پتر یاٹہ میں ایک دن___________صوفیہ کاشف

ایک خوبصورت حسین سبزے اور پہاڑوں سے بھرے علاقے میں کوئی صدی پہلے گوروں کے دور میں ایک گورا پہنچا۔اسے وہ علاقہ خوبصورت لگا تو اس نے وہاں راہ چلتی ایک علاقائی خاتوں سے اس علاقے کا نام پوچھا۔اب وہ ہندوکو دیہاتی خاتوں سر پر آٹا لئے کہیں جا رہی تھی ،انگریز نے انگریزی میں کیا پوچھا اس کا تو اس کے فرشتوں کو بھی علم نہ ہوا مگر اپنے فہم وشعور سے اس نے یہ ضرور اخذ کر لیا کہ ہو نہ ہو اس سے یہی پوچھا گیا ہے کہ اس کے سر پر کیا ہے۔چناچہ اسے نے بہت ہی شفقت سے انگریز کو بتایا کہ “پتر !آٹا!”پتر چونکہ انگریز تھا اور اس وقت ان وادیوں کے انگریز تن تنہا مالک بھی تھے تو اس کا اصل نام کسی نے جانے یا نہ جاننے کی کوئی کوشس بھی نہ کی اور اس علاقے کا نام انگریزوں سے ہوتا ہوا “پتر آٹا” یعنی پتریاٹہ ہی پڑ گیا۔یہ واقعہ مجھے تب پتا چلا جب میں نے پٹریاٹہ کی کچھ تاریخ جاننے کے لئے اس کو وکی پیڈیا پر چیک کیا تو یہ وہ واحد علم ہے جو وکی پیڈیا پر موجود ہے۔سچ ہے یا جھوٹ کہانی دلچسپ ہے اور علاقہ اس کہانی سے بھی ذیادہ حسین اور دلکش ہے۔تو اگرچہ آپ میں سے اکثریت نے دیکھ رکھا ہو گا اور کچھ مخصوص شہر والوں نے کئی کئی بار دیکھ رکھا ہو گا مگر پھر بھی کیا حرج ہے کہ اگر وکی پیڈیا کے علم میں میں کچھ اور اضافہ کر دوں اور اس دیکھے بھالے علاقے کی ایک دیکھی بھالی سیر کی داستان سنا دوں۔

تو بہت شدید رنج کا عالم تھا کہ تین ماہ سے پٹریاٹہ کے کنارے آئے بیٹھے تھے مگر غم روزگار نے فرصت ہی نہ دی تھی کہ اس کی طرف آنکھ بھر کر دیکھ سکیں۔بڑی کوشش اور جدوجہد کے بعدگھر کے تینوں بڑوں یعنی میاں اور دو بچوں کو راضی کیا اور ایک دن بلآخر ہم پٹیراٹہ یا نیومری کی زیارت کے لئے روانہ ہو گئے۔

جانے یہ آج کے زمانے کی ٹریجڈی ہے یا ہر زمانے میں یہی ہوتا تھا کہ بچوں کو گاڑی کے شیشوں سے باہر کسی چیز سے کوئی غرض ہی نہیں۔باہر سے اٹلی گزر جائے ،فرانس گزر جائے یا سوئٹزرلینڈ ان کی نظروں کو متوجہ ہی نہیں کر پاتا۔شاید یہ بزرگوں کے کام کی ہی چیز ہے کہ کھڑکی سے باہر نظر آتے ہرے بھرے درخت، جنگلات ،پہاڑ اور وادیوں کو دیکھ دیکھ نہیں تھکتے ۔ہمارے بچوں کو سب کچھ اپنے ہاتھوں میں پکڑی چھوٹی سی سکرین میں دیکھنے کی عادت ہو چکی ہے۔چناچہ ٹیبلٹ کی زنبیل میں سے دنیا کے خزانے نکال لینے والے بچے کھڑکی سے باہر متوجہ نہیں ہو پاتے ۔کیا کبھی کسی نے محسوس کیا ہے کہ آج کے زمانے میں سب سے بدترین نشہ انٹرنیٹ،ٹیبلٹ اور سمارٹ فون کا نشہ ہے؟

