پردیس سے دیس_____________7

سبزہ اور  اسکول:

شفٹ ہونے کے بعد ہم نے گھومنے پھرنے پر تھوڑی توجہ دی۔جیسے دوبئی اور ابوظہبی میں اترتے سب سے پہلی چیز جو آپ کو متوجہ کرتی ہے وہ روشنیاں اور اونچی عمارتیں صاف شفاف سڑکیں ہیں اسی طرح دوبئی اور ابوظہبی سے آتے پاکستان میں سب سے پہلی چیز جو آپ کی توجہ اپنی طرف کھینچتی ہے وہ ہزارہا انداز اور شیڈز کا سبزہ اور خوبصورت موسم ہیں جو ہر وقت رنگ بدلنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔۔سبز اور ہرا،پیلا اور لال،نرم و نازک ہریالی ،یا گہرے سبز پتے،پتوں سے لدے درخت اور درختوں سے لپٹی بیلیں ،درختوں کے جھنڈ،پھولوں کے جھرمٹ،صرف ہریالی ہی اسلام آباد میں اس قدر رنگ بھر دیتی ہے کہ اس کے بے ایمان رویوں،سست کارکردگیوں،اور تماتر پستیوں کو ڈھانپ کر رکھ دیتی ہے۔اور پھر مسلسل رہنے والی برسات جیسے شہر کی فضا کو گندہ ہونے ہی نہیں دیتی،مٹی ابھی پتوں پر ٹھرتی بھی نہیں کہ دھل جاتی ہے،ایسے خوبصورت موسم،ایسے رنگین علاقے کہ ہم ان پر صدقے واری چلے جاتے ۔ہم دس سال تک ابوظہبی میں یہ سوچتے رہے کہ کس طرح بدوؤں نے ریت کے اوپر بڑے بڑے سکائی سکریپر کھڑے کر لئے ہیں،شیشے کی عمارتیں ریت کے صحرا میں بنا دی ہیں۔اور اب سوچتے کہ ہمیں خدا نے بنے بنائے سجے سجائے گلستان آشیاں کے طور پر دئیے ہیں مگر ہم اتنے کاہل اور نکمے ہیں کہ بنی بنائی جنتوں کو بھی سنبھال نہیں پاتے۔

