کھلا آسماں

ایکڑوں پر پھیلے پارک کے گرداگرد گھومتے واک ٹریک پر  کئی رنگ اور نسل کے  لوگوں کے بیچ وہ بھی ٹی شرٹ اور ٹراوزر پہنے بھاگے رہی تھی۔پسینے سے شرابور، گلے کے گرد لپٹے کاٹن کے  رومال سے پسینہ پونچھتی وہ بیماری سے بھاگ رہی تھی،بڑھتے وزن سے یا اپنے ماضی سے۔۔چھ کلو میٹر کا فاصلہ بھاگتے اور رکتے طے کرتے یہ اس کا اپنا من جانتا تھا کہ وہ صرف اور صرف اپنے آپ سے،اپنے بنائے گئے وجود  اور سانچے سے بھاگ رہی تھی۔وہ سالوں کے دماغوں میں بڑی کامیابی سے بنائی گئئ اخلاقیات سے بھاگ رہی تھی،وہ اس سوچ اور اس خوف سے دور بھاگ رہی تھی جس نے ساری عمر اس کے پیروں کو بیڑیوں کی طرح جکڑے رکھا۔جو لڑکی کو بھاگنا تو دور  تیز قدم اٹھانے کا حق نہیں دیتا۔پاوں زور سے نہ مارو،آواز نیچی رکھو نگاہ جھکائے رکھو،چادر لپیٹے رکھو کے اسباق  سے رسیوں کی طرح ہر وقت اسے باندھے رکھتا ہے۔

ذندگی کو چلنا تھا چلتے ہی جانا تھا۔یہ رکتی نہیں،رک سکتی بھی نہیں۔وہ روکنا چاہتی بھی تو بھی روک نہ پاتی۔کسی کو سفر لاحق تھا،کسی کو منزلوں سے غرض تھی۔کسی کو ہواؤں میں بکھرنا تھا کسی نے مختلف رستوں پر چلنا تھا اور بچھڑنا تھا تو ذندگی ہر وچھوڑے ہر آگ میں بھی چلتی ہی رہی۔ذندگی درد کا سمندر تھی،چیخیں مارتی،سر پٹختی،بہتی رہی! جیسے اس کے سینے پر اترا ہر عذاب اس کے قدم سست نہ کر سکا تھا وہ بڑھتی ہی جاتی تھی ،آزمایشوں کی صدا قدم اور تیز کر دتی،جتنی شدت سے اسے پستیاں بلاتیں وہ اتنا ہی اپنے قدموں کو تیز کر دیتی۔اسے بھاگنا تھا اس سے پہلے کہ صور کی سازشیں اس کے قدم جکڑ لیں اور رستوں کی مرضی اسے ملیا میٹ کر دے،اسے بھاگنا تھا ہر زنجیر سے بچ کر،ہر شمشیر سے نکل کر!

کئی ناموں کی بیڑیاں اس کے پیروں پر بندھی تھیں،خاندان کی،عزت کی،اعتماد کی،ممتا کی،قربانی کی،خدمت کی!وہ ایک سے بچنے کی کوشش کرتی تو دوسری میں جکڑ کر رہ جاتی۔اسے بڑی مہارت اور کامیابی سے قربانی کی گائے کی طرح سو سو لوگوں نے مل کر باندھا تھا۔مگر گائے اس سے بہتر تھی۔کم سے کم کسی ایک کو مرتے مرتے ایک لات تو رسید کر ہی دیتی،یہ عورت تھی،اپنے دشمنوں کو ذندگی کی خاطر لات بھی نہ مار سکتی تھی۔اسے امر ہونے کی خواہش میں سر خم کئے مرنا تھا،اسے زباں سے لفظ ملامت لائے بغیر ہر بھی کو اپنی گردن پر سہنا تھا۔کبھی کھی اشرف المخلوق ہونا سزا بن جاتا ہے جب غلام غلامی کو اعلی اخلاق سمجھ بیٹھتے ہیں۔کبھی کبھی حیواں انسانیت سے بازی لے جاتے ہیں،جب بقا کی خاطر ہر مزاحمت سے لڑ پڑتے ہیں۔وہ ایسی گائے تھی وہ جانتی تھی،مگر وہ ایسی گائے ہونا نہ چاہتی تھی اس لئے بھاگتی تھی۔

