پردیس سے دیس(8)

ٹیوشن اور پارٹی:

اب جب سب کچھ گھر پڑھانے کا وقت آیا تو باقی تمام مضامین تو میں کروا سکتی تھی مگر ریاضی کا شدید مسلئہ تھا۔ایک تو حساب جس میں کچھ بنیادی قسم کی جمع تفریق کے علاؤہ مجھے کبھی کچھ آیا ہی نہیں۔تو کوشش کی کہ کوئی ٹیوٹر رکھ لیا جائے۔اپنے تئیں ہم خود کو بڑے امیر نواب سمجھتے تھے کہ درہموں میں کماتے ہیں۔۔چونکہ پاکستان کے مدرسوں اسکولوں کالجوں کی کئی قسم کی وڈیوز دیکھ چکے تھے تو خواہش تھی کہ کوئی بچے کو گھر آ کر ہمارے سامنے پڑھا جائے۔اس سلسلے میں ٹیوٹر اور اکیڈمیز سے رابطہ کیا،ایک ٹیوٹر صاحب راضی ہوئے،جو فیس انہوں نے بتائی اسے سن کر ہمارے اوسان ہی خطا ہو گئے۔پینتیس ہزار ایک ماہ کی ٹیوشن کی فیس۔یعنی جتنی ہم نے اسکول کے سات گھنٹوں کی دینی ہے اتنی ہی ہم ایک گھنٹے کی گھر کی ٹیوشن کی بھی دیں۔فیس کا سن کر تو ہمارے ناک کان منہ سے دھواں نکلنے لگا۔ماسٹر صاحب سے کہا کہ سر جی ہم ہیروں کے اسمگلر تو ہیں نہیں جو آپ نے چوتھی کے بچے کی ٹیوشن فیس پینتیس ہزار مانگ لی ہے۔ہم نے انہیں آفر کی کہ ایک عدد کولمبیا یونیورسٹی کی چھوٹی سی ڈگری ہمارے پاس بیکار پڑی ہے ہمیں دو چار ٹیوشنز اسی ریٹ پر دلوا دیں تا کہ ہمارے بچوں کی بھی ساری فیسیں نکل آئیں۔غضب خدا کا ایک گریڈ فور کا بچہ اور پینتیس ہزار ٹیوشن کی فیس۔ہمیں بعد میں پتا چلا کہ ان صاحب کی اکیڈمی اتنی بھری ہوتی ہے کہ تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی۔ہمیں حیرت بھی ہوئی کہ لوگ روپوں میں کما کر اتنی مہنگی فیسز دیتے کیسے ہیں ۔ہم درہموں میں کماتے تھے مگر پینتیس ہزار فیس ہمارے لئے بہت زیادہ تھی۔یہ ہزاروں بچوں کے والدین کتنا کماتے تھے جو بغیر سوچے سمجھے تھیلے بھر بھر فیسیں دے رہے تھے۔آہستہ آہستہ سمجھ آنے لگی جو ہر طرف آمدن سے بڑھ کر اثاثے ہوں تو نہ خرچ کرنے والے کو اس بات کی پرواہ ہوتی ہے کہ پیسہ جا کدھر رہا ہے نہ بٹورنے والے کو پرواہ ہوتی ہے کہ آ کیسے رہا ہے۔اور جب معاشرے میں ایسے لوگوں کی بہتات ہو جن کےگھروں میں حلال وحرام کی تمیز کے بغیر دھن برس رہا ہو تو پھر افراط زر خودبخود بڑھ جاتی ہے۔پھر کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ بھائی پینتیس ہزار چوتھی کے بچے کی ٹیوشن؟؟؟

بحرحال جلد ہی ہمیں اپنی غربت اور اوقات کا یقین ہو گیا اور ہم اپنی کھال میں واپس آ گئے اور ٹیوشن کا خیال دماغ سے نکال کر میں نے خود ہی بیٹے کو پڑھانا شروع کیا۔

اسکول کے تعلیمی معیار کی بات کریں تو جو واحد تعلیم وہاں دی جا رہی تھی وہ محض شاید ” ایلیٹ”(ان معنوں میں جن کو پاکستان میں ایلیٹ سمجھا جاتا ہے) کلاس بننے یا دکھنے کی تربیت تھی۔اساتزہ اردو ہوتے ہوئے بچوں کے والدین سے اردو بولنا ناپسند کرتے تھے تا کہ وہ یہ تاثر دے سکیں کہ وہ عام عوام سے بہتر ہیں۔ہر کوئی یہ فرض کرنے پر مجبور تھا کہ وہ انگریزی بول سکتا ہے اور انگریزی ملبوسات میں پورا انگریز دکھتا ہے۔اگرچہ ویسٹ ملبوسات میں بھی بہت کھلے دل سے پہنتی ہوں مگر صرف پاکستان سے باہر۔پاکستان پہنچتے ہیں سارے ویسٹرن ڈریسز کو الماری کے پچھلے خانوں میں ڈال دیا تھا کہ مجھے لگتا تھا اب میں اپنے دیس میں آ گئی ہوں اب مجھے غیروں کے لبادوں کی یا ان جیسے دکھنے کی ضرورت نہ تھی ۔اب میں اپنوں میں تھی جو اپنے دکھنے کو ناپسند کرتے تھے۔

