پردیس سے دیس__________9

خاندانی دباؤ اور اکیلی عورت:

قسط نمبر9

:

ہم اکثر کہتے ہیں جو پاکستان سے چلے جاتے ہیں وہ واپس نہیں آتے۔کبھی کوئی یہ بات نہیں کہتا کہ کہ آخر کیوں نہیں آتے۔ہمارے لئے واپس آنا اس لئے بھی مشکل تھا کہ ہم دونوں کے بھرے پرے خاندان تھے،رعب دار والدین تھے اور ہم ان کو یہ سمجھانے سے قاصر تھے کہ ابو ظہبی جیسی امیر، اعلی سہولتوں سے بھرپور،سیکورٹی میں کئی سال سے دنیا بھر میں نمبر ون ،محفوظ اعلی زندگی چھوڑ کر ہم واپس کیوں آنا چاہتے ہیں ایسے پاکستان میں جس میں نہ بجلی ہے نہ پانی نہ قانون نہ تحفظ نہ سہولتیں۔۔۔۔ہم ان کو سمجھا نہیں پاتے کہ دنیا بھر میں کام کے اوقات اور انداز پاکستان جیسے نہیں ہوتے جہاں لوگ نو بجے دفاتر پہنچیں اور ایک بجے اٹھ کر گھروں کو لوٹ آئیں،سال بھر میں تیس چالیس چھٹیاں سرکاری ہوں اور اس کے ساتھ ادھر ادھر جوڑ کر سو پچاس چھٹی ہر کوئی کر لیتا ہو،کم سے کم ابو ظہبی اور دبئی کے اوقات صبح آٹھ سے شروع ہو کر شام پانچ تک چلتے ہیں اور ان اوقات میں اپنی مرضی کی تحریف کرنی ممکن نہیں ہوتی،یہاں بچے بھی اسکول کی بس پکڑنے کے لئے صبح پانچ بجے اٹھتے ہوں اور بچے بڑے وقت پر آفس اور اسکول پہنچنے کے لئے گھروں سے گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ پہلے نکلتے ہوں۔جہاں سال بھر کی سرکاری چھٹیاں ملا کر اکثر تارکین وطن کے لیے محض دس بارہ چھٹیاں اضافی بنتی ہوں،جہاں فیملی کی ڈھنگ سے صورت دیکھنے کے لئے انسان کو جمعہ کی اکلوتی چھٹی کا انتظار کرنا پڑتا ہو اور پھر وہ بھی عموما صرف گروسری کرتے گزر جاتا ہو،اور آپ کی خوشی غمی پر ،اچھے برے وقت پر پوچھنے والا بتانے والا بھی کوئی نہ ہو،جہاں آپ کے ساتھ مشکل میں کھڑے ہونے والا کوئی نہ ہو وہاں یہ ریاضتیں اپنی شدت اور تکلیف میں کئی گنا بڑھاوا دے دیتی ہیں۔۔سو محفوظ ترین شہر میں اعلی ترین سہولتوں کے ساتھ بھی ہم بجھ کر رہ چکے تھے،جتنی زندگی لوگ تیس سال میں جیتے ہیں ہم دس ہی سالوں میں جی کر بوڑھے ہو چکے تھے۔ میاں صاحب اپنی انتہائی سنجیدہ طبیعت کی بنا پر دوستیوں سے مکمل گریز کرتے تھے چناچہ سالہا سال سے ہم تقریبا ایک مکمل الگ اور تنہا زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔بچے بند کمروں میں بیٹھے بیٹھے معاشرے سے بنائے اور نبھائے بغیر ہی پل گیے تھے۔ اب ہم پریشانیوں کو جب بھی سہولتوں پر تقسیم کرتے تو صفر کبھی نہ آتا،فرق روز بروز پہلے سے بڑھتا جاتا۔اعصاب تھک چکے تھے تو والدین اور خاندانوں کی رگ جانتے ہوئے ہم نے نسبتا ایک آسان راستہ چنا کہ شاید اس طرح سے ہم کچھ مشکلات سے بچ جائیں گے،یہ بعد میں جانا کہ اس سے تو شاید ہم نے مشکلات کو ضرب کر دی ہے۔ ہم نے اپنے خاندانوں کو دفتری مجبوری کا بتایا کہ اب کچھ دن وہاں اور کچھ دن یہاں گزارنے پڑیں گے۔جھوٹ بولنے کی عادی نہ تھے مگر پوچھنے والوں کو کریدنے کی عادت تھی سو کئی کئی بار یہ جھوٹ جیسے تیسے بولا سوچا کہ ایک بار شفٹ ہو جائیں گے تو مشکل وقت گزر جائے ورنہ پاکستان جانے سے پہلے ہی سب سمجھا سمجھا کر ہمارا حوصلہ ہی توڑ دیتے۔۔تب سچ بتا دیں گے تو اس طرح دباؤ نہیں ہو گا نہ کوئی ڈال سکے گا۔