سینے میں کیسے کیسے دکھ کسی خنجر کی طرح گھپ تھے،خون بہتا تھا جان نکلتی تھی۔مجبور عورت مر نہ پاتی تھی۔کیسے کیسی درانتیاں سے اس کے پر کاٹے گئے تھے،اس کی پاؤں نوچے گئے تھے،اس کی آنکھوں سے خواب ستارے روشنی تک کھینچ لی گئی تھی۔زمانے کو اس پر صرف ایک رنگ جچتا تھا،تابعداری،فرمابرداری،خدمت گزاری!!!!!بس،حرف آخر!وہ جسے رنگوں سے پیار تھا زمانہ اسے بلیک اینڈ وائٹ سے ذیادہ کا حق نہ دیتا تھا،وہ جسے سرگوشیوں سے خوابوں کی مہک آتی ہو زمانہ اسے کفر کہتا تھا۔

ایک عورت کے اندر کتنی آوازیں ہیں جو اپنی بقا چاہتی ہیں۔۔۔ کیسے دھیرے دھیرے سب کو مار دیا جاتا ہے)

وہ دوڑ رہی تھی بہت شدت سے ایسے جیسے اسے اپنے آپ سے بھی کہیں دور بھاگ جانا تھا.

اسے یاد تھا جب وہ چھٹی ساتویں میں پہنچی تھی اور اس کا قد ایکدم سے چھت سے جا لگا تھا۔۔۔گھر میں سب کو اونٹ کی اونٹ لگنے لگی تھی۔۔۔۔۔گھر میں باپ داخل ہوتا توڈوپٹہ اوڑھنے کو دوڑتی۔ورنہ ایسی چنگھاڑ پڑتی کہ کئی دنوں تک اپنے لڑکی ہونے پر شرمساررہتی۔لڑکی ہونا ایک سزاہی تو تھا۔ہر وقت چار جوڑے اوپر نیچے لپیٹے رکھو ۔کوئی کمر نہ دیکھ لے ،کسی کی نظر سینے پرنہ پر جائے۔کوئی جان نہ لے کہ لڑکی ہے،اور لڑکی ہے تو جواں ہو گئی ہے۔اور دیکھ بھی کون لے گھر کے اندر یا باپ آ سکتا تھا یا بھائی،مگر خود کو ان سے بھی چھپانا پڑتا تھا۔سگے ہی تھے مگر جانے کیوں ان کو خود اپنی نگاہ پر بھروسہ نہ تھا یا ان سے ہنستی مسکراتی بہن اور بیٹی برداشت نہ ہوتی تھی جو ہر وقت اسے سر جھکائے لمبی چادروں میں لپٹے دیکھ کر ان کی مردانہ انا کو تسکین ملتی تھی کہ ان کی موجودگی کو سراہا جا رہا ہے،گھر کی لڑکی پر ان کا رعب چل رہا ہے،یا واقعی بیٹی اور اس کی جوانی اتنی ہی بڑی لعنت تھی کہ باپ بھائی اپنی نظر سے بھی اس کو چھپا کر رکھنا چاہتے تھے۔

ایسے گھر میں اسے انسان کیا بننا تھا،چھویی موئی بھی نہ ڈھنگ سے بن سکی بلکہ تابعداریوں اور لڑکی ہونے کا بوجھ کندھوں پر اٹھاتے اٹھاتے ٹیڑھی میڑھی سی ہوتی چلے گئی کندھے اور گردن جھکتے جھکتے کبڑے سے ہونے لگے،جسم چھپاتے چھپاتے الٹا پلٹا ہوتا چلا گیا اور چادر آس پاس لپیٹے اپنی انسانی ساخت جیسے گنواتی گئی تھی !شاید اسے تب ہی بھاگ جانا چاہیے تھا،مگر تب بھاگ نہ سکی،تب اسے سکھایا گیا تھا نبھانا اور خود کو جھکانا ہی لڑکی ہونے کی معراج ہے۔انسان ہونے کی معراج کیا ہے،کوئی جانتا ہی نہ تھا اسے کیا سکھاتا،مگر لڑکی ہونے کی معراج بچہ بچہ جانتا تھا سو وہ بھی سر جھکائے اپنی معراج پر سفر کرتی رہی۔جھکتی رہی سہمتی رہی اور زمین کے اندر ہی اندر گڑتی رہی۔

