ممتاز ناول نگار ہاروکی موراکامی کا انٹرویو :

کرداروں کو اونچائی سے دیکھنا مشکل ہے

مجھے صیغہ غائب میں لکھنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے! یہ اپنے کرداروں کو اونچائی سے دیکھنے والی بات ہے، ہاروکی موراکامی کہتے ہیں؛

میں نے اپنا پہلا ناول 1979 میں لکھا، میں نے اپنا ہر ناول صیغہ واحد متکلم میں لکھا ہے، ایک دو بار اس کے برعکس لکھنے کی کوشش کی ( مجھے اس میں بیس برس لگے؛ پہلا ناول ” کافکا ساحل پر ” تھا ) ہر بار مجھے بہت مشکل پیش آئی، ایسا لگتا تھا میں اوپر سے نیچے گہرائی میں کسی جگہ کو دیکھ رہا ہوں۔۔ میری شدید خواہش تھی کہ میں اپنے کرداروں کے ساتھ برابر کی سطح پر کھڑا ہوکر ان کا مشاہدہ کروں۔۔ یہ جمہوری ہے۔۔۔

خاموش زندگی بسر کرنے کی خواہش

جب میں نوجوان تھا تو ایک خاموش شخص بننا چاہتا اور خاموش زندگی گزارنا چاہتا تھا۔۔ تورواوکاز میرا ہیرو ہے۔۔ میں جب نوجوان تھا تو اس جیسا بننا چاہتا تھا۔۔ لیکن یہ زندگی اتنی خاموش نہیں رہی، زندگی عجیب ہے۔۔

کپڑے استری کرنا پسند ہے

موراکامی کہتے ہیں؛

مجھے کپڑے استری کرنا پسند ہے۔۔ اور مجھے بیگم کے کپڑے استری کرنا بھی پسند ہے، میری کتابوں میں بار بار سامنے آنے والے موضوعات میری ذاتی زندگی سے آتے ہیں۔۔ ان کی بلیوں سے، کھانے پکانے سے، موسیقی سے اور غالب سوچوں سے۔۔ لکھنے کے عمل کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان سے پوچھا گیا کہ وہ ایک کتاب میں اتنی زیادہ مختلف کہانیاں کیوں تخلیق کرتے ہیں، تو انہوں کا کہنا تھا کہ؛

میں جب کوئی ناول لکھتا ہوں تو مجھے اس میں ایک یا دو سال لگتے ہیں۔۔ اور میں روزانہ لکھتا ہوں۔۔ میں کافی تھک جاتا ہوں، مجھے کھڑکی کھول کر تازہ ہوا لینی پڑتی ہے۔۔ میں محظوظ ہونے کے لیے کہانی کی ایک اور سطر لکھتا ہوں۔۔ مجھے امید ہے قارئین بھی اس سے لطف اندوز ہوتے ہوں گئے، میں صیغہ واحد متکلم میں لکھتا ہوں، جس کی وجہ سے مجھے اس کے علاؤہ بھی کچھ چاہیے ہوتا ہے ( یہ کہانیاں بُننے کے لیے ) خطوط یا کسی دوسرے کی کہانی۔۔۔

  • تشدد ناپسند ہے*

موراکامی کہتے ہیں،

مجھے تشدد اور جنسی ہراسانی کے بارے میں لکھنا پسند نہیں لیکن کہانی کی ضرورت کے تحت لکھنا پڑتا ہے۔۔

ان کی کچھ کہانیاں بہت خطرناک چیزوں کے بارے میں ہے۔۔ the wind-up Bird Chronicles میں انہوں نے چند انتہائی جکڑ لینے والے لمحات پر بات کی ہے۔۔ وہ کہتے ہیں؛

جب میں یہ لکھ رہا تھا تمام ترجمہ نگاروں نے مجھ سے شکوہ کیا کہ یہ خوفناک ہے۔۔ لیکن خواب تھا؛ تو میں نے جواب دیا، نہیں؛ اس نے پھر پوچھا، کیوں نہیں؛ میں نے کہا، مجھے نہیں معلوم؛ میں نے سوچا ناول لکھنا مزے کا کام ہے، آپ کچھ بھی کر سکتے ہیں اور بن سکتے ہیں، سو میں نے سوچا میں کوئیں کی تہہ میں بیٹھ سکتا ہوں، بالکل تنہا، یہ حیران کن بات ہے۔۔!!

