پردیس سے دیس___(15)


سترہ مارچ 2020 کی رات بارہ بجے کا وقت تھا جب میں لاونج میں رکھے صوفے پر بلآخر دو گھڑی کے لئے تھک ہار کر گری تھی ۔اس صوفے پر جسے ہم میاں بیوی نے یہی کوئی آٹھ ماہ پہلے پاکستان شفٹ ہونے کے ابتدائی دنوں میں پہلی نظر میں نہ صرف پسند کرکے خرید لیا تھا بلکہ اپنی مرضی کے رنگ ڈیزائن کے کشن بھی اس کے ساتھ پورے کمرے کےانٹیریرز کے ساتھ ملا کر بنوائے تھے تبھی جب ہم اپنا خوابوں کا گھر بنانے کے بالکل ابتدائی مراحل میں تھے۔مجھے احساس تھا شاید اس پر میں آخری بار بیٹھی ہوں۔مگر یہ احساس اسقدر اٹل سچ ہو گا مجھے اس کا اندازہ نہ تھا۔میں سر پر ہاتھ رکھ کر لیٹی تو ساتھ ہی میری آنکھوں میں پانی بھر آیا تھا اور میں پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی تھی۔دو جگہ ہی انساں کے لئے رونا آساں ہوتا ہے ایک جب وہ تنہا ہو یا پھر اپنے رب کے سامنے ہو۔میں تنہا تھی اور اپنے حال پر کھل کر رونے پر قادر تھی۔مجھے کیا خبر تھی کہ جس سفر کا انجام آنسو بہانے سے ہوا تھا اس کی انتہا بھی آنسوں پر ہی ہو گی۔مگر میرے صبر کی انتہا ہو چکی تھی۔۔

۔میں گھر کی ہر شے پیک نہیں کر سکتی تھی۔ایک کنال کے فلورپر ہر کمرہ سامان سے بھرا تھا جب کہ میرے پاس ساتھ لیجانے کے لئے محض سو کلو کی گنجائش تھی۔کپڑے اور جوتوں کے علاؤہ تھوڑی سی کتابیں اور کچھ کچن کا سامان ہی ساتھ پیک کر پائی تھی۔صبح دوبئی کی طرف واپسی تھی اور مجھے  شاید ہمیشہ کے لئے اپنے سازوسامان سے بھرے اس گھر سے اور اس شہر سے اڑ جانا تھا۔کوئی نہ جانتا تھا کہ واپسی ہو گی؟ ہو گی تو کیسے اور کہاں ہو گی۔ خوابوں کا گھر بنانے کے چکر میں ہم دس سال کی سب کمائی اور سامان سمیٹ کر پاکستان لوٹے تھے اور اب سب کچھ ادھر ہی چھوڑ کر واپس جا نے پر مجبور تھی۔

میں ضروری جوڑے سمیٹتی ،چیزیں اٹھاتی اور پھر واپس رکھ دیتی کہ اب ان میں سے میں واپس کچھ نہ لیجا سکتی تھی۔ اس بات کی اذیت کا اندازہ صرف وہ لگا سکتا ہے جس نے اپنے کپڑے جوتے چھوڑ کر گھر بنایا ہو،سونا چاندی زیورات ،میک اپ کے ساماں کی بجائے گھر کا فرنیچر لیا ہو،کئی کئی ماہ پیسے جوڑے ہوں اور پھر جا کر ایک ایک کتاب اور اس کے لیے الماری خریدی ہو،اور آخری دن وہ ایک کتاب،ایک الماری دو کپ اور دو چادریں تک اپنے ساتھ نہ لیجا سکتا ہو۔جب لوگ کہتے ہیں کہ انساں کو سب کچھ ادھر ہی دنیا کے لئے چھوڑ جانا ہے تو ہم کبھی نہیں سوچتے کہ یہ عمل کسقدر تکلیف دہ ہے۔ذندگی میں اس روز یہ میں نے پہلی بار جانا کہ بہت محنت سے بنائی ہوئی ذندگی چھوڑ کر خالی ہاتھ چل دینا کسقدر تکلیف دہ ہے۔اب جان چکی تھی اور اندھیرے کمرے کے صوفے پر گری پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی ۔ مگر یہ رونا یہیں تک نہ تھا۔مجھے اس سے آگے بھی اس نیک عمل کے لئے بہت سی وجوہات ملنے والی تھیں۔۔

