پردیس سے دیس_________13

نظارے،برسات اور خزاں

بہت سے سہانے بہار،خزاں،برسات ،موسم سرما برف باری ،موسم ،پھول کلیاں،سمیت بہت کچھ ذندگی میں سالوں بعد دیکھا ۔اگر اپنے وطن میں درپیش ہزاروں مشکلات میں مددگار کوئی چیز زمیں پر وجود رکھتی تھی تو وہ اس شہر کے موسم نظارے،پھول اور کلیاں تھے۔ابوظہبی میں کبھی کبھار موسلادھار بارش دیکھی تھی ایک بار تو ہماری دیواروں اور کھڑکیوں میں سے بھی پانی ٹپکنے لگا تھا۔اور وہ ابوظہبی کی تاریخ کا شدید ترین طوفان تھا جس کے چرچے پاکستان تک بھی پہنچے تھے۔دس سالوں میں جن میں ایک آدھ بار مصنوعی طریقے سے بھی بارش برسائی گئی ۔مگر اب جو پاکستان کی مسلسل بارشیں دیکھیں تو ہماری ابوظہبی کے گرم دورکی گرمی اور اے سی کی خشک ہوا اندر تک سیراب ہو گئی،مزاج میں لطاقت گھل گئی روحوں میں جیسے اندر تک سکوں اتر گیا۔

ہر دوسرے روز کی بارش اتنی خوبصورت ایسی حسیں کہ میرے کیمرے کی گیلری ہر وقت بارش کی تصاویر سے بھری رہنے لگی۔کچھ خدا کے کرم سے اچھے ہاؤسنگ ایریا میں ہونے کی وجہ سے سڑکیں بہہ جانے اور گلیوں میں پانی کھڑے ہونے کا سلسلہ نہ تھا،تو جس قدر چاہتے اس موسم سے لطف اٹھا سکتے تھے۔اگرچہ ہم فقط تین ہی لوگ تھے جن میں سے دو میرے وہ بچے جنکا بچپن برسات میں بھیگتے نہ گزرا تھا سو ان کے لئے تماتتر مزے صرف شیشے سے باہر دیکھنے تک تھے اور میں فطرتا اندر سے ایک بزدل خاتون ہوں بجلی کی گرج چمک،بادوباراں میں اکیلے نکلنے سے ڈر جاتی ہوں،اب میاں صاحب پردیس میں رہ گئے تھے تو باغوں میں جھولے ڈالنے والا کوئی سین ممکن نہ تھا ۔سوائے اس کے کہ کمرے کی کھڑکیوں میں کھڑے ہو کر باہر کے نظارے کرتے رہتے تھے۔

خوش قسمتی سے میرے گھر کے آس پاس کھلتی ہر کھڑکی سے باہر کا خوبصورت موسم اور نظارہ کھل کر دکھائی دیتا تھا۔گھر کے سامنے مسجد نور علی کی پارکنگ پھولوں اور درختوں سے اٹی ہوئی تھی جو میرے گھر کی کھڑکیوں سے نظر آنے والا سب سے حسین منظر تھا ۔ہمسایوں کے گھروں پر چڑھتی بیلیں اپنی نکہت اور رنگ کی بنا پر ہمیشہ مسکراتی دکھائی دیتیں۔ان کھڑکیوں سے کئی ابھرتے سورج اور چاند وہاں کے قیام میں ہر وقت میرا آسرا اور طاقت بنے رہے۔ایک خدا کے آسرے کے بعد دوسرا سپورٹ سسٹم انہیں موسموں اور نظاروں کا تھا۔اگست ستمبر میں میں چپکے چپکے آموں کی گٹھلیاں اسی خالی پلاٹ کی جھاڑیوں میں اچھالتی رہی کہ شاید بارشوں کے بعد یہاں آم کے درخت ہی آگ آئیں ۔میرے اختیار میں کوشش تھی جو میں چپکے چپکے کرتی رہی۔