کچھ باتیں تراجم کے بارے میں

ایک صحافی نے ان سے ان کی کتابوں کے تراجم اور ان میں ان کی اپنی دلچسپی کے بارے میں پوچھا کہ ان کی بیشتر قصہ گوئی کا انحصار باریکی اور نزاکت پر ہوتا ہے، ایسے میں ان کا وہ قاری جو جاپانی زبان کے بجائے انگریزی میں ان کی کتب پڑھتا ہے وہ اس دوران کیا کچھ کھو دیتا ہے۔۔ موراکامی کا کہنا تھا ؛

میں انگریزی میں کتب پڑھ سکتا ہوں۔۔ لیکن فرانسیسی، روسی، جرمنی، اور دوسرے زبانوں میں نہیں۔۔ لیکن جب ایک انگریزی کا ترجمہ مکمل ہو جاتا ہے تو مسودہ مجھے بھیجواتے ہیں۔۔ میں اسے پڑھتا ہوں، تو یہ میرے لیے ٹھیک ہی ہوتا ہے، مجھے معلوم نہیں ہوتا کہ آگے کیا ہونے والا ہے، میرا نقطہ یہ ہے کہ اگر میں اس سے لطف اندوز ہوتا ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ ترجمہ بہتر ہوا ہے، سو آپ سکون کا سانس لے سکتے ہیں۔۔ بعض اوقات مجھے اس میں غلطیاں نظر آتی ہے تو میں مترجم سے بات کرتا ہوں، لیکن کسی کتاب میں یہ غلطیاں تین چار سے زیادہ نہیں ہوتی۔۔

لکھنے کا عمل اور روزمرہ زندگی

موراکامی کہتے ہیں کہ ؛

لکھنے کے عمل میں اور روزمرہ زندگی کے معمولات میں ایک بات مشترک ہے کہ دونوں صورتوں میں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اگلے لمحے کیا ہونے والا ہے۔۔ میرے پاس لکھتے ہوئے پہلے سے کوئی خیال نہیں ہوتا کہ اب کیا ہونے والا ہے۔۔ مثال کے طور پر the wind-up Bird Chronicles جو پہلی چیز میری ذہن میں آئی وہ ایک پرندے کی آواز تھی، کیونکہ میں نے گھر کے پچھواڑے میں ایک پرندے کی آواز سنی، ایسا پہلی بار ہوا کہ میں نے اُس طرح کی آواز سنی جو پہلے کبھی نہیں سنی تھی، مجھے ایسا لگا کہ یہ کوئی پیشن گوئی ہے۔۔ سو میں اس بارے میں کچھ لکھنا چاہتا تھا۔۔ دوسری آواز سپیگٹی کے پکنے کی تھی۔۔ یہ وہ چیزیں تھیں جو میرے ساتھ ہوئیں۔۔ میں سپیگٹی پکا رہا تھا اور کسی نے مجھے آواز دی۔۔ سو میری پاس آغاز کے لیے یہی چیزیں تھیں۔۔ میں دو سال تک لکھتا رہا۔۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ اس کے بعد کیا ہوتا ہے، اگلے دن کیا ہوگا۔۔ میں اٹھتا، لکھنے کی میز پر جاکر بیٹھتا ، کمپوٹر کھولتا اور بس خود سے کہتا، تو آج کیا ہونے والا ہے، یہ پُر لطف بات ہے۔۔

تخیل ایک جانور ہے، جسے میں زندہ رکھتا ہوں

میرا تخیل ایک طرح کا جانور ہے، سو میں یہی کرتا ہوں کہ اسے زندہ رکھتا ہوں۔۔ مجھ پر کوئیں کا غلبہ ہے اور ہاتھی کا بھی۔۔ ریفریجریٹر کا اور بلی کا اور استری کا بھی، میں اِس کی وضاحت نہیں کرسکتا۔۔

عجیب اتفاقات

میری زندگی عجیب و غریب اتفاقات سے بھری ہوئی ہے۔۔ ملن نے موراکامی سے پوچھا کہ ان کے ناولوں میں اتنے اتفاقات کیوں پائے جاتے ہیں، جبکہ زیادہ تر لکھاری اس سے اجتناب کرتے ہیں کیونکہ یہ اکثر قارئین کو نامناسب لگتے ہیں، تو جواب یہ تھا؛

ڈکنز کی کتابیں اتفاقات سے بھری ہوئی ہے، اسی طرح ریمنڈ چینڈلے کی کتابیں بھی، فلپ مارلوکوسٹی آف اینجلز میں بے حساب لاشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔۔ یہ غیر حقیقی ہے۔۔ لیکن کوئی اس بارے میں شکوہ نہیں کرتا، جیسا کہ اس کے بغیر کوئی کہانی کیسے بنی جاسکتی ہے؟ میرا نقطہء نظر یہ ہے۔۔ اور میری حقیقی زندگی میں کئی اتفاقات پیش آئے۔۔ کئی عجیب اتفاقات میرے زندگی کے سفر میں رونما ہوئے۔۔

لکھتے ہوئے موسیقی کی ضرورت

اُن سے جب سوال کیا گیا کہ وہ اپنے ناولوں میں جو موسیقی شامل کرتے ہیں اس کا انتخاب کیسے کرتے ہیں، کیا وہ کوئی نغمہ سنتے ہیں؟ ہمارے کئی قارئین نے اسی طرح کی باتیں کی ہیں؟ اس پر ان کا کہنا تھا؛

یہ قدرتی ہے۔۔ فکشن لکھتے ہوئے مجھے کسی طرح کی موسیقی کی ضرورت ہوتی ہے اور نغمے قدرتی طور پر سامنے آتے رہتے ہیں۔۔ میں نے موسیقی سے کئی باتیں سیکھی ہے۔۔ ہم آہنگی، ردھم، تبدیلی وغیرہ۔۔ ردھم میرے لیے زندگی میں بہت اہم ہے۔۔ آپ کو اس کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ قارئین کے لیے مزید لکھتے جائے۔۔ میں عام طور پر موسیقی اُس وقت سنتا ہوں جب لکھ رہا ہوتا ہوں اور اسی طرح کتابوں میں نغمات سامنے آجاتے ہیں۔۔

