دوام آخری سحر ہے__________سدرت المنتہی


کیونکہ محبت معذرت نامہ قبول نہیں کرتی.


یہ دو,ماہ پہلے کی ہی بات تھی جب وہ باہر,جانے لگی تھی,اور اسے ملنے کے لیے بلایا تھا,وہ تب بھی بڑا خوف زدہ سا تھا,کچھ ہونی کا خدشہ اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا تھا,اور اب تو جیسے کوئی مہر ثبت ہوئی تھی.
کیا تم نے محبت کو ٹھکرادیا عالین؟وہ اس روز بکھری ہوئی حالت میں آیا تھا ,
کیا تم نے سب ٹھکرادیا عالین, اسکی محبت, اسکی شدت, اس کا تمہاری طرف بڑھنا, کیا سب ہی,
مجدد, میری اس سے ملاقات نہیں ہوسکی, میں کل جارہی ہوں,,
اور تم سے ایک امید رکھتی ہوں کہ میرے جانے کے بعد تم کچھ سنبھال لو گے, کم از کم سعدیہ کا خیال تم رکھوگے,, میں چاہتی ہوں کہ تم اس کا خیال رکھو, کوئی اور نہیں ہے اس کے پاس
اس کے پاس مستقیم ہے عالین,
لیکن وہ صحت مند نہیں ادھورا ہے, وہ بہت تھکتی جارہی ہے, پلیز اس کا ساتھ دو, اسے تمہاری بہت ضرورت ہے مجدد بہت ہی زیادہ, اسے تنہا مت چھوڑو پلیز, ایسا مت کرو,
مجھے تو لگتا ہے کہ اسے اب میری ضرورت نہ ہو,
یہ غلط فہمی کب جنم لی تمہارے اندر؟
وہ میرا فون نہیں اٹھاتی عالین,, وہ بسی سے کہنے لگا.
تو مطلب غلط فہمی نہیں ہے یہ, بلکہ شکوہ ہے, تو کرو شکایت اس سے, لیکن اسے چھوڑو مت,
میں نے نہیں چھوڑا عالین, لیکن تم پلیز سمجھنے کی کوشش کرو, اس کی بھی بھلائی ہے
کس میں بھلائی ہے اس کی کہ؟کیا کرے وہ بچاری آخر اس حال میں, اسے رحم آرہا تھا اس پر بہت زیادہ.
دیکھو میری بات سمجھو عالین اسے یہ کرنے دو, اپنی جنگ لڑنے دو اسے, یہ اس کی چوائس ہے, اسے اکیلے کرنے دو, کیونکہ یہ سب اس کا نصیب ہے, وہ اکیلی نہیں ہوگی تو بہادر کیسے بنے گی عالین, اسے بہادر تو بننے دو,,
مجھے کیوں ایسا لگ رہا ہے مجدد, جیسے یہ تنہائی اس کے لئے بہت مشکل بن جائے گی, اور وہ لڑنے کے لیے اکیلی ہوگی.
عالین درحقیقت سچائی یہ ہے کہ ہم سب اپنے اپنے حصے کا کاٹ رہے ہیں,
ہم سب بہت مشکل میں ہیں, ہم سب کو ہی ضرورت ہے, عالین تم سمجھنے کی کوشش کرو, اسے عادت ہوگئی ہے کہ کوئی ساتھ ہو, زندگی پہاڑ جتنی ہے, بہت کٹھن ہے, اسے سمجھنے دو, اس نے مشکل انتخاب کیا ہے, لیکن اسے عادی بننا ہوگا.
تم ٹھیک کہتے ہو مجدد لیکن اپنی اپنی برداشت کی بات ہے, وہ کمزور ہے, اور اس نے واقعی بہت کٹھن انتخاب کیا ہے,
لیکن تم اس کے ساتھ رہے ہو,
میں جاؤں گا, اس کی خبر رکھتا رہوں گا.
, ہاں پلیز جانا,, کیونکہ مجھے ابھی لگتا ہے کہ وہ بہت کرائسز میں ہے,جو بھی ہو مکمل تنہا نہیں کرنااسے, خیر اللہ اس کی مدد کرے, بس مجھے تم سے ہی کچھ امیدیں ہیں.
مجھے ابھی جانا پڑگیا ہے, بہت کٹھن وقت ہے,میں رک بھی نہیں سکتی, اور دکھ کو بیٹھ کر رونے سے دکھ اور بڑا وبال بن جائے گا,
اوہ,, تمہاری ماں کی خبر,, یہ کتنا بڑا دکھ ہے, ماں تو پھر ماں ہے, دشمن کی بھی جائے تو بندہ ہول جاتا ہے, لیکن مجھے تم سے امید ہے کہ تم خود کو سنبھالے رکھوگی,,
بس تم دعا کرنا مجدد, لیکن میری ایک اور بات سنو, زیبی کی بھی خبر لینا, وہ بہت الجھن میں مبتلا ہے, میں اس کے شوہر سے مل آئی ہوں, بہت کھڑوس اور بے ایمان ہے, وہ اسے چھوڑنا بھی نہیں چاہتا اور رکھنا بھی, عجیب آدمی ہے,
یہ کہتے ہوئے اس کے انداز میں تنفر ابھر آیا, اور وہ بتانہیں سکی کہ کس حالت میں اسے دیکھ آئی ہے,
وہ زیبی کے لائق ہے؟وہ سیدھا سوال کربیٹھا تھا,.
جس صورت میں دیکھ آئی ہوں اس صورت تو بالکل بھی نہیں ,ایک عجیب گلی میں اس کا نیا گھر تھا چھوٹے کوارٹر میں بہت گھٹن زدہ سا ماحول, ہر اک چیز گھر کی بکھری ہوئی, اور ساتھ اس کا دوست, جس کے ساتھ اس کا رلیشن,, تم خود سمجھ سکتے ہو,, اوف توبہ, عجیب تعفن کا احساس تھا, وہ اتنے فخر سے یہ سب مان رہا تھا کہ ہمارے تعلقات ہیں, اور ہم بہت خوش ہیں, اگر زیبی آنا چاہے گھر تو آسکتی ہے, میں اس کے لئے ہفتے میں دو دن نکالنے کی کوشش کروں گا, اففف تف ہے, بہت گھبراہٹ ہوئی مجھے وہاں جاکر بہت گندگی ہے اس کے اندر جسے وہ حقوق انسانی کہہ رہا تھا, اس سب کو ہر روز دہراتے حیرت ہے کہ وہ دن بدن نڈرہوتا جارہاہے,
بس میں کچھ نہیں جانتی اس کے اندر کی یہ کیا کمی ہے, جس نے اسے اس سب کے لئے مجبور کیا, شاید اسکی اور زیبی کی ہم آہنگی نہیں,, خیر جو بھی ہے,, چھوڑو اس کا زکر, تم فقط زیبی سے بات کرلینا, مجھے لگتا ہے وہاں جاکر میں کسی کے ساتھ رابطے میں نہیں رہ پاؤں گی, نہ سر سالس, نہ زیبی, نہ سعدیہ,, شاید مجھے وہاں جاکر امی کی کمی کا زیادہ احساس ہو, میں سوچتی ہوں تو خود کو بہت کمزور محسوس کرتی ہوں,
بہت ہی کمزور, سمجھ نہیں آتا, کیسے سفر کروں گی, جب یہاں آرہی تھی, تب بابا کی یاد تھی, اور اب جب یہا سے جارہی ہوں تو ایک اور غم,, لیکن میں بس وہاں جانا چاہتی ہوں تاکہ میں یقین کرسکوں اس سب کا, جس کا مجَھے ابھی یقین نہیں ہے,,
میں رونا بھی نہیں چاہتی مجدد, میں نے خود کو ڈاج دے رکھا ہے کہ وہ سب جھوٹ ہے, جو میں نے فون پر سنا,
بس… تم سے ملنا تھا,
جب تک لوٹوں نہ.. کوئی سوال مت کرنا. کسی کے متعلق نہیں کرنا, کچھ نہیں کہنا مجدد,
کچھ بھی نہیں کہنا,
نہیں کہوں گا لیکن فقط تمہیں اتنا کہتا ہوں کہ اس سے ایک بار مل کر جانا,
فقط ایک مرتبہ اس لئے کہ عالین محبت بار بار آواز نہیں دیتی, محبت بار بار پکارتی نہیں ہے,
محبت کرنے کے لیے بار بار موقع نہیں ملتا, اور ہر کوئی محبت کربھی نہیں پاتا, اگر محبت آواز دے, اگر احساس دے, اگر محبت پکارے, تو اتنی بے رحمی اچھی نہیں, بس اس کو انتخاب اگر نہ کرو تو ایک کام ضرور کرنا, اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر, اس کی بات کی نفی اس کے سامنے کرنا, مجھے تم سے کوئی بھی بہادرانہ توقع ہے.
وہ جیسے اس پر بوجھ ڈال چکا تھا,
نہ کہ احساس دلانا لیکن
تم مجھ پر بہت بوجھ ڈال رہے ہو,
ڈال رہا ہوں, ہمیشہ یہ کام تم نے خود کے لیے کیا ہے, لیکن اب میں کررہا ہوں,
اسے قبول کرو یا رد,, لیکن ابھی سے اسٹیپ لو
لے چکی ہوں مجدد, رد کرچکی ہوں,
مت کہو ایسا, ایک بار اسے سن لو, اگر وہ اس پاور کا نہ ہوا, محبت میں وہ طاقت نہ ہوئی تو وہ تمہیں خود کہے گی کہ ہٹادو, یہ میرے قابل نہیں, تمہارے قابل نہیں, محبت اسے راستہ نہیں دے گی اگر وہ محبت کی کسوٹی پر پورا نہیں اترپاتا, تو خواہش اس کی ڈھل جائے گی, تم بس ایک کام کرو, جانے سے پہلے اس سے ایک بار مل لو,

وہ بہرحال اسے قائل کرچکا تھا جاتے ہوئے,
اور تمہیں یہ بھی بتادوں کہ, محبت معذرت نامہ قبول نہیں کرتی,
یہ ایک بار آتی ہے,
پھر اس کے بعد یا ہوتی ہے, یاپھر نہیں ہوتی.
ایک فقرہ تھا جس نے زندگی کو لمحے بھر میں انگلی پر اٹھالیا تھا,
وہ چلا گیا, اور ادھورا سامان باندھے وہ بہت دیر تک کھلے دروازے سے آتی ہوا کو ٹکراتا دیکھتی محسوس کرتی سی گہری سوچ کے تھپیڑوں کی زد میں آگئی تھی,
یہ بہت مشکل امتحان تھا, اس کے لئے, جسے اچھے بھلے مشکل کام بھی کبھی اتنے مشکل نہ لگے تھے.


کیونکہ ہر کسی کے ذہن میں کچھ سوال جنم لیتے ہیں.


اکیڈمی کلاس کی عمارت کے اوپر بادلوں کا سائبان ٹہرساگیا ہوجیسے, اس نے سر بلند کرکے آسمانی چھاؤں کو دیکھا, بادل آسمان سے بہت نیچے رہتے ہیں, لیکن آسمان سے ان کا رشتہ کتنا گہرا ہے,,
وہ زندگی میں پہلی بار چیزوں کو محسوس کررہی تھی, ہرارت کو, احساس کو, پانی کے چھینٹے کی آواز کو,, ایس توعالین محسوس کرتی تھی, اتنی حساس تو وہ تھی, اسے یاد آیا ایک روز وہ پانی کھول کر کھڑی تھی اور اسکی آواز کو سن رہی تھی,
اس نے بڑھ کر نل بند کیا اور آخری قطرہ ٹپکنے لگا, جس کی آواز لمحوں کے وقفے سے گرتی تو دھت خاموشی میں جیسے کوئی پتھر پھینکتا تھا, اس نے بڑی تکلیف سے ہاتھ آگے بڑھا کر نل کو زور سے بھینچ کر بند کیا, مت کرو ایسا زیبی یہ ایک قطرے کی آواز کسی سزا سے کم نہیں ہوتی, یہ دماغ پر جاکر لگتی ہے, مجھے بہت محسوس ہوتی ہیں آوازوں کی دھمک, ہر طرح کی,
تم زیادہ دھیان دیتی ہو, مت دیا کرو, پاگل ہوجائوگی عالین, یہ تب کی بات تھی جب انکے درمیان وبا کی صورتحال کی پریشانی کی وجہ سے کچھ یکجہتی ہوگئی تھی,
ویسے تم کیا سمجھتی ہو کہ یہ وبا کیوں آئی ہے,,
سب کچھ تو برا نہیں ہے زیبی,کچھ تو فائدہ اس کا بھی ہے, دیکھو فطرت کتنا چیخ رہی تھی, بلآخر کچھ ایسا ہوا کہ فطرت نے چنگھاڑا, بہرحال وبائیں آتی رہی ہیں, دنیا مسمار ہوتی رہی ہے, زلزلے, طوفان آفتیں, لیکن پھر امن بھی ہوا ہے, مجھے لگتا ہے ہوگا, بس انسان خود پر زرا رحم کرے کرنا ہی ہوگا ورنہ کام نہیں ہوگا,
ورنہ فقط تباہی آئے گی, افسوس تو اسی بات کا ہے لیکن زیبی ہم آخر کتنا افسوس کریں گے,
سوچنے کے لیے کچھ اچھا بھی ہے,
ہاں بالکل اچھا ہے اور جھیلنے کے لیے یہ بیماری,, جس نے آدھا دم نکال کر رکھا ہوا ہے,
ہاں لیکن تم پہلے سے بہتر ہو, تم کرنٹائن میں ضرور ہو لیکن خطرے سے باہر ہو, شکر کرو کہ تم وبا کی شکایت کرنے کے لیے بچ گئی ہو, شکر کرو کہ زندگی تمہیں پھر سے چانس دے رہی ہے,
خدا جانے کیوں عالین کس لیے,, کیا کوئی فائدہ ہے,,
فائدے کے علاوہ بھی انسان سے جتنا ممکن ہوسکتا ہے وہ جیتا ہے, تم بھی جینا, جتنا ہوسکے خوشی سے جینا, دکھوں کو بھلادینا, خوشی سب کچھ ہے ,
دکھ کچھ بھی نہیں ہے,
دکھ ہی سب کچھ ہے عالین,, تمہیں کیا پتا کہ دکھ ہی سب کچھ ہے,, یہی جینا سکھارہا ہے,
لیکن دکھ اور پریشانی میں فرق ہے,,
دکھ انسانوں کو اتنا بھاتا ہے کہ وہ دکھ کی کوئی فصل کھڑی کرلیتے ہیں, وہ بلاوجہ ہی پریشان ہوتے ہیں, انہیں کچھ نہ کچھ کرنے کے لیے چاہیے ہوتا ہے, بس یہی ان کا حل ہوتا ہے, کہ کچھ ملتا رہے, کچھ ہوتا رہے, پہیہ چلتا رہے, تم بس آگے بڑھتی رہنا, وہ سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی.
آپ کو کس سے ملنا ہے مس ؟وہ کوئی لڑکا تھا دروازے کے پاس ہواس باختہ دیکھ کر اسے آگے بڑھ آیا,
مجھے,, ہاں, سالس صاحب ہیں؟
جی,
کہاں ہیں؟
انکا لیکچر چل رہا ہے, آپ خاموشی سے اندر جاکربیٹھ سکتی ہیں, کلاس اس طرف ہے, بائیں جانب, تھوڑا آگے جاکر بس, کاریڈور میں بلیک ڈور ہوگا,
ٹھیک ہے شکریہ, وہ کہتی اس کے اشارے کی جانب چل دی, کلاس میں دھت خاموشی تھی جس میں سالس صاحب کی آواز گونج رہی تھی, بہت ہلکی, لیکن شفاف, فقط
تم سوالوں کو زندگی سمجھو,, یہ جب تک ہیں حیات رہے گی,, کیونکہ سوال بہرحال ایک جہت ہے,
سوال کائنات ہے, سوال زندگی ہے,, تم کرو,یہ تمہیں نئی راہ دکھائیں گے, کبھی کبھار کچھ جان کر تمہیں تکلیف ہوگی, لیکن تم سیکھو گے,تم جانوگے, تمہیں محسوس کرنا ہوگا, تمہیں سمجھنا ہوگا, لیکن ہاں,, وہ کچھ سوچ میں پڑگئے تھے,
زیبی نے دیکھا وہاں ہر شاگرد کی آنکھوں کی پتلیاں کہیں فکر میں گھوم رہیں تھیں, ہر شاگرد اپنی سوچ کی تلاش کو کھنگال رہا تھا, اس کا دل کیا اٹھ کر مخل ڈال دے,
لیکن تب تک وہ بول پڑے, انہیں عالین کا آخری پیغام یاد آیا, ہاں,,