ہم اورسیز اکثر اپنے مسائل پیچھے اپنے خاندانوں کو بتانے سے گریز کرتے ہیں۔ایک تو اس لئے بھی کہ فائدہ کچھ نہیں خواہ مخواہ والدین پریشان ہوتے رہیں گے۔دوسرا کچھ بھرم بھی رہ جاتا ہے کہ بڑی پرسکون ذندگی گزر رہی ہے۔اب اصل صورتحال تو قبر کی مردہ ہی جانتا ہے۔چناچہ پھر ایسے اوقات میں جب مسائل سے الجھ الجھ تھک جاتے ہیں اور بلاآخر ہاتھ کھڑے کر کے آسانیوں کی طرف لوٹنا چاہتے ہیں تو یہی خاندان ہماری محبتوں کے مارے پریشان ہو جاتے ہیں کہ ہم جنت سے اترنے کی نیت کیوں کر رہے ہیں اور جتنی ان کی محبت شدید ہو اتنی ہی ہمارے ان مذموم مقاصد کے خلاف مزاحمت بڑھ جاتی ہے۔یہی خاندانی دباؤ ہمارے لئے کوئی آسمانی بلا ثابت ہوا۔جو اترتی ہے تو پھر انسان سنبھل ہی نہیں پاتا۔

سو پہلے تو روز روز اماں ابا کے فونز کا سلسہ شروع ہوا کہ نوکری کی تفصیلات جاننے کے لئے اسی دوران جب ہم کرایے کے گھر کے عزاب میں پہلے ہی گھٹنوں تک دفن تھے۔روز ان کو تسلی دیتے کہ میاں صاحب ابھی چار دن میں چکر لگائیں گے۔اور میاں صاحب کو اسی وجہ سے ہر ماہ لازما آنا بھی پڑتا۔ہماری رشتے کی بہن جو “راز” ہمارے شروع کے دنوں میں لے گئیں تھیں ان کے ساتھ خوب کھلے دل سے مصالحہ کا استعمال وہاں ہوتا رہا جس کی وجہ سے لاوا دن بدن ابل ابل ہماری طرف لپکتا رہا۔

پھر آخر کسی محسن نے بھانڈا پھوڑا کہ دفتری مسائل دراصل جھوٹا بہانہ ہے پاکستان شفٹ ہونے کا ۔ اگلے سلسے میں روزانہ پیشیاں پڑنے لگیں کہ جھوٹ کیوں بولا۔ایسی تفتیش ایسی تفتیش ،ایسے اعتراضات اور فرمودات کہ پاکستانی تھانے میں کیا دئیے جاتے ہونگے۔ہم آبائی شہر اور خاندان کی گڑھ رحیم یارخان سے دس گھنٹے کے فاصلے پر بیٹھے تھے اس لئے یہ تو نہ جان سکے کہ آخر وہاں پر لوگوں کے خدشات اور واہمات کیا تھے،مگر اتنے ضرور تھے کہ روز بروز والد صاحب کی آواز میں گرج و چمک بڑھتی چلے جاتی۔”آخر میں اکیلی کیوں آ گئی،اکیلی کیسے رہوں گی؟اکیلے سب کیسے کروں گی؟ کون کرے گا کون دیکھے گا؟ایسا شہر ایسا معاشرہ ایسے حالات۔”___کہنے کو محبت تھی مگر لگتی تو زخمی کر دیتی۔ہم سوچتے “آپ ساتھ دیں تو کر لیں گے،آپ ہمت دیں حوصلہ دیں تو سب ہو جائے گا”۔اب یہ وہ کہکشاں ہے جس پر ہمارے ہاں چلنے کی کوئی روایت ہی نہیں۔ہمت حوصلہ اور تھپکی دیکر آگے بڑھانے کا کوئی رحجان ہی نہیں صرف اعتراضات،اختلافات اور تحفظات بتا کر پیچھے کھینچنے کا طریقہ رائج ہے۔

