پردیس سے دیس______12

ڈینگی اور ڈینگی کا علاج

ایک اور اہم تجربہ جو پاکستان میں ہوا وہ ڈینگی سے نپٹنے کا تجربہ تھا۔نئے گھر میں سیٹ ہوتے ہی سب سے پہلا کام جو میں نے کیا تھا وہ گھر میں دو تین اخبار اور رسالے لگوانے کا کیا تھا۔خبروں اور رسالوں کے لئے انٹرنیٹ کی محتاجی سے دل بھر چکا تھا ۔ہوائی مخلوق کے سہارے ذندگی بسر کرتے کرتے دل اچاٹ ہو چکے تھے ۔اپنے ملک اپنے دیس لوٹنے کی وجہ پھر سے بہت سے اصل کی طرف لوٹنے کی خواہش تھی۔یہی خواہش اخبار اور بچوں کے رسالے گھر لگوا کر پوری کی۔اور یہ سچ ہے کہ صبح صبح نہار منہ اخبار کا آنا ایک فیملی کے لئے خاصے کی چیز بن گیا۔بچے اٹھتے ہی سب سے پہلے اخبار کا پوچھتے اور مل جائے تو سب سے پہلے کومک پڑھنے کو الجھتے۔یہ ایک خوبصورت تجربہ تھا جس میں اخبار کے چند صفحات کے گرد ہم تینوں اکٹھے ہو جاتے۔ہوائی مخلوق یعنی انٹرنیٹ میں سب سے بڑی قباحت یہ ہے کہ یہ انساں کو تنہا کر دیتی ہے اپنے آپ سے اور اپنے آس پاس کے لوگوں سے۔وہی اخبار جو گھر کے سب لوگ مل کر پڑھتے ہیں ہوائی مخلوق میں ایک انفرادی عمل بن کر رہ جاتا ہے جس سے کسی اور کا کچھ بھی لینا دینا نہیں ہوتا۔فیملی کا ہر معلومات اور عمل میں اشتراک ختم ہو کر رہ جاتا ہے۔چناچہ اس اخبار نے ہم تینوں کو ایک عمل میں اکٹھا کر دیا۔یہ سہولت ہم باہر رہ کر بھی حاصل کر سکتے ہیں مگر باہر رہنے والوں کی اکانومی بہت سی مہنگی عیاشیوں کی متحمل کم ہو پاتی ہے اس لئے انٹرنیٹ جیسی خلائی مخلوق پر انحصار ذیادہ سے زیادہ ہوتا چلا جاتا ہے۔

ڈان نیوز پر پڑھیں

اب جب روزانہ ہاتھ میں اخبار آنے لگی تو شہر میں کیا ہو رہا ہے اس کی خبر روز بروز گھر بیٹھے ملنے لگی۔چناچہ جب پہلے صفحہ پر ڈینگی کے پھیلنے کی بڑی بڑی خبریں چھپنے لگیں تو میرے رونگٹے کھڑے ہونے لگے۔ڈینگی پاکستان کا وہ بچہ ہے جس کا جنم ہمارے کوچ کرنے کے بعد ہوا ہے۔چناچہ ہر سال ڈینگی کا سیزن شروع ہوتے ہی ہم شکر ضرور کرتے کہ الحمداللہ ہم محفوظ جگہ پر ہیں۔مگر ذمین پر اتر کر اس کو بگھت کر نہ دیکھا تھا۔اس سے مطلقہ بنیادی معلومات خاصی کم تھیں۔چناچہ سب سے پہلے تو اس کے بارے میں ساری معلومات جانی، مارکیٹ گئی اور مچھروں سے نمٹنے کے سارے اسلحہ جات کی خریداری کی۔یہ بھی خدا کا کرم تھا کہ ڈینگی کا سیزن تھوڑی دیر سے شروع ہوا ورنہ اگست کا مہینہ ہم ساروں کے بازو مچھروں سے چھلنی ہوتے گزرے تھے۔اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ برانڈ نیو گھر میں ہم پہلے کرایے دار تھے اور ایک دن پہلے تک اس میں کھلے دروازوں کے ساتھ مزدور کام کر رہے تھے۔مجھے پرانے پورشن کی جہنم سی ذندگی سے نکلنے،گھر ڈھونڈنے اور شفٹ ہونے کی جلدی تھی ، تو ایسے میں نہ مچھروں کا خیال آیا نہ سپرے کرنے کروانے جیسی کوئی کوشس ہی کی ۔ایسا کوئی آئیڈیا بھی نہ تھا۔چناچہ ایسے میں آس پاس کی تمام ہریالی کے سبب اندر مچھروں کا کمال دور دورہ تھا۔بچت ہوئی کہ وہ عام مچھر تھے کچھ ذیادہ بگاڑ نہ سکے۔