۔چناچہ ان کو اس سفر پر راضی کرنے کا صرف یہی طریقہ تھا کہ کسی نہ کسی کام کے لئے ان کے ہاتھ میں ٹیبلٹ پکڑائی جائے اور چئیر لفٹ کا وعدہ کیا جائے۔

نیو مری کے چئیر لفٹ پوائنٹ پر پہنچے تو گیٹ پر اترتے ہمیشہ کی طرح میاں نے صلاح دی کہ سامان گاڑی میں چھوڑ دو کہاں اٹھائے پھریں گے۔اب یہ غلطی ہم ہر بار کرتے ہیں کہ زحمت سے گھبراتے اس لمحے میاں کی باتوں میں آ جاتے ہیں گرچہ گھر سے رستے کے لئے زاد راہ لے کر چلتے ہیں اور اسے گاڑی میں چھوڑ کو اتر جاتے ہیں ۔ایسے کہ واپسی سے پہلے اس گاڑی کی طرف واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔چناچہ اسنیکس،چھتریاں جیکٹیں سمیت ہم نے بیگ گاڑی میں چھوڑ دیا اور چئیر لفٹ کی سواری کے لئے خالی ہاتھ پہنچ گئے۔

ٹکٹ گھر پہنچے تو پتا چلا کہ کیبل کار کسی تیکنیکی خرابی کے لئے بند ہے۔چناچہ اکیلی چئیر لفٹ ہی مقدر میں تھی۔چھٹی کا دن ہونے کی بنا پر لوگوں کا جم غفیر تھا اور چئیر لفٹ پر بیٹھنے والوں کی ایک لمبی قطار اپنی باری کی منتظر تھی۔

ہم نے بھی اپنے بچوں کی عمروں میں کبھی ایک آدھ بار یہ سواری کی تھی اور اچھے خاصے ہنستے مسکراتے کی تھی۔اس کے بعد کے پندرہ بیس سال غم جاناں اور غم دوراں میں گزار دئیے۔ اب ڈھلتی عمروں میں بچوں کو ہر طرح کے تھیم پارک میں لیجا کر تیز رفتار اور خطرناک رائڈ پر بٹھانا پڑتا ہے تو خود بھی ساتھ بیٹھنا پڑتا ہے۔اور اب ان عمروں میں چاہے فراریferrari کی تیزرفتار لپکتی ،بل کھاتی گھماتی،چکر کھاتی رولر کوسٹر ہو ،وارنر برو Warner broکی اندھیری اور خطرناک آسمانوں سے گرتی،عمارتوں میں پھسلتی رائڈ،واٹر پارک کی آسمان سے سر کے بل نیچے گرتی سلائیڈ ،ہمارے تو دل بند ہوتے ہوتے بڑی مشکل سے سنبھلتے ہیں ۔تو یہ چئیر لفٹ اگرچہ نہ ویسی خطرناک تھی نہ تیز رفتار مگر اتنی اونچائی تک دھیرے دھیرے ضرور لیجاتی تھی اور واپس لاتی تھی کہ میں اپنی بیٹی سے ذیادہ محتاط ہو کر اور راڈ سختی سے پکڑ کر بیٹھتی تھی،اور آیت الکرسی کا منہ میں وردکرتے نیچے گہرائی میں دیکھنے سے ڈرتی تھی جبکہ میرے ساتھ بیٹھی میری بیٹی سکون سے بغیر کسی سہارے کے بغیر بیٹھی بولتی اور ہنستی تھی۔جوانی بھی کیا چیز ہوتی ہے جب انسان خطرات کی نہ پرواہ کرتا ہے نہ سمجھتا ہے۔عمر کے بڑھتے سال جتنا عقل،شعور اور علم میں اضافہ کرتے جاتے ہیں انسان کو بزدل سے بزدل تر بناتے جاتے ہیں۔کوئی حادثہ ہو سکتا ہے اور خصوصا جہاں چیزیں بگاڑنے اور بگاڑے رکھنے کا فیشن ہو اور بگڑی چیزوں کو سنوارنے سے اکثریت ڈھکے چھپے کنی کترا جاتی ہو وہاں محض اتنا علم ہی انسان کے تمام تر مزے لینے کی کوشس کو ضائع کر کے رکھ دیتا ہے کہ کسی تکنیکی یا موسمی خرابی کے باعث اس کے گرنے یا خراب ہونے کے چانسز موجود ہیں۔