ہم ٹھہرے پچھلے دس سال سے عرب کے صحرا میں اکیلے رہتے پنچھی جو خاندانی دباؤ سے اتنا عرصہ مکمل طور پر دور اس کی انتہا اور زہریلے پن کو ہی مکمل بھول چکے تھے۔ہم بھول ہی چکے تھے کہ انسانوں کو مارنے کے لئے صرف فرشتے ہی نہیں اترتے رشتے بھی اترتے ہیں جو جیتے جی چلتے پھرتے انسانوں کو مردہ کر دیتے ہیں۔ہمارا خاندان بھی بڑا تھا بے تحاشا آوازیں،تاثرات اور صوتی اثرات شامل کرنے والے بہت سارے لوگ،چناچہ ایک دن بات کہیں پر ختم کرتے اگلے دن پھر صفر سے شروع ہو جاتی۔ہم پردیس میں عزیز و اقارب کو دل چاہے خوبصورت رنگوں میں دیکھنے کے عادی تھے،ہر طرف پیار محبت احترام اور تواضع دیکھتے تھے۔اب جو دراصل زمیں پر اترے تو سب کے اصل رنگ دیکھنے پڑے۔ بات شروع ہوتی وہ جانے کن کن گمانوں، بہتانوں میں جا پہنچتی۔ کہاں ہم سوچ کر آئے تھے کہ اگلے کچھ سال اپنوں کے قریب، پاس پاس رہیں گے اور کہاں ہم نے سب کے فون نمبر ہی بلاک کر دئیے کہ خدارا میں اپنی زندگی کو سنبھالنے کی کوشش میں ہوں مجھے اور پریشاں مت کرو۔مگر پریشانیاں اور بدگمانیاں تھیں کہ تالے اور حدیں توڑتی میری طرف بھاگتی چلے آتیں ۔روز روز کے بڑھتے دباؤ سے پریشاں ہو کر میں میاں کو فون کرتی ان سے لڑتی،وہ کبھی سمجھاتے کبھی بگڑ جاتے۔کرم فرما، محبت کرنے والے روز بروز داستانوں میں اضافہ کرتے جاتے حتی کہ ایسے ایسے عزیز واقارب کے اقوال زریں ہمارے بارے میں ہم تک پہنچتے جن کے نام و نشاں تک ہم اتنے سالوں میں بھول چکے تھے۔ہمیں کیا خبر تھی کہ خاندان کی اجازت کے بغیر اپنے ملک میں واپس آنا اس قدر بڑا ظلم تھا جو ہم سے ہو گیا تھا۔ایسی صورتحال میں جب ہم میاں بیوی دونوں ہی جوان ہوتے بچوں کے والدین تھے،چالیس سال سے اوپر تھے اور سالہا سال سے ایک دوسرے ملک میں صرف اور صرف اپنے بل بوتے پر رہ رہے تھے ،بلکہ نہ صرف رہ رہے تھے بلکہ بغیر کسی سپورٹ سسٹم کسی کی مدد کی ہر طرح کی مشکل سے پار اتر رہے تھے،اب سپورٹ سسٹم کے بیچ میں بری طرح کچلے جا رہے تھے اور اپنی زندگی کی بہتری کے لئے ایک فیصلہ کرنے کی سزا بھگت رہے تھے۔ جس شام میرے بیٹے کو ابوظہبی میں بخار کی شدت سے سیزر ہوئے بیٹی ابھی اسکول سے لوٹی نہ تھی ،اس کی بس گھر کی طرف رستے میں تھی،میاں دبئی سے بھاگا آ رہا ابوظہبی سے ابھی گھنٹا بھر کے فاصلے پر تھا،میں کینالوں پر پھیلے ولا کے نیچے والے ہمسائوں کے دروازے بجا رہی تھی جن میں کوئی نہ تھا،بڑی وسیع گلی میں دور دور تک کوئی نہ تھا،گھروں میں صرف ملازم اور میڈز بڑے بڑے ولاز کے اندر تھے کینالوں پر محیط گھروں اور لانز پر مشتمل احاطوں میں گھر بہت دور دور واقع تھے یعنی قریب قریب سے کسی انساں کی مدد تک میسر نہ تھی ۔ایسے میں میں اس صورتحال میں ایمبولینس بلا کر بیٹے کو ہسپتال لیکر گئی کہ خالی گھر کھلا چھوڑ کر گئی کہ گیارہ سالہ بیٹی کم سے کم کھلے دروازے سے گھر کے اندر تو آ سکے جس میں اس کی حفاظت کے لئے سوائے خدا کے آسرے کے کوئی نہ تھا۔ جب ہم گھر کے چار افراد دنیا کی تین مختلف سمتوں میں تھے،اور ہمارے ساتھ کوئی نہ تھا۔۔۔۔ہم ایسے لوگوں سے اب ہمارے محبت کرنے والے پوچھتے تھے “کیسے کرو گی اکیلے سب کچھ”،جبکہ اب اوپر نیچے لوگ ہی لوگ تھے،ہر کینال پر قریب قریب گھر تھے،اور سب کے سب ہماری بولی سمجھتے تھے۔اور ابھی ہم ان سے کم سے کم بھی دس گھنٹوں کی دوری پر تھے،اگر جو ان کے شہر میں ہی ہوتے تو جانے ہمارے ساتھ کیا ہوتا۔تب میں نے جانا کہ آخر خدا کو ایک پوری سورت صرف انسان کے شر سے پناہ مانگنے کے لئے کیوں اتارنی پڑی۔یہ جس مخلوق کی محبت،صورت کے ہم صبح شام قصیدے پڑتے ہیں دراصل ایک سخت امتحان ہے۔اس سے بچاؤ کی صورتیں زندگی کے لئے انتہائی ضروری ہیں

