مجبوری کی کہانی___________صوفیہ کاشف

ہلکی سی خوبصورت رومانوی کہانی ہیپی اینڈننگ والی۔۔۔ڈائریکٹر نے کہا تھا اور وہ ہلکی پھلکی کہانی بننے میں کئی دن سے پھنسی تھی۔وہ کردار بنتی، کئی کئی خوبیاں ڈھونڈ کر ملاتی۔

کردار،ایک نوجوان حسین لڑکی،چلبلی سی،ہنستی مسکراتی ،اس چلبلی حسینہ کو کسی مالدار ماحول پر آسائش گھرانے میں سجاتی تو اس کے ہنستے مسکراتے چہرے پر نخوت کی لائنیں کھچ جاتیں،گردن میں سریا کھڑا ہونے لگتا اور وہ آتے جاتے کسی چپڑاسی کسی غریب کو گھونسہ رسید کرنے لگتی کسی کو مکا دے مارتی،،،،نہیں نہیں،،،وہ بیک گراونڈ بدلتی ،چلبلی حسینہ کو مڈل کلاس میں اتارتی تو گھر کی دیواروں سے اترتی ذندگی کی جنگ اس کے اعصاب تھکانے لگتی،حسینہ کی چلبلاہٹ گھبراہٹ اور تھکاوٹ میں ڈھل جاتی۔

پھر سے ایک بھولی بھالی لڑکی کو چنتی،حسین بھولی بھالی لڑکی کا کردار بنتے ہی کئی طرف سے ہاتھوں میں جعلی دل رکھے کئی قسم کے ہمسائے،کلاس فیلو اور استاد شکار چہرے پر محبوب کا خول چڑھائے پہنچ جاتے،،،،،،ایسے کیسے بنے گی رومانوی کہانی،حسین بھولی بھالی لڑکی،اتنے دھوکے بازوں کی باتوں پر یقین کرے گی تو خوبصورت انجام کیسے ہو گا؟ یہ تو ٹریجڈی بن جائے گی،،کسی پنکھے سے لٹکی،کسی ہسپتال کے مردہ خانے میں پڑی، کسی پاگل خانے میں پھنسی یا کوئی کوٹھے پر بیٹھی طوائف تک جا پہنچے گی۔۔۔۔وہ پھر بڑا سا کراس لگاتی،کاغز پھاڑتی اور ڈسٹ بن کی طرف اچھال دیتی جو چرمر کاوشوں کی ڈھیر سے ابل چکا تھا اور کاغذوں کی گولیاں اب اس کے آس پاس اکٹھی ہو رہی تھیں۔

ایک کم حسین گندمی سی ذہین لڑکی،،،،،،ایک نیا خاکہ بنتی،،،،،کم حسین؟؟ ذہین تو ہو گی مگر ہیروئین کیسے ہو گی؟ گھر میں کوئی پوچھتا نہ ہو گا،باہر کوئی دیکھتا نہ ہو گا،حتی کے کلاس میں استاد بھی نمبر دیتے دو نمبر مفت کے کاٹ لے گا۔۔۔یہ لڑکی تو ساری عمر گھٹن کا شکار رہے گی،اس کے تو ہر رستے پر ایک بڑا سا رستہ بند ہے کا بورڈ لگا ہو گا،یہ دل کیسے جیتے گی؟ وہ پھر الجھ جاتی،کراس لگاتی،ورق پھاڑتی،ایک گول سی گیند بناتی اور اچھال دیتی،ڈسٹ بن طرح طرح کی لڑکیوں سے بھر چکی تھی جو اب تک ایک خوبصورت ہلکی پھلکی رومانوی تحریر جس کی ہیپی اینڈننگ ہو بنانے سے قاصر رہی تھیں۔

پھر ہیروئین کا کردار چھوڑ کر ہیرو پر توجہ دیتی،،،،،،،خوبصورت لڑکا چنتی،تو ذندگی میں جتنے خوبصورت لوگ دیکھے تھے سب کے سب فلرٹ تھے،کس کے کردار سے شرافت چنتی؟،اور شرافت چن لیتی،تو سانولے چہرے پر بے ہنگم داڑھی مونچھ اگ آتی جسے کبھی تراشنے کی یا ڈھنگ سے منہ تک دھونے کی ضرورت بھی محسوس نہ کی گئی تھی،بےڈھنگے سے شلوار قمیض میں کندھے لٹکائے چلتا ہیرو،اسے ابکائی آنے لگتی،اس کی ہیروئین اس سے پیار کیسے کرے گی،اس کے سامنے بہت سارے سوالیہ نشان رقص کرنے لگتے۔یہ ہیرو لڑکی کے دل میں کیسے اترے گا جو سب سے آخری رو میں بیٹھا ہو گا،کم مسکراتا کم بولتا اور لڑکیوں کو دیکھتا نہ ہو،،،،کیا پتا اس کم گو کے اندر سب کچھ ٹھیک بھی ہو گا کہ نہیں،خموشیوں میں چھپے جانے کیسے کیسے خانہ خراب قسم کے مسائل نکلیں۔۔۔۔۔وہ پھر ایک کراس لگاتی،گچھا بناتی اور لڑکیوں کے ڈھیر پر ایک دبو شریف ہیرو اچھال دیتی ۔۔۔۔