چئیر لفٹ کا سفر شروع ہوا تو اتنی ہمت بحرحال ضرور موجود تھی کہ اس کرسی پر بیٹھے اپنے چینل کے لئے وڈیو بناتے رہے ورنہ دو تین سال پہلے بیٹھے تھے تو دونوں ہاتھوں سے راڈ کو تھامے آیت الکرسی پڑھتے ہی وقت گزارا تھا اگرچہ میرے ساتھ بیٹھی میری بیٹی قریبی درختوں سے پتے اچکنا چاہتی تھی ،دائیں بائیں مڑتی تھی،اور مجھ سے ڈانٹ کھاتی تھی کہ سنبھل کر بیٹھو یہ مقام مستی نہیں ہے۔

اس وادیوں اور پہاڑوں کی طرف دھیرے دھیرے کھسکتے اڑن کھٹولے پر بیٹھ کر انسان یقینا جنت کا نظارہ کرتا ہے ،خصوصا اگر وہ جولائی اگست کا مہینہ ہو جب ہریالی بادل اور بارش کا زمانہ ایک دوسرے سے گلے مل رہا ہو۔۔آس پاس سے گزرنے والی ایسی تمام ہوائی کرسیوں پر بیٹھے تمام لوگ بحرحال مجھ سے بہتر تھے۔کچھ لوگ اگرچہ آس پاس کی جنت کو نظر انداز کرتے محض سامنے سے آتی کرسیوں پر بیٹھے خواتین و حضرات پر ہی سارا وقت اور پیسہ ضائع کر دینے پر مکمل راضی تھے۔مگر ایسی غلطی ہم نے نہ کی اور اپنی تمام تر توجہ ان خوبصورت وادیوں اس کے اونچے ہرے ، درختوں اور خوبصورت نظاروں پر مرکوز رکھی۔جو پندرہ بیس منٹ میں آپ کو یقینی طور پر دنیا کے خوبصورت ترین مناظر میں سے کچھ کی سیر کراتا ہے۔

رستے میں مختلف مقامات پر چار پانچ جگہ سیکورٹی کی چوکیاں بنائی گئی ہیں مگر جاتے اور واپسی پر ہم نے کسی بھی چوکی پر کوئی بھی نام کا بھی گارڈ نہیں دیکھا۔اس کی جگہ پر چاک و چوبند فقیر تقریبا ہر سنگ میل پر نظر آئے جن میں بچوں کی کثرت ہے جو آپ کے خوف کا سہارا لے کر آپ سے آپ کی جان کا صدقہ مانگتے رہتے ہیں جب تک آپ کا اڑن کھٹولا ان کو بغیر کچھ دئیے پیچھے نہ چھوڑ دے۔پھر وہ بڑی فرصت اور فراغت سے کبھی آپ کو اپنی زبان میں اور کبھی آپ کی زبان میں خوب بددعائیں اور گالیاں دے لیتے ہیں۔یہی طریق کاونٹرز پر چلتے پھرتے چیزیں بیچتے چھوٹے بچوں کا ہے جو وہاں چیونگم یا چلی ملی بیچتے نظر آتے ہیں۔

اوپر جاتے مناظر کی تمام تر خوبصورتی ان ہرے بھرے درختوں کی تاذگی اور ہریالی میں ہے۔موسم گرما میں چونکہ ان کی خوبصورتی اپنے عروج پر ہوتی ہے تو چئیر لفٹ کا یہ سفر ایک دلنشیں نظارہ بن جاتا ہے۔

