خامہ بدوش کتب خانے

خامہ بدوشی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ انسان ساری عمر گھر بناتا رہتا ہے مگر وہ گھر ساری عمر مکمل نہیں ہو پاتا۔کچھ ایسا ہی حال بے یقینی کی سرحدوں پر بسنے والوں پردیسی خصوصا عرب میں رہنے والے پردیسی کا ہوتا ہے جب آج کا پتا ہو اور آنے والی صبح کا علم نہ ہو کہ کس دیس میں ہو گی۔ہر نئے دن کی بے یقینی نہ زمیں پر قدم جمنے دیتی ہے نہ بسنے دیتی ہے۔انساں یہی سوچتا رہتا ہے کہ قدم جمائے کہ نہ جمائے۔یہ نہ ہو کہ گھر سجا چکیں تو دیس نکالا سامنے آ جائے کہ شہریت نہ ملنے کے باعث قیام بس نوکری کے ہونے تک ہی ہیں ۔جس روز نوکری ہاتھ سے نکل جائے اگلے دن ہر کسی کو گھر سر پر لادے واپس اپنے اسی اکلوتے دیس لوٹ جانا ہوتا ہے جہاں سے نکلے تھے۔عرب میں رہنے والے اورسیز کے پاس دہری شہریت نہیں ہوتی۔

پھر ہمارا قدامت پسند معاشرہ اور صاحب فراست احباب بھی ہمیں ہر وقت انتباہ کرتے رہتے ہیں کہ سوچ کر خرچیں، کیا جانے کب واپسی کو پرمٹ مل جائے اور سب پھینک کر جانا پڑ جائے۔۔۔۔
مگر ہر گزرے دن گزرے ماہ اور سال کے ساتھ جرات ہوتی گئی کہ اسی بے یقینی پر پڑاؤ اب عین زندگی ہے۔اب یہ جوا کھیلے بغیر چارہ نہیں۔چناچہ خدا کے نام سے شروعات کی اور پانی کی لہروں پر جو کچھ لکھتے گئے اس پر میرے کتب خانے بھی تھے۔مجھ خانہ بدوش کے کتب خانے جن کا یہ چوتھاجنم ہے ۔ذندگی کا پانی بہتا جاتا ہے اور ہر لہر پچھلا کھڑا گھر اپنے ساتھ بہا کر لیجاتی ہے۔ہم ارنسٹ ہیمنگوئے کے بوڑھے کی طرح کھائی ہوئی وہیل کی ہڈیوں کے ساتھ اگلی منزل پر پہنچتے ہیں اور پھر سے زندگی کو نئے سرے سے بنانے کے خواب دیکھتے ہیں۔

ایک پرانا رسالہ نئے رسائل کے ساتھ

کالج کے سالوں میں باقاعدہ کتاب خانہ جمنے لگا۔وہی بڑی فیملی کے چھوٹوں کا رتبہ جو کئی جگہوں پر چبھتا کبھی کبھی بہت کام آ جاتا جب کوئی گھر آتا رنگ لے آتا اور کوئی کتابیں ،اور ہم رنگوں سے کھیلتے اور لفظوں کو پیتے رہتے۔بھائی لاہور گئے تو میری دلچسپی کے مدنظر تقریباً پورا شیکسپئر،ڈھیروں سیکنڈ ہینڈ کتابیں میرے لئے خرید لائے جو میں نے ماسٹرز سے پہلے ہی پڑھ لییں۔ذندگی کا سب سے خوبصورت تحفہ بھی مولانا اسد کا لکھا قرآن کا انگلش ترجمہ جو ارشاد احمد حقانی صاحب کی طرف سےاسی دور میں ملا۔جب پہلی بار ملک چھوڑا تو یہ صرف یہی نسخہ میرے ساتھ تھا ۔

