تلوے پر تل__________شیما قاضی

سنا ہے جس کے پاوں کے تلوے پہ تل ہو اس کی قسمت میں سفر کرنا لکھا ہوتا ہے!
سفر کے شروع میں خوابوں کا پلندہ اٹھائے یوں رواں تھی جیسے چند ہی قدم پر تعبیر کی منزل ہو۔ غرور اور مستی کا عالم تھا۔ اپنی آنکھوں میں سجے خواب بڑے ہوں تو دوسروں کی حقیقت حقیر لگتی ہے سو ہمارے سامنے بھی دوسرے لوگ جو عمر اور تجربے میں ہم سے بڑے تھے پر جن کی آنکھوں میں خوابوں کی چمک نہیں حقیقت کا عکس تھا۔ جو ناکام تھے اور تھکے ہوئے نظر آتے تھے ہم کو چیونٹیوں کی مانند لگے تھے۔
ابھی تک یاد ہے کہ ان دنوں پاوں زمین پر نہ پڑتے، آسمان کو زمیں سمجھ کر وہیں کہیں پھرتے رہتے۔ آوارہ۔۔ مست۔۔ مگن۔۔۔ مگر انہیں کیا علم تھا کہ ابھی تو سفر کی شروعات ہیں۔ آگے مسافت اتنی ہے کہ چلتے چلتے چھالے پر جائیں گے مگر خیر غیر آگہی بھی نعمت تھی تو زندگی بھی کیا خوب تھی اور دنیا کسی جنت سے تو ہرگز کم نہ تھی۔
ہمارے والدین نے ہم سے جتنی امیدیں باندھیں، ہم نے خوشی خوشی قبول کر لیں۔ ان کے پاس اپنی زندگی کے جتنے ادھورے خواب پڑے تھے، ہمارے کندھے پر لاد کر ہمیں گھر سے چلتا کر دیا اور اب یہ ہماری ذمہ داری تھی کہ جو خواب ان کی آنکھوں کے تھے، انہیں ہم نے جینا تھا۔ جو امیدیں ان کی تھیں، وہ ہم نے پوری کرنی تھیں۔ اس وقت جو جوش تھا اس نے ہمیں سمجھنے ہی نہ دیا کہ امی ابو نے جو حوالے کیا ہے وہ کتنا بڑا بوجھ ہے۔ یہ معلوم ہی نہ تھا کہ ہم سے بندھے امید دراصل کانٹے ہیں جن کی چبھن اب سمجھ نہیں آتی مگر جو بعد میں چبھیں گے۔ اور ہمارے کندھوں پہ لدھے خوابوں کی وہ پوٹلی۔۔۔ ہمیں معلوم نہ تھا ان میں پتھر ہیں جو بعد میں اپنے ہی سر پہ برسیں گے۔ خیر یہ تو اب اندازہ ہوتا ہے

کہ جو وہ ہمیں تھما گئے، ہمارے ساتھ کیا برا کر گئے!
وہ بھی عمر کے اس حصے میں تھے کہ اولاد کو دور بھیجنے کا حوصلہ رکھتے تھے یا پھر ادھورے خوابوں کی تکمیل کا لالچ انہیں مجھے خود سے دور کرنے پہ مجبور کر گیا۔ پر جو بھی تھا اس وقت یہ فیصلہ اتنا غلط نہ لگتا تھا جتنا اب لگتا ہے اور جتنا جتنا سوچتی جاتی ہوں اذیت بڑھتی جاتی ہے۔ گھٹن سی محسوس ہوتی ہے۔ ان پر غصہ اور خود پر ترس آتا ہے۔ زندگی کے ویران رستے پہ سوائے صحرا کے سامنے کچھ نظر ہی نہیں آتا تو اب سمجھ آتی ہے کہ مجھ سے عمر اور تجربے میں بڑے لوگ، جو مجھے اس زمانے میں چیونٹیوں کی مانند نظر آتے تھے، اتنے تھکے ہارے کیوں لگتے تھے؟ یوں لگتا تھا کوئی لمبا سفر کر کے آئے ہوں اور پورا راستہ پیاس نے بے حال کر دیا ہو۔ اب سمجھ آتی ہے بڑوں کی پیشانیوں پہ فکر سے لکیریں کیوں بن جاتی ہیں۔

