پردیس سے دیس_______6

ڈان نیوز پر پڑھیں

(ڈان نیوز پر جگہ کی کمی اور کمپنی کے قواعد و ضوابط کی بنا پر بہت سے لکھے پر قینچی چلا دی جاتی ہے۔مگر یہاں پر چونکہ مجھے کوئی ایسا مسلئہ لاحق نہیں اس لئے میں اپنی لکھی پوری تحریر چھاپتی ہوں ۔میرے نزدیک یہ مشاہدات بہت ہی قیمتی ہیں کیونکہ یہ وہ باتیں ہیں جو دس سال باہر رہنے والا واپس لوٹتا ہے تو فوری طور پر کرتا ہے ۔جیسے جیسے وہ یہاں رہتا چلا جاتا ہے وہ اس ملک اور معاشرے کے رنگ میں رنگا چلا جاتا ہے اور بلآخر سب کچھ بہت اچھا سمجھنے لگتا ہے۔ایسے وقت میں یہ یاداشتیں ایک اچھی یاد دہانی ہیں۔________صوفیہ کاشف)

سامان منتقلی:

ایک ہاؤسنگ سکیم سے دوسری میں سامان منتقلی ایک نئی ٹینشن تھی۔جو بہترین آپشن تھی وہ اب ہمارے حساب سے خاصی مہنگی ہو چکی تھی،چونکہ پندرہ ہی دن میں اخراجات ہمارے سرمایے سے بڑھ گئے تھے ۔ہمارے حساب کتاب پہلے گھر تک پہچنے کے تھے جو سب لگ کر پندرہ ہی دن میں دوسری درپیش منتقلی اب مشکل ہو گئی تھی۔اور جو آپشن اب ہمارے پاس بچی تھیں اس سے چھ کلو میٹر کے فاصلے پر شفٹنگ ہمارے دبئی کے ہوم اسٹورز کے فرنیچر اور نئے خریدے فریج میں کئی خراشیں چھوڑ گئے۔ایک ہی ماہ میں ابوظہبی سے اسلام آباد کے سفر نے لائف اور لائف سٹائل برباد کر کے آدھ مواد کر دیا تھا۔

نئے فلور کی کھڑکی سے باہر کا نظارہ

،وہ جو قریب قریب لگتا تھا وہ سفر صدیوں کا تھا اور وہ سامان جو دبئی سے اسلام آباد حفاظت سے پہنچ گیا تھا چھ کلومیٹر میں کئی چوٹیں سہہ گیا۔ گھر کا سامان اور فرنیچر کی نفاست پر کئی خراشیں پڑ گئیں۔

صرف یہی نہیں لانڈری میں جتنے سفید تولیے،بیڈ شیٹس اور کپڑے جاتے سب کے سب نیلے ہو کر آتے۔اتنے بڑے نوابی شہر کی مہنگی لانڈری میں سفید دکھتے ہر کپڑے کو نیل دینے کی عادت تھی چناچہ ہمارے صورتحال سمجھتے سمجھتے کہ آخر رنگ کو ہوا کیا ہےاور گھر سیٹ کرتے کرتے ہمارے گھر کی ہر سفید اور کریم رنگ کی چادر کپڑا اور تولیہ بدرنگ اور بے ڈھبا ہوتا چلا گیا۔کچھ ہی دنوں میں ہم عین پاکستانی رنگ میں رنگ جا چکے تھے یعنی خاصے بدرنگ ہو چکے تھے۔حالات و واقعات سے یقین ہو رہا تھا کہ ہم اب زمیں پر اتر چکے ہیں۔

تالوں کی صورتحال:

ایک چیز دیکھ کر حیرت ہوئی کہ ابوظہبی جیسے دنیا کے سالہا سال سے محفوظ ترین مانے جانے والے شہر کے گھروں کے تالے تو مضبوط ترین بھی تھے اور ساتھ ہی دروازوں میں باہر دیکھنے کی جھری بھی لازم تھی مگر پاکستان جیسے ملک میں جہاں جو چاہے جس گھر میں گھس کر چوری ڈاکہ قتل یا ریپ کر آئے،جہاں کوئی قانون ہی موجود نہیں وہاں دروازوں پر نمائشی اور ہلکے تالے لگے دیکھے۔حیرت انگیز طور پر دروازے کو اندر سے تالا لگانے کا کوئی ببندوبست نہ تھا صرف کنڈی لگانے کی جگہ تھے۔کوئی بھی تالا صرف ایک کنڈی کھول دینے سے کھل جاتا۔میرے پاس دو کم عمر بچے تھے جن میں سے کبھی کبھار کوئی نیند میں اٹھ کر چل بھی پڑتا تھا ایسے صورتحال میں محض اندر سے یہ ناقابل اعتباد کنڈی لگا کر میں سکوں سے سو نہ سکتی تھی۔مجھے سکوں سے سونے کے لئے یہ اطمینان چاہیے تھا کہ اب کوئی بھی بچہ نیند میں چلتا گھر کا دروازے نہ کھول سکے گا۔بلاآخر خود ایک بڑھئی کو بلا کر اس پر تالا لگانے کے لئے ٹیڑھی میڑھی کنڈیاں لگوائیں تا کہ ان پر سائکل کو لگنے والا تالا لگ سکے۔ اور میں سکون سے سو سکوں۔

