سبق_________________صوفیہ کاشف

ذندگی کے ہر موڑ پر ایک کہانی ایک سبق ہمارے سامنے کھڑا ہمارا منہ چڑھاتا ہے۔ہم جس رستے کو باغ کی طرف جاتا سمجھتے ہیں وہ غاروں میں جا نکلتا ہے،جسے بھوت بنگلہ سمجھ کر کنی کتراتے ہیں وہ دھکیلتا ہوا بہاروں کی سمت لے چلتا ہے۔سفر شروع کسی اور منزل کی طرف کرتے ہیں پہنچ کسی اور منزل تک جاتے ہیں،چلنا دائیں سمت چاہتے ہیں،ہوائیں دھکیل کے بائیں طرف پہنچا دیتی ہیں۔کچھ سال پہلے جب میں نے اپنی سوچ کو آواز اور آواز کو الفاظ دینے شروع کئیے تو مجھے یہ لگتا تھا آگے سیدھا رستہ ہے،ہر گزرتے دن کے ساتھ سفر بہتر اور رستے واضح ہوتے جائیں گے،اور آج میں دیکھتی ہوں کہ میرے سامنے سے رستے دھندلے ہو کر مٹ رہے ہیں،منزل اور رستے میں فرق مٹ چکا ہے،اپنی طرف کھینچتی ہر ترغیب صفحہ ہستی سے مٹ چکی ہے۔

“کیوں”ایک ضخیم صورت لئے چاروں طرف سے گھیرنے لگا ہے۔چلا جائے تو کیوں،اٹھا جائے تو کس لئے؟ منزلوں کے نشاں مٹ گئے،شوق منزل دھواں بنکر فضاؤں میں چھپ گیا۔اور یہ کوئی المیہ نہیں! یہ ایک عجیب سی صورتحال ہے،ایک نیا تجربہ ہے کہ راہ میں آگے کو دھکیلتی ہر ترغیب اپنے ہجے آخر کیوں گم کر بیٹھی ںہے؟دنیا میں موجود ہر مقصد،منزل اور کامیانی اپنے معانی کیوں کھو بیٹھی ہے۔ایک گروپ کی محفل میں مجھے دو لائنوں میں ایک کہانی لکھنے کو کہا گیا تو دی گئی تصویر کو دیکھ کر جو میں نے کہانی لکھی وہ یہ تھی:

اونچائی کی طرف سفر کرتے مجھے خبر نہ تھی کہ کہ ایک دن میں اس سے اسقدر اونچا ہو جاوں گا کہ وہ مجھ تک پہنچ تک نہ سکے گی۔۔۔۔

آج میرے بھی تمام مقاصد ،خواب اور شوق مجھ سے بہت نیچے رہ گئے میں دھند کے پار اتر گئی جہاں دور دور تک سکوت بھرا خلا ہے ،خموشی ہے اور کچھ نہیں۔مگر اس میں خوف اور دکھ نہیں،اسمیں ٹھہرپاو ہے،اس میں امن ہے اور کچھ سکون بھرے سانس ہیں!

بہت بڑی ڈگری،بہت بڑی شہرت،بہت سارا حسن،بہت سا گلیمر،دنیا جہان کا علم،سب سے بڑھ کر ناز و انداز،سب سے بہتر کام،سب سے عمدہ کامیابی،سب سے اونچا گھر،سب سے منفرد چیزیں۔۔۔۔۔کس لئے؟آخر کس کے لئے؟ تو کیا واقعی ہم ان میں سے ہر شے کی عظمت پر یقین رکھتے تھے؟ نہیں رکھتے تو چاہتے کیوں ہیں؟ ذندگی یہ کیسے بیکار دھندوں میں گنوا دی ہم نے،ہم نے سائے سے ریس لگائی اور خود کو ہار دیا۔

