پردیس سے دیس____14

مری ،برف باری اور نتھیا گلی:

اب جب ذندگی خاصے بہتر انداز میں ایک روٹین پر چلنے لگی تھی بچے اسکول اور اسکول کے گرد گھومتی میں۔ابھی تک سوشل سرکل میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہ ہوا تھا نہ میں نے کرنے کی کوشش ہی کی تھی۔سب سے پہلی ترجیح اس نئے ماحول علاقے اور لوگوں میں خود کو سیٹ اور محفوظ کرنے کی کی تھی۔نیچے والی آنٹی جو اپنے شادی شدہ بیٹے بیٹیوں کے ساتھ رہتی تھیں بعض دفعہ خیر سگالی کے لئے میرے پاس آ جاتی تھیں۔اگرچہ میں خود ایک بار بھی نہ جا سکی تھی۔اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ سوشل لائف کی عادت بھی نہ رہی تھی۔ذہنی طور پریشان رہی تھی،جانتی تھی کہ مجھے اب اپنے گرد ایک سوسائیٹی چاہیے مگر اس کی خاطر اتنی بیتاب نہیں تھی۔چیزیں آہستہ آہستہ بدلتی ہیں اور میں چیزوں کو آہستہ آہستہ بہتر کر رہی تھی۔اب جب تھوڑا بہت وقت نکلنے لگا تو میں نے تھوڑا بہت بچوں کو گھمانے کی طرف توجہ دی۔ابوظہبی میں دو بار باہر کھانا کھاتے تھے۔مگر پاکستان میں کوالٹی پر خاصے سوال اٹھتے رہتے ہیں اس لئے یہ ہوٹلنگ چند محدود سے علاقوں اور جگہوں تک محدود تھی۔کوشس کرتے کہ اس سے بھی گریز کریں مگر ایسا ممکن نہ تھا کہ۔گھر میں کیلوریز کنٹرول کے چکر میں ہمیشہ سادہ اور مختصر کھانا بنتا تھا۔بچوں کے کھانے کی چیزیں باہر سے آ تی رہتی تھیں۔مگر یہاں اسلام آباد میں گوشت،چکن انڈے ،گھی سمیت ہر ہر چیز کے اسقدر اسکینڈلز دیکھ رکھے تھے کہ ہر ہر چیز کو لیتے سو سو چیزیں دیکھنی پڑتیں۔

اب جو تھوڑے سے ہوش و ہواس سنبھلے تو ادھر ادھر دیکھا ۔۔میرے بچے پارکوں کے شوقین ہی نہیں تھے ۔لیکن میرے فطرت کے ساتھ بہت قریب دلی روابط تھے تو خود حسب توفیق قریب و دور کے پارکس اور باغوں میں ایک ایک چکر ضرور لگا لیا۔ایک دو بار بچوں کو لیکر مری کی طرف نکلی ہمارے علاقے سے ایکسپریس وے پر مری تک کا رستہ ایک گھنٹے کا بورنگ سفر تھا ۔ٹوٹی پھوٹی سڑک پر ٹریفک کا اژدھام اور میرے بچوں کی بے صبری بہت تنگ کرتی اس لیے یہ ایڈوینچر ذیادہ نہ کر سکی مگر دو تین چکر لگا کر بحرحال انکو اصل والئ برف باری ضرور دکھا دی۔ابوظہبی جیسے گرم علاقے میں ہر دسمبر کرسمس کے موسم میں ایک بڑی کرسچن کمیونٹی کی خوشیوں میں شریک ہونے کے لئے مالز میں نقلی برف اور کرسمس ٹری سج جاتے ،اس لئے برف کے تصور سے وہ واقف تھے مگر اصل برفباری دیکھنے کا جو درحقیقت ٹھنڈی ہوتی ہے یہ پہلا ہی موقع تھا۔

