موبائل نے رشتے توڑ دئیے ہیں

ہم کہتے ہیں خاندانی نظام ٹوٹ رہا ہے،عورتوں کی آذادی گھر۔ اجاڑ رہی ہے،میڈہا نے بچے بگاڑ دئیے ہیں۔مگر ہمیں ابھی تک اس حقیقت کا ادراک نہیں ہو سکا کہ موبائل نے ہمارے رشتے روایات،خاندان،تعلقات سمیت ہمارا ادراک شعور،ضیاع کا احساس بھی،ہمارا دھیان سب کچھ توڑ دیا ہے۔

پچھلی تین دہائیوں میں ہونے والی اور تیسری دنیا میں پہنچنے والی سائنسی ترقی،انٹرنیٹ،موبائل،سوشل میڈیا نے خاندانی سسٹم،قدروں،تعلقات کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔پچھلے تین دہائیوں میں ساری انویسٹمنٹ انفرادی طور پر تیسری دنیا کے انسان پر ہوئی ہے۔ہم سمجھتے ہیں پچھلی دہائیوں میں ٹیکنالوجی نے بہت ترقی کر لی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ پچھلی دہائیوں میں آج کا انسان مکمل طور پر خریدا گیا ہے۔اس کا دھیان،اس کا ادراک،اس کی ذاتی سوچ اور قدریں سب کی سب خریدی جا چکی ہیں۔

جس طرف کو آپ کی سوچ موڑنی ہو اس کے حق میں اس سے متعلقہ معلومات،وڈیو،آڈیوز،پوسٹس کی سوشل میڈیا پر بھرمار کر دو۔ایک منٹ میں مشرق سے مغرب تک ساری دنیا کے لوگ اسی سمت چل پڑیں گے۔جس چیز کو بدلنا ہے اس کا سوشل میڈیا پر تزکرہ بلاک کر دیں۔خودبخود وہ موضوع اور آئیڈیا انسان کی نظر سے اوجھل ہو جائے گا۔جیسے حال میں ہی فیصلہ ہوا کہ روس کے صدر کے مخالف میں سوشل میڈیا پر پوسٹس کو ابھارا جائے تا کہ شہر شہر گاؤں گاؤں میں لوگ اس سے نفرت کریں۔اسی طرح جسطرح کچھ الفاظ اور کچھ متنازعہ امور کی بات سوشل میڈیا پر بلاک ہو جاتی ہے۔آپ کچھ الفاظ اور کچھ ملکوں اور گروہوں کا نام تک نہیں لے سکتے ۔اور یہ سب کھلے عام ہوتے ہے ،ہمیں بتا کر ہوتا ہے،مگر ہماری سوچ سکرین کے ہاتھوں اس قدر مفلوج ہو چکی ہے کہ سمجھ نہیں پاتی۔ہمین لگتا ہے دنیا ہمارے ریموٹ کنٹرول کے اختیار میں ہے۔ہم سمجھ نہیں پاتے کہ یہ ریموٹ کنٹرول دراصل ہمیں کنٹرول کر رہا ہے ۔

جنریشن گیپ،ذہنی ہم آہنگی کا نہ ہونا رشتوں تعلقات میں بگاڑ ،آدھے ادھورے رشتے ،۔۔۔۔۔ان سب سے خالی شدہ ویکیوم کو ٹیکنالوجی نے پوری طرح گھیر کر ہمارے دلوں اور دماغوں میں اس قدر جڑیں بنا لی ہیں کہ اب سمجھ نہیں آتی کہ ضرورت کہاں سے ختم ہوتی ہے اور غیر ضروری کام کہاں سے شروع ہوتا ہے۔اس نے تڑخی ہوئی دیواروں کو پاش پاش کر دیا ہے اور ہلتی ہوئی عمارتوں کو زمین بوس کر دیا ہے۔انسان سب کچھ،سوشل میڈیا،انٹرنیٹ بند کر کے کسی ایک طرف رکھ دینا بھی چاہتا ہے پھر پتا چلتا ہے کوئی بہت ضروری کام یاد آ گیا ہے اور انسان پھر سے انہیں بھول بھلیوں میں پھنس جاتا ہے۔پچھلی کئی دہائیوں میں سب سے بڑا نقصان انفرادی انسانی توجہ کا ہوا ہے۔اب ہم ضروری اور غیر ضروری، میں فرق کو بھلا بیٹھے ہیں۔

آج کی نسل گھروں اور خاندانوں میں تیار نہیں ہو سکتی اب وہ ڈیجیٹل میڈیا میں تیار ہوتی ہے۔آج کے انسان کی تربیت انسان کے اور اس خاندان اور ماحول کے ہاتھوں سے نکل گئی ہے۔اب سوشل میڈیا ہی اس کا خاندان ہے،وہی اس کا ماحول،جسے پیچھے بیٹھے ذہین دماغ کنٹرول کر رہے ہیں۔

