سترہ سال پہلے

سترہ سال پہلے!
جی ہاں میں یونیورسٹی کے فائنل ائیر میں تھی
اور میری ساری ذندگی صرف میرے ہاسٹل کے کمرے،کتابیں اور بقیہ وقت خیالوں کی دنیا میں گزر جاتا تھا۔
جی ہاں ! میں یونیورسٹی میں اسی قدر بور اور سنجیدہ مزاج تھی۔مارننگ کی تھی مگر یونیورسٹی لیٹ پہنچنے کی وجہ سے ایوننگ کی ونگ میں رہتی تھی۔صبح جب یونیورسٹی کے لئے نکلتی تو ساری ونگ سو رہی ہوتی۔جب لوٹتی تو ساری ونگ خالی ہوتی۔پریویس ایوننگ کی لڑکیوں کی پسندیدہ ترین باجی تھی کہ کبھی بھی کسی بھی نوٹس ،کتاب یا سمجھنے سمجھانے میں مددگار رہتی تھی۔
اپنی کلاس فیلوز سے کسی سے فارمل تعلقات سے بڑھ کر کچھ نہ تھا۔

(ویب سائٹ پر تصاویر کی گنجائش نہ ہونے کی بنا پر تصاویر چھاپنی ممکن نہیں۔تصاویر کے لئے یہ لنک کھولیں!)

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=8228743143818051&id=100000473422305

اس کی میرے پاس ایک ٹھوس وجہ تھی۔
میں اپنے دو سال  دوائیوں میں خرچ کر کے اس یونیورسٹی تک پہنچی تھی۔
مجھ میں اور ان لڑکیوں میں نہ صرف عمر کا بلکہ ذہنوں کا بھی فرق تھا۔
میں ان کے بیچ خود کو تنہا محسوس کرتی تھی
سو صرف اپنی کتابوں اور لفظوں میں گم تھی
میری شاعری تناو اور مایوسی کا شکار تھے
میرے الفاظ اپنے مستقبل کے امکانات سے بےخبر تھے
ذندگی،حالات اور صورتحال ایک چیلنج تھے،ایک لڑائی تھی جو اپنے آپ سے،اپنے خوف سے اور اپنے حالات سے میں لڑ رہی تھی۔


نہ گھومنا پھرنا!
نہ گھنٹوں کی گپ شب!
نہ فرید گیٹ کی چاٹ!
نہ گرین بیلٹ کے وزٹ!
بہاولپور کے دو سال میں میں نے یونیورسٹی کی مخصوص خوبصورت اور خاصے فاصلے پر واقع گرین بیلٹ کی شکل تک نہ دیکھی۔
میری ونگ فیلوز کا خیال تھا میں عجیب بور لڑکی ہوں ۔روز ایک ہی وقت پر اٹھتی ہوں ،ایک ہی وقت  پر سو جاتی ہوں۔
ایک ہی وقت پر میرے کمرے سے میوزک کی آواز ابھرتی
ایک ہی وقت میں میری صورت کمرے سے نکلتی!
میں نے یونیورسٹی اور ہاسٹل کے دو سال ایسے گزارے جیسے مجھے ایک شیڈول سیٹ کر کے دے دیا گیا ہو اور کمرے میں کوئی بیٹھا میرے منٹ منٹ کا حساب رکھ رہا ہو۔
اکثریت کے لئے میں ایک پراسرار لڑکی تھی جو ان کے جیسی نہ تھی۔

