پردیس سے دیس____(11)

قسط نمبر:11

کنزیومر رائٹس اور انڈین میوزک

پاکستان میں ایک عجیب چیز دیکھی۔وہ یہ کہ جس مارکیٹ،ریسٹورنٹ،سیلون،پارک یا جم کا رخ کرتے جہاں موسیقی سنائی دینے کا کوئی امکان ہوتا وہاں پر صرف بالی وڈ موسیقی ہی سنائی دیتی ہیں حیرت انگیز طور پر ہر جگہ ہر دکان پر اگر کوئی موسیقی چلائی جا رہی تھی تو وہ انڈین موسیقی تھی اب یہ بات ہمارے لیے حیرت انگیز اس لئے تھی کہ ہم دس سال ایک ایسے ملک میں رہے تھے جہاں پر انڈیا اور پاکستان کی ایک کثیر عوام آباد ہے بلکہ عرب امارات میں اگر کوئی نیشنلٹی سب سے زیادہ ہے تو وہ انڈین ہیں اور دوسرے نمبر پر پاکستانی تو انڈین لوگ ان کی چیزیں، ان کے رویے ،ان کے حالات و واقعات ہر چیز کا سامنا ہمیں چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے نہ صرف کرنا پڑتا، دیکھنا پڑتا بلکہ ہم خود کو ان سے واضح طور پر الگ کرنے کی کوشش میں لگے رہتے، باہر رہنے والا یا کم سے کم ایسے علاقوں میں، جہاں عرب امارات کی طرح انڈین اور پاکستانی کثیر تعداد میں ہو وہاں ہر پاکستانی خود کو پاکستانی دکھانا چاہتا ہے انڈین نہیں لگنا چاہتا ۔چنانچہ شروعات سے ہی ہمارا یہ دستور بن گیا تھا کہ انڈین موسیقی ، فلم ،ڈرامہ اور اس سے متعلقہ ہر چیز آہستہ آہستہ ہماری زندگیوں سے غائب ہوتی چلے گئی تھی عرصے سے گھر میں کوئی انڈین میوزک،ڈرامہ یا فلم نام کی کوئی چیز نہ چلتی تھی اور تو اور اب ان کے سٹار پلس کے ڈرامے ان کے زیورات رنگ برنگے ملبوسات تک ہمیں دھوکہ نہیں دے پاتے تھے کیونکہ ہمارے آس پاس اردگرد ان کی اتنی کثیر تعداد موجود تھی کہ ہم ان کے اصل چہرہ اصل رنگوں اور اصل چیزوں سے مکمل طور پر واقفیت حاصل کر چکے تھے۔ چنانچہ کسی بھی قسم کے متاثرین میں شمار سے محفوظ تھے۔

شاید ہم بھول چکے تھے کہ جس پاکستان کو ہم چھوڑ کر آئے تھے اس میں ہم یہی دیکھتے سنتے پروان چڑھے تھے۔ ہمارے گھروں میں اس زمانے میں جو کیسٹس کے ڈھیر ہوتے تھے وہ انڈین موسیقی اور ہندوستانی فلموں کے ہوتے تھے ۔ہمارے گھروں میں ہماری سہیلیاں ، بہن بھابھیاں جن ڈراموں پر جان دیتی تھی وہ انڈین سٹار پلس اور زی ٹی وی ڈرامے تھے تو بہرحال یہ باتیں بھولے ہوئے خاصا عرصہ ہوگیا تھا اور اب جب اچانک سے دوبارہ اس کا سامنا کرنا پڑا اور وہ بھی انہی دنوں میں جب تقریبا ہر فورم پر غزوہ ہند کی داستان سنائی جا رہی تھی وہیں پر پاکستان کے دارالحکومت کے ہر کونے میں صرف انڈین موسیقی چل رہی تھی کوئی بتائے کہ ہم بتائیں کیا!