ایک رات سنا مری کی پہاڑی پر خوب برفباری ہوئی ، میں نے اگلے روز ان کو اسکول سے اٹھایا اور لیکر مری کی طرف نکل پڑی۔دراصل برفباری کتنی ٹھنڈی ہوتی ہے اس کا اصل اندازہ خود مجھے بھی نہ تھا۔ یہ خاصی مضحکہ خیز بات لگتی ہے مگر جب سالہا سال آپ نے برف باری مصنوعی لوازمات سے بنی دیکھی ہو تو اتنی مضحکہ خیز نہیں لگتی۔ہم نے سالوں سے ایسے سرد موسم دیکھے نہ تھے بچوں نے تو ذندگی میں پہلی بار موسم سرما کو دیکھا اور محسوس کیا تھا۔مجھے اپنی بیٹی کو باقاعدہ سمجھانا پڑا تھا کہ یہ موسم سرما ہے اس میں اے سی نہیں چلاتے۔

۔ایک دہائی عرب امارات جیسے گرم علاقے میں جہاں سارا سال لان کے کپڑوں میں، آسانی سے گزر جاتا ہو دسمبر میں ہم یونہی فیشن کے لئے ہلکی پھلکی جیکٹ لیکر ٹانک لیتے تھے جو دس پندرہ دن میں بیکار ہو جاتی ۔ہم خود بھی بھول چکے تھے کہ اصل سردی ہوتی کیسی ہے تو ہمارے سامان میں یہی ہلکی پھلکی جیکٹس موجود تھیں۔دستانے گرم ٹراوزر یا مفلر اور ٹوپیوں کا تو سوال تک نہ تھا سوائے بچوں کی کچھ فیشن کی چیزوں کے۔سو جو کچھ میسر تھا پہن کر مری کے پہاڑوں پر برف ڈھونڈنے نکل پڑے۔

۔

اور ایک موڑ پر ہم نے برفباری کو چھو لیا۔برف کی ہلکی پھلکی پھوار مسلسل برس رہی تھی۔ہم اپنی گاڑی سے نکلے اور برف کو چھو کر دیکھا۔یہ ایک یقینا دلفریب نظارہ تھا۔قریب ہی چائے اور ابلے انڈے بیچنے والے ٹھیلہ بھی موجود تھا۔سردی اسقدر تھی کہ بچوں کو باہر نکالتے ڈر لگتا تھا کہ کہیں بیمار ہی نہ ہو جائیں۔خود میں بھی اب اتنی جواں نہیں تھی کہ سردی نہ لگتی،بلکہ دوسروں کی نسبت مجھے کچھ ذیادہ ہی سردی لگتی، برفباری میں کھڑے ہوا جاتا،نہ چھوڑ کر گاڑی میں گھسنے کو دل کرتا۔میرے میاں صاحب موسموں کے معاملے میں ہمیشہ سے خاصے محتاط رہے ہیں اس لئے ہر چیز کو فاصلے سے احتیاط سے،محفوظ جگہ پر چھپ کر دیکھنے کی عادت سی پڑ گئی تھی ۔انسان جس کے ساتھ رہتا ہے اسی کے رنگوں میں ڈھل جاتا ہے۔سو موسموں کے ساتھ فرینک ہونے کے لئے ہمیں کچھ وقت درکار تھا۔سوچا کچھ عرصے میں یکجان ہو جائیں گے اگرچہ کچھ عرصے بعد ہم پھر اپنے راہوں پر لوٹ چکے تھے۔

۔

بحرحال کچھ دیر اس برفباری میں گزارا چائے پی، ابلے انڈے کھائے اور برف باری کے مزے لئے۔ڈرائیور ہمارے مکمل علم کا مرکز تھا۔ اس نے بتایا کہ شاید آگے رستے بند ہو گئے ہوں گاڑی پھسلنے کا خطرہ ہے۔اپنے لئے تو موت کے کنویں میں بھی گاڑی لیکر اتر سکتی تھی مگر بچوں کے ساتھ کوئی رسک لینے پر تیار نہ تھی۔چناچہ اس تاریخ میں ہم نے خدا کی اسی کرم نوازی پر شکر ادا کیا کہ اس نے ہمیں یہ خوبصورت وقت اور لمحات دکھائے اور واپس دو گھنٹے کی مسافت پر واقع اپنے گھر کو لوٹے

