ثروت نجیب کے ساتھ

‎لکھنے کا باقاعدہ آغاز کب ہوا؟ کتنا لکھا،کہاں کہاں

لکھا؟
لکھنے کا باقاعدہ آغاز کب ہوا یہ تو مجھے خود بھی یاد نہیں ۔ بچپن میں بچوں کے رسالے کے لیے کبھی کبھار لکھتی تھی اور یوں سلسلہ آگے بڑھتا گیا ۔ کتنا لکھا ؟ ایک دلچسپ سوال ہے ۔ ایک لکھاری کے لیے اس کی ہر تحریر ایک محبت کی طرح ہوتی ہے اور محبت کا حساب کون کرتا ہے ۔ مختلف رسالوں ، جرائد اور ویب سائیٹس کے لیے لکھا ۔

‎ثروت کو لکھنے میں کتنی کامیابی ملی اور کتنی مشکل؟
مشکلات تو کافی درپیش آئیں مگر انھی پہ قابو پا کر لکھنا جاری رکھا یہی میری سب سے بڑی کامیابی ہے ۔

‎کیا لکھنا سب سے ذیادہ پسند ہے؟ شاعری،افسانے یا نثر؟
مجھے یادداشتیں لکھنا سب سے ذیادہ پسند ہے ۔ اس کے بعد افسانے اور شاعری ۔
‎گرافکس کی ڈگری لکھنے میں کتنی مدد کرتی ہے؟
مجھے واقعی کافی مدد ملی ۔ میں نے پرنسپل آف آرٹ / ڈئزائن حتٰی کہ ایلیمنٹ آف آرٹ کو کئی بار اپنی تحاریر میں استعمال بھی کیا ۔
‎شاعری کے لئے حاصل کی گئی تربیت کا کچھ حال سنائیں؟
شاعری کی تربیت کوئی نہیں کرتا ۔ مزاج شاعرانہ ہونا بہت ضروری ہے ۔ البتہ بحور اور وزن پہ مہارت حاصل کرنے کے لیے میں نے جس سے رجوع کیا سبھی نے ٹال مٹول کی ۔میں نے کتابوں سے مدد لی ۔ فیس بک پہ ایک نوجوان شاعر فیض نے ایک فری ایونٹ کیا جس کی لگن اور ماحول نے مجھے دوبارہ شاعری کی طرف رجوع کرنے پہ مجبور کیا ۔


‎ذاتی زندگی حالات ماحول اور انسان کا معاشرہ اس کی تحریر پر کیا
‎اثر ڈالتا ہے؟
ذاتی زندگی ، حالات ، ماحول اور معاشرہ ہی وہی بھٹی ہیں جس میں جل کر ایک قلمکار کندن بنتا ہے ۔ البتہ لکھنے کے لیے صرف ان عناصر کا ہونا ضروری نہیں اس کے لیے بہت سا مطالعہ بھی ضروری ہے ۔

‎لکھتے لکھتے بزنس کی طرف چل پڑیں اس کی کوئی خاص وجہ؟
پہلے میں فری لانس کام کرتی تھی یا پراجیکٹ لیا کرتی اب باقاعدہ بزنس شروع کیا ۔ لیکن اس کا لکھنے سے کوئی لنک نہیں ۔ لکھنا میرا شوق ہے میرے لیے کتھارسس کا ایک زریعہ ہے ۔ لکھنا کبھی میرا روزگار نہیں رہا ۔ روزگار کے لیے کاروبار ضروری تھا ۔ لکھنا کبھی میرا روزگار ہو ہی نہیں ہو سکتا ۔ اس کی ایک بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ جب آپ کسی کی ڈیمانڈ پہ لکھتے ہیں تو آپ وہ نہیں لکھتے جو آپ کا اندر لکھوانا چاہتا ہے ۔ اور میں صرف وہی تحریر کرتی ہوں جو میرے اندر کی ہلچل ہوتی ہے ۔