میری ایک شاگرد تھی, اب مجھے خود اپنی استاد لگتی ہے یہ الگ بات ہے,, اس نے پچھلے دنوں یہ خاص طور پر پیغام دیا کہ اپنے شاگردوں کو یہ ضرور کہیں کہ کبھی کبھار لاعلمی اور ناشناسائی بہت بڑی دین ہے, جب تک لا علم ہیں, خوش رہیں, اور جتنا دل سے جینا چاہیں جی لیں, اپنے کام سے کام رکھیں خوش رہیں, اور اپنے پیشے اور مقصد سے باہر کی چیزوں پر توجہ رکھیں,
ویسے اس کا اشارہ کچھ اور چیزوں کی طرف تھا, خیر یہ اس کی صلاح تھی, میں اس سے پچاس فیصد متفق ہوں, لیکن,
انکی نظر زیب پر پڑچکی تھی,
سر ایک سوال ہے, لمحے کی خاموشی میں ایک شاگرد بول اٹھا,
جی بیٹا؟وہ کچھ چاک و چوبند لگ رہے تھے,
ہم چونکے سر بات کررہے تھے اندرونی قوتوں کی پاور پر, جیسے کہ تھرڈ آئی کا کیا کانسیپٹ ہے آپکے پاس, یا پھر میڈیٹیشن,,یوگا بھی ..یہ سب کس حد تک افیکٹو ہیں, اور ہمارے لئے کتنے ضروری ہیں,
آں,, دیکھو, میری بات سنو,, یہ سب آپکا لاشعور ہے, اور سوچ کی سورس ہے, دماغ جب وہ سوچے جو ظاہری سطح سے آگے کا ہو تو آپکو لگتا ہے آپ اس زمین کے لئے ہی کیوں پیداہوئے,, تب کوئی نکتہ پیدا ہوتا ہے جو جہت دیتا ہے, جو سوال پیدا کرتا ہے, اور اپنے ہونے کا جواز ڈھونڈ نکالتا ہے, یہ ایک تلاش ہے.
لیکن اس کے لئے آپکی کارکردگی کا بیدار ہونا, یعنی حواس خمسہ سے کچھ آگے کا سفر ضروری ہوتا ہے, میرے پاس اس کے لئے کچھ ثبوت اور یادیں ہیں میں نے خود بڑا عرصہ ہپناٹزم اور میڈیٹیشن کے ساتھ وقت گزارا ہے, لیکن فی الحال ان کازکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے, انہوں نے اپنے تئیں بات نبٹادی تھی.

شاگرد نے ناسمجھی سے دیکھا, سر شاید آپ میرے سوال کو سمجھ نہیں پائے,اس نے مخل کرنا ضروری سمجھا ,میں کہنا چاہتا ہوں کہ یہ سب ہمارے لئے کتنے ضروری ہیں؟
ایک تو آج کل کے بچے,,انہوں نے آر جھٹکا,
ہم جب اپنے دور میں ہوتے تھے تو کہتے تھے کہ سر مجھے شاید سمجھانے میں کچھ دکت ہوئی ہے, یا میں اپنا سوال پہنچانہیں پایا, خیر یہ بھی فقط ایک بھرم ہی ہے, لیکن ایک حقیقیت ہے, انہوں نے توقف کرکے ٹھوڑی کھجائی , لیکن یہ بھی سچ ہے کہ بچے سمجھ رکھتے ہیں, میرے بچے, میں سمجھتا ہوں کہ میں جواب دے چکا ہوں کہ انکے حصول کے لئے ہمیں بہت ساری تگ و دو سے گزرنا پڑے گا, لیکن تفصیل پھر صحیح, ہم اس پر بات کریں گے اصل میں فی الحال میں ذہنی طور پر بہت ساری جگہوں پر پھنسا ہوا ہوں, دیکھو, تجربہ جب بڑھ جائے تو انسان بٹ جاتا ہے, حصوں میں, سوچ کی گرفت جہاں ٹک جاتی ہے, بندہ وہاں ٹہرا ہوتا ہے, یا اٹک گیا ہوتا ہے, میں شاید کہیں اٹک گیا ہوں, کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم بہت سے تجربات سے ایک ہی وقت میں گزررہے ہوتے ہیں, انکے چہرے پر تھکن عیاں ہونے لگی اور انہوں نے وقفہ لیا, حال میں بیٹھے کچھ بچے زرا گڑبڑائے اور کچھوں نے اسی پر اکتفا کیا,
میں بتاتی ہوں, وہ اپنی سیٹ سے اٹھ کر کھڑی ہوگئی, یہ آخری رو کی سیٹ تھی,
انہوں نے سر اٹھاکر اسے دیکھا, ذیبی,, اور زیر لب مسکرائے, تو اس کا حوصلہ بڑھا, وہ آگے آئی,
میں سر کی اسسٹنٹ رہ چکی ہوں, اس لیے میرے پاس تھوڑا پرانا حق ہے کہ میں بھی کچھ سوالوں کے جواب دوں,
وہ مسکراکر آگے آکر کھڑی ہوئی , تو انہیں قدرے تسلی سے بیٹھنے میں آسانی ہوئی, اور وہ خود کا لاشعور سنبھالنے کی پوزیشن میں آگئے.

آپکا سوال یہ نہیں کہ یہ چیزیں اور انکے اثرات کس حد تک ہیں, آپکا سوال چونکہ یہ ہے کہ ہمارے لئے ضروری کیوں ہیں, اور کس کے لیے کس حد تک ضروری ہیں .
شاگرد نے تسلی سے سر ہلاکر تائید کی,

کیا ہر انسان کے لئے میڈیٹیشن, یوگا, سوچ کی وسعت,یا پھر مخفی احساس و علوم سے آشنائی, نفسیاتی سب کانشس کا متحرک کئے جانا, ٹیلی پیتھی کی مشکیں, وغیرہ یہ سب کتنے ضروری ہیں, تو میں کہوں گی کہ پہلی بات کہ ہر کسی کے لیے یہ تجربے ایکسرسائز ضروری نہیں, لیکن یہ ضرور کہتی ہوں کہ آپ سب میں سے کسی کو ان میں سے کسی ایک پہلو پر سوچنے اور عمل کرنے کی ضرورت ہوسکتی ہے, صرف ایک پہلو پر, ہر آدمی ہر احساس اور تجربے سے نہیں گزرسکتا, نہ اسے گزرنا چاہیے, آپ جتنی خواہش اور ضرورت ہو, آپ اتنا لے سکتے ہیں, , کیوں کہ بہت سارے لوگوں کی ذہنی اور روحانی ضروریات کی پورائی کے لگ تقاضے ہوتے ہیں,اور ہمیں اسی دائرے میں رہنا ہوتا ہے, یہ ہماری مجبوری بھی ہے اور اس میں ہماری عافیت بھی ہے.
اسکی بات ابھی ختم نہیں ہوئی تھی, لیکن وہ رکی تاکہ جو کچھ بات کرنا چاہتے ہوں اس پر انہیں موقع ملے,
محترمہ ایک سوال ہے, جو میرے خیال سے اس وقت ہم سب ہی کی سوچ میں ہوگا
ہم کیسے جانیں کہ ہمارے لئے کون سا تجربہ یا ایکسرسائز ضروری ہے؟
سوال کسی درمیانی عمر کے آدمی نے کیا تھا, اس نے سوچا کہ یہ بھی کیا کلاس لینے آتے ہیں, ہوسکتا ہے کوئی ریسرچر ہوں, یا پھر صحافی, یا پھر استاد, خیر جو بھی, اس نے کچھ لمحوں میں ہی اس نے توجہ اسی موضوع پر مرکوز کرنا چاہی,
سوال اچھا ہے, پہلی اور آسان بات کہ آپ خود سوچیں کہ آپکا مزاج کیسا ہے, آپ کس قسم کے رجحان کو پسند کرتے ہیں, آپ کو بس اپنے اندر باطن کی سکون کو آواز دینی ہے, مقصد مضبوطی اور روحانی قوت کے حصول کا ہے تو دیکھئے کیا عبادت کی زیادتی آپکی کمی پوری کرتی ہے, تو آپ کبھی کبھار اپنے مذہب اور مسلک کے دائرے میں رہتے ہوئے عبادت کرلیں, اگر بہت عرصے سے نہیں کی تو زیادہ کرلیں, آپ کو سکون محسوس ہوگا, ہاں اگر آپ میں سے کچھ عبادت ہی بہت کرتے ہیں تو پھر انہیں وہ عالی عبادت گھٹاکر کچھ اور مشق بھی کرنی ہوگی, یوگا کو اس کے لئے تھوڑا سا ٹرائی کریں, مراقبے میں فقط سکون حاصل کرنے کے لیے یکسو ہوجائیں, آسان مشک ہے کچھ دیر کے لیے ذہن سے تمام خرافات نکال لیں, بھول جائیں کہ آپ کو کوئی پریشانی ہے, اور پھر چند منٹ بعد آپ کچھ آسودگی محسوس کریں گے, بس یہیں تک رہیں, اور اپنے لیے کسی بھی عمل کی زیادتی کو مضر نہ بنائیں, جس وقت یہ ایکسرسائز کریں کوشش کریں کہ کوئی اچانک متوجہ نہ کرے آپ کو, اچانک آواز, ارتعاش, فون کی یا دروازے کی گھنٹی آپکو ہلاسکتی ہے, ایک چھوٹا سا شاک دے سکتی ہے, کیوں کہ اس وقت آپ خاموشی کی حساسیت میں سکون ڈھونڈرہے ہیں, کوئی اچھا سا تصور بھی کیا جاسکتا ہے, آسمان اور پانی سب سے بہتر ہے, لیکن دیکھیں روایتی عبادت بھی آپکی کمی کو پر کرسکتی ہے تو فی الحال یہیں پر رہیے, جو جتنی بھوک رکھتا ہے وہ اتنا چکھے, اتنی ریاضت کرے, لیکن کچھ ایسے ہیں جو ذہنی روحانی ریاضت کرلیتے ہیں لیکن جسمانی عمل ان سے نہیں ہوتا, محنت کریں, اپنے کام خود کریں, کچھ دیر مصروف رہیں, کچھ دیر آرام کریں, اور اپنے وقت میں سے اپنی فیملی اور دوستوں کے لئے وقت ضرور نکالیں, آپ بہت اچھا محسوس کریں گے, ہمارے نوجوان اصل میں انٹرٹینمینٹ کی بھی زیادتی کرتے ہیں, یا پڑھائی کی زیادتی, یا کام کی زیادتی یا پھر آرام کی زیادتی,آپ میں سے جنہوں نے اپنے کاموں کی فہرست ٹھیک رکھی ہے, وہ قدرے مطمئن ہونگے, لیکن ایک بات یے, اگر بہت عرصے سے ایک ہی روٹین کو فالو کررہے ہیں توتھوڑی بے قاعدگی بھی اچھی ہے مختصر وقت کے لئے, آپ سوچیں آپ کے اندر کیا کمی ہے, اور آپکی خواہش آپ سے کیا لینا چاہ رہی ہے,.
وہ مسکرائی تھی کہنے کے بعد,
جہاں تک ہم نے سمجھا, میں چاہتا ہوں کہ میں زیبی کی بات کو دہرادوں, دیکھیں, جب ہم دہراتے ہیں, تو ہمارے ذہن میں شکلیں واضح ہونے لگتی ہیں, دہرانے سے ہم یقین کرتے ہیں لیکن گردان نہیں, آپ میں سے اگر کوئی زیبی کی بات کو دہرانا چاہے تو ضرور بولے,
سر میں بولنا چاہوں گا, وہی درمیانی عمر والا اٹھ کھڑا ہوا, انہوں نے سر کے اشارے سے اسے بولنے کی اجازت دی,

دیکھئے, مس زیبی کی بات سے میں نے جو
, جس طرح آپکو اگر بخار ہے تو لازمی ہے کہ آپ بخار کی دوا لیں گے, پیٹ درد کی نہیں, اسی طرح آپکے دماغ کو جس وقت ضرورت ہو جس توانائی کی آپ اسی کے بارے میں تگ و دو کریں, لیکن ذہن انسان چونکہ تجسس رکھتا ہے, اور ادراک کے پہلو کھولنا چاہتا ہے, اسی لئے وہ جتنا پرشوق ہوگا اتنا ہی توجہ مرکوز کرپائے گا, ہم چونکہ جسمانی توانائی اور ظاہری پوزیشن پر توجہ دیتے ہیں, اور روح کی بے چینی کا حل کم ڈھونڈتے ہیں, لیکن جب کم عبادت کرتے ہیں, ریاضت کرتے ہیں, اور توجہ مرکوز کرتے ہیں تو ایک گہرا روحانی سکون حاصل کرپاتے ہیں, سارا کھیل یکسوئی کا ہے, میڈیٹیشن, یوگا, یا پھر جو بھی ریاضت ہو, وہ یکسوئی مانگتی ہے, وہ توجہ مانگتی ہے, جیسے ہر رشتہ توجہ مانگتا ہے, اور توجہ جتنی گہری ہوتی ہے, جتنا وقت ہم بتاتے ہیں توجہ کا تعلق اتنا ہی مضبوط ہوتا ہے, لیکن اب یہ فیصلہ چونکہ ہمارا اپنا ہوتا ہے کہ توجہ کہاں صرف کرنی ہے, کس پر لگانی ہے, اور کہاں سے آپ نے لینا ہے, آپکو گہری یکسوئی, اور توجہ درکار ہے, وہ توجہ جس میں خالص انس ہو, لیکن اس سب کو اتنا لیں جتنا نباہ سکیں, جتنی قدر ہو, جتنا حضم ہوسکے, اتنا لیں,میں نے درست کہا یقیناً, وہ اپنی ہی تائید میں انکی طرف توجہ سے دیکھنے لگا تو وہ مسکرائے,
ہاں آپ نے ٹھیک کہا ہے,
لیکن ایک بات میں آپکو بتانا چاہتا ہوں, سمٹے رہنا اچھی بات ہے, جہاں تک ہو وہیں تک لینا عملی طور پر بہت اچھا ہے, لیکن ایک بات میں جاتے جاتے بولوں کہ حیرانیاں قدم قدم پر آپکی منتظر رہتی ہیں, ہاں حیرانیوں کے دکھ مہنگے ہیں, زرا سنبھل کر, لیکن ڈر نہیں, بغیر ڈرے پہلے اپنے آپ کو دریافت کریں, اور خود سے پوچھیں کہ آپ کیا چاہتے ہیں, جو چیز آپکو سکون دے وہی فی الوقت اور فی الفور آپکا علاج ہے, البتہ امکان کا راستہ کھلا ہے, آپ نوجوان ہیں, آپ با ہمت ہیں, آپ اپنے تجسس کو اٹھاکر پھینک نہیں سکتے, آپ پرکھیں یہی تو وقت ہوتا ہے کچھ فیصلے لینے کا عملی بھی اور اختیاری بھی, ارادی بھی, آخر میں وہ اپنے پورے بیان کا نکتہ بدل چکے تھے, جس میں وہ ماہر تھے, اسٹوڈنٹس کے چہرے پر کھلی مسکراہٹ اور کلاس کے ماحول میں ایک ہلکا خوش گوار پن آگیا تھا,
زیبی نے سر جھٹکا ایسے جیسے آپکا کچھ نہیں ہوسکتا ہے, اور زیب لب بڑبڑائی, ٹھیک کہتی تھی عالین بھی, خیر, اس نے کندھے اچکائے,