اب کچھ ایسی باتیں جن کو ہم نے چلتے پھرتے مشاہدہ کیا اور ہمیں وہ خاصی دلچسپ محسوس ہوئیں جیسے کہ گھروں میں فل سائز ونڈوز ہر کمرے میں، ڈرائنگ روم میں اور لاؤنج میں اتنی بڑی بڑی کھڑکیاں موجود تھی کہ جن پر پردے لگاتے لگاتے آپ کے لاکھوں خرچ ہو جائیں گے مگر وہیں باتھ روم اتنے چھوٹے اور کھڑکیاں روشندان نما تھیں یعنی اتنی چھوٹی تھیں کہ اس میں سے ہوا تو ہوا روشنی تک کا گزر ممکن نہیں تھا خاصی حیرت ہوئی کہ ملک کے دارالحکومت میں رہنے والی بہت ہی پڑھی لکھی کلاس ،بہت ہی اونچا اور پیسے والا طبقہ یہ تو جانتا ہے کہ کمروں میں فل سائز کے شیشے لگا کر گرمیوں میں اس کمرے میں اے سی چلانا ہے تاکہ وہ ٹھنڈا ہو سکے اور سردیوں میں انہیں کمروں میں ہیٹر چلیں گے تاکہ وہ گرم ہو سکے اور یہ سب اس شیشے کی کھڑکیوں کی عنایت ہے وہاں پر ان کو یہ معلوم نہیں کہ اسی دھوپ اور ہوا کی سب سے زیادہ ضرورت آپ کو باتھ روم میں ہے ۔آپ کے باتھ روم کا ہائی جینک ہونا ،وہاں پر روزانہ کی دھوپ اور ہوا کا گزر ہونا بہت ضروری ۔ ہے جہاں پورے گھر میں پردے لگیں گے وہاں پر کچھ پردے باتھ روم میں بھی لگ سکتے ہیں لیکن ہوا یا دھوپ ضرور ہونی چاہیے۔ بدقسمتی سے جتنے بھی کرائے کے لیے بڑے بڑے جدید گھر دیکھے، جہاں بھی جانا آنا ہوا یہی دیکھا کہ جتنا بھی بڑا ماڈرن گھر ہو، مہنگی سے مہنگی خوبصورت سے خوبصورت ڈیکوریشن موجود ہوں ،ماربل اور ٹائل لگی ہو ،فالز سیلنگ ہو، ایک چیز کی ہر جگہ کمی تھی اور وہ تھا باتھ روم کے اندر دھوپ اور ہوا کا گزر۔۔اس کے علاوہ گھروں میں پھولوں اور پتوں کے لیے کیاریاں یا چھوٹے سے لان کی جگہ بہت کم لوگ محسوس کر رہے تھے زیادہ تر لوگوں کی اکثریت گھر کا ایک ایک کونا ٹائل سے سجا دینا چاہتی تھی ۔ ایک ایسی زرخیز زمین پر جس پر بغیر کچھ بھی کیے بہت کچھ خود بخود اگ آتا ہو اور اپنی خوبصورتی سے آپ کی زندگی کو اور ماحول کو سجا دیتا ہوں ، وہاں پر ٹائل کی اتنی بھرمار نے خاصا حیران کیا۔

اسی پوش علاقے کے لوگ اتنے غریب دیکھے کہ دو ہزار کا کپڑے سکھانے والا سٹینڈ نہیں خرید پاتے اس کی بجائے گھر کی ہر دیوار چاہے وہ چھت کی ہو یا میں گیٹ کی اس کو رنگ برنگے شلوار قمیضوں،زیر جاموں اور بیڈ شیٹوں سے بھر دیتے ہیں لیکن اتنے امیر ہیں کہ آپ کو اسلام آباد کے کسی ہوٹل میں آسانی سے جگہ نہیں ملتی جہاں کم سے کم بھی تین سے چار ہزار کا کھانے کا بل ہر ٹیبل پہ بنتا ہے