چوٹی پر اترے تو کچھ مایوسی ہوئی کہ اترنے کی جگہ پر بیٹھنے کی کوئی جگہ سرکار کی طرف سے نہیں بنائی گئی۔اس ٹاپ پر چائے کے اڈوں اور ڈھابوں کی اتنی کثرت ہے کہ اترتے ہی پہلے انسان تل دھرنے کی جگہ ڈھونڈتا ہے کہ کہاں پاوں رکھے جو کسی ڈھابے یا چائے کے کھوکھے پر نہ پڑے۔جب کوئی اتنی دور آئے گا اور بیگ بھی وہ گاڑی میں چھوڑ آئے گا تو اتنے پرفضا،ٹھنڈے اور خوبصورت مقام پر چائے تو وہ ضرور ہی پئیے گا مگر سب سے پہلے اس کے بیٹھنے کے لئے بہتر جگہ کا سرکاری انتظام ہونا چاہیے۔ایک مناسب ریسٹ اور سٹنگ ایریا کے بعد ڈھابے اور سٹال بحرحال ضروری ہیں۔مگر اب صورتحال ہے کہ ٹاپ پر کسی بھی قسم کا خدا کی ذمین کے اور پہاڑوں کے سوا بیٹھنے کا سرکاری انتظام موجود نہیں۔ساری جگہ اور کرسیاں ڈھابوں کی ملکیت میں ہیں۔چناچہ اگر کسی کا سانس پھول رہا ہے کسی کو سردی لگ گئی ہے کوئی چھوٹا بچہ رو پڑا ہے تو کسی نہ کسی ڈھابے کی کرسی پر ہی بیٹھنا پڑے گا جس کا جگاڑ دینے کے لئے لازما کچھ نہ کچھ خریدنا پڑے گا۔ کیا ہی اچھا ہو اگر اس چوٹی پر اور اس آس پاس کی پہاڑیوں پر پارکس اور باغوں کی طرح سرکاری طور پر چھپڑیاں اور ان کے نیچے بینچ بنے ہوں۔اس طرح سے لوگوں کے پاس ادھر ادھر بیٹھنے کی مناسب جگہ موجود ہو اور ہر کوئی اس چوٹی پر ڈھابوں کے گرد اکٹھے ہونے پر مجبور نہ ہو۔

ڈان نیوز پر پڑھیں

اس کے علاوہ اس پورے ٹاپ پر کچرا پھینکنے کا سوائے ان وادیوں کے اور ان کے خوبصورت رستوں کے کوئی انتظام نہیں۔نہ ریسٹ ایریا یا ٹوایلٹ ہی موجود ہیں اس کے لئے بھی صرف یہ پہاڑ اور اس کے رستے ہی آفر کئے گئے ہیں چناچہ عوام الناس نے بھی خوب سخاوت کا مظاہرہ کرتے کچرا اور گندے ڈائپرز ہر جگہ پر کھلے عام پھینک رکھے ہیں چونکہ ہماری سوچ کے مطابق جہاں ہم کھڑے ہیں صرف وہی جگہ محفوظ ہونے کا حق رکھتی ہے باقی تمام دنیا کچرے کا ڈرم ہے۔ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے ایک پڑھی لکھی لگتی خاتون نے بچے کو زرا سا پرے لیجا کر اس کا ڈائپر بدلا اور اپنی دانست میں اسے گھما کر پرے دور کسی دوسری دنیا میں پھینک دیا جو بل کھا کر وہیں قریبی دوسری راہگزر پر جا گرا۔ایسے پڑھے لکھے کھاتے پیتے خاندانوں کے بچوں کے ڈائپرز سے یہ پہاڑی لدی پھدی ہے۔ڈھابوں نے بھی نہ تو ضرورت محسوس کی ہے نہ ہی انہیں پابند کیا گیا ہے کہ اپنے کوڑے کو سنبھال کر اپنی ذمہ داری پر تلف کریں چناچہ ہر ڈھابے کی پیچھلی سائیڈ پر کوڑے کا ڈھیر ہے۔ہم شور تو بہت مچاتے ہیں کہ پاکستان ٹورزم کے لئے بہترین مقام ہے مگر جب گورے یہاں ڈسٹ بن ڈھونڈیں گے تو آپ ان کو کیسے قائل کریں گے کہ وہ کچرا اٹھا کر اپنے سر سے پیچھے اچھال دیں اور کسی پہاڑی پر بیٹھ کر اپنی ضروری حاجتوں سے فارغ ہو لیں اور یہ کہ اس سے اس کے کردار اخلاق سمیت آپ کی ذمین،شہر اور ملک کی تہذیب اور سلامتی پر کوئی فرق نہ پڑے گا۔یقین کریں کسی بھی مہذب قوم کا گورا کبھی یہ حرکت نہ کر سکے گا اور یہی وہ ناخوشگوار تاثر ہو گا جو وہ ساتھ لیکر جائے گا کیونکہ ساری دنیا ہماری طرح ذمین کو مفت کا کچرہ گھر نہیں سمجھتی۔ہم اپنے بچوں کو آج تک نہیں مطمئین کرسکے کہ ایک ذرا سا بےضرر چیونگم کسی بھی نکڑ پر بغیر کوئی بڑا نقصان کیے پھینکا جا سکتا ہے تو صدیوں سے تعلیم و شعور سے بہرہ ور قومیں آپ کی اس “زرا سی غفلت” کو آسانی سے ہضم نہیں کر سکتی۔

