عید کی لال عینک_________صوفیہ کاشف

ہم نے خود دیکھی ہیں وہ عیدیں جب صبح سویرے نئے لش پش کپڑے پہنے ہاتھ میں سویاں لے کر آس پاس ہمسائے میں بانٹنے جاتے تھے۔تب چھوٹی لڑکیوں کا سڑک پر نکلنا،گلی میں کھیلنا اور ہمسائے میں جانا خطرے کا باعث بھی نہیں تھا۔ تب عید شیر خورمہ ہو کر ہر گھر سے نکل کر آس پڑوس میں پھیل جاتی تھی اور خواہ مخواہ آس پڑوس سے عیدیاں سمٹ کر ہم بچے بچیوں کی جیبوں اور چھوٹے چھوٹے رنگ برنگے پرسوں میں سمٹ آتی تھیں۔جب عید پر عزیز و اقارب اور دوستوں کی طرف سے گھر میں عید کارڈز،مٹھائی کے ڈبوں اور کیک کے انبار لگ جاتے تھے کہ عید ختم ہو جاتی مگر مٹھائیاں اور کولڈ ڈرنکس، گھر میں گھومتی رہتیں۔

جب عید کی خاص عیاشی راکو اور یمی آئسکریم کے پھول دار ڈبے تھے اور عید پر پی ٹی وی پر لگتے رنگ برنگے ہنستے کھیلتے ڈرامے عرصے تک یاد رہتے تھے۔

جب عید پر برانڈڈ بھی نہیں بلکہ سیدھے سادےاماں کے ہاتھ کے سلے مگر نیے کپڑے بھی سب سےبڑی عیاشی تھی۔کئی دنوں تک سجا سجا کر رکھتے اور عید کے آنے میں دن گنتے۔صبح سویرے اٹھتے اور ، نئے کپڑے سنبھال سنبھال کر پہنتے، نخروں سے عید کے روز سجتے سنورتےاور سارا دن خود کو نیے نیے لگتے اٹھلاتے پھرتے،آس پاس سب کو اپنی نئی جھپ دکھاتے پھرتے۔ذندگی میں چیزوں کی بہتات بھی ایک عذاب ہے کہ ہر شے میں سے لطف ختم ہو جاتا ہے۔پھر چاہے وہ کپڑے ہوں،لوگ ہوں ،ٹی وی چینل ہوں یا ڈیجیٹل معلومات ہو۔

ڈان نیوز پر پڑھیں

جب عیدیاں پرسوں اور جیبوں میں ٹھونس کر قریبی مارکیٹ تک جانا اور ڈھیروں ڈھیر شاپنگ کرنا ایک فرض تھا۔جب ذندگی کی ہر ضرورت ،خواہش صرف کچھ غباروں ٹافیوں اور آئسکریم پر آ کر ختم ہو جاتی ہو وہ ذندگی اور وہ دن حسین تر ہی تو ہونگے ۔جب عید بیت جانے پر سوچتے تھے کہ اف اب پھر سال بھر انتظار کرنا پڑے گا۔پھر ہم حقائق کی پرتوں میں لپٹتے جوان ہوتے چلے جاتے ہیں اور عید کے رنگ پھیکے پڑنے لگتے ہیں.