تب بھاگ نہ سکی تھی اس لئے اب بھاگ رہی تھی ،اپنے جھکے کندھوں سے لڑتی،اپنے ٹیڑھی گردن سے الجھتی،آس پاس کی ہر سڑک،ہر درخت ہر اینٹ پر گڑی آنکھوں سے کتراتی وہ آج خود کو ہر گھورنے والی شے سے بے نیاز کر لینا چاہتی تھی،یہ گھورنے والی چیزیں جس نے کبھی اسے انسانوں کی طرح جینے نہ دیا تھا۔کبھی باپ کبھی بھائی سے لیکر سڑک پر چلتی ہر نظر تک اسے ہمیشہ گھورا ہی تو گیا تھا۔وہ گھر میں باپ اور بھائی کی گھوری سے بھی ڈرتی تھی اور سڑک پر چلتے کمزور سے کمزور مرد کی گھوری سے بھی۔ عجیب اپاہج کر دینے والی گھوریوں کے بیچ وہ کوئی عجیب سی مخلوق بن کر اتری تھی۔پسینہ ماتھے سے بہنے لگا تھا اور بال چپکنے لگے تھے۔

“یہ کون بھاگ رہی ہے”اسے شروع شروع میں لگتا تھا ہر قریب سے گزرتا شخص یہی سوچ رہا ہے۔جب وہ پہلے پہل ان گلیوں میں تن تنہا نکلی تھی اسے لگتا آس پاس کا ہر وجود اسے ہی گھور رہا ہے،کہ یہ کیوں ادھر آ گئی ہے،یہ کیسے آ گئی ہے،اسے لگتا سب لوگ اسے جانتے ہیں اور اسے الزام بھری نظروں سے گھور رہے ہیں،اس کے کندھے مزید گول مول سے ہو جاتے،چہرہ مزید پیلا پھٹک ہونے لگتا،ٹانگوں میں کپکپاہٹ آنے لگتی۔کبھی کبھی ڈر کر کسی کے چہرے پر نظر پڑتی تو اسے احساس ہوتا کہ وہ تو اس دنیا میں موجود ہی نہیں۔کسی چہرے پر اس کے نام کا کوئی عکس ہی نہیں۔آہستہ آہستہ پردیس کے چمکتے فرش پر چلتے اسے احساس ہونے لگا کہ یہ آس پاس چلتےگورے چٹے لوگ تو اس کی موجودگی سے قطعی بے خبر ہیں،یہ سامنے کیفے سے نکلتا بیرا اس کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھ رہا،یہ گھڑی کے سٹال پر بیٹھا دکاندار کسی اور طرف متوجہ ہے۔۔۔۔۔کیسی عجیب سی بات تھی۔اور یہ احساس اسے پردیس کی گلیوں میں چلتے کئی ماہ بعد ہوا کہ جن چبھتی نظروں سے بچتی دبکتی وہ کندھے جھکا جھکا کتنے ماہ سے چل رہی تھی وہ تو اس دیس میں غیر موجود تھیں۔آس پاس کی دنیا اس سے قطعی لاتعلق،قطعی غیر متوجہ تھی۔پہلے تو آنکھیں کھلیں ،پھر سانس ڈھیلے ہوئے اور پھر اس کے بغلوں میں چھپائے ہوئے پاؤں بلآخر پرسکون ہو کر زمین کو لگے۔

وہ سانس لے سکتی تھی،وہ سر اٹھا کر آسماں پر نظر ڈال سکتی تھی،چادر میں چھپائے بازو نکال کر ہلا سکتی تھی،رک کر ،ٹھہر کر ایک لمبا سانس بھر سکتی تھی۔پہلی بار اس نےخود کو ایسی دنیا میں محسوس کیا کہا جہاں اس کے سر کے بالوں سے پاؤں تک کہیں کوئی نگاہ لپٹی نہ تھی۔مار دیتی نظروں سے نجات بھی ذندگی کی کیسی بڑی نعمت تھی۔