میرے خیال سے بہت ہوچکا, آج یہیں تک.
وہ مسکرائے کلاس برخاست ہوئی, اور اسے لیکر باہر آئے, گاڑی تک, کچھ سلو سلو چل رہے تھے لیکن اب قدرے بہتر تھے. انکے اندر جوش کی کچھ جھلک تھی,
تمہیں میں بٹھاکر چائے پلاتا لیکن بس یہی اوقات تھے میرے, اب یہاں اگلی کلاسز کا اہتمام ہوگا, لینگویج پڑھانے والوں کی باری ہے, میں بس فزکس کے بعد یہ دس پندرہ منٹ تک جھک مارلیتا ہوں, ہم سبجیکٹ کے علاوہ بھی بات کرتے ہیں,اور کبھی کبھار بہت نکتے اٹھتے ہیں سوچ کے, ابھی تو آغاز ہے, لیکن آج تمہارے یوں آنے سے مزا آگیا, یقین کرو,
تم نے اپنی گاڑی لی ہے؟
ہاں لینی پڑی, وہ بھی قسطوں پر, شوروم والا عالین کو جانتا ہے اس نے رعایت دی ہے کافی, اب میں اسکی قسطیں زرا سکون سے بھرسکوں گی,
عالین کیسی ہے؟تمہارا رابطہ ہے اس سے؟
وہ آنے آچکی ہے, لیکن پتا نہیں کہاں ہے, بتانہیں رہی تھی, اس کے پیچھے سے ایک بوڑھی عورت کے کراہنے کی آواز تھی, میں نے پوچھا تو اس نے فون بند کردیا, میں نے میسج کرکے وجہ پوچھی تو کہنے لگی کہ جھوٹ بولنے سے فون کاٹنا زیادہ بہتر ہے, سعدیہ کی خبر لینا اور کسی کو بتانا مت اس کا حال, بس اتنا ہی,
تو تم گئیں, اسکی خبر لینے؟
ملی تھی ایک بار لیکن اس کا وہی حال ہے, وہ اس بندے کے ساتھ سفر کررہی ہے, بہت مجبور ہے, بہت پریشان ہے, وہ لڑکا ایب نارمل ہوگیا ہے پہلے سے بھی, سعدیہ کے چہرے پر خوف تھا,اتنا حوصلہ فقط مجدد میں ہے کہ وہ اس کا خیال رکھ سکے, میں پھر نہیں گئی, بندہ ایک حد کے اندر ہی اچھا رہ سکتا ہے, میں اتنی اچھی ضرور ہوئی ہوں کہ اپنے نانا کا کام سنبھالوں, انکے گھر کی نگہداشت کروں, انکی بقیہ بچی کھچی چیزیں سنبھال کر رکھوں ,یہ سب کروں,لیکن اتنی اچھی ابھی تک نہیں ہوئی کہ کسی اور کا بھی اسی طرح سے خیال رکھ پاؤں, ایسا کرنے کی ہمت عالین کے اندر ہے, بلکہ ظرف کہنا غلط نہیں ہوگا, وہ اور اس کے بعد اس جیسا مجدد,
ہاں مجدد,, صحیح کہہ رہی ہو, کبھی کبھار مجھے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ دونوں ایک دوسرے کے لئے بنے ہوں,
وہ روانی میں کہہ گئے تھے, اور اس کے ہاتھ سے اسٹرینگ چھوٹتے چھوٹتے بچا تھا, اسنے اپنی گرفت اسٹرینگ پر مضبوط کی اور حیرانی پر خود بھی حیران ہوتے ایک لمحہ نہیں پھر ونڈاسکرین کی طرف دیکھا, انکی توجہ منظر پر تھی اور ذہن اپنے کہے ہوئے جملے پر سرپرائزڈ ہوکر ٹہرسا گیا تھا,
ایک گاڑی میں دو بندے, ایک ہی نکتے پر سوچ رہے تو اور وہ الگ لگ طرح سے,اور یہ دونوں کو محسوس ہورہا ہو تو کچھ الگ سا لگتا ہے اور مشکل بھی, دونوں کا نظر ملانا اور لہجے کی ذریعے تسلیم کرنا بھی مشکل ہوجاتا ہے, ایسی صورتحال میں گفتگو کو یا تو بند کرنے سے بھی محسوسات بڑھتے ہیں, لہاظہ گفتگو کا رخ کسی اور طرف موڑنا پڑتا ہے, جو انہیں میں سے ہو, اور تب بھی خیال کی سمت بدل دے, اور اس نے یہی کیا تھا.
مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ان دنوں وہ کچھ زیادہ نئے, مسائل سے نکل رہی ہے, یا پھر ہوسکتا ہے کہ نکل چکی ہو تقریباً, خدا اسکی مدد فرمائے گا, جو دوسروں کی مدد کرتی ہے, وہ بس اتنا ہی کہ پائی.
ہاں کچھ اندازہ مجھے بھی ہے, اس نے میل کی تھی, بس دعا اور رہ نمائی کی بات کی, پھر رابطہ منقطع, مجھے یقین ہے وہ خود کو سنبھال لے گی,
لیکن ہمیں اس سے ملنا ہے, خصوصہ ” تم ملو اس سے,
ہاں بالکل ملوں گی, آپکا گھر کدھر ہے؟
میرا گھر یہاں بالکل سامنے, یہاں سے لیفٹ چلو, آگے یوٹرن ہوگا پھر نزدیک ہی, فی الحال میں یہاں کرائے پر ہوں, مجدد کا مشورہ کام آرہا ہے,
بہتر ہے, اچھا مشورہ ہے, ویسے آخر میں آپنے اپنے شاگردوں کو پھر اس مہم کا حصے دار تو بنادیا, میں کتنا ان کو سنبھل سنبھل کر سمجھانا چاہ رہی تھی, وہ بات کا رخ اسی جانب لے آئی,
تم فکر مت کرو, یہ اب سوچیں گے, یہ جوش ہوسکتا ہے کوئی اور ایسا کام ان سے کروادے جو کئی عرصے سے رکا ہوا ہو, بات ہے فقط جذبے کو جگانے کی, جتنی سہولت سے تم سمجھارہیں تھیں, وہ سمجھداری کے لیے بہتر ہے, لیکن جذبہ جگانا بڑی بات ہوتی ہے, ان کے اندر زندگی ہونی چاہیے, اب نوجوانی میں بھی بندہ ایسے جئے گا کیا, تم ویسے گاڑی بہتر چلاتی ہو,
شکریہ,
آج تم مجھے عالین کی طرح لگ رہی ہو بالکل, ویسے آیا کرو,, ہم سوال جگائیں گے, اور بات کریں گے, تمہیں پتا ہے فزکس اور میتھمیٹکس سے زیادہ لوگ اس ڈسکشنز کو پسند کرتے ہیں, کیوں کہ ہر کسی کے اندر کئی سوال ہوتے ہیں, اور ہر کوئی ان سوالوں کے جوابات چاہتا ہے,
ہاں میں متفق ہوں, میں آجایا کروں گی کبھی کبھار, آپ اپنا خیال رکھیے گا,
تم اتنی مایوس کیوں ہوگئی ہو اچانک؟
نہیں تو؟آپ کو کیسے لگا؟وہ بوکھلاہٹ پر قابو پاتے کہنے لگی,
تمہارا لہجہ بتارہا ہے.
بس ہوجاتا ہے ایسا, نانا کے بعد زندگی گزارنا بہت عجیب لگ رہا ہے,ایسا لگتا ہے جیسے بہت اکیلا پن ہوگیا ہو,
وہ تمہارا شوہر؟
طلاق ہوگئی,
اوہ, تم دکھی ہو؟
نہیں, اس لیے کہ یہ ایک سچ تھا کہ رشتہ نہیں چلنا, بس نہیں چلا, آپکا گھر نزدیک ہے,
اس نے یوٹرن لیا کہتے ہوئے.
وہ خاموشی سے اسے دیکھنے لگے,
تم میرے لیے بیٹیوں جیسی ہو,حالانکہ میری کوئی بیٹی نہیں, آہ, میری کوئی اولاد نہیں, انہوں نے سانس چھوڑی لمبی,لیکن چلو اچھا ہے میں اس دنیا سے قدرے بے فکر ہوکر جاؤں گا, میرے پیچھے رونے والا کوئی نہیں, کم از کم ویسا نہیں جسے میرے جانے سے کوئی خاص فرق پڑے,
ویسے آپ کیا سننا چاہتے ہیں مجھ سے,, میں نانی اور نانا کے بعد کسی ہمدرد کی جدائی کا بھی نہیں سوچ سکتی, کم از کم سوچ تو بالکل نہیں سکتی, پھر آپ حوصلہ رکھیں, ابھی لگتا ہے آپکی ضرورت ہوگی, کچھ لوگوں کو,
مجھے کیوں کئی روز سے لگ رہا ہے کہ کسی کے موت کی خبر آئے گی,
آپ ایسے احساسوں پر اتنا پختہ یقین کیوں رکھتے ہیں,,
اس نے افسوس سے دیکھا,
نہیں معلوم, شاید میں بہت کمزور انسان ہوں,
یقیناً “زیبی نے بات مکمل کی تو حیرانی سے اسے دیکھنے گے کہ یہ تو مروت کے تحت بھی دل نہیں رکھتی,
تم پھر آنا, چاہے جتنے سچ بولو مگر آنا ضرور,
گاڑی رک چکی تھی,
اور اسی وقت دونوں کے موبائل نمبرز نے بپ کی, ان دونوں کے سیل فون پر ایک ہی نمبر سے پیغام تھا, جس کے اندر موت کی خبر تھی.
انہوں نے میسج دیکھتے ہی ایک لمحہ زیبی کی طرف دیکھا, اور زیبی جیسے سن ہوچکی تھی,
یہ نہیں ہوسکتا, یہ نہیں ہونا چاہیے تھا.