ایک بار بچوں کو سکول سے لینے نکلی تو گھر سے نکلتے موسم ٹھیک تھا۔اسکول اسی ہاؤسنگ اسکیم میں تھا جسے ہم پیچھے چھوڑ آئے تھے کہ اس ایک ماہ میں جو ہم نے اس علاقے میں گزارا بچوں کے اسکول ایڈمیشن ہو چکے تھے۔ ۔کچھ لوگ اور تجربات اتنی زہریلے ہوتے ہیں کہ انکا زرا سے وجود آپ کی زندگیوں میں سے گزرتا آپ کو ایک گہرا زخم دے جاتا ہے۔تو یہ زخم ان لوگوں اور اس تجربے کی دین تھی۔اگرچہ اب سمجھ آنے لگی تھی کہ اس زمیں پر سنگدلی،بے حسی اور بے مروتی کا فیشن ہے اور ان فیشنوں پر چلنے والے خود کو ایلیٹ کہلواتے ہیں۔ہم کیسی عجیب سی قوم بن چکے ہیں کہ ہر کفر،ہر گناہ،ہر جرم اور اخلاقی پستی،اور اپنی شخصیت اور مزاج کی ہر کمزوری اور خامی جس پر درحقیقت ہمیں شرمندہ ہو کر اسے بدلنے کی کوشش کرنی چاہیے اور دوسرے ممالک میں ایسا کیا بھی جاتا ہے مگر پاکستانکی سرحد کے اندر ہم اس پر فخر کرتے ہیں اور اسے تاج کی طرح سر پر سجاتے ہیں۔تو اس معاشرے میں ہم جیسے بیوقوف لوگ تبدیلی کے خواہاں ہیں۔تبدیلی کہاں سے آئے گی جب آپ برائی کو برائی ہی نہیں سمجھتے۔

تو اسکول کو نکلے تو موسم ٹھیک تھا مگر ہاؤسنگ سکیم کے گیٹ سے نکلتے نکلتے پانچ دس منٹوں میں ایک طرف سے کالی گھٹا اٹھی اور منٹوں میں وہیں ٹریفک میں پھنسے پھنسے چاروں طرف چھا گئی۔۔۔۔یعنی کہ سچ مچ! اب تک کتابوں میں یہ فقرہ پڑھا تھا مگر اگر ذندگی کے پہلے پچیس سال میں کبھی دیکھا تھا تو بھول چکے تھے۔اب جو دیکھا تو حیران و ششدر رہ گئی اسقدر جلدی اور اتنا اندھیرا۔ خوفناک بجلی چمکنے لگی، کڑکڑاتے بادل گرجنے لگے اور موٹی موٹے بارش کے قطرے گاڑی پر برسنے لگے۔یقینی طور پر مجھ پر خوف و ہراس طاری ہو گیا اور میں قرآنی آیات کا ورد کرنے لگی۔یوں لگا کہ جیسے ابھی بجلی خدانخواسیہ ہم پر گری اور ابھی گری۔مگر الحمداللہ خدا نے ہمیں نہ صرف ہمیں محفوظ اسکول تک پہنچا دیا بلکہ اسی آدھ گھنٹے میں کالی گھٹا آئی،گرجی چمکی اور برس کر نکل بھی گئی۔اتنی جلدی؟ اتنی جلدی بھی موسم اتنی تیزی سے بدلتے ہیں کبھی؟ جتنی تیزی سے سمارٹ فون پر ہم میڈیا بدل لیتے ہیں اتنی جلدی آ پ کے علاقوں کے موسم بدل جاتے ہیں۔یہ بات شاید اس شہر کے باسیوں نے تو کبھی محسوس نہ کی ہو مگر میرے لئے ایک واؤ کا منظر تھا۔اسی طرح اکثر راتیں اچانک گرجنے برسنے لگتیں کبھی آدھی رات کو آنکھ کھلتی تو پتا چلتا کوئی گھر کی دیواروں پر زوردار سنگباری کر رہا ہے۔یہ اولے پڑنے کا وقت ہوتا تھا۔اسلام آباد میں گزارے آٹھ ماہ میں میرے گھر کے سب موبائل اور وائی فائی اس ڈر سے ہر رات بند ہوتے تھے کہ کہیں وہ  رات میں ہونے والی گرج چمک میں آسمانی بجلی کو کیچ نہ کر لیں۔

۔انہیں بارشوں سے جن کے رومانس میں میں مبتلا تو بہت تھی مگر رات کی تنہائی میں ان کی گرج چمک سے ڈرتی تھی چناچہ رات میں اپنا کمرہ چھوڑ کر میں نے بیٹے کے ساتھ سونا شروع کر دیا۔اس لئے نہیں کہ میرے آٹھ سالہ بیٹے کو تنہا ڈر لگتا تھا بلکہ اس کی ماں رات کو بادل کی گرج چمک سے ڈر جاتی تھی اور سو نہ پاتی تھی۔شیکسپیئر کہتا ہے ناں انساں اپنے راز گونگے بہرے تکیوں کو بتا دیتے ہیں۔تو میرا تکیہ جانتا تھا کہ یہ بہادر لگتی عورت اندر سے کسقدر کمزور ہے۔