جب ہم بے تحاشا آوازوں کے شور میں،بہت بڑے ہجوم میں،گم ہوں تو اکثر اپنی دھڑکن تک سن نہیں پاتے،نہ سننا ہی چاہتے ہیں،ہم آوازوں کی سمت لپکتے ہیں اور ان کے ساتھ ہی رہنا چاہتے ہیں جیسے کہ ہم صرف ان کے لئے ہی بنے ہیں،پھر ہم خود کو کھو دیتے ہیں۔ایسے شور اور ہجوم سے نکل آنا،ان سے دور چل پڑنا،اور پھر بہت دور جا کر بہت دیر کے بعد انسان اپنی دھڑکن کو سننے کے قابل ہو پاتا ہے ایسے جیسے سکرین پر بہت دیر سے لگی آنکھ،سکرین سے ہٹ کر کچھ بھی دیکھنے میں بہت وقت لے لیتی ہے۔۔۔

_________________

صوفیہ کاشف

4 Comments

  1. ہم آوازوں کی سمت لپکتے ہیں اور ان کے ساتھ ہی رہنا چاہتے ہیں جیسے کہ ہم صرف ان کے لئے ہی بنے ہیں،پھر ہم خود کو کھو دیتے ہیں۔ wah wah wah

    Liked by 1 person

  2. ​ایک اہم موضوع پر خوبصورت تحریر۔

    “ہم نے سائے سے ریس لگائی اور خود کو ہار دیا۔”

    بس یہی کچھ سب بھاگم دوڑ کا خلاصہ معلوم ہوتا ہے۔

    کہتے ہیں کہ سیاح، دورانِ سفر ایک فقیر کے آستانے پر پہنچا۔
    فقیر کا کُل سامانِ وجود اور نظامِ ہستی زمین پر بچھی چادر اور ایک آدھ برتن پر مشتمل تھا۔ سیاح نے گُفتگو کے دوران فقیر کی توجہ بے سروسامانی کی طرف دلائی۔ فقیر نے عندیہ دیا کہ اس کے بارے میں وہ کچھ دیر بعد بتائے گا۔
    پھر باتوں باتوں میں فقیر نے سیاح سے اس کے بیک پیک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، اس کے سامانِ زندگی کے بارے میں سوال کیا۔
    سیاح نے واضح کیا: “وہ دراصل، اتنا ہی سامان کافی ہے۔ میں سفر میں ہوں ناں”۔

    “بالکل درست……. دراصل میں بھی…..”۔ فقیر نے یاد دِلایا۔

    بڑے کہا کرتے ہیں کہ جب آنکھ کُھلتی ہے، تو خواب ختم ہو جاتا ہے اور حقیقت سامنے آ جاتی ہے۔
    بس یہی زندگی کی بھی تعریف ہے۔

    ہماری زندگی کا ہر موڑ ،دوراہا، رستہ اور رکاوٹ دراصل اس گُوگل میپ کی پہنائیاں ہیں، جس کی رہنما آواز ہماری ضرورت ہے اور جس پر یقین ہم پر لازم۔

    جس زمین پر آدم کی نسل کو سزا کے طور پر اُتارا گیا، سزا جو ایک غلطی کا نتیجہ تھی، غلطی جس کا سںبب بھٹکاوا بنا، بھٹکاوا جو تسلیم و رضا کی عدم موجودگی کا نام تھا، ہے اور رہے گا، اور جو انسانوں کو وسوسے و مایوسی کی صورت نشانہ بناتا ہے، انسان جس کی زندگی کا ہر واقعہ ایک امتحان ہے…….
    اس سب کو سمجھنے کے بعد تو ہمیں خود، خدائی اور خدا کے بارے میں گمان کے گرداب کی بجائے یقین کی موجوں میں قسمت آزمائی کی ضرورت ہے۔

