جنت

بسم اللہ الرحمن الرحیم

__________________


2020

کے پہلے تین مہینے تھے جب میں مسلسل ایک فکر میں تھی
کہ مجھے واپس دبئی نہیں جانا!
عارضی سا ٹھکانہ ہم بہت اچھے طریقے سے سیٹ کر چکے تھے
بچے اسکول میں آہستہ آہستہ دوست بنا چکے تھے
میں نے اپنے آس پاس چھوٹا سا سپورٹ سرکل بنا لیا تھا
ذمہ داریاں بہت تھیں
ڈر اور خوف بھی
مگر پھر بھی دبئی جانے کا دل نہیں تھا
میں نے وہاں گیارہ سال بہت تنہائی ،مشقت اور اعصابی تھکاوٹ سہی تھی
میں سماجی تنہائی سے تھک چکی تھی۔
اسقدر کہ مجھے اب امارات کی کوئی خوبی بھاتی نہیں تھی
میں ہر نماز کے بعد اللہ کے سامنے گڑگڑاتئ
“اے اللہ مجھے واپس نہیں جانا!
اپنے نبی کے صدقے مجھے واپس مت بھیجنا!”
میاں جتنی شدت سے مجھے واپس آنے پر راضی کرتا میں بے بس ہوتی جاتی اتنی شدت سے دعا مانگتی


“As it is man [often] prays for things that are bad as if he were praying for something that is good: for man is prone to be hasty [in his judgments]”

Surah Bani Isareel
: 17 Verse:

یہ مجھے تب نہیں پتا تھا یہ تو میں نے کچھ عرصے بعد جانآ
بلآخر میں نے ہتھیار ڈال دئیے کچھ کام کرونا نے کر دیا اور ہم واپس روانہ ہو گئے .

اسلام آباد سے روانگی سے دبئی ایئرپورٹ تک کے اترنے نے ذندگی کے بدترین سبق دئیے
مالی خسارے سہنے پڑے
عزیز واقارب کی طرف سے دل دکھا
معاشی پریشانی دیکھی
دل کی دھڑکیں کئی دفعہ رکتے رکتے چلیں
جان کو غم لگ گئے
مگر کہانی یہاں پر ختم نہیں ہوتی!
2020

کا سال صرف سروائیول کا سال تھا۔بس جینا تھا کسی بھی طرح
دبئی کے گرم موسم سے نفرت ہوتی
اس کی امارت اور انداز سے دل اٹھ گیا
جس مٹی سے رزق مل رہا تھا مجھے اس سے نفرت ہو گئی تھی۔
۔پاکستان کے کچھ دن بہار کے جھونکے کی طرح یاد رہتے۔
میں سٹار بکس اور کوسٹا پر گندا منہ بنا کر بیٹھتی اور بیس درہم کی کافی پاکستان کو یاد کرتے پیتی۔
پاکستان جہاں سے ہم صرف زخم اور تکلیف لائے تھے۔
“آدم کو جنت میں رکھا جاتا ہے تو وہ اس سے نکلنا کیوں چاہتا ہے؟”
اسی لئے کہ نعمتوں کی بہتات اسے مشکلیں بھلا دیتی ہے۔پھر وہ میرے جیسا ناشکرا ہو جاتا ہےاور جنت سے نکلنے کی دعائیں کرتا ہے!
پھر وہ دن آگیا جب میاں کی نوکری ختم ہوئی اور ہمیں پھر سے پاکستان لوٹنا پڑا!
انسان جب نعمتوں کی قدر نہ کرے تو وہ اس سے چھین لی جاتی ہیں۔انسان شوق سے جنت نہیں چھوڑتا
ناشکری کی وجہ سے ہمیشہ نکالا جاتا ہے!
میں بھی ناشکری ہو گئی تھی۔جنت میں جگہ نہ رہی تھی۔
میری قوت مدافعت ہمیشہ سے کمزور ہے۔میں کوئی بھی فخر، تکبر یا ناشکری ہضم نہیں کر پاتی۔
مجھے ہمیشہ اپنی ہر غلطی کی فوری سزا بھگتنی پڑتی ہے۔
درہم کی بجائے روپیہ کمایا تو پتا چلا دبئی ہمیں کیا دیتا تھا
چار مہینے کی شدید گرمی میں پسینہ بہایا تو اپنے کچن کے سارا دن چلنے والے اے سی یاد آئے۔
جب کافی شاپ میں اکیلے بیٹھنا مشکل ہوا تو دبئی کا دیا تحفظ یاد آیا
جب ہر طرف پولن کی طرح گھومتا ڈینگی مچھر نظر آیا تو وہاں کی صفائیاں اور پھرتیاں یاد آئیں
جب دوائی اور ڈاکٹر کے ہتھے چڑھے تو وہاں کے ڈاکٹروں کی دی عزت اور دوائیاں یاد آئیں
کیا کچھ تھا جو تب مجھے نظر نہیں آتا تھا کہ میاں درہم کماتا تھا ہر دوائی درہموں میں دبئی سے آ جاتی تھی،اسی دبئی سے جس سے مجھے نفرت تھی۔
اب نفرت بھی نہیں ہے جس سے نفرت تھی وہ بھی نہیں!
اب بس سیکھے ہوئے اسباق ہیں۔
میں نے جھولی بھر بھر کر اپنے لئے مشکلات مانگی تھیں۔اب سنی گئی ہیں دعائیں میری تو دعاوں کا اصل مطلب جانا ہے!
__۔


