کاغذ کی کشتی__________صوفیہ کاشف

اس نے اپنا دو لاکھ کا فون ٹایل کے چمکتے فرش پر ایسے دے مارا جیسے دھو بی گھاٹ پر کپڑوں کو پٹختا ہے۔لاکھوں کا موبائل ٹوٹنے کے پیچھے بھی کوئی ایسا غم ہو سکتا ہے جو کسی بستی کے غریب گھر میں بچے کو دھنک کر رکھ دینے کے پیچھے ماں کے دل میں ہو سکتا ہے۔مگر یہ ہے کہ کبھی کبھی تو کاغذ کی کشتی بھی مسکرا سکتی ہے اور کوئی دو لاکھ کا موبائل ہو کر بھی ٹوٹ جاتا ہے۔

لوگ سمجھتے ہیں بدقسمتی اور تکالیف کے اندھیرے صرف جھونپڑیوں اور غربت کا مقدر ہوتے ہیں۔وہ نہیں جانتے کہ شیشے کے محلات اور پتھر کے مینارات میں جو آسیب بستے ہیں وہ کال کوٹھری کے آسیب سے کئی گنا زیادہ ڈراؤنے اور ہولناک ہوتے ہیں۔روشنی اور اندھیرے کا امتزاج انسانی ہستی کو انتہاؤں میں کچل کر یوں مار دیتا ہے کہ پھر وہ فرش پر بے یارو مددگار موبایل کی طرح کہیں کا نہیں رہتا۔یہ موبائل جو شیشے کی طرح کرچی کرچی ہو کر بکھر نہیں سکتا،یہ اپنی بربادی کا پورے فرش پر کرچیاں بکھیر کر ماتم نہیں کر سکتا۔ٹوٹ پھوٹ کر بھی،ذندگی ہار کر بھی صورت سے مکمل لگتا ہے،بس چہرے پر کرچیوں کا ایک غیر محسوس سا جال ابھر آتا ہے۔ایک آدھ کونہ مڑتا ہے سکرین کے کچھ کنارے بُھر جاتے ہیں۔بیٹری اور سم کسی نواب کے دماغ اور دل کی طرح دو مختلف انتہاؤں میں جا گرتے ییں۔موبائل کی روشنی کسی کونے سے ابھرنے کی خواہش کا اظہار تو کرتی ہے مگر ابھر نہیں پاتی۔اس شاندار صورت کے وجود میں ذندگی خموشی سے آخری ہچکی پر پھنسی ہے۔ نہ جلدی مر سکے گی نہ اب جی ہی سکتی ہے۔

دکھ تو شاید ہر جگہ ایک سے ہوتے ہیں،ہم نے ہی ان کو غریب اور امیر دکھ میں تقسیم کر رکھا ہے۔غریب کا دکھ کھلا چوراہے پر رکھا ہے،ہر کوئی آتے جاتے اس پر ترس کھا کر اس کی مسکینیت کی گواہی دے دیتا ہے۔ امیر لگنے والے فرد کا دکھ مقبرے میں دفن لاش جیسا ہو جاتا ہے،آنے جانے والے ایک پکنک گاہ کی طرح ادھر ادھر پھرتے،مقبرے کی شان کے قصیدے پڑھتے لوٹ جاتے ہیں ۔گلی سڑی لاش مٹی کے ڈھیر میں دفن اپنے نوحے اور مرثیے سئے لبوں کے پیچھے ایک ان بھری سسکی کی طرح دبائے بیٹھے رہتے ہیں۔ان کو تو فاتحہ تک نصیب نہیں ہوتی چونکہ ان کے پاس کسی کا دل پگھلا دینے کا سامان نہیں ہوتا۔ سو لوگ مقبروں پر جا کر فاتحہ بھول جاتے ہیں اور پکنک منا کر لوٹ آتے ہی ۔مقبرے جن کا مقدر اپنی ہی تنہائی میں تنہاجلتے رہنا ہے،بغیر دھواں دییے،بغیر دہشت و خوف پھیلائے!