مختلف اوقات میں نتھیا گلی اور بھوربن تک میاں کے ساتھ ان کی محدود سی چھٹیوں کا فائدہ اُٹھا کر برفباری کا تعاقب کیا۔اس سے آگے میرے لئے تنہا ناممکن تھا۔پاکستان جیسے ملک میں اکیلی عورت جس کے پاس سیلف ڈیفیس کی تربیت ہونا تو دور کی بعد عموما اسے کسی کو سڑک پر تھپڑ مارنا تک نہیں سکھایا جاتا ایک محدود حد تک سروائیو کر سکتی ہے۔اور وہ حد عورت کو خود ہی سمجھنی پڑتی ہیں ورنہ اس دنیا میں تو شاید اس طرح نہیں مگر پیارے پاکستان کی سرحد میں جابجا چھوٹے بڑے بھیڑیے ہر نکڑ پر بیٹھے ہیں جو آپکے ذہنی سکوں سے لیکر ذندگی تک ہر چیز حسب توفیق غارت کرنے میں ایک منٹ نہیں لگاتے۔اور اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کہ جس ریاست میں قانون کا ڈنڈا سختی سے چلتا نہ ہو وہاں ہر کوئی درندہ ہی ہوتا ہے۔میں نے بھی بہت محتاط طریقے سے اپنی حدیں طے کر رکھی تھیں جن میں رات میں گھر سے نہ نکلنا،بننے سنورنے کا غیر ضروری استعمال نہ کرنا، کندھوں پرچادر کا استعمال، اور بچوں کے ساتھ شہر سے باہر تنہا سفر نہ کرنے جیسی باتیں شامل تھیں۔اپنی سلامتی میں اضافے کے لئے میں اکثر بیشتر نوافل بھی پڑھتی رہتی تھی جن سے میرے حوصلے میں اضافہ رہتا تھا۔