اگرچہ میں اسی سارے عمل سے 2008 میں بھی گزر چکی تھی مگر تب ہم جواں تھے،ذندگی کا آغاز تھا،اب ہم تھک چکے تھے،ذندگی بنا بنا کر بے حال ہو چکے تھے،اب بار بار ایک ہی کام کرنے کی ہمت نہ رہی تھی۔

پچھلے آٹھ ماہ میں اتنے جھگڑوں اور مسائل میں ہم پھنس چکے تھے،اتنے ناراضگیوں بھرے فون سن چکے تھے،کہ میاں صاحب کے ہاتھ کھڑے ہو گئے تھے۔بس اب واپس آ جاو! ان کا کہنا تھا! میں روز نئے سرے سے سمجھانے کی کوشس کرتی کہ کس قدر محنت سے ذمیں پر قدم جمائے ہیں ۔ان آٹھ ماہ میں یہاں تک آنے اور گھر بنانے میں،لاکھوں خرچ چکے ہیں،اب بہتر ہے ذندگی کو یہیں سے آگے چلنے دیں۔مگر اس بار میاں صاحب بھی ایک ہی بیان پر کھڑے تھے۔واپسی! جب بازاری شوارموں سے دل بھر چکا ہوں،ہزار طرح کے شکایتی فون اور باتیں سن سن کر کان پک چکے ہوں اور وضاحتیں دے دے کر زباں بے حال ہو گئی ہو ، روزانہ شام کو وڈیو کال پر بچے پڑھا پڑھا کر پاکستانی تعلیمی اداروں سے جی بھر چکا ہو تو بیگم کی بات پر کان دھرنا پاکستانی شوہر کے لئےایسی بھی خوبصورت آپشن نہیں رہتی۔جب تک میں منانے کی کوشش میں لگی تھی کرونا چائنہ سے نکل کر پاکستان پہنچ چکا تھا ۔ سکولز ایک ماہ کے لئے بند ہو گئے۔

لگتا  تھا کہ اسکول جلدی  نہ کھل سکیں گے۔ اسکول نہیں تھے تو اس شہر میں قیام کی کوئی وجہ نہ  تھی۔ جب میاں واپسی ملتوی کرنے کو راضی نہ ہوا تو میں نے بھی سوچا کہ واپس جانا ہی ٹھہرا تو پھر مئی کا انتظار کیوں وہ بھی ایسی صورتحال میں جب کورونا کے خوف نے دنیا کو جکڑ رکھا ہو ۔اٹلی کی تصاویر سوشل میڈیا پر چل رہی ہوں جہاں ڈھیروں ڈھیر لوگ سڑکوں پر مردا حالت میں پڑے دکھائی دے رہے تھے۔۔ہم بھی اسی ہراس میں مبتلا تھے۔جو صورتحال دکھائی جا رہی تھی اس سے لگتا تھا کہ کورونا پاکستان میں پھیلا تو شہر کی گلیاں خدانخواسیہ لاشوں سے اٹ جائیں گئیں۔اور اس شہر میں دو بچوں کے ساتھ میں اکیلی۔سو اس سے پہلے کہ فلائیٹس بند ہو جائیں جو دھڑا دھڑ یک بعد دیگرے پوری دنیا میں بند ہو رہی تھیں ،واپس جانے کی ٹھانی تا کہ  ہم کم سے کم ایک شہر میں اکٹھے ہو سکیں۔