یونیورسٹی کتب خانے میں کچھ ہاتھ بھی دکھائے۔ذندگی کی اس واحد چوری پر پھر افسوس ہوا اور جلد ہی خود کو سمجھایا کوئی کچھ بھی کہے،چوری تو چوری ہی ہے چاہے کتاب ہی کی ہو۔ سمجھا کہ جو کتاب چوری کر کے پڑھی جائے اس میں کیا برکت ہو گی۔۔نوکری شروع کی تو پہلی تنخواہ پر جو آڈر دیا وہ شیکسپیئر کے ڈراموں کے دو ڈی وی ڈی سیٹ تھے،پانچ کامیڈیز،اور پانچ ٹریجڈیز۔دس ڈی وی ڈیز کے سیٹ کبھی ڈھنگ سے دیکھ نہ سکی کہ اس کے بعد زمانہ ،وقت اور حالات اتنی تیزی سے بدلا کہ ڈی وی ڈیز بیکار ہو کر رہ گئیں اور وہ وہیں اماں کے گھر کی الماریوں میں پھرتی پھراتیں کہیں گمشدہ ہو گئیں۔نوکری،شادی ،ہجرت اوپر نیچے ہوتی چلے گئیں۔سرکاری کالج میں ایم کی کلاس کو ارسطو اور فراسٹ پڑھاتے،آرمی اسکول کے بچوں کو انگلش سکھاتے اور پرائیوٹ کالج میں بےاے ،ایم اے کو ڈرامہ پڑھاتے ہر تنخواہ سے دو تین ہزار کی کتابوں کی خریداری ضرور کرتی اپنے لئے بھی اور اپنی بیٹی کے لئے بھی جو محض چند ماہ کی تھی اور مجھے اس کے لئے کتابیں جمع کرنے کی جلدی تھی۔میاں صاحب اچھا کماتے تھے،سو اپنی تنخواہ سے کتابیں خرید سکتی تھی خریدتی رہی۔

رزق حلال کی تلاش ابوظہبی کی طرف لے اڑی تو جو کتابوں کے ڈھیر میں نے پیچھے چھوڑے ان میں شیکسپیئر کے ڈراموں کے انبار سمیت، لبیک،تلاش، قطرہ قطرہ قلزم ،جان آئیر،خالد حسینی کی لائٹ رنرر،اور طارق علی کی دی لیوپرڈ اینڈ دی فوکس ڈھیروں ریڈرز ڈائجسٹ سمیت کتابوں کے ڈھیر تھے۔سال دو سال بعد جب کچھ دن کے لئے واپس ہوتی تو سب سے پہلا کام جو کرتی وہ مٹی سے بھری کتابوں کی تالے والی الماری کھول کر ایک ایک کتاب جھاڑنا،سنوارنا اور دوبارہ سے اگلے دو سال تک کے لئے سجا کر محفوظ کر دینا۔ہر گزرے سال کے ساتھ انکو اپنے ساتھ لیجانے کا خواب ریزہ ریزہ ہوتا جاتا کہ غیر ملک کے سفر ڈھیروں ڈھیر سامان کے ساتھ کہاں ہوتے ہیں۔ابھی تو بچے چھوٹے تھے ان کے سامان سے ہی گنجائش بھر جاتی تھی۔

تیسرے کتب خانے میں رسالے

بلآخراس کتاب خانے کی کتابیں ہاتھوں سے نکلتی گئیں،سنبھالنا مشکل ہوتا گیا اور بلآخر بھائی کے کتب خانے کی زینت بن گئیں۔ اور ایسے ذندگی کا دوسرا کتب خانہ ہاتھ سے نکل گیا۔آج بھی سوچتی ہوں اللہ ایک اپنا گھر دیگا تو سب اکٹھی کرکے وہاں رکھوں گی۔(خدا اپنا ایک گھر دے دے تا کہ ذندگی میں ایک بار ان کو متحد کر سکوں آمین)

اس اثنا میں میں ابوظہبی میں گھر داری سیکھنے ،بچے سنبھالنے کھانے بنانے اور برتن دھونے میں مصروف تر ہوتی چلے گئی اور میرے سارے مسائل انہیں چیزوں کے گرد گھومنے لگے ۔چناچہ کتھارسس کے لئے میں نے ہر ماہ شہر کے دوسرے کونے پر جا کے شعاع اور خواتین ڈائجسٹ خریدنے شروع کئے۔تھکی ہاری گھریلو عورت کے زخموں پر مرہم رکھنا اشفاق احمد اور مستنصر حسین تارڑ اور ممتاز مفتی کے بس کا کام نہیں ،اس کی روح کی شانتی بس عمیرہ،سمیرہ،نمرہ عنیزہ اور سائرہ رضا ہی کے ہاتھ میں ہے۔سو تین سال تک گھر میں صرف ڈائجسٹ کے انبار ہی اکٹھے ہوئے جن میں میری تھکاوٹوں کی نشانیاں جگہ جگہ رقم تھیں۔ان سالوں میں یہی رسالے میرے دوست بھی تھے بہن اور بھائی بھی محلے دار بھی اور عزیز رشتے دار بھی۔ڈھیروں ڈھیر رسالے میں کئی سال سنبھالتی رہی اور ابوظہبی سے کارٹونوں میں بھر کر ساتھ پاکستان بھی لیکر آئی۔کہ آج بھی میں اپنی کوئی کتاب اور رسالہ کسی کو دے نہیں سکتی،یا پھینک نہیں پاتی ،یہ میرے وہ رشتے ہیں جنہیں کھونے سے میں سب سے ذیادہ ڈرتی ہوں،آج بھی سنبھال سنبھال رکھتی ہوں۔ اگرچہ اس تعلق کے ہاتھوں کیا کیا زخم نہیں سہے۔یہ کتابیں جو انساں پڑھ کر آس پاس کے انسانوں میں تنہا ہو جاتا ہے،وہ بولی بولنے لگتا ہے جو اردگرد کے لوگ بول نہیں پاتے،وہ خیال بننے لگتا ہے جو اس کا معاشرہ جی نہیں سکتا،وہ سانس لینے لگتا ہے جو اس کے اردگرد کی ہوائیں سہہ نہیں سکتیں۔پرانے لوگ کہتے تھے کتابیں بنا دیتی ہیں مگر میں باقاعدہ سمجھتی ہوں کتابیں بگاڑ دیتی ہیں،جب آپ اپنے لوگوں سے نہ رہیں تو ذندگی بنتی نہیں بگڑ جاتی ہے۔کتابوں سے عشق کی قیمت بہت ہی مہنگی ہے اس راہ جنوں میں وہ چلے جس میں ہر آگ سہنے کی جرات ہو،جس کے پر ہر طرح کی زنجیروں سے آگے بڑھنے کی طاقت رکھتے ہوں۔مجھ میں ایسی جرات نہ تھی مگر ان سے ایسا پریم باندھا تھا کہ پھر ان کے ساتھ ہر آگ میں اترنا پڑا۔ ۔

