انہونی!__________صوفیہ کاشف

برفیلے سفید گالوں جیسے ہلکے بکھرے بال اس کے سر سے دائیں بائیں اڑ رہے تھے،گہری آلو بخارے کے رنگ سی اونی شال کاندھوں کے گرد سختی سے لپٹی تھی،چہرے پر اتری سلوٹوں میں بھی ایک نرمی اور متانت تھی،ایک اداسی تھی ، تھکاوٹ نہ تھی۔ساری عمر تھکاوٹوں میں رہ کر بلآخر اس نے شانتی سے رہنا سیکھا تھا ۔

بائیں طرف سے تھوڑی دیر پہلے اٹھنے والی گھٹا تیزی سی بھری دوپہر میں اندھیرا کرتے چاروں طرف پھیل رہی تھی۔بادلوں کی گرج چمک بھاگتی دوڑتی قریب تر ہونے کی کوشش میں مگن تھی۔جب جاڑے کی سہہ پر میں سوکھتے درختوں کے جھنڈ کے قریب اسکی گاڑی مڑتے ہوئے سامنے ایک اونچے لمبے مضبوط درخت کے تنے سے ٹکرا گئی تھی۔اس نے ایسے موسم جیسے صدیوں بعد دیکھے تھے جن میں بادل کسی الیکٹرک ٹرین کی طرح منٹوں میں کسی گمنام کونے سے ظاہر ہوں اور دہاڑتے گرجتے منٹوں سیکنڈوں میں آسماں کی تمام سرحدوں پر قابض ہو جائیں۔بند کمروں اونچی عمارتوں میں رہنے والوں کے دیس میں بارشیں بڑی ہی مشکل سے زور زبردستی سے لائی جاتی تھیں،بادلوں کو دانے ڈالے جاتے تھے،ہواوں کو سمیٹا جاتا تھا تب کہیں صحراؤں میں کھڑے ان شیشے کے شہروں میں بارشیں اترتی تھیں۔کبھی کبھار کا یہ ساون بھی بغیر بھیگے بیت جاتا تھا کہ جن کو دفاتر میں چھ دن تک نو دس گھنٹوں کی بلاناغہ حاضریاں دینی تھیں ان کے پاس بارش میں نکلنے کی،بازو کھولے بال اڑتے بھیگنے کی،جھولے جھولنے اور پکوڑے تلنے کی فرصتیں ہی کہاں تھیں۔بہت ہی طلب بڑھی تو شیشے پر گرتی کچھ بوندوں کو تصویر کے منظر میں محفوظ کر لیا کسی کی دیوار پر اٹکا دیا،کوئی کشتی بنا کر کسی چوں چوں کرتی چڑیا کے گھونسلے میں ڈال دی۔اور نیلے چاند کی طرح اترا ساون بنا چھوئے،بنا تھامے،بغیر بھگویے بیت جاتا!

عمر تمام شیشے کے شہروں میں کر کے وہ اپنے دیس کو لوٹی تھی تو ابھی ان شور مچاتی،غضب ڈھاتی بارشوں سے تعلق ٹوٹے صدیاں بیت چکی تھیں۔اس نے اندھیرا پھیلنے سے پہلے گھر تک پہنچنے کی کوشش کی تھی۔نئے دیس کے نئے موسم تھے،جانے ان کی حد کہاں تک ہو سو وہ صورتحال بگڑنے سے پہلے گھر لوٹنا چاہتی تھی جو یہاں سے ذیادہ دور بھی نہ تھا۔پچھلی سیٹ پر رکھے کینو،مالٹے اور اسٹرابری ، تھیلوں سے نکل کر ساری گاڑی میں ادھر ادھر بکھر گئے تھے۔

۔اسے گرجتے چمکتے دھاڑتے بادلوں اور موسموں سے ڈر لگتا تھا،اور یہ بات آج کی نہیں تھی،یہ تب کی تھی جب وہ ابھی بچی تھی اور ان کے گاؤں میں پورا ساون بادلوں کی گرج چمک میں دھلتے ڈھلتے بیت جاتا تھا،جب پہلی لپک پڑتے ہی وہ گنج شکر کا ورد کرتے خود کو تھکا لیتی،گھر کے سب سے اندرونی کونے میں گھس کر وہ منہ سر لپیٹ کر کسی صوفے کے پیچھے کسی بستر کے نیچے گھس جاتی!اب ایک عمر گزار کر پھر اسی خوف سے پالا پڑا تھا تو ایک گمنام شہر میں ایک انجان سڑک پر بے نام درختوں کے جھرمٹ کے پاس وہ اکیلی کھڑی ادھر ادھر کوئی آسرا ڈھونڈتی تھی۔ جب اس نے اسے کچھ فاصلے سے اپنی طرف آتے دیکھا۔۔۔۔