واپسی ؟ جبکہ اپنا سارا گھر اورذندگی سمیٹ کر میں اب دوبارہ پاکستان لا چکی تھی ۔اب واپس جائیں تو کرایے کا گھر ،گھر میں بھرا سامان۔گھر خالی کر دیں سامان کیا کیا کریں۔یہ پھر سے ایک آسان فیصلہ نہ تھا

میاں صاحب چاہتے تھے سارا سامان مناسب قیمت پر بیچ دو ں،میں یہ قطعی نہیں چاہتی تھی۔گلف میں آپ کو کوئی نیشنیلٹی نہیں ملتی،چناچہ عمر بھر کے تحفظ کی قطعی کوئی ضمانت نہیں ہوتی۔خصوصا کرونا کے ساتھ ہی اچھا خاصا معاشی بحران اوپر چڑھتا کھلے عام دکھائی دیتا تھا اور پچھلے دس سالہ تجربے کی بنا پر ہم جانتے تھے کہ اس معاشی بحران کے سبب ہزاروں ایشیائی باشندوں کی گردنوں پر دھرا دھر چھری پھرے گی،اور سب سے پہلے انہیں ہی دیس نکالے دیے جائیں گے۔ایسے میں بنا بنایا گھر چھوڑ کر خالی ہاتھ ہو کر ایسے شہر میں لوٹنا جس کی دہلیز پر معاشی بحران کھڑا گرج برس رہا ہو اور امان کے امکانات خاصے محدود ہوں ،لاکھوں کی چیزیں ہزاروں میں بیچ کر اس امید پر چلے جانا کہ اب عمر بھر نہیں لوٹنا ایک غلط فیصلہ تھا۔میاں کو راضی کیا کہ سامان کسی چھوٹے گھر میں شفٹ کر کے تالا لگا دیتے ہیں۔

پھر سے سڑک پر نکلی،گھر ڈھونڈنے۔سوچا جب آئیں گے رہنے کا ٹھکانہ ہو گا۔ساماں محفوظ ہو گا کوئی وسیلہ بن گیا یا شاید گھر بن جائے تو سامان کم سے کم محفوظ ہو گا۔پھر سارا علاقہ کئی دن لگا کر گھومی،ایک چھوٹی سی بیسمنٹ ڈھونڈی۔سیکورٹی اور ایڈوانس کرایہ دیا اور چابیاں لے لیں۔

اعصاب شل ہو چکے تھے اور وقت بھی محدود تر تھا اب پھر سے شفٹنگ کرنے کی ہمت نہ تھی۔ایک  رشتے کا بھائی جو شہر میں تھا اسے بلا کر زمہ داری دی کہ ہمارے ڈرائیور اور ملازم کو ساتھ لیکر ہمارے جانے کے بعد سامان کی شفٹنگ کروا دے۔خاندان بھر کو پچھلے آٹھ ماہ سے اعتراض تھا کہ مردوں کے کرنے کے کام میں خود کیوں کر رہی ہوں۔۔آخر آٹھ ماہ میں پہلی بار ایک مرد کو بلا کر سارا کام سونپا۔ ۔ذندگی سے لوگوں سے حالات سے مزید الجھنا اورلڑنا مشکل تھا۔

واپسی کا سفر بہت تھکا دینے والا تھا جب دماغ تھک چکے ہوں اور انسان سو حصوں میں بکھر چکا ہو تو تین گھنٹے کا سفر بھی صدی سے بڑھ جاتا ہے۔سو دبئی ایئرپورٹ پر اترنے والی آخری فلائیٹ سے اترتے میری حالت کسی لٹے پٹے قافلے سے برتر نہ تھی۔ہم جنگی علاقے سے نہ لوٹے تھے مگر ہماری حالٹ کسی جنگ میں تباہ حال افراد سے بڑھ کر نہ تھی۔ہم محض جانیں بچاکر لوٹے تھے۔میاں صاحب سے میں مکمل خفا تھی کہ واپسی کی ضد کرتے وہ بالکل فراموش کر بیٹھے کہ اس کوشش میں میں نے کیسے خود کو ہلکان کیا تھا۔