ویسے اگر وزیراعظم صاحب صرف ایسے مقامات کی صفائی کے لئے ہی نئے لوگ نیا عملہ بھرتی کرنا شروع کر لیتے تو پانچ کروڑ نہ سہی ایک آدھ کروڑ نوکریاں تو نکل ہی آتیں۔آخر عرب امارات نے بھی تو صرف صفائی کی مد میں پورے جنوبی ایشیا میں ہزاروں نوکریاں بانٹ رکھی ہے۔پاکستان تو ایک بڑا ملک ہے اور اس میں غریب بھی بہت ہیں اور صفائی کی شدید ضرورت بھی ہے تو کیا ہمیں اس کے لئے نئے محکمے ،نئے عملے کی ضرورت نہیں ہے؟

آپ نے مری میں ہونے والے لڑائی جھگڑوں کی خبریں سنی ہوں گی کہ کس طرح آجکل عموما وہاں سیاح اور مقامی لوگ دست و گریباں ہوتے ہیں۔یہ لڑائی جھگڑے کیسے ہوتے ہیں ہم آپ کو بتاتے ہیں ۔ اوپر پہنچتے ہی کرسی کی خاطر فٹا فٹ چائے پانی کا آڈر کرنا پڑا ۔بیٹھنے کے لئے ایک نکڑ پر ڈیرہ جما کر،چائے پیتے ،کوڑے کے ڈھیروں سے نظر بچا کر ادھر ادھر کے بمشکل نظر آتے نظاروں کو زرا دیر جی بھر کر دیکھا۔بل دینے کا وقت آیا تو جو بل آیا وہ میاں کو کچھ مشکوک سا لگا۔ہم ہوتے تو مینٹل میتھ کمزور ہونے کی وجہ سے جو سنتے چپ کر کے دے دیتے مگر یہ تو میاں صاحب تھے جن کا بنیادی علم ہی میتھ ہے تو جب ذرا جمع تفریق کیا تو پتا چلا خرچے میں اور حاصل جمع میں ایک نہیں، دو نہیں ، پورے چار سو روپے کا فرق تھا ۔واپسی پر پھر وہیں بیٹھے ،اسی بیرے نے دوبارہ سے اسی چائے کے بل میں میں پھر اتنا ہی منافع ڈال دیا۔یعنی اسے اس بات کی بھی فکر نہ تھی کہ ابھی تو میرا جھوٹ پکڑا گیا ہے۔

صرف یہی نہیں گھوڑے زبردستی آپ کے سامنے لائے جاتے ہیں کہ بیٹھے! اب بچے بھی للچائی نظروں سے دیکھتے ہیں آپ بھی سوچتے ہیں چلو تھوڑی تفریح ہو جائے گی۔کرایہ پوچھتے ہیں تو گھوڑے کا مالک اصرار کرتا ہے کہ بیٹھو جی بیٹھو کوئی جہاز کا کرایہ تو ہے نہیں۔آپ بھی سوچتے ہیں فلاں جگہ دو سا کا بچوں نے جھولا لیا تھا چلو ڈبل بھی ہوا تو چار سو ہو گا مگر جب ایک کلومیٹر کی سواری کر کے اترتے ہیں تو پتا چلتا ہے دو دو ہزار کے تین چار گھوڑے آپ لے بیٹھے ہیں۔اب پھر سمجھ تو آ ہی گئی ہو گی کہ یہ لڑائی جھگڑے کیوں ہوتے ہیں ۔اس لئے اپنی سلامتی اور اپنی حلال کمائی کو محفوظ کرنے کے لئے جو بھی بل آئے خود جمع تفریق کر لیں اور گھوڑے کو تب تک ہاتھ بھی نہ لگائیں جب تک اس کے مالک کے منہ سے اس کا بھاو نہ جان لیں۔ورنہ کہیں اگلے دن کی اخبار میں آپ کی خبر ہی نہ لگ جائے۔