پورے قد سےمیں کھڑا ہوں تو یہ ہے تیرا کرم

مجھے کو گرنے نہیں دیتا سہار تیرا

ڈان نیوز پر پڑھیں

اس شہر نے مجھے مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا تھا۔شروع کے کچھ ماہ کی مشکل در مشکل نے اور حالات و احباب کی دی پریشانی نے میرے اعصاب شل کر دئیے تھے۔پردیس کی تنہائی سے مجھے ہمیشہ گلہ رہا تھا کہ اس نے میرا چہرے کے مسلزکو سخت کر کے میری لاف لائن ختم کر دی ہے۔اسلام آباد نے مجھ سے میری مسکراہٹ تک چھین لی تھی ۔خوبصورت موسموں اور نظاروں نے مجھے فرحت بھی بخشی تھی مگر معاشرہ اور لوگ ابھی بھی مجھے متوجہ نہ کر سکے تھے۔میں دس سالوں میں سیکھی ہوئی تنہائی کی عادت کو ابھی تک چیلنج نہ کر سکی تھی اور سچ تو یہ ہے کہ مجھ سے شاید میرے خاندان کا کوئی فرد کوئی ایسا چاہتا بھی نہ تھا۔ میکے اور سسرال کے اکثر افراد اسی فکر میں غلطاں رہنے لگے تھے کہ میں جانے کہاں پھرتی ہونگی ،کس سے ملتی ہونگی کہاں آتی جاتی ہونگی۔اور میں یا گھر میں پڑی رہتی تھی یا ذیادہ سے زیادہ پارک میں نکل جاتی تھی۔میرے بچے پارکوں سے بھاگتے تھے وہ اپنے الگ کمروں میں، کتابوں اور کھلونوں میں خوش رہتے تھے۔ان کو پارک تک لانے کے لئے محنت کرنی پڑتی تھی، دھکا لگانا پڑتا تھا جو آخر تھک کر میں نے لگانا چھوڑ دیا اور اکیلے ہی یہ عیاشی شروع کر دی۔پارک کے پودوں پھولوں کے بیچ گزارا یہ وقت ہی میری کل کمائی تھا جس میں ،پھول اور کلیاں پتے اور کتے (اصل والے آوارہ کتے)ایک دوسرے کے ساتھ محو گفتگو رہتے۔ایوب پارک کے لوگ اور ہمارے علاقے کے پارک کے ریگولر وزٹرز شاید سوچتے ہونگے کہ یہ عورت اکیلی روح کی طرح پھرتی رہتی ہے۔ میرے کندھے ڈھیلے ہو کر لٹک گئے تھے،میں نے خود پر توجہ دینی بالکل محدود کر رکھی تھی۔میاں صاحب ساتھ نہیں تھے تو دیسی دماغ کہتا تھا سج سنور کر کیا کروں گی۔ابھی تک میری روح کی بالیدگی اس لیول تک نہ پہنچ سکی تھی جو کہہ سکے میں صرف اپنے لئے مسکرا سکتی ہوں۔میں جس معاشرے میں اتر چکی تھی اسے انتہائی سنجیدگی سے لے رہی تھی۔اس لئے بھی بننا سنورنا میری ترجیحات میں سے نکل چکا تھا۔میں چادر لپیٹتی اور باہر نکل جاتی۔۔ڈیور اور ڈولے اینڈ گبانا کے نئے خریدے ہوئے شیڈز پڑے پڑے بوڑھے ہو گئےتھے۔چہرے پر اور بھی ذیادہ سنجیدگی اور خموشی اتر آئی تھی۔بلکہ کبھی کبھی تو مجھے خود پر ترس آ جاتا کہ یار اس دنیا میں کسی چیز کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میں خود سے کسقدر بے نیاز ہو چکی ہوں۔

کبھی کبھی میں سوچتی ہوں میرے آس پاس کے لوگ اس بات سے ڈرتے تھے کہ میں ذندگی کو بہت ہی والہانہ انداز میں گزار رہی ہوں ۔کوئی نہیں جانتا میں تو خود اپنی ذات میں ایک چڑی مڑی سی چڑیا ہوں جو اپنے محفوظ گھونسلے میں رہنے کی عادی ہے۔اگر جو میں ذندگی ویسے جیتی جیسے دنیا مجھ سے توقع کر کے خوفزدہ رہی تو وہ یقینا ایک بہترین ذندگی ہوتی۔افسوس میں نے دنیا کے چیلنج کو قبول نہ کیا ورنہ صورتحال بالکل مختلف ہوتی۔

مستنصر حسین تارڑ کے مطابق اپنے ملک کے پہاڑوں میں بھی انساں اکیلا نہیں ہوتا،اس کے پیروں تلے آنے والے پتھر تک اسے پہچانتے ہیں۔تو سماجی طور پر خاصی تنہائی کے باوجود میرے آس پاس گلاب تھے املتاس ، بادام اور خوبانی کے خوبصورت سفید اور گلابی پھولوں سے بھرے درخت تھے۔میپل کے رنگین پتے میرے اوپر برستے تھے جب میں سرخ شاہراہ پر ان کی ذمیں پر بکھرے ساتھیوں کو کچلتی چلتی تھی۔یہ خشک پتے ہی ہوتے ہیں جو کچلے جاتے ہیں اور پھر بھی موسیقی تخلیق کرتے ہیں۔آس پاس کہ لوگ مجھے دیکھ کر کیا کہتے ہیں یا کیا سوچتے ہیں مجھے کبھی خبر نہ ہوئی۔میں نے ہمیشہ یہی سمجھا کہ مجھے کوئی دیکھ نہیں سکتا،مجھ سے کسی کو کوئی غرض نہی۔اور مجھے اس سوچ نے آس پاس کے انسانوں سے بے نیاز رکھا۔