“میرا پیسہ ہے ناں میں اور لگا دوں گا”

ایسا کہتے شوہر بھول جاتے ہیں کہ صرف پیسوں سے گھر نہیں بنتے اس میں جب تک کسی عورت کا خون پسینہ ،محبت اور جدوجہد شامل نہ ہو۔تو جب اس کی کوشش کے بغیر گھر بن نہیں سکتا تو اسے اجاڑتے یا ڈبوتے اس کی رضا کو مدنظر کیوں نہیں رکھا جاتا؟

یہاں سے لکھنا بہت ہی مشکل ہے۔۔بس قلم یہیں آ کر پھنس جاتا ہے۔کیا ہم زندگی کے تمام سچ کاغز پر لکھ سکتے ہیں؟ شاید نہیں؟ پورے سچ اگر کاغز پر اتر سکیں تو یا تو قلم جل جائے یا کاغز بڑھکنے لگے۔

سفر ختم ہوا تھا مگر عزاب نہیں۔اگلے ہی روز سے دوبئی ایئرپورٹ فلائیٹس کے لئے بند ہو گیا تھا۔۔

دبئی ذمیں پر اترتے ہی خبر ملی کہ میرا گھر نیلامی پر لگ چکا ہے جو کوئی چاہے کم سے کم قیمت دیکر جو چاہے لے جائے۔جس گھر کی دہلیز سے میں نے کبھی کسی کو گزرنے نہ دیا تھا وہ دکان بن چکی تھی جس میں گاہک دندناتے پھرتے تھے۔ رشتے کے بھائی کو سامان اگلے گھر شفٹ کرنے کی بجائے بیچنے میں ذیادہ دلچسپی تھی۔۔ چناچہ اس نے میری ساری محنت کو آگ لگانے کا فیصلہ کیا تھا۔لاکھوں کی چیزیں آدھی قیمت پر بھی نہیں کوڑیوں میں بک رہی تھیں۔

میں پہلے ہی بے حال بیٹھی تھی،اب اتنی دور اور بے بس تھی کہ چیخنے چلانے اور اجڑ جانے کے سوا کچھ نہ کر سکتی تھی۔لوگ کہتے ہیں سب مادی چیزیں ہیں،کوئی جانتا ہے ایک ایک مادی چیز عورت گھر میں بھرتے کتنے عرصے سپنے دیکھتی ہے،کیسے پیسہ پیسہ اس کے لئے چلتے پھرتے جوڑتی ہے،اور خالی دیواروں کے اندر وہ مادی چیزیں بھرتی ہے جن سے اس کی اور اس کے گھر والوں کی ذندگیاں آساں اور خوبصورت ہو سکیں۔تو آج میری یہ ساری پچھلے چودہ سال کی محنت چوراہے پر بک رہی تھی۔

میں بےحال ہو کر کبھی میاں سے جھگڑتی کبھی باپ سے کبھی بھائی سے۔میری عمر بھر کا اثاثہ اجڑ رہا تھا مگر ذمہ داری کوئی نہ لے رہا تھا۔۔۔۔۔

ایک ہی دن میں سجا سجایا بنا بنایا گھر کسی لٹے ہوئی دکان کی طرح خالی ہو گیا۔کرایے پر لیے گیے نیے پورشن تک کسی نے جانے کی زحمت نہ کی۔الٹا جو سیکورٹی اور ایڈوانس کا ڈپازٹ دیا تھا وہ بھی گیا۔میرا ملازم جو ہر ہر وقت میں سامان خریدتے ، اٹھاتے رکھتے،سجاتے ہر اچھے برے وقت میں میرے ساتھ رہا تھا فون پر بلک پڑا! بولا:

“باجی! تباہی پھر گئی ہے!”