تالا لگانے کی ایک کوشس

___________

نئے پورشن میں منتقلی اور میڈ سروس:

اگست کی پہلی تاریخوں میں ہم پرانا پورشن اور پرانا علاقہ چھوڑ کر نئے علاقے اور پورشن میں شفٹ ہو گئے اگرچہ ہمارے دئیے گئے کرایے کے ابھی کم سے کم دس دن باقی تھے۔مگر پیسوں کی گنتی کی بجائے اس تکلیف،زحمت اور پریشانی سے رہائی کی طلب تھی جس کی پرانے فلور پر شدید ذیادتی تھی۔درپیش مسائل کی وجہ سے ہر وقت کی کوفت اور الجھا مزاج ہمارے دلوں میں زہر گھول رہا تھا۔اسی مزاج کی تلخی میں ہماری پہلی میڈ نوکری چھوڑ کر چلے گئی۔کہ جب دو تین دن گھر کی تلاش میں سڑکوں کی خاک چھانتی تھکی ہاری الجھی ہوئی گھر کو لوٹی تو ایک دو بار میڈ کو کسی بات پر ٹوک دیا جو اسکے مزاج پر بار خاطر لگا اور وہ نہ صرف کام سے بھاگ گئی بلکہ چار باتیں بھی سنا کر گئی جنہیں سن کر میرے چودہ طبق روشن ہی ہو گئے کہ یہ وہ ماسی تھی جسکی بیٹی کو میں اپنے بچوں کے ساتھ گاڑی میں لئے پھرتی تھی کہ چلو چھوٹی سی بچی ہے ، گھوم پھر لے گی۔جو کچھ باہر سے خود کھاتے تھے اسے بھی برابر کھلاتے تھے۔ اور یہی وہ میڈ تھی جس کو رہائش کی بہترین جگہ دینے کی خاطر ہم نے پورشن ڈھونڈتے اچھے  سرونٹ کوارٹر کی موجودگی مشروط کی تھی۔ اگرچہ سب آس پاس بتا رہے تھے کہ یہاں پر ماسیاں ایسی ہی ہیں مگر ہم نے جو پہلی بار انکا خود تجربہ کیا تو کئی دن تک حیران و ششدر رہے کہ ایسا کیسے ہوا۔افسوس بھی رہا کہ شاید میں ہی بہتر رویہ نہ دکھا رہی تھی،دکھاتی بھی کیسے میں تو خود ذمیں پر قدم جمانے کی خاطر دو بچوں کے ساتھ دیس نما پردیس میں جگہ بنانے کی کوشش کر رہی تھی۔

صورتحال یہ ہے کہ وطن کی زمیں پر احسان مندی، کردار ،اخلاص،اور امانت کی بہاریں کب سے اترنا بھول چکی ہیں ۔ایسا صحرا جس پر صرف کانٹے،اور زہریلی جھاڑیاں اگتی ہیں۔گلاب اس زمیں پر متروک ہو چکے ہیں۔ہم دہائیوں سے زہر کو زہر ،سے ضرب دے رہے ہیں تو حاصل ضرب کے طور پر معاشرے میں سوائے زہر کے کچھ نہیں بچا۔ہمیں اپنی ملائشین میڈنور یاد آئی جو بغیر ہمارے کہے گھر کا ہر کونہ رگڑ رگڑ کر صاف کرتی تھی ایک منٹ کو بھی چائے پانی کے لئے بیٹھتی نہ تھی ۔ ہم محض پیار سے بات کرتے تھے اور وہ اسی بات کے بدلے ہمیں دنیا میں سب سے عزیز اور سگا سمجھتی تھی۔کہاں ملتے ہیں ایسے غریب اب ہمارے دیس میں۔