سمجھ داری عجیب زہریلی چیز ہے کہ  رشتوں اور چاہتوں کے عنوان بدل دیتی ہے۔دوستوں اور عزیزوں کی نظروں سے مفاد اور مکاری ٹپکتی دکھائی دینے لگے  تو عیدیں صحنوں میں اترنے سے معذرت کر لیتی ہیں۔ہمارے ہاں بڑے ہونے کا مطلب محبتوں سے اعتماد کھو جانا سمجھا جاتا ہے۔جو خلوص اور محبت پر اعتقاد رکھے اس کی پرورش میں گڑبڑ یا کوئی نقص اخذ کیا جاتا ہے۔کہ سمجھ دار وہ ہے جو لوگوں کے کھڑے کھوٹے پر نظر رکھے اور اسی کے مطابق ان سے معاملات طے کرے۔کھڑے کھوٹے پر نظر رکھتے انسان عیدوں کی اصل خوشی سے دور ہوتا چلا جاتا ہے جو اپنے آپ میں تسکین اور راحت مانگتی ہے۔آس پاس مسکراہٹوں محبتوں اور دوستوں کے ہونے کا احساس مانگتی ہے اب ایسی دنیا میں اتنی محبت اور ایسے دوست کہاں سے ملیں کہ زمانے کی تیز رفتاری خلوص کے ساتھ ساتھ افراد کو بھی نگل گئی ہے۔آج کی تیز طرار معلومات سے لبریز زندگی میں جتنا تعلقات اور دوستیوں نے نقصان اٹھایا ہے اتنا ہی بڑا ظلم عید کے تہواروں پر ہو گیا۔کہ اب رشتے ناطے،دوست احباب،عیدیں سمیت سب ڈیجیٹل ہو چکے ہیں۔سو ملنے ملانے کے بہانے بھی محدود ہوئے اور خوشی کے ترانے بھی تاثیر کھو گئے۔اب سوشل میڈیا تو اوپر سے نیچے تک شیرخورمہ، کیک اور مٹھائی کی تصاویر سے بھر جاتا ہے مگر نہ کوئی مٹھاس زبان تک پہنچتی ہے نہ کوئی شیرخورمہ گھر تک۔۔اب وہ صبح سے شام تک کے ،دن رات کے ملنے ملانے بھی محدود ہو گئے۔

ہر زمانے کے لوگ یہی  کہتے ہیں کہ ہمارے زمانے کی عیدوں کی کیا بات تھی۔کونسے زمانے کی؟

جب ہم بچے تھے!

سو ہر کسی کو اپنے بچپن کی عیدیں خوبصورت ترین لگتی ہیں۔گرچہ وہ یہ سمجھ نہیں پاتے کہ عیدیں نہیں وہ عمر خوبصورت تھی جب ہر خوبصورت چیز خوبصورت لگ جاتی تھی۔وہ لال رنگ کی عینک خوبصورت تھی جس میں سے محدود دکھائی دیتا تھا مگر جتنا دکھائی دیتا خوش رنگ اور حسین تھا۔عمریں بڑھتے دیکھنے کی حس سے ذیادہ سمجھنے کی حس کئی خوبصورتی کے افسانوں پر سے اعتقاد ختم کر دیتی ہے۔لوگوں کے ،تعلقات اور حقائق کے اصلی رنگ بے مثل خوبصورتی کے رنگ پھیکے کرنے لگتا ہے ۔اور انسان ساری عمر اپنے بچپن کی عیدوں کو یاد کرتا رہتا ہے۔

محبتیں ایک واہمہ ہیں ،ایک خواب ہیں۔جب تک ان پر یقین رہے دنیا رنگین اور پھول خوشبودار لگتے رہتے ہیں۔یقین اٹھ جائے تو رنگین دیواریں اکھڑ جاتی ہیں اور گلستاں ریگستان بن جاتے ہیں۔بچپنے کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ انسان محبت پر ، خوبصورتی پر اور خلوص پر یقین رکھتا ہے۔تبھی تو جہاں سے ملے عیدی لے لیتا ہے جو پیار کرے اس کی گود میں چڑھ جاتا ہے۔

جوان ہوتے ہی عیدوں کے جاگنے گہری نیندیں بن کر سروں پر سوار ہو جاتے ہیں۔کہ اب ملنے ملانے والے لوگ نہیں رہے۔ہر ملنے والا دھوکہ ہم مٹھی میں دبا دبا رکھتے رہتے ہیں ہر زخم اپنی جیبوں میں بھر لیتے ہیں تو اب کون اس مفاد پرست، مطلبی زمانے سے ملے،گلے لگائے ہنسے اور ہنسائے۔تبھی تو ہماری خوشیوں کے رنگ ادھورے رہ جاتے ہیں کہ دلوں میں بھرا ہو زہر تو نکلنے کا بہانہ ڈھونڈ ہی لیتے ہے۔