اس دن میں نے دیکھا کہ مرتے ہوئے انساں پر گدھ کیسے ٹوٹ پڑتے ہیں۔میں مری نہ تھی بس سرحد پار گئی تھی کہ میرے سارے گھر کے ساماں کو مال غنیمت سمجھ کر لوگ ٹوٹ پڑے تھے۔کیا خونی رشتے،کیا دوست اس حمام میں سب کے سب ننگے تھے۔(کیا یہ بتانا ضروری ہے کہ ایسا پہلی بار نہ ہوا تھا؟ کہ جب ذندگی میں پہلی ہجرت کی تھی تب بھی ہمارے سامان کا یہی حشر ہوا تھا۔ہم سے محبت کے دعوے دار ہمارے پردیس جانے کو اکثرہماری موت سے کم نہیں گردانتے۔۔۔)

ڈان نیوز پر پڑھیے

مجھے ایک ہی دن میں اللہ نے جیسے دنیا الٹ کر دکھا دی تھی۔ایک ہی دن میں میں یوسف بن کر کنویں میں پھینکی گئی تھی۔۔۔دکھ مادی چیزوں کا ہوتا تو بھر جاتا،دکھ تو بھائیوں کا بھی تھا،رشتوں کا بھی تھا،ان محبتوں کا بھی تھا جن کے میٹھے خوابوں کو ہم اتنے سال یاد کرتے اور آہیں بھرتے رہے تھے۔

ہمارے وہ عزیز رشتہ دار جن کے ذکر پر ہم باہر رہتے ہوکے بھرتے ہیں،نظمیں اور مرثیے لکھتے ہیں،اور ان محبوب رشتوں کو یاد کرتے ہیں جنہیں ہم اپنے دیس چھوڑ آئے تھے وہ اس قدر سنگدل اور ظالم ہو سکتے ہے میں نے ایک ہی دن میں جان لیا تھا۔اور یہ ادراک اس قدر تلخ تھا کہ اگلا پورا سال مجھے قطرہ قطرہ کر کے گلے سے اتارنا پڑا۔پردیس میں رہتے دیس کے میٹھے میٹھے سپنے اور عزیز و اقارب کی افسانوں جیسی محبتوں کی یاد ہم پر سب سے ذیادہ ظلم کرتی ہے کیونکہ یہ ہمیں حقائق سے واقف نہیں ہونے دیتی۔واقف تب ہوتے ہیں جب ہم سب کچھ لٹا کر اس سراب کے پیچھے نکل پڑتے ہیں اور بلآخر خود کو اندھے کنویں میں پاتے ہیں۔

ہر کوئی آپ سے اپنی اپنی ضرورت کی چیزیں اور مفادات لے جاتا ہے اور آپ کو چھوڑ جاتا ہے۔جب انساں بے بس آنکھوں سے صرف لوگوں کے اصل چہرے دیکھ سکتا اور اپنے آپ پر ماتم کر سکتا ہے کہ یہ تھے وہ رشتے ناطے،محبتیں،غرور،اور سہارے جن پر ساری عمر وہ غرور کرتا رہا جن کا جھوٹا سہارا ساری عمر وہ اپنے ساتھ سمجھتا رہا اور ان کو ڈھونڈتا رہا۔جب انسان تہی دامن ہو جاتا ہے ہر چیز،ہر رشتے ہر واسطے سے محروم ہو جاتا ہے،تب وہ سب کچھ دیکھ سکتا ہے جو دوسرے لوگ دیکھ نہیں پاتے۔ایسا وقت عموما موت کا ہوتا ہے۔ اگرچہ وہ وقت میری موت کا نہیں تھا مگر مین نے وہ سب جیتے جاگتے ذندگی میں دیکھ لیا۔

پردیسی پن ایک کیفیت ہے جس کے لیے آپ کا پردیس میں ہوناضروری نہیں ہوتا بس آپ کے پاوں کے نیچے ذمین نہ ہو، کوئی ٹھکانہ نہ ہو،کوئی اپنا نہ ہو، تو انساں پردیسی پو جاتا ہے۔تو ہم نے جانا ہم تو ہر طرف ہی پردیسی تھے۔

