اوقات

 چلے گئی۔اسے کچھ کہنا تھا،میں جانتی تھی اس لئے ان لمحات کی منتظر تھی جب وہ اپنی زندگی کے انتشار پر سے پردہ اٹھائے”ہر عورت خواب دیکھتی ہے کہ ایک دن وہ لوٹ کر آئے گا! وہ جو اسے لُوٹ کر چلا گیا،وہ جو اسکی آس اور تلاش تار تار کر گیا،وہ جس کی چاہ میں چادر پیروں تلے رُل گئی،اور جسکی راہ دیکھتے دیکھتے آنکھیں پتھرا چلیں۔یہ وہ خودساختہ دھوکہ نما دوا ہے جو ہم ہر روز اپنے تار تار وجود پر ملتی ہیں اور پھر اس مرہم سے معجزے کی توقع کرتی ہیں”________اور پھر جو ٹکرا ٹکرا ہو کر کہانی اس کے لبوں سے بہنا شروع ہوئی تو خود بخود سارے تانےبا نے جڑتے چلے گئے

_”ہم دھوکا کھا چکنے والی ایک نئے دھوکے میں جینے لگتی ہیں۔وہ ایک روز لوٹ کر آئے گا۔روتا ہوا،کرلاتا ہوا،معافیاں مانگتا،منتیں کرتا کہ مجھے قبول کر لو مجھے معاف کر دو اور اس دن ہم اسے معاف نہیں کریں گے___________کئی تو اس دھوکے کی زد میں آ کر بار بار لوٹ کر اس کے در تک جانے لگتی ہیں یہ دیکھنے کہ وہ آنے کے لئے نکلا کہ نہیں؟”

وہ آہستہ آہستہ اپنے ہاتھوں پر لپیٹی ڈوری کھولتی جاتی اور اس کی ہر تہہ میں سے اک نیا دکھ اک نیا کرب جھانکنے لگتا۔بھولی بھالی پیارے مگر اجڑے چہرے والی سعدیہ اس ہسپتال میں پنکھے سے لٹکی ہوئی نیلی ہوئی اتار کر لائی گئی تھی اور میرے جیسی کمزور دل ڈاکٹر کی مسیحا ٹھری تھی۔جانے ذندگی کس طرح کچھ سانسوں میں بندھ کر اس کی کھنچی ہوی گردن میں پھنس گئی تھی جسے ہم نے کئی دنوں کی مشقت سے قطرہ قطرہ کر کے واپس ڈالا تھا۔ذندگی اس کے بدن میں رواں ہو گئی مگر اس کے ہونٹوں پر مسکرا نہ سکی نہ اُس کی آواز کو گنگنا ہی سکی۔وہ کون تھی، کہاں سے آئی تھی کسی کو بتاتی نہ تھی اور اس کے ہاسٹل والوں کے پاس اس کا کوئ پتا نہ تھا۔جانے کیسی سہلیاں تھیں اور کیسے کلاس فیلو تھے جو اس کے شہر کے نام سے آگے کچھ جانتے نہ تھے۔

میں اس کی جمی ہوئی آنکھوں میں ساکن زندگی کو تحریک دینے کچھ گھڑیاں اس کے ساتھ گزارتی تو آہستہ آہستہ اس نے اپنی ذندگی کی الجھی لڑیوں کو مجھ پر کھولنا شروع کیا۔اس کی انگلیاں کانپتیں،سانس پھولتی مگر دھیرے دھیرے کر کے وہ اپنی بے نام کہانی کو میری سماعتوں میں انڈیلتی جاتی۔
‘بہت کٹھن تھا !بہت ہی کٹھن کہ جب میں نے سب کچھ کھول کر اسکے سامنے رکھ دیا۔اپنا ماضی، مستقبل ،اپنا اختیار ،عزت اور ذندگی سمیٹ کر اپنے کپڑوں کے ساتھ اس کے پیروں میں رکھ دی______ تو اس نے بال سنوارتے،کپڑے پہنتے میرے چہرے پر ایک تھپڑ دے مارا۔۔۔۔۔ وہ تھپڑ ہی تھا اک بے آواز تھپڑ۔۔۔۔۔جس کی گونج آج بھی میرے کانوں میں گونجتی ہے__________’میں تم سے پیار نہیں کرتا!’ندیاں سی اس کی پلکوں سے بہنے لگتی تھیں اور مجھے بار بار اپنی آنکھیں پونجھنا پڑتیں۔ڈاکٹر ہو کر مریض کے سامنے رونا اچھا نہیں لگتا!

