خدشات اور وہم_________صوفیہ کاشف

آنکھ کھلی تو عجیب سی سویر تھی۔میرے بستر کے آس پاس ماں ،باپ بھائی،بہن یوں ہاتھ باندھے کھڑے مسکراتے میری طرف دیکھ رہے تھے جیسے آج کچھ انوکھا تھا،مگر یہ بستر،یہ روشن کمرہ،یہ جہان میرے گھر کا نہ تھا۔جانے پہچانے چہروں کے پیچھے بھی کچھ بستر تھے جن پر کچھ انجانے لوگ بیٹھے تھے،شاید میری طرف ہی دیکھ رہے تھے۔۔۔کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی ،کیا ہوا! میں بھی اصحاب کہف کی طرح کہاں سوئی تھی اور کسی اور جہاں کسی اور دنیا میں شاید جاگ رہی تھی۔یہ دنیا یہ جہاں اسطرح کبھی دیکھا نہ تھا کہ آپ جاگیں تو ایک سفید چادر والے بستر پر ہسپتال کے آؤٹ ڈور میں لیٹے ہوں اور ساری دنیا آس پاس کھڑی آپ کو تکتی ہو۔مجھے یاد تھا رات ایم اے انگلش فائنل کے امتحانات کی تیاری کرتے پڑھتے پڑھتے شاید ہاتھوں میں کتاب تھامے سو گئی تھی اور جاگی تو شیخ زید ہسپتال کے آؤٹ ڈور میں تھی۔۔۔۔۔

پتا چلا کہ منہ اندھیرے نیند میں جسم کو کچھ جھٹکے لگے،ساتھ لیٹی بہن نے چیخیں ماریں،سب مجھے اٹھائے ہسپتال بھاگے ۔۔۔۔اور میں اس سب کے بعد بے سدھ ہو گئی تھی۔

اب دن چڑھے جاگی تھی ۔کچھ انجیکشن ،کچھ ڈرپس لگنے کے بعد۔۔۔!!!جاگی تھی اور پوچھتی تھی کیا ہوا!!!!!یہ 2006 کی بات ہے۔جب میں ماسٹرز ان انگلش کے فائنل امتحانات کی تیاری کے لئے گھر پر موجود تھی مئی کی کسی تاریخ کو کہ جون میں امتحان تھے۔۔۔۔

میں ہمیشہ ایک صحت مند لڑکی رہی تھی،2000 کے حادثے سے پہلے۔اس سے نکل کر کیا اب مجھے مرگی لاحق ہو گئی ہے۔۔۔۔مرگی؟؟ مرگی؟؟؟ جو ایک قدامت پسند معاشرے کے قدامت پسند گھرانے میں کبھی کسی جوان لڑکی کو نہیں ہونی چاہیے۔یہ انسان کا وقار،غرور،انا سب مار دیتی ہے،انسانوں کو نارمل مغرور،خود پرست انسان نہیں رہنے دیتی،ایک قابل ترس مسکین انسان میں بدل دیتی ہے،جسے ہر کوئی ترس بھری نگاہوں سے دیکھتا ہے اور اندر ہی اندر کہتا ہے بیچاری۔۔۔۔۔اور لڑکی جوان لڑکی،اس کی تو جیسے ساری ذندگی کی تہس نہس ہو جاتی ہے،شادی کون کرے گا ایسی لڑکی سے؟ ایک لڑکی کی ذندگی کا اہم ترین مسلئہ!!!!

ڈاکٹر نے ای ای جی کا ٹسٹ لکھ کر دیا ساتھ کچھ دوائیں دیں اور بتایا کہ مرگی۔۔۔۔۔۔۔۔ہو سکتی ہے۔اور ابھی کچھ کہہ نہیں سکتے!!!!