تبھی ہر مذہب ہر اخلاقی کتاب ایک ہی درس دیتی ہے بدگمانی سے بچو،نفرت کا جواب محبت سے دو،کہ اگر صرف نفرتوں پر ہی نظر رکھنے لگے انساں تو اس دنیا میں دو قدم بھی چلنا دوبھر ہو جائے۔ ذندگی ایک رحمت کی بجائے زحمت ہو جائے اور اسی زحمت کی وجہ سے نفسیاتی مسائل کی تماتر کتابیں رقم کی جاتی ہیں۔انسانوں سے کاملیت کی وفاوں کی توقع فضول ہے اور اس سے بھی فضول تر بات اس توقع کے پورا نہ ہونے پر خود پر خوشی کے دروازے بند کر لینا ہے۔انسانوں کو انساں رہنے دینا چاہیے ان سے محبت اور خلوص کے دیوی دیوتاوں کی سی خواہشات نہیں جگانی چاہییں۔ان سے تعلق بس ہنسنے ہنسانے اور ملنے ملانے تک رکھیں ،دل تک مت لائیں کہ شیشے کا یہ محل کرچی کرچی کر جائیں۔کبھی کسی کے برے تاثرات کو نظر انداز کر دینا چاہیے،کبھی کسی کا زہریلا فقرہ ان سنا رہ جانا چاہیے۔تا کہ ذندگی کے باغ میں ہمیشہ خوبصورت خوشبو سے بھرے تازہ پھول کھلتے رہیں۔نفرت اور زخموں کو ہمیشہ اپنی جیبوں اور ہینڈ بیگ سے جھاڑتے رہیں ورنہ اس کے زہریلے تابکاری اثرات سب سے پہلے ہمارا جینا ہی عزاب کرتے ہیں۔خوشیوں اور مسکراہٹوں کو بانٹتے رہیے خصوصا تب جب ان کے لئے دن تک مخصوص ہیں۔اپنی عید بنانے کی کوشش کریں تو دو چار مزید لوگوں کی عید مفت میں ہو جاتی ہے۔کسی کو دستر خوان پر بلا لیجئے کسی کے لئے غیر ضروری تحفہ لیجائیں اور دے کر بھول جائیے۔کیا ہر چیز کا حساب ضروری ہے؟ خصوصا جب بات خوشی کی ہو تو اس کی بنیاد محبت ہے۔بے غرض اور بے لوث محبت اور تواضع۔جس بھی مذہب کو پڑھ لیں جس بھی روحانی پیشوا کو اٹھا لیں ذندگی میں خوشی اخذ کرنے کا محض یہی ایک طریقہ بتلاتے ہیں کہ ہمیشہ ایک لال رنگ کی عینک پہن کر رکھیے جہاں سے پھول تو دکھائی دیتے رہیں مگر کانٹے نظروں سے اوجھل ہو جائیں،محبت زوم ہو کر نظر آئے اور نفرت سنسر ہو جائے۔ہے ناں ایک مشکل بات اب اس سمجھداری کے زمانے میں۔مگر یہی مشکل بات ہی وہ اکسیر ہے جو بدذایقہ، بے مزا عیدوں کو نسخہ کیمیا سے خوشی اور لطف میں بدل دیتا ہے۔عیدیں بچوں کی طرح خالص اور معصوم دلوں پر اترتی ہیں۔عیدیں ذندگی میں پھر سے وہی پرانے زمانے جیسی چاہیں تو بچوں کا سا ہی معصوم اور پیارا دل چاہیے تا کہ پھر سے وہی خوبصورت دلنشیں عید ہمارے آنگن میں اتر آئے۔

_____________________

تحریر:صوفیہ کاشف

3 Comments

  1. محبتیں ایک واہمہ ہیں ،ایک خواب ہیں۔جب تک ان پر یقین رہے دنیا رنگین اور پھول خوشبودار لگتے رہتے ہیں۔یقین اٹھ جائے تو رنگین دیواریں اکھڑ جاتی ہیں اور گلستاں ریگستان بن جاتے ہیں۔بچپنے کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ انسان محبت پر ، خوبصورتی پر اور خلوص پر یقین رکھتا ہے۔تبھی تو جہاں سے ملے عیدی لے لیتا ہے جو پیار کرے اس کی گود میں چڑھ جاتا ہے۔
    ✅👏😍

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.