۔ابوظہبی کا موسم سارا سال ایک سا ہوتا ہے آٹھ ماہ شدید تر گرمی،دو ماہ کم گرمی اور پھر دسمبر اور جنوری میں خوبصورت موسم جس میں ہم دو تین دن جرسیاں یا جیکٹس زبردستی لپیٹ کر خود کو موسم سرما کی یاد دلانے کی کوشش کر لیتے تھے اگرچہ وہاں حقیقتا خزاں،بہار اور موسم سرما سرے سے ہی مفقود ہیں۔تماتر سال چملکتا سورج اور طویل تر دن جاری رہتے ہیں۔برااعظم عرب کے دس سالوں میں ہم موسموں کے سب رنگ بھول چکے تھے کہ وہاں صرف گرم ترین علاقوں کے درخت لگتے تھے جن پر نہ خزاں اترتی نہ بہار۔صرف انہیں پھولوں اور پودوں پر توجہ دی جاتی جو سال کے بارہ ماہ تیس ڈگری سے پچاس تک کا موسم برداشت کر سکیں چناچہ وہاں پر اکثر سبزہ گہرے رنگوں والے سخت مزاج پودوں اور درختوں کا تھا۔

پاکستان کے دارلحکومت میں صرف سبز کے اتنے شیڈز تھے کہ آرٹ کے سٹوڈنت کو سارے رنگ اپنے ماحول سے ہی مل سکتے تھے۔نومبر میں جب خزاں اترنے لگی تو وہی سبز رنگ کے پتے یوں کئی کئی رنگوں میں بدلنے لگے،درخت سبز سے لال پیلے،اور زرد گلابی پتوں کی داستاں بن گئے۔روز ایوب پارک کی شاہراہ رنگ برنگے خوبصورت پتوں سے بھری ہوتی جس پر روز ایک ملازم جھاڑو پھیرتا ان دلنشیں پتوں کو مٹی مٹی کر کے اکٹھا کر لیتا تو میرا دل چاہتا اسے روکوں کہ کچھ عرصہ ان پتوں کو انہیں شاہراہوں پر رہنے دو۔زرا خزاں مزید کھل کر اپنا تن بکھیر سکے۔مگر اس کی فوجی مزدوری تھی سو ہر حال میں اسے نبھانی تھی۔ اگلے دو ماہ میں میں کیمرہ لئے تقریبا ہر باغ اور پارک میں ان کی تصاویر بنانے کی خاطر پھرتی رہی۔میرے لئے یہ فطرت کے معجزات تھے کہ خدا نے صرف درختوں اور پھولوں پودوں پر اس قدر جادو اتار رکھا ہے جو ہمارے آس پاس کے بنی نوع انساں کے لئے سمجھنا اور دیکھنا بھی مشکل ہے۔

ہم نے پاکستان اپنی جوانیوں میں چھوڑا تھا جب کتابوں سے سر اٹھایا اور غم روزگار سر پر پڑا تو ہمیں پردیس کو نکلنا پڑا ۔اب جو ایک دہائی بعد لوٹی تو درختوں پر اور بینچوں پر کھدے ناموں اور دلوں نے خوب لطف دیا۔محبت کے یہ انداز بھی شاید بالی وڈ کی مہربانی سے ہمارے خطے کی دین ہیں جو ہم کوئی لکڑی اپنی محبت کی داستان کھدے بغیر نہیں چھوڑتے۔باع میں نو بجے کے بعد یونیورسٹیز یا کالجز سے کچھ کپلز ہاتھوں میں کتابیں تھامے چہروں پر گلاب کھلائے ان باغوں میں گھومنے پہنچ جاتے۔جوانی میں انساں کی بصیرت بڑی محدود سی ہوتی ہے،سامنے کی چیز دیکھتا ہے،ایک میٹر سے آگے کیا ہے دیکھ نہیں پاتا مگر ہماری عمروں میں جب ہم ہر طرح کے تجربات کی بھٹی سے گزر کر کندن بن چکتے ہیں تو ہمیں انہیں جوانوں کی حرکتیں ناقابل برداشت لگتی ہیں چونکہ ہم تصویر کی دوسری طرف دیکھ سکتے ہیں اور دیکھ چکے ہوتے ہیں۔ہمیں نظر آتا ہے کہ یہ بندہ گڑھے میں گر رہا ہے مگر کیا کیجیے کہ نوجوان چاہتے ہیں ان کو گڑھے میں گرنے کا موقع دیا جائے۔چناچہ اس خوبصورت واک کا تلخ لمحہ وہی ہوتا تھا جب لڑکوں کے چہرے پر فنکاری اور بیکاری اور لڑکیوں کے چہرے پر سورج کی طرح چمکتی محبت میں دیکھ لیتی تھی مگر انہیں ٹوکنے سے قاصر تھی کہ جوانی میں ایسی باتیں سمجھ کس کو آتی ہیں۔جوانی میں ہر انسان خود کو انوکھا انساں سمجھتا ہے جو اس دنیا کی ہر چیز بدل سکتا ہے۔پھر وقت اور عمر ڈھلنے تک وہ سمجھتا ہے کہ وہ تو ایک عام سا ہزاروں لاکھوں لوگوں جیسا انساں تھا جو کچھ بھی بدل نہ سکتا تھا۔۔افسوس یہ ہے کہ ہم لڑکیوں کی اکثریت کو آنکھیں اور دماغ باندھ کر ایسے پروان چڑھاتے ہیں کہ وہ سچ اور جھوٹ میں فرق کرنے سے اکثر قاصر ہوتی ہیں ۔چناچہ پھر وہی ہوتا ہے کہ کسی روز ایک مری ہوئی لڑکی کو کوئی محبوب ہسپتال کے ریسیپن پر چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے۔یہ ہے ہمارے ہاں کی سو پردوں میں چھپائی عورت کی محبتوں کی داستانیں جو پھول کلیوں کے دیس میں تتلیاں پکڑنے نکلتی ہیں اور ظالم جادوگر کے ہتھے چڑھ جاتی ہیں۔حد تو یہ ہے کہ اس دیس میں انہیں کوئی شہزادہ بچانے تک نہیں آتا۔