میں تھی،میری کتابیں تھیں اور کاپیوں کے ڈھیر تھے جن پر ہر پروفیسر کی زبان سے نکلا ہر ہر لفظ میں تاریخ کے ساتھ رقم کر لیتی تھی۔
شاعری کے منظرنامے کاپی پر اپنے ہاتھ سے بنا لیتی تھی۔
اپنے نوٹس بناتی ،امتحانات میں استعمال کرتی اور بعد میں پریوئیس کو دے دیتی۔
مجھے لگتا تھا میں کبھی ایم اے پاس ہی نہ کر سکوں گی
سر ارشد بیگ کہتے: کر لو گی!
میں کہتی: نہیں مجھ سے کیسے ہو گا؟
پھر  میں الحمداللہ بغیر کہیں اٹکے 633 نمبر لے کر ایم اے انگلش پاس کر گئی!
انہیں دو سالوں میں کچھ غلطیاں بھی ہوئیں۔کچھ جھگڑے بھی۔دوستی بھی دیکھی،نفرت بھی اور تعصب بھی۔لوگوں کے چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے رویے بھی دیکھے۔انساں دنیا سے تھوڑا فاصلہ رکھے تو اس کا دیکھنے کا کینوس کافی وسیع ہو جاتا ہے۔میں نے بھی ذرا فاصلے سے دیکھا اور بہت خوب دیکھا۔
یہ میرے لیکچر کی کاپیاں جنکو اٹھارہ سال سے جانے کیوں سنبھالے بیٹھی ہوں۔ان کتابوں اور کاپیوں سے میں نے بہت عشق کیا تھا!ان کی خاطر میں نے بہت کچھ سہا ہے۔
ان کو اٹھا کر پھینکنے کی کبھی ہمت نہیں ہوئی!حالانکہ لیکچر شب چھوڑے چودہ سال ہو گئے!

پندرہ سال سے بچے پالتے خواب دیکھتی رہی ہوں کہیں نہ کہیں کبھی نہ کبھی،کسی نہ کسی طرح پی ایچ ڈی کر لوں گی،علم کو کچھ اور بلند کر لوں گی۔

اسی کوشس میں کچھ کورسز اور ایک مائکروماسٹر دنیا کی بڑی یونیورسٹیز سے کر ہی لیا۔ڈاکٹریٹ کے خواب ابھی تک جاری تھے۔۔۔

پھر وہ جامعہ جس کے جوانی میں خواب دیکھے تھے اس نے میری کتاب پر ماسٹرز میں ریسرچ کروا ڈالی۔

اس ہونے والی تحقیق کا حال دیکھ کر پاکستانی تعلیمی اداروں سے ایمان ہی اٹھ گیا۔۔۔!

پی ایچ ڈی کی اہمیت ختم ہو گئی!

اب سوچا ہے جب تک نظر،دماغ اور سانس سلامت ہیں کتاب پڑھتی رہوں گی!

ڈاکٹر کہلاوں نہ کہلاوں کوئی فرق نہیں پڑتا!

علم آپ کے پاس ہے کہ نہیں۔۔۔بہت فرق پڑتا ہے!

علم حاصل کرنے کی کوشش عمر بھر کرتی رہوں گی تھوڑی تھوڑی ہی سہی! مگر مسلسل! انشاءاللہ!

بہت آگے جا کر پیچھے مڑ کر دیکھیں تو بہت بھلا لگتا ہے کہ تھوڑا تھوڑا کرتے کتنا سفر کٹ گیا!
آج ان لیکچر کاپیوں کو دیس بدر کرنے کی ہمت کر رہی ہوں!

کتابیں ابھی بھی لائبریری کا حصہ ہیں!


اپنی الماری صاف کر کے اس پر سے ماضی کے دو سال کی محنت کا بوجھ اتار رہی ہوں۔ذندگی ابھی جاری ہے!

ابھی تک محنت ہو رہی ہے!

ابھی بھی ہر قدم پر حوصلے کی ضرورت ہے!اپنے خوف سے ابھی بھی ہر دم لڑنا پڑتا ہے

ہر لمحہ ایک نئی جنگ ذندگی میں لیکر آتا ہے جسے جیتنے کی پوری کوشش کرنی پڑتی ہے!

وہ ہے جو اس جنگ میں جیتنے میں میری مدد کرتا ہے!

پورے قد سے کھڑا ہوں تو تیرا کرم ہے مالک

مجھ کو جھکنے نہیں دیتا ہے سہار تیرا!