اب جب ڈینگی کا واویلا ہوا تو چوکنا ہوئی۔دروازے کھڑکیاں مزید بند رہنے لگے،سپرے کی، ہر کمرے میں مچھر مار کوائل لگوائے اور بیرونی دروازے پر ایک ماسکیٹو کلر بھی خرید کر نصب کر دیا۔لیکن بات یہاں پر ختم نہ ہوئی ۔ایک روز صبح مارکیٹ جانے کے لئے پورچ میں نکلی تو میرے کالی قمیض پر ایک بڑی بڑی لمبی ٹانگوں والا مچھر آن بیٹھا جس کی ٹانگوں پر سفید نشاں تھے۔میرے تو اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔یہ ڈینگی بھی کیا ہمارے ہی گھر آنا تھا؟۔ہمارا یہ گھر خاصی گہرائی پر واقع تھا جہاں پوری سڑک کا پانی ڈھلک کر آ جاتا،ساتھ نکاسی کا نالا موجود تھا مگر سڑک کی گہرائی میں گڑ بڑ کی وجہ سے تھوڑا سا پانی لازما سڑک پر کھڑا رہتا شاید یہ اسی کا کمال تھا۔اب جانے یہ مچھر واقعی اتنا عام تھا یا صرف میرے ہی گھر ظاہر ہوا تھا۔اس کے لیے کتنا پریشان ہونے کی ضرورت تھی اور کتنا نہیں اس کا بھی کوئی پریکٹیکل علم نہ تھا۔اب جب میرے سر پر کوئی مصیبت آن پڑے تو میں عموما سارے ڈر، خوف، ضابطے، لاحقے اور ہر طرح کے کوڈ آف لائف بھول جاتی ہوں۔ابھی تک کسی ہمسائے گھر میں تانک جھلک تک نہ کی تھی مگر اب جب ڈینگی مچھر دیکھا تو آس پاس کے سب گھروں میں خود گئی۔دروازے بجائے کرنل ،برگیڈیر اور ان کی بیگمات کو باہر نکالا کہ چلیے چل کر انتظامیہ سے سپرے کا کہیں۔اب شاید میں ذیادہ ڈر گئی تھی اور شاید ایسی کوئی ڈرنے کی بات ہی نہیں تھی کہ یا آس پاس کے لوگ ذیادہ پرسکون تھے کہ نہ تو میرے مچھر کو دیکھنے پر کسی کو کوئی فکر ہوئی نہ کوئی اتنا اس معاملے میں سنجیدہ ہوا کہ اس سلسے میں کچھ کرنے کا خواہش مند ہو۔ایک صاحب نے کہا بی بی ہم نے درخواست جمع کروا دی ہے ایڈمن آفس میں۔اب یا تو وہ میری بات کو سنجیدہ نہیں لے رہے تھے یا پھر ڈینگی ان کا درد سر ہی نہ تھا۔اگرچہ میرے لئے ایک سیریس درد سر تھا۔کہ میں پہلے اس کے صحیح زمینی حالات سے واقف ہی نہ تھی دوسرا میرا بیٹا ذیادہ بخار برداشت ہی نہیں کر سکتا ۔اس لئے میں کوئی رسک لینے پر آمادہ نہ تھی۔جب کوئی میرے ساتھ نہ چلا تو میں اکیلی ہی ایڈمن آفس میں پہنچی۔بحرحال اللہ کا شکر ہے کہ آپ کے پاس بڑی گاڑی ہو، یورپی مہنگا لباس پہن رکھا ہو اور اونچا تنا ہوا سر ہو تو پاکستان میں سب دروازے کھل جاتے ہیں تو میں سیدھی ریسیپشن پر گئی کہ مجھے اس سے ملنا ہے جس کی کرسی سب سے بڑی ہے۔بغیر کسی اعتراض کے مجھے ایڈمن کرنل صاحب کے پاس پہنچا دیا گیا۔ پہنچی اور ان پر جا کر دھاوا بول دیا۔اس کا فائدہ یہ ہوا کہ اسی دن ایڈمن صاحب اپنی ٹیم کے ساتھ ہمارے گھر کے دروازے پر اس نکڑ پر پہنچ گیے جس کی ہم باقاعدہ شکایت لگا کر آئے تھے ۔اب آس پاس ایک ہڑبونگ مچ گئی اور سب لوگ گھروں سے نکل کر باہر آ گئے۔ساتھ والے گراوینڈ میں اونچی اونچی بھنگ کھڑی تھی جس تک ایڈمنسٹریشن کا کٹائی کرنے والا ٹریکٹر آج تک پہنچا نہ تھا۔پھر وہ اسی دن دوچار لوگوں کے ساتھ پہنچا اور گراونڈ سے تمام جھاڑیاں کاٹ کر اسے مچھروں کی قیام گاہ سے خالی پلاٹ میں بدل دیا گیا۔اگرچہ میرے مچھر دیکھنے پر ایڈمن صاحب نے یقین نہ کیا تھا مگر میرے پیش کئے مقدمے سے متاثر ہو کر  جو میں نے اگلے دو تین چکروں میں ان کے سامنے رکھا، نہ صرف پانی کی نکاسی کا انتظام بہتر کیا گیا بلکہ سپرے کی گاڑی خصوصی طور پر میرے گھر کے اندر سپرے کر کے گئی۔یہ  بہت بڑی کامیابی تھی۔ جس کے لئے میں تن تنہا لڑی تھی۔اس سے مجھے احساس ہوا کہ کوشس کی جائے تو دنیا میں ہر چیز ممکن ہے حتی کہ پاکستان میں محکموں سے کام نکلوانا بھی۔شاید مایوسیوں نے ہمیں ہر کوشس سے مایوس کر دیا ہے۔بحرحال میری یہ کوشس تھی جس میں مجھے الحمداللہ بھرپور کامیابی ہوئی اور میرے قریبی دوستوں نے مجھے مشورہ دینا شروع کر دیا کہ مجھے کونسلر کا الیکشن لڑ لینا چاہیے۔یہ ایک مزیدار بات تھی بحرحال جس پر ہم خوب ہنسے۔خیالوں میں ہی صحیح، چلو وزیراعظم نہ سہی،کونسلر بننے کا خیال بھی خاصا مزیدار ہے۔