بھوت مردوں کا کچھ نہیں بگاڑتے,


سبز پتے سارے میں پھیلے ہوئے تھے, راستے کی طرف بھی نئے پیڑ اگ آئے تھے,
اور اندر گھنا جنگل جیسے کسی کا منتظر تھا, جنگل کے ساتھ ایک نوے سال پہلے پرانا قبرستان تھا, جو لگتا تھا کہ تازہ تازہ بسایا گیا ہو, قبروں کے کتبے بول رہے تھے, جن کے نقوش کپڑے کی تہیں ہٹانے سے واضح ہوجاتے تھے, دھوپ میں قبروں کے اوپر پڑے پوش پھٹے میلے ہوچکے تھے, دھول ہر جگہ اٹی ہوئی تھی, بس ایک جنگلات کا شور بولتا تھا, جو قبروں کی خاموشی کو توڑتا تھا,وہ لاٹھی ٹیکتے ہوئے اسی سمت آرہے تھے, اور پیچھے شکیل تھا, انکے ساتھ,
میں ڈرپوک ہوں, میں مان چکا ہوں, شکیل میاں, تمہیں پتا ہے, تمہیں پتا ہے ایک بات کا, اور وہ یہ کہ انسان قبرستان میں اکیلا فقط تب رہ سکتا ہے جب وہ مرکر آتا ہے, زندہ انسان چاہے بوڑھا ہو, چاہے تھکا ہوا ہو, لیکن وہ قبرستان میں نہیں رہ سکتا, یہ مشکل ہوتا ہے اس کے لئے, مشکل ترین, میں بس اپنی قبر دیکھنے کے لیے آیا ہوں,
وہ لڑکھڑانے لگے جب شکیل نے ہاتھ بڑھاکر انہیں سہارا دیا, آپ کافی کمزور ہوچکے ہیں,
ہاں اور اس کے باوجود زندہ ہوں,
دیکھ لو میاں,, زندگی بڑھ جائے تو بھی مشکل ہوجاتی ہے, اگر بڑھ جائے تو,میں سوچتا ہوں کہ لوگ لمبا جینے کی خواہش سے آتے ہیں اس زندگی میں, اور جتنا چاہے جی سکیں, لیکن خواہش کبھی نہیں مرتی,,
وہ چلتے ہوئے قبروں کے کچھ نزدیک پہنچ گئے تھے, ڈھلوان سے نیچے اترتا ہوا گورکن دکھائی دیا,
بابا صاحب,,بابا صاحب, وہ انہیں دیکھ کر تیزی سے اس طرف آرہا تھا,
وہ دھیمے قدم اٹھاتے اطراف میں ایک خالی قبر جانچنے لگے تھے,
بابا جی, وہ گورکن ان سے کوئی آٹھ دس سال ہی چھوٹا ہوگا جو ان کی بزرگی کا احترام کررہا تھا, گورکن چاک و چوبند تھا,
سلام بابا صاحب,
وعلیکم السلام,, میاں, اس قبر کا کیا ہوا؟
میں بہت دنوں سے, اس خالی قبر میں اناج ڈال رہا تھا,
تم نے اناج کیوں ڈالا؟اناج کا مطلب ہوتا ہے کہ زندگی کی جگہ پر اناج رکھنا, میری عمر بڑھتی ہی جارہی ہے, دیکھو میرا حال,, لیکن وہ قبر ہے کہاں؟یہیں کہیں تھی شاید,,
کیا آپکو پھر اس میں لیٹنا ہے اس میں؟نہیں بابا جی, پچھلی بار آپ نے رات کو چیخیں ماری تھیں,
ہاں وہ میں نے کچھ دیکھا تھا, کسی دوسری قبر میں آگ جل رہی تھی, مجھے ڈر لگا, تپش یہاں تک آرہی تھی, میں ڈرگیا تھا, میں نے چیخیں ماریں تب بھی تم جھگی سے باہر دیر سے آئے,
لیکن ہم آئے تو آگ نہیں تھی, ہم نے نہیں دیکھی,
بجھ چکی تھی, کسی کی محنت شاید پہنچی تھی, کسی کا ایثال پہنچا تھا, کسی کی دعا شاید پہنچی تھی کہ قدرت کو رحم آیا, میں آج اپنے شاگردوں سے کہہ آیا ہوں کہ مجھے ایثال کرنا, میرے لئے دعا کرنا,
میں نے بچے کھچے پیسوں سے پانی کے ڈسپنسر لگوائے ہیں, مجھے پتا لگا ہے کہ پانی کا اجر ہے, میں روزانہ کوشش کرتا ہوں چند لوگوں کو کھانا کھلادوں, میں نے سینٹر میں پانی خود رکھوایا ہے,
میں جو کرسکا کروں گا, کیونکہ میرے پیچھے کوئی اولاد نہیں میری, نہ بیوی, نہ کوئی اور, ایک رشتہ دار نورفاطمہ تھی, مرگئی, ایک ہمدرد جو سالوں تک دشمن رہا تھا, آخری دور میں دوست بنا تو مرگیا, التمش, پتا نہیں ان کا بیٹا ان کو ایثال کرتا ہے کہ نہیں, پتا نہیں, مجھے زیبی کو کہنا چاہیے تھا, شکیل اگر مجھے موقع نہ ملے تو تم میرے فون سے اسے کال کرکے کہنا کہ ایثال ضرور کرے,,
کیا آپ گزرنے والے ہیں؟کیا آپ کو ایسا لگا ہے؟
میں نے بس دعا مانگی ہے, میں نے ہار مان لی ہے, اب جتنا ہوسکا, لیکن طویل نہیں, طویل نہیں, مجھے یقین ہے سنی جائے گی, بس اب قریب ہوں, مجھے عالین نے ایک بات سمجھائی, اور مجھے اس دن آگ دیکھ کر پتا لگا کہ کچھ ختم نہیں ہوتا موت سے, یہ ادراک میرے لئے خوف و خوشی دونوں کا باعث ہے, خوف بھی بہت ہے, اور خوشی بھی, کہ کچھ باقی رہے گا, ہمیں ایک اور دنیا دکھائی جائے گی, اور اس میں ہمیں وہی لوگ ملیں گے ,جو ہمارے ساتھ یہاں تھے, لیکن کون جانے کون کسے ملے گا, کون جانے, کس طبقے میں کون ہوگا, سنا ہے وہاں بھی طویل بستیاں ہیں, وہاں بھی درجات ہیں,وہاں بھی ہم اپنے درجے میں ہونگے, بس دعا کرنا شکیل کہ بہت اچھی جگہ نہ ہی ملے , لیکن عذاب نہ ہو, دعا کرنا, بس سکون ہو,
پتا نہیں وہ دنیا کیسی ہوگی,, مجھے اب دلچسپی ہونے لگی ہے کہ, ایک گڑھے کے راستے سے بندہ دنیا بدل دیتا ہے, ایک سانس کے جانے سے,, آہ,,
تم قبر کا بتاؤ,
بابا جی, قبر میں ایک تازہ مردہ آگیا ہے رات, بس اس کے لئے جگہ نہیں تھی, میں نے اسے اسی جگہ رکھ وادیا, آپکی جگہ اب تک ہوگی جب ضرورت پڑے گی, قبر مت بنوائیں پہلے سے, کیوں کہ پھر قبر بندہ مانگتی ہے, اور آپ نہ آسکیں تو کسی اور کی قسمت موت میں بدل جاتی ہے, مانتا ہوں ہر کسی کا اپنا دن ہوتا ہے, مگر سائیں قبر نہ بنوائیں,
ٹھیک ہے, نہیں بنواتا, لیکن خیال رکھنا,,
وہ لاٹھی ٹیکتے نورفاطمہ کی قبر کی طرف جانے لگے,مجھے بس معافی مانگنی ہوگی,
وہاں ایک عورت بیٹھی تھی, انہوں نے قریب جاکر دیکھا وہ عدیلہ تھی,
عدیلہ بیگم آپ؟وہ ایک ہی بار ملے تھے لیکن پہچان گئے کیونکہ وہ ملاقات قطعی غیر اہم نہیں تھی, کہ کچھ ذہن سے ہٹ جاتا, اہم ملاقاتوں میں ملنے والا ہر ایک اہم چہرہ یاد ہوتا ہے, بلکہ نقش ہوتا ہے, ذہن پر,وہ بھی پہچان گئیں,
آپ سالس صاحب,,
ہاں, میں نور فاطمہ سے ملنے آیا ہوں,
آپ؟
میں ان کو ایثال کرنے اور ان سے دعا کروانے آئی ہوں, میں نہیں درخواست کررہی ہوں کہ میری بات اپنی زبان سے بھی آگے پہنچائیں, مجھے اطمینان ہوگا بہت, میرا دل پرسکون ہوگیا ہے یہ دعا کرکے, چلتی ہوں, ایک آندھی میرا انتظار کررہی ہے, جو بہت کچھ دیکھتی ہے,
کیا آپ مجھے اس سے ملواسکتی ہیں؟
کیا آپ مجھے یہ بتائیں گے کہ وہ لڑکا مستقیم کیسا ہے؟
کیا وہ ٹھیک ہوگیا؟
نہیں, ٹھیک نہیں ہے وہ, بلکہ ہے ہی نہیں,
تو کیا وہ اطلاع ٹھیک تھی؟
کون سی اطلاع؟
وہی اطلاع کہ وہ اب یہاں سے نکل چکا ہے, تو یہ سچ تھا,
ہاں, یہ سچ ہے, اسے اس کی بیوی نے ماردیا تھا, یقین تو نہیں آتا, لیکن اس نے خواہش کی, دعا کی, اور پھر انتظار نہیں کیا اور ماردیا, اسے کرنا چاہیے تھا,
لیکن پھر ہمیں پتا لگا تھا, اندھی نے یہ کہا تھا کہ اسے بھوت اٹھاکر لے جارہے ہیں, بھوت پہلے بھی کسی کو اٹھاکر لے گئے تھے, بلکہ بھوتوں نے ایک جوان لڑکے کو ماردیا تھا, اور جب اسے قبر میں دفناکر سب لوٹ آئے, تو لڑکے کی سانس بحال ہوئی, اور لڑکا قبر کھول کر باہر آگیا, ان کے پیچھے گیا, لیکن کسی نے اس کے لئے گھر کا دروازہ نہیں کھولا, بھوت اسے دوبارہ دبوچ کر اسی قبر میں لے گئے, اور وہ سچ میں مرگیا,
ایسا کیسے ہوسکتا ہے,
میں نے خود نہیں دیکھا مگر جس نے بتایا اسے زیادہ تر سچ بولنے کی عادت تھی, آگے خد کو پتا, لیکن اس اندھی نے کہا تھا لڑکے مستقیم پر بھوتوں کا حملہ ہے, وہ بہت ساری مخفی مخلوق سے بات کرتا ہے, انہیں جانتا ہے, اور وہ سب اسے جانتے ہیں, وہ آدھا یہاں ہے اور آدھا وہاں, پر اسکی بیوی نے بہت برا کیا, جان سے کسی کو نہیں مارنا چاہیے,
اسکی جان آپ نے بچائی تھی؟
کوئی کسی کی جان کیسے بچاسکتا ہے, خدا نے بچائی تھی,
عدیلہ کے اندر ایک نمایاں تبدیلی تھی,
تو پھر بھوت کسے لے گئے,,,, وہ بڑبڑاتی ہوئی, آگے نکل گئیں,
تم تو بہت کچھ جانتی ہو, عدیلہ بیگم,
وہ کچھ بڑبڑاتی نکل گئیں,
سر کیا ہم گھر چلیں؟
آپ کی کلاس کا وقت ہوگیا ہے, آنے ٹائم آگے کردیا تھا ناں کلاس کا,
ہاں چھٹی لینی چاہیے تھی, لیکن میں نے وقت آگے کردیا, چلو,, میں کلاس لوں گا, بس کچھ ہی دن لے سکوں گا,
کاش میں عالین سے مل سکوں,
اس کا فون بھی بند ہے,
وہ آجائیں گی کبھی, آپ فکر نہ کریں, چلیں,
نورفاطمہ کے قبر کے ساتھ التمش کی قبر تھی, اور بیچ میں فاصلہ نہیں تھا,
مجھے میری جگہ الگ ملے گی, مجھے پتا ہے, مجھے اپنے اہل شاگردوں کو کچھ باتیں بتانی ہونگیں,
چلو شکیل کچھ منٹ میں نکلتے ہیں, ہمیں پہنچنا ہے .
انہوں نے کھڑے ہوکر فاتحہ کی, اور سلام کیا, اور قبروں کی گھورتی نگاہوں سے نظر چراتے ہوئے شکیل کے ساتھ آگے بڑھے تھے,
گاڑی اسٹارٹ ہوئی, اور قبرستان کی اوپری سطح پر بنے راستے سے فراٹے بھرتے ہوئے گزرگئی,
ان کے ذہن میں ایک اور خوف آگیا, بھوت کسے اٹھاکر لے گئے,, ؟یہ سوال ان کا خود سے تھا یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ جواب نہیں دے پائیں گے.
لیکن بھوت مردوں کا کچھ کیوں نہیں بگاڑتے, کیا انہیں زندوں کو مارنے کا مزا آتا ہے,, ؟اوف کیا وہ مجھے نہ اٹھاکر لے جائیں کسی وقت, لیکن انکی کیا ضرورت, میں خود بھلا کسی بھوت سے کم ہوں کیا,,یہ جملہ انہوں نے خود سے کہتے ہوئے خود کو مسکراتا ہوا پایا.


محبت کے پاس بے وفائی کی گنجائش نہیں!


محبت بے وفائی نہیں کرسکتی,
گنجائش ہی نہیں ہے مجدد کہ محبت بے وفائی کرے,بہت مشکل ہوتا ہے ,پھر محبت محبت نہیں رہتی,صرف بے وفائی بن کر رہ جاتی ہے,اس کے کانوں میں اپنے ہی جملے گونج رہے تھے,
وہ بے وفا نکلی,اس نے غلط کیا عالین,اس نے جرم کیا,مجدد کا لہجہ فون پر ہی ہارا ہوا بکھرا,اور بگڑا تھا,وہ سخت غصے اور اشتعال میں تھا,وہ یقین اور بے یقینی کی دلدل میں ڈوبا ہوا تھا,بپھرا پوری طرح,جیسے اگر سعدیہ اس کے سامنے ہو تو وہ اس کا خون کرلے,اسے سولی چڑھادے,کوئی کڑی سزا سنادے,اس کا لہجہ اس قدر سلگا ہوا تھا.
ایسا نہیں مجدد ایسا ہرگز نہیں ہے لیکن اب وہ سب میں تمہیں فون پر نہیں بتاسکتی,ہم ملیں گے,لیکن اس سے پہلے مجھے پہنچتے ہی سعدیہ کا بچاؤ کرنا ہوگا ,اس کے بعد ہی میں تم سے ملوں گی,اور تب تک ہوسکتا ہے کہ دیر ہوچکی ہو,لیکن اس سے فرق نہیں پڑتا,تم اپنی آنکھوں سے بے اعتباری کی پٹی کو اتارپھینکو,
تم کتنا اعتبار دلاؤ مجھے لیکن میں اسے دیکھ چکا ہوں, خود اپنی آنکھوں سے,
کیا خون کرتے دیکھا ہے اسے مجدد؟اسے جیسے جھٹکا سا لگا,.
فرار ہوتے, اور مستقیم کو مرتے,
نہیں تم نے غلط دیکھا ہے, ہوسکتا ہے وہ ہراساں ہوگئی ہو, مجدد میری بات سنو,
وہ مزید بھی کچھ کہنا چاہ رہی تھی لیکن فون ساکت تھا,اور لائن کٹ چکی تھی,جھگی میں نیم اندھیرا سلگنے لگا تھا,اور مجددکا ایک جملہ رہ گیا تھا کہ, وہ فرار ہورہی تھی, اور وہ مررہا تھا,
تو کیا سعدیہ.. نہیں ہرگز نہیں.. پتا نہیں ایسی صورتحال میں ایک دھان پان سی بزدل لڑکی بھلا کربھی کیا سکتی ہے, اس نے آخری بار کہا تو تھا فون پر کہ اسے اب مستقیم سے ڈر لگنے لگا ہے, اور یہ وہ اب دعا کررہی ہے, کس چیز کی,, اتنی بے بسی,, وہ ہر نکتے سے سوچتی اگر وقت ہوتا, اس نے فی الحال تو ایک گھٹی ہوئی سانس خارج کی, کیونکہ اسے موسم بہت پیچیدہ لگ رہا تھا, گرمی اور سردی آپس میں پوری طرح رچ بس کہ اپنی الگ پہچان جیسے کھوچکی تھیں,یہ لمحوں کا کھیل تھا کہ نہ گرمی محسوس ہوتی نہ ہی سرد ہوا کے تھپیڑے تھے,موسم کی سانسیں گھٹی ہوئی محسوس ہورہی تھیں,اسے تبھی اپنی سانس کچھ گھٹی ہوئی محسوس ہوئی,اس نے جھگی میں سلگتی دوسری سانس کو محسوس کرنا چاہا,وہ ایسے پڑی تھی جیسے کوئی بے جان گٹھڑی ہو,نہ سانسوں کی مدھم سرسراہٹ,نہ ہی کھنکارتی کھانسی کا چھڑکا,نہ آواز,نہ چرچراہٹ سے کروٹ بدلنے کی سرسر,کچھ نہیں کوئی احساس نہیں,جیسے وہ موت جیسی نیند سوتی ہو,
وہ آگے بڑھی اسے ہلاکر محسوس کیا,بہت مدھم سانسیں تھیں,نپی تلی جیسے,اور ناک سے اتنی باریک سیٹی کی سی آواز جو کان رکھ کر غور کرنے پر سنائی دے,
کیا تم جاگ رہی ہو؟
مجھے آواز دو,بات کرو,میرے پاس وقت نہیں ہے,مجھے نکلنا ہے,مجھے بتاؤ ,تم زندہ تو ہو ہی,کیا جاگ بھی رہی ہو؟
اس نے شدت سے اسے پکارا تھا,بلکہ کچھ حد تک جھنجھوڑا بھی تھا,
ہاں…سن رہی ہوں..
میں جاگ رہی ہوں…میں جاگتی ہوں..
مجھے نیند جاگنے والی آتی ہے,
اسے بھیجو,عدیلہ کو بھیجو,اسے کہو مجھے مرنا محبوب ہے,میں دیکھ دیکھ کر تھک گئی ہوں,,میں اب تھک گئی ہوں,بہت تھک گئی ہوں,تھکن ہوگئی ہے,اسے بھیجنا,وہ تمہیں ملے گی,کہنا کہ اندھی تھک گئی ہے دیکھ کر,,وہ اب ہانپ رہی تھی,عالین نے اسے ترحم سے دیکھا,یہ وہی تھی جس نے اسکی مدد کی تھی,ایک مشکل کہ سمجھنے والی حالت میں,جب گھپ اندھیرے میں آشنائیوں کے اوقات شروع ہوگئے تھے,وہ حیران پریشان تنہا کھڑی تھی اس ویرانے کے اندر تب اس نے مدد کی,جسے خداداد مدد کہاجائے,وہی مدد جو اچانک آپہنچتی ہے,جس کا اندیشہ نہیں ہوتا ,جیسے اچانک آنے والی مصیبت کا اندازہ مشکل سے ہوتا ہے,ویسے ہی,مدد بھی غیر حقیقی سی لگتی ہے,لیکن جیسے بیماری کے ساتھ دوا کا نسخہ اترتا ہے,ویسے ہی مصیبت کے ساتھ مدد کا بندوبست ہوچکا ہوتا ہے,بات صرف اتنی ہے کہ مدد پہنچتی کب ہے,کبھی کبھار دیر ہوجاتی ہے,اور کبھی خوش قسمتی کے ساتھ نہیں ہوتی,اور اسے بھی فی الحال سب مسائل کو ایک طرف رکھ کر بس نکلنا تھا,بس دیر نہیں کرنی تھی,یہی وجہ ہے کہ اس کے پاس وقت نہ تھا کہ وہ پھر مجدد کو فون کرکے کچھ کہے اور نہ ہی اسکی طرف سے ہی کوئی فون آیا تھا,لیکن اب وقت آچکا تھا کہ وہ اس سے ملتی,بلکہ طاہر سے بھی اور زیبی کو بھی اس نے بلایا تھا,وہ ایک ہی میز کے اطراف اپنے دوستوں کے سامنے کچھ اعترافات اور کچھ اعتراضات رکھنا چاہتی تھی,ایک ہی میز پر ,تاکہ وہ سب گواہ رہیں,اور اسے دوبارہ کسی کڑی وضاحت سے گزرنے کی ضرورت نہ پڑے,وہاں جو کچھ ہونا ہو,ایک ہی بار میں ہوجائے,اس کے بعد اس نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ لینا تھا,اس کے لیے ایک بار تو سب کو سامنے بٹھاکر بات کرنا ضروری ہی بن گیا تھا.اسے لگ رہا تھا اس سے کافی الجھن سلجھ سکتی ہے,
اس سے بات کی وضاحت ہوسکتی ہے,کم از کم جس کڑی صورتحال سے وہ گزری ہے,ان تینوں میں سے کوئی ایک تو اسے سمجھنے کی کوشش کرے گا ہی,یا تینوں اپنے اپنے تجربے اور احساس کی روشنی میں کچھ تو کہہ ہی سکیں گے,شاباشی کی اسے ضرورت کبھی نہیں پڑی تھی,لیکن زندگی میں پہلی بار وہ وقت آیا تھا جب وہ چاہتی تھی کہ کوئی اس پر بھروسہ کرے,اسکی کسی بات کہ جواب میں یہ نہ کہے کہ یہ تو محض تمہارا وہم تھا,یہ پھر یہ کہ تم نفسیاتی ہوچکی ہو مکمل طور پر,یا پھر یہ کہ تم شاید ہوش میں نہیں ہو,شاید تم نے ماں کے گزرنے کا بہت صدمہ لیا ہے دل پر,یا سعدیہ کے حالات کی وجہ سے تمہاری منتشر ذہنی بڑھ گئی ہے,یہ بھی ہے کہ تم نے خود کو بہلانے کو ایک ذہنی حالت گھڑلی ہے,یا پھر یہ کہ تم تو بہت بہادر تھیں عالین,تم سے کم از کم یہ امید ہرگز نہیں تھی مجھے,وغیرہ
وہ سوچتی تو تھکن کو غالب ہوتا محسوس کرتی ,لیکن اس نے فی الحال یہ سب ان پر چھوڑکر اپنے کچن کا کام تیز کردیا,کام میں ذہن لگانے کی خاطر چھری مرغی کے پارچوں پر تیز تیز پھیرنے لگی,مسالحہ تیار تھا,.اوون ریڈی تھا,سب کچھ پہلے سے قدرے بہترلگ رہا تھا,اور اب فقط ان سب کا انتظار تھا,تبھی دستک ہوئی,اور پھر کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی,اس نے زیر لب مجدد کا نام لیا,وہ بھی اب بغیر دیکھے سن کر محسوس کرسکتی تھی,کہ کون آیا ہے,حالانکہ اس سے پہلے تو کبھی اس نے غور ہی نہیں کیا تھا دستکوں پر نہ ہی آہٹوں پر,اور نہ قدموں کی دھمک بھری آوازوں پر,
روشنی ہوچکی تھی,لیکن کمرہ خالی تھا,وہ کھلے دروازے سے اندر آیا تھا,بے ساختہ تیز تیز قدم چلتا ہوا ,دروازہ اس طرح کھلا ہوگا اسے اندازہ نہیں تھا,وہ آگے بڑھا مزید بتیاں روشن کیں,اور ارد گرد نظر دوڑائی تھی,اسے ڈھونڈنے کی خاطر,
روشنی کم تو نہیں تھی مجدد دیکھنے کے لیے کافی تھی,وہ کچن کی کھڑکی سے اسے آتا دیکھ چکی تھی,