(الحمداللہ )

________________

صوفیہ کاشف

چھ مئی دو ہزار بائیس

7 Comments

  1. It’s my birthday 🎂 today. It was the best 🎁
    پورے قد سے کھڑا ہوں تو تیرا کرم ہے مالک

    مجھ کو جھکنے نہیں دیتا ہے سہار تیرا!

    ابھی تک محنت ہو رہی ہے!

    ابھی بھی ہر قدم پر حوصلے کی ضرورت ہے!اپنے خوف سے ابھی بھی ہر دم لڑنا پڑتا ہے

    ہر لمحہ ایک نئی جنگ ذندگی میں لیکر آتا ہے جسے جیتنے کی پوری کوشش کرنی پڑتی ہے!

    وہ ہے جو اس جنگ میں جیتنے میں میری مدد کرتا ہے!

    پورے قد سے کھڑا ہوں تو تیرا کرم ہے مالک

    مجھ کو جھکنے نہیں دیتا ہے سہار تیرا!

    (الحمداللہ
    بہت عمدہ ماشااللّہ 💝

    Liked by 1 person

  2. اسی کوشس میں کچھ کورسز اور ایک مائکروماسٹر دنیا کی بڑی یونیورسٹیز سے کر ہی لیا۔ڈاکٹریٹ کے خواب ابھی تک جاری تھے۔۔۔ جاری رکھیں پلیز۔

    Liked by 1 person

  3. ہمیں خُدا نے زمین کی مانند ایک شاندار ٹرن ارآؤنڈ کی صلاحیت بخشی ہے، بشرطیکہ نصیب کی بارشیں وقت پر ہوں، ذہنی زرخیزی کو مایوسی نہ چاٹ ڈالے، خود اعتماد ی کے ہجے یاد رہیں، اور حال کے آئینے میں مستقبل کی چاہے دھندلی ہی سہی، تصویر بہرحال نظر آتی رہے۔

    ہم زندگی کے اس سمندر میں تشکیک اور تنقید کی معلوم و نامعلوم گہرائیوں کے بیچ اُمید کی سمت دیکھتے رہنے والے ، رضا کی طور بہنے والے اور ایمان کی صورت اُبھرنے والے تیراک ہیں۔

    دو سال دوائیوں میں خرچ کر کے روشن آنکھوں سے خواب بُننے والی، آج بھی احساس ، اظہار اور اخلاص میں اپنی ہم عمر نسل سے شاید دو سال آگے ہی ہے۔ انسانوں کی انفرادی زندگی کی بابت، وقت کے سفر میں یہ ایک بڑا عرصہ ہوا کرتا ہے۔ دو سال میں انسان پیدائش سے اپنےپاؤں پر کھڑا ہو کر، اپنا بوجھ خود اُٹھا سکتا ہے۔

    اپنی کتابوں اور الفاظ میں گُم رہنا طلب علمی کی روش تھی۔ انہی کو اظہاریہ بنانا زندگی کا راستہ بنتا گیا۔ درست کہتے ہیں، راستے سفر سے ہی تو بنتے ہیں۔
    اپنے مستقبل کے امکانات کو ممکن بنا کے، ہر طرح کے چیلنجز کا سامنا کر کے، اور خود کو خود شناسی کا خوگر بنا کے، ہم جب چالیس کے پیٹے میں اُترتے ہیں تو جینے کے معانی سمجھ میں آنے لگتے ہیں۔ پھر گھومنا پھرنا ایک ضابطۂ حیات بن جاتا ہے، فرید گیٹ کی چاٹ ملک ملک ہمیں ڈھونڈتی ہے، اور گرین بیلٹ تو ہر پل روح میں سمائے جاتی ہے۔
    ہماری انفرادی جنّت شاید یوں ہی تخلیق ہوتی ہو گی۔ شیڈیول پر زندگی گُزارتے گُزارتے ، سب کُچھ خود میں سمو لینا، اور یوں حاضر و موجود کی زیریں پرتیں کھولتے جانا۔

