پردیس سے دیس____10

“ایوب پارک کے کتے”


دسمبر تک پہنچتے  دوسرے گھر میں ہم بلآخر بس چکے تھے،خاندانی مسائل میں کسی نہ کسی طرح ڈوب ڈوب ابھر چکے تھے اور ایک روٹین بنا بیٹھے تھے۔میاں صاحب ایک ماہ میں دو دن کا چکر لگا جاتے اس کے بعد میں تھی ،گھر تھا اور دو بچے تھے۔میڈ کا کمرہ بیسمنٹ میں تھا جہاں وہ سات بجے کے بعد چلے جاتی،ڈراییور دن بھر گیٹ پر رہتا مغرب کے بعد اپنےگھر  جاتا۔اکیلے ہونے کی بنا پر تماتر زمہ داری بحرحال میرے کندھوں پر تھی جو شاید اتنی مشکل نہ لگتی اگر آس پاس کے ماحول میں تھوڑا تحفظ کا احساس ہوتا۔اس احساس کے نہ ہونے کی وجہ اس تمام تر سسٹم سے آگاہی تھی جو بحرحال نسلی پاکستانی ہونے کی بنا پر ہمیں حاصل تھی۔۔اسی  محفوظ علاقے میں انہیں دنوں دن دیہاڑے سڑک پر ایک قتل اور کراچی کے اسی علاقے سے ایک اغوا ہو چکا تھا اس لئے دل میں خوف ہر گھڑی رہتا تھا۔پاکستان میں عورت اکیلی رہنے کا تجربہ کر سکتی ہے مگر وہ تجربہ ہی ہو گا جو کامیاب ہو گا کہ ناکام کچھ کہا نہیں جا سکتا۔یہاں رہتے اس احساس میں گھری رہتی کہ ہماری سلامتی ہمارے آس پاس کے لوگوں کی نیتوں اور اعمال میں ہے۔پاکستان میں کوئی طاقتور آپ کو نقصان پہنچانے کا سوچ لے تو پھر اسے روکنے اور محفوظ رکھنے والی زمینی کوئی طاقت کوئی قانون کوئی آسرا موجود نہیں۔کسی نقصان کے بعد ذیادہ سے ذیادہ آپ پولیس اسٹیشن میں ایک بیکار سی ایف آئی آر۔ کروا دیں گے اور بس۔ہو گیا انصاف۔ ورنہ عموما یہ بھی نہیں ہوتا۔عدم تحفظ کا یہ احساس اسقدر ذیادہ تھا کہ میں نے روزانہ کی بنیاد پر صدقے کے نوافل پڑھنے شروع کر دئیے ۔مجھے پوری شدت سے احساس تھا کہ اب اس زمیں پر ایک خدا کے ہاتھ کے اور کچھ نہیں۔اور میرا خوف ٹھیک نکلا،میری دوبئی واپسی کے بعد موٹر وے پر اورسیز خاتون کا ہونے والا ریپ اس کی ایک تکلیف دہ مثال تھا۔یہ بات سچ ہے کہ ہماری زمین بھیڑیوں کی دنیا ہے،زرا سی غلطی اور کوتاہی ہوئی نہیں اور کسی بھیڑئیے نے آ پ کو ذندہ نگلا نہیں۔یہی خوف دل میں کہیں جا گزیں تھا  کہ میں صبح شام بچوں کو پک اینڈ ڈراپ کرنے اسکول خود جاتی۔ ،میری بلا سے اگر میرا گھر کوئی سارا لوٹ کر لے جائے میرے لئے جو چیز سب سے زیادہ قیمتی اور اہم تھی وہ میرے بچوں کی سلامتی تھی،بچے بھی وہ جو ایسی دنیا میں پلے بڑھے تھے جہاں انہوں نے برے گمان تک کبھی دیکھے نہ تھے۔یہی وجہ تھی کہ میں نے آس پاس کے چند لوگوں کے سوا کسی سے ملنا ملانا تک نہ رکھا تھا۔نومبر میں بچوں کے امتحان ہونے لگے اور انہیں اسکول سے دس بجے  پک کرنا پڑا ۔اب ان دو گھنٹوں میں صرف ڈیڑھ گھنٹے کے لئے گھر جانا پڑتا تا کہ دوبارہ واپس آیاجا سکے۔اس مسئلے کا خوبصورت حل میں نے یہ کیا کہ واپس اپنے گھر لوٹنے کی بجائے ایوب پارک جانا شروع کر دیا جہاں نومبر کے مہینے کی خوبصورت صبح میں مارننگ واک کر لیتی۔گھر سے نکلتے میڈ چائے کا کپ بنا کر فلاسک میں بھر دیتی اور میں بچوں کو اسکول ڈراپ کر کے چائے پیتے پارک پہنچ جاتی۔۔ایوب پارک میں دیڑھ دو گھنٹے کی واک خوب دل لگا کر کرتی،پرندوں کی دلکش آوازیں سنتی،ہریالی اور رنگ برنگے پھولوں کو جی بھر کر تکتی،گہرے سانس بھرتی اور پارک کی خوبصورتی سے اپنی روح کو تازہ کرتی۔اتنے میں بچوں کو واپس پک کرنے کا وقت ہو جاتا۔