As it is man [often] prays for things that are bad as if he were praying for something that is good: for man is prone to be hasty [in his judgments].Surat Bani Isareel
Surah: 17 Verse:

(ذندگی میں کچھ سیکھے ہوئے اسباق )

_______________

صوفیہ کاشف

2 Comments

  1. اسلام آباد سے روانگی سے دبئی ایئرپورٹ تک کے اترنے نے ذندگی کے بدترین سبق دئیے
    مالی خسارے سہنے پڑے
    عزیز واقارب کی طرف سے دل دکھا
    معاشی پریشانی دیکھی
    دل کی دھڑکیں کئی دفعہ رکتے رکتے چلیں
    جان کو غم لگ گئے
    مگر کہانی یہاں پر ختم نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔ہمارے عزیز واقارب ہر سال بہترین تحائف وصول کرنے کے باوجود جب جائیداد تقسیم ہوئ تو ایسے برتاؤ کیا جیسے ہمیں جانتے ہی نہیں۔ شکر ہے اپ اس اذیت سے نہیں گزریں۔ اب جب کینیڈا میں سیٹل ہو گئے تو فون پر فون کہ ہمیں بھی بلا لو۔ اپ بہت سچ لکھتی ہیں۔ اپ اگر خود اپنی تحریر پڑھیں تو رو دیں گی۔ ایک ریکویسٹ ہے پلیز ٹویٹر پر بھی ٹویٹ کریں۔ twitter is a fun. نوازش

    Liked by 1 person

    1. مال چھن جانے کی اذیت سے بہت بار گزر چکی ہوں۔خدا مزید آزمائشوں سے ہم سب کو بچائے!مال کے ساتھ جب رشتے جاتے ہیں تو اس کا درد سب سے ذیادہ ہوتا ہے اب یہ بات بھی سمجھ چکی ہوں۔
      اپنی تحریر پڑھ کر روٹی نہیں۔کیونکہ میں اپنے حصے کا لکھتے وقت رو لیتی ہوں۔سچ لکھنا اتنا آسان ہو تو سب لکھ لیں۔یہ سچ اور اس کی مقدار ہی ہے جو لکھنے والوں میں فرق کا باعث ہے۔ہماری قسمت میں تکلیف دہ سچ آئے تھے انہیں ہی لکھنا پڑا۔
      ٹویٹر پر کبھی کبھی جاتی ہوں مگر گھبرا جاتی ہوں۔کیونکہ ٹویٹر پراپیگنڈا اور ٹرولنگ سے بھرا پڑا ہے ۔صژیح خبر تک ڈھونڈنا عذاب ہو جاتا ہے اس لئے اکثر اس سے دور رہتی ہوں۔

      Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.