فلور ایک بہت ہی عزت مآب گھرانے میں ہمیں ایسا دکھایا گیا جس میں میڈ روم ایک غلیظ ڈربے سے بھی کمتر تھا اور حیرت انگیز طور پر دکھانے والوں کو اسمیں کسی خفت کا سامنا نہ تھا۔ ہم اپنے موجودہ ملازمین کو انسان ہی سمجھتے تھے اور ایسی جگہ پر ان کو نہ رکھ سکتے تھے جسے ہم خود دیکھ کو بھی ابکائی کر بیٹھتے۔ چناچہ حیلے بہانے سے نکل آنے کے سوا اور کوئی بھی صورت نہ تھی۔

ایسے میں پوری سہ پہر جولائی کی گرمی میں ڈور ٹو ڈور پھرتے ہمیں اس ظلمت میں ایک فرشتہ صورت دکھائی دی۔ایک خاتون جو ہمیں گھر کی بیسمنٹ دکھانے آئیں، مگر فلور دکھانے سے پہلے ہمیں اتنی توجہ اور اصرار سے دھکیل کے اندر لے گئیں کہ باہر اتنی گرمی ہے پانی تو پی لیں۔ ہماری پور پور سے ان کے لئے دعا نکلی۔ پورا دن نوابوں کے اس شہر اور نوابی بستی میں کسی نواب یا بیگم صاحبہ نے کوئی مہربان لفظ تک نہ بولا تھا پانی تو بہت دور کی بات تھی،اگرچہ ہم بڑی گاڑی میں ڈرائیور کے ساتھ تھے اور کسی بھی دکان سے خرید کر کچھ بھی پی سکتے تھے اگرچہ بھولے بیٹھے تھے مگر انسان کا انسان پر کوئی نہ کوئی حق تو ہونا ہی چاہیے۔بدقسمتی سے ہم انسان ایسے تماتر حق بھلا بیٹھے ہیں۔ان خاتون کا ہم نے نمبر لیا کہ ان سے پھر رابطے میں رہیں گے۔اگرچہ انہیں آنیوں جانیوں میں وہ نمبر گما بیٹھے مگر تپتی دھوپ میں سایے کی طرح ان کا نظر کرم شاید ہی ہم بھول سکیں۔سو ہزاروں میں کہیں کوئی ایک آدھ ایسا ابھی باقی ہے جنہوں نے کسی نہ کسی طرح انسانیت کو خود میں ذندہ کر رکھا ہے۔

ڈان نیوز پر پڑھیں۔

ایک کرنل صاحب نے گھر دکھاتے فرمایا کہ اگر آپ کے ساتھ گھر کا فائنل ہوا تو میں آپ کے شوہر سے بات کرنا چاہوں گا۔میں نے ان کو نمبر ملا دیا کہ لیجئے ابھی بات کر لیجئے۔تو صاحب زرا سا معزرتانہ بولے “دراصل بعض اوقات طلاق یافتہ خواتین آ جاتی ہیں جو جھوٹ بولتی ہیں کہ ہمارے میاں باہر رہتے ہیں۔۔۔”۔۔مجھے شدید حیرت ہوئی کہ عورت کا طلاق یافتہ ہونا کیا اس قدر بڑا جرم ہے زمانے میں؟ اگر کوئی بیچاری بیوہ یا طلاق یافتہ ہو تو کیا اس بیچاری کو اختیار نہیں کہ شریفوں کے محلے میں گھر کرایے پر لے سکے اگرچہ کسی بھی مطلقہ اور بیوہ کی ذندگی کی سب سے بڑی خواہش اور تقاضا یہی ہو سکتا ہے کہ اسے شریفوں کے محلے میں کوئی جگہ مل جائے جہاں وہ اور اس کے بچے ہر شر سے محفوظ رہ سکیں۔مگر یہ پاکستان کا سچ نہیں۔ذمینی سچ تو یہ ہے کہ جس معاشرے میں طاقت کا توازن پیسے کے وزن کے ساتھ بنتا اور بگڑتا ہو وہاں شرافت اپنے اہل و عیال کے ساتھ ہمیشہ کے لئے کوچ کر جاتی ہے۔سو جب ٹی ایس ایلیٹ یہ کہتا ہے کہ کہ بنجر سرزمین میں ہڈیاں کڑکڑاتی ہیں تو یہ ہمارے معاشرے کا سچ ہی لگتا ہے۔۔۔اگرچہ شریفوں کے اس محلے کے بارے میں ہماری اصل رائے ابھی بھی محفوظ ہے۔

ڈراؤنے خواب جیسا گھر

اس بات کے تناظر میں اگلے دن ہم نے صرف بیٹی کو عزیز فیملی کے گھر چھوڑا اور بیٹے کو ساتھ لے لیا تا کہ ایسے مردوں کی تشفی ہو سکے۔اگرچہ اکیلی بیٹی کو کسی کے گھر اکیلا چھوڑنا ایک رسک تھا اسی لئے پہلے دن دونوں بچوں کو ساتھ چھوڑا تھا کہ ایک دوسرے کا آسرا ہونگے۔مگر دوسرے دن یہ رسک بھی لینا پڑا کہ لوگوں کی نگاہیں ہمیں معتبر دیکھیں۔اسی تجربے کے بعد اگلے دن ڈیلر کو بھی صاف منع کر دیا کہ مغرب کے بعد کوئی گھر نہیں دیکھوں گی۔یہاں ہر نگاہ آپ کو برے گمان کے ساتھ دیکھتی ہیں وہ اچھے گمان رکھنے کے احکامات بہت سے دوسرے احکامات کے ساتھ اکارت گئے۔وقت چونکہ کم تھا اس لئے دو تین دن کی مکمل خواری کے بعد بلآخر میں نے پہلی اچھی آپشن ہاتھ لگتے ہی بات طے کر لی ۔اور سیکیورٹی دے کر گھر کا قبضہ لے لیا۔تا کہ اگلے ہی دن ہم ڈراؤنے خواب جیسے گھر سے نکل کر محفوظ مقام پر پہنچ سکیں۔

جاری ہے۔۔۔۔

____________

تحریر و فوٹو گرافی:صوفیہ کاشف

ٹائیٹل کور بشکریہ ڈان نیوز

4 Comments

  1. میں اور بیوی 28سال کویت مین گزار کر گزشتہ دسمبر 20 میں کراچی شفٹ ھوے ھیں میں آپ کے اس محبت نامه پاکستان کی تصديق كرتا ھوں میں بھی پاکستانی بننے کے عمل سے گزر رھا ھوں تب تک موت آھی جائے گی مگر شاید میں سچا پاکستانی نہ بن پاؤں گا. کہ پردیس مین رہ کر مجھے زنگ لگ چکا ھے. شکر ھے میرے بچے غیر ممالک میں ھیں ورنہ میرے گناھون کا بوجھ انہیں اٹھانا پڑتا

    Liked by 2 people

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.