ڈان نیوز پر پڑھیں


ہم تو دس سالوں میں اتنا پتھر ،اتنا شیشہ،اتنا سورج،اتنی عمارت دیکھ چکے تھے کہ اب باغوں میں جاتے سڑکوں پر پھرتے درختوں کو دیکھ دیکھ پاگل ہوئے جاتے تھے ۔ابوظہبی اور دبئی صحراوں پر بنے شہر ہیں جہاں سال کے دس ماہ صرف شدید دھوپ،گرمی،تپتے سورج اور چمکتے آسماں دیکھنے کو ملتے ہیں۔سالوں میں ایک آدھ بار بارش دیکھنے کو ملتی،ایسے نہیں کہ روزانہ بادلوں کا گرجنا برسنا دو ماہ تک ایک روٹین کا حصہ ہو جائے۔خود بخود آسماں سے اترتا پانی،سجاتا،سنوارتا اور نکھارتا،ذندگی دیتا پانی خدا کی کسقدر بڑی نعمت ہے یہ ہم تب ہی جان سکتے ہیں جب ہمیں اس نعمت کے بغیر ذندگیاں گزارنی پڑ جائیں۔ ہم سوچتے کہ آس پاس کے دوسرے لوگ اسقدر خوبصورتی کو محسوس کیوں نہیں کر پاتے۔پھر آہستہ آہستہ سمجھنے لگے کہ انسان کی فطرت ہے کہ جو نعمتیں پاس ہوں ان کی قدر نہیں کرتا۔ہماری حکومتیں میٹرو اور موٹر وے بنانے ،مالز اور اونچی عمارتیں بنانے میں مگن یہ بھول گئی ہے کہ جو نعمتیں ان کے پاس ہیں وہ میٹرو اور مالز والوں کے پاس بھی نہیں۔ہمیں رنگ برنگے فرنیچر سے گھر بھرنے کا شوق ہے گھروں کو ایک کونے سے دوسرے تک ٹائل سے چمکانا چاہتے ہیں۔ہمیں قدرتی حسن کی قدر نہیں،ہم کلر بلائنڈ قوم ہیں ہمیں اپنے دامن کے رنگ دکھائی نہیں دیتے ۔ہمیں دوسروں کے سنگ مرمر ہمیشہ متاثر کرتے ہیں مگر اپنی زرخیز مٹی ہم بھول جاتے ہیں۔ ہم یہ بات نہیں جانتے کہ عظمت اور وقار دوسروں کی نقالی میں نہیں اپنے وسائل کو بہترین انداز میں استعمال کرنے میں ہے۔آپ موٹر ویز اور اونچی عمارتیں بنائیں مگر یاد رکھیں آپ کی مٹی ذندہ اور زرخیز ہے۔یہ عمارتوں سے ذیادہ وادیوں کے لئے ہے فطرت سے فایدہ اٹھانے کے لئے ہے۔۔جیسے ایک فنکار ذہین ڈاکٹر بننے کی کوشش میں ضائع ہو جاتا ہے اسی طرح ایک زرخیز زمین دبئی بننے کی کوشش میں کہیں اجڑ نہ جائے۔آپ یورپ کی طرح اپنی زمیں کی موافقت سے نظام تخلیق کریں،دبئی اور امریکہ بنانے کی کوشس نہ کریں۔عمارتیں اور علاقے اپنے موسموں کی طرح ترتیب دیں،مگر حال یہ ہے کہ ہر کوئی ٹائل لگانا اور درخت کٹوانا چاہتا ہے۔ہر کسی کو ایواکاڈو کھانا ہے اپنی پالک اور پودینے سے ہر کوئی نظر چراتا ہے۔کیا آپ جانتے ہیں اسلام آباد کی نوے فی صد عورت کے بال پیلے ہیں؟ جی نہیں فطری طور پر نہیں ،ڈائی اور بلیچ کی وجہ سے۔اپنی وجہہ اپنی صورت سے ہر کوئی اسقدر خفا ہے کہ کوئی اپنے بالوں کا اصلی رنگ دکھانا ہی نہیں چاہتا،ہر کوئی ایلیٹ نظر آنا چاہتا ہے اس سے قطع نظر کہ وہ ہے کہ نہیں۔چناچہ یہ بگلوں کا روپ دھارے کوؤں کا دیس ہے،یہاں کوئی عام نہیں دکھنا چاہتا،کوئی نارمل انسان نہیں لگنا چاہتا ،مگر اسی کوشش میں سب کے سب عام ہو گئے ہیں۔

پاکستان کے باغ

بچوں کے اسکولز کا داخلہ بھی وہ کام تھا جو ہم نے پاکستان پہنچنے کےپہلے دس دن میں کیا تھا چناچہ پہلے پندرہ دن کے لگے جھٹکے اس پر بھی اثر انداز ہوئے۔کہ جو اسکول ہم نے گھر کے قریب چنا تھا وہ علاقہ بدلنے سے گھر سے خاصا دور ہو گیا۔چناچہ میرا ایک اہم کام صبح بچوں کو اسکول ڈراپ کرنا دوپہر میں واپس لانا بن گیا۔میری ذندگی اسی ایک روٹین کے گرد گھومنے لگی جس میں روز کم سے کم تین گھنٹے خرچ ہوتے۔باہر کے ڈرے ہوئے تھے اور میرے پاس ابھی پاکستانی لائسنس نہیں تھا۔بلکہ اس کی دو کوشسوں میں مجھے پہلے ہی مرحلے پر فیل کر دیا گیا تھا ۔ ابوظہبی کا لائسنس میرے پاس موجود تھا جو بڑی محنت سے بڑے سال لگا کر کمایا تھا۔چناچہ ہم جس طرح ٹرین ہوئے تھے ابوظہبی میں کہ بغیر لائسنس کوئی گاڑی کو ہاتھ لگانے کا سوچنے سے بھی ڈرتا ہے تو ہم نے بھی ڈرائیور اسی سوچ کے تحت رکھا تھا کہ کوئی گاڑی ڈرائیو کرنے والا ہو۔اور آخر تک یہ ہمت نہ ہوئی کہ بغیر لائسنس کے سڑک پر گاڑی لا سکیں۔چناچہ ڈرائیور کے ساتھ مجھے صبح شام لازما بچوں کو پک اینڈ ڈراپ کرنے جانا تھا۔اس سے کم پر کسی صورتحال پر میرا دماغ راضی نہ تھا۔چناچہ میں دن میں دوبارہ تالا لگاتی اور اسکول کی طرف چل پڑتی۔آدھا گھنٹہ آنے میں آدھا جانے میں اور اگر رستے میں ٹریفک بلاک ہو جاتی تو ایک گھنٹہ مزید لگ جاتا۔اگر قسمت سے کوئی میڈ موجود ہوتی تو کم سے کم تالے لگانے کا عمل کم ہو جاتا۔کہ میں ہر چیز گھر بار سب دوسروں کے بھروسے پر چھوڑنے کو تیار تھی سوائے اپنے بچوں کے۔اپنے بچوں کے لئے کسی ملازم پر بھروسہ کرنا میرے لئے ممکن ہی نہ تھا۔