سو اب وہ وحشت سے نکلی ہے تو ڈرتے کانپتے ہاتھوں سے موبائل کے پرزے ہتھیلی پر رکھے سوچتی ہے۔یہ کمائی حرام نہ تھی پھر کیسے رہزنوں کے ہاتھوں لٹ گئی تھی؟یہ فون اسے یاد تھا اس نے اپنا سارا خزانہ الٹ کر خریدا تھا تا کہ آس پاس والے امیر معاشرے میں بھرم رہ سکے۔بھرم جو مڈل کلاس پورا سوٹ پہن کر رکھتی ہے اور اسے اپنے نوابی شہر میں مہنگا موبائل لے کر رکھنا پڑتا ہے۔۔اس کی بھرم ذدہ ذندگی اندر سے خالی تھی مگر اوپر سے سخت محنت اور جبر کے ساتھ پردے میں ڈھانپ رکھی تھی۔

اگلے کئی دن تک وہ بن روئے آنسو دل کی تہوں میں گراتی رہی،جسے توڑ دیا تھا اسے پھینکنے کی ہمت نہ تھی۔حلال کی کمائی پھینکنی آساں نہیں ہوتی۔سو اب اسی ٹوٹے خموش اور تاریک موبائل کو لپیٹ کر اس نے الماری میں چھپا کر رکھ لیا تھا اور اس وقت ،اس لمحے اور اس تڑپ کو دہرانے سے بچنے لگی تھی جس میں پھنس کر خود اپنا نقصان کر بیٹھی تھی۔

اسے بھی توڑ دیا تھا وہ جو موبائل سے بھی قیمتی تھا۔اسے اٹھاتی تھی،اسے جوڑنے کی کوشش کرتی مگر جوڑ نہ پاتی تھی۔اپنے تماتر کرب اور خلوص کے باوجود وہ جو بتی بجھی تھی اب اس سے جلائے نہ جاتی تھی۔اور وہ بھی اب دم سادھے ٹوٹے کونوں کے ساتھ اور تاریک سکرین کے ساتھ کسی کونے میں گرا خموش ماتم کرتا تھا۔

“مجھے کسی اور سے پیار ہو گیا ہے”

ہاں یہی کہا تھا اس نے!

نہیں سترہ سالہ لڑکی نے اپنے بوائے فرینڈز سے نہیں کہا تھا ،پینتالیس سالہ عورت نے اپنے پچیس سالہ رشتے کے بعد اپنے شوہر سے کہا تھا۔قیامت تو ٹوٹی تھی مگر اس سے پہلے بھی تو کئی قیامتیں ٹوٹ چکی تھیں۔قیامت تو تب بھی ٹوٹ پڑی تھی جب شادی شدہ جوان بچوں کی ماں اور کسی کی بیوی ہو کر وہ کسی اور سے پیار کر بیٹھی تھی۔پیار،،،کیا اتنا آسانی سے ہو جاتا ہے؟ نہیں! سیانے کہتے ہیں انسانوں میں کچھ ٹوٹا ہوا ہو تو جڑنے کے بہانے ڈھونڈتا ہے،پیار بھی ایک بہانہ تھا،وہ بھی شاید کہیں سے ٹوٹ چکی تھی،اسے بھی شاید مکمل ہونے کی طلب تھی۔