وہ ویسا نہیں تھا جیسا وہ اسے دو ماہ پہلے چھوڑگئی تھی,
وہ بدل گیا تھا, یا پھر بدلتا ہوا محسوس ہورہا تھا,
اسے لگا جیسے ان دو مہینوں کے اندر پوری دنیا تبدیل ہوگئی ہو,کچھ بھی ویسا نہ رہا ہو,
ہر بندے نے اپنی جگہ سے حرکت کی ہو, سب نیا لیکن عجیب لگ رہا تھا,
عالین,کہاں ہو؟یہ مجدد کی آواز تھی جو اسے عجیب ساز میں ڈھلتی ہوئی محسوس ہوئی, یا پھر خاکی مکتبوں میں گونجتی ہوئی, جیسے خالی مقبرے میں پرندوں کے پھپھڑانے کی آواز پھڑپھڑ کرتی ہے, جیسے ہو, کا دورہ چھت سے جالگتا ہے,
جیسے آہ, کی آہٹ دیوار سے ٹکراکر بلند ہوتی ہے, عجب حیرت تھی کہ اسے لگا کہ مجدد ایک ہے لیکن جیسے اس کے ساتھ کوئی دوسرا بھی اندر داخل ہوا ہو, حالانکہ اس نے دیکھا فقط اسے تھا, آہٹ اسی کی سنی, دستک اسی کی محسوس ہوئی, اب وہ اپنے محسوسات کے جال سے رہائی چاہنے کے ساتھ کچن سے باہر نکل آئی, یا تو شک یقین میں بدل جانا تھا یا پھر یقین کو شک و شبہات میں ڈھل کر مرجانا ہوتا.اسے آگے توہر صورت بڑھنا ہی تھا.
عالین تم کہاں ہو؟
آواز دوبارہ سنائی دی.

.

یہ سب ایک برے دن کی کہانی تھی.


کیوں کیا تم نے ایسا,,, کیوں کیا,,
وہ بلک بلک کر رورہا تھا, جیسے کسی معشوقہ کا عاشق بچھڑجائے, تم نے تو وعدہ کیا تھا,, تم نے تو کہا تھا,, تم نے ایسا کیوں کیا, تم نے تو کہا تھا کہ میں تمہارے ساتھ خوش ہوں,, تم نے کہا اسے چھوڑدو,, میں نے چھوڑدیا,,
تم نے کہا کہ میرے ساتھ رہو, میں نے تمہارے ساتھ اپنی دنیا بنالی, کیا نہیں دیا میں نے تمہیں, کیا نہیں دیا,,
کون سا سکھ, کون سی چیز,, کس شہ کی کمی تھی تمہیں,, ثاقی,,
یہ سچ ہے کہ تم ایک کتے تھے,, لوگ کہتے تھے تم نے کتا پال رکھا ہے, یہ سچ تھا تم ایک کتے ہی تھے جسے میں نے پالا, تھا, تم ایک کتے ہی تھے, جسے میں نے لقمہ دیا, اپنے سر پر بٹھایا, اور تم نے دغا کی میرے ساتھ, کتے دغا نہیں کرتے, میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں کہ کتے تو وفادار مشہور ہیں,,
وہ جیسے ٹوٹ پھوٹ چکا تھا, خود سے بکتے جھکتے, کوئی سننے والا بھی نہ تھا,
میں نے سب گنوادیا, ایک کتے کی خاطر, اپنا گھر اجاڑدیا, کتے کے لئے میں خود کتا بن گیا,, اب میں بیمار ہوں, تو مجھے کوئی نہیں پوچھتا, میں ٹوٹ چکا ہوں,, میں ریزہ ریزہ ہوچکا ہوں,,
کون کہے گا,, کون کہے گا کہ میں ایک اچھا بھلا سدھرا ہوا انسان تھا,, سمجھا ہوا,, کون کہے گا, ,
یہ تو کہتے ہیں کہ تو کتا ہے, کتا بن گیا ہوں میں,, اور تو انسان بننے چلا ہے,,
میں تجھے بتادوں کتے, تو کبھی انسان نہیں بن سکتا, اس نے دھڑادھڑ وائز میسج کرڈالے, تو سیاہی ہے میرے مقدر کی, تونے مجھے لذت کا عادی بنایا, اور مجھ سے میرا سکون چھین لیا, تیرے پیار میں سکون کیوں نہیں تھا, بول کتے,, بول,,
کیا تو اسے بھی یہی دے گا, اپنی بیوی کو, آ میں تیرے کرتوت اسے بتاؤں,, آ میں تجھ پر تھوکوں,,
اور تجھے تیری اصلیت دکھاؤں, وہ کتا پن جو تیری بیوی نے تیرا نہیں دیکھا, وہ روپ دکھاؤں اسے تیرا, چیختے ہوئے فون اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا, اور وہ دیوار سے ٹیک لگا کر گرتا پڑگیا, شیشی شراب کی گرکر لڑھکتی گئی, اور اس کے منہ سے رال بہہ رہی تھی, اس کی زندگی کا ہنسا پلٹ چکا تھا اسی شام سے جس شام کو ہوا میں گھٹن تھی, حبس تھا, بارش رکی ہوئی تھی, بجلی کے کھمبے میں کھمبے میں فالٹ ہوگیا تھا,
کچن میں برتن گندے پڑے تھے,
وارڈروب کی طرف میلے بے ترتیب رنگوں کے کپڑوں میں سے بدبو آرہی تھی, جیسے اب انکی میلاہٹ کو بساند لگتی جارہی ہو,
ہر جگہ تعفن تھا,
یہ سب ایک برے دن کی شروعات کی کہانی تھی,جس دن اس نے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اعتبار کھودیا تھا.


زندگی ہر کسی کا راز پوشیدہ نہیں رکھ پاتی!