ڈھابوں سے جان چھڑا کر ہم ذرا ادھر ادھر گھومے۔بادل ہمارے دائیں بائیں اٹھکیلیاں کر رہے تھے اور ان کی شوخیوں کی وجہ سے ہمیں جولائی کے مہینے میں ٹھنڈک محسوس ہونے لگی تھی۔اتنی دیر میں آس پاس پھیلی بدلیاں اکٹھی ہونے لگیں اور انہیں نرم نرم شفیق بدلیوں نے بارش بن کر ہمیں بگھونا شروع کر دیا۔

اب شدت سے یاد آیا ہمیں وہ بیگ جو ہم گاڑی میں ہی چھوڑ آئے تھے۔ایک تو بغیر چھتری کے، دوسرا سالہا سال سے عرب امارات کے لق دق صحرا میں رہنے کے عادی جہاں بارش صرف کبھی کبھار منہ دکھائی کے لئے آئے اور وہ بھی مزدوریوں کی مجبوریوں کی وجہ سے انسان صرف شیشے کے پیچھے سے ہی دیکھ سکتا ہو اور دو ٹکوں کی نوکری کے لئے لاکھوں کے ساون کو گنواتا رہا ہو تو یقینی طور پر ان موسموں کے لئے کافی غیر ہو چکے ہم عام لوگوں سے ذیادہ ڈرتے تھے ۔

۔ہم ان علاقوں کو قدرتی مقامات سمجھتے ہوئے یہ سمجھتے ہیں کہ یہاں سارے کام انسان نے قدرتی طریقے سے کرنے ہیں۔کھلے میں باتھ روم کو تصور میں لا کر فراغت پا لینی ہے،کچرا ساتھ والے کی طرف پھینک دینا ہے ،ذمین پر بیٹھ جانا ہے ،بارش آ جائے تو اس کے ساتھ بہہ جانا ہے، آندھی کے ساتھ اڑ جانا ہے۔تو ہم بہہ جانا نہیں چاہتے تھے چناچہ پھر ایک ڈھابے کے چھاتے کے نیچے سر چھپانے کی زرا سی جگہ مل گئی جہاں کھڑے ہو کر ہم نے جنت میں بارش سے خود کو محفوظ رکھا۔یہ بھی شکر ہوا کہ ہلکی پھلکی بارش تھی کوئی طوفان بادوباراں کا سماں نہ ہوا۔ورنہ ایسی صورتحال میں کیا ہو سکتا تھا اسکا احوال بھی ضرور سناتے۔مگر خدا کے کرم سے یہ باش بس رم جھم تک محدود رہی اور ہم اردگرد کے ہجوم میں سے ایک سوراخ بنا کر جنت کا دکھائی دینے والا خوبصورت نظارہ کرتے رہے۔ویسے جنت کیسی ہو گی اس کا اندازہ ہم صرف ایک بات سے کر سکتے ہیں کہ اس مقام پر سے اپنے ہم وطنوں کو ہٹا دیں۔یہی پہاڑ کی چوٹی ہو اور یہی موسم مگر کہیں کسی جگہ کوئی خالی بوتل،ریپر یا ڈائپر نہ ہو۔چوٹی پر کاروبار کی بجائے سرکار کا قبضہ ہو اور ہر ڈھابے پر اعلی کوالٹی کا کھانا بغیر کسی ملاوٹ اور خیانت کے ملتا ہو،کوئی جھوٹ نہ بولتا ہو اور دھوکہ نہ دیتا ہو۔۔۔۔۔لیں جی بن گئی جنت!