سو وہ بھاگنے لگی تھی،سرپٹ،بازو مارتی،پاوں کی دھپ دھپ سے زمین کو ہلاتی۔کچھ نہ ہونے کا احساس بھی کس قدر دل نشین تھا،کسقدر آزادی سے بھرپور تھا ۔۔۔۔

_______________

صوفیہ کاشف

ا

15 Comments

  1. جی آپ نے پاکستانی دقیانوسی تعفن ذدہ معاشرے کی ایک جھلک دکھلائ ھے.. یہ man dominent معاشرہ اس قسم کی کتی کہانیوں کو جنم دیتا ھے کتنی مختاراں مایاں گھٹ گھٹ کر وحشیوں کے ہاتھوں برباد ھو جاتی ھیں اوربےغیرت جاگیرداراسمبلی میں کھڑے ھوکر فخر سے اس کو اپنی ثقافت کہتے ہین

    Liked by 1 person

    1. ہمارے اختیار میں جھلک دکھلانا ہی رہ گیا ہے۔لوگ تو اب اسے بھی ذہنی عیاشی کے لئے دیکھتے ہیں اور آگے بڑھ جاتے ہیں کچھ بھی بدلے بغیر۔ہم نسل در نسل عورت کی نسل کو غلام پیدا کر رہے ہیں اور ساتھ گلہ بھی کر رہے ہیں کہ نسلیں بھڑ گئیں۔

      Like

  2. کیسے کیسی درانتیاں سے اس کے پر کاٹے گئے تھے،اس کی پاؤں نوچے گئے تھے،اس کی آنکھوں سے خواب ستارے روشنی تک کھینچ لی گئی تھی۔ 😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭

    Liked by 1 person

  3. ۔کچھ نہ ہونے کا احساس بھی کس قدر دل نشین تھا،کسقدر آزادی سے بھرپور تھا ۔۔۔۔
    ماشاءالله زور قلم أور زياده Happy Father Day

    Like

  4. ایک مرتبہ، ایک جنی (جنڑی) نے ممتازمفتی کو “مرد والی نگاہ” کا مطلب سمجھایا تھا۔

    “یہ جو مرد والی نگاہ ہوتی ہے ناں، اسکا عورت کو فوراً پتہ چل جاتا ہے۔”

    “کیسے؟”

    “اس نگاہ میں آنکھ کی پلک نہیں جھپکتی۔۔۔”

    آنکھیں سب کی ایک سی ہوا کرتی ہیں، پر نظریں نہیں۔

    نگاہیں نیت کے تابع ہیں، اور نیت کے کئی رُخ ۔

    تربیت بھی نیت کا ایک رُخ ہے۔

    خواب بھی نیت کا ہی رُخ ہیں۔

    خوابو ں کی مہک ہی تو روح کو جوان رکھتی ہے۔ کل کا دِن آنکھوں کو دِکھاتی ہے۔ ناممکن کے “نا” پر سفیدی پھیر دیتی ہے۔

    زندگی کی روانی میں جتنے طوفان، رکاوٹیں، درد کے سمندر اور وچھوڑے آئے ، وہ آنا تھے، اور وہ ضروری تھے۔ آزمائشیں، سختیاں، پستیاں اور سازشیں تو اس سفر کے موڑ اور سنگِ میل تھے۔ طعنوں کے دردِ سر، سینوں کی جلن، ناموں کی بیڑیاں اور مطیع رکھنے کو رسّیاں ، یہ سب تو اس تجربے کا اپریٹس تھے۔

    عورت ذات تخلیق کے استعارے سے کہیں بڑھ کر ، خود تخلیق کار ہے۔ خالق نے اسے کھیتی جیسے لفظ سے یونہی منور نہیں فرمایا۔ ہر ہر رُوپ میں خوبصورت ، ہر ہر رویے میں محبت خیز، اور ہر ہر کردار میں مکمل، میسر، مکرم اور مقدس۔