مجھے بچوں کو  اسکول سے پک اینڈ ڈراپ کرنے ان کے ساتھ جانا تھا چناچہ ہاتھ میں جیم زدہ سلائس پکڑے چادر لپیٹ کر نکل لیتی،دوپہر میں گیلے بالوں میں کنگھی پھیر کر بھاگتی کہ رستے میں بال سوکھ جائیں گے،مگر گیٹ پرصبح  سویرے سات بجے استری شدہ بال ،میک آپ سے بنی سنوری مائیں دیکھتی تو سوچتی یا اللہ ان کے پاس کتنا وقت اور حوصلہ ہے کہ صرف اسکول کے گیٹ تک آنے کے لئے اتنی محنت کرتی ہیں۔کتنے سال ابوظہبی کے اسکول کے سامنے ہم نائٹ پاجامہ اور ملگجے بالوں میں گوریوں کو بچوں کو پک اینڈ ڈراپ کرتے دیکھتے رہے تھے کہ اب اس صورتحال کو حیرت سے دیکھتے تھے۔خود کو بنانے سنوارنے کا شوق یا تو اس شہر میں بہت ذیادہ تھا یا میں اپنے سلسلے میں ضرورت سے ذیادہ لاپرواہی برتتی رہی تھی۔خالی چہرہ دھو کر یا نہا دھو کر خود کو چاند سمجھنے لگتی تھی اور خوشبو لگا کر حور۔ کپڑے استری شدہ مل جائیں تو کمال ہے ورنہ بغیر استری کے بھی عرصے تک کپڑے پہنتی رہی ہوں کہ کپڑے استری کرنے والی گھر کے تمام کام خود اپنے ہاتھ سے کرنے والی فقط میری ہی ذات تھی۔اور میں گھر بچوں میاں اور کچن کے کاموں سے ہی اسقدر تھک جاتی تھی کہ خود ہمیشہ بغیر اعتراض کے ہر جوڑا بغیر استری کے پہن لیتی تھی۔اس سے بھی بہت بہتر آپشن نائٹ پاجامہ کی تھی جو میں نے ابوظہبی میں اپنا گھر کا مستقل لباس بنا رکھا تھا۔دھویا اور پہنا۔ استری کرنے کی ضرورت نہ ٹینشن۔باہر رہنے والی خواتین جس طرح اندر باہر کا سب کام اپنے ہاتھوں سے کرنے پر مجبور ہوتی ہیں ان کے لئے سجنا سنورنا اور اس پر غیر ضروری محنت کرنے کا نہ حوصلہ رہتا ہے نہ ہمت۔چناچہ ہم اپنی ذندگی میں ایسی چھوٹی چھوٹی سہولتوں کو اپنی مشکل آسان کرنے کے لئے شامل کر لیتے ہیں جن سے کام کچھ آسان ہو جائے جیسے لان کے لمبے لمبے استری شدہ شلوار قمیض کی بجائے گھر کے اندر جہاں آپ ہمیشہ تنہا ہی ہوتے ہیں چڑھا لیے۔یا خرچہ بچانے کے لئے ایک جینز کے ساتھ دو قمیضیں لے لیں بجائے ایک مکمل لان کے سوٹ کے دو جوڑے نکل آتے ہیں۔دوسرے لوگ اسے ماڈرنزم یا ویسٹرنزم سمجھتے رہیں مگر ہمارے لئے یہ ہماری مشکلات کم کرنے کے چھوٹے چھوٹے طریقے ہوتے ہیں