دبئی واپسی کے بعد پچھلے سال جب ستمبر چڑھا تو میرے سامنے والے ہمسائے خان صاحب جو سفید بالوں والے ایک رحم دل ریٹائرڈ افسر تھے اور آتے جاتے میرا حال پوچھنے کے لئے رک جاتے تھے کا پیغام آیا کہ ہم پریشان ہیں اس بار صوفیہ بیٹا نہیں ہے تو اس بار ڈینگی میں سپرے کون کروائے گا۔۔۔

(جاری ہے)

تصاویر و تحریر:

صوفیہ کاشف

 (ڈان نیوز پر جگہ کی کمی اور کمپنی کے قواعد و ضوابط کی بنا پر بہت سے لکھے پر قینچی چلا دی جاتی ہے۔مگر یہاں پر چونکہ مجھے کوئی ایسا مسلئہ لاحق نہیں اس لئے میں اپنی لکھی پوری تحریر چھاپتی ہوں ۔میرے نزدیک یہ مشاہدات بہت ہی قیمتی ہیں کیونکہ یہ وہ باتیں ہیں جو دس سال باہر رہنے والا واپس لوٹتا ہے تو فوری طور پر کرتا ہے ۔جیسے جیسے وہ یہاں رہتا چلا جاتا ہے وہ اس ملک اور معاشرے کے رنگ میں رنگتا چلا جاتا ہے اور بلآخر سب کچھ بہت اچھا لگنے لگتا ہے۔ایسے وقت میں یہ یاداشتیں ایک اچھی یاد دہانی ہیں۔__صوفیہ کاشف)

6 Comments

  1. بحرحال اللہ کا شکر ہے کہ آپ کے پاس بڑی گاڑی ہو، یورپی مہنگا لباس پہن رکھا ہو اور اونچا تنا ہوا سر ہو تو پاکستان میں سب دروازے کھل جاتے ہیں تو میں سیدھی ریسیپشن پر گئی کہ مجھے اس سے ملنا ہے جس کی کرسی سب سے بڑی ہے۔بغیر کسی اعتراض کے مجھے ایڈمن کرنل صاحب کے پاس پہنچا دیا گیا۔ پہنچی اور ان پر جا کر دھاوا بول دیا
    کیا انٹری ماری باس۔ آپ الیکشن جیت سکتی ہیں۔ اس الیکشن میں ضرور کھڑی ہوں۔ ایڈوانس جیت مبارک🎉

    Liked by 1 person

    1. اچھے لوگ الیکشن اتنی آسانی سے جیت سکتے تو پاکستان کا آج یہ حال ہی کیوں ہوتا؟؟؟ایڈوانس جیت کی مبارکباد کے ساتھ ایڈوانس نااہلی قبول فرمائیے!

      Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.