صدیاں سمٹ گئی تھیں،جیسے زمانے اسے زمانوں سے چھونا بھول چکے تھے،بارشیں دم تھامے دم بخود رہ گئیں،ژالہ باری کی سانس ہی ٹھر گئی تھی۔سامنے وہ خوش بدن تھا جسے زمانوں پہلے اس شہر نے اور سماج نے مل کر اس سے چھینا تھا۔سامنے اس کے وہ خواب تھا جسے اس نے پلکوں سے اتار کر آنکھوں سمیت اسی سرحد میں پھینکا تھا اور خود کو اپنے ہاتھوں میں سنبھالتی وقت کے پروں پر بیٹھ کر وہ کہیں دور کی حدوں کی طرف اڑ گئی تھی،صدیوں اور زمانوں پہلے!

وہ اس کے سامنے کھڑا تھا اور اسے ایسے دیکھتا تھا جیسے محض کئی کوس سے صرف اسے ہی ڈھونڈتا آیا ہو۔

اس کی پلکیں جھپکنا بھول گئی تھیں

اس کی سانسوں پر پہاڑوں سا وزن آ گرا تھا

آنکھوں میں موجیں لپکنے لگی تھیں

“کس دیس میں ملے ہو؟؟؟”

کس دیس میں ملے ہو!!!”ایک سوال اس کے چہرے پر تھا

اور ایک جواب اسکی آنکھوں میں

“آسماں کی حدوں سے صرف تمھارے لئے اتر کر آیا ہوں!

نہیں مانتا تھا ناں! لو آج مان لیا!میں تمھارا تھا،میں تمھارا ہوں!”اس کے ہاتھوں نے ہاتھوں کو نرمی سے تھام لیا تھا

لبوں پر ٹوٹے خواب دھاڑیں مار رہے تھے،بادل گرج رہا تھا،بارش برس رہی تھی اور بارش کی ٹھنڈک بھری نرم بوندوں میں کوئی ایک جھلک پکڑ لینے کی جستجو میں تھا۔بارش کی طوفانی پھوار کی ٹھنڈک میں وہ جم رہی تھی اور اس کے ہاتھوں کی گرمی اسے تھامے بازو میں لپیٹے لئے جا رہی تھی۔۔

برستے بادلوں میں اور اس خالی سڑک پر بلآخر پیچھے سے کوئی گاڑی آئی اور قریب آ کر حادثے کا جائزہ لیتی رکی تھی۔ ۔دروازہ کھولتے ہی کچھ لوگ نکلے اور اس گاڑی کی طرف بھاگے تھے جو درخت سے ٹکرا کر بری طرح پچک گئی تھی ۔کسی نے دوڑ کر ایک طرف سے گاڑی کے شیشوں سے جھانکا تو سٹیرنگ پر وہ بہتے خون میں لت پت ساکن پڑی تھی۔

________________

صوفیہ کاشف

6 Comments

  1. کسی نے دوڑ کر ایک طرف سے گاڑی کے شیشوں سے جھانکا تو سٹیرنگ پر وہ بہتے خون اور ساکن سانسوں کے ساتھ پڑی تھی۔😭😭😭😭😭😭

    Liked by 1 person

  2. وہ اس کے سامنے کھڑا تھا اور اسے ایسے دیکھتا تھا جیسے محض کئی کوس سے صرف اسے ہی ڈھونڈتا آیا ہو۔

    اور اس کی پلکیں جھپکنا بھول گئی تھیں

    اس کی سانسوں پر پہاڑوں سا وزن آ گرا تھا

    آنکھوں میں موجیں لپکنے لگی تھیں

    “کس دیس میں ملے ہو!!!!!

    کس دیس میں ملے ہو!!!”ایک سوال اس کے چہرے پر تھا

    اور ایک جواب اسکی آنکھوں میں

    “آسماں کی حدوں سے صرف تمھارے لئے اتر کر آیا ہوں!

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.