چلتے ہوئے میرے اندر ایک کم عمر لڑکی ان رستوں پر ہمیشہ گاتے گنگناتی ، بل کھاتی چلے جاتی اور میں محض اس کے خیال پر ہی مسکراتی رہی۔یہ وادیاں یہ پربتوں کی شاہزادیاں۔میں نے خوبصورت وادیوں کے بارے میں جتنے گانے سن رکھے تھے وہ میری سماعتوں میں بجنے لگتے۔اور میں فطرت کی سرگوشیوں میں اس قدر منہمک ہوتی کہ مجھے اکثر خود پر چیک اینڈ بیلنس رکھنا پڑتا کہ میں آہستگی سے چل رہی ہوں کہیں گانے گاتی،بازو پھیلاتی بھاگ تو نہیں رہی۔۔۔۔ !

میں نے ذندگی سے شاید تنہائیوں کو انجوائے کرنا سیکھ لیا ہے اور ذندگی کے دس سال بعد اس ایک سال کے تجربے نے مجھے بتایا کہ میں ان میں سے کندن بن کر نکلی ہوں۔اب تنہا اپنے بل بوتے پر رہنا میری طاقت بن چکا ہے۔

تحریر و تصاویر

صوفیہ کاشف

19 Comments

      1. آپ کے پاس روپیہ پیسے کی کمی نہی تھی پھر بھی آپ کو اتنی مشکلات سے گزرنا پڑا۔ ذرہ ان لوگوں کا سوچیں جو پاکستان میں کام کر کے فیملی کو پالتے ہیں۔ لوگ دو دو جابز کرتے ھیں پھر بھی پورا نہی پڑتا۔ اس لئے لوگ سنگدل ہو گئے ہیں۔ میں پاکستان جاتا ہوں تو کبھی لوگوں پر ظاہر نہی کرتا کہ بیرون ملک رہتا ہوں اور خیریت سے واپس کینیڈا آ جاتا ہوں کیوں کہ لوٹ مار بھی وہاں کچھ لوگوں کی جاب ہے۔
        Very nice blog 💯

        Liked by 1 person

        1. غریب کا بھی حال سن لیں۔میں ایک دو سالن پکا کر فریز کر لیتی ہوں ہوں اور ہم سب تین چار دن کھا تے رہتے ہیں اسطرح میں ہمیشہ اپنے کچھ وقت کی مینجمنٹ کرتی ہوں تا کہ کچھ وقت پڑھنے لکھنے کے لئے نکل سکے۔مگر پاکستان میں وہی سالن جو خود کھا رہے ہوں دوسری، تیسری دفعہ ڈرائیور یا ماسی کو دو تو کوئی نہیں کھاتا چاہے کڑاہی ہی ہو کہ ہم سے ایک سالن دوسرے وقت نہیں کھایا جاتا۔سالن ضائع کر دیں گے کھائیں گے نہیں۔۔ پھر یاد آتا ہے کہ اسرائیل کے قوم من و سلوی سے اکتا گئی تھی کیسی قوم تھی۔۔۔۔تو ہر غربت اور مفلسی آسمان سے نہیں اتری ہوتی بہت سی انسانوں کی ناشکری کی بنا پر بھی ہوتی ہے۔ایسے ہی تو نہیں پاکستان میں ہر طرف قیامت برپا۔قوموں کے اعمال سبب ہوتے ہیں ان پر طاری ہونے والے قہر کا!!!

          Liked by 2 people

  1. Brilliant piece of literature. Please keep on writing. I am a literary critic. I feel that you are not aware of the fact how big your work “پردیس سے دیس”is! You look on Pakistan with two angles; as a foreigner & as a Pakistani. Your precious tears are product of this dichotomy, Once again please keep on writing.

