سزا

سجدے میں پڑے ناک اور ماتھا رگڑتے اس کے دل پر ایک ہی ورد تھا

“یااللہ میرے حال پر رحم کر دے!” دہرائے جاتی اور بلکتی جاتی! رحم!

رحم!

میرے حال پر رحم!

جتنا مانگتی اتنا بلکتی،کبھی رحم کے لفظ پر کبھی “میرے” پر!اسے رحم چاہیے تھا خود پر کہ جس طرف اس کا رخ موڑ کر اس کو کونٹھے باندھا گیا تھا وہ اس کا قبلہ نہ تھا۔جسے سجدا کرنا تھا،وہ خدا کوئی اور تھا جسے واجب ہوا وہ خدا کوئی اور تھا۔اور ان دو دیوتاؤں کے بیچ میں پھنس پھنس کر الجھ الجھ تھک گئی تھی۔سو سجدے میں پڑی تھی اور ماتھا رگڑتی تھی۔لوگ کہتے ہیں ماتھے پر عبادت کی محراب بنتی ہے،ٹخنوں پر سجدوں کے نشاں ہوتے ہیں ،وہ جانتی تھی ماتھے پر حاجتوں کے انبار ہیں اور ٹخنے سفر کی صعبتوں سے چھل چکے ہیں۔

کبھی ناک رگڑتی کچھ پاؤں پکڑتی کبھی،چادر اٹھا کر کبھی بازو پھیلا کر،اس کی بند کوٹھری دبے دبے ہوکے بھر رہی تھی۔سسکیوں کو روکنے کی کوشش میں آواز اور بھی گونج کر نکلتی تھی۔اور یہ آج کی بات نہ تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

سالہا سال ہو چکے تھے اسے اندھیری رات میں زمین پر سر رگڑتے ،فریاد کرتے رحم مانگتے_____رحم جو ملتا نہ تھا،رستہ کھلتا نہ تھا اور حال بدلتا نہ تھا۔۔۔۔۔۔حال جو انسانوں پر وارد ہوتا ہے تو وہ اپنا آپ بھلا بیٹھتا ہے۔لوگ سمجھتے ہیں انساں خدا کی محبت میں لہرا گیا ہے،وہ سمجھ گئی تھی انساں محرومی کو سہارنے سے اکتا گیا ہے،اب رب سے لڑ پڑے گا!

رب جو اپنی اونچی مسند پر اپنی مخلوق کا تڑپنا دیکھ رہا یے،گھٹنے ٹیکے،ماتھا رگڑتے پاؤں پکڑتے منت کرتے!

یہ مٹی کے بھگو گھوڑے،یہ اس کے ہاتھ سے بنے کھلونے کیسی کیسی آرزوں میں تڑپ رہے ہیں،کیسی کیسی بیکار دنیا کے لئے روگ لگائے بیٹھے ہیں۔خموشی سے بیٹھا ان کی چھوٹی چھوٹی تمناؤں کے لئے بڑی بڑی تڑپ دیکھ رہا ہے۔اور جو اس عورت کی چھوٹی سی آرزو تھی وہ اس کی اپنی تمام کائنات سے بڑی تھی۔اتنی بڑی کہ اس کی ذندگی کے جغرافیے میں کسی رخ پوری نہ آتی تھی ۔اب اس کے پاس اور کوئی طریقہ نہ تھا کہ رات بھر ذمین پر سر پٹختی تھی اب اس کا رب دہائی سمجھے کہ فریاد مگر اس انوکھی مراد کے سوا اس کی ذندگی کے لئے اور کوئی سزا نہیں تھی۔۔۔۔

__________________

2 Comments

  1. سالہا سال ہو چکے تھے اسے اندھیری رات میں زمین پر سر رگڑتے ،فریاد کرتے رحم مانگتے،رحم جو ملتا نہ تھا،رستہ کھلتا نہ تھا اور حال بدلتا نہ تھا۔۔۔۔😭😭😭

    Liked by 2 people

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.