    ہم ایک رستے کو جانبِ باغ سمجھے اور وہ ہمیں ویران غار تک لے گیا۔ یہاں ہماری سمجھ، راستے کے انتخاب اور منصوبہ بندی سے زیادہ، نتیجے پر ہمارا ردِعمل اہم ہے۔
    ابدی حقیقت کو مان لینا بے بسی نہیں، کارسازی ہے۔
    جو محنت و سوچ بچار ہم نے کی، وہ ہماری نیت تھی۔ جہاں ہمارے اٹھائے ہوئے قدم پہنچے، وہ ہمارے عمل کا عکس تھا۔ اور جو نتیجہ نِکلا، اس پر ہمارا تبصرہ، دراصل ہمارا نصیب ہے۔
    ​​

    میرے خیال میں، آگاہی اور آگہی کی راہ بذاتِ خود ایک کٹھن امتحان کی راہ ہے۔ یہاں چلنے والے کو ہر قدم یہ کھٹکا رہتا ہے کہ “اِز اِٹ ورتھ اِٹ؟”…… ذہن ہر پل ‘پرفیکشنزم’ کھوجتا ہے، اسے خود پر لاگو کرتا ہے اور نتیجتہً ہمیں بس اعزازی نمبر ہی دے پاتا ہے۔ رہی سہی کسر دوسروں سے موازنہ پوری کر دیتا ہے۔
    ​یہاں ایک بات یاد رکھنا چاہیئے۔
    Perfection isn’t the goal. Happiness is​.

    ابھی دِل کی واردات باقی ہے۔
    دِل اُن گمانوں میں پڑ جاتا ہے، جو سراسر جان لیوا ہیں۔ مثلاً رشک، حسد، وغیرہ⁦۔ ملاحضہ ہو، کہ یہ عمل نہ ہوتے ہوئے بھی بد عملی ہیں۔

    پھر نفس کے معاملات ہیں۔ معاشرے کے بینچ مارکس ہیں۔ توقعات کے پُل صراط ہیں۔ یہ سب کُچھ ہماری کنفیوژن بڑھاتا ہے۔

    سوچ کو آواز کا آہنگ دینا، اور آواز کو الفاظ کا رُوپ عطا کرنا بلاشبہ تخلیق کا ہنر ہے۔ یہ خالق کی جانب سے مخلوق کو عطا کی گئی سب سے بڑی نعمتوں میں سے ہے۔
    یہ محبت کا ایک رُخ ہے۔

    محبت عبد میں معبود کا حِصہ
    محبت غیب میں مشہود کا قصہ

    محبت کا رستہ بہرحال سیدھا نہیں ہے۔ اگر رستہ طے کرتے کرتے ہم شک اور سوال کی وادی میں اُتر جائیں، تو رُک کر سفر پر غور و فکر کرنے سے پہلے یہاں پہنچ جانے پر سرِ تسلیم خم ضروری ہے، کہ اسی جگہ پر ہمارے اب تک کے سفر کا لازمی پڑاؤ ہونا تھا، اور ہونا چاہئیے تھا۔
    نتیجے کی وجوہات تسلیم کرنا ہیں۔ اپنی حکمتِ عملی کی وجوہات پر غور کرنا ہے۔ بس یہی اس پڑاؤ کا مقصد ہے۔
    شاید یہاں ہمیں خود کی ایپ کو ری سینٹر کرنا ہے۔ شاید یہاں منزل کو دوبارہ جانچنا ہے۔ شاید نئے اور مختلف ہدف متعین کرنا ہیں۔ شاید اپنی طرف کھینچتی ہر ترغیبِ ہستی کے اب مِٹ جانے ہی کا وقت تھا، کہ اب نئی ترغیبات کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ جیسے ایک خاص عمر کے بعد کھلونے، کھیل، دوست، مشاغل، مصروفیات، سب بدل جاتے ہیں۔

    یہ فطرت کا طریقۂ واردات ہے۔ اسے گلے لگانا ہے۔ تسلیم کرنا ہے۔

    دوسرے مرحلے میں آگے کا سوچنا ہے۔

    اگر ایک لکھاری اپنی اولین تحریر اور اپنی آج کی تحریر کو ساتھ ساتھ پڑھے، تو وہ اپنے تخلیقی سفر پر حیران رہ جائے۔ ہم انسان اس کائنات میں مسلسل ارتقاء کا استعارہ ہیں۔ ہم اس کن فیکون کے سائے میں ہیں، جس کے بارے میں یہی کہنا کافی ہے کہ: ہم چاہ بھی نہیں سکتے، اگر وہ نہ چاہے۔