۔ہم نے معلوماتی اور تعمیری علم انٹرنیٹ کے کوڑے اور کچرے کے ڈھیر میں گما دیا ہے ۔اور اب زرا سی تعمیر کی خاطر ہزاروں میل گند اور کوڑا کرکٹ بھگتنا پڑتا ہے۔اور جن کی تعمیر اور تعلیم چاہتے ہیں وہ اپنے جسموں ،دماغوں ذہنوں،دلوں اور روحوں کو غلاظت میں لبریز کیے جا رہے ہیں۔بیکار دل لبھانے والے رنگ،شور شرابے،لطیفے،رقص،وہ جو کہتے تھے

Eat drink and love

اب نہیں کہتے۔

اب اس لیول پر ایک ہی لفظ ہے

Live social media!

گھروں میں ماں باپ بچوں کو ڈھونڈتے پھرتے ہیں،بچے ماں باپ کی تلاش میں ہیں دوست سوشل میڈیا پر ہزاروں ہیں زندگی میں ایک بھی نہیں۔لوگوں کے پاس اصل انسانوں کے لئے وقت نہیں رہ گیا۔لوگوں کے اصل رویے ہم بھولتے جا رہے ہیں ہمیں اسکرین کے پیچھے چھپے چمکدار مگر بے جان چہرے متاثر کرنے لگتے ہیں جو ڈرامے کی کرداروں کی طرح مصنوعی ہیں۔جن کو ہم چھو نہیں پاتے،جن تک ہم کبھی پہنچ نہیں پاتے۔

اب نسلیں تخلیق کرنا پرانی باتیں ہو گئیں۔آج کی نسلیں انٹرنیٹ تخلیق کر رہا ہے۔بیس سال پہلے کہتے تھے دنیا گلوبل ویلج میں سمٹ رہی ہے۔اب پوری دنیا کا قبلہ ایک ہی ہو چکا ہے۔سوشل میڈیا کا ایک بٹن ساری دنیا کا دھیان ایک طرف کرنے کے لئے کافی ہے۔ایک کلک پوری دنیا کے دماغوں کو کنٹرول کرنے میں مصروف ہے۔اب ہم میں کوئی فرق نہیں رہ گیے،ہمارے مذہب،رواج، عقیدے ،سوچ ،فلسفے سب کے سب ایک ہو چکے ۔ہمیں لگتا ہے ہم میں فرق ہے درحقیقت یہ فرق اس قدر دھندلے ہو چکے ہیں کہ فاصلے سے دیکھو تو نظر تک نہیں آتے۔ہر دس سال بعد نسل اپنی بنیادوں سے صدیوں دور جا رہی ہیں اور ہم تیسری دنیا کے لوگ دیکھ رہے ہیں۔

چونکہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں ہمارا کوئی بھی حصہ نہیں اس لئے اس سارے بڑے عمل کو کنٹرول کرنے کا ہمارے پاس کوئی اختیار نہیں۔ہمارے پاس چائنہ ،جاپان اور کوریا کی طرح اپنے تمام انٹرنیٹ چینلز موجود نہیں ۔ہمارے پاس سمتیں چننے یا رستے ڈھونڈنے کی کوئی صلاحیت نہیں۔سو ہمارے پاس ایک ہی کام بچا تھا کہ ہم بھی ترقی یافتہ ہونے کے لئے اپنے دروازوں کو ہر طرح کے انٹرنیٹ کے لئے کھول دیں۔آندھی طوفان کی طرح آتی اس ٹڈی دل فوج کو اپنی نسلوں کی جڑوں میں دیمک کی طرح لگنے دیں اور خود کو اپنی نسلوں کی سلامتی،سوچ اور شعور کو ڈوب جانے دیں۔ہم اپنی منڈیاں ختم کر دیں اپنے عقیدے اور رواج بھول کر اس گلوبل ویلج کی منڈی میں سمٹ جائیں جس کاامریکہ یورپ کے آج کے طاقتور کامیاب معاشرے نے خواب دیکھ رکھا تھا۔پہلے برطانیہ کی کالونیاں ہوتی تھیں اب ساری کی ساری ٹیکنالوجی کی ترقی سے محروم تیسری دنیا امریکہ کی ہوئی ۔

ابھی ہم اپنے بچوں کو ڈھنگ کی تعلیم اور شعور تک نہ دے سکے تھے کہ ہمیں اس سے پہلے ہی ان کو سمارٹ فون دینا پڑ گیا۔اور ایک فون دے کر ہم نے اپنی نسل کو کھو دیا۔