تیسرے کتب خانے کا ایک منظر

کچھ سالوں بعد آہستہ آہستہ خود کو منانا اور سمجھانا شروع کیا کہ چلو اب بہت ہو گیا،برتنوں کی چکنائی دھلنے لگی ہے،کھانوں میں کچھ کچھ ذائقہ اتر ہی آیا ہے، بچے بھی کچھ نہ کچھ پل گئے ہیں تو آہستہ آہستہ کتابوں کے بارے میں جاننا اور خریدنا شروع کیا۔پچھلے سات آٹھ سالوں میں میرے تیسرے کتب خانے میں میری دو سو کتابیں اکٹھی ہو چکی تھیں جن میں سے ابھی کچھ پڑھے جانے کی منتظر تھیں، تقریبا اتنی ہی دونوں بچوں کی الگ الگ جنکو ہم ڈبوں میں بھر کر سال بھر پہلے پاکستان لے گئے اور آتے ہوئے پھر سے ڈبوں میں بھر کر ادھر ہی چھوڑ آئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

اب چوتھی بار پھر صفر سے کتاب خانے کی بنیاد رکھی ہے۔نئی الماری،نئی کتابیں، نیا شہر،نیا حوصلہ،نیا عزم،نئی ذندگی۔۔۔۔۔ہر بار صفر سے شروع کرنا آسان نہیں ہوتا،مگر اس سے فرق کیا پڑتا ہے،جئیا جائے تو ہر بار نئے سرے سے جینا آ ہی جاتا ہے

زندگی کھونے اور پانے کا نام ہے،ذندگی ہاتھوں میں آتی ہے اور نکل جاتی ہے،اسی طرح چیزیں ہیں ،اسی طرح کتابیں ہیں—-جو چیز ہاتھ سے نکل جائے اس کا غم کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا،تین دن کا سوگ واجب ہے ہر نقصان کے چوتھے دن ذندگی کو پھر سے شروع ہو جانا چاہیے۔میں بھی کوشش کرتی ہوں کہ سوگ کو لٹکایا نہ جائے،جو گھاٹا ہے تھوڑی ہی دیر میں جانچ لیا جائے اور آگے بڑھا جائے،،،،ہاں مگر انساں ہیں ،دیر ہو جاتی ہے،دیر کر ہی بیٹھتے ہیں،ویسے بھی ہمیں ذندگی کے ہر موڑ پر دیر کرنے کی عادت ہو جاتی ہے،ہم جتنی بھی گھڑیاں آگے کر کر رکھیں،کچھ گاڑیاں ہماری ہمیشہ ہی چھوٹ جاتی ہیں،کچھ چیزوں کو ہاتھوں سے نکلنا ہی ہوتا ہے۔شاید اسی لئیے ہر نقصان پر فورا انا للہ پڑھ لینا چاہئے۔ماتم کے سنگیت میں آنے والی صبحوں کو مبہم نہیں ہونا چاہیے۔

انشااللہ ذندگی دوبارہ!
چوتھی بار کتب خانے کی شروعات۔الحمداللہ!!

______________

صوفیہ کاشف

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.