پہلی میڈ کی بیٹی

۔ میڈ سروس کی ایک الگ کہانی ہے۔ابوظہبی اور دبئی میں ملازم مہیا کرنے والی باقاعدہ کمپنیاں ملازم مہیا کرتی ہیں جو قانونی طور پر پورے رولز اور ضوابط اور طور طریقے سے ملازمین دوسرے ممالک سے قواعد کے تحت زمہ داری سے منگواتے ہیں اور آپ کو مقررہ رقم کے عوض ملازمین مہیا کرتے ہیں ۔یہ ملازمین عموما اعلی تربیت یافتہ ہوتے ہیں اور اپنے طے شدہ دورانیے میں کام کرنے کے پابند ہوتے ہیں۔کوئی کمپنی اس میں کوئی ہیرا پھیری کر نہیں سکتی کیونکہ ہیرا پھیری کا انجام یہاں جیل کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔مگر بات وہی ہے جن ملکوں اور ریاستوں میں قانون نافز ہو وہاں ہر ادارہ کچھ قواعد و ضوابط کے تحت چلتا ہے۔اور جب ہمارے جیسے تیسری دنیا کے ملکوں میں قانون کے سکے کا کوئی وجود نہیں ہوتا وہاں ہر فرد اپنی مرضی کی شرائط قواعد و ضوابط کے تحت اپنی مرضی سے کام کرتا ہے اور پاکستان جیسے معاشرے میں کم سے کم اپنی مرضی سے کوئی ایماندار،دیانتدار اور وفاداربننا نہیں چاہتا۔یہ خوبیاں معاشرے میں پیدا کرنے کے لئے قانون کی حکمرانی لازم ہے۔

نئے شہر میں ہمیں بھی راہ چلتے کوئی ملازمہ ملتی نہ تھی اس لئے فوری طور پر اپنی ضرورت پوری کرنے کی خاطر ایک میڈ مہیا کرنے والی کمپنی سے رابطہ کیا ( ہمیں پھر یہ غلط فہمی تھی کہ شاید یہاں پر بھی ایسی کمپنیوں کا وجود ہے)جنہوں نے چھ ماہ کے معاہدے پر خاصے مہنگے داموں ہمیں ایک ملازمہ مہیا کی ۔کہانی یہاں پر پھر وہی تھی کہ پیچھے سے ریاست انسانوں اور اداروں کو کنٹرول کرنے کے لئے موجود نہیں چناچہ پہلے پندرہ ہی دن میں ملازمہ کئی بہانے ڈھونڈ کر چیخ چلا کر معاوضہ لیکر نکل لی۔پھر سے ایک معاہدہ گیا ردی کی ٹوکری میں۔کچھ دن کی خواری کے بعد پھر ایک ملازمہ بھیجی گئی جو اسقدر گاڑھی قسم کی پنجابی بولتی کہ ہم پنجابی ہوتے بھی اس کی زبان کا ترجمہ کرتے اور اسے اپنی زبان سمجھاتے تھک جاتے۔دو دن وہ خاتون ہماری بولی اور ہم اس کی بولی سے تنگ رہے تو پھر تیسرے دن ایک اور خاتون بھیجی گئی جس نے عین اصول کے مطابق دس دن بعد نوکری چھوڑنے کا عندیہ دے دیا۔ان کی خالہ کی وفات پر بقول انکے انہیں فیصل آباد جانا تھا۔اب تک ہم اس نظام کو سمجھ چکے تھے جو صرف معاہدے پر دستخط کر کے پیسے لے لینے تک یقیں رکھتا تھا۔چھ ماہ کی ضمانت دیکر پیسے لیکر دیڑھ ماہ میں چار ملازم بدلے گئے تو پہلے دو ماہ کے سیکھے جانے والے ہمارے اسباق مکمل ہوئے اور ہمیں صحیح معانی میں یہاں کا یتیم اور لاوارث نظام سمجھ میں آنے لگا۔اگر کبھی ایسی صورتحال آپ کو بھی پیش آئے تو کم سے کم ہماری بیوقوفیاں مت دہراہیں اور ایسی میڈ مہیا کرنے والی کمپنیوں سے پرہیز کریں ورنہ ایسا چونا لگے گا کہ چودہ طبق روشن ہو جائیں گے۔جب انسان سالہا سال ایسے معاشروں میں رہتا ہے جہاں اداروں کے مقاصد ہوں ،نظام ہو،کڑا قانون ہو اور اس کا کنٹرول ہو ،تحفظ ہو تو پھر ہم پاکستانی اداروں کو بھی ایسا ہی توقع کرنے لگتے ہیں اور یہیں ہم سب سے بڑی غلطی کرتے ہیں۔جب سر پر پڑتی ہے تو پتا چلتا ہے کہ آوے کا آوا بگڑا کہتے کس کو ہیں۔ہم ہزار لوگوں کے ظلم،بے حسی اور بے ایمانی کا واویلا کرتے رہیں،بات یہ ہے کہ جب تک کسی ریاست میں قانون نامی مخلوق موجود نہ ہو گی،صحیح اور غلط کی پوچھ گچھ اور جزا اور سزا کا عمل نہ ہو گا،وہاں انسان کی سلامتی محض “مارو یا مر جاؤ “کے مرہون منت ہی رہے گی۔جب تک آپ کا معاشرہ ظلم کرنے والے کو گرفتار کر کے اسے اس کی سزا نہیں دے سکتا ، معاشرے میں ظلم اور بے انصافی کو پنپنے سے روک نہیں سکتا تب تک یہی واحد طریقہ بقا کا ہے۔