عالین تم کہاں ہو؟یہ دوبارہ آواز دی گئی تھی, اب کی بار آواز میں گونج تھی, عالین.. تم ہو,,
ہاں میں ہوں, میں ادھر ہوں مجدد,,
وہ کہتی ہوئی باہر آئی,
السلام علیکم,
وعلیکم السلام,, عالین,, تم کیسی ہو؟وہ ایسے جانچنے لگا جیسے وہ بہت بدل کر آئی ہوبہت ہی, محض دو ڈھائی ماہ میں وہ پوری بدل کر آگئی ہو,,
کیسی ہو؟اب کی بار آواز میں نرمی تھی.
ٹھیک ہوں,, تم کیسے ہو؟جانچنے کی باری اب اسکی تھی, ویسے تم بھی ٹھیک لگ رہے ہو, ,بلکہ اچھے لگ رہے ہو پہلے سے کچھ,بلکہ کچھ زیادہ ہی,
میں ویسا ہی ہوں ظاہر سے,لیکن اندر میں جیسے بہت بدل چکا ہوں,زیادہ براہوچکا ہوں,وہ سرجھکائے کہنے لگا تھا, ,
نہیں تو مجدد کافی سمارٹ لگ رہے ہو,تم ,اس کا اشارہ اسکے پورے حلیے کی طرف تھا,سوائے بالوں کے,جو پہلے سے کچھ زیادہ بکھرے تھے,اور مزید گھنگھریالے دکھ رہے تھے,اس نے بغور اسے دیکھا وہ قدرے جازب نظر لگ رہا تھا ان بالوں میں,اور اس حلیے میں,عالین نے اسے خاصی دلچسپی سے دیکھا تھا.
وہ اپنے ہی کپڑوں کو خود بھی ایک نظر بے یقینی سے دیکھنے لگا,بادام اور چاکلیٹی قسم کے شیڈز جیسی پینٹ پر کریمی کلر کی شرٹ پہنی تھی, جس کے تمام بٹن بند تھے,گریبان تک اور اسکی رنگت بھی کافی سفیدی مائل لگ رہی تھی,
یہ شرٹ مجھے زیبی نے دی تھی,
دکھنے میں ہی مہنگی لگتی ہے ناں,میرے پاس یہ نئی صرف ایک ہی پینٹ تھی,یہ کلر بھی اس نے مجھے بتایا تھا کہ اس پر پہننا یہ شرٹ,آج میں نے سوچا وہ آئے گی تو دیکھ کر خوش ہوگی کہ میں نے پہن لی ہے,ویسے وہ آئی نہیں ابھی تک؟وہ ارد گرد نظر دوڑاتے ہوئے خود کو جیسے یقین دلانے لگا کہ وہ واقعی اب تک نہیں پہنچی ,اور اچانک اسے دیکھ کر خوش ہوسکتی ہے.
وہ آجائے گی,تھوڑی دیر میں,میں نے اسے ایک کام کہا ہے اس لیے پھنس گئی ہوگی,ویسے تمہاری اور زیبی کی دوستی ہوگئی ہے؟مجھے بتایا نہیں اس نے ویسے,ہمارا رابطہ خیر رہا تو تھا,حیرت ہوتی ہے,وہ تو لڑکیوں سے بھی دوستی کرتے ہوئے سوبار گھبراتی ہے,تم تو پھر بھی لڑکے ہو,لیکن اچھا ہے,
تمہیں تو حیران نہیں ہونا چاہیے عالین,اور پھر تم نے تاکید تو کی تھی کہ اس کے پاس جانا, اس کی بات سننا, میں نے تو بس یہی کیا, لیکن اس کے پیچھے تمہارا دیا گیا اعتماد زیادہ با اثر ہے,کیونکہ تم نے اسے اتنا اعتبار اور ڈھارس دی ہے کہ دوستی پر اس کا یقین بہت کامل ہوگیا ہے,پھر مجھے دیکھو مجھے بھی اس نے اسی لیے چنا کہ میں تمہارا دوست تھا,پھر جان پہچان اور بات چیت تو تھی, ,
اور اس روز کے بعد جب اس نے خلاع کے کاغذ بھیجے اس کے پاس ہوگئی اور وہ سڑک کے کنارے بہت اداسی سے گھوم رہی تھی,مجھے اندازہ تھا لاکھ نفرت کا اظہار کرنے کے باوجود بھی اس کے دل میں اپنے شوہر کے لیے ایک نرم گوشہ ضرور تھا, وہ رودینے کو تھی, رونے سے خود کو روک رہی تھی, یا پھر, روچکی تھی تنہائی میں, بہرحال مجھے وہ بہت تنہا محسوس ہوئی, میں نے سوچا اسے کمپنی کی ضرورت ہے,میں نے اس سے باتیں کیں, بلکہ اسے سنا, وہ یہ نہ کہہ سکا کہ اس نے سنائی, اور ہم بالکل گہرے دوستوں کی طرح بن گئے تھے چند لمحوں میں, وہ مجھ سے بات کرتے کرتے روپڑی, اورمیرے کندھے پر تو سر نہیں رکھا مگر ہاتھوں پر ہاتھ رکھ کر بہت دیر سکتے میں بیٹھی رہی تھی رونے کے بعد, وہ رونے میں بالکل بچی لگتی تھی, اسے محسوس ہوا لیکن وہ اسے بتانہ سکا, یہ جانتے ہوئے کہ وہ بھی زندگی بہت کم کسی کے ساتھ اپنا دکھ شیر کرسکی ہوگی, وہ کہہ نہ سکا کہ اس روز کے بعد ان کی دوستی کا تعلق گہرا پڑگیا ہے, لیکن وہ یہ سمجھتا تھا کہ عالین اس کی طرف دیکھتے ہوئے سب محسوس کررہی ہوگی, کیونکہ وہ مسلسل اسے گھوررہی تھی,پہلی بار اسے عالین کے توجہ سے دیکھنے پر کوفت سی ہوئی گویا زندگی میں ایسے مواقع کم آئے تھے لیکن آئے تھے بہرحال, وہ فی الحال اس سے نظر چراکر بہت عافیت محسوس کرنے کی کوشش کرنے لگا لیکن نہیں,اسے پتا تھا تادیر وہ ایسا نہیں کرسکے گا,
تم تو باہر چلی گئیں تھیں,یہ فرض مجھے نباہنا پڑا تھااور اس نے مجھے اس قابل سمجھا, ,
اور اب اس نے اس دوستی کو جیسے خود پر فرض ہی کرلیا ہے, اب اس کا بس نہیں چلتا کہ مجھے امیروں جیسی عادتیں ڈال دے,کہتی ہے نیند پوری ہوئی؟پوچھتی ایسے ہے جیسے نیند پوری کرنا دنیا کا اولین ترین کام ہو,
کھانا کھالیا؟کہے گی ایسے جیسے آپ کو کھانے کے سوا دنیا میں کوئی کام نہیں,,کچھ روز سے اس کی تسلی کے لیے میں نے لگ کر کھایا,اور لمبا سویا,اب وہ میرے کپڑوں کا حال دیکھ کر چڑگئی,اس نے بتایا اپنے شوہر کا سارا وارڈ روب اس نے خود سیٹ کیا ہوا تھا,ویسے زیبی کی پسند بہت شاہانہ ہے,لیکن میں ایسی عادتوں میں نک سک سے تیار کبھی نہیں رہا,اب یہ حال دیکھو,,, اف,اس نے جیسے بات مکمل کرکے لمبی سانس لی تھی.
تم نے اچھا کیا مجدد اور یہ تو اور اچھا ہوا کہ تم دونوں کی دوستی ہوگئی ہے, مجھے اچھا لگا ہے, میں بس یونہی حیران ہوگئی کہ اس سے امید نہ تھی, لیکن اب تم اتنی وضاحتیں مت دو کہ مجھے شرم آئے,اپنے سوال پوچھنے پر,تم بیٹھو,وہ بھی پہنچتی ہی ہوگی,بلکہ میں نے تمہیں کچھ کہا تھاکہ طاہر کو ضرور لانا,
طاہر ,,ہاں وہ آجائے گا,نکل چکا ہے,لیکن وہ بہت گھبرارہا ہے,وہ تم سے سامنا نہیں چاہ رہا اب تمہارے کہنے پر میں نے اسے فورس تو کیا ہے دیکھو ,کیا کرتا ہے,لیکن شاید آئے گا,البتہ تمہاری طرف سے یہ مناسب نہیں کہ اسے مکمل طور پر رجیکٹ کرنے کے بعد تم اسے گھر بلاؤ اور سامنے پر پریشان کردو,ویسے تم مجھے بتاؤ کہ تم جانے سے پہلے اس سے ملیں تھیں؟
ہاں ملی تھی,
تم نے اسے کیا کہا یہ کہ تم اس کی محبت کو مسترد کررہی ہو؟
نہیں مجدد ایسی تو کوئی بات نہیں ہوئی, طاہر نے تمہیں یہ کہا؟
تم مجھے بتاؤ کہ تم دونوں کے درمیان بات چیت کیا ہوئی,, کیسے ہوئی؟
وہ سننے کے لیے بیٹھ چکا تھا,
ضرور لیکن میں چکن چھوڑآئی ہوں کچن میں سلیب پر, تم یاتو انتظار کرو, یا پھر میرے ساتھ چلو,
کچن میں اگر کرسی ہو تو چلو, میں زیادہ دیر بیٹھ نہیں سکتا,
ہاں,, تمہیں زیبی نے بہت بگاٰڑدیا ہے, ویسے غلط کیا ہے, تم. اچھے بھلے چست آدمی تھے, رولو قسم کے, ایسے بندے کو دیوار سے لگاکر رکھنا بری بات ہوتی ہے, وہ آئے تو اسے پوچھتی ہوں,
تم گئیں تھیں زیبی کے پاس؟
ہاں گئی تھی, اس نے مکان کو بہت اچھا سجادیا ہے, جیسے کہ کوئی فارم ہائوس ہو, چھوٹا سا گھر, کاش وہ اپنے نانا کے گھر کو ایسے سجاتی, لیکن نہیں یہ اچھا ہوا کہ وہ وہاں نہیں رہی, ورنہ ڈر کسی بھی وقت تنہائی میں اسے نگل سکتا تھا, وہ خود ہی اپنی بات کا جواب ڈھونڈچکی,
تم نے اسے حوصلہ نہیں دیا اس کے لیے؟
نہیں مجدد ایسا حوصلہ تم بھی نہیں دے پارہے تھے اسے, وہ ضرورت رکھتی تھی, توجہ کی, ساتھ کی, محبت کی, اور حوصلے کی بھی, لیکن ابھی اتنا نہیں کہ وہاں وہ رہے, جس جگہ کے ڈر سے وہ کھیلی ہے, وہاں رہتی تو زیادہ مشقت میں پڑجاتی, اچھا ہوا کہ وہ زرا فریش ہوئی,, میرے پاس بہت ساری باتیں ہیں تم دونوں سے کرنے کے لیے,, میں وہ تصویریں بھی دیکھنا چاہوں گی جو تم دونوں نے اکٹھے لی ہونگی,
تمہیں کیسےاندازہ ہوا کہ تصاویر لیں, یعنی تمہیں ہماری دوستی کا اندازہ ہوگیا تھا.دیکھو زیبی اکیلی تھی ,وہ اسے وضاحت دے رہا تھا دوبارہ جس پر وہ ہنس پڑی,
اور تم بھی اکیلے تھے,, اس نے کندھے اچکائے چکن اوون میں رکھتے ہوئے,
میں تو شروع سے اکیلا ہی ہوں, لمبی سانس خارج کی گئی.
ضروری نہیں کہ ہر بندہ ہمیشہ ہی اکیلا رہنا پسند کرے, آنکھوں میں جانچنے لگی.
دیکھو عالین.. بات صرف اتنی ہی کہ تم یہاں سے دور تھیں, نہ رابطہ, نہ بات چیت زیادہ, پھر اس متعلق بات ہوئی ہی نہیں تھی,
اچھا ہوا, کہ تم دونوں کا وقت ساتھ میں گزرا,اس سے تو بہتر تھا کہ وہ اکیلی رہے ,پھر وہاں جائے, اور کچھ محسوس نہ کرکے, اس صورت میں وہ ڈرجاتی, اچھا ہوا وہ زیادہ تمہارے ساتھ رہی, مجھے برا نہیں لگا کم از کم, میں خوش ہوں اس دوستی سے, نئے دوست بنانا اور مختصر وقت میں ہی ان کو اتنا بھروسہ مند تعلقات مہیا کرنا بڑی بات ہوتی ہے.
چلو ٹھیک ہے مان لیا پھر تمہیں مجھ سے کیا شکایت ہے؟
اور یہ بتاؤ نانا کے گھر میں ایسا کیا تھا جس سے تم خوف زدہ ہورہی ہو, ؟
اب تم کم از کم ایسی باتیں مت کرو کیوں کہ تم نے وہاں آنے کے بعد کچھ نہ کچھ محسوس تو کیا ہوگا ناں,
تمہارے لئے یہ سب نہ سمجھا نہیں ہونا چاہیے کیونکہ تم خود پرچھائیاں دیکھ چکے ہو, اور تم شعور رکھتے ہو,,
اوہ,یعنی کہ تمہیں بھی پرچھائیاں نظر آئیں؟
نہیں پلیز مجدد, سمجھنے کی کوشش کرو,
پھر کیا, سمجھاؤ بھی,
بہت طویل بات ہے, زیبی آجائے, اب ہر کسی کو الگ سے بیٹھ کر میں نہی بتاسکتی, البتہ تب تک ہم طاہر پر بات کرسکتے ہیں, وہ جیسے تھکن کو کنٹرول کرتے ہوئے ٹرے پر
ہاں یہ صحیح ہے,
تم مجھے طاہر کے بارے میں سب سے پہلے خبر دو پلیز کہ اس کے ساتھ کیا بات چیت ہوئی,اور کیسی رہی؟کیا اس نے تمہیں وہ اب کہہ دیا؟
یا پھر یہ کہ ڈرگیا تمہاری ہیبت سے,مجھے پہلے اس کا بتاؤ,اس دورآن وہ غائب رہا ہے,لگ یہی رہا ہے کہ تم نے محبت کے بارے میں بھی بڑی رکھائی اور سہولت کے ساتھ معذرت کرلی ہوگی,حالانکہ محبت کبھی معذرت نامہ قبول نہیں کرتی,تمہیں اس کا احساس نہیں ہے کیا؟میں تو تمہیں بہت حساس سمجھتا ہوں,بلکہ تم ہو بھی,وہ اپنے سوال کے فورا” بعد کہ کر چپ ہوگیا تھا تاکہ وہ بولے,لیکن اسکی آنکھوں میں عالین کے لیے ایک شکوہ ضرور تھا.
مجدد میری اس سے ملاقات مشکل تھی, لیکن میں نے جانے سے پہلے اسے ائیر پورٹ بلالیا,
وہ شام بہت دھلی دھلی سی تھی,اس دن ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کچھ برا ہوہی نہیں سکتا, یہ بہتر وقت تھا, اس سے ملنے کا,
تمہیں کیسا لگا اس سے مل کر,؟کیا خوشی ہوئی؟
تم کیا جاننا چاہتے ہو؟
کیا تم انسان نہیں ہو عالین, ؟کیا تمہارا دل نہیں چاہتا کہ تم کسی سے محبت کرو, یا کوئی تمہیں چاہے, تم ایسا کیوں نہیں چاہتیں, بلکہ تم چاہتی ہو مگر تم نے خود کو روک رکھا ہے,
مجدد, اس وقت تو بالکل نہیں, تمہیں اندازہ ہے, میں کتنی پریشانی سے گزری ہوں, پھر انس کی بدتمیزی کے بعد میں نے کبھی کسی مرد کو اتنا درجہ نہیں دیا,
انس اور میری منگنی بہت پہلے ہوئی تھی, ٹین ایج میں اور چند سالوں میں ہی وہ منگنی ٹوٹ گئی, اس نے خود توڑی, میں نے بھی, اچھاہے کہ ہم آہنگی نہ ہو تو راستے الگ ہوجانے چاہیں,
اچھا ہے ناں,,
خیر,, اس کے بعد جاب, صحافت, گھر کی ذماداریاں, مجھے دھیان ہی نہیں رہا, زبیر طاہر چلا گیا, آٹا گزرگئے, اما ایکسڈنٹ میں بال بال بچیں, ان کا خیال, انکی صحت, اور پھر باقی چیزیں, مجھے تو کبھی احساس نہیں ہوا کہ کوئی کمی ہے, یا پھر مجھے کسی بندے کی اشد ضرورت ہے, حالانکہ, دوستوں کی کسی ضرورت نہیں ہوتی, اور مختلف راستوں پر مل بھی سکتے ہیں, ملے بھی ہیں, التمش صاحب,ملے,اتنے پرجوش اچھے انسان, اتنے زندگی سے بھرپور انسان, اتنے مکمل انسان جو اتنے دکھوں کے باوجود بھی, کمزور نہ ہوئے, مکمل ہمت نہیں ہاری, یہ کتنی بڑی بات ہے, بہت بڑی, بہت مستحکم, پھر انکی کہانی, مہرو کی باتیں, زیبی کی باتیں, تم سے ملاقات, سعدیہ کی فکر, سالس صاحب سے ملاقاتیں, ایک بھرپور زندگی ہے یہ بھی,
اور طاہر کا بھی میں نے کبھی ساتھ چھوڑا تو نہیں, میں اس کے ساتھ تھی, وہ میرا دوست تھا بہت اچھا, اس نے خود ہی یہ رخ دیا, اور چلو ٹھیک ہے یہ سب اس کے بس میں نہیں تھا, یہ سب ایسے ہی ہونا تھا, لیکن بتاؤ ایک عورت کا گھر اجاڑ کر میں کیسے خوش رہ سکتی تھی, وہ ایک بچی کی ماں, جس کی بددعائیں پہلے ہی میرے ساتھ سفر کررہی تھیں, تم بتاؤ کیسے میں اس کا گھر اجاڑنے کا سبب بنتی, ,,
تم ہی بتاؤ مجدد,, کیا میں غلط ہوں؟
تم ہی بتاؤ,
تم غلط نہیں ہو, تم نے ہمیشہ دوسروں کا سوچا ہے, ان کے لئے کیا ہے, تم کیسے غلط ہوسکتی ہو بھلا,, ایسا ہوہی نہیں سکتا,
لیکن کچھ وقت اب اپنے لیے نکالو عالین اپنا سوچو, تم خود کے ساتھ زیادتی کررہی ہو, تم نے دیکھی ہیں اپنی آنکھیں, ان میں کتنا کرب ہے, کتنا دکھ ہے,, کتنی اذیت ہے, تھکن ہے,
تم ٹھیک کہتے ہو, میں نے غور سے آئینہ دیکھنا چھوڑدیا ہے, لیکن اندازہ ہے, اور وہ کس چیز کی تھکن ہے, میں تمہیں بتاؤں گی, ابھی کہ ابھی, جب سب لوگ آجائیں گے,
تم بتارہی تھیں تم طاہر سے ملیں؟کیا ہوا؟کیسی رہی ملاقات؟
ہاں,تمہیں پتا ہے
, میں نے اسے بہت اچھے سے بات کی, اس سے اس کی بچی کا پوچھا, بیوی کا پوچھا,
تم نے یہ باتیں کیں اس سے؟حد ہے, اس نے لمبی سانس چھوڑی بے بسی سے,
ہاں یہی ساری بات, اپنے اور اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا, بس پرانی باتیں کیں, اسکی جاب کا پوچھا, میں ایسے ظاہر کررہی تھی کہ جیسے ہمارے درمیان کچھ بھی الگ نہیں ہے, کچھ بھی ہٹ کر نہیں ہے, اور وہ,, سنتا رہا, بلآخر اس نے کہا میرے خط کا تم نے جواب کیوں نہیں دیا,, یہ بات اس نے میری طرف دیکھے بغیر کہی تھی,
پھر تم نے کیا کہا؟
میں نے,,, ہاں میں نے یہ کہا کہ اس کا جواب یہ ساری باتیں ہیں, میں کوئی ایک تلخ جملہ بول کر تمہیں دکھی نہیں کرنا چاہتی, لیکن سچ یہی ہے, کہ تمہارے احساس قیمتی سہی, مگر ان کا کوئی رزلٹ نہیں ہوسکتا,
تم نے کتنی سفاک بات کی اس سے,
ہاں ضروری تھی یہ بات مجدد,
کیا تمہیں تکلیف نہیں ہوئی, ؟
مجدد پلیز,, وہ کچھ کہنا چاہ رہے تھی کہ کسی کے آنے کا احساس ہوا,
میں دیکھتی ہوں تم یہ ڈش نکال دینا, اسے کہتے وہ باہر گئی,
زیبی آرہی تھی اندر,
عالین کیسی ہو؟وہ تیزی سے آگے بڑھ کر گلے لگی اس کے,
کیسی ہو؟
میں ٹھیک ہوں زیبی,
لگ نہیں رہیں, اس نے فورا” بغور دیکھ کر کہا تو وہ ہنس دی,
تم اچھی لگ رہی ہو, عالین اسے دیکھتے مسکرائی,
آج کل تو تمہیں سب ہی اچھے لگ رہے ہیں, مجدد نے جھانکا,
تم پہنچ گئے؟زیبی کے چہرے پر ایک دلچسپ مسکراہٹ تھی, جو عالین نے بھی محسوس کی,
ہاں, کیسی ہو؟کافی دن ہوئے ملاقات کو, کہاں تھیں, ؟مجدد کے لہجے میں وہ اجنبیت مفقود تھی جو کبھی ہوا کرتی تھی,
عالین نے بہت دلچسپی سے دونوں کی طرف باری باری دیکھا تھا,
یہیں تھی, سالس صاحب کے ساتھ کچھ دن مسلسل رہی, پھر تھیٹر کی بقیہ تیاریاں,
میرے بغیر ہی؟مجدد بول پڑا
سوری, بس کرنا تھا, میں نے سوچا تم کچھ اپنے کام کرلو, ویسے اچھی لگ رہی ہے یہ شرٹ تم پر,
میں نے بھی یہی کہا, عالین نے فوراً کہا تو زیبی نے ایک دم اسکی طرف دیکھا جیسے دھیان آیا ہولی ہاں تم بھی یہیں ہو,
اسے ڈریس سینس زرا نہیں تھا, تھوڑی محنت کرنی پڑی, وہ فوراً ہلکی پھلکی ہوکر بولی, تو عالین مسکرائی,
تم لوگ بیٹھ کر باتیں کرو میں بقیہ کام دیکھ لوں,
ہاں,, یہ روٹیاں, سبزی والے نان پکوانے پڑے, اور یہ کوکیز بھی لائی ہوں کچھ, زیبی نے تھیلے کی طرف اشارہ کیاجو آتے ہی میز. پر رکھا تھا,
ہاں صحیح ہے, اسے کھول کر باکس میں رکھ دو, اور باقی لگ کردینا چیزیں, ویسے صرف کوکیز نہیں کچھ اور بھی دکھ رہا ہے,
ہاں اب تم یہ مت کہنا ہی تکلیف کی, کچھ چپس ہیں, اور چاکلیٹس,
بچوں جیسی چیزیں,, جنہیں بڑے بھی شوق سے کھاتے ہیں, رکھ دو فریج میں چاکلیٹ,
کچن کے سامنے ہی فریج رکھا تھا اس نے اشارہ کیا کہتے اور کچن میں گئی,
اس نے کچن کی کھڑکی سے دیکھا وہ دونوں باتیں کرتے ہوئے چیزیں نکال کر رکھ رہے تھے ان دونوں کی توجہ ایک دوسرے کی طرف تھی,
اور ایک بے فکر سی مسکراہٹ تھی دونوں کے چہروں پر,
اسے بہت خوشی محسوس ہورہی تھی زیبی کو اس طرح مطمئن دیکھ کر, وہ سوچنے لگی کہ اچھا ہوا مجدد نے اسے سنجیدہ لیا, بلکہ ان دونوں کو شاید اس ساتھ کی شدید ضرورت تھی,
وہ چکن ریڈی کرچکنے کے بعد بھی کچھ دیر کچن میں ہی کھڑی رہی, رائتہ بنالیا, اور سلاد پہلے سے ریڈی تھا, کباب نکل کر تل لئے, اچانک مجدد کو اس کا خیال آیا, اور وہ اندر چلا آیا,
تم اب تک یہاں کھڑی کیا کررہی ہو؟ہمیں آواز کیوں نہیں دی,
بس سب کام ہوگیا, میں سوچ رہی تھی تم دونوں ملے نہیں کافی دنوں سے تو کرلو باتیں,
ملے نہیں ہیں, لیکن بات تقریباً ہوتی رہتی ہے, روزانہ,
روزانہ, ؟وہ چونکی,
ہاں, کیوں, ؟وہ جیسے کچھ شرمندہ سا ہوا,
ارے بہت اچھی بات ہے, اس نے مسکراہٹ کو روکا, لیکن ناکام گئی,. مجدد کچھ کھسیانا ہو تو مزید مسکرائی,
اب کی ہے تم دانت کیوں نکال رہی ہو؟
تم شرمارہے ہو,,, وہ ہنس ہی پڑی,
مجھے اچھا لگ رہا ہے مجدد, تم میرے دوست ہو, تمہیں اس طرح خوش دیکھ کر,
دیکھو کوئی نام نہ دینا کسی چیز کو, ابھی ہم خود بھی شیور نہیں ہیں کہ کیا ہے, شاید یہ دوستی ہے جو بہت اچھی ہوگئی ہے, یا پھر فقط ہم آہنگی,
عالین اسے بغور اسی طرح دیکھ رہی تھی,
تم لوگ کیا کررہے ہو؟طاہر آگیا ہے باہر,
زیبی کچن کی طرف آئی تھی,
اس نے بغور عالین کی مسکراہٹ دیکھی, مجدد کا کھسیانا انداز, اور اسے دیکھ کر چپ ہوجانا,
اوہ, شکر ہے, عالین نے چمچ ٹرے میں رکھے,
میں نے سب کچھ ریڈی کردیا ہے, تم لوگ پلیز فقط یہ اٹھاکر باہر لے آؤ, کیونکہ میں طاہر کو رسیوں کرلوں,
وہ کہتے ہوئے, باہر گئی,