اسی طرح ایک برائیڈل شاور میں جانے کا اتفاق ہوا ایک گھر کے اندر ہونے والی محدود سی بیس پچیس افراد پر مبنی نجی تقریب تھی۔خواتین کی لش پش اور اہتمام دیکھ کر میں ہکا بکا رہ گئی،ایک گھنٹے کے فنگشن کے لئے سر سے پاؤں تک کم سے کم چار پانچ گھنٹوں کی محنت ہر جسم پر چمک رہی تھی۔رنگوں اور موتیوں سے لبریز کپڑے ،پورا سیلون چہرے اور بالوں پر،ہاتھوں اور پاؤں پر،اوپر سے نیچے تک ہر ایک نوک پلک،سنوری نہیں،سجی سجائی چمکائی ہوئی ______اسقدر سجنے سنورنے کی بہتات کہ ہمیں دیکھتے دیکھتے ہی سانس چڑھ جائے۔کیا ہم نے کبھی نہیں سوچا کہ ہم کس قدر افراط کا شکار ہیں۔کیوں کوئی بھی انسان انسان نہیں لگنا چاہتا،کیوں ہر خاتون آسمانی حور بننے کے لئے بے چین ہے۔ہم خود اپنے حالوں میں خوش کیوں نہیں۔ بحثیت ایک عورت میں جانتی ہوں کہ یہ سب کتنے گھنٹے مانگتے ہیں،کیا مجھے صرف ایک گھنٹے کے فنگشن کے لئے چار گھنٹے اپنی صورت اور جسم پر لگانے کی ضرورت ہے؟ کیا خدا کا دیاحسن میرے لئے ناکافی ہے؟صرف بیس پچیس لوگوں کو اپنے اندوہناک حسن سے متاثر کر کے میں آخر کونسا  تیر مار لوں گی؟ ہم خود کو سراب کے پیچھے بھگانے میں اس قدر مصروف ہو چکے ہیں کہ ہمیں خبر تک نہیں ہوتی کہ ہم سکون سے اور اپنے آپ سے اور اپنی ذندگی کے اصل مقاصد سے کسقدر دور ہوتے چلے جا رہے ہیں،اس قدر کہ صحیح اور غلط کا فرق تک بھول چکے ہیں۔۔ہم نے اپنے تقاضوں کو غیر فطری لیول تک دھکیل دیا ہے۔ہم دونوں پارٹیوں میں سے کوئی ایک تو غلط تھا اور وہاں اکیلی ہو کر وہ غلط یقینا میں ہیں تھی۔ بدقسمتی سے وہ ہماری پہلی اور آخری پارٹی ثابت ہوئی کہ اس کے فورا بعد ہمارا واپسی کا سفر شروع ہو گیا۔ورنہ کیا خبر کچھ عرصے میں میں بھی ان کے جیسی ہو جاتی۔برا وقت آتے انساں پر دیر تھوڑا لگتی ہے۔

ڈان نیوز پر پڑھیں:پردیس سے دیس

جاری ہے

____________

(ڈان نیوز پر جگہ کی کمی اور کمپنی کے قواعد و ضوابط کی بنا پر بہت سے لکھے پر قینچی چلا دی جاتی ہے۔مگر یہاں پر چونکہ مجھے کوئی ایسا مسلئہ لاحق نہیں اس لئے میں اپنی لکھی پوری تحریر چھاپتی ہوں ۔میرے نزدیک یہ مشاہدات بہت ہی قیمتی ہیں کیونکہ یہ وہ باتیں ہیں جو دس سال باہر رہنے والا واپس لوٹتا ہے تو فوری طور پر کرتا ہے ۔جیسے جیسے وہ یہاں رہتا چلا جاتا ہے وہ اس ملک اور معاشرے کے رنگ میں رنگتا چلا جاتا ہے اور بلآخر سب کچھ بہت اچھا لگنے لگتا ہے۔ایسے وقت میں یہ یاداشتیں ایک اچھی یاد دہانی ہیں۔__صوفیہ کاشف)

صوفیہ کاشف

3 Comments

  1. ماسٹر صاحب سے کہا کہ سر جی ہم ہیروں کے اسمگلر تو ہیں نہیں جو آپ نے چوتھی کے بچے کی ٹیوشن فیس پینتیس ہزار مانگ لی ہے۔ہم نے انہیں آفر کی کہ ایک عدد کولمبیا یونیورسٹی کی چھوٹی سی ڈگری ہمارے پاس بیکار پڑی ہے ہمیں دو چار ٹیوشنز اسی ریٹ پر دلوا دیں تا کہ ہمارے بچوں کی بھی ساری فیسیں نکل آئیں۔غضب خدا کا ایک گریڈ فور کا بچہ اور پینتیس ہزار ٹیوشن کی فیس۔ہمیں بعد میں پتا چلا کہ ان صاحب کی اکیڈمی اتنی بھری ہوتی ہے کہ تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی۔ہمیں حیرت بھی ہوئی کہ لوگ روپوں میں کما کر اتنی مہنگی فیسز دیتے کیسے ہیں ۔ہم درہموں میں کماتے تھے مگر پینتیس ہزار فیس ہمارے لئے بہت زیادہ تھی۔یہ ہزاروں بچوں کے والدین کتنا کماتے تھے جو بغیر سوچے سمجھے تھیلے بھر بھر فیسیں دے رہے تھے۔ پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہے جو خود تو ایک غریب اور مقروض ملک ہے لیکن عوام امیر ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ غربت بھی انتہا کی ہے۔ ماشاءاللہ ذور قلم اور زیادہ

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.