امریکہ برطانیہ اور یورپ میں اسکولز اور کالجز میں ٹیکنالوجی کو کامیابی سے کامیابی کے لئے استعمال کرنا سکھایا جاتا ہے ہمارے ہاں ٹک ٹاک پر بچے بچیاں ڈانس اور ٹھمکے لگا کر سٹار بن جاتے ہیں۔کیسے سٹار اور کیسے چاہنے والے۔ہماری تو بیلیں ابھی دیوار پر چڑھی ٹک نہیں تھیں کہ ان کی جڑوں کو کیڑا کھا گیا۔اور ہمیں اس کا ادراک تک نہیں۔

ابھی تک ہمارے ہاں ہر عمل اس ہیجان کو بڑھانے کے لئے ہی ہوا ہے۔ہم اپنی یونیورسٹیز اور کالجز انٹرنیٹ پر منتقل نہ کر سکے مگر ہم نے سارا بازار منتقل کر دیا۔ہم اپنی ڈیجیٹل لائبریریاں نہ بنا سکے مگر ہم نے ٹک ٹاک اور سنیک وڈیوز عام کر دئییں۔ہمارے موبائلز اور فون کنکشنز صرف مفت سوشل میڈیا کی ترغیب سے بیچے جاتے ہیں۔ابھی تک ہمارے ہاں لوکل یا نیشنل لیول پر انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کے برے اثرات سے بچنے اور ان کو اپنے فائدے کے لئے استعمال کرنے کی کوئی بھی کوشش نہیں۔کیونکہ چھوٹے بڑے،پڑھے لکھے،جاہل سب کے سب اس سمارٹ فون کے اسیر ہو چکے ہیں جو نہ ہمیں سر اٹھانے کا وقت دیتا ہے نہ سوچنے سمجھنے کی ہمت ہی۔ذندگی اندھا دھند گزر رہی ہے گزر ہی جائے گی۔

کمپیوٹر انجینیر اور ماسٹر ان کمپیوٹر سائنس کے گروہ کے گروہ پاکستان میں ہر سال یونیورسٹیز سے نکل رہے ہیں پھر بھی نہ ہمارے پاس اپنا بروسر ہے،نہ اپنا میسنجر،نہ اپنی آڈیوز اور وڈیو کال کا سسٹم۔نہ باہر سے دھڑا دھڑ دھکیلا جانے والا کیمرہ روکنے کا کوئی نظام۔ہم غیروں کی کشتیاں ادھار لے کر اپنی سلامتی کا میٹھا مگر جھوٹا خواب دیکھنے کے شوقین لوگ ہیں۔لے دے کر ہم نے موبائل کی فیکٹری لگا لی ہے یہی کر سکتے تھے ہم۔

جب انسان دیکھ کر بھی دیکھ نہ سکے یہ ہماری تیسری دنیا کے انسان کا آج حال ہے۔ہم جب گوروں کی نقل میں شراب پینے لگتے ہیں تو اپنے پیٹ پھاڑ لیتے ہیں۔ہم آج بھی بھی پھاڑ رہے ہیں۔

حیرت انگیز طور پر رہنماوں سے لیکر اساتزہ تک،میڈیا سے لے کر سائنسدانوں تک کوئی آواز ابھی تک اٹھی نہیں جو اپنی قوم کو اس نشے سے نکالنے کی کوشش کرے۔کیونکہ ہر کوئی اس سکرین پر راج کرنا چاہتا ہے اس لئے اس کا عقل سے استعمال پر کوئی بات نہیں کرتا۔ورنہ وقت کی ضرورت ہے کہ سوشل میڈیا کا استعمال پاکستان میں محدود تر کیا جائے۔یوٹیوب اور دوسرے وڈیو چینلز کو لمیٹڈ کیا جائے۔والدین اور اساتذہ کو ترغیب دی جائے کہ وہ بچوں کو ٹیکنالوجی کے محفوظ اور مفید استعمال کی ترغیب دیں۔کتابوں رسالوں اور اخباروں کا کلچر دفن نہ کیا جائے۔کیوں ٹک ٹاک اور سنیک وڈیوز تک بچے بچے کو پاکستان میں رسائی حاصل ہے؟سب کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سب کچھ آج ہی نہیں ہے۔ہمیشہ آپ کے سامنے ایک آنے والا کل ہوتا ہے جو صرف تب کامیاب اور مفید ہوتا ہے جب اس کی خاطر محنت کی جائے۔ورنہ انسان بھیڑ بکری ہی رہ جاتا ہے جو ہم بنتے چلے جا رہے ہیں۔انسانوں کے ریوڑ جن کو کسی اور کی ترقی اپنے مقاصد کے لئے ہمیشہ ایک لیبر فورس کے طور پر استعمال کرتی رہے گی اور غلام رکھے گی۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.