“‘تم نے میرے لئے بہت کچھ کیا مگر پھر بھی میرے دل میں اپنی محبت نہ جگا سکیں!’

‘میری مجبوری ہے میں رک نہیں سکتا!’وہ محبت کے ٹرائی روم میں تھا اور میری محبت کو اس نے پہن کر دیکھا اور ٹھکرا دیا تھا___________

پھر ان کپڑوں کو اوڑھتے ان کے ساتھ باقی کچھ نہیں اوڑھ سکی۔ سب کچھ لوٹے ہوے مال کی طرح اس کے ساتھ گیا۔میرے پاس رہ گئے صرف کپڑے۔۔۔صرف کپڑے جو مجھے چھپا سکتے تھے مگر میرا لوٹا ہوا مال واپس نہ دلا سکتے تھے۔”

انگلیاں کبھی تیز چلتیں، کبھی دھیرے اور الفاظ کبھی تیز تیز نکلتے اور کبھی تھک جاتے ،ہانپنے لگتے،اور کبھی آہیں بھرنے لگتے۔

“اس کے سینے سے بوجھ اترتا اور میرے سینے پر دھرا جاتا۔کیا یہی ہے وہ مرد کی محبت جس پر کہانیاں لکھ لکھ لوگوں نے کتابیں بھر دی ہیں؟کیا یہی ہے وہ انجام جو ہر لڑکی کو سمجھ نہیں آتا!___ (اور مجھے بھی_____میں سوچتی اور کانپ جاتی)ڈیوٹی سے لوٹتے ہاتھ میں اور آل پکڑے گھر کی دہلیز تک میرے ہر قدم پر میرے سامنے کچھ سوال ساتھ ساتھ چلتے”کیا ہر مرد جھوٹا اور کمزور ہوتا ہے؟”میں اسکی گرہیں کھولتی اور پھر اپنی پھنسا بیٹھتی۔

میرا بھی کوئی مرکز تھا جس کے گرد میرے سارے سورج گھومتے تھے جس کا نام قاسم تھاجب بھی قاسم کے پاس بیٹھتی ،ااسکے چہرے کی حدت میں گھل گھل تھک جاتی،اس کی میٹھے رنگوں والی رنگین باتوں میں ڈوب ڈوب ابھرتی تو مجھےاس لڑکی کی باتیں سنائ دیتیں۔اس کی دلخراش پریم کتھا آہستہ آہستہ مجھ پر کھل رہی تھی۔

مجھے سعدیہ کی محبت کی حد پر اپنا پرتو دکھائی دینے لگا تھا۔میں بھی محبت کی سوکھی زمین پر ٹوٹ اور بکھر رہی تھی مگر وصال کا نخلستان تھا کہ کہیں سے ابھرتا نہیں تھا۔قاسم کے خاندانی اصل یا خود ساختہ مسائل ایک طرف سے سدھرنے لگتے تھے تو دوسری طرف ٹوٹ جاتے تھے اور میری نئیا پار ہوتے ہوتے پھر سے منزل سے دور ہو جاتی۔اسی لئے اس دکھوں کی ماری لڑکی کے ساتھ مجھے میرا درد سانجھا سا لگنے لگا ۔

قاسم کے مسائل میں الجھتے الجھتے میں بھی تھکنے لگی تھی اس کی محبت کے بے انتہا خوبصورت ترانے زمینی مسائل کو ابھی تک سلجھا نہ سکے تھے۔ہماری محبت کی گاڑی اس کے گھریلو مجبوریوں کی دلدل میں پھنسی کب سے کھڑی تھی۔اس لڑکی کی صحت میری سزا بنتی چلے جا رہی تھی۔میری آنکھوں پر پڑے رنگین پردوں کے پیچھے مجھے خاکی اور کالے رنگ دکھائی دینے لگے تھے۔ خوابوں کے شیش محل میں خراشیں پڑنے لگی تھیں۔

پھر ایک روز جب قاسم کے ہاتھ میری محبت کو حدووں سے بہت دور ایک سفر پر لیجانے کے لئے تیار تھے اور میں محبت کے تر بتر نشے میں جھومتی کہکشائیں پار کرنے کو تھی کہ سعدیہ کے الفاظ میرے کانوں میں گونجنے لگے—– ایسے گونجے،ایسے گونجے کہ پھر اس پر اور کوئی لفظ ٹھہر نہ سکا!۔ستاروں کی حدوں سے اتر کر میں نے قاسم کا گریباں پکڑ لیا ، جو مجھے ستاروں کی سیر پر قائل کرتا مگر ان کو توڑ لانے سے قاصر تھا ، اور محض کچھ اور انتظار کی تسلی دے کر چلاجانا چاہتا تھا۔

“دکھاؤ!کتنی پائیدار ہے تمھاری محبت؟_____؟لاؤ آج توڑ کر میرے لئے آسماں کے تارے!”

