بھولی

بھولی کہاں جانتی تھی کہ جب وہ محبت کے ترانے اپنے ماہی کے پاس بیٹھ کر سناتی تھی تو اس سے وہ اخلاص وہ وفا،اور وہ ساتھ نہیں مانگتی تھی جو اس کے حواسوں میں تھا بلکہ وہ جسمانی طلب جگاتی تھی جو اس کے ساتھ بیٹھے ماہی کے بدن پر پیاس بن کر ٹوٹنے لگتی تھی۔تو وہ ڈوپٹے لپیٹنے کے قابل ہی کہاں رہتا تھا وہ تو ڈوپٹے پھاڑنے والا درندہ بن جاتا تھا جسے قید کرنے کے لئے شادی کا لبادہ تیار کر کے محبت کے بھوت کو اس کے اندر قید کیا گیا تھا۔ مگر معاشرے کے بے ہنگم رسم ورواج نے اور اندھا دھند پھیلتے میڈیا نے ہر گلی محلے میں اس محبت کی دھول اڑا کر رکھ دی تھی جس کے اصل معانی کوئ جانتا نہ تھا اور جو اس کے باگ بگولے میں پھنس جاتا اور اپنی زمین سے اکھڑ کر آندھیوں کی زد ہو جاتا تو محض وہی بہت طویل عرصے بعد سمجھ پاتا کہ معانی کی ترسیل کہاں سے غلط ہوئ۔کس مفہوم کو اس نے کتنی تاخیر سے سمجھا اور کس خواب کو اس نے کس طرح سے سچ بنانا چاہا۔یہ تو ایسا ہی تھا جیسے گھنے کالے خطرناک جنگل میں کوئ کوہ قاف کے محل تلاشنے نکل جائے یا انسان نگلتی دلدل میں نخلستان ڈھونڈے۔

تو اس کی زبان ایک ہی ترانہ گاتی”مجھے تم سے محبت ہے”اور وہ اس کے پاس بیٹھ کر ایک ہی معنی سن پاتا”مجھے حاصل کر لو،کسی بھی طرح،!”اور اس میں کہاں تھا عزت کا وعدہ اور تحفظ کا تقاضا؟اس سے ذیادہ نہ اس کے جوان جسم میں سمجھنے کی طاقت تھی نہ ناتوان شعور میں سوچنے کی ہمت۔

تو ایسے ہی ایک ناتوان لمحے میں جب بھولی اس کے پاس بیٹھی اپنی محبت کے ترانے گا رہی تھی اور ہجر کی رت سے اٹے دن اور رات کے نوحے پڑھ رہی تھی تو اسکے ماہی کے جسم کا انگ انگ بھولی کی پکار پر لپکنے لگا اور تنہای کا فایدہ اٹھا کر اس وصال کو تعبیر دے ڈالی جس کے ہجر کے نوحے وہ ہر روز سنتا تھا۔

تب بھولی نے جانا محبت کا کیا مطلب ہے۔اک اضطراب تکمیل میں ڈھل گیا تو ایک آگ سی اس کے آس پاس بھی ہر سو جلنے لگی۔پاوں ہر وقت گرم توے پر جلنے لگے ،دل و دماغ میں ہر وقت اک پیاس اترنے لگی۔ دوشیزگی کی طلب بھی کیا سریلی تھی کہ اس کے سر میں ڈوب کر بہت سی سچائیوں کی آواز دب جاتی ہے۔اسے بھی اپنے ہر طرف اب ملن کے بھوجن سنائ دینے لگے تھے،آس پاس بچھے کانٹوں اور سر پر سایہ کرتی دھوپ کو وہ دیکھ ہی کہاں پاتی تھی۔

ملن کی کہانی بھی کتنے دن چلتی۔سر پھیکے ہو گئے ،تان میں سے طلب رخصت ہوئے اور قدموں تلے کھردری زمین پھر سے چھبھنے لگی۔محبت کے بعد وصال آیا اور چلا گیا مگر یہ کیا کہ نہ زمانے میں رتبہ بدلا نہ ذندگی کا ڈھب۔نہ نام مقام بدلا بلکہ پہلے سے بھی بدتر ہوا۔ایک محبت کے نام پر اس کے ہاتھ سے سب نکلا اس ماہی کے ہاتھوں کہ جس کے نام کو آسمان پر لکھ کر اس نے سجدے کئے۔اور ماہی۔۔ماہی بھی بھلا کیا کرتا،محبوبہ محبت مانگتی تھی ،محبت نہ کرتا تو پھر کیا کرتا۔محبت ہوئ اور پھر ختم ہوئی۔جسموں کا چند دنوں کا کھیل اور چولہا بند،آگ ختم!

تو یہ تھی محبت!بھولی جانی کہ جادو بھرے اس لفظ کے پیچھے سوائے آگ کے کچھ نہیں تھا________جلا کر راکھ کر دینے والی،ہونے سے غائب ہو جانے تک کا ایک عمل!۔ابھی وہ زمین پر تھی اور اب نہیں تھی_________اور کہیں بھی نہیں تھی نہ بابل کے ویہڑے میں نہ محبوب کے آنگن میں۔ محبت کی کوی گواہی نہ محبت کی کوئ نشانی۔

یہ بے نشاں جرم تھا جس کے سزا اس کے ماتھے پر لکھی گئی اور مجرم ٹھہری۔پتھر اور سنگباری مقدر ہوئ ایک ایسے گناہ کے بدلے جس سے کچھ لمحوں کی لذت کے سوا کچھ نہیں پایا۔اور وہ ماہی۔۔۔۔اتنا ہی بےقصور ٹھہرا۔محبت جو اس کے کانوں پر ہمیشہ طلب طلب کی پکار بن کر اتری تو اپنی طلب کے مطابق پار ہوئ۔اب کیسی حجت اور بحث کیسے شکوے اور شکایت۔

___________________

فوٹوگرافی و تحریر: صوفیہ کاشف

3 Comments

  1. یہ ایک نہیں بہت ساری بھولیوں کی کہانی ہے۔ تعلیم ہی بہترین حل ہے اس اور بہت سے مسائل کے حل کا۔ خوش رہیں

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.