کیسے ہو طاہر؟
ٹھیک ہوں, تم کیسی ہو؟وہ خاصہ تھکا ہوا لگ رہا تھا,
میری بیوی بھی ٹھیک ہے اور بیٹی بھی, یہ اس نے طنزیہ کہ تھا کیونکہ اسے اندازہ تھا کہ اب ان کا احوال زرا لمبا ہوجائے گا,
وہ ابھی چھوٹی ہے کچھ بولتی نہیں, لیکن ببا اور اما کہتی ہے, ابھی پوری طرح سے وہ توتلائی بھی نہیں, چھوٹی ہے ناں,,
میں جاتا رہتا ہوں اسے دیکھنے کے لیے, کیونکہ نبیلہ آج کل اپنے انکل کے گھر ہے, مجھے دیکھ کر اس کا خون کھولتا ہے, اور میں چاہتا ہوں کہ وہ رلیکس رہے,
جب وہ چاہتی ہے بیٹی سے ملنے کی اجازت دے دیتی ہے, اور جب چاہتی ہے نہیں ملنے دیتی, دروازے سے لوٹادیتی ہے,
وہ بیٹھ کھڑا تھا پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے, گلاس ونڈو کی طرف دیکھتا خود ہی کہہ رہا تھا,
عالین بھی کھڑی تھی, اور اسے کچھ شرمندگی کا احساس سا ہوا کہ پچھلی بار اس نے کچھ اچھا سلوک واقعی اس کے ساتھ نہیں کیا تھا,
ہم دونوں کے درمیان بغیر کسی وجہ کے بھی حالات بدتر ہیں, کبھی کبھار وہ مجھے چھوڑنے کا صرف اس لئے فیصلہ کرتی ہے کہ بیٹی مجھ سے چھین کر مجھے سزا دے,اور کبھی شادی رکھ کر مجھے سزا دیتی ہے کہ میں بندھا رہوں, اور بیٹی کی وجہ سے مجبور رہوں, بہرحال, میں نے اسے اور اپنے آپ کو حالات کے دھارے پر چھوڑدیا ہے, اور ہر کسی کو ہر کسی کی مرضی پر چھوڑدیا ہے, کسی کے ساتھ کسی قسم کی کوئی امید نہ اب وابستہ ہے, نہ ہی مجھے سمجھانے کے لیے کسی کو اپنی توانائی صرف کرنے کی ضرورت ہے.
کچھ اور رہتا ہوتو یاد دلانا .
ایم سوری,,اس وقت میرا ان سب باتوں کو چھیڑنے کا ارادہ نہیں تھا, , ہمیشہ کی طرح, تم بیٹھ جاؤ,پلیز, (وہ یہ نہ کہہ سکی کہ مجھے سن کر دکھ ہوا ہے, )
تم نے کیوں بلایا ہے مجھے؟
اس نے مجدد کو اس طرف آتا دیکھتے ہوئے سوال کیا,
بیٹھو, میں چاہ رہی تھی آخری بار ہم سب بیٹھ کر باتیں کریں,
آخری بار,, وہ مسکرایا,
تم ایسے نہیں ہو طاہر, بار بار طنز مت کرو, پلیز,
کیسے ہو ہیرو؟
مجدد آگے بڑھ کر اس سے ملا تھا,
تمہارے سامنے ہوں, تم ٹھیک ہو؟
ہاں سب خیر ہے,
سعدیہ کا سن کر بہت دکھ ہوا, اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے, وہ اس کا اظہار مجدد کے سامنے کررہا تھا,
زیبی کھانا لگا رہی تھی, عالین بھی پلیٹیں سیٹ کرنے لگی لیکن دھیان ان دونوں کی طرف تھا,
سعدیہ تمہارے ساتھ ہے ناں؟
کہاں ہے وہ؟سالس صاحب نے اس کا پوچھا تھا, کہہ رہے تھے مجدد کے سوا اس کا کوئی نہیں, وہ اس کا خیال رکھے گا, اور مجھے بھی یہی پتا ہے کہ تمہارے سوا اس کا کوئی نہیں ہے تم ہی اس کا خیال رکھ سکتے ہو,
عالین نے طاہر کی اس بات پر مجدد کی طرف دیکھا,
وہ نظر چرانے لگا زندگی میں پہلی بار وہ نظریں چرارہا تھا,
آجائیں بیٹھیں, زیبی نے دونوں کی طرف دیکھ کر پرزور انداز میں کہا تو دونوں میز کی طرف بیٹھے,
طاہر کے اندر کچھ کھنچاؤ تھا, عالین اس کا یہ روپ پہلی بار دیکھ رہی تھی,
یہ لو پلیز, کسی کو کہنا مت پڑے, خود لے لینا, زیبی نے ڈش سے اپنے لیے چکن نکلا اور پھر آگے رکھتے ہوئے کہا,
عالین کو اس کا یہ انداز بہت اچھا لگ رہا تھا,
منفی رویے کو پس پشت ڈال کر وہ پہلی بار کھانے کی میز پر اتنی پرسکون دکھائی دے رہی تھی,
سعدیہ کا مجھ سے زیادہ عالین کو پتا ہوگا, میں کچھ وقت سے نہیں تھا اس کے ساتھ,
اچھا, تم لوگوں کی باتوں کا اثر لے لیا؟طاہر کو افسوس تھا,
مجدد نے نفی میں سر ہلایا,
اگر ایسا نہیں ہے تو پھر کیوں,, سعدیہ تمہاری عادی تھی مجدد,
زیب نے اچانک جیسے ایک نظر مجدد کی طرف دیکھا, اور پھر نظر جھکالی,
مجدد نے عالین کی نظر سے بچنے کے لیے سر اٹھاکر کسی کی طرف بھی دیکھنے سے گریز کیا,

تم نے غلط کیا, طاہر اطمینان سے کھارہا تھا,
کسی کی محبت کو یوں ٹھکرانا بری بات ہے بہت آسان ہوتا ہے کسی کے جذبات کو روندنا لیکن ہمیں پتا نہیں ہوتا کہ اگلا انسان کتنا زخمی ہورہا ہے , وہ اس کے بہانے سے اپنی کہہ گیا,
عالین نے اس سے نظر ہٹالی اور کھانا لینے لگی, طاہر کا یہ اکھڑا ہوا روپ نیا تھا, , اسے طاہر کا پہلے والا روپ پسند بہت تھا,لیکن یہ جان کر وہ مطمئن ہوئی کہ اسے اپنا دفاع کرنا آتا ہے, وہ کررہا ہے, اگلا بندہ جب اپنی بھڑاس نکالنا جانتا ہو تب معافی تلافی کی بہت کم گنجائش رہ جاتی ہے, وہ چاہ رہی تھی کہ اس بہانے وہ اپنی پوری بھڑاس نکال لے تو اچھا ہے.
مجدد نے ٹھنڈی سانس بھری, اسے اپنی صفائی دینی تھی,
محبت وہ مستقیم سے کرتی تھی’میں اس کا دوست تھا, تب بھی جب ہم مستقیم کو ڈھونڈنے نکلے, تب بھی جب وہ مل گیا, اور وہ اس کے ٹھیک ہوجانے کی دعا کرتی رہی,
تب بھی,,
لیکن تم اس وقت اس کے ساتھ نہیں تھے مجدد, طاہر نے بات کاٹی,
ہاں, ٹھیک کہتے ہو, میں نہیں تھا, کیونکہ میرا بھروسہ ٹوٹ چکا تھا, وہ پہلے والی وہ سعدیہ نہیں تھی طاہر, جو مجھے اسٹیشن پر صرف اس لئے ملی کہ اس نے سن رکھا تھا کہ ایک عورت ہے جو روحوں سے ملاقات کرواتی ہے, اور وہ جاننا چاہتی تھی کہ کیا مستقیم کسی روح میں بدل گیا ہے, یا اس کا وجود اب تک ہے وہ اپنے محبوب کا اتا پتا ڈھونڈنے نکلی, اس نے دشت کاٹا, اس نے صحرا جھانکا, اس نے سفر کیا, وہ راتوں کو جاگی, میں گواہ تھا, اسے جب مستقیم پیرلائزڈ ملا تب بھی اس نے آنکھوں پر رکھا, لے آئی, خوب خدمت کی, تم نے بھی دیکھا طاہر اسے, ہم سب نے,, لیکن آخر میں کیا ہوا,, اس نے پہلے اس کے مرنے کی دعا کی, انتظار کیا, جب حاصل نہ ہوا کچھ تو اسی محبوب کو خود ماردیا, یہ تھا سعدیہ نورعین کا عشق,
وہ بے دلی سے چمچ پلیٹ میں رکھ کر ان سب کی طرف باری باری دیکھنے لگا تھا,
زیبی پرسوچ, طاہر پرافسوس
اور عالین کے چہرے پر اختلاف تھا,