اس دوسری ہجرت میں ہر رشتہ،دوستی،محبت سب چھوٹ گیا۔اس بار میں اپنے کندھوں سے ساماں کے ساتھ رشتے، یادیں، دوست ،محبت ،سب کچھ چھوڑ کر صرف درد دبئی لا سکی تھی۔

لوگ کہتے ہیں سب مایا ہے،سب جھوٹ اور دھوکہ ہے۔اس روز میں نے جانا،سب جھوٹ اور دھوکہ ہے۔رشتے بھی،دوست بھی، محبت بھی! کہیں تو بہت ہی آسان فقرہ ہے مگر دل پر یہ راز تب اترتا ہے جب خود دل ریزہ ریزہ ہوجاتا ہے۔سب وہ لے گئے جو ان کو چاہیے تھا میرے وجود سے غرض میرے میاں اور بچوں کو تھی۔ سو دبئی میں   ہم چار لوگ محض ذندگیاں بچا کر خالی ہاتھ پھر سے اکٹھے ہوئے اور 2008 کی طرح سے دوبارہ فرش پر پھینکے تین گدووں  اور  قرض کے بوجھ کے ساتھ  اگلی ذندگی کا  آغاز کیا۔

صوفیہ کاشف


 (ڈان نیوز پر جگہ کی کمی اور کمپنی کے قواعد و ضوابط کی بنا پر بہت سے لکھے پر قینچی چلا دی جاتی ہے۔مگر یہاں پر چونکہ مجھے کوئی ایسا مسلئہ لاحق نہیں اس لئے میں اپنی لکھی پوری تحریر چھاپتی ہوں ۔میرے نزدیک یہ مشاہدات بہت ہی قیمتی ہیں کیونکہ یہ وہ باتیں ہیں جو دس سال باہر رہنے والا واپس لوٹتا ہے تو فوری طور پر کرتا ہے ۔جیسے جیسے وہ یہاں رہتا چلا جاتا ہے وہ اس ملک اور معاشرے کے رنگ میں رنگتا چلا جاتا ہے اور بلآخر سب کچھ بہت اچھا لگنے لگتا ہے۔ایسے وقت میں یہ یاداشتیں ایک اچھی یاد دہانی ہیں۔__صوفیہ کاشف)

2 Comments

  1. ہائے صوفیہ

    کیا المیہ لکھ دیا


    “میرا پیسہ ہے ناں میں اور لگا دوں گا”

    ایسا کہتے شوہر بھول جاتے ہیں کہ صرف پیسوں سے گھر نہیں بنتے اس میں جب تک کسی عورت کا خون پسینہ ،محبت اور جدوجہد شامل نہ ہو۔تو جب اس کی کوشش کے بغیر گھر بن نہیں سکتا تو اسے اجاڑتے یا ڈبوتے اس کی رضا کو مدنظر کیوں نہیں رکھا جاتا؟”

    واقعی عورت تو چڑیا کی طرح تنکا تنکا جوڑتی ہے اس کے لئے ہر تنکا اپنی جگہ اہم ہوتا ہے، اس کے ہاتھ اپنے گھر کی ہر چیز کو پہچاننے لگتے ہیں۔ جب اس کی دنیا میں اس کے بچے کھلکھلاتے ہیں، وہی اس کی زندگی کا عروج کا وقت ہوتا ہے۔ اور آخر کار گھر کی جنت کا وقت جب عورت اپنی بھرپور توانائی کی عمر میں اس جنت کو سنوار سکے، یہ وقت بہت مختصر ہوتا ہے۔ اگر گزر جائے تو زندگی کا اگلا باب شروع ہو جاتا ہے۔

    ایسی باتوں سے دل ٹوٹ تو جاتا ہے لیکن دھوکہ ختم ہو جاتا ہے۔ آپ اصلی چہرے دیکھ لیتے ہیں۔ مزید دھوکے نہیں کھاتے۔

    سلامت رہیں

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.