۔جب اس قدر معاشرتی اور خاندانی دباؤ کا سامنا کیا تو سانس ہی پھول کر رہ گیا۔میں نے سوچا رشتوں اور خاندانوں کے بیچ میرے جیسی بولڈ، خودمختار،بہادر عورت کا یہ حشر ہو رہا ہے یہاں کم عمر نوعمر لڑکیوں کے ساتھ گھروں کے اندر جہاں ہوا بھی گھر کے والیوں کی اجازت سے آتی ہو،ان کا کیا حشر ہو گا؟اور میں ایسے معاشرے میں عورت کو، لڑکی کو اپنے حقوق کے لئے جدو جہد پر اکساتی ہوں،وہ عورت جو اپنی مرضی سے ڈھنگ سے سانس تک نہیں لے سکتی۔میں جو ایک عورت ہو کر ایک ماشاءاللہ سالم لمبے چوڑے مالدار میاں کا کی بیگم ہو کر صرف اکیلے رہنے پر کس قدر ستم سہہ رہی ہوں تو عام بے بس مجبور لڑکیوں کا ان رشتے ناطوں کے ہاتھوں کیا کیا نہ استحصال ہوتا ہو گا۔میں تو بہت بڑا گناہ کرتی ہوں کہ اس قدر بے بس عورت کو حقوق کی میٹھی میٹھی گولیاں دکھاتی ہوں جن کی زبانیں کٹی ہوئی ہیں جو ان کے ذائقے کا خواب تک نہیں دیکھ سکتیں۔یہ ایک بہت ہی دلخراش تجربہ تھا اور اس نے مجھے ذہنی طور پر اسقدر متاثر کیا کہ اگلے کچھ عرصے تک میں عورت کے حقوق پر کچھ بھی نہ لکھ سکی۔مرے ہوؤں کو مارنے کی مجھ میں ہمت ہی نہ رہی۔