ایک روز واک کرتے ایک آوارہ کتا تیزی سے بھاگتا ہوا میری سامنے سے گزر گیا۔۔۔۔۔میں جہاں تھی وہیں فریز ہو گئی۔آوارہ کتا؟؟؟؟؟ آوارہ کتے کوئی سالوں پہلے کے سرکاری اسکول میں دیکھے تھے جب ہم چھوٹی چھوٹی بچیوں کو وہ کاٹ کھاتے تھے اور ہمیں ان سے نپٹنے کے طریقے سکھائے جاتے تھے جو اتنے سالوں میں ہماری وہم و خیال سے بھی اتر چکے تھے۔ابوظہبی میں  پالتو کتے گاڑیوں میں پھرتے دیکھے تھے مگر آوارہ کتا کبھی ایک بار بھی نہ دیکھا تھا کہ بھول ہی گئے تھے کہ کتے آوارہ بھی ہوتے ہیں۔اب جو دیکھا تو رونگٹے کھڑے ہو گئے اور وہ چھوٹی سے اسکول کے بچی جس نے وہ کتے دیکھ رکھے تھے لرزنے لگی کہ اب کیا ہو گا۔مجھے تو یہ ٹریک بے تحاشا عزیز تھا،اس پر واک نہ کروں گی تو کیا کروں گی۔ساتھ سندھ کی وہ ساری خبریں بھی پڑھ رکھی تھیں جو بتاتی تھیں کہ پاکستان میں کتا کاٹنے کی دوا تک کمیاب ہے۔۔قریب ہی مالی سے استفسار کیا کہ یہ کتے کیسے آ گئے تو پتا چلا کہ ادھر ادھر کافی  بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں بلکہ سور بھی اکثر رننگ کرنے تشریف لاتے ہیں۔یہ خبر اور بھی خطرناک تھی۔اسلام آباد کے ساتھ جنگل ہیں یہ تو ہم جانتے تھے مگر شہر کے اندر بھی جنگلی جانور پائے جاتے ہیں اس بات سے قطعی بے خبر تھے اور پھر سور۔اس کا کھانا تو ہم نے کئی ابوظہبی کے فائیو سٹار ہوٹلز میں سجا اور یورپیوں کو کھاتے دیکھا تھا مگر کھلے عام اس طرح سے دندناتے نہ دیکھا تھا۔ہمیں تو یہ تک خبر نہ تھی کہ اگر سور سامنے آ جائے تو رکنا ہے کہ بھاگنا ہے،خود کو بچانا کیسے ہے۔اففففف ہم نے بھی کیسی زندگی گزاری تھی کہ ہمیں ایسی باتوں تک کا پتا نہ تھا۔چناچہ ایک ہی حل تھا کہ قریب سے ایمرجنسی نمبرز پر فون کرتے اور مدد طلب کرتے۔ایمرجنسی نمبر پر کال کر کہ شکایت کی۔ہم نئے نئے تھے ابھی تک یہی سمجھتے تھے کہ محکمے کام کرنے کے لئے ہیں اور عوام کال کر کے شکایت کرنے  کے لئے ہیں چناچہ ہر کام کی خاطر دفتر پہنچ جاتی تھی۔بحرحال عسکری اداروں کا یہ فایدہ تھا کہ کچھ نہ کچھ کر ہی دیتے تھے بحرحال،سرکاری دفاتر تو شاید کچھ بھی کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔چناچہ اگلے دو تین دن میں دو تین سور تو مارے ہوئے دکھائے انہوں نے مگر کتے آخر دم تک سم ہلاتے  وہیں منڈلاتے رہے ایسے کہ ہم ہی آہستہ آہستہ ان کے ساتھ نبھا کر کے عادی ہوتے چلے گئے۔عملے نے اتنا کام ضرور کیا تھا کہ جب میں واک کرتے کسی ملازم کے پاس سے گزرتی وہ لازما دوسرے کو آواز دے کر پوچھ لیتا کہ کتے تو نہیں ہیں ناں!

دوسری طرف سے آواز آ جاتی”نہیں جی ! نہیں ہیں!”اس کے بعد اگلے دو قدم پر کتے نظر آ جاتے اور میں انکی تصاویر لے کر محفوظ کر لیتی۔اب جو کچھ کر سکتی تھی کر چکی تھی۔اس قابل انتظامیہ سے ذیادہ اور کیا توقع کر سکتی تھی۔

صوفیہ کاشف

جاری ہے 

4 Comments

  1. قریب ہی مالی سے استفسار کیا کہ یہ کتے کیسے آ گئے تو پتا چلا کہ ادھر ادھر کافی بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں بلکہ سور بھی اکثر رننگ کرنے تشریف لاتے ہیں۔یہ خبر اور بھی خطرناک تھی۔اسلام آباد کے ساتھ جنگل ہیں یہ تو ہم جانتے تھے مگر شہر کے اندر بھی جنگلی جانور پائے جاتے ہیں اس بات سے قطعی بے خبر تھے اور پھر سور۔اس کا کھانا تو ہم نے کئی ابوظہبی کے فائیو سٹار ہوٹلز میں سجا اور یورپیوں کو کھاتے دیکھا تھا مگر کھلے عام اس طرح سے دندناتے نہ دیکھا تھا۔ہمیں تو یہ تک خبر نہ تھی کہ اگر سور سامنے آ جائے تو رکنا ہے کہ بھاگنا ہے،خود کو بچانا کیسے ہے۔اففففف ہم نے بھی کیسی زندگی گزاری تھی کہ ہمیں ایسی باتوں تک کا پتا نہ تھا. واہ واہ واہ مزہ آگیا۔

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.