بول میری مچھلی_________صوفیہ کاشف

پانی کا ایک شدید بہاو تھا جو ذندگی کو ایک لہر میں پھنسا کر گھیر لایا تھا۔اور لا کر ایک ایسی خلیج میں پٹخا تھا کہ جس کے چار سو رنگ و بو سے بھرے جزیرے تھے،دھنک رنگ حدتوں سے بھرے،لشکتے مٹکتے،بل کھاتے اپنی جوانی اور حسن کی ترنگ میں جھولتے اور جھومتے جزیرے______ایک ایسی ترنگ میں رقصاں کہ جس کی ہر تال سے سناٹے ٹوٹ ٹوٹ گرتےاور تنہائی دھویں کی طرح نکل کر پوری فضا میں پھیل جاتی۔جگمگ جگمگ کرتی آنکھیں! چندھیاتی  روشنی ایسی اندھا دھند کہ سورج بھی بل کھا کر گر پڑیں اور اندھیرے ایسے کہ کالی رات ساری عمر سسکیاں بھرتی رہے۔ان اندھیروں اور اجالوں کو گوندھ کر بنائے گئے ان منچلے رنگیلے جزیروں کے کناروں پر ،بل کھاتی چھمک چھمک چلتی نہروں اور لہروں پر اور اس کے ساحلوں سے سر مارتی شوریدہ بے قابو لہروں میں سانسیں بھرتی،نگاہیں زرق برق روشنیوں پر ٹکائے موس لگے پانی کے اندھیروں میں غرق مچھلیاں________ذندگی کو جیتی رہیں حسن و مستی کی سرخوشی میں۔دھنک رنگ پانی کے ساتھ تیرتیں،کنارے پر سر پٹختیں اور کسی لہر کی بے رخی سہہ کر کنارے پر لب دم منہ کھولے ڈھیر ہو جاتیں۔بے وفائی ایک آسمانی بجلی کی طرح کہیں سے بھی کوند سکتی ہے کسی بھی مچھلی،پانی  یا جزیرے کی داستان حیات میں!

ایسے میں وہ سونے جیسے رنگ والی چھوٹی سی مچھلی ،ننھی سی سنہری رنگوں میں چمکتی،لپکتی مٹکتی اپنے دھیرے دھیرے بہتی لہروں میں ادھر سے ادھر تیرتی پھرتی ،ایسے شدید پانیوں میں گھری کہ لہروں میں بے قابو ہوتی اپنے وجود سے ،اپنی ذمین اور آسمان سے دور ہوتی گئی۔بہتی طوفانی لہروں نے اسے سمندر در سمندر کھینچتے،کوہ قاف کے  ان ساحلوں پر لا پھینکا!

ریتلے ساحل پر بہتی نیلی پیلی گرم گرم روشنیوں کے بیچ میں کنارے کنارے پر نئے ماحول،نئی مخلوق عجب رنگ و ہیئت والی چھوٹی بڑی مچھلیوں کے بیچ الگ سی بولی بولتی،اپنے رنگیلے ساحلوں کی اکڑ میں گردن اکڑائے بے نیاز غرور سے ،ادھر ادھر تمکنت سے تیرتی مچھلیوں کو دیکھتی۔

جزیروں کی حدوں سے جلووں اور رنگوں کے ابھرتے، آتش فشاں پھوٹتے،اور اس سمندر کی لہروں میں دور تک سپنوں کی ،رنگوں کی اور امیدوں کی برسات کر دیتے۔جن کی لپک میں گھر کر پانی کی سب مخلوق ناچتی،گاتی،پھر سے ساحل کی سمت دوڑتی۔________اٹھتی بڑھتی اور آخر نامراد ہو کر کچھ بے وفاوں کو ڈبو کر سر جھکائے اور مایوس واپس اپنی پستیوں اور گہرائیوں کو لوٹ جاتی ایک نئے صور کی تلاش میں۔ایک آخری صور سے پہلے نجانے کتنے صور پھینکے جائیں گےجو ڈگڈگی پر ناچتی ذندگی کو ہنسنے،ناچنے اور پھر رو دینے پر مجبور کرتے رہیں گے۔