    خاندان کی عزت ، اعتماد، ممتا، قربانی اور خدمت سے تو یہ کہانی شروع ہوتی ہے۔ اور ختم؟ یہ ختم ہونے والی کہانی نہیں ہے۔ ہر عورت میں ماں کا ایک رُوپ ہے، جو محض آخر میں کھانا ہی نہیں کھاتا، بلکہ ہر حق کی وصولی کے موقع پر سب سے آخر ی، اور ہر فرض کی ادائیگی میں اول رہا کرتا ہے۔ اور یہ تو بہت بنیادی بات ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ ابھی تک ایسا کوئی پیمانہ متعین ہی نہیں ہو سکا جو اس ذات کی عظمت کو ناپ تول پائے، نہ ایسے الفاظ جو اسکی عظمت کو بیان کر پائیں، کہ جس کی محبت کے باٹ میں خُدا اپنی محبت تولتا ہے،اور جِس کی تکریم ، حفاظت ونگہداشت کے ضمن میں آقا ﷺ انہیں آبگینوں سے تشبہیہ عطا فرماتے ہیں، اور جِس کی قُوتِ برداشت کو لے کر میڈیکل سائنس درد برداشت کرنے کی صلاحیت کے پیمانے متعین کرتی ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ کائنات کا مالک، حیاداری کے احکام کی بابت سورۃ نُور کی آیات میں پردے کے ضمن میں خواتین کے پردے سے پہلے، مردوں کی نظر کے حجاب کا حُکم نازل فرماتا ہے۔

    حقیقت یہ بھی ہے کہ بقول امرتا پریتم، مرد نے ابھی عورت کے ساتھ صرف سونا سیکھا ہے۔ جاگنا نہیں۔

    حقیقت یہ بھی ہے کہ لفظ عورت کا ماخذ ( عور) چُھپے ہوئے ، کےمعنی میں آتا ہے۔
    اور یہ کہ یہ لفظ عور، خواتین کے لئے نہیں۔ یہ تو ستر سے متعلق ہے۔ عورت کے لئے مصحف میں لفظ نساء استعال ہوا ہے۔
    لیکن ہم نے پدر سری معاشرے کی روایات کے عین مطابق عور کو صرف خواتین کے اتھ مخصوص کر دیا ۔

    اور، حقیقت یہ بھی ہے کہ بنتِ حوا کا مقام ، عزّت اور حرمت بنتِ حوا بننے میں ہی ہے۔ اور ، اِسی سے ابنِ آدم ، ابنِ آدم بنتے ہیں۔

    تحریر کا اختتام بہت خوبصورت ہے۔

    وہ سانس لے سکتی تھی،وہ سر اٹھا کر آسماں پر نظر ڈال سکتی تھی،چادر میں چھپائے بازو نکال کر ہلا سکتی تھی،رک کر ،ٹھہر کر ایک لمبا سانس بھر سکتی تھی۔پہلی بار اس نےخود کو ایسی دنیا میں محسوس کیا کہا جہاں اس کے سر کے بالوں سے پاؤں تک کہیں کوئی نگاہ لپٹی نہ تھی۔

    شاید ایک گیت گُنگناتے ہوئے۔۔۔۔

    ہے ٹھان لیا ہم نے

    سورج سا جلنا ہے

    سپنوں کو دو پرواز اگر اُڑنے کی تمنّا ہے

    (دسویں – ہندی فلم)

    Liked by 1 person

    1. بہت شکریہ!
      میرے پاس نہ حوالے ہیں نہ لوگوں کے اقوال۔میں ایک بات جانتی ہوں یزاروں قومیت کی عورتوں میں سے ہمیں پاکستانی عورت دور سے آتی دکھائی دیتی تھی۔جھکے کندھے،دبکی ہوئی،سہمی ہوئی،سر جھکا۔اور برصغیر کے کلچر کا راگ الاپنے والوں نے کبھی انڈین عورت نہیں دیکھی۔دور سے ہی سراونچا کئے،کندھے کھڑے،سیدھا جسم! یہ انڈیا کی عورت ہے جو سڑک پر مرد کو جوتے لگا سکتی ہے۔پاکستان کی عورت تو سیٹی سے ڈر جاتی ہے۔اور ہم اسے ہندوستان کا کلچر کہہ کر اپنی جان چھڑا لیتے ہیں۔بس یہی میرا علم ہے۔

      Liked by 1 person

    1. اسے پھر کھول کر دیکھیں۔یہ مکمل اور پبلش ہے۔جانے کیوں نہیں کھل رہا۔میری طرف تو کھل رہا ہے۔

      Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.