اس نے ایسا نہیں کیا, اس نے مستقیم کا قتل نہیں کیا,
مستقیم کو زہر دیا گیا ہے عالین تم کس دنیا میں رہتی ہو, کتنا پردہ گراؤگی اس کے اوپر,
میری اس صورت زیادہ ہمدردی ہے اس سے, لیکن سچ بہرحال سچ ہے,
مجدد بات کو سمجھنے کی کوشش کرو,وہ وجہ بنی ہے لیکن اس نے قتل نہیں کیا,
وجہ بنی اور قتل نہیں ہوا, بچوں کو پٹی پڑھارہی ہو تم,
تم دونوں لڑکیوں رہے ہو, زیبی کو کوفت سی ہوئی.
اگر اس نے ایسا کیا بھی ہے تو وہ بے بس تھی, اس کی کنڈیشن دیکھو, میں بھی شاید ہوتی تو ایسا کرتی اس کی جگہ, چھوڑو اس بحث کو, یہ بتاؤ کہ وہ کہا گئی؟
بس وہ بہت مشکل سے نکلی ہے, ہاشم الدین نے پولیس بلالی تھی, اسے اریسٹ کرنے کے لیے,
یہ تو ثابت ہوا تھا کہ مستقیم کو زہر دیا گیا ہے, اور سب کا شک سعدیہ پر ہی تھا,
اس وقت مجدد بھی تھا جب سعدیہ کو لے جایا جارہا تھا,
واقعی ؟زیبی نے اس کی طرف دیکھا, بتایا نہیں تم نے مجھے,
کیا بتاتا,, میں خود بہت دکھی تھا,
تم نے کچھ نہیں کیا اس کے لئے مجدد سعدیہ کو یہ یاد رہے گا, اس بار طاہر بولا,
تم لوگ مجھے کتنا تھکاؤ گے, پہلے ہی میں بہت پریشان ہوں اس وجہ سے, مت کرو,,
وہ عاجزی سے کہنے لگا,
دوستوں پر ہوتا ہے بار مجدد, تم ہمیشہ ذمادار رہے ہو, اب فکر کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہے. عالین اسے مکمل طور پر یہ بھی نہیں کہہ سکتی تھی کہ تم درست تھے خاموش بیٹھ کر,
یا پھر یہ کہ تم ہی قصور وار تھے ,ایسا بھی نہ تھا.
وہ ہے کہاں اب؟طاہر براہ راست عالین سے مخاطب ہوا تھا,
وہ اب بہتر جگہ پر ہے, ایک گرلز ہاسٹل میں چھوڑا ہے میں نے اسے,کیونکہ وہ میرے ساتھ بھی آکر رہنے کی ہمت نہیں کرپارہی تھی,
بہت مشکل میں تھی وہ جو صورتحال ایک عورت کے لیے عزت و تکریم کے ساتھ گھر میں محفوظ ہونے کی ہوتی ہے شوہر کے بعد, اس حالت میں وہ ایک مقتولہ کی حیثیت سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے تھی,بس مشکل تو تھی لیکن کسی طرح اللہ نے رحم کردیا , بہت مشکل تھی , مجھے ہاشم الدین کی منت کرنی پڑی,انہیں احساس دلانا پڑا کہ مستقیم اس سے محبت کرتا تھا, وہ یہ کام نہیں دے سکتی, ایک زہریلہ کیڑا اس کے کھانے میں تھا, ہوسکتا ہے اس نے نہ ڈالا ہو, بہرحال جو بھی تھا, انہیں مستقیم کا بہت صدمہ تھا, میں نے کہا اس کی خاطر سعدیہ کو معاف کردیں یہ سوچ کر کہ ہوسکتا ہے مستقیم بھی معاف کردے آپکو, شکر ہے انہیں کچھ احساس ہوا , تبھی ضمانت ہوئی, وہ دو دن یہاں میرے ساتھ تھی, اور پھر اس کے بعد میں نے اسے ایک جاننے والی کے توسط سے ہاسٹل بھیج دیا, وہاں ماحول اچھا ہے, وہ کام بھی کرتی ہے, کپڑے سینے لگی ہے, اسکی عدت پوری ہوگی تو پھر کسی مستقل ٹھکانے کا سوچیں گے, ویسے ہاشم الدین نے تسلی دی ہے کہ وہ اس کے لئے کوئی اچھا سا رشتہ ڈھونڈیں گے, انہوں نے مستقیم کے حصے سے کچھ رقم خیرات کردی ہے, کچھ سعدیہ کے لیے رکھی ہے, خدا انہیں نیکی دے, وہ پچھلے دنوں اپنے والدین کی قبروں پر بھی گئے تھے, میں نے انہیں کہا کہ ایثال کیا کریں ان کے نام کا, تمہارا پوچھ رہے تھے وہ,اس نے زیبی کی طرف دیکھا بات کے اختتام پر,
ہمم, میں ملوں گی ان سے, میرے پاس کوئی اور رشتہ نہیں رہا, باپ جو پہلے سے زیادہ نفرت کرتا ہے, اس نے تو ناں کبھی ملنے کا سوچا, اور نہ ہی درگزر سے کام لیا,
ایک نانا نانی تھے, وہ بھی گزرگئے,
اور اب صرف ایک ماموں ہیں, ہاشم الدین, مجھے لگتا ہے رشتے جب تک نزدیک نہیں ہوتے, کوئی کشش نہیں ہوتی ان میں اگر اجنبیت ہوتو,
خیر شکر ہے سعدیہ اب ٹھیک ہے, سن کر کچھ تسلی ہوئی,
ہاں مجھے بھی, طاہر نے اطمینان سے کہا,
مجدد کے چہرے پر اطمینان اور شرمندگی کی ملی جلی کیفیت تھی,
تم بہت اچھی ہو عالین بندے کو چھوڑتی نہیں کبھی مشکل میں, اسی لئے تمہیں بندوں کا رب نہیں چھوڑتا, اسی لئے تمہیں وہاں سے تسلی ملتی ہے دکھوں میں, حالانکہ تم خود دکھ میں تھیں, جب یہاں سے جارہی تھیں, ماں کے مرجانے کی خبر جان لیوا ہوتی ہے, لیکن تم اس وقت میں بھی سب کے لئے ہدایتیں دیتی جارہی تھیں, وہ وقت شاید اس لیے بھی ٹھیک نہیں تھا, اس ملاقات کے لیے جس کے لئے میں نے تمہیں کہا, اور طاہر کو افسوس ہے جس کا,
مجدد وقفے وقفے سے بول رہا تھا.
طاہر پہلی بار سوچ میں پڑگیا, اسکی بات سن کر,
بہت کٹھن وقت تھا مجدد,, اور یہاں سے جانے کے بعد میں نے الگ طرح کا ایک اور کٹھن وقت دیکھا ہے,
تم نے کچھ آوازوں کی بات کی تھی شاید؟
زیبی کو یاد آیا,
ہاں, مجھے آوازیں سنائی دینے لگیں, پرچھائیاں دکھائی دینے لگیں, میرے ساتھ بہت کچھ ہوا, جس نے مجھے توڑا, جس نے مجھے تھکایا, اور مجھے خود یقین نہیں آتا کہ میں ثابت سالم, یہاں بیٹھی ہوں, اور نارمل طریقے سے بات چیت کررہی ہوں,
مجھ لگتا تھا اوسان خطا ہوجائیں گے,
تبھی زیبی, کہا تھا تمہیں, اور تبھی سر سالس کو میسج کیا تھا کہ اپنے شاگردوں کو بتائیں, کہ ہر کیفیت جھیلنے کی نہیں ہوتی, ہر احساس سے گزرجانا ضروری نہیں ہوتا, تَبھی,,
خیر.. تم لوگ کھانا ختم کرو, یہ کہانی پھر سہی, ابھی ہم لوگ بہت دیر تک ایک ساتھ ہیں,
کسی کو بھی کہیں ضروری نہیں جانا, نہ کوئی اور بہانہ چلے گا,
تمہیں اس طرح کی چیزیں محسوس تب سے ہوئیں ناں؟جب تم میرے ساتھ نانا کے گھر میں تھیں؟
عالین چونکی زرا, تمہیں اندازہ ہوگیا؟
نہیں مجھے یقین ہے, زیبی لیگ پیس کانٹے اور چمچ کی مدد سے پورا پوسٹ مارٹم کررہی تھی,
اور باقی دونوں عالین سمیت اسکی طرف تحیر سے دیکھنے لگے تھے.
اس نے کہانی شروع کرنے سے پہلے اس رات کا سرا تھاما,


جس دن اس نے اس کا اعتبار کھویا تھا!


روشنی مدھم پڑچکی تھی,کمرے کا بلب جھٹکے ماررہا تھا, یہ بجلی کا فالٹ تھا,لیکن دماغ کا فالٹ ہٹ چکا تھا, وہ گڑبڑا کر اٹھا شیشیاں ہی شیشیاں بکھری ہوئی تھیں, ہر طرف اور سگرٹ کے بجھے ہوئے ٹوٹوں سے بھری ایش ٹرے الٹ چکی تھی ٹھوکر لگنے سے, بکھراؤ کی حالت پورے گھر کو گرفت میں لئے ہوئے تھی,
سنک میں برتن گندے پڑے تھے, وہ اکثر مل کر دھودیا کرتے تھے,
وارڈروب کی الماری کے پاس رکھی میلے کپڑوں کی ٹوکری میں پھینکے گئے بے ترتیب کپڑوں سے بساند کی بوء آرہی تھی, گھر میں عجیب قسم کی بو کا سنگم تھا, سارا کچھ تعفن زدہ,خود موسم بھی, اندر کا بھی, اور باہر کا, اسے جس کا انتظار تھا, وہ کئی دن سے لوٹا نہیں تھا,
کہاں چلا گیا ہے تو ثاقیا,,

وہ بڑبڑاتے ہوئے اٹھا, اور آئینے میں اپنا آپ دیکھا, ایکدم سے لٹا پھٹا سا حلیہ, اسے خود پر لمحے کو تعجب سا ہوا, جیسے مہینوں بعد اپنے حال کا احساس ہوا ہو, وہ وارڈ روب کی الماری کی طرف بڑھا, اور بے ترتیب کپڑوں کے ڈھیر میں اسے ایک جوڑا بھی ڈھنگ کا نہیں ملا, اس نے دوسرا تاکچہ کھولا, نئی شرٹس غائب تھیں, نئی کون سی, اسے یاد آیا اس نے دو کافی سالوں سے کپڑے نہیں لئے تھے, اسے عادت ہی نہیں تھی اپنے کپڑے لینے کی, زیبی لے آتی تھی اور اتنی ورائٹی میں لاتی تھی اور ڈھنگ سے سیٹ کرکے رکھتی تھی, ٹی شرٹس الگ, شرٹس الگ, ٹائیاں اور پینٹس کی جگہ الگ تھی, کچھ میچنگ کرکے پریس کرکے جوڑے لٹکادیتی تھی, اسے زحمت نہیں کرنی پڑتی تھی خود سے, وہ گئی اس کے بعد بھی وہ یہی کپڑے استعمال کرتا رہا تھا, بس جب سے ثاقب آیا تھا اس کے ساتھ رہنے کے لیے, تو وہ اکثر اسکے کپڑے اور جوتے استعمال کرلیا کرتا تھا, اور اس نے ایک برا منہ بنایا تو ہنس دیا, اور کہنے لگا تم مجھے استعمال کرو, اور میں تمہارے کپڑے بھی استعمال نہیں کرسکتا, اسکی بے ہنگم ہنسی پر اسے چپ لگ گئی, بات تو ٹھیک تھی, سچ تھی, سو فیصد, اس نے پھر کبھی کسی چیز پر اعتراض نہیں کیا اسے استعمال کرنے کے قرض میں وہ دیتا رہا, سب دیتا رہا, اور وہ فقط لینے کا عادی تھا, قرب بھی, اور کپڑے بھی,
یہ اچانک کمینہ کہاں چلا گیا,, وہ کپڑے اتھل پتھل کرنے کے بعد,وہیں ڈھیر اوندھا چھوڑکر, چلا گیا, اور گھر کے نزدیکی بازار کی طرف رخ کیا جہاں وہ اکثر جایا کرتا تھا,دوتین جگہوں پر دیکھنے کے بعد وہ جنرل اسٹور والی شاپ پر آگیا, کاکا ایوب او کاکا,
کاکاایوب کے پاس کبھی کبھار وہ جایا کرتا تھا ادھارلینے جب اس کا لایا ہوا سودہ ختم ہوجاتا تھا,
کاکا, بات سنیں, آپ سے بات کررہا ہوں میں, عنصر ہوں مجھے نہیں جانتے کیا,
وہ چشمہ ٹھیک کرتے ہوئے گڑبڑائے سے,
بیٹا معاف کرنا, چشمے کا نمبر شاید غلط آگیا ہے, بس یہ کام میرے نکھٹو بیٹے کے ہیں, خیر.. چھوڑو, تم آؤ عنصر, بیٹھو
نہیں بیٹھنے نہیں آیا کاکا, تجھ سے پوچھنا ہے کچھ, ثاقی کے بارے میں جانتا ہے تو, کدھر ہے وہ؟
بیٹا, میں کیوں جانوں گا بھلا اس لفنگے کے بارے میں کچھ بھی,
لفنگا تو خیر میں بھی ہوں, ویسے اچھا طریقہ ہے کہ اس کے سامنے مجھے اور میرے سامنے تم اسے لفنگا بولتے ہو, خیر ہے,
یہ بتاؤ وہ کہاں ہے؟
کیوں تجھے بتاکر نہیں گیا کیا؟
بتاکر جاتا تو کیا تجھ سے پوچھنے آتا میں, ؟
بتادوں تو کیا ہوجائے گا, کیا فائدہ ویسے بھی اس کا, بڑی دور ہے وہ یہاں سے اب,
مجھے پتا بتادو اس کا کاکا, ورنہ تو مجھے جانتا ہے اچھی طرح سے, اس نے دھمکانے کے سے انداز میں کہا تو وہ ہنس پڑے,
اچھی بات ہے اپنی اور میری عمر کا فرق دیکھ اور پھر دھمکی دے,
کاکا,, گند نہ کر, پتا دے اس کتے کے بچے کا, مجھے ویسے ہی اس پر بڑا غصہ ہے,
کتا وہ ضرور ہوگا, پر کتے کا بچہ کیوں, تم لوگ ماں باپ پر گالی کیوں دیتے ہو کسی کو, انہوں نے چشمہ ٹکاکر, پلکیں جھپکتے ہوئے کہا تھا,
اوف اوہ,,, مجھے بس اس کا نمبر دے اور معاف کردے, اس نے غصہ پیتے ہوئے آنکھیں اور ہونٹ بھینچتے ہوئے کہا,
ٹھیک یے, دیتا ہوں نمبر, لے لے,پر فائدہ نہیں ہوگا کوئی بھی, شادی کرچکا ہے وہ, خوش ہے بہت, انہوں نے دراز سے ہاتھ مار کر ایک پیڈ نکالا جس پر اس کا نمبر درج تھا,
اس میں ہوگا اوپر اوپر,
کیا, شادی؟وہ اور شادی,, یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ, وہ لمحے کو جیسے صدمے میں آگیا پھر اچانک سے سر جھٹک کر بڑبڑاتے ہوئے نمبر نکالا, فون پر پریس کیا,
ایسا کیسے ہوسکتا ہے,, وہ اور شادی,, نہیں, وعدہ کیا تھا اس نے مجھ سے,,
وہ نمبر ٹرائی کرنے لگا جو پہلے بند اور پھر بزی شو کررہا تھا,
اوف.. کمینے, فون اٹھا, وہ بڑبڑایا, اور کاکا یعقوب نے سر جھٹک کر اپنے کام کی طرف توجہ کرنے سے پہلے ایک اور عینک اٹھائی, ہاں یہ, پھر بھی بہتر ہے کچھ,,
کہیں یہی تو نہیں تھی میری عینک,, وہ اب شفاف آئینوں کی طرح دیکھنے لگے تھے, اور اطمینان کا سانس لیا, لیکن عنصر کا چہرہ حددرجہ بگڑا ہوا تھا,
اتنی سوہنی صورتوں پر زنگ لگایا ہوا ہے,
وہ بڑبڑائے, دوسری طرف اس کا فون لگ چک تھا, وہ بات کرتا آگے بڑھ گیا,
ہیلو ہیلو,, کون؟
تیرا تو میں
دوسری طرف سے خاتون بول رہی تھی,
ہیلو, ثاقب کو فون دیںجے محترمہ, کیا, گھر پر نہیں,,, آپ کون؟
بیوی,,, اس نے دہرایا ,,اور جھٹ سے دوسری طرف لائن ساکت ہوگئی, اس کے بعد مطلوبہ نمبر بند رہا, اسے جتنی گالیاں زبانی یاد تھیں, وہ اسے دے ڈالیں,
اسکی بیوی کی طرف سے ایک میسج تھا کہ ہمیں اپنی زندگی جینے دی جائے, آئندہ اس نمبر پر کوئی فون نہیں کرے,
اور پھر ثاقب کی آڈیو تھی کہ میں نے کوئی گناہ نہیں کیا اپنا گھر بساکر, ایک قانونی اور شرعی طور پر ایک عورت کو اپنا ہے, میں چاہتا ہوں میری ایک بیوی ہو, میرے بچے ہوں, میرا اپنا گھر آباد ہو, کل مجھے کوئی پہچانے, یہ ثاقب رضا کے بچے ہیں, یہ ثاقب کی فیملی ہے, یہ اسکی بیوی, یہ اس کا خاندان, یہ فیملی, سب,, اور ان سب میں کچھ برا نہیں ہے, تم د

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.