گھر سے دور کسی بچے کو خوابوں کی تکمیل کے لیے بھیج دو تو وہ خواب پورے کر کے نہیں آتا۔ خوابوں کے ساتھ ساتھ خود کو توڑپھوڑ کر گھر لوٹتا ہے۔ گھر والوں کو دکھانے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ جیسے گیا تھا ویسے ہی لوٹا ہے مگر سچ تو یہی ہے کہ وہ ویسا نہیں ہوتا۔ زندگی کے طوفان اور خوابوں کا بوجھ اسے معصوم نہیں رہنے دیتا بلکہ وہاں پہنچتے ہی اسے اندازہ ہوجاتا ہے کہ والدین جو کچھ تھما گئے ہیں وہ تو خسارہ ہی خسارہ ہے!
گھر لوٹتے ہی وہ آپ سے آپ کے بارے میں نہیں پوچھتے، وہ اپنے خوابوں کی پوٹلی کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ وہ ہم سے بندھی ان امیدوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں جو جاتے ہوئے انہوں نے آپ کے حوالے کی تھیں پر جنگ سے لوٹے ناکام سپاہی سے کوئی تحفہ مانگے تو وہ کیا جواب دیتا ہے؟
سب کہتے ہیں کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔ سب

کہتے ہیں میرا سفر، میری منزل ابھی باقی ہے مگر میں، جو شادی کر کے دوسرے گھر چلی گئی ہوں۔ میں جسے اب خود سے کوئی امید باقی نہ رہی۔ جسے اب کوئی خواب نہیں آتا اور جو ان تجربے کار لوگوں کی صف میں شامل ہوگئی ہے جو کبھی اسے چیونٹیاں نظر آتے تھے، میں سوچتی ہوں میرے ساتھ کس قدر برا ہوا۔ مجھ سے امیدیں باندھ کر میرے ماں باپ نے مجھے اپنے بوجھ تلے جیسے دفن کردیا۔ خواب پورے ہوتے تو اور بات تھی مگر اب ان ادھورے خوابوں کا میں کیا کروں جن کو رکھنے کو میرے پاس کوئی جگہ تک نہیں تو میں انہیں اسی طرح کندھوں پہ لادے پورے گھر میں پھرتی رہتی ہوں۔ لوگوں سے بات کرتی رہتی ہوں۔ ہنستی مسکراتی ہوں اور کسی کو یہ بتا نہیں پاتی ہوں میں کس قدر تھک چکی ہوں کیونکہ میں جانتی ہوں ان خوابوں کو اپنے پاس رکھنے کو کوئی تیار نہ ہوگا اور نہ ہی کوئی کسی کی ناکامی کی داستان سننے میں دلچسپی رکھتا ہے!
وہ دونوں جو کہ اب عمر رسیدہ ہیں۔ ان کے بالوں کی سفیدی اور چہرے پہ بنی جھریاں اور لکیروں سے مجھے معلوم ہوتا ہے کہ بڑا وقت گزر گیا ہے۔ یہی کوئی دس سال ہوگئے مگر وہ اب بھی نہیں بھولے۔ انہیں اب بھی یاد ہے انہوں نے مجھے اپنے خواب تھما کر گھر سے چلتا کردیا تھا۔ ابو آج بھی فون کر کے کہتے ہیں “تم میری شیرنی بیٹی ہو۔ مجھے یاد ہے تم جون جولائی کی جھلستی گرمی میں وہاں رہتی تھی۔ تم نے اپنی جنگ بڑی بہادری سے اکیلے لڑی ہم سے فریاد تک نہ کی۔ تم میری بہادر بیٹی ہو۔”
اس طرف سے ان کی آواز آتی ہے پر اس طرف مجھے لگتا ہے وہ آواز نہیں پگھلا ہوا سیسہ ہے۔ وہ بولتے جاتے ہیں تو میرے آنسو گرتے جاتے ہیں اور اب تو عرصہ ہوا اشک مزید پیے نہیں جاتے۔ کوئی چھوٹی سی بات کہہ دے وہیں رونے لگ جاتی ہوں حالانکہ ایک زمانہ تھا، اس قدر پتھر دل تھی کہ کسی فوتگی پہ بھی رونا

