افغانستان،امید اور طالبان________ثروت نجیب،کابل،افغانستان

افغانستان وہ ماں ہے جو پچھلے چالیس سال سے امید سے ہے ۔ اس دھرتی کے بطن میں امن کی آشا ہے اور دل میں زندگی کی تمنا ہے مگر برسوں سے آگ کے شعلوں میں لپٹی فریادی ہے ۔ کوئی ہے جو شاہراہ ریشم پہ پھر کاروان کی آمدورفت شروع کرے ؟ کوئی ہے جو دریائے آمو کو پھر سے وہی روانی دے ؟ کوئی ہے جو ہرات کو پھر سے تہذیب و تمدن کا گہوارہ بنا دے اور کابل کی رونقیں بحال کرے ؟
کوئی ہے ؟
جو تھے وہ اب بوریا بستر سمیٹ کر جا رہے ہیں ۔ یہاں جنگ کی بھیروی کو پھر سے کسی نے ریوائینڈ کر دیا ہے ۔ گولیوں کا ساز افغانستان کے بارہ صوبوں میں بج رہا ہے ۔ باقی ماندہ صوبے تشویش کا شکار ہیں ۔ دو عظیم عالمی جنگوں کے بعد نائن الیون ایک ایسا واقعہ تھا جس نے ناصرف افغانستان کے عوام بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو متاثر کیا ۔ البتہ امریکہ کے افغانستان پہ حملے کی بعد افغانستان کی کایا ہی پلٹ گئی ۔ امریکوں کی آمد سے پہلے افغانستان کے معاشی حالات کا یہ عالم تھا کہ نوٹوں کی بوریاں بھر کے لے جاتے تو بدلے میں ایک روٹی ملتی ۔ معاشرہ اس طرح غیر متوازن ہو چکا تھا کہ لڑکیوں پہ تعلیم کے دروازے مکمل بند تھے اور وہ لڑکوں کو سکول جاتے ہوئے حسرت سے دیکھا کرتی تھیں ۔ یہاں تک کہ ورکنگ ویمن کو گھروں میں بیٹھا دیا گیا تھا ۔ بےشمار عورتیں ایک دم بیروزگار ہو گئیں ۔ یہ سوچے سمجھے بنا کہ جنگ کی ماری ان عورتوں میں اکثریت گھر کی واحد خود کفیل ہیں ۔ طالبان نے شریعت کے نام پہ آمریت کو فروغ دیا ۔ فارسی بولنا اور لکھنا ان دنوں متروک ہو چکا تھا ۔ تفریح کے سارے در بند کر دے گئے تھے ۔ واحد تفریح ملزموں کی سر عام پھانسی کا نظارہ یا دست بریدی کا منظر ہوتا جس کے لیے پہلے سے اعلانات کئے جاتے اور لوگ جوق در جوق جمع ہو کر لرزا دینے والے منظر دیکھا کرتے ۔ گو کہ امریکی حملے کے بعد طالبان کے ساتھ بےگناہ عوام بھی ان حملوں سے شدید متاثر ہوئی پر طالبان کا خوف جاتا رہا ۔ جس وقت طالبان کابل چھوڑ کر بھاگ رہے تھے کابل کی عورتوں نیلے برقعے اتار کر کابل کی سڑکوں پہ رقص کیا تھا ۔ اب جبکہ دوبارہ طالبان کا خوف سر پہ مسلط ہے تو وہ سارے خدشے بھی سر اٹھانے لگے جنھیں وہ ہمیشہ کے لیے بھول جانا چاہتی تھیں ۔ امریکہ کو افغانستان پہ حملے اور بیس سالہ فوجی در اندازی کے بعد کیا ملا یہ افغان عوام کو نہیں معلوم انھیں تو صرف اتنا معلوم ہے کہ “ امن کے نام پہ جنگ “ کے بعد بھی ان کی قسمت میں کیا وہی طالبان لکھے ہیں جن کے جانے کا جشن وہ ہر سال منایا کرتے تھے؟ ۔ ہر سال اخباروں میں مضامین اور خاطرات چھپتے اور طالبان کے انخلاء کو دھوم دھام سے منایا جاتا ، میں سوچتی ہوں ان خاطرات اور مضامین کا کیا ہوگا ؟ ان شہ سرخیوں کا کیا ہوگا جن پہ لکھا ہوتا “ طالبان ، ایک گزارا ہوا خوف “ کیا وہ محض ایک وقتی خوشی تھی ؟ افغانستان میں خانہ جنگی کے وقت طالبان کے پاس کابل پہ چڑھائی کا جواز تھا اور ایک من گھڑت کہانی بھی لیکن اب طالبان حکومت کا حصہ بننے پہ بضد کیوں ؟ کیا ان کے پاس تعلیم اور دیگر صلاحیتیں ہیں کہ ایک ملک چلا سکیں ؟ اگر نہیں تو وہ بیرونی قوتیں جو انھیں کابل کی جانب دھکیل رہی ہیں کیا یہ سوچتی ہیں کہ جو طالبان حکومت اور اختیار کی خاطر مساجد پہ دھماکے کر سکتے ہیں ، چن چن کر ان مُلاؤں کو قتل کر سکتے ہیں جنھوں نے خودکش حملوں کے خلاف آواز اٹھائی اور انھیں حرام قرار دیا ۔ جو سڑکوں پہ بے گناہ عوام کا خون بہا سکتے ہیں ۔ جو ہسپتال ، شادی ہال ، سکولوں اور گھروں پہ حملہ کرتے آئے ہیں ان سے امن کی توقع کی جا سکے ۔ بقول طالبان یہ سارے حملے حکومت کو گرانے ( وہ حکومت جو عوام کی مرضی سے آئی ) اور امریکہ کو افغانستان چھوڑنے پہ مجبور کرنے کے لیے تھے ۔ اگر ایسا تھا تو امریکہ انسانی ہمدردی کی معراج پہ پہنچ گیا کہ آخر اس سے بےگناہ افغان عوام کا اتنا خون نہیں دیکھا گیا ۔ اس نے ہتھیار ڈال دیے لیکن طالبان مذہب کے نام پہ غیر انسانی حرکتوں میں ملوث رہے اور اب بھی عوام پہ جمہوری طریقے سے حکومت کرنے کے بجائے چڑھائی کر کے آمریت مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔ ایسے میں جب پاکستان کے پارلیمنٹ ممبر شیخ رشید نجی ٹی وی پہ یہ کہتے ہیں کہ “ طالبان کے خاندان پاکستان میں مقیم ہیں اور افغانستان سے زخمی طالبان کا علاج پاکستان کے ہسپتالوں میں ہوتا ہے تو کچھ کچھ سمجھ آنے لگتا ہے کہ طالبان کا آمرانہ طریقہ اور فاشسٹ رویہ سرحد پار کے ریاستی اداروں سے کیوں اتنا مشابہ ہے ۔ جہاں عوام کی آزادی کو سلب کر کے ان کو کٹھ پتلی بنا دیا جائے ۔
اس وقت افغانستان کے پڑوسی ممالک مہاجرین کے خوف سے اپنی سرحدیں بند کر رہے ہیں ۔ تاجکستان نے بیس ہزار فوجی تعینات کر دیے اور پاکستان نے طورخم گیٹ بند دیا ۔ کیا طورخم گیٹ بند کرنے سے وہ مہاجریں کے خوف سے محفوظ ہوگئے ہیں ؟ ہرگز نہیں ۔ شاہ محمود قریشی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ پاکستان پہلے بھی افغان مہاجرین کو ہوسٹ کر رہا ہے مزید مہاجریں کی گنجائش نہیں اگر طالبان پیش رفت کریں گے تو ہم طورخم گیٹ بند کر دیں گے اور انھوں نے ایسا ہی کیا ۔ بجائے اس کے کہ وہ اپنے تربیت یافتہ طالبان کو مذاکرات کی میز پہ لانے میں کامیاب ہوتے ۔ انھوں نے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لیں ۔ ماضی میں سویت جنگ اور خانہ جنگی کے وقت بھی پاکستان نے ایسے ہی گیٹ بند کر دیا تھا مگر عوام کا ایک جمِ غفیر منہ زور سیلاب کی طرح گیٹ کے پار کھڑا تھا ۔ پاکستان کے سپاہی انھیں ڈنڈے مار کر روک رہے تھے کہ اچانک مہاجریں کا سیلاب گیٹ پہ امڈا ۔ لوگ بند گیٹ پہ چڑھنے لگے اور گیٹ ٹوٹ گیا ۔ تب پاکستان کے حصے میں نا چاہتے ہوئے بھی افغان مہاجریں ، کلاشنکوف کلچر اور منشیات آئے ۔جس جمِ غفیر کو مرد مومن نہ روک سکا کیا اسے شاہ محمود قریشی روک سکتے ہیں ؟ اگر نہیں تو وہ پاکستانی عوام کو اس دھوکے میں کیوں رکھ رہے ہیں کہ طالبان صرف کابل تک محدود ہوں گے ۔ کیا شریعت اور اسلاملائزیشن سویت دور میں پاکستان کی سرحدیں پار کر کے پی ٹی وی تک نہیں پہنچ گئی تھی ؟ پاکستان میں شریعت کی اس لہر کو روکنے کے لیے بااثر حضرات کو ضیاالحق کے جہاز میں آم کی پیٹیاں رکھنی پڑیں جو عین ہوا میں پھٹ گئیں ۔ ماضی میں بھی یہی طالبان تھے جو افغانستان سے نکل کر سوات اور وزیرستان تک پھیل گئے تھے ۔ یا پھر کیا معلوم سوات اور وزیرستان پہ قبضہ کر کے وہاں اپنی چھاؤنیاں بنانے کے لیے یہ ایک ڈرامہ ہو شاید تبھی شاہ محمود قریشی کو طالبان سے کوئی خوف نہیں ۔ بحر صورت اگر پڑوس میں آگ لگی ہو تو دھواں سارے محلے میں پھیلتا ہے ۔ اس وقت طالبان کو پیش قدمی سے روکنے اور صلح کی میز پہ لانے میں پاکستان نے اہم کردار ادا نہ کیا تو اس کے نتائج پورے خطے میں بدامنی کی صورت سامنے آئیں گے ۔ طالبان افغانستان اور پاکستان چھپن چھپائی کھیلنے کے بجائے امن کے مسئلے کو سنجیدگی سے لیں کیونکہ یہ کسی ملک کی یا قوم کی بقا کا نہیں بلکہ سارے خطے بدمزگی اور بدامنی کا سوال ہے ۔

تحریر:ثروت نجیب

کابل،افغانستان

2 Comments

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.