عالیشان گھر تھا،پیسے والا شوہر تھا،امیر اور ماڈرن شہر تھا،آذاد خیال ماحول تھا،پھر کمی کس بات کی تھی؟اسی لئے عقلمند لوگ عورتوں کو گھروں میں بند کر کے رکھنے کو ہی عافیت سمجھتے ہیں۔وہ جانتے ہیں عورت ایک تقاضا ہے،مسلسل توجہ مانگتا ہے،اور مرد اس کی مینٹینیس سے اکتاتا ہے۔اسے عورت کرسی میز کی طرح بس ایک کونے میں رکھی اچھی لگتی ہے،اسے روز روز سنوارنے اور وقت دینے سے اس کی جان جاتی ہے۔مگر وہ____وہ تو ایسا نہ تھا،ہاں مگر اس کے کام کے اوقات ایسے تھے۔ہفتہ بھر صبح نکلتا تو شام کو تھکا ہارہا لوٹتا گھنٹے دو گھنٹے میں سو جاتا۔وہ تنہا گھر میں رہتی،بچے سنبھالتی صفائیاں کرتی۔کرتی رہی سالہا سال کرتی رہی۔آس پاس پردیس تھا،پردیسی بولی اور پردیسی حلیے۔وہ لوگوں میں رہ کر بھی تنہا تھی، سالہا سال اکیلے رہ رہ تھک گئی تھی۔

دور دور تک صحرا میں سورج ڈوبتا تو دکھائی دیتا تھا مگر انساں کا صرف نشاں ملتا تھا،دکھائی نہ دیتا تھا۔۔۔۔۔,ایک نہیں ،دو نہیں پچیس سال بیت گئے تھے۔وہ تنہا دل بہلا بہلا تھک گئی،وہ بھری دنیا میں اکیلے پن کے تسلسل سے ڈر گئی ۔میاں کو کمانا تھا تو سالہا سال اسے صبح سویرے ایسے ہی اکیلے چھوڑ کر جاناتھا۔وہ اپنی جگہ مشکل میں تھی،میاں اپنی جگہ مظلوم !شریف وہاں مرتے ہیں جہاں پانی نہ ملے وہ بھی تنہائی کے ہاتھوں مر کر ایک کالج کے کے دوست سے ٹکرا گئی ، توجہ کی ترسی ہوئی تھی سنبھل نہ سکی تھی______اتنی سوکھی ڈال پر بیٹھی تھی کہ ایک ہی چنگاڑ سے ٹوٹ گری تھی۔۔۔اور اب سر پکڑے بیٹھی تھی۔۔۔

پیاسے کو سراب نظر آیا تھا اب اس سے کم پر ٹلتا نہ تھا۔پھر بھی اس کی ساری دلیلیں مل کر اس قیامت کی توجیح نہ بن سکی تھیں۔دیواروں میں سر مار مار تھک گئی ۔ایسی قیامت ٹوٹی اس کے دل پر کہ پھر امن نہ اتر سکا۔تھک کر اس کے قدموں میں جا بیٹھی تھی۔ اپنے جرم کا اقرار کیا تھا۔تکلیف چھپاتے تھک گئی تھی،شرمندہ ہو ہو مر رہی تھی سوچا ایک ہی بار گھر راکھ ہو جان تو چھوٹے۔۔۔۔

جان چھوٹنا مقدر نہ تھا۔وہ جسے چیخنا اور چنگھاڑنا تھا،ٹوٹ کر بکھر گیا تھا،وہ جس نے دھکے دیکر باہر نکالنا تھا خود گھر چھوڑ کر جا رہا تھا۔۔۔آندھی چلی نہ تھی ،سمٹ کر آسماں پر ٹھہر گئی تھی اور اب سب کچھ مٹی مٹی تھا۔۔۔۔ایسے میں کیا موبائل اور کیا ٹی وی! جب گھر نہ بجے تو کسی بھی چیز کی کوئی قیمت نہیں بچتی!اس کے عالیشان گھر کی بھی قیمت گر گئی تھی۔……