ڈان نیوز پر پڑھیں

۔ابوظہبی میں ہفتے میں دو دفعہ ہوٹلنگ کرنا ہماری عادت رہی تھی لیکن وہاں پر دو سو درہم دینا ہمیں اتنا مشکل نہ لگتا جتنا یہاں پر دس ہزار دینا لگتا تھا۔ہزار کا ہندسہ درہموں کی عادت ہو جانے کے بعد ایک خاصی بڑی رقم لگتا تھا جسے روز روز خرچنا اتنا آسان کام نہیں تھا۔۔۔ شروع شروع میں مسئلہ یہ بھی تھا کہ ہمیں ہزاروں اور لاکھوں خرچ کرنے کی عادت نہ ہوئی تھی ابوظہبی جا کر جو چیز ہم نے سب سے پہلے سیکھی تھی وہ یہ تھی کہ رپوں کو درہموں کے ساتھ ضرب نہ دی جائے،چناچہ درہم خرچ کرنے کی عادت آسانی سے سیکھ گئے۔ اب ہم ہر چیز کو سینکڑوں میں اور دہائیوں میں حاصل کرنے کے عادی ہو گئے تھے تھے۔ ابو ظہبی میں مہنگی سے مہنگی چیزیں اکثر سینکڑوں ہزاروں میں آ جاتی ہیں لیکن پاکستان میں کرنسی کی قیمت خاصی مایوس کن ہونے کی وجہ سے سینکڑوں میں سبزی اور پھل بھی مشکل سے آتا ہے ہزاروں سے کم پر بات نہیں بنتی تو یہ ہزار اور سینکڑے کا جو فرق تھا دماغ اس کو سیٹل کرنے میں اور ہضم کرنے میں تھوڑی سی مشکل کا سامنا کر رہا تھا کہ جب کسی بھی ہندسے کے ساتھ ہزار لگتا تو ایک دم دماغ درہموں کی طرح ڈرتا۔اس وجہ سے بہت سارے خرچ برداشت کرنے ہمارے لئے مشکل ہو رہے تھے۔ ہم درہموں میں کماتے تھے پھر بھی میرے پاس مہینے کے آخر میں پیسوں کی کمی ہوجاتی تھی اس کے باوجود کے ہفتے میں دو دفعہ کی عیاشی بھی اب ہم چھوڑ چکے تھے لیکن جن لوگوں کو میں نے ہزار ہزار دو دو ہزار روپے بچاتے ہوئے دیکھا ان کو ہوٹلوں پر پارٹیوں پر اور بہت سارے علم غلم پر بے ہزاروں لاکھوں لٹاتے دیکھا۔ترجیحات کا فرق بہت ہی واضح ہے۔

کنزیومر رائٹس سے بے خبری ہر نکڑ ،ہر گلی ہر موڑ اور ہر ریسٹورنٹ میں موجود ہے بہت کم جگہوں پر بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ کسٹمر کو عزت دی جاتی ہے اور کس حد تک دی جاتی ہے۔ ب

اکثر جگہوں پر عملے کو آنے والے کنزیومر سے خفا سا دیکھا ،ناک بھوں چڑھا کر ماتھے پہ تیوریوں کے ساتھ آرڈر لینا،احسان کرنے سے انداز میں سرو کرنا ،بیچنے والے میں جتنا غرور پاکستان میں ہے شاید ہی کسی دوسری دنیا میں پایا جاتا ہوں ہو ۔برف باری دیکھنے کے لئے جب ہم پی سی بھوربن پہنچے تو گیٹ پر ہی ہماری گاڑی ، جو خاصی بڑی نہیں تو چھوٹی بھی نہیں تھی لیکن جس طرح سے سامان اتروا کے اس کی تلاشی لی گئی اگر یہ واقعہ کم سے کم عرب امارات میں ہوا ہوتا تو اس ہوٹل پے ہم کیس کر دیتے اور بہت بڑی رقم اس کے ہرجانے میں حاصل کر لیتے کہ ہماری شان میں گستاخی ہوئی ہے۔ یہ انتہائی گستاخی اور بے ادبی کی بات ہے کہ آپ اپنے کنزیومر کو جو آپ کو ایک بھاری رقم ادا کر کے آپ کو بزنس دے رہا ہے گیٹ پر اس کے سامان کی تلاشی اور وہ بھی اتنے بھونڈے انداز میں لے کر اس کی بے حرمتی کریں۔