    ہمارا “کیوں” مِڈ لائف کرائسس سے زیادہ ہماری فراست و فہم کا سوال ہے۔ یہ دراصل اس ارتقاء کا ایک مرحلہ ہے، جو ہمارے راستے کا بدلاؤ لائے گا، ہمارا رُخ از سرِ نو متعین کرے گا، ہماری اقدار، عادات اور طبیعت پر اثر انداز ہو گا۔

    “کیوں” ہمیں بتاتا ہے کہ اِنرشیا کا وقت اب ختم۔ اب ہمیں نئی راہیں، شاید نئی منزلیں بھی چُننا ہیں۔

    جِس اونچائی کی جانب سفر کرتے کرتے ہم اس سے بھی اوپر پہنچ گئے، وہ ہمارے جسم و روح کا ایک فیز تھا۔ گزر گیا۔ اب بقول ابراہم میزلو، ہماری ضروریات کی درجہ بندی کا اگلا مرحلہ درپیش ہے۔

    “آج میرے بھی تمام مقاصد ،خواب اور شوق مجھ سے بہت نیچے رہ گئے۔ میں دھند کے پار اتر گئی جہاں دور دور تک سکوت بھرا خلا ہے ،خموشی ہے اور کچھ نہیں۔ مگر اس میں خوف اور دکھ نہیں، اسمیں ٹھہراؤ ہے، اس میں امن ہے اور کچھ سکون بھرے سانس ہیں!”

    یہ سطریں کُچھ ناگزیر الجھاؤ کے باوجود اطمینان، اُمید، ایمان اور محبت سے پرُ ہیں۔

    ڈگری، شہرت، حسن، گلیمر، علم، گھر، ناز و انداز، کام، وغیرہ ہمارا انتخاب ہیں۔ رستے چُنتے وقت، منزل ذہن میں ہونا ضروری ہے۔ اگر ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہماری چاہت کی منزل کے راستوں کے لوازمات کچھ اور ہونا چاہئیے تھے، تو ہمیں مبارک ہو! لمحۂ موجود ہمیں انتخاب کا اختیار دے رہا ہے۔

    بقول سید مبارک شاہ….

    “پہاڑوں کی طرح ساکت
    درختوں کی طرح جامد
    کھڑے ہیں پا بہ گِل لیکن
    ہمیں اپنی قسم ہم نے
    اُسے اب تک نہیں ڈھونڈا
    لہو سے سے تر بہ تر اِک خاک کے پیکر سے
    جو اک ماورا شے ہے

    خُدائے بے بدن جِس کو
    درختوں اور پہاڑوں کی قسم کھا کر
    کمالِ احسنِ تقویم کہتا ہے۔”

    بے تحاشا آوازوں کے شور اور ہجوم میں ہم اپنی دھڑکن سُن پائیں یا نہیں، ہمیں اُس آواز کی جانب ضرور لپکنا ہے جو ہماری زندگی کے نقشے کو ہم سے زیادہ اور بہتر جانتی ہے۔
    یہ اور بات ہے کہ اسے نہ سُننے کی صورت میں بھی ہمیں ہماری آخری سانس تک کئی بار، بار بار ایسے دوراہوں پر لایا جائے گا، جہاں ہم اپنے رستے اور منزل کےانتخاب پر نظرِ ثانی انتخاب کر سکیں۔

    In this time of clutter and distractions, we need singularity of focus….
    You see, a Grand Prix motor-racer and a military convoy’s 3-Tonner driver travelling on KKH have something in common… Both cannot afford to look anything but the track.

    میں رانجھے دی، رانجھا میرا
    چاچا کیدو …….. خوامخواہ!

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.