پھر بدلتی رنگت کو دیکھتا،مجھے بہلانے کی کوشش میں وہ کچھ بولا،،،کوئ میٹھا سا بے معنی فقرہ،کوئ بہانہ یا کوئ تارے نہ توڑ لانے پر سریلی معذرت۔۔۔۔۔۔وہ معذرت ہی تھی!کہ میں اتنے دن سعدیہ کی نبضیں گنتے گنتے معزرت کی ساری حالتیں اچھی طرح جان چکی تھی۔

” ‘ہاں ‘کے علاؤہ جو بھی کچھ ہے صرف دھوکہ اور جھوٹ ہے!”پھر چاہے وہ کمزوری ہو کہ مجبوری !وہ محبت جو ایک کھرا “ہاں “نہ کہہ سکے اس قابل نہیں کہ اس کی خاطر اپنا گھر ،اپنی ذندگی،ماضی اور مستقبل،عزت اور کپڑے سب کو داؤ پر لگا دیا جائے!محبت کے سروں میں کالے جادو کی تاثیر ہوتی ہے،جو بھی سنتا ہے،جانتے بوجھتے بھی بند آنکھیں کر کے سراب کے پیچھے نکل پڑتا ہے۔”

بہت مشکل تھا سریلے سروں کے اس طلسم کو توڑنا مگر سعدیہ کے زخموں نے یہ معجزہ بھی کر دکھایا۔ایک کمزور مرد کی محبت جلتی دھوپ میں سایہ تو کیا پاؤں کی جوتی تک نہیں بن سکتی۔سعدیہ کے گالوں پر پڑا تھپڑ میں نے اتار کر قاسم کے منہ پر دے مارا اور اسے اپنی زندگی سے دھکے دے کر باہر کیا۔یہ سعدیہ کا انتقام تھا یا میری بقا مگر محبت کی گلی سڑی تسلی پر میں جی نہ سکتی تھی۔سعدیہ کے گلے میں چند سانسیں اٹک گئی تھیں اگر میں اس کے رستے پر چلتی اسی چھت اور پنکھے تک جا پہنچتی تو اپنے گلے میں ایک بھی سانس بچا نہ پاتی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنی ریزیڈینسی میں پہنچ کر میں نے کمرے کا دروازہ بند کیا اور منہ دبا کر رونا شروع کیا۔سسکیاں میرے گلے میں گھٹتے گھٹتے تھک گئیں تھیں اور آنسو پلکوں پر سانس روکے کب سے اجازت کے منتظر تھے۔اپنے کمرے کے دروازے سے لگ کر بیٹھی میں جانے کتنی دیر کبھی بلند اور کبھی دھیرے روتی رہی۔اسکی ہر بات پر دل دکھا تھا مگر یہ آنسو اس کے لئے نہیں تھے۔رونا تو اپنی اوقات دیکھ کر آیا تھا۔رونا اس بات کا تھا کہ اب میری دہلیز کے باہر بھی اک ایسا ہی انتظار ٹنگا تھا جو راہ دیکھتا تھا کہ ایک دن وہ ہار جانے ولا کمزور دل طاقت ور ہو کر لوٹ کر آئے گا۔

_________________

افسانہ نگار و فوٹوگرافی:صوفیہ کاشف

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

2 Comments

  1. عدیہ کے زخموں نے یہ معجزہ بھی کر دکھایا۔ایک کمزور مرد کی محبت جلتی دھوپ میں سایہ تو کیا پاؤں کی جوتی تک نہیں بن سکتی۔سعدیہ کے گالوں پر پڑا تھپڑ میں نے اتار کر قاسم کے منہ پر دے مارا اور اسے اپنی زندگی سے دھکے دے کر باہر کیا۔۔۔۔بہت اچھا کیا۔۔ واہ کیا لکھتی ہیں اپ ماشاءاللہ 🌹

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.