تغیر

تبدیلی
تبدیلی ذندگی میں کتنی بڑی چیز ہے یہ وہ انسان کبھی نہیں جان سکتا جس نے ساری عمر ایک شہر کی ایک گلی میں رہتے گزار دی ہو
جس نے ہمیشہ ایک ہی علاقے کے لوگوں میں ذندگی بسر کی ہو
جو ہمیشہ ایک ہی بازار سے خریداری کرتا رہا ہو
ساری عمر روٹی سالن کے ساتھ کھاتا رہا ہو
ہمیشہ ایک ہی طرز حیات میں جیتا رہا ہو!
میں کالج میں تھی
آج سوچتی ہوں سترہ اٹھارہ سال کا نوجوان کتنا چھوٹا ہوتا ہے)
تو ایک روز صبح سویرے نماز کے لئےاٹھی

نماز کے بعد نیند نہ آئی تو سوچا صبح کتنی پیاری ہے چلو دیکھ لیتے ہیں
مجھے آج بھی چھت کا وہ منظر یاد ہے
(مڈل کلاس گھرانوں میں چھتیں ہی، خصوصا عورتوں کے لئے ، لان کا درجہ رکھتی ہیں۔ہمارے پاس لان اور پارک کہاں ہوتے تھے)
ہر طرف ڈرا دینے والا اندھیرا تھا
جس میں جن ،بھوت،چڑیلیں سب کچھ ہوتا ہے!
جن میں چور ڈاکو اور شیطان نکلتے ہیں۔
تھوڑی دیر بعد اندھیری چادر کی تہہ میں مشرق کی سمت بالکل دھاگے کے حجم کی سفیدی کی آنکھ کھلی
سفیدی ہلکی ہلکی قدو کاٹھ میں پھیلنے لگی
پھیلتے پھیلتے شفق بننے لگی
اوپر سے اندھیری چادر زرا زرا ہٹنے لگی

ہٹتے ہٹتے دور چلے گئی اور سفیدی نے آسمان کو گھیر لیا
یہ بمشکل پندرہ بیس منٹ کا وقت تھا
مگر جس قدر تغیر میں نے اس میں دیکھا میں حیران رہ گئی
اتنی سی دیر میں آسمان کی سکرین کتنے رنگ بدل جاتی ہے!
ہمارا پاکستان جنوری سے دسمبر تک
محرم سے زیالعقد تک
چیت سے پھوہ تک
کتنے موسم کتنے رنگ بدلتا ہے کبھی کسی نے سوچا؟
بادل آنے سے بارش ختم ہونے تک
بہار کی شروعات سے اختتام تک
بچے کی پیدائش سے بوڑھے کی وفات تک
کونپل نکلنے سے درخت کے گرنے تک
ذندگی کے آغاز سے ذمیں کے پگھلنے تک
صرف ایک ہی چیز اس کائنات میں مستقل ہے
جس کا نام تغیر ہے،جسے ہم تبدیلی کہتے ہیں۔
اور انسان ہے کہ رجعت پسندی کو ایمان سمجھتا ہے
جس جگہ جنم لے لے وہیں مرنا چاہتا ہے
جو نوالہ بچپن میں کھالے ساری عمر اسی کو ڈھونڈتا رہتا ہے
جس قوم کے نام سے پیدا ہو اسی کے پیروں میں مرنا چاہتا ہے
اس ذمیں،نوالے اور قوم سے آگے بھی کچھ ہے کہ نہیں؟
کیا وہ بھی اسی رب کی سلطنت نہیں جس نے تمہارا علاقہ،نوالہ اور قوم بنائی؟
اگر ہے تو پھر اتنی بنیاد پرستی کیوں؟
ایمان جمے رہنے چاہیں
حالتیں اور علاقے بدلنے چاہیں
ہم حالت اور علاقے نہیں بدلنا چاہتے
ایمان دن رات بدل لیتے ہیں!
اس کائنات کی ہر چیز کا بنیادی طرز حیات ایک ہے حالتیں ہمیشہ سفر میں رہتی ہیں
ہم مٹی کے انسان مٹی کی عبادت کرتے ہیں
ہم مٹی سے لپٹے رہنا چاہتے ہیں
ہم حالتیں نہیں بدلتےہم بنیادی فلسفہ حیات بدل لیتے ہیں
ہم جس روح پر پیدا ہوتے ہیں اس سے بغاوت کر لیتے ہیں

ہم دین فطرت پر پیدا ہوئے مگر فطرت سے ہمیشہ دشمنی رکھتے ہیں

ہم محبت لے کر پیدا ہوتے ہیں مگر عمر بھر نفرت حسد اور تعصب میں گزار دیتے ہیں

ہم سچے پیدا ہوتے ہیں مگر ہماری پوری عمر جھوٹ کا سفر ہو جاتی ہے

ہم ایماندار پیدا ہوتے ہیں اور بےایمان مرتے ہیں

ہم فطرت کے کسی قانوں کی حد میں نہیں رہتے
مگر اپنی گھر،محلے،روٹی اور رسم کے وفادار رہنا چاہتے ہیں!
تبھی تو ہم بحیثیت انسان اور معاشرہ پستی میں تعفن زدہ ہو چکے ہیں۔
تبدیلی وہ اکثیر ہے جو زخم خوردہ انسان کو بھی کھڑا کر دیتی ہے
یہ دنیا کے مایوس ترین انسان کو بھی نیا جنم دے دیتی ہے۔
نئے لوگ،نئےنظارے،نئے حالات چاہے کتنی ہی بدقسمتیوں کی وجوہات سے ہوں
مگر انسانوں کو پھر سے حیات دیتے ہیں۔
جو لوگ پردیس جاتے ہیں کوئی نہیں جانتا کیسے ٹوٹے دلوں اور خستہ حال جاتے ہیں مگر نئے لوگ اور علاقے انہیں نئی ذندگی بخش دیتے ہیں
پردیس سے آنے والے لوگ کوئی نہیں جانتا کتنے آسمانوں سے گر کر آتے ہیں
مگر یہ تغیر کا ہی عمل ہے جو ان کو شفایاب کرتا ہے۔
ذندگی میں استقامت نہیں تغیر کی طلب کرنی چاہیے
مشکل ہے مگر یہی روح حیات ہے
جو ذندگی میں آپ کو ذندہ رہنے پر مجبور کرتی ہے۔

___________________________
صوفیہ کاشف

4 Comments

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.