یہاں پھر ہم نے وہی روایت دہرائی اور اپنے دئیے ہوئے پیسوں کی پائی پائی واپس وصول کرنے کی بجائے گھاٹے اپنی جیبوں میں گھسیڑے ،میڈ کمپنی پر تین حرف بھیجے اور اپنے لئے آس پاس کے گھروں سے ملازمین کی تلاش شروع کی۔جیسے تیسے کر کے اگلے کچھ ماہ میں ایک ایسی خاتون حاصل کرنے میں کامیاب رہے جو اگرچہ ایک اچھی ملازم نہ تھی،مگر بحرحال فل ٹائم گھر پر رہ سکتی تھی اور جیسا تیسا کر کے صفائی ستھرائی کر ہی لیتی تھی جس سے بلآخر زندگی کچھ مناسب طریقے سے سنبھلنے اور چلنے لگی۔تب تک حسب پردیسی عادت صفائیاں خود کیں

نیا پورشن ہم نے گراؤنڈ فلور پر ڈھونڈا تھا کہ ہم اس خوبصورت شہر کے تمام سورج اور چاند بھرے موسم اور نظارے دیکھنا چاہتے تھے۔ابوظہبی کے دس سالوں میں بارش ہم نے چند ہی بار دیکھی تھی،سردی وہاں نام کی بھی نہ تھی،دھند وہاں رہتی تھی مگر اس میں نمی اور ٹھنڈک کی بجائے حدت محسوس ہوتی تھی،موسم سرما ،بہار اور خزاں دیکھے ہمیں اتنے ہی سال ہو گئے تھے جتنے ہمیں پاکستان سے نکلے ہو چکے تھے۔چناچہ اچھی سے اچھی اور سستی بیسمنٹس بھی ہم نے اس لئے چھوڑیں کہ ہمیں بارش،سبزہ پھول اور پتے سب دیکھنے تھے اور اب کے گھر ایسا تھا کہ جسکے دروازے اور کھڑکیوں سے سبزا ہی سبزا دکھائی دیتا تھا۔گھر کے مشرق میں خالی پلاٹ پر بھنگ کی جھاڑیاں اگی تھی اور اس کا سبزہ خوبصورتی بڑھاتا تھا ۔گھر کے سامنے ایک مسجد کی پارکنگ تھی جس پر لگے درخت اور بیلیں ہمارے نظاروں میں بھرپور اضافہ کرتے تھے۔ہم نے یقینا دوبارہ سے اپنے خوابوں کا گھر بنانے کی کوشش کی تھی۔

باہر سے دکھتا نظارہ

_______________

صوفیہ کاشف

7 Comments

  1. ڈان نیوز پر جگہ کی کمی اور کمپنی کے قواعد و ضوابط کی بنا پر بہت سے لکھے پر قینچی چلا دی جاتی ہے
    بالکل صحیح فرمایا آپ نے یہاں پڑھنے میں مزہ دوبالا ھو گیا۔ مولی کرے زور قلم اور زیادہ

    Liked by 1 person

  2. Hello, let me thank you first for sharing all that. I am living in Bahrain for more than 20 years and my 3 kids are born here. We are very much used to similar life as you had in Abu Dhabi. I was seriously thinking to get my family shifted in RWP or ISB due to many reasons and one of those is after all Pak is our country and soon or later we will have to go. Somehow I had some experience regarding life in Pak hence was double minded on sending my family back in Pak. Your blog is eye opening at least for me and I am convinced like 90% that I shouldn’t think about saving and should keep my family with me. I am thankful again for a clear picture of so called civilized society. I am loosing hope for my own country!!!

    Liked by 1 person

    1. For me personally, saving is quite a useless thing in comparison to our family.the first thing we need in this world to survive is our immediate family. If they are not with us,happy and safe,no saving can compensate. May Allah help you to make a better decision. Regards!

      Like

      1. Yes right. Saving was considered to facilite the family in case of hard time (who knows about future while living abroad). But I am fully convinced family comes first. I always love to trust people when get back in Pak in terms of everything but mostly get disapponted . My younger brother opted to come back from UK after completing his studies as wanted to do any business in Pak. He picked up hyper market line with huge consultation but been deceived by his partner. Many things are quite casual and usual in Pak. I find myself helpless when it comes to privacy, kids, expectations, value of personal point of view, educated but u cultured relatives, lack of commitments and being judgemental. I hope we will be changed one day!

        Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.