ابھی پچھلے عذاب سے نکلنے کی کوشش میں مبتلا تھی یہ نئی قیامت ذندگی میں ٹوٹی۔میں ہاسٹل میں رہ کر پڑھنے والی کون جانے کب کہاں کمرہ بند کر کے سوؤں اور اندر سے کندی لگائے پھر اٹھ ہی نہ سکوں!!!!!نہ جانے ماں باب کس عذاب میں پڑے ہونگے کہ میری ماں میری روم میٹ سے بات کرتی تھیں اور اسے کہتی رہتی تھیں اسے اکیلے مت چھوڑنا!!!!!

دو ہزار سے دو ہزار تین تک ایک بار نہیں ،دو تین بار گولیاں کھا کر مرنے کی کوشش کر چکی تھی مگر ذندہ تھی۔میری ڈاکٹر بہن کا خیال تھا ان گولیوں نے کچھ نقصان تو کرنا ہی تھا۔۔۔۔۔۔۔یہ کیا ہوا تھا اچانک اس کی کوئی وجہ سامنے نہ آ سکی،ٹسٹ ٹھیک آ گئے،کوئی مرگی جیسی بیماری نہ نکلی،مگر اک خوف جان سے لپٹ گیا،یہ کیا تھا؟ کیوں تھا؟ اگر پھر ہوا؟؟؟؟

اور یہ پھر کوئی دیڑھ دو سال کے بعد ہوا جب میں سسرال میں تھی ۔۔۔۔

اسی طرح سوئی اور ہسپتال میں جاگی۔۔۔۔۔میاں پریشان حال سرہانے بیٹھا۔۔۔۔پھر سے ٹسٹ،ڈاکٹرز کے وزٹ،کچھ حاصل نہیں پھر خموشی اور مزید کچھ عرصہ سکون سے گزر گیا۔بالا ہی بالا سسرال میں کیا باتیں ہوئی ،کیا خدشات،میں ان سے لاعلم رہی اور اچھی رہی۔لاعلمی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ہم انسان سارا علم سہار نہیں سکتے اس لئے میں دوسروں کی باتوں اور رویوں سے انجان رہنا چاہتی ہوں،رہ سکوں تو سکھی رہتی ہوں۔

دو ہزار آٹھ میں ہم ابوظہبی شفٹ ہو گئے۔۔۔وہ لڑکی جسے اکیلے نہ رہنے کی ہدایت تھی ہمیشہ کے لئے اکیلی ہو گئی۔اگلے پانچ سال میں سال دو سال کے وقفے سے دو تین بار پھر یہی واقع ہوا، ابوظہبی میں دوبارہ سے تمام ٹسٹ ،مینگے سے مہنگا ہسپتال،مہنگے سے مہنگا ڈاکٹر٫٫٫٫٫،،،سب رپورٹس پھر کلئیر!

پھر اس کے بعد خموشی چھا گئی اور ابھی تک دوبارہ اس انجانے مرض نے مجھ پر کوئی حملہ نہیں کیا۔الحمداللہ ذندگی آرام سے گزر رہی ہے!

کچھ ہو جانے کے خوف نے ہمیشہ پیچھا کیا،،اگر ایسا ہو گیا،اگر مرگی ہوئی تو,،اگر میرے بچوں کے جینس میں میری بیماریاں چلی گئیں تو،اگر میاں یا سسرال نے گھر اور ذندگی سے نکال دیا تو،،،،،اگر ایسا،اگر ویسا،،،،،،

مجھے یاد ہے ابوظہبی کے النور ہسپتال میں باہر ویٹنگ ایریا میں بیٹھی ، ٹشو کا ڈبہ پاس رکھے پینتالیس منٹ میں اکیلی مسلسل روتی رہی،پینتالیس منٹ تک ساتھ کمرے میں میرےسات سالہ بیٹے کا ای ای جی چل رہا تھا۔۔۔۔کیا میری زندگیوں کے عزاب کم نہ تھے کہ اب میرے بچوں کو بھی بھرنا پڑیں گے،میرے بچے کا کیا قصور تھا سوائے اس کے کہ وہ میرا بچہ تھا،کاش کہ میں نے بچے پیدا ہی نہ کیے ہوتے!!!کوئی ازیت سی ازیت تھی۔جب تک کہ رزلٹ میں کوئی بھی امکان زیرو نہ آگیا!!!!اس ازیت کو صرف وہی ماں سمجھ سکتی ہے جو اس آزمائش سے گزری ہو۔۔۔۔۔۔میرے سات سالہ بیٹے کو شدید بخار میں سیزر ہوا تھا۔۔۔۔۔۔اور ڈاکٹر نے میرے بچے کے ٹسٹس میں ایک ای ای جی کا ٹسٹ بھی لکھا تھا!!!!جو مرگی کا ٹیسٹ تھا،اسکو خدانخواستہ مرگی ہونے کا بھی خطرہ لاحق ہوا تھا،جو الحمداللہ ،میرے دوسرے خدشات کی طرح وہم ہی نکلا تھا!!!!!!!