اپنے وزیر اعظم پر بھی ہمیں اسی لئے شدید غصہ آتا ہے جب وہ ہمارے خاندانی نظام کی رحمتوں کا زکر کرتے ہیں۔شاید انہوں نے کبھی دیکھا ہی نہیں کہ خاندانوں کے نام اور نظام میں کیسے کیسے انسانوں کا استحصال کیا جاتا ہے۔ذاتی اور آزادانہ طور پر کیا گیا یہ فیصلہ ہمیں بہت ہی مہنگا پڑ رہا تھانہ صرف زمینی حقائق کے حساب سے بلکہ ذہنی اور نفسیاتی حد تک۔انہی دنوں ایک انگلینڈ پلٹ خاتوں بیوا کرایے کا ایک گھر تلاشی اپنی جوان بیٹیوں کے ساتھ ہم تک پہنچیں۔ان کو ہم سے اوپر والا فلور مطلوب تھا چناچہ اپنے متوقع ہمسائے دیکھنے آئی تھیں ۔ جب ہمیں پتا چلا کہ وہ بھی رشتے داروں کے ہاتھوں تنگ آ کر الگ گھر ڈھونڈ رہی ہیں تو ہمیں بغیر پوچھے ساری کہانی سمجھ میں آ گئی۔ دل چاہا کہ ہم ان کو گلے لگا کر تسلی دیں۔تپتی دھوپ میں ہمیں کوئی ہمارے حالوں والا دکھائی دے گیا تھا۔

۔اگرچہ وہ ہمارے ولا میں گھر نہ لے سکیں جس کا ہمیں بہت افسوس ہوا کہ سوچا تھا اچھا ہو گا جب مل بیٹھیں گے دیوانے دو۔مگر ہم یہ جانتے تھے کہ وہ بھی نئی نئی زمیں پر اتری ہیں ہماری طرح پہلی بار اپنی زمیں کے لوگوں سے مل رہی ہیں ،ان کا بھی سانس اکھڑا ہے،حقائق گلے میں ان کے بھی آن پھنسے ہیں۔ان کا عدم تحفظ کا شدید احساس بالکل بجا ہے۔

تو پہلے پانچ ماہ ہم اپنے دوستوں،مہربانوں،قدردانوں اور پیاروں کی عظیم ترین تواضع کو ہر سمت سے سہتے اور کندن بننے کی کوشش کرتے رہے۔اگرچہ بن نہ سکے۔ اور ان تیروں کو ہم آج بھی واپسی کے ایک سال بعد بھی اپنے جسم و جاں میں کھبا،اور خون رستہ محسوس کرتے ہیں۔اس عرصے میں ہمیں سب سے زیادہ راحت ہمارے ہمسایوں نے دی جنہوں نے مکمل طور پر ہر طرح کے حالات میں اپنے کام سے کام رکھا،کم سے کم کسی بھی لیول پر ہماری حدوں میں دخل اندازی کر کے ہمیں مزید ذہنی خلفشاروں میں ڈوبنے سے بچائے رکھا۔ہمارا گھر ہی ہماری وہ واحد پناہ گاہ تھا جو ہر سمت سے بڑھتی برستی بجلیوں اور طوفانوں سے ہمیں محفوظ رکھتا تھا۔

_______

صوفیہ کاشف

9 Comments

  1. آپ تو نے تو ہماری کہانی لکھ دی
    “کہاں ہم سوچ کر آئے تھے کہ اگلے کچھ سال اپنوں کے قریب، پاس پاس رہیں گے اور کہاں ہم نے سب کے فون نمبر ہی بلاک کر دئیے “

    Liked by 1 person

  2. salam.Sofia Ap ki kahani har us overseas ki kahani hy jo bahir specially gulf mi with family reh chuka hu.2004 mi UAE gia aur typing centre sy apny job aur pir business ka aghax kia 2005 mi shadi.ki.aur family.le aya.Bahut taraqi ki business mi aur sath transport ka ek barha setup tayyar kia lekn 2014 mi sub bach ke kaye millions pakistan laya ke akhir kb tak family is mahul mi rehegy..ab sub tabah huchuka pakistan aur pakisatinion ny us maqam per la karha kia jo my uae jansy sy pehly tha..Sami ullah Al.Ain Sanaiya UAR.

    Liked by 1 person

    1. بہت شدید افسوس ہوا!
      اس کے باوجود کے ہم سب یہ جانتے ہیں پھر بھی مسائل کے ہاتھوں تنگ آ کر اپنے دیس کے میٹھے خوبوں کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔خدا یا تو ہمیں ہدایت دے اور صحیح فیصلوں کی توفیق دے یا ہمیں نقصانات پر صبر کا حوصلہ دے!

      Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.