____________

جاری ہے

صوفیہ کاشف

 “ڈان نیوز پر جگہ کی کمی اور کمپنی کے قواعد و ضوابط کی بنا پر بہت سے لکھے پر قینچی چلا دی جاتی ہے۔مگر یہاں پر چونکہ مجھے کوئی ایسا مسلئہ لاحق نہیں اس لئے میں اپنی لکھی پوری تحریر چھاپتی ہوں ۔میرے نزدیک یہ مشاہدات بہت ہی قیمتی ہیں کیونکہ یہ وہ باتیں ہیں جو دس سال باہر رہنے والا واپس لوٹتا ہے تو فوری طور پر کرتا ہے ۔جیسے جیسے وہ یہاں رہتا چلا جاتا ہے وہ اس ملک اور معاشرے کے رنگ میں رنگتا چلا جاتا ہے اور بلآخر سب کچھ بہت اچھا لگنے لگتا ہے۔ایسے وقت میں یہ یاداشتیں ایک اچھی یاد دہانی ہیں۔__صوفیہ کاشف)

4 Comments

  1. کچھ لوگ اور تجربات اتنی زہریلے ہوتے ہیں کہ انکا زرا سے وجود آپ کی زندگیوں میں سے گزرتا آپ کو ایک گہرا زخم دے جاتا ہے۔تو یہ زخم ان لوگوں اور اس تجربے کی دین تھی۔اگرچہ اب سمجھ آنے لگی تھی کہ اس زمیں پر سنگدلی،بے حسی اور بے مروتی کا فیشن ہے اور ان فیشنوں پر چلنے والے خود کو ایلیٹ کہلواتے ہیں۔ہم کیسی عجیب سی قوم بن چکے ہیں کہ ہر کفر،ہر گناہ،ہر جرم اور اخلاقی پستی،اور اپنی شخصیت اور مزاج کی ہر کمزوری اور خامی جس پر درحقیقت ہمیں شرمندہ ہو کر اسے بدلنے کی کوشش کرنی چاہیے اور دوسرے ممالک میں ایسا کیا بھی جاتا ہے مگر پاکستانکی سرحد کے اندر ہم اس پر فخر کرتے ہیں اور اسے تاج کی طرح سر پر سجاتے ہیں۔تو اس معاشرے میں ہم جیسے بیوقوف لوگ تبدیلی کے خواہاں ہیں۔تبدیلی کہاں سے آئے گی جب آپ برائی کو برائی ہی نہیں سمجھتے۔
    واہ واہ

    Happy independence day 🇵🇰

    Liked by 1 person

    1. ہماری بالکونی میں خدشے لہلہاتے ہیں، کیاروں میں آنسوؤں کی آبیاری ہوتی ہے۔ ہم پریشانیاں کاشت کرتے ہیں اور تشویش کی روٹی کھاتے ہیں۔
      بہن ثروت کے لئے بہت پریشان ہوں۔ آج جو انہوں نے لکھا دل تڑپ اٹھا۔ اللہ تعالی ان کی فیملی کو سلامت رکھے۔ آمین

      Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.