ہماری سیاحت بس اسی پہاڑی کے گرد دو چار چکروں تک محدود رہی ،ہجوم سے زرا پرے جاتے ڈر لگتا تھا کہ جنگل میں درندوں کی منہ دکھائی کا حوصلہ نہ تھا ، سو زرا لوگوں کے قریب قریب ہی رہے مگر یہ ضرور دیکھا کہ جہاں لوگ نہیں بھی جاتے تھے کچرے کے انبار وہاں بھی تھے۔ کچھ چھیڑ چھاڑ بادلوں سے کی کچھ بقایا بچے حسن فطرت کا نظارہ کیا اور نیو مری کی سیاحت پر مکمل کا ٹک لگانے کے لئے واپسی کے لئے چئیر لفٹ پر سوار ہو گئے۔

چئیر لفٹ پر جو نظارہ واپسی کا تھا وہ روانگی کا قطعی نہیں تھا۔پوری کی پوری وادی اونچائی سے انتہائی مسحورکن منظر پیش کر رہی تھیں۔بدقسمتی سے ہم اپنے کیمرے کی تمام چارجنگ اوپر جاتے اور وہاں پھرتے ختم کر چکے تھے ورنہ آپ کو ضرور دکھاتے کہ خدا نے پاکستان کو کیسی کیسی جنتیں نواز رکھی ہیں۔ تمام تر پٹریاٹہ کا وسیع نظارہ سامنے پھیلا تھا اور دیکھنے والے کا اس منظر میں بالکل گمشدہ ہو جانے کو دل کرتا تھا۔ اب تھوڑے اعصاب بھی سنبھل چکے تھے تو ہم میں یہ حوصلہ آ چکا تھا کہ جی بھر کہ اس منظر کو جذب کر سکتے سو جی بھر کر کیا اتنا کہ آس پاس سے گزرتے منچلوں کی آوازیں بھی ہمیں متوجہ کرنے میں ناکام رہے۔

واپسی کے لئے لوٹتے بھوک شدت اختیار کر چکی تھی اس لئے رستے میں ایک ریسٹورنٹ میں ٹھہرے۔رم جھم پھر سے شروع ہو چکی تھی اور مناظر بارش کے دھندلکے میں چھپ سے گئے تھے۔ہم نے چونکہ دبئی اور ابوظہبی کی عام دھند خوب سہہ رکھی ہے جو گاڑی کے اندر سے ٹھنڈی اور کھڑکی کھول دینے پر گرم لگتی تھی تو یہ خوبصورت نمدیدہ سی دھند کسی پریوں کی داستان کا حصہ لگتی تھی۔اسی دھند کے کنارے بیٹھ کر کھانا کھایا اور خدا لی سی تمام نعمتوں کا شکر ادا کیا۔اور یہ دعا کرتے گھر کو لوٹے کہ خدا ہمیں اپنی دی گئی تمام نعمتوں کی حفاظت کے قابل کرے! آمین!

________________

صوفیہ کاشف

11 Comments

  1. یہ خوبصورت نمدیدہ سی دھند کسی پریوں کی داستان کا حصہ لگتی تھی۔اسی دھند کے کنارے بیٹھ کر کھانا کھایا اور خدا لی سی تمام نعمتوں کا شکر ادا کیا۔اور یہ دعا کرتے گھر کو لوٹے کہ خدا ہمیں اپنی دی گئی تمام نعمتوں کی حفاظت کے قابل کرے! آمین ثم امين

    Liked by 1 person

  2. This is deleted. I can’t read it😢 میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اتنی جلدی سوات میں بہتے ہوئے دریائے سوات کے سامنے ایک بڑی شیشے کی کھڑکی کے پیچھے پڑے صوفے پر بیٹھی ہوں گی اور دریائے سوات کے بہتے ہوئے پانی کی موسیقی بیان کر رہی ہوں گی۔اگرچہ خواہش میری ہمیشہ یہی رہی ہے کہ میں کسی بس کے

    Liked by 1 person

        1. جب ایک در بند ہوتا ہے تو پروردگار عالم دس دروازے کھول دیتا ہے۔ وہی بہترین پلانر ہے۔ وہ جو بھی کرتا ہے اسی میں ہماری بہتری ہوتی ہے۔ محنت اور عبادت فرض ہے۔ مالی دا کم پانی دینا بھر بھر مشکاں پائے۔ مولی آ دا کم پھل پھول لانا چاہے لائے نا لائے۔

          Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.