تو پھر ہینڈسم کالے لہراتے بالوں اور مسکراتے چہرے والا پٹاخ پٹاخ جواب دیتا،ہزار طرح کے ڈائلاگ بولتا،وہ نئے کردار کے پیچھے چلتی جو ایک لڑکی کو دروازے پر اتار کر دوسرے کا نمبر ملانے لگتا،اسے پھر بال نوچنے پڑتے اس پر کیسے لکھوں محبت کی کہانی،جن کے ہاتھوں میں محبت ایک کھیل ہو ان پر محبت کا جادو چلانے کی نہ اس کے تخیل میں جرات تھی نہ قلم میں طاقت۔ذندگی کا مطالعہ شعور اور سمجھ کبھی کبھار ناکامی کی بہترین وجہ بن جاتا ہے۔کمال قسم کی رومانوی کہانیاں لکھنے کے لئے انساں کا محدود علم کس قدر ضروری ہے اسے آج سمجھ میں آ رہا تھا۔پھر ہیرو کو ایک گولے میں لپیٹا اور ڈسٹ بن پر داغ دیا جہاں خوش شکل ہیرو کے گرتے ہی ایک تھرتھری سی مچ گئی تھی۔حسن کا جادو بہرحال ہر جگہ چلتا ہے چاہے وہ کوڑے کا ڈھیر ہی کیوں نہ ہو۔۔۔

اکلوتی اور چہیتی لڑکی ،،،،،،،اس نے بیک گراؤنڈ بنایا۔۔۔۔۔۔۔اکلوتی اور چہیتی_______ بگڑی ہوئی،،ضدی،جھگڑالو اور مغرور،،،،،،نہیں نہیں اس کا ہیپی انجان ممکن نہیں اس کا تو پوئٹک جسٹس ہی خوبصورت ممکن نہیں یہ پڑھنے والوں کے لئے خوبصورت خواب کیا جنم دے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر کہاں ہیں ہمارے معاشرے میں اکلوتی اور چہیتی لڑکیاں،،،،،،،؟؟؟ وہ سوچتی،،،،،آس پاس دور و نزدیک کے سب رشتہ دار محلہ دار کھنگال لئے،پھر کلاس فیلوز شروع کر لئے پہلے گریڈ سے آخری تک ایک ایک کر کے،،،سوائے ڈراموں اور کہانیوں کے کہیں کوئی ایک اکلوتی لڑکی نہ نکلی۔۔۔۔۔سانس بھر کر رہ گئی۔یہاں تو لڑکیوں کے ڈھیر لگے تھے ہر گھر میں،بچوں کے انبار،کم سے کم بھی ہر گھر میں تین چار،،،،دو بھی مشکل سے ملتے تھے وہ کہانی میں اکلوتی کیسے بنا دیتی،،،،کراس،گچھا اور ڈسٹ بن!

اگلی لڑکی بھرے پڑے گھر کی چنی تو گھر کے اندر ہی پہچان کی جنگ میں لڑکھڑانے لگی،کبھی روٹی پوری نہ ملتی،کبھی جوڑا چھن جاتا کبھی تعلیم کی حدوں پر فوجیں حملہ آور ہو جاتیں۔۔۔ایک اور ماحول کوڑے کے ڈھیر کی نظر ہو جاتا۔کاغزوں پر رنگ بکھیرنے بھی کس قدر مشکل ہیں،اس کا سر چکرانے لگتا۔

یہ تو کہانی تھی ذندگی نہ تھی پھر بھی بنانی ،سنوارنی اور مسکرانی کس قدر مشکل تھی وہ سر ہاتھوں میں تھام کر بیٹھ گئی۔کئی دن سے وہ کردار نگاری اور ماحول کشی کی کوشش میں ایک ہلکی پھلکی سیریل کی رومانوی کہانی کے کردار تک نہ بن سکی تھی۔۔۔کہانی کیا بنتی۔سب سے اہم تو کردار ہی ہیں،کردار ہلکے پھلکے ،ایماندار اور خوبصورت ہو نگے،ماحول صحت مند ہو گا، تو انجام خود بخود خوبصورت ہو جائے گا،مگر اس کی ذندگی سے کہانیاں چننے کی عادت کبھی اچھےکردار نہ ڈھونڈ پاتی اور کبھی ماحول میں پھنس جاتی۔۔۔۔ظلم یہ تھا کہ ان کرداروں، سیٹنگ اور ماحول کے ساتھ اسے ایک رومانوی کہانی بننی تھی ورنہ نوکری خطرے میں تھی۔________________

صوفیہ کاشف

2 Comments

  1. ایک نوجوان حسین لڑکی،چلبلی سی،ہنستی مسکراتی ،اس چلبلی حسینہ کو کسی مالدار ماحول پر آسائش گھرانے میں سجاتی تو اس کے ہنستے مسکراتے چہرے پر نخوت کی لائنیں کھچ جاتیں،گردن میں سریا کھڑا ہونے لگتا اور وہ آتے جاتے کسی چپڑاسی کسی غریب کو گھونسہ رسید کرنے لگتی کسی کو مکا دے مارتی۔۔۔۔۔۔۔واہ واہ واہ 😍 from Marhaba Lounge Dubai airport

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.