نہیں آتا تھا۔
شادی کے شروع کے دنوں میں، ایک دن شام کو کسی دعوت پہ گئی تھی کہ امی کی کال آگئی۔ پوچھا “خوش ہو؟”
میں نے کہا “بہت۔۔۔” (میں شروع سے ایسی ہوں کہ چاہے جتنی بھی دکھ اور تکلیف میں مبتلا ہوں میں گھر میں کسی کو بتا نہیں پاتی سو تب بھی میں نے خوش ہونے کی اداکاری کی حالانکہ مجھے امی کی بڑی یاد آتی تھی اور میں چپکے چپکے رویا بھی کرتی تھی۔
“یعنی تم خوش ہو؟ آواز چہک رہی ہے تمہاری۔ یعنی میری یاد نہیں آتی؟ مجھے تو رہ رہ کے تمہاری وہ بات یاد آتی ہے کہ امی مجھے آپ کے بغیر نیند نہیں آتی تبھی میں ماموں کے گھر بھی نہیں جاتی۔” اور میں انہیں بتا نہ پائی کہ نیند تو آپ کے بغیر مجھے اس تاریک ہاسٹل میں بھی نہیں آتی تھی مگر میں پھر بھی وہاں گئی۔ میں نے برسوں گزارے۔ میں آپ کے سامنے پہلے کبھی روئی ہوں نہ اب رووں گی۔ یہی سوچ کر میں نے قہقہہ لگایا “ارے نہیں! اب میں بڑی ہوگئی ہوں۔ اب مجھے آپ کی یاد نہیں آتی۔ آپ کے بغیر نیند بھی آجاتی ہے۔” اور اس وقت مشکل یہ بات کہنا نہیں بلکہ آنسو پینا تھے کیونکہ لوگوں کے سامنے میں رو نہیں سکتی تھی لیکن اس وقت جب امی کال پہ تھی تو میں نے اپنے ارد گرد لوگوں پہ نظر دوڑائی تو مجھے ڈر سا لگا۔ مجھے یوں لگا جیسے وہاں میں کسی کو جانتی تک نہ تھی۔ ایک لمحے کو مجھے وہاں سے بھاگ جانے کا خیال آیا کیونکہ میری زندگی وہ تو نہ تھی! میں تو کچھ اور تھی۔ مجھے کچھ اور کرنا تھا۔ اس ایک لمحے میں مجھے میرا برسوں کا وہ سفر یاد آیا جس کے آخر میں مجھے فقط ناکامی کا ہی سامنا ہوا تھا۔ اس ایک لمحے میں میرا دل وقت میں پیچھے جانے کو چاہا تھا مگر وہ ممکن نہ تھا سو میں نے وہ کیا جو ممکن تھا۔ میں نے کال کاٹ دی۔ میں امی ابو سے کہہ نہیں سکتی کہ مجھے ماضی یاد نہ دلائیں مگر اس کے بعد دعا کرتی ہوں کہ یا اللہ

ان سے وہ وقت بھلا دیں جس کو یاد کر کے اب میرا دل دکھانے کے علاوہ یہ لوگ کچھ کر نہیں سکتے اور میں جسے اپنے ماں باپ کے خواب جینے تھے، نے خوابوں کی اس پوٹلی کو سنبھال کر رکھا ہے تاکہ اس کو اپنے بچوں کے حوالے کر سکوں مگر پھر سوچتی ہوں مجھے ایک نسل کے خوابوں نے پاگل کردیا تو وہ بچے جن پہ دو نسلوں کے خوابوں کا بوجھ ہو وہ کیا اس بوجھ تلے مر نہ جائیں گے؟ یہ سوچ کر میں اس پوٹلی میں رکھے اپنے خوابوں کو نکال پھینکتی ہوں اور پھر اس میں صرف امی ابو کے برسوں پرانے آوٹ ڈیٹڈ خواب پڑے رہ جاتے ہیں جن کو میں خود تو پورا کر نہ سکی، آج کے دور میں کوئی انہیں لینا پسند نہیں کرے گا۔ میں اب ان کا کیا کروں؟ میں اپنے بچوں کی حفاظت اور نفسیاتی بھلائی کے لیے اپنے ماں باپ کے خوابوں کا تقدس پامال کردوں یا پھر ماں باپ کے خوابوں کی تکمیل کے چکر میں آنے والی نسل کو اپنی طرح داو پر لگا دوں اور خدانخواستہ وہ ان خوابوں کی تکمیل میں کامیاب نہ ہوسکیں تو میری طرح ایک زخمی نسل پروان چڑھے گی جو پوری زندگی سفر میں رہ کر بھی کچھ نہ حاصل کر پائے گی۔
سنا ہے جس کے پاوں کے تلوےپہ تل ہو اس کی قسمت میں سفر کرنا لکھا ہوتا ہے۔ میرے سفر کا تعلق بھی شاید امی ابو کے خوابوں سے نہیں بلکہ اس تل سے تھا۔ مجھے زندگی بھر سفر میں رہنا تھا کیونکہ میرے پاوں کے تلوے پہ تل ہے تبھی میں نے اپنی زندگی کے شروع کے سات آٹھ سال ہی گھر پہ گزارے۔ اس کے بعد اس تل نے مجھے سفر میں ہی رکھا! (ماں باپ پر غصہ نہ کرنے کا ایک حل یہ ہے کہ سارا الزام تل پر دھرا جائے۔۔۔)

تحریر:شیما قاضی

13 Comments

  1. دردِ دل درد ِِ جگر!

    اب بھی دلکش ہے تیرا حُسن مگر کیا کیجیے!
    💔
    لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجیے..

    Liked by 2 people

    1. اسے تم سمجھی ہو تو اور کیا مانگوں میں بھلا؟ درد دل، درد جگر کو محسوس کرنے والا ہو، اسے سمجھنے والا ہو تو درد دل بھی غنیمت ہے!💔

      Liked by 2 people

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.