    Liked by 1 person

    1. I could write the story,and I did my utmost painful effort to write it down.The tears ,of course add depth not only in write up but also in life.
      I did my best to write as honest as possible may be it adds a bit more spice into it.thanks for your kind regard!

      Like

  2. ڈان پر قسط وار آپکی کہانی پڑھی تو مجھے لگا کہ آپکو ایک بات بتا دی جائے کہ کہاں آپکی پلاننگ میں خامی تھی ۔ آپ کا اپنا گھر نا ہونا آپکی پلاننگ کی سب سے کمزور کڑی تھی میڈم ۔ میں بھی آپکی طرح 20 سال سے سعودی عرب میں پردیسی ہوں ہمارے بھی یہی سپنے تھے اور ہیں کہ ایک دن اسلام آباد میں میں جا کر آرام سے رہیں گے ۔ لیکن ہم نے ابتداؑ اپنی زمین لینے سے کی تھی 2017 میں ہم نے زمین کا ایک ٹکڑا خرید لیا تاکہ جب واپس جائیں تو پہلے اپنا گھر ہو تاکہ ہم سکون سے رہ سکیں آپکی پلاننگ میں اپنا گھر نا ہونا سب سے بڑی پرابلم بنا آپکو سب سے زیادہ تکلیف اسی وجہ سے ہوئی کیونکہ آپ نے کرائے کے گھر سے شروعات کی ہر طرف گھر ڈھونڈھتی پریشانیوں میں گھر گئیں جسکا افسوس ہے ۔ لیکن زرا سوچیں اگر آپکا اپنا گھر ہوتا اور وہ کنٹینر کا ٹرک آپکے گھر جا کر اترتا سیدھا تو کیا آپکو اتنی تکلیف ہوتی ؟۔ صرف ایک بار سیٹ کرنا ہوتا اور پھر آپ ساری زندگی آرام سے رہتیں وہاں ۔

    Liked by 1 person

    1. بعد میں انسان سوچنے کے لئے ہی تو رہتا ہے۔خدا کرے آپ کی امیدیں کبھی ناامیدی میں نہ بدلیں اور کبھی آپ کو یہ کہنا نہ پڑے کہ ہم سے سمجھنے میں غلطی ہوئی!
      مکمل سلامتی اس معاشرے کے افراد پر بھی منحصر ہے جن کے بیچ میں آپ نے رہنا ہے۔انسانوں پر بھی انسانوں کا کوئی حق ہوتا ہے۔یہ ایک بہتر انسانی رویہ نہیں کہ کہ کوئی ہمیں تکلیف نہ دے اس لئے ہمیں ہر چیز اپنی خرید اور بنا لینی چاہیے۔یہ تو ایسا ہی ہے ناں جیسے کہاجائے کہ کہ عورت کو گھر میں رہنا چاہیے تا کہ کوئی مرد اسے تنگ نہ کرے۔۔۔۔۔۔بحرحال پاکستانی معاشرے کے مطابق آپ کی رائے میں کافی وزن ہے!

      Like

  3. Reading your experience in the daily newspaper the Dawn, realistic and quite straightforward picture is depicted of the prevailing social fall of our country. We human beings can understand others sorrow better only when we have gone through same experiences! I can reflect on some of these experiences as well. May Allah make things easy for you andfor your family. Ameen!

    Liked by 1 person

  4. Highly commendable write up. Read your articles on Dawn.
    Unfortunately this is the story of so many Pakistani Expats who have either returned or planning to return to our beautiful Pakistan. At times its good to share to ease your own sufferings. You have the guts, the skills to write but millions like me, can’t even vent out their frustration and stress. Why can’t people back home understand our difficult lives abroad, our stress, our homesickness and the list goes on and on. How can our blood relatives, our dearest and nearest even change for materialistic benefits. This is a very common social evil in our society and probably has become an essential part of our genetics unfortunately. We leave our closest ones to make them happy and at the end of day, they leave us when we do need them. May Allah be with all of us. Ameen

    Keep writing and be blessed. Ameen

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.