اگلے کئی دن تک وہ بن روئے آنسو دل کی تہوں میں گراتی رہی،جسے توڑ دیا تھا اس کوپھینکنے کی ہمت نہ تھی۔دہائیوں کا تعلق توڑنا آسان نہیں ہوتا۔ اسی ٹوٹے، خموش اور تاریک رشتے کو لپیٹ کر اس نے سنبھال کر رکھ لیا ۔بے قیمت اور بے رونق ہی،ٹوٹا اور ادھورا ہی،کفارے کے لئے بحرحال یہی تعلق بہتر تھا۔۔۔۔۔۔۔۔شاندار صورت کے وجود میں ذندگی  خموشی سے آخری ہچکی پر پھنسی رہے گی ۔ جلدی  مر سکے گی نہ اب جی ہی سکے گی۔

______________

صوفیہ کاشف

33 Comments

  1. یہ موبائل جو شیشے کی طرح کرچی کرچی ہو کر بکھر نہیں سکتا،یہ اپنی بربادی کا پورے فرش پر کرچیاں بکھیر کر ماتم نہیں کر سکتا۔ٹوٹ پھوٹ کر بھی،ذندگی ہار کر بھی صورت سے مکمل لگتا ہے،بس چہرے پر کرچیوں کا ایک غیر محسوس سا جال ابھر آتا ہے۔۔۔۔ان کرچیوں پر کبھی ھاتھ یا انگلی نہ پھیریں۔ یہ کرچیاں اپ کی انگلی یا ھاتھ میں داخل ہوتے ہی جسم میں چلنا شروع کر دیتی ہیں۔ زندگی بھر اپ کرچیاں محسوس کریں گی لیکن کوئ ڈاکٹر ان کو اپ کے جسم سے نکال نہیں سکے گا

    Liked by 1 person

  2. سوچا ایک ہی بار گھر راکھ ہو جان تو چھوٹے۔۔۔جب انسان یکنائیت سے اکتا جاتا ہے تو کچھ بھی کر سکتا ہے اس لئے ہفتے میں دو دن چھٹی ہوتی ہے کہ چھٹی کے دن مرد اپنے اپ پر اور بیوی بچوں پر توجہ دے اور ٹی وی اور hand held devices سے دور رہے

    Liked by 1 person

    1. پاکستان میں بہت سی چیزوں کو فار گرانٹڈ لیا جاتا ہے اور عورتوں کو آسانی سے قصوروار ثابت کر دیا جاتا ہے۔

      Liked by 1 person

  3. اگر واقعی اس کا دو لاکھ کا سمارٹ فون ٹوٹ گیا ہے تو میں اس کو اپنا پرانا iPhone X بھیج سکتا ہوں میرے پاس ویسے ہی پڑا ہوا ہے۔ مجھے bell ne iPhone 13 pro max de dya hi.

    Liked by 1 person

    1. آپ چاہیں تو مجھے بھجوا دیں آخر کردار تو میرا ہی بنایا ہوا ہے! تو اس تحفے کا حق میرا ہی بنتا ہے!😝😝
      I’m sorry I’m kidding but its quite embarrassing to explain thats its merely a short-story!

      Liked by 1 person

        1. دنیا کا سب سے مہنگا تحفہ دعائیں ہیں جو بہت کم لوگ بھیجتے ہیں۔جس کے لئے نہ اجازت چاہیے نہ ایڈریس۔جس قدر چاہیں بھیجتے رہیں میں مشکور رہوں گی۔

          Liked by 1 person

  4. Sorry I was unable to explain properly in English and Urdu mix. I have an iPhone X as I upgraded to iPhone 13 pro max. If she wants to accept my gift I can send it her as I don’t use it anymore.

    Liked by 1 person

    1. رمضان کریم!
      اسی ذمیں پر اپنے مقام کو کھوجنے کی جستجو میں گم!
      لکھنا لکھانا حسب توفیق چلتا رہتا ہے مگر منظرعام پر آتے تھوڑا وقت لگتا ہے۔انشااللہ جلد ہی دیکھیں گے!
      مبارک مہینے کی خاص دعاوں میں یاد رکھیے !

      Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.