گہرے پیلے ،نیلے اور گلابی رنگوں سے بھری ذمین اور سنہرے زردی اور چاندی بھرے آسمان۔اک آگ سی لپک تھی راتوں میں بھی محض دن ہی سورج زدہ نہ تھے۔یہ کوہ قاف جہاں ذمینوں سے سبزے کی بجائے سونا اور چاندی اگتا،ہیرے اور موتی کی فصلیں بوئی جاتیں۔قیمتی پتھر خوراک  سمجھ کر پلیٹوں میں ڈال کر کھائے جاتے۔انسانوں کو گاڑیوں میں جوتا جاتا اور گھوڑوں اور اونٹوں کو دھکلینے کے لئے انسانوں پر زین ڈالی جاتی۔یہاں چھوٹے چھوٹے بونے سروں پر اونچی لمبی عمارتیں اٹھا کر پھرتے تھے۔جھکتے کندھوں اور ٹوٹتی گردنوں پر وزنی بلندو بالا عمارتوں کی سختی وبال کی طرح اتری تھی۔یہ گلیور کی عجیب سی دنیا تھی ۔دو پیروں پر چلتا انسان گاڑیوں میں پہیوں کی جگہ باندھا گیا تھا۔ اور زن سے وقت کی رفتار سے منزلیں سر کرتی سواریوں کے لئے انسانی جسموں کی پٹری بنائی گئی تھی۔۔تیز رفتار اڑن طشتریاں سونے چاندی کے انبار تلے دبے انسانوں کو اک بوجھ کی طرح ناک بند کئے اٹھائے پھرتیں کہ مشک و عنبر کی خوشبو بھی اب اس نساں کی بو نہ چھپا پاتی تھی۔اور یہ پست قد بدبودار بونے جو چمکیلے بھڑکیلے لبادے اوڑھے ڈنڈوں پر ٹانگیں چڑھائے قد بڑھائے ،کئی کئی فٹ اونچا تاج سر پر پھنسائے ،دونوں کندھوں پر اپنے  محل رکھے ،ہاتھوں میں تجوریاں تھامے،گرتے پڑتے چلتے!یہ عجیب سا کوہ قاف تھا جہاں بونے ______بونے بن جانے سے ڈرتے تھے اور خود کو توڑ کر،الٹ کر،ذخمی اور خوار ہو کر___ بونے نہ دکھنے کی کوشس کرتے تھے۔۔

۔نئے رنگ بھرے  ساحل پر گول گول دائروں میں گھومتے،خود کو تھکا کے،آسمان اور ذمین کو بھلانے کی کوشس کرتے سونے کے رنگ والی مچھلی کے  آس پاس سے سناٹے جھڑنے لگے تھے۔سوجتے پیروں کی طرف سے دھیان محو ہوا اور برستی رم جھم کی ترنگ میں ردھم اترنے لگا۔کن من قطروں کی موسیقی دھیرے دھیرے بدن سے روح تک اترنے لگی اور جیسے تن سے من تک ایک تان سین کی لے چھڑ گئی۔مدہم برسات کی کن من رات میں اس کا بدن ایک تال بن کر ناچنے لگا۔گول گول،لپکتا،جھپکتا،انگ انگ جھومنے لگا اور وہ سنہری رنگ والی ننھی سی مچھلی زمان و مکان سے بے نیاز ہوتی چلے گئی۔کچھ دیر کو پانی کی حدیں اور آسماں کی اونچائی سب محو ہوئی،تارے ذمین پر اور دھنک پانی میں اتر گئی ۔کائنات کے سارے سائے اس کے سر پر خیمہ زن ہو گئے۔شفق گالوں پر اور چودھویں رات اس کے ماتھے پر جگمگانے لگی۔زمان و مکاں سے بے خبر اسطرح محو رقص ہوئی کہ پاوں کے چھالے سل گئے،ہونٹوں کی پپڑی میں نمی اترگئی۔بالوں کی سفیدی اندھیری رات میں بدل گئی اور ہونٹ گلاب ہوئے۔کچھ لمحات ایسے آتے ہیں کہ  تپتے تندور بھی گلزار میں بدل جاتے ہیں۔ اور صحراوں میں جل ترنگ بج اٹھتی ہے۔کبھی موت کے منہ سے ذندگی جنم لیتی ہے اور کبھی ذندگی کے منہ سے موت نکل آتی ہے۔

آج اس کے سناٹے کے آتش فشاں سے لاوے کی بجائے نور نکل بہا تھا اور اسے گول گول گھماتے اوپر ہی اوپر لہر کی آخری حد تک، نگاہ کی انتہائی سرحد پر لئے جاتا تھا۔اور اوپر۔۔۔۔۔اور اوپر۔۔۔۔۔اتنا اوپر،اتنا اوپر۔۔۔۔۔یہاں تک کہ موسیقی کی پازیب ٹوٹ گئی اور اساوری ٹھنڈی آہ میں ڈھل گئی۔آس پاس چمکتیے سب اجالے رخصت ہوئے اور رگوں میں سے ذندگی بہنا بھول گئی۔وہ سنہری ننھے دل کی مچھلی بے جان و بے نیاز وجود ہو کر لہروں سے باہر آ گری۔

__________________

تحریر و کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

2 Comments

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.