خدا بہت رحمان الرحیم ہے تمام تر ڈر،خوف اور خدشات کے باوجود ہمیشہ میرے ساتھ کھڑا رہا ہے،ہمیشہ ہر مشکل سے نکال کر لے جاتا ہے،اس نے ہمیشہ میرے ہر خوف کو شکست دی ہے،

۔مجھے دو ہزار کے بعد لگتا تھا اب ان تمام مسائل اور امراض کے ساتھ مجھ سے شادی کون کرے گا؟ ماسٹرز کرتے ہی میری شادی تقریبا میرے ہمسائے میں ہی ہو گئی تھی،خدا عزت دینے پر آتا ہے تو دنیا اور حالات کو ہمارے حق میں کر دیتا ہے۔مجھے لگتا تھا میاں سچ جانے گا تو نکال باہر کرے گا۔میرے میاں آج تک میری طاقت بن کر میرے ساتھ کھڑے ییں،مرگی کے خوف نے جینا حرام کر دیا تھا،مگر خدا نے ہر خوف کو تعبیر بننے سے ہمیشہ بچایا ہے۔میرے بچے صحت مند ہیں زہین ہیں،مکمل ہیں،الحمداللہ اس سے بڑھ کر اور رحمت کیا ہو سکتی ہے۔اس لئے آج مجھے کسی بھی بات سے ڈر نہیں لگتا،آج میرے لئے الحمداللہ ہر خوف اپنے معانی کھو بیٹھا ہے۔ آج مجھے کسی مشکل کسی مصیبت پر کوئی ندامت نہیں،آج میری ذندگی کا کوئی بھی اندھیرا میرے لئے باعث شرم نہیں۔خدا نے مجھے اندھیروں سے گزار کر روشنی تک آنا سکھایا ہے۔خدا نے مجھے دکھایا ہے کہ رات طویل تر بھی ہو تو گزر ہی جائے گی،خدا نے سمجھایا ہے کہ ہمارے خدشات اور وہم ہماری طاقت کا ضیاع ہیں۔خدا نہ چاہے تو کوئی خدشہ کبھی پورا نہیں ہو سکتا اور اسے نے آزمائش دینی ہو تو کوئی احتیاط کوئی عقلمندی آپ کو اس مشکل سے بچا نہیں سکتی!

__________

تحریر و فوٹوگرافی:صوفیہ کاشف

3 Comments

  1. اپ کا سایہ اپ کے بچوں پر قائم و دائم رہے۔ شاباش اپ کے شوھر پر۔ وہ انسان نہیں فرشتہ ہیں۔ مولی آباد اور سکھی رکھے اپ کی فیملی کو۔ واللہ یہ پڑھتے وقت ایسا رونا آیا جیسے اپ ابوظہبی کے النور ہاسپٹل میں روی تھیں 😢😢😢😭😭😭

    Liked by 1 person

    1. دعاوں کے لئے شکریہ! یہ میری اصل کمائی ہیں!آپ میری طرح رو نہیں سکتے مگر اگر کبھی میری کسی تحریر پر رونا آ جائے تو ہمیں دعا دینا مت
      بھولیے گا!
      دعائیں انسانوں کی دنیائیں بدل دیتی ہیں!

      Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.