    بقول جمال احسانی۔۔۔
    یہ بات تِرے عشق نے سمجھائی کہ دُنیا
    کچھ اور ہے محروم و میسر کے علاوہ

    اپنے سب سبق یاد رکھئیے گا۔ انسانوں سے متعلق بھی، اور خود کے بارے میں بھی ، کہ خلوص کے بندوں میں جلد بازی کے سوا کوئی خامی نہیں ہوا کرتی۔ اور جلد بازی بھی وہ کہ جسے پرشئین فالٹ کہنا مناسب ہو گا۔۔۔۔

    لیکچر کی کاپیوں میں ماضی نہیں، مستقبل پڑا ہے۔ کن انکھیوں سے آج بھی حال کو دیکھتا ہے، اور لفظ کی حرمت یاد دلاتا ہے۔
    شاید ہم سب بھی کِسی نہ کِسی کی ایسی ہی کاپیاں ہوں گے۔

    عُمر کا ایک اور سال تو قریباً ایک ماہ میں مکمل ہو گا۔
    زندگی تو ہر ہر پل ہی یاد دہانی کرواتی ہے کہ لفظ میسنجر پیغامات کی صورت ہوں یا بلاگ پوسٹ کی، ہمیں خود سے، دُنیا سے، اور رب سے جوڑتے ہیں۔ لفظ ہمیں اظہار،معانی، اور مقصد عطا کرتے ہیں۔

    احمد جہانگیر کی یہ لازوال غزل، آپکے نام۔۔۔

    قوت گفتار، لہجہ، سوچ، ابجد، لفظ ہے
    شفقت ِرب ِاُحد کا لطفِ بے حد لفظ ہے

    سیٹیاں، مبہم اشارے، چیخ، اٹھنا، بیٹھنا
    سُن، مگر، اظہاریے کی آخری حد لفظ ہے

    جشن و ماتم میں بہم, ہر حال میں اس کی نمود
    نغمہء عشرت گہہ دل، آہ ِمشہد لفظ ہے

    دیکھنا، میں کس تیقن سے کھڑا ہوں، اے سکوت
    ہاتھ میں میرے چراغِ عشق ِسرمد لفظ ہے

    کب فقیروں کو تِرے چاندی کے سکے چاہئیں
    ہم عجم سے آئے درویشوں کا مقصد لفظ ہے

    تاج میں اردو کا سونا، فارسی، ترکی کے دُر
    میں جہاں گیر سخن ہوں، میری مسند لفظ ہے

    جیتی رہیں۔
    رب آپکو اپنی امان میں رکھے۔

    Liked by 1 person

    1. کچھ لوگ ہمیشہ تحریر سے دو قدم آگے رہتے ہیں۔وہ جو تحریر کو اتنی گہرائی سے پڑھ لیتے ہیں کہ لکھا اور ان لکھا سب سمجھ جاتے ہیں۔مجھے ایسے قاری سے ہمیشہ ڈر لگتا ہے جو وہ بھی پڑھ لے جو لکھا گیا اور بھی بھی جان لے جو رہ گیا ۔خدا نے مجھے الحمداللہ کچھ قاری آپ کے جیسے دے رکھے ہیں۔یہ نہ صرف اس کی عنایت ہے بلکہ میری آزمائش بھی ہے کہ میرے ہر لفظ پر ایک ایک دیدہ بینا لگی ہے۔
      میں نے حال میں ہی ابن عربی سے جانا ہے کہ یہ دیدہ بینا ایک بہت اعلی مقام ہے!
      آپ کی تحریر اور الفاظ پہلے سے بھی خوبصورت ہو رہے ہیں۔ اور آپ کے جواب ہمیشہ کی طرح میرے سوالوں سے کہیں بہتر ہیں۔
      سلامت رہیں
      اور ہمیشہ اتنی ہی فیاضی سے لوگوں میں حوصلہ اورستائیش بانٹتے رہیں۔ستائیش آج کی دنیاکی سب سے مہنگی اور مشکل سے ملنے والی چیز ہے۔

      Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.