بچوں کو اسکولز میں داخل کروایا تو ایک مشکل اور سامنے آئی۔ابوظہبی کے انٹرنیشنل اسکول میں بچے سب کچھ اسکول سے ہی پڑھ لکھ کر آتے تھے ۔اساتذہ کا کام تھا کہ بچوں کو سب کچھ سمجھا کر یاد کروا کر بھیجیں گے۔زیادہ سے ذیادہ تھوڑا بہت دہرائی کا کام ہوتا تو ہفتے کے آخر میں میں ایک ہی بار بچوں کو کروا دیتی۔پاکستانی اسکول چاہے جتنا بھی مہنگا یا کلاسی کیوں نہ ہو،استاد کا کام صرف بچے کو یہی بتانا ہے کہ وہ یہاں سے وہاں تک کر کے آئے۔ساری پڑھائی گھر آ کر دوبارہ سے کرنی پڑتی ہے۔اب اس بات نے میری جھنجھلاہٹ میں شدید اضافہ کیا۔چونکہ ابوظہبی میں صبح سات کے گئے بچے چار بجے گھر آتے تھے تو انہیں بیگز کو ہاتھ تک نہ لگانا پڑتا تھا بلکہ اکثر جیسے لا کر رکھتے ویسے ہی اٹھا کر لیجاتے،کاپیاں کتابیں تک اسکول میں رہتی تھیں۔اب یہ ہوا کہ سارا دن گزار کر بچہ چار بجے ہی مگر کورے کاغذ کی طرح گھر کو لوٹ رہا ہے اور بقایا تین چار گھنٹوں میں اس سے توقع بھی ہے کہ چار پانچ مضامین کو پڑھ اور سمجھ بھی لے۔یعنی پرائمری کلاس کا بچہ گھر آ کر آرام نہ کرے ریلیکس بھی نہ کرے،کھیلے بھی نہیں اور اگر پاس ہونا ہے تو دوبارہ سے پڑھنا شروع کر دے۔اتنے چھوٹے بچوں سے چوبیس گھنٹے پڑھائی کی ٹینشن میں رہنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

اتنے کم وقت میں بیٹے کو پڑھانا وہ بھی روزانہ کی بنیاد پر میرے لئے بھی خاصا مشکل تھا۔پڑھنے کا شیڈول بنایا تو بچوں کے پاس ریلیکس کرنے کا مشکل سے ایک آدھ گھنٹہ ہی نکلتا تھا۔میں جلنے اور کڑھنےکے سوا کیا کر سکتی تھی کہ یہاں پر ون ٹو آل یہی حال ہے۔چاہے کوئی بھی اسکول ہو،کتنا ہی مہنگا کتنا ہی بہتر،اساتذہ کہتے بھی ہیں کہ جی ہم تو سمجھا کر بھیجتے ہیں مگر بچے یاد گھر سے کر کے آئیں گے۔جب کہ باہر کی دنیا میں اسکول ایک پورے پیکج کا نام ہے جو روانہ سات گھنٹے تک بچوں کی مکمل تعلیم اور سپورٹس فزیکل فٹنس کا خیال رکھتا ہے۔اساتذہ کی زمہ داری میں صرف بورڈز اور کاپیاں پُر کرنا ہی نہیں بلکہ بچوں کو سمجھا کر یاد کروا کر بھیجنا بھی ہے۔اسکول دورانیہ وہ مکمل وقت ہے جو بچوں کی تعلیم کی ضرورت ہے اس سے ذیادہ نہ بچے سے توقع کی جاتی ہے اور نہ اس کی ضرورت چھوڑی جاتی ہے۔میری بیٹی فرنچ جیسی زبان میں اسقدر طاق ہو گئی تھی جس کا اس کی ماں کو ایک لفظ بھی آتا نہ تھا۔میں جونئیر کلاسز میں دہرائی کرواتے پہلے خود اس سے ہی پڑھتی تھی اور پھر اسے دہرائی کرواتی ۔ محنت ساری اساتزہ کی تھی کہ انہوں نے ایک ایسی بچی کو فرنچ سکھا دی تھی جس کے گھر ماحول اور زبان کا فرنچ سے کچھ لینا دینا ہی نہیں تھا۔