‎ایک لکھاری کے طور پر اپنا مستقبل کیا دیکھتی ہیں؟
میں نے لکھتے وقت مستقبل کا کبھی نہیں سوچا ۔ میری ہر تحریر ایک سنگ میل ہے ۔ ایک کے بعد ایک ۔ جب تک میں زندہ ہوں لکھتی رہوں گی اس بات کی فکر کئیے بنا کہ بطور لکھاری میرا کیا مستقبل ہوگا ۔ بطور لکھاری میرا ایک بہترین ماضی ہے ایک شاندار حال ہے تو یقیناً مستقبل بھئ اچھا ہوگا ۔


‎لکھنے پر کتنی محنت کرتی ہیں؟ کوئی خاص طریقہ یا ٹپ ؟
محنت کا نہیں معلوم کرتی ہوں یا نہیں مگر کوئی بھی افسانہ لکھنے سے پہلے میں ہر ایک کردار میں خود کو ڈھال کر دیکھتی ہوں ۔ میں اس کردار کی زندگی جیتی ہوں اس کے بعد اسی کردار کی جانب سے لکھتی ہوں ۔

‎کیا کچھ پڑھا ذندگی میں؟ کتنا پڑھا؟
جتنا پڑھا کم لگتا ہے ۔ بہت سی کتابیں میری منتظر ہیں اور بہت سی کتابوں کی میں منتظر ہوں ۔ کبھی وقت اور کبھی حالات آڑے آ جاتے ہیں مگر پڑھنا میرا پسندیدہ ترین مشغلہ ہے ۔
‎کتاب کی ایک لکھاری کی ذندگی میں کیا اہمیت ہے ثروت کے نزدیک؟
کتاب کا لکھاری سے رشتہ اٹوٹ ہے ۔

‎کیا پاکستان اور افغانستان میں افسانہ نگار کا مستقبل روشن ہے؟
جی بالکل روشن ہے ۔ البتہ اگر پاکستانی افسانہ نگار منٹو ، کشن چندر اور عصمت چغتائی وغیرہ جیسے نامور افسانہ نگاروں کی ٹرین کے پیچھے بھاگنے کے بجائے اپنا رستہ خود تعین کریں ۔ افغانستان کا افسانہ نگاروں نے دیار غیر میں تہ کر کافی اچھا ادب تخلیق کیا مگر افغانستان کے اندر رہنے والے افسانہ نگاروں کے پاس بیان کی آزادی نہیں جس سے ادب متاثر ہو رہا ہے جب انھیں یہ آزادی ملے گی اچھا ادب تخلیق ہوگا ۔

شاعری اتنی خوبصورت کر رہی تھیں،وہ کیوں چھوڑ دی؟


شاعری دریا کو کوزے میں بند کرنے کا نام ہے ۔ شاعری مجھے اب بھی بہت پسند ہے مگر وقت کی قلت آڑے آ جاتی ہے ۔


افغان داستان کتابی صورت میں کب تک آ سکے گی؟


انشااللہ جلد ۔ پہلے میری سستی آڑے آ گئی پھر وہ کوارنٹین کی وجہ سے وہ تعطل کا شکار ہوگئی ۔ اللہ نے چاہا تو ایک دن آپ کے ہاتھوں میں ہوگی