عرب امارات میں جب بھی فائیو سٹار میں قیام کیا عملے کو آس پاس پھرتے یس سر،یس سر ،کرتے ہی دیکھا۔فائیو سٹار دراصل اس تواضع کا ہی نام ہے جو آپ ایک کثیر رقم دیکر خریدتے ہیں۔۔کوئی باہر کی دنیا ہو تو کنزیومر وہیں سے ڈانٹ ڈپٹ کر واپس لوٹ جائے ،جا کر ہوٹل پر ہتک عزت کا کیس کر دے اور جیت بھی جائے۔ مگر یہ پاکستان ہے جہاں بغیر کسی معذرت کے فائیو سٹار ہوٹل کی قیمت وصول کرنے والا طبقہ نخوت اور غرور کے ساتھ ایسا بے مروت رویہ شاید صرف پاکستان میں ہی دکھا سکتا ہے۔پاکستانی کنزیومر بھی اس کی عادی ہو چکے ہیں اس لئے پیسے خود بھر کر چیز خریدتے ہیں مگر اسے خریدنے والے کا احسان بھی سمجھتے ہیں۔اور بیچنے والا بھی بزنس جیب میں ڈال کر احسان کرتا ہے۔آج کل میں پی آئی اے کی فلائیٹ میں اسد عمر کی ایک وڈیو بھی وائرل ہے جس میں وہ اسی حق کی خاطر لڑتے دکھائی دیتے ہیں اور حیرت انگیز طور پر بڑے بڑے صحافی اور باہر کی یونیورسٹیز سے پڑھے ہوئے لوگ بھی اس حرکت پر اسد عمر کے ہی خلاف بولتے نظر آئے جبکہ بولنا انہیں کنزیومر کے حق میں چاہیے تھا۔بڑے بڑے اداروں کی دی ہوئی تعلیم اور عقل بھی پاکستان پہنچ کر دم توڑ دیتی ہے۔

اسی طرح اسی پی سی بھوربن میں صبح ایک خاتوں ناشتے کے لئے خالی جگہ مہیا نہ ہونے پر ایک دوسری فیملی کی میز پر بٹھا دی گئی اور وہ خاتون بھی خموشی سے سر جھکا کر بیٹھ گئیں۔ہم قریب بیٹھے ہوٹل کی انتظامیہ کی اس جرات پر حیران ہو گئے کہ کیسے وہ اپنے ایک مہمان کو جو کم سے کم چالیس ہزار کی رقم دیکر وہاں ٹھہرا ہے کسی دوسرے کی میز پر ان کی فیملی کے بیچ میں بٹھا سکتے ہیں اور اس پر نہ وہ فیملی اعتراض کرتی ہے نہ وہ عورت کہ جناب ہم نے چالیس ہزار روپے صرف اس مکمل میز کے لئے ہی بھرے ہیں ورنہ ہم بھی باہر کسی ڈھابے پر چارپائی پر ،ہجوم کے ساتھ بیٹھ کر کھا لیتے۔مگر بات یہ ہے کہ جب تک خود پیسے والے کو اپنے پیسے کی قدر کا احساس نہ ہو ہم اس کی خاطر پاکستان میں لڑ کر خود رسوا ہونے کا رسک نہ لے سکتے تھے۔اسی ہوٹل کی ریسیپشن پر جو سوٹ بوٹ میں ملبوس عملہ تھا انگلش ضرور بولتا اور سمجھتا تھا مگر مہمان سے مسکرا کر ملنے سے قطعی گریز کرتا تھا تا کہ کہیں مہماں تھوڑے سے اس ہوٹل میں پہنچ کر تازہ دم اور ان کی مسکراہٹ سے محظوظ نہ ہو جائیں بلکہ اچھا ہے کہ خفت میں ہی مبتلا ہو جائیں۔جب تک بیچنے والے اور خریدنے والوں کے حقوق کا برابر اطلاق نہ ہو گا،یہ چیزیں اور رویے بدلنے والے نہیں۔

(جاری ہے)

تحریر و فوٹو گرافی:صوفیہ کاشف

3 Comments

  1. مملکت خداداد پاکستان کو 1979 کے بعد reverse gear لگ چکا ھے
    اس میں بریک بھی کمزور ھو گیا ھے اس لئے اس میں اپنے رسک پر سواری کیجئے

    Liked by 1 person

  2. بیچنے والے میں جتنا غرور پاکستان میں ہے شاید ہی کسی دوسری دنیا میں پایا جاتا ہوں

    بالکل درست ہے
    صرف اتنا فرق ہے کہ اب کچھ پڑھے لکھے لوگ جو بزنس میں آ رہے ہیں ان میں نیا مؤدبانہ رحجان نظر آ رہا ہے
    جس کے بل بوتے پر امید قائم کی جا سکتی ہے۔

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.