(جاری ہے۔)

(ڈان نیوز پر جگہ کی کمی اور کمپنی کے قواعد و ضوابط کی بنا پر بہت سے لکھے پر قینچی چلا دی جاتی ہے۔مگر یہاں پر چونکہ مجھے کوئی ایسا مسلئہ لاحق نہیں اس لئے میں اپنی لکھی پوری تحریر چھاپتی ہوں ۔میرے نزدیک یہ مشاہدات بہت ہی قیمتی ہیں کیونکہ یہ وہ باتیں ہیں جو دس سال باہر رہنے والا واپس لوٹتا ہے تو فوری طور پر کرتا ہے ۔جیسے جیسے وہ یہاں رہتا چلا جاتا ہے وہ اس ملک اور معاشرے کے رنگ میں رنگتا چلا جاتا ہے اور بلآخر سب کچھ بہت اچھا لگنے لگتا ہے۔ایسے وقت میں یہ یاداشتیں ایک اچھی یاد دہانی ہیں۔__صوفیہ کاشف)

___________

تحریر و فوٹوگرافی:صوفیہ کاشف

9 Comments

  1. 💯
    ہر کوئی ایلیٹ نظر آنا چاہتا ہے اس سے قطع نظر کہ وہ ہے کہ نہیں۔چناچہ یہ بگلوں کا روپ دھارے کوؤں کا دیس ہے،یہاں کوئی عام نہیں دکھنا چاہتا،کوئی نارمل انسان نہیں لگنا چاہتا ،مگر اسی کوشش میں سب کے سب عام ہو گئے ہیں

    Liked by 1 person

  2. Bht hee kamal ka likhty he,or kia hee khobi se hr cheez ko highlight kia he,Ma khud Qatar ma hota hon,or bht kuch relate kr skta hon.

    Liked by 1 person

  3. گلف میں رہنے والو میں نے سعودی عرب رہ کر بچوں کو لاھور پڑھایا ۔ جب بچوں نے A اور O لیول کر لیا تو کہنے لگے ہم نے UK یا Canada جانا ہے پاکستان میں نہی رھنا چنانچہ میں 11000 ریا منتھلی pay چھوڑ کر ٹورنٹو آگیا۔ یہاں نوکر نہی تھا گاڑی نہی تھی بچے پڑھتے بھی اور کام بھی کرتے تھے۔ سارے پیسے گھر خریدنے پر لگا لیے ۔ ایک سال بعد گاڑیاں خریدیں۔ آج بچے well established ہیں ماشااللّہ ۔ آپ اور ھمارا سٹینڈر ہای ہو جاتا ہے گلف میں اور وہاں کی شہریت کا سوال ہی نہی پیدا ہوتا اس لیے بچوں کو A level کروا کر Canada کسی کالج میں admission کروا دیں۔ 20 دن میں سٹوڈنٹ ویزہ مل جاتا ہے اور ساتھ ہی بچہ 20 hours weekly کام کر سکتا ہے جو کہ اس کے اخراجات کے لئے کافی ہوتا ہے۔ جب بچے گریجویشن کر لیتے ہیں تو ان PR مل جاتا ہے اور اور وہ والدین اور بہن بھائوں کو سپانسر کر سکتے ہیں۔ یہ ایک مخلصانہ مشورہ ہے والسلام

    Liked by 1 person

  4. Bohot aala har baar ki tarah. Behtareen analysis kiya aapne donon jagah mein. Waqai mein schools ka India Pakistan mein yehi haal hai chaahen wo kitna hi acha school kyon na ho, saara ka saara bojh bachon ke kandhon par, donon padhaai aur bag ka bhi.

    Bohot shukriya apni tehreer share karne ka.

    Liked by 1 person

  5. یہ بگلوں کا روپ دھارے کوؤں کا دیس ہے،یہاں کوئی عام نہیں دکھنا چاہتا،کوئی نارمل انسان نہیں لگنا چاہتا ،مگر اسی کوشش میں سب کے سب عام ہو گئے ہیں

    واہ واہ صوفیہ
    بہت کھری اور دل لگی باتیں لکھی ہیں۔ اور جب تک دو دنیاؤں کا موازنہ نہ ہو، تب تک یہ باتیں سمجھ ہی نہیں آسکتیں۔

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.