اداس کردار

موراکامی کا کہنا ہے کہ ؛

میرا اداس کرداروں کو بنانے اور ان کے بارے میں لکھنے کا کوئی ارادہ نہیں ہوتا۔۔

اس بابت جب اُن سے پوچھا گیا کہ آپ کے ہاں اتنے اداس کردار کیوں ہوتے ہیں۔۔ تو موراکامی نے حیرت سے الٹا سوال کر دیا،

کیا واقعی ایسا ہے؟ اور مزید کہا کہ، تورو اوکاڈا ” کردار” یقننا اپنی شادی کے بارے میں پریشان ہے، ملن بھی اکثر ایسا لگتا ہے، ہر کوئی ہے۔۔ ( مذاق کے انداز میں )

اسلوب

میرا انداز جو میرا اسلوب ہے، وہ Hard-boiled wonderland کے بہت قریب ہے۔۔مجھے حقیقی انداز پسند نہیں۔۔ مجھے لاشعوری انداز زیادہ پسند ہے۔۔ لیکن Norwegian Wood میں ،میں نے سو فی صد حقیقی ناول لکھنے کی کوشش کی۔۔ مجھے اس تجربے کی ضرورت تھی۔۔ اگر میں لاشعوری ناول لکھتا رہتا تو ایک خاص مسلک کا لکھاری بن سکتا تھا۔۔ لیکن میں مرکزی دھارے میں جانا چاہتا تھا۔۔ سو مجھے یہ ثابت کرنا تھا کہ میں حقیقی کتاب لکھ سکتا ہوں۔۔ میں نے وہ کتاب اسی لیے لکھی تھی۔۔ یہ جاپان میں بیسٹ سیلر رہی اور مجھے اس کی توقع تھی۔۔ یہ بہت آسانی سے پڑھنے اور سمجھنے کے لائق کتاب ہے۔۔ بہت لوگوں کو یہ پسند ہے۔۔ میں نے یہی سوچا تھا کہ وہ شاید اس کتاب کی وجہ سے میری دیگر تحریروں میں دلچسپی لیں گئے اور اس نے بہت مدد کی۔۔

میری نثر و قارئین

میری ایک کتاب کا ” کافکا ساحل پر ” کی تین لاکھ کاپیاں فروخت ہوئیں۔۔ یہ دو جلدوں میں ہے۔۔ مجھے حیرت تھی کہ یہ اتنی زیادہ کیسے بک گئی۔۔ یہ کوئی عام بات نہیں ہے۔۔ کہانی بہت پیچیدہ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ چلنا آسان نہیں۔۔ لیکن میرا انداز میری نثر پڑھنا بہت آسان ہے۔۔اس میں مزاح بھی شامل ہیں، ڈراما بھی۔۔ یہ ان دو عناصر کا توازن ہے، اور میری کامیابی کی شاید یہ بھی ایک وجہ ہے۔۔ یہ ابھی تک شاندار ہے۔۔ میں ہر تین چار سال بعد ایک ناول لکھتا ہوں اور لوگ اس کا انتظار کرتے ہیں، جان ارون نے کہا تھا کہ؛

کسی کی صرف ایک اچھی کتاب پڑھنا اہم ہے اس کے بعد لوگ عادی ہو جاتے ہیں اور ہمیشہ منتظر رہتے ہیں۔۔

پلاٹ کا انتخاب

میں جب لکھنا شروع کرتا ہوں تو میرے ذہن میں کوئی پلاٹ نہیں ہوتا۔۔ میں تو کہانی کے آنے کا انتظار کرتا ہوں۔۔ مجھے معلوم نہیں ہوتا کس طرح کی کہانی بننے جا رہی ہے۔۔ میں بس خاموشی سے اس کا انتظار کرتا رہتا ہوں۔۔ نارویجن وڈ مختلف کہانی ہے۔۔ کیونکہ میں نے حقیقی انداز میں لکھنے کی کوشش کی، لیکن یہ ایک الگ کام ہے
مجھے کچھ خیالات ملتے ہیں اور میں انہیں ایک دوسرے سے جوڑتا ہوں۔۔ یہ کہانی ہے۔۔ اس کے بعد میں اسے قاری کے لیے واضح کرتا ہوں آپ کو کچھ بیان کرتے ہوئے بہت مہربان ہونا پڑتا ہے۔۔ آسان الفاظ اور اچھے استعارے بہتر ہوتے ہیں۔۔ میں بہت احتیاط کے ساتھ اور صاف سادہ انداز میں بیان کرتا ہوں۔۔

°°°°°°

ترجمہ و تلخیص : سجاد بلوچ صاحب
حوالہ : روزنامہ 92 نیوز یکم اگست 2018
انتخاب و ٹائپنگ : احمد بلال

2 Comments

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.