‎افسانہ اور نثر میں کون کون پسندیدہ ہے نئے اور پرانے سب میں!
میں فیورازم پہ یقین ہی نہیں رکھتی ۔ کوئی ایک فیورٹ ہو تو میرے ذاتی خیال کے مطابق اس کی چھاپ پڑ جاتی ہے آپ کی تحریروں پہ ۔البتہ ہر دور میں کوئی نہ کوئی ایسا رہا جس کے تحریریں یا اسلوب دل کو چھو گیا اور انھیں بار بار پڑھنے کو دل چاہا ۔ جیسے باوجود ہیرالڈ لیمب کے ناول عمر خیال ، تیمور لیم ، بابر اور دیگر ناول دلچسپی سے پڑھے ۔ مجھے تاریخ ، آرٹ ، آر کیالوجی ، مخلتلف مذاہب اور ثقافتوں کے بارے میں پڑھنا بہت پسند ہے ۔ اورحان پاموک کے ناول ، منٹو کا افسانہ جیلی ، زمانہ طالبعلم میں نصابی کتاب میں فیکا کوچوان اور اور کوٹ افسانے پڑھے جو پھر کبھی نہ بھولے۔ کچھ عرصہ قبل باسودے کی مریم پڑھا پھر مریم میرے دماغ پہ سوار ہو گئی ۔ کئی دن اور کئی راتیں میں مریم کا ہی سوچتی رہی ۔
مستنصر حسین تارڑ ر کے سفرنامے بھی شوق سے پڑھے ۔ میں ان کے ساتھ کئی ممالک کی سیر کرتی رہی ۔ جھیل تُھن کی آتشبازی اور بدصورت بطخوں کی ساتھ لفٹ لیتی میں ہنزہ اور کافرستان تک پہنچی ۔
شاعری میں مجھے فردوسی کا شاہنامہ ، شمس تبریز اور رومی اچھے لگے ۔ ایک زمانے میں پاکستان کے شاعر فیض کو بہت پڑھا ۔ پھر پروین شاکر کی اچھوتی شاعری پسند رہی اب نصیر احمد ناصر کی نظمیں شوق سے پڑھتی ہوں ،ایران کی پروین اعتصامی پسند رہی ۔ ان کی ایک نظم گرہ کشائی ہمیشہ دلگیر اور اداس لمحوں میں مجھے ایک سبق سیکھاتی رہی ۔ افغانستان کے شاعر جامی کا انداز بہت اچھا لگا ۔ اور پشتو زبان کے شاعر غنی خان کے کلام نے مجھے گرویدہ بنائے رکھا ۔
ایک لمبی فہرست ہے ہر ایک لکھاری کا اپنا فلیور ہوتا ہے اپنا انداز تحریر ۔ جیسے ہر پھول کی الگ خوشبو ہوتی ہے اس طرح ہر لکھاری اپنی کسی نہ کسی ادا کی وجہ سے مجھے اچھا لگتا ہے ۔

___________

۔

7 Comments

  1. عربوں کے دیس میں دیسیوں کی عید پڑھ کر مزہ آگیا۔ ٹورنٹو میں عید نماز پارک میں پڑھی۔ مٹھائ ڈھیروں کے حساب سے تھی۔ دو گلاب جامن اور رس گلہ کھایا۔ سب دوستوں کے 🍖 کیا۔ خوش رھیں اور آپ اور آپ کی فیملی کو عید الاضحی مبارک۔ 🍖💐🌙

    Liked by 1 person

      1. ایک روز صبح مارکیٹ جانے کے لیے پورچ میں نکلی تو میری کالی قمیض پر بڑی بڑی لمبی ٹانگوں والا مچھر آن بیٹھا جس کی ٹانگوں پر سفید نشان تھے۔ میرا تو اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ یہ ڈینگی بھی کیا ہمارے ہی گھر آنا تھا؟
        ڈینگی کا ڈنک پڑھ کر مزہ آگیا۔ فوزیہ آپ ضرور کونسلر کا الیکشن لڑیں پھر اس کے بعد صوبائ پھر قومی اسمبلی کا الیکشن۔ جب ایک کرکٹ پلیئر ملک کا وزیر اعظم بن سکتا ہے تو آپ جیسی پڑھی لکھی خاتون کیوں نہی؟ بھٹو، شریف اور چودھریوں نے ملک کا کیا حال کر دیا؟ قرضے لینے کے لئے ایرپورٹ اور